شیشہ و تیشہ

شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ ہے، ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو ملانے والی یہ شاہراہ اس وقت بھی جاگتی اور زندگی کو رواں رکھتی ہے جب پورا شہر سوجاتا ہے۔ دفتری اوقات میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا ایسا خطِ زندگی ہے جو اسے ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھتا ہے۔ یہ شاہراہ عوام کے کئی رازوں سے اسی طرح واقف ہے، جیسے ان کے گھر کی دیواریں۔

اب جبکہ شہر قائد میں موسم گرما کے ابتدائی ایام ہیں۔ سورج صبح سویرے ہی سے اس کے تارکول کو سینک رہا ہے۔ حد نظر تک گاڑیوں کا سیلاب ہے، بمپر سے بمپر ملا ہوا ہے اور ہر کوئی اس پل صراط کو پار کرکے اپنی منزل تک جلد پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ اسی بہاؤ میں آگے ایک ٹرک نظر آ رہا ہے۔ تمام گاڑیوں میں سب سے نمایاں ۔ اسے گاڑی کیا کہیں کہ بس لوہے کا ایک بڑا سا ڈبہ ہے۔ بالائی حصے میں روشن دان ہیں، جن میں سلاخیں لگی ہیں اور انہی سلاخوں کو تھامے ہوئے چند ہاتھ بھی ظاہر ہیں۔ یہ قیدیوں کی گاڑی ہے، جو انہیں حوالات سے عدالت لے جا رہی ہے۔ زندگی سے موت کی طرف یا شاید موت سے زندگی کی طرف!

باہر زندگی کی ہماہمی ہے، ایک ہنگامہ بپا ہے، آدمی آدمی پر ٹوٹا پڑ رہا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب کے درمیان یہ بے حس ٹرک کھڑا ہے۔ خوشیوں اور آرزوؤں کے سمندر میں اداسیوں کے جزیرے اور مایوسیوں کے ٹاپو کی طرح یا زندگی کے صحرا میں خدشات و خطرات کی ایک دلدل کی مانند۔ لوہے کی صرف ایک موٹی چادر اور چند معمولی سلاخوں کے اندر، محض چند ملی میٹر پیچھے، زندگی کے معنی کتنے مختلف ہیں نا؟ چہار اطراف خوشی و انبساط ہے، آزادی ہے، غم دنیا و فکر روزگار بھی ہے، آسانیاں ہیں، مشکلات بھی ہیں، دوڑ دھوپ اور جدوجہد ہے، کامیابیاں و کامرانیاں ہیں، الغرض روانی ہے، گرانی ہے لیکن عین اس کے وسط میں بظاہر حرکت کرتی، لیکن بے دلی کے ساتھ، یہ گاڑی۔ جس کی سلاخوں کو تھامے ہوئے ہاتھوں میں کئی رنگ نظر آ رہے ہیں، شاید خوف کے، یا احساس ندامت کے، یا بے بسی کے۔ یہ ہاتھ اپنے مبینہ جرم پر نوحہ کناں بھی نظر آتے ہیں اور اپنی مبینہ مظلومیت کا رونا روتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی اثناء میں سیاہ رنگ کی ایک چمچماتی ہوئی کار آگے بڑھی اور گاڑیوں کے درمیان جگہ بناتی ہوئی عین اس ٹرک کے برابر میں کھڑی ہوگئی۔ شیشے چڑھے ہوئے، جن کے پیچھے ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ایک شخص نظر آ رہا ہے۔ چہرہ غرور و نخوت کا حامل لیکن آسودگی کا نور ضرور موجود۔ خلاؤں میں گھورتی نظروں کے ساتھ غالباً دو جمع دو کو پانچ بنانے کی کوشش میں مشغول یہ شخص نجانے کیوں مجھے ایک حنوط شدہ لاش جیسا لگا۔ اردگرد ہونے والے ہنگامے سے بے پروا اور باہر زندگی کی دوسری جہت سے ناآشنا۔ شیشے کے عین پیچھے وہ بالکل دوسری دنیا کا نمائندہ ہے۔ ایک طرف سرکاری قید میں بندھا شخص، اس کے ساتھ غربت کے شکنجے میں کسے ہوئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں قیدی، اور دوسری جانب یہ دو عالم سے بیگانہ۔ میں سوچنے لگا کہ اگر حالات ان دونوں کو مقابلے پر لے آئے تو لوہے کی چادریں کاٹنے سے کہیں زیادہ آسان شیشے کی یہ تہہ توڑنا ہوگا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *