تمہیں لیڈرکہوں یا اپنی مجبوری کا مفتوحہ علاقہ؟

تحریر: زبیر انجم صدیقی

اگر چہ ہمارے ٹی وی چینلز نے اگست کے آغاز سے ہی کپتان کے آزادی مارچ اور طاہرالقادری کی سرگرمیوں کی غیرمتوازن اور صحافتی اقدار سے ماورا کوریج کر کے قوم کو سنسنی میں مبتلا کررکھا تھا۔ مگر دونوں مارچز کے شرکا کے اسلام آباد کے ریڈزون میں پہنچنے کے بعد بال بائی بال کمنٹری نے اس سنسنی کوہیجان میں بدل دیا۔ انقلاب اور آزادی کی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی۔ نہ ’’انقلاب‘‘ آیا نہ ’’آزادی‘‘ ملی۔

اس چوبیس گھنٹے کی غیرمتوازن نشریات میں قائدین کے کنٹینر سے باہر آنے ، چھت پر ٹہلنے ،سیاسی ملاقاتوں ، تقریروں یہاں تک کے ناچ گانے تک کوبلاتعطل دکھایا گیا مگر ’’اصل خبر‘‘ نشر کرنے کی کسی چینل کو توفیق نہ ہوئی۔ ’’اصل خبر‘‘ ملی تو امریکی اخبارات سے۔ اور یہ خبرمیری طرح ہر جمہوریت پسند پاکستانی کے لیئے انتہائی تکلیف دہ بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ فوج عمران خان اور طاہرالقادری کے تحریکوں کا اصل مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دباؤکے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف نے خارجہ ، دفاع اور داخلی سلامتی کے معاملات فوج کو سرنڈر کردیئے ہیں۔ اور اب اس سمجھوتے میں واحد رکاوٹ محض یہ رہ گئی ہے کہ فوج کو اس معاملے وزیراعظم کی جانب سے کچھ ضمانتیں درکار ہیں۔ یہ سمجھوتہ سامنے آنے کے بعد یہ بات بھی ناقابل فہم نہیں رہی کہ گزشتہ پانچ روز میں وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف کی تین اور جنرل راحیل شریف سے شہباز شریف اور چوہدری نثار کی دو ملاقاتوں کے مقاصد کیا تھے ؟

بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم نوازشریف کسی طرح بھی میرے پسندیدہ سیاستدانوں میں شامل نہیں ،مگر جس طرح انہوں نے اس مرحلے پر ہتھیار ڈالے ہیں یا وہ ڈالنے پر مجبور ہوئے ہیں ، وہ نہ صرف انہیں منتخب کرنے والی پارلیمان بلکہ پارلیمان کو منتخب کرنے والے عوام کے لیے توہین آمیز ہے۔ نوازشریف سے زیادہ یہ مینڈیٹ دینے والے عوام کی توہین ہے جن کے وزیراعظم کی اب دنیا کی نظر میں کوئی اہمیت ہوگی اور نہ ہی کوئی انہیں سنجیدگی سے لے گا ،عالمی رہنما اور اب پرائم منسٹرہاؤس کے بجائے جی ایچ کیو کے ون ونڈوآپریشن سے ہی استفادہ کیا کریں گے اور اب وزیراعظم کا کام دفاع ، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر جی ایچ کیو کے فیصلوں پرکسی ماتحت کی طرح مہرتصدیق ثبت کرنے کا ہی رہ جائے گا۔ کسی ایسے وزیراعظم کی دنیا کی نظر کیا اہمیت ہوگی؟یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں۔ یہ نوازشریف سے زیادہ ان اٹھارہ کروڑ عوام کی توہین ہے جن کی منتخب کردہ پارلیمان نے انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا۔ اخبار کے مطابق فوج یہ سب کچھ اپنے پیدا کردہ سیاسی بحران سے وزیراعظم کو دباؤ میں لاکر یہ سب منوانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ نوازشریف نے ابتدا میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی وہ آصف زرداری نہیں ہیں۔ مگر اس وقت ہی فوج نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نواز شریف کو آصف زرداری کی طرح محدود کرکے رہیں گے۔

اس سرنڈرکے بعدنواز شریف کو بھارت سے اچھے تعلقات اورافغانستان کے معاملات میں عدم مداخلت پالیسیوں کو شیلف میں رکھنا پڑے گا۔ جس کا ذکر وہ انتخابی مہم اور وزیراعظم بننے کے بعد کرتے رہے ہیں۔

نوازشریف کے ریت کی طرح ڈھے جانے کا پہلا اظہار اس وقت ہوا جب میجر جنرل سطح کے افسر ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے فریقین (حکومت اور اسلام آباد میں دھرنا دینے والی جماعتوں ) کو مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی تلقین کی۔ کوئی مستحکم جمہوریت تو دور کی بات ہے ، کیا بھارت یا سری لنکا میں بھی کوئی میجر جنرل سیاسی معاملات میں اس طرح مداخلت کرکے برطرفی سے بچ سکتا تھا ؟

نوازشریف کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت سے کہیں زیادہ استقامت تو چند سیٹیں جیتنے والی جماعت اسلامی نے اس وقت دکھائی تھی جب سابق امیرجماعت منور حسن کے انٹرویو نے طوفان کھڑا کردیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے ان کے بیان کو شہیدوں اور ان کے لواحقین کی توہین اورغداری قراردیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

منور حسن کی جانب سے ڈرون حملوں میں مرنے والوں کو شہید قرار دینے کا بیان درست تھا یا غلط اس پر بحث ہوسکتی ہے۔ مگر آئی ایس پی آر کے مطالبے کے جواب میں جماعت اسلامی کی شوریٰ نے جو بیان جاری کیا اس سے کوئی بھی بااصول اور جمہوریت پسند اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والا اختلاف نہیں کرسکتا۔ شوریٰ کے اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے چند سطروں کا بیان پڑھ کر سنایا کہ فوج کو ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور آئی ایس پی آر نے ایک سیاسی بیان جاری کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا جو بذات خود ایک قابل گرفت فعل ہے۔ معافی یا بیان واپس لینا تو دور کی بات جماعت اسلامی کی مرکزی شوری ٰ نے الٹا آئی ایس پی آر پر چڑھائی کر دی۔ اور اس کے بعد آئی ایس پی آر اور اس کے ڈی جی عاصم سلیم باجوہ کو ایسا سانپ سونگھا کہ انہیں آج تک یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے ایک کمزور اور معمولی سی مذہبی جماعت کے امیر سے معافی اور بیان واپس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

اس مرحلے پر بے نظیر بھٹو کو بھی داد دینے کو جی چاہ رہا ہے۔ جنہوں نے دو ہزار سات میں اقتدار تو کیا ملک سے بھی باہر ہوتے ہوئے فوجی صدر سے اپنی مرضی کا سمجھوتہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس میں این آر او جیسا غیرقانونی آرڈننس کا اجراء بھی شامل تھا۔ اور ایک یہ نوازشریف ہیں جو اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپنے جائز ،آئینی اور قانونی اختیارات سرنڈر کر چکے ہیں۔ منیر نیازی کے شعر میں معذرت کے ساتھ تصرف کررہا ہوں:

اک اور چیتے کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک چیتے کے منہ سے نکلا تو میں نے دیکھا

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *