امریکہ کی دریافت: تصویر کا دوسرا رخ

[[امریکہ]] کیونکہ فی زمانہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی و عسکری قوت ہے جس کا دنیا بھر کے معاملات پر اس اثر و رسوخ ہے اور اس کی اہمیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس لیے اس کی تاریخ بھی دنیا بھر کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں امریکہ کا طوطی بول رہا ہے۔ وطن عزیز میں رہنے والا عام چند جماعت پاس شخص بھی، جو اپنی تاریخ سے واجبی سی واقفیت بھی نہیں رکھتا، امریکہ کی دریافت کے حوالے سے سوال پر فوری جواب دے گا "کولمبس!"
تاریخ کا ایک ایسا کردار جس کے کارنامے نے دنیا کی تاریخ پر عظیم اثرات مرتب کیے، جس کا یہ واحد کارنامہ دنیا میں کی بالادستی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور [[یورپ]] نے محض دو صدیوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے مسلمانوں کو باہر کر کے اپنی برتری قائم کر لی اور مسلمان ایک طویل نوآبادیاتی دور کے بعد موجودہ جدید 'ذہنی' غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیے گئے۔ اس بات سے قطع نظر کہ امریکہ دریافت کرنا اس کا کارنامہ تھا یا نہیں یہ امر بہرحال تسلیم شدہ ہے کہ اس کا سفرِ امریکہ دنیا کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
"امریکہ کی دریافت" کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل مبارک علی صاحب کے ایک مضمون کا ترجمہ کر کے پیش کیا تھا جس پر یہ فرمائش کی گئی کہ امریکہ کی دریافت کے حوالے سے جو دیگر نظریات (خصوصاً مسلمانوں سے متعلق) پائے جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی لکھا جانا چاہیے، سو اس موضوع پر کچھ نظریات سامنے لانے کی کوشش کی ہے ، امید ہے یہ حقیر سی کوشش تاریخ کو دوسرے زاویے سے سمجھنے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوگی۔ مقصد صرف زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا اور پہنچانا ہے، کسی کے نظریے سے کلی اختلاف یا اتفاق کرنا نہیں۔ فی الوقت میرا موضوع امریکہ کی دریافت کے وہ دعوے ہیں جو مسلمانوں سے منسوب ہیں۔
کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی مبینہ دریافت دنیا کی تاریخ کا اتنا اہم واقعہ ہے کہ مورخین اِس سرزمین کی تاریخ کو ہی دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک قبل از کولمبس (Pre-Columbus Era) اور دوسرا بعد از کولمبس (Post-Columbus Era)۔ تاریخ انسانی کے اس واقعے کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ دعوے اور نظریات سامنے آئیں تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے اور اس موضوع کا مکمل احاطہ بھی ہو سکے۔
امریکہ دریافت کرنے کے حوالے سے مسلمانوں نے جتنے دعوے کیے ان کا سہرا اندلس، [[چین]] اور [[افریقہ]] کے مسلمانوں کو سر باندھا گیا ہے۔ اس نظریے کے حامل مورخین کا دعویٰ یہ ہے کہ 9 ویں سے 14 ویں صدی عیسوی تک اندلس اور [[مراکش|المغرب]] (مراکش) کے مسلمان جہاز رانوں نے [[بحر اوقیانوس]] میں دور دور تک جہاز رانی کی اور اس دوران انہوں نے امریکی براعظم تک بھی رسائی حاصل کی۔
ان مسلمانوں نے تاریخ میں پہلی بار بحر اوقیانوس اور [[بحر الکاہل]] کے اس پار نئی دنیا سے رابطے کا آغاز کیا۔ ان دعووں کے حق میں یہ مورخین کئی دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ان دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو [[قرون وسطٰی]] کے مسلمان دانشوروں کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مسلم جہاز رانوں کی امریکہ تک رسائی کا سب سے پہلا حوالہ ہمیں علی المسعودی (871ء تا 957ء) کی "مروج الذہب و معادن الجوہر" میں ملتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس میں ایک نامعلوم سرزمین کا ذکر کیا ہے اور اتنی کتاب میں اسے "ارض مجہولہ" کا نام دیا ہے۔ انہوں نے اپنی مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ خلیفہ اندلس عبدالرحمن ثالث کے دور میں ایک مسلم جہاز راں خشخش ابن سعید ابن اسود نے 889ء میں دیلبا (موجودہ پیلوس) سے سفر کا آغاز کیا اور بحر اوقیانوس کے اُس پار ایک "ارض مجہولہ: (نامعلوم سرزمین) پر پہنچے اور انواع و اقسام کے خزانوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ المسعودی کے مرتب کردہ دنیا کے نقشے میں افریقہ کے جنوب مغرب میں سمندر میں ایک بہت بڑا قطعہ زمین دکھایا گیا ہے جسے "ارض مجہولہ" کہا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان براعظم امریکہ کی موجودگی سے کولمبس کی دریافت سے 5 صدی قبل واقف تھے
ایک اور مسلم مورخ ابو بکر ابن عمر الغطیہ کے مطابق فروری 999ء میں اندلس میں اموی حکمران ہشام ثانی کے دور میں [[غرناطہ]] سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم جہاز راں ابن فرخ کناری جزائر پہنچے اور وہاں سے مغرب کی جانب بحر اوقیانوس میں سفر کا آغاز کیا اور دو ایسے جزائر پر پہنچے جنہیں اب کپراریا اور پلوتانا کہا جاتا ہے۔ وہ مئی 999ء میں غرناطہ واپس پہنچے۔
قبل از کولمبس تاریخ میں مسلمانوں کے "نئی دنیا" سے روابط کے حوالے سے سب سے اہم حوالہ مشہور مسلم جغرافیہ دان اور خرائط ساز [[محمد الادریسی]] (1110ء تا 1166ء) کی کتاب "نزہت المشتاق" سے دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس اور "نئی دنیا" کی تلاش کے لیے مسلم جہاز رانوں کی کوششوں کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:

مسلمانوں کے سپہ سالار علی ابن یوسف ابن تاشفین نے اپنے امیر البحر احمد ابن عمر کو بحر اوقیانوس کے مختلف جزائر پر حملے کے لیے بھیجا لیکن وہ اس حکم کی تعمیل سے قبل ہی انتقال کر گئے۔
بحر ظلمات کے اُس پار کیا ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ کسی کے پاس اس کا درست علم نہیں کیونکہ اس سمندر کو پار کرنا بہت مشکل ہے۔ اس پر دھند کے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، اس کی لہریں بہت طاقتور ہیں، یہ خطرات سے پُر ہے اور اس میں ہواؤں کے تیز جھکڑ چلتے ہیں۔ بحر ظلمات میں بہت سے جزائر ہیں جن میں سے متعدد غیر آباد ہیں اور دیگر پر سمندر کی لہریں غالب آتی رہتی ہیں۔ کوئی جہاز راں ان میں داخل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساحلوں کے قریب سے ہوتا ہوا گزر جاتا ہے۔
لزبن کے قصبے سے اس مہم کا آغاز کیا گیا جسے "مغررین" کا نام دیا گیا اور وہ بحر ظلمات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے نکل پڑے، تاکہ یہ جان سکیں کہ اس سمندر کا خاتمہ کہاں ہوتا ہے؟۔ 12 دن کے سفر کے بعد وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جو غیر آباد دکھائی دیتا تھا لیکن وہاں زرعی علاقے موجود تھے۔ وہ ان جزائر پر اترے لیکن جلد ہی ایسے افراد کے گھیرے میں آ گئے اور گرفتار کر لیے گئے جن کی جلد کا رنگ سرخ تھا، جسم پر بہت زیادہ بال نہیں تھے اور سر کے بال سیدھے تھے اور قامت بہت بلند تھی۔

ادریسی کا "سرخ رنگت کے حامل افراد" کا حوالہ دینا اس امر کا شاہد سمجھا جاتا ہے کہ یہ قافلہ دراصل ان افراد کی سرزمین پر پہنچا تھا جنہیں کولمبس نے "سرخ ہندی (Red Indians) کا نام دیا تھا۔
ان کے علاوہ افریقہ میں واقع [[سلطنت مالی]] کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں سے بھی مسلمان جہاز رانوں کا ایک قافلہ بحر ظلمات کو عبور کر کے امریکی سرزمین تک پہنچا تھا۔ اس مہم کا ذکر مسلم مورخ شہاب الدین ابو عباس احمد بن فضل العمری کی کتاب "مسالک الابصار فی ممالیک الامسار" میں ملتا ہے۔
رفتہ رفتہ مسلمانوں کی جانب سے امریکہ کی دریافت کے نظریات اتنی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے کہ 1969ء میں ناروے کے ایک مہم جو
تھور ہیئرڈیہل (Thor Heyerdahl) نے شمالی افریقہ کی بندرگاہ صافی سے [[بارباڈوس]]، [[ویسٹ انڈیز]] تک کا سفر ایسی کشتی کے ذریعے کیا جسے مقامی افریقی باشندوں نے پیپیرس سے بالکل اس طریق پر تیار کیا تھا جس طرح قرون وسطٰی میں تیار کیا جاتا تھا۔ اس سفر کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ قرون وسطٰی میں افریقہ سے نئی دنیا تک سفر ممکن تھا
علاوہ ازیں چینی مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت بھی ایک اہم نظریہ ہے اور اس کا سہرا منگ دور حکومت میں معروف مسلم جہاز راں "ژینگ ہی" کے سر باندھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ کارنامہ مبینہ طور پر 15 ویں صدی میں کولمبس سے قبل اس دور میں انجام دیا جب چین نے تجارتی راستوں پر اپنے قدم جمانے کے لیے 7 بحری مہمات کا آغاز کیا تھا۔مہم کی قیادت ژینگ ہی کے سپرد کی گئی ۔ ایک یورپی مورخ Gavin Menzies نے اپنی متنازع کتاب 1421: The Year China Discovered the World میں اس کا ذکر کیا ہے۔کیونکہ اس نظریے کے حامی افراد 1421ء کو چینیوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا سال سمجھتے ہیں اس لیے مخالفین اسے 1421 Hypothesis کہتے ہیں۔
علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے 1492ء میں جب امریکہ دریافت کیا تو اس کی اس مہم میں کئی مسلمان جہاز راں بھی شامل تھے۔ اور کولمبس کے بیٹے فرنانڈو کولون نے اپنی کتاب تو یہاں تک کہا تھا کہ اسے جینووا کے مسلمان جہاز رانوں نے ہی بتایا تھا کہ وہ مغرب کی جانب سفر کر کے متبادل راستے کے ذریعے ہندوستان پہنچ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی "دریافت" کے اس تاریخی سفر میں دو ایسے جہاز راں بھی کولمبس کے ہمراہ تھے جن کے اجداد مسلمان تھے۔ ان جہاز رانوں کے نام مارٹن الونسو پنزون Martin Alonso Pinzon اور ویسنٹ یانیز پنزون Vicente Yanex Pinzon تھے جو بالترتیب PINTA اور NINA جہازوں کے کپتان اور آپس میں بھائی تھے۔ یہ دونوں امیر کبیر اور ماہر کاریگر تھے اور سفر کے دوران انہوں نے پرچم بردار جہاز SANTA MARIA کی مرمت بھی کی تھی۔ پنزون خاندان کا تعلق مرینی خاندان کے سلطان ابو زیان محمد ثالث (1362ء تا 1366ء) سے تھا۔
کولمبس کا بیٹا فرنانڈو کولون یہ بھی لکھتا ہے کہ پوائنٹ کاویناس کے مشرقی علاقوں میں رہنے والی آبادی سیاہ فام تھی اور اسی علاقے میں ایک مسلم نسل کا قبیلہ "المامی" بھی آباد تھا۔ مینڈینکا اور عربی زبان میں المامی "الامام" یا "الامامو" سے مشتق لگتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی یا قبائلی یا برادری کی سطح پر اعلٰی حیثیت کے حامل تھے۔
کئی مسلم حوالہ جاتی کتب میں شیخ زین الدین علی بن فضل الماژندرانی کے بحر ظلمات کے سفر کا ذکر ملتا ہے۔ جنہوں نے مرینی خاندان کے چھٹے حکمران ابو یعقوب سیدی یوسف (1286ء تا 1307ء) میں طرفایہ (جنوبی مراکش) سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور تقریباً 1291ء میں [[بحیرہ کیریبین]] میں واقع سبز جزیرے (Green Island) پر پہنچے۔ ان کے بحری سفر کی تفصیلات اسلامی حوالہ جات اور کئی مسلم دانشوروں کی کتب میں تاریخی واقعے کی حیثيت سے درج ہیں۔
کولمبس نے 21 اکتوبر 1492ء بروز پیر کیوبا کے شمال مشرقی ساحلوں پر جبارا کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک مسجد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں کیوبا، میکسیکو، ٹیکساس اور نیواڈا میں مسجدیں اور قرآنی آیات سے مزین میناروں کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ کولمبس نے ٹرینیڈاڈ میں مقامی باشندوں کی خواتین کے لباس کا ذکر جس طرح کیا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مسلمان بھی موجود تھے اور اس کے بیٹے نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ ان کا لباس غرناطہ کی مسلمان خواتین جیسا ہی ہے۔
جدید مصنفین نے بھی اس موضوع پر خاصا کام کیا ہے جن میں بیری فیل، ایوان وان سرتیمی اور الیگزینڈ وان ووتھینو شامل ہیں۔ آخر الذکر جرمن مصنف کا کہنا ہے کہ کولمبس سے پہلے افریقہ، ایشیا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مختلف النسل افراد نئی دنیا میں موجود تھے تاہم انہوں نے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کو تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر بیری فیل نے اپنی کتابSaga America میں ٹھوس شواہد دے کر ثابت کیا ہے کہ شمالی اور مغربی افریقہ کے مسلمان کولمبس کی آمد سے صدیوں قبل نئی دنیا میں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ویلی آف فائر، ایلن اسپرنگز، لوگومارسینو، کی ہول، کینین، واشو اور ہکیسن سمٹ پاس (نیواڈا)، میسا ورڈی (کولوراڈو)، ممبریس ویلی (نیو میکسیکو) اور ٹپر کینو (انڈیانا) میں مسلم مدارس کی باقیات دریافت کیں جن کا تعلق 700 سے 800 صدی عیسوی سے ہے۔ باقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان مدارس میں ریاضی، مذہب، تاریخ، جغرافیہ، علم ہیئت اور جہاز رانی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اُن کے مطابق امریکہ (484) اور کینیڈا (81) میں 565 مقامات (دیہات، قصبات، شہر، پہاڑ، جھیل اور دریا وغیرہ) ایسے ہیں جن کے نام دراصل اسلامی و عربی النسل ہیں۔ ان مقامات کے نام قبل از کولمبس دور میں رکھے گئے۔
ایوان وان سرتیما نے 1976ء میں اپنی کتاب They Came Before Columbus میں افریقی لوگوں کے براعظم امریکہ سے روابط کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیز، زمورس، مرابطین اور مرابیوس کے نام اس امر کے شاہد ہیں کہ قبل از کولمبس دونوں براعظموں کے آپس میں تعلقات تھے خصوصاً مرابطین کا نام ان کے لیے کشش کا حامل رہا کیونکہ مرابطین المغرب میں مسلمانوں کی معروف حکومت تھی۔
اس کے علاوہ [[سلطنت عثمانیہ|عثمانی دور]] کے معروف ترک جہاز راں و امیر البحر پیری رئیس کے بنے ہوئے جو اعلٰی ترین نقشے آج تک موجود ہیں ان میں ایک نقشہ ایسا بھی ہے جس میں بحر اوقیانوس کے اُس پار [[برازیل]] کا علاقہ دیکھا جا سکتا ہے حالانکہ اس وقت کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا چرچا بھی نہ ہوا تھا۔ پیری رئیس کا یہ قدیم نقشہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام شواہد پر بھاری ہے جو مورخین کولمبس سے قبل مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کے بارے میں دیتے رہے ہیں۔ (یہ نقشہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے)
(اس مضمون کی تیاری میں مختلف حوالہ جات اور کتب سے مدد لی گئی ہے جن تک مضمون میں دیے گئے روابط کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. جس محنت سے تاریخ مواد اکٹھا کیا ہے۔ اس کی داد دینی پڑے گی۔

  2. بہت اعلیٰ! بہترین کاوش ہے!
    معلوم ہوتا ہے بہت محنت سے لکھا ہے!!! ❗

  3. اچھا مضمون ہے۔ پہلے بھی ایک دو جگہ اس قسم کے مضامین نظر سے گزرے ہیں۔

  4. بہت عمدہ ابوشامل ۔ آپ کی محنت کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ امید ہے مستقبل میں‌ بھی ایسے مضامین کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ میں‌ خود جدید تاریخ پر مزید لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

  5. اجمل says:

    ماشاء اللہ ۔ اچھی کوشش ہے ۔ خزاک اللہ خیر ۔ میں اسے تحمل سے بعد میں پڑھوں گا ۔ اس وقت جلدی میں ہوں کہیں جانا ہے ۔ میرا صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں ۔مسلمانوں کے دعوے ایک طرف جو ہم نے آٹھویں جماعت میں یعنی 1950 یا 1951 میں پاکستان بننے سے پہلے کی لکھی ہوئی تاریخ کی کتاب پڑھی تھی اُس میں لکھا تھا کہ کولمبس کو مسلمان عرب تاجروں سے ہندوستان اور امریکہ کے بارے سُنا تھا ۔ پہلے مرحلہ میں وہ ہندوستان کیلئے روانہ ہوا اور جزائر ویسٹ انڈیز پہنچ گیا ۔ دوسری کوشش میں وہ امریکہ پہنچ گیا ۔ اُس وقت ہمارے اُستاذ صاحب نے بتایا تھا کہ جب کولمبس امریکہ پہنچا تو اس کی وہاں عرب سیاحوں سے ملاقات ہوئی

  6. نعمان says:

    یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان جہاز ران امریکہ دریافت کرچکے تھے۔ لیکن ان سے بھی پہلے کئی اور لوگ امریکا دریافت کرچکے تھے۔ امریکہ گرچہ باقی دنیا سے الگ تھلگ ضرور تھا مگر دیگر براعظموں سے مختلف ادوار میں مختلف قوموں کے لوگ امریکا آتے رہے تھے۔ ان آنے والوں کا ذکر قدیم امریکی تہذیبوں میں بڑی تفصیل سے موجود ہے۔

    مسلمان ضرور امریکا جاتے رہے ہونگے لیکن ان کے براعظم کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی، ثقافتی یا سیاحتی تعلقات نہیں تھے۔ وہ براعظم کے پورے نقشے اور وہاں کے لوگوں سے بھی صحیح طرح واقف نہیں تھے اور انہوں نے کبھی اس قطعہ زمین کو برسراسلام لانے کی کوئی فوجی کوشش بھی نہیں کی تھی۔

    کولمبس کو امریکا کا دریافت کرنے والا کہنا محض ایک ریفرنس ہے تاریخ کے ایک خاص وقت کا۔ ورنہ تو کولمبس سے پہلے ہی امریکا میں انسان موجود تھا، اور کولمبس سے پہلے ہی امریکا والوں اور باقی دنیا والوں بشمول عربوں کے اس بات کا اندازہ تھا کہ سمندر کے اس پار ایک عظیم قطعہ زمین ہے۔

    میرے بلاگ پِر تاریخ کے زمرے میں امریکہ کی تاریخ کے بارے میں کچھ تحریریں ہیں۔ جو کافی پرانی ہیں۔

  7. نعمان says:

    میں یہ لکھنا بھول گیا کہ یہ نہایت معلوماتی تحریر تھی اس کے لئے بہت شکریہ۔ عربوں کی جہاز رانی کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ گرچہ اسے ہم لوگ عام طور پر نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر انہوں نے دنیا کو تجارت کے نئے انداز اور نئے راستے دکھائے۔ ہالی وڈ نے سند باد جہازی کی شکل میں عربوں کی جہاز رانی میں عظمت کا اعتراف کیا ہے۔

  8. ابوشامل says:

    آپ تمام احباب کا تحریر کو پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ آئندہ بھی اسی قسم کی مزید معلوماتی تحاریر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

  9. اجمل says:

    آج دس دن بعد میں نے آپ کی تحریر کو پھر پڑھا ہے اور مزید لُطف محسوس ہوا ۔ خزاک الہہ خیر

    نعمان صاحب کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام کی خاطر فوج کشی نہیں کی ۔ اسلام فوج کشی سے نہیں پھیلا ۔ اگر طاقت سے کوئی دین پھیل سکتا تو فی زمانہ کشمیری ۔ فلسطینی ۔ افغانی اور عراقی اپنے سے بہت زیادہ طاقتوروں کے سامنے ڈٹے نہ ہوتے ۔

    جہاں تک جغرافیہ یا نقشے کا تعلق ہے وہ بھی اصل حالات شاید نعمان صاحب تک نہیں پہنچے ۔ آج جو دنیا کا نقشہ ہے وہ اس نقشے سے زیادہ مختلف نہیں ہے جو مسلمان جغرافیہ دانوں نے 1300ء کی صدی میں تیار کیا تھا

    ایک اور بات بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہلاکو خان بغداد کی لائبریری نہ جلاتا اور سلیبی غرناطہ اور اشبیلیہ کی لائبریریاں نہ جلاتے تو آج لوگ ماضی بعید کی تاریخ سے صحیح طور واقف ہوتے ۔

    میری تحقیق کے مطابق کچھ کُتب کا ترجمہ کر کے یورپ کے لوگوں نے اپنے نام لکھ لئے باقی ضائع کر دی گئیں ۔ ایک حوالہ یہاں موجود ہے
    http://iabhopal.wordpress.com/fire-arms-through-centuries

  10. اجمل says:

    اُوپر دیئے گئے حوالہ سے پہلے اس کو پڑھیئے
    http://iabhopal.wordpress.com/fire-arms-through-centuries/

  11. Khalid.Naeemuddin says:

    Good, excellent information.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.