اردو سوشل میڈیا سمٹ، قصہ ہمالیہ کے سر ہونے کا

میں اور ماؤنٹ ایورسٹ پر؟ مذاق کرتے ہو یار، یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال کہ اگر اچانک میں خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی کسی چٹان پر پاؤں؟ وہ بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں سے واپس آنا ممکن نہ ہو، اور چوٹی سر کرنے کے علاوہ بھی کوئی چارہ نہ ہو تو؟ تو شاید معرکہ سر ہوجائے۔ اردو سوشل میڈیاسمٹ 2015ء کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اردو بلاگرز کے مشترکہ پلیٹ فارم “اردو سورس” سے جب پہلی بار خیال پیش ہوا تو “دیوانے کی بڑ” محسوس ہو رہا تھا لیکن پانچ، چھ ماہ میں ہم نے بے یقینی کی انتہائی گہرائیوں سے یقین کی بلندیوں تک ہر انتہا کا سفر کیا۔ اتنے نشیب و فراز دیکھ لیے ہیں کہ سفر کے اختتام پر اب سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ آپ نے چاہے امتحان کی تیاری کتنی ہی اچھی کیوں نہ کر رکھی ہو؟ پرچے خواہ بہترین کیوں نہ ہوئے ہو؟ سب سے زیادہ تناؤ نتیجے والے دن ہی ہوتا ہے۔ ایک بے چینی اور بے کلی سی دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ تناؤ کی کیفیت میں دماغ جسم کا ساتھ چھوڑتا محسوس ہوتاہے۔ 8 مئی کی صبح کچھ یہی کیفیت میری تھی۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ سے قبل رات کو مہمان خانے میں کاشف نصیر، عامر ملک، اسد اسلم اور میں موجود تھے۔ باقی احباب تو ساری رات جاگتے رہے اور ایک لمحے کے لیے آنکھ نہ جھپکائی لیکن میں نے چپکے سے چند گھنٹوں کی نیند لے لی۔ جب زبردستی اٹھایا گیا تو میں غسل خانے میں داخل ہوا، کئی منٹوں تک ‘شاور’ کے نیچے سر جھکا کر کھڑا رہا اور آنے والے دن کے بارے میں اپنے انجانے خدشات کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ دیگر شہروں سے آئے ہوئے مہمان بلاگرز ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، انہیں اٹھایا گیا کیونکہ پروگرام کا آغاز 10 بجے ہونا تھا اور یہ احباب پونے دس بجے تک سو رہے تھے۔ البتہ عمار ابن ضیاء، شعیب صفدر، اسد اسلم اور کاشف نصیر اچھے بچوں کی طرح صبح سویرے ہی آڈیٹوریم پہنچ چکے تھے اور ساتھ ہی فہیم اسلم، وقار اعظم، اویس مختار اور دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔ انہی کی موجودگی میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سمٹ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب مہمان بلاگرز تقریب کے لیے تیاریوں اور میں اور عامر ملک اپنے اعصاب کو معمول پر لانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایک دوسرے کو حوصلہ ضرور دیا، ہمت بھی بندھائی لیکن دلوں کے حال سے ہم خود بھی واقف تھے، لیکن چہرے دل کا آئینہ بنے ہوئے تھے۔ آڈیٹوریم کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے میری حالت تو ایسی تھی گویا تختہ دار کی جانب لے جایا جا رہا ہو۔ دماغ پر ہتھوڑے برس رہے تھے اور ہر ضرب پر یہی صدا آ رہی تھی “اب کیا ہوگا؟” اور ایسے ہی درجنوں خدشات سے بھرے سوالات۔ ابھی ایک، دو دن پہلے ہی تو انتظامی اجلاس میں ہم تمام منتظمین کے حوصلے بلند کر رہے تھے، انہیں یقین کی سرحدوں کی جانب کھینچ رہے تھے لیکن اب خود ایسی صورتحال سے دوچار تھے کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

پھر خدا کو ہماری حالت پر رحم آ گیا۔ ایچ ای جے آڈیٹوریم کے سیاہ شیشے والے دروازے کھلے اور اس کے ساتھ ہی ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ تقریباً 400 شرکاء کے ساتھ آڈیٹوریم کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ بلکہ تمام مہمان بھی اپنی نشستوں پر موجود تھے، وہ سب ٹھیک وقت پر آئے تھے اس لیے پہلی صفوں پر براجمان تھے اور ہم بلاگرز اور منتظمین کے لیے پچھلی نشستیں سنبھالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

اعصاب پر جو تناؤ تھا، بے یقینی کی جو دھند چھائی ہوئی تھی، وہ عمار ابن ضیاء کی میزبانی کے شاندار انداز سے محض چند لمحوں میں ہی چھٹ گئی۔ باضابطہ آغاز کے بعد ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غزنوی کی دھواں دار تقریر سنی۔ اُن کی تقریر میں میرے لیے سب سے اہم رومن طرز تحریر پر ان کی تنقید تھی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر رسم الخط تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہمارا تاریخی و تہذیبی اور علمی ورثے یہاں تک کہ مذہب سے رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے اردو کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے کارناموں کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کے ضمن میں اردو میں اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب ہمارے پاس اردو استعمال نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ انہوں نے اردو میں انگریزی کے بے جا استعمال پر بھی تنقید کی اور مثال دے کر واضح کیا کہ استعمال ہونے والا کوئی بھی لفظ محض لفظ نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ پورا تاریخی و ثقافتی پس منظر لے کر آتا ہے۔

ان کے بعد جامعہ کراچی میں سوشل سائنسز کے ڈین فیکلٹی ڈاکٹر مونس احمر نے بھی خطاب کیا لیکن علمی لحاظ سے مجھے دن بھر میں جو تقریر سب سے زیادہ پسند آئی وہ شاہی انٹرپرائزز کے سربراہ غیاث الدین صاحب کی تھی۔ “زبان اور سیاست” کے نازک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چند اتنے اہم نکات اٹھائے کہ انہیں سنہری الفاظ میں لکھنا چاہیے اور خاص طور پر اردو کے لیے کام کرنے والوں کو تو انہیں اپنا نصب العین بنا لینا چاہیے۔

غیاث الدین صاحب نے کہا کہ زبان اور عقیدہ کسی بھی انسان کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں، ہمارا ان سے بہت گہرا عقلی و جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔ سیاست کے کھلاڑی زبان اور مذہب کے تعصبات سے کھیلنا اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں عوام الناس کا شکار آسانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ زبان اور سیاست کی سب سے بڑی مثال اردو-بنگلہ تنازع ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جو بنگالی کسی گرے ہوئے کاغذ کو جس پر اردو لکھی ہو، احتراماً اٹھا لیتا تھا، لیکن اردو-بنگلہ تنازع کے بعد وہ اردو سے نفرت کرنے لگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں، سندھی، پشتو، بلوچی، براہوی اور وہ تمام زبانیں جو پاکستانی قوم بولتی ہے، قومی زبانیں ہیں۔ کوئی زبان برتر یا کمتر نہیں ہوتی اور زبان کی بنیاد پر سیاست دراصل تعصب کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کا اصل مقابلہ مقامی زبانوں سے نہیں بلکہ انگریزی سے ہونا چاہیے کیونکہ جو مقام اس وقت پاکستان میں انگریزی کو حاصل ہے، دراصل یہی وہ مقام ہے جو اردو کو ملنا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اشرافیہ نے ایسا ماحول ترتیب دیا کہ ملک میں اردو کی حیثیت ثانوی نوعیت کی رہے اور انگریزی کاروبار زندگی پر چھائی رہے۔ ارباب اختیار نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ خواص کی حکمرانی کے نظریے کو پروان چڑھانے اور ایک استحصالی نظام قائم رکھنے کے لیے انگریزی کا جو مقام ہے، وہ برقرار رہے اور اردو سمیت کوئی قومی زبان انگریزی کی جگہ نہ لے۔آج لاکھوں ڈرائیورز ٹریفک قوانین نہیں پڑھ سکتے، ریستوراں مالکان فوڈ ایکٹ کا مطالعہ نہیں کرسکتے، مزدور لیبر ایکٹ کے بارے میں نہیں جانتے، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکار اس بارے میں نہیں جانتے کہ انہیں آخر نافذ کیا کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے منتخب نمائندے آئین کے بارے میں اچھی طرح نہیں جانتے، کیونکہ یہ سب انگریزی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے تو اس کے لیے کام کریں، اس میں لکھنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھائیں اور اس میں پڑھنے کے مواد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی قارئین انگریزی، فرانسیسی اور روسی مصنفین کو تو جانتے ہیں لیکن بلوچی، سندھی، پشتو اور دیگر مقامی زبانوں کے کہانی نویسوں، افسانہ نگاروں اور شعراء کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ ان کی کتابوں کے اردو ترجمے کیوں نہیں ہیں؟

پہلے سیشن سے معروف دانشور اور صحافی غازی صلاح الدین نے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے سب سے پہلے حال ہی میں کراچی میں قتل ہونے والی سماجی رہنما سبین محمود کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے جو سب سے اہم بات کی وہ یہ تھی کہ اب ہمیں اچھی انگریزی بولنے والے بھی نہیں ملتے اور اچھی اردو بھی نظر نہیں آتی، گویا ہم اب بے زبان ہیں۔

استقبالیہ سیشن سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منظور حمید آرائیں اور معروف کاروباری شخصیت ریحان اللہ والا نے بھی خطاب کیا لیکن سمٹ کے پہلے مرحلے میں میلہ لوٹنے والا لمحہ ایلن کیزلر کا انٹرویو تھا۔ انہیں امریکی-پاکستانی کہیں یا پاکستانی-امریکی، لیکن ایلن کیزلر کا انٹرویو دن کے بہترین لمحات میں سے ایک تھا۔ ہمارے ساتھی اردو بلاگر محمد اسد اسلم نے ایلن کیزلر کا انٹرویو لینے کا مشکل کام اپنے سر لیا اور بہت خوبی کے ساتھ اس ذمہ داری کو پورا کیا۔ انٹرویو کے دوران ایلن نے بتایا کہ ان کی پیدائش تقسیم ہند سے ایک ماہ قبل یعنی جولائی 1947ء میں خانیوال میں ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے لاہور میں کافی وقت گزارا یہاں تک کہ 1965ء میں امریکہ چلے گئے۔ اس دوران محفل اس وقت زعفران زار ہوگئی جب ایلن نے بتایا کہ انہوں نے کچھ وقت رائے ونڈ میں بھی گزارا ہے اور ان کے نام یعنی ایلن کا مطلب بھی “شریف” ہے۔ اس پر محفل میں خوب قہقہے پھوٹے اور اب تک جو سنجیدگی، بلکہ نوجوان طلباء کے لیے کسی حد تک اکتاہٹ، کا تاثر تھا، وہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ ایلن نے کچھ حیران کن باتیں بھی کیں، جیسا کہ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان عام ملک نہیں ہے، یہ ایک خاص ملک ہے کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے بنا ہے اور جلد ہی امن و سلامتی یہیں سے دنیا بھر میں پھیلے گی۔ انہوں نے جامعۃ الرشید کے حالیہ دورے کے بارے میں اپنے تاثرات بھی پیش کیے اور ایک نغمے کے ذریعے حاضرین کے جوش کو عروج پر بھی پہنچایا۔

جامعہ کراچی کے شہید استاد وحید الرحمٰن کی یاد میں ایک تعزیتی سیشن اور پریزنٹیشن کے بعد نماز جمعہ اور کھانے کا وقفہ ہوا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد طعام خانے (میس) میں ایک پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔ نصف پروگرام کی بھرپور کامیابی کے بعد ہمارے ذہن سے بھی خدشات مٹ چکے تھے، دل کی بے ترتیب دھڑکنیں اب معمول پر آ چکی تھیں،اس لیے کھانا بھی بہت مزیدار لگ رہا تھا اور یہی حالت مجھ سمیت دیگر منتظمین کی تھی۔ عامر ملک، کاشف نصیر، اسد اسلم، عمار ابن ضیاء اور شعیب صفدر کے چہروں کی مسکراہٹ واپس آ چکی تھی۔ ملاقاتوں کا دور اسی سیشن میں ہوا، نئے لوگوں سے بھی اور کئی پرانے احباب سے بھی۔ ایسے بھی کہ جن سے عرصے سے ملنے کی تمنا تھی اور وہ بھی کہ جن سے ملاقات ہوئے عرصہ گزر گیا تھا، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، نئی یادیں حافظے کا حصہ بنیں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے سیشن کے آغاز کا وقت آ گيا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر خورشید تنویر اور ان کے بعد معروف محقق، کالم نگار اور سوشل میڈیا سے وابستہ شخصیت کاشف حفیظ صدیقی نے خطاب کیے۔ کاشف حفیظ کا موضوع زندگی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آج کے نوجوانوں کے رحجانات تھا، جس کے بارے میں انہوں نےایک دلچسپ پریزنٹیشن دی۔ ان کی تقریر کی ایک خاص بات اشعارات کا بہترین استعمال بھی تھا۔

بی بی سی اردو کے سربراہ اور مدیر عامر احمد خان کے خطاب کے بعد دوسرے سیشن کا اہم ترین مرحلہ آن پہنچا۔ روایتی اور سوشل میڈیا کی اہم ترین شخصیات کے مابین مذاکرہ۔ بی بی سی کے وسعت اللہ خان، جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ محمود احمد غزنوی، معروف فیس بک صارف رعایت اللہ فاروقی، اے آر وائی کے رپورٹر لیکن اس سے زیادہ سوشل میڈیا پر مشہور فیض اللہ خان اور سماء کے اینکر و اردو بلاگر فیصل کریم اس سیشن میں شریک تھے اور ان جیسی بڑی شخصیات کو ‘سنبھالنے’ کا مشکل فریضہ انجام دیا اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے۔ ویسے اس مذاکرے کا عنوان “روایتی میڈیا بمقابلہ سوشل میڈیا” نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا۔ یہ “بمقابلہ” اور “مرغے لڑانے” کا کام روایتی میڈیا کو ہی مبارک ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ پروگرام اردو کی “ترقی” میں روایتی میڈیا کے خلاف چارج شیٹ میں بدل گیا۔ سب سے پہلے وسعت اللہ خان نے کہا کہ روایتی میڈیا دراصل ایک دکان ہے، جس طرح صابن بیچنے والے صابن بیچتے ہیں، تمباکو اور سونا بیچنے والے بھی اپنا کام کرتے ہیں، اسی طرح یہ ادارے خبریں بیچتے ہیں۔ ہماری حیثیت ان دکانوں پر ایک کارندے سے زیادہ نہیں ہے، ہمیں جو کہا جاتا ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام اب صرف ابلاغ کرنا رہ گیا ہے، زبان و بیان اور لہجے کی درستگی ان کی ترجیح ہی نہیں۔ “بھئی گالی کا املاء چاہے کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، اس کا ابلاغ بہت اچھے طریقے سے ہوجاتا ہے۔” وسعت اللہ خان نے مزيد کہا کہ سوشل میڈیا ایک آئینے کی طرح ہے، آپ کتنے عقل مند ہیں یا کتنے جاہل ہیں، یہ سب یہاں کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مت سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر نظریں نہیں ہیں، جس طرح روایتی میڈیا پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، اتنی ہی سوشل میڈیا پر بھی ہے یعنی یہ کام بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ محمود غزنوی صاحب نے روایتی ذرائع ابلاغ کے بارے میں داتا دربار کی مثال دی اور کہا کہ “کارندوں ” کو کہا جاتا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔ رعایت اللہ فاروقی نے کہا کہ 25 سال صحافت میں “جھک” مارنے اور اپنی تحاریر کو سنسر ہوتے دیکھنے کے بعد انہیں اصل مقام سوشل میڈیا میں ملا۔ جو پیغام وہ دینا چاہتے تھے، وہ حقیقی روپ میں اور اتنی ہی اثر انگیزی کے ساتھ عوام تک پہنچا، جو ان کی خواہش تھی۔ فیصل کریم نے روایتی میڈیا میں اردو کی زبوں حالی کا پردہ چاک کیا، ماضی کی مثالیں دیں کہ کس طرح پاکستان ٹیلی وژن پر خبریں پڑھنے والے نامانوس غیر ملکی ناموں کے صحیح تلفظ جاننے کے لیے متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے فون کرکے تصدیق کیا کرتے تھے، اور اس کے مقابلے میں آجکل کیا رحجان پایا جاتا ہے۔ بہرحال، تقریباً پون گھنٹے تک اس سیشن نے حاضرین کو مکمل طور پر اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہاں تک کہ مہتاب عزیز کے اختتامی کلمات کے ساتھ یہ مذاکرہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔

آخر میں معروف بین الاقوامی اسکالر اور دانشور اور آئی بی اے کراچی سے وابستہ پروفیسر نعمان الحق نے خطاب کیا۔ آپ اسلامی تاریخ و فلسفہ میں اہم نام ہیں اور بیرون ملک بھی انگریزی پڑھا چکے ہیں لیکن جتنی سلیس اور نستعلیق اردو ان کی تقریر میں سنی، بہت کم سننے کو ملتی ہے۔ نعمان الحق صاحب نے اردو کے سکڑتے ہوئے دامن کا شکوہ کیا، اردو کے الفاظ کے استعمال میں جھجک کو اس کا قصور وار ٹھہرایا، ذرائع ابلاغ کے اردو پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی اور آخر میں حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

سب سےآخر میں اہم ترین سیشن تھا یعنی ایوارڈز کا۔ تین “اردو سورس ایوارڈز”، تین مختلف زمروں میں دیے گئے۔ ایک اردو بلاگنگ کے لیے، دوسرا فیس بک اور تیسرا ٹوئٹر پر اردو کا بہترین استعمال کرنے والے کے لیے۔ سب سے پہلے بچوں کی تربیت کے لیے بنائے گئے عمدہ فیس بک صفحے “طفلی” کو اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز طفلی کے عاطف بقائی نے محمود احمد غزنوی صاحب سے وصول کیا۔ تالیوں کی گونج ابھی مدھم ہی نہ پڑی تھی کہ ٹوئٹر پر اردو کے بہترین استعمال پر محسن حجازی صاحب کے نام کا اعلان ہوا جن کا اعزاز حاصل کرنے کا شرف مجھ ناچیز کو ملا۔ میزبان عمار ابن ضیاء نے آخر میں بہترین اردو بلاگ کے لیے ریاض شاہد کے بلاگ “جریدہ” کے نام کا اعلان کیا، جن کی عدم موجودگی میں ملتان سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر وجدان عالم نے وسعت اللہ خان صاحب سے ایوارڈ وصول کیا۔

تقریب کے خاتمے کے اعلان کے بعد کامیابی کا جشن قومی مشروب یعنی چائے کے ساتھ منایا گیا۔ جہاں ایک مرتبہ پھر کئی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں، خاص طور پر ٹوئٹستان کے احسن سعید سے پہلی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اردو سورس کی ٹیم جب مبارکبادوں کے ڈھیر قبول کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس مہمان خانے پہنچی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہمارے کاندھوں سے اتر چکی تھی۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہماری کوششوں اور محنتوں کا صلہ اس سے کہیں بڑھ کر دیا۔ ٹیم کے کئی اراکین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ کچھ انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے اور کچھ چہرہ چھپانے کی۔

بہرحال، اگلے روز ہفتے بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ہم نے مہمان اردو بلاگرز کو کراچی کی سیر کرانے کی ٹھانی۔ پاک فضائیہ کے عجائب گھر سے لے کر سمندر تک کا سفر کیا اور سورج غروب ہونے کا منظر نظروں میں لیے واپس لوٹ آئے۔ منتظمین نے کئی دنوں کے بعد گھر والوں کو اپنا “روشن چہرہ” دکھایا، جو سمندر کی سیر سے مزید “روشن” ہوگیا تھا 🙂 اسی روز اپنے ‘میڈیا پارٹنر’ ایکسپریس کی شاندار کوریج کا لطف اٹھایا، دل باغ باغ ہوا۔ وہ اردو کہ جس کو بولتے ہوئے آج کا نوجوان شرمارہا تھا، اسے ہم نوجوانوں کے اندر جامعہ کراچی میں موضوع بنا کر آ گئے۔ اردو سورس اردو اور ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آیا اور اردو بلاگنگ کو یہ فائدہ کہ اسے کئی نئے اردو بلاگرز ملیں گے، بلاگنگ اگلے سال تک ابلاغ عامہ کے نصاب کا حصہ بنے گی اور بلاگرز کے لیے یہ فائدہ کہ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر عزم و حوصلہ بلند ہو، نیت خالص ہو اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہو اور اجتماعی طور پر مل کر کام کرنے کی لگن ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ ماؤنٹ ایورسٹ بھی سر ہوسکتا ہے!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *