غیر سیاسی گفتگو

وہ: یار، جب تک یہ سڑک نہیں بنے گی، کاروبار کا یہی حال رہے گا

میں: سڑک بن تو رہی تھی۔

وہ: کہاں یار؟ چوک سے آگے نہيں بنائی سالوں نے۔ وہاں تو اتنی چوڑی سڑک بنا ڈالی ہے۔ آگے کی دکانوں کو تو پر لگ گئے ہیں اور ادھر ہمارا یہ حال ہے۔

میں: یعنی تم لوگوں کا ابھی تعلیم اور صحت پر ہی گزارا چل رہا ہے؟

وہ: کیا مطلب؟

میں: چھوڑ، تُو نہیں سمجھے گا۔

2 تبصرے

  1. Osaid says:

    samjha main bhi naheen

    • ابوشامل says:

      "قوم کو سڑکوں کی نہیں، صحت اور تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے" اب سمجھ گئے؟ 😛

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *