خوف کے بادل چھٹنے لگے؟

2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اب ریاست کے مسلمان آہستہ آہستہ خوف کے سائے سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔ معروف بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق فسادات کے 6 سال بعد اب ریاست کے مسلمان اب خاص نمبر پلیٹوں کی نیلامی میں ایک مرتبہ پھر "786" کے حصول کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جسے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
فسادات سے قبل مسلمان زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر اپنی گاڑیوں کے لیے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کیا کرتے تھے لیکن 2002ء کے اوائل سے ایسی نمبر پلیٹوں کی نیلامی روک دی گئی تھی جن پر 786 درج ہوتا تھا اور ان فسادات کے بعد ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مسلمان اپنی شناخت چھپانے اور ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایسی نمبر پلیٹوں سے گریز کرنے لگے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نیلامی میں مسلمان ایک مرتبہ پھر 786 کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیے اور پرویز شیخ نامی ایک مسلمان نے نیلامی میں 4186 روپے کی ادائیگی کر کے اپنی موٹر سائیکل کے لیے 786 کے نمبر کی حامل پلیٹ حاصل کر لی۔
بھارتی گجرات میں 2002ء فسادات کے بعد مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ اور کیا اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور کیا واقعی ریاست گجرات میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے؟ کیا دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی اسی وزیر اعلٰی کی موجودگی میں مسلمان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں؟ کیا 786 نمبر والیتختیوں کی نیلامی اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی ہر اس شخص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جو خود کو امت واحدہ کا حصہ سمجھتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. کامران says:

    کرنے والی باتیں ہیں صرف
    مسلمانوں کے حالات بہت برے ہیںاور ان کے ساتھ سلوک بھی

  2. ہندوستان سے ہمارے ایک مہمان پاکستام میں ہم سے ملنے کے لیے آئے کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ہمارا دور کا رشتہ تھا ان سے ۔ مجھے جب پتہ چلا کہ وہ ہندوستان سے آئے ہیں تو میں نے سوچا کیوں نا ان سے وہاں کے حالات پوچھے جائے میں نے ان سے ملاقات کی ۔ پہلی ملاقات میں وہ مجھے نہیں پہچھان سکے میں تو ویسے بھی ان کو نہیں‌جانتا تھا بات شروع کی تو سب سے پہلے میں نے یہی پوچھا سنا ہے ہندستان میں مسلمانوں پر بہت ظلم کرتے ہیں آپ کہہ کہتے ہیں۔ کہنے لگے نہیں جی وہاں کچھ بھی ایسا نہیں ہے سب ٹھیک ہے جیسے ہندو رہتے ہیں ویسے ہی مسلمان رہتے ہیں میں بہت حیران ہوا کہ ایک مسلمان اور وہ بھی ہمارا رشتیدار یہ کہہ رہا ہے خیر باتیں ہوتی گے وہ میرے بارے مین پوچھتے گے میں ان کو بتاتا گیا تقریباََ 5 گھنٹے ہماری بات چیٹ ہوتی رہی اس دوران وہ میرے بارے میں ہی پوچھتے رہے لیکن جب رات ہوئی تو پھر وہ مجھے اپنے بارے میں بتانے لگے کہنے لگے یار ہندوستان میں بہت بھورا حال ہے ۔میں ان کے منہ کی طرف دیکھنے لگا دن کو تو یہ کہتے تھے کہ سب ٹھیک ہے اور اب ان کوکیا ہوا ہے ۔ کہنے لگے تم جو کچھ سوچ رہے ہو وہ ٹھیک ہے پہلے میں نے اس لے جھوٹ بولا تھا مجھے ڈر تھا کہی تمہارا رابطہ کسی اجنسی سے نا ہو کیوں کہ جب ہم پاکستان آتے ہیں تو ہمارے پچھے بندے چھوڑے جاتے ہیں اس ہے ہمیں محتاط رہنا پڑتا ہے کہ ہم کوئی ایسی بات نا کر دے جو بعد میں ہمارے لے مسئلہ ہو وہاں مسلمانوں پر بہت سختی ہے کہی بھی جائے تو تلاشی لی جاتی ہے بعض جگہ پر تو کپڑے اتار کر بھی تلاشی لی جاتی ہے تھوڑا سا شک ہونے کی صورت میں پولیس پکر کر لے جاتی ہے اور اتنا مارتی ہے کہ بس نا پوچھو ۔ وہ ساری رات میرے ساتھ اسی طرح کی باتیں کرتے رہے میں تو آپ کی اس خبر سے کبھی بھی اتفاق نہیں کروں گا کچھ بھی ہو جائے وہ مسلمانوں کے حق میں اچھے نہیں ہے

  3. جہاں تک ٧٨٦ کا تعلّق ہے اسے مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم پسند کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک بھلے ہی یہ بسم اللہ ہوگا، غیر مسلم اسے "لکی نمبر" کے تصوّر کرکے بڑے چاؤ سے ایسی نوٹیں اٹھا رکھتے ہیں جن میں ٧٨٦ کہیں بھی ہو۔

    گجرات کے حالات کیوں کر سدھر سکتے ہیں جب گجراتیوں کی ذہنیت یہودیوں سے بدتر ہوچلی ہو۔ ان کمینوں کو صرف سڑکیں اور دولت کے انبار چاہئیں۔ جب بھی فسادات کا نام آتا ہے وہ آپ کی بات ختم ہونے سے پہلے ترقی کے گن گانے لگتے ہیں۔ مودی نے جو کیا وہی گجراتی غیر عوام چاہتے تھے۔ مودی کو مسیحا تصور کیا جاتا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.