قلعہ جنگی کی جنگ

چند روز قبل نیشنل جیوگرافک چینل پر ایک دستاویزی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ حالانکہ میں "دہشت گردی" اور اس طرح کے دیگر موضوعات پر نیشنل جیوگرافک کی فلمیں دیکھنے سے اجتناب ہی کرتا ہوں کیونکہ وہ انتہائی متعصبانہ ہوتی ہیں اور اس میں صرف وہ نقطۂ نظر ہی پیش کیا جاتا ہے جو حکومتوں کا پیش کردہ ہوتا ہے مثلاً نائن الیون پر امریکی حکومت کا موقف بعینہ ویسا ہی پیش کیا گیا جیسا کہ امریکی حکومت بیان کرتی ہے اور اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کا اظہار تک نہیں کیا گیا۔
بہرحال اِس مرتبہ جو فلم دیکھنے کا موقع ملا وہ مشہور سیریز Situation Criticalکا حصہ تھی اور اس قسط کا نام تھا Taliban Uprising تھا جو 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء تک افغانستان کے مشہور قلعہ جنگی میں پیش آنے والی صورتحال کا آنکھوں دیکھا حال تھا۔ فلم کی خاص بات وہ حقیقی مناظر ہیں جو طالبان قیدیوں کی مزاحمت اور شمالی اتحاد کے فوجیوں کی بربریت اور امریکی گولہ باری کے موقع پر موجود صحافیوں نے کیمرے میں قید کر لیے ۔
قلعہ جنگی کی اس "جنگ" میں شمالی اتحاد کے درجنوں فوجی اور طالبان کے 300 سے زائد جنگجو (سرکاری اعداد و شمار) مارے گئے جبکہ 10 امریکی و برطانوی فوجی زخمی بھی ہوئے جبکہ ایک امریکی سی آئی اے ایجنٹ بھی مارا گیا۔
حالانکہ وہاں موجود صحافیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور شاید صحیح تعداد کبھی بھی منظر عام پر نہ آسکے۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی اس مزاحمت کے بعد جو 80 طالبان گرفتار ہوئے ان میں امریکہ سے تعلق رکھنے والا جان واکر لِنڈھ بھی شامل تھا جس کا اسلامی نام حمزہ واکر جبکہ کوڈ نام سلیمان الفارس تھا۔ بہرحال اس واقع کا افسوسناک ترین پہلو یہ تھا کہ امریکی طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ سینکڑوں ہلاکتیں پس منظر میں چلی گئیں اور اس قتل عام کی تحقیقات آج تک نہ ہو سکیں۔ اس بارے میں کچھ اہم روابط درج ذیل ہیں:
CNN
Yahoo! Video
Youtube Video 1
Youtube Video 1
Meefedia
National Geographic

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. راہبر says:

    یہ فلم میں نے بھی دیکھی تھی۔ حیرت انگیز بھی تھی اور افسوسناک بھی۔ طالبان کی ہمت اور جوش قابلِ دید تھا۔
    آپ نے یہ درست کہا کہ نیشنل جیوگرافک کی کچھ دستاویزی فلموں میں تعصب پایا جاتا ہے۔ جیسے پچھلے دنوں شمالی کوریا پر ایک پروگرام دکھایا تھا۔ انتہائی نچلے درجے کا بھونڈا پروپیگنڈا تھا۔ مجھے دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی تھی۔

  2. بہت شکریہ ابوشامل بھائی۔کوشش کرتا ہوں اگر ویڈیو ڈاؤن لوڈ ہو جائے۔ تارڈ صاحب کا شاید کوئی ناول بھی تھا اسی واقعہ کے بارے میں، وہ پڑھا آپ نے؟

  3. ابوشامل says:

    راہبر! ابھی تو آپ دیکھتے جائیے، دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل جیوگرافک کی دستاویزی فلموں کا معیار!
    جی ساجد بھائی! تارڑ صاحب نے بھی ناول لکھا تھا اور شاید کسی جریدے میں قسط وار شائع بھی ہوا تھا لیکن پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ سوچ رہا ہوں کہ اس مرتبہ خرید لوں

  4. کل ہی ڈاؤن لوڈ کرکے دیکھی یہ دستاویزی فلم۔ سارا زور تو سی آئی اے کے ایجنٹوں کے کارناموں پر تھا۔ طالبان کے حوصلے کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔
    ابوشامل بھائی کچھ اور اس قسم کی دستاویزی فلموں کے بارے میں ضرور لکھیے گا۔

  5. ابوشامل says:

    بس بھائی ان کی بنی ہوئی دستاویزی فلم تو ایسی ہی ہوگی۔ ویت نام اور صومالیہ پر بنی فلموں میں بھی ایسے ہی دکھایا گیا جیسے انہوں نے بڑے کارنامے کیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ "بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے"
    فلم کا ایک اور خاص پہلو جو میرے لیے بہت اہم تھا وہ تھا فضائی حملے کی ناکامی بلکہ "فرینڈل بمبنگ" آپ سوچیں GPS سے لیس JDAM بم اپنے ہدف کو نشانہ لگانے میں ناکام رہے۔ دوسری بات صرف 400 طالبان کی ہزاروں افراد کے خلاف ایک ہفتہ تک مزاحمت حتی کہ دسمبر کے سرد ترین مہینے میں بغیر کھائے پیے جدوجہد و مزاحمت ان کی شجاعت کی ایک مثال ہے۔
    اگر کبھی کوئی اس طرح کی دستاویزی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ضرور شیئر کروں گا۔

  6. نیشنل جیوگرافک کی قلعہ جنگی اور دہشت گردی سے متعلق فلمیں‌ میں‌نے دیکھی ہیں۔ لیکن مجھے آپ حضرات کی رائے سے کچھ اختلاف ہے۔
    قلعہ جنگی والی دستاویزی فلم تو میرے لیے اس وجہ سے انتہائی حیرت انگیز تھی کہ طالبان اسے بہت اچھا پروپیگنڈہ ہتھیار بنا سکتے ہیں۔ خلیج فارس میں‌ایک ایرانی مسافر طیارے کو امریکی طیارہ بردار جہاز سے مار گرائے جانے پر بھی نیشنل جیوگرافک نے ایسی ہی غیرجانبدارانہ دستاویزی فلم پیش کی تھی۔
    جہاں تک انسداد دہشت گردی سے متعلق سیریز کا تعلق ہے تو بجا طور پر یہ کسی حد تک جانبدارانہ ہیں لیکن ہمیں‌ بہت زیادہ جانبدارانہ اور پروپیگنڈہ اس لیے لگتی ہیں‌ کہ ان میں‌ جنہیں‌دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ان کو ہم مجاہدین سمجھتے ہیں‌یا ایک عرصے تک سمجھتے رہے ہیں

  7. السلام علیکم بھائی
    پوری دنیا میں مسلمان دہشت گرد ہیں اور غیر مسلم بے گناہ ہیں
    کشمیر میں شہید ہونے والے مسلمان ،فلسطین میں شہید ہونے والے مسلمان، افغانستان میں‌شہید ہونے والے مسلمان ،عراق ، غزوہ، اور بہت سارے مسلم ممالک میں جو مسلمان شہید ہو رہے ہیں اس کی کسی کو پروا نہیں ہے اس پر کوئی دستاویزی فلم نہیں بناتا وہ کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.