وائی کنگز کے درمیان – پہلی قسط

ایک ہزار سال سے بھی پہلے، جب وائی کنگ حملہ آوروں کے بیڑے مغربی یورپ کے ساحلوں اور دریاؤں کے کناروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے خوف کی علامت تھے، وائی کنگ سرزمین ہی کے تجارت کی طرف مائل افراد مشرق کا رخ کررہے تھے۔ ان میں دلیری و شجاعت اور حوصلے کی ہرگز کمی نہ تھی، وہ اعلیٰ پوستین چڑھائے اور عنبر کی ڈلیاں لیے ان وسیع میدانوں میں داخل ہوتے جو آج یوکرین، بیلاروس اور روس میں شامل ہیں اور پھر وہاں سے وسط ایشیا میں قدم رکھتے۔ یہاں وہ مسلمان تاجروں سے ملتے اور ان چیزوں کے بدلے چاندی کے سکے حاصل کرتے، جو وہ خود نہیں ڈھال سکتے تھے لیکن انہیں پسند بہت تھے۔

وہ مختلف راستے اپناتے یہاں تک کہ نویں اور دسویں صدی میں تجارت کا ایک وسیع جال بچھ گیا۔ اسکینڈینیویا کے چند باشندے زمینی اور دریائی سفر کرتے، جبکہ دیگر بحیرۂ اسود اور بحیرۂ قزوین سے آتے اور اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر بغداد تک پہنچ جاتے جو اس وقت عباسی خلافت کا مرکز تھا اور تقریباً 10 لاکھ نفوس کا ایک جیتا جاگتا شہر تھا۔ یہاں اسکینڈینیویا کے ان باشندوں نے ایسا تجارتی مرکز دیکھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، وہ اپنی سرزمین پر جنہیں شہر سمجھتے تھے وہ تو ابھی چھوٹے موٹے قصبے تھے۔

بغداد کے عربوں کے لیے ان دور دراز کے باشندوں کی موجودگی اتنی زیادہ حیران کن نہیں تھی کیونکہ وہ بہت عرصے سے مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے افراد سے ملنے کے عادی ہو چکے تھے۔ وہ بہت گہری اور عمیق نگاہ اور مشاہدہ رکھنے والے لوگ تھے۔ عباسی مؤرخین اور خلیفہ کے نمائندوں نے اسکینڈینیویا کے ان باشندوں یعنی نورس مین کے بیانات لکھے، جو وائی کنگ تاریخ اور ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کے بھی ایسے گوشوں کو نمایاں کرتے ہیں، جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور یوں ایک تاریخی ورثہ چھوڑا۔

آٹھویں صدی کے اواخر میں انگلستان پر پہلے وائی کنگ حملے سے لے کر اگلے 300 سال کا زمانہ ‘وائی کنگ عہد’ کہلاتا ہے جس میں نورس مین کسی بھی دوسری یورپی قوم کے مقابلے میں زیادہ قسمت آزمائی کررہے تھے۔ انہوں نے شمالی بحر الکاہل کے تقریباً تمام علاقوں کو اپنی نوآبادی بنایا، یہاں تک کہ ہزاریہ کے اختتام پر شمالی امریکہ میں بھی مختصر عرصے کے لیے ایک نوآبادی قائم کی۔ یہ زیادہ تر موجودہ ناروے اور ڈنمارک کے باشندے تو جو مغرب کی جانب سفر کرتے تھے، لیکن “مشرقی وائی کنگز” زیادہ تر سویڈش باشندوں پر مشتمل تھے، اور انہوں نے جنوب مشرق کا رخ کیا، کیف اور نووگراڈ میں تجارتی مراکز قائم کیا، جہاں ان کی اشرافیہ نے حکومت کی۔ یہی وہ زمین ہے جہاں مسلم مؤرخین نے ان وائی کنگز کا مشاہدہ کیا۔

عرب مورخین ان طویل قامت گوری چمڑی اور سنہری بالوں والے باشندوں کو “وائی کنگز” نہیں کہتے تھے بلکہ انہیں نسلی نام “روس” سے پکارتے تھے۔ اس لفظ کی حقیقت ابھی تک مبہم ہے، لیکن دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سوئیڈن کے لیے مغرب فن زبانوں کے نام ‘روتسی’ سے نکلا ہے اور اس پر کسی حد تک اب اتفاق ہے۔ بزنطینی اور عرب مورخین سوئیڈش تاجروں اور آباد کاروں اور ان کے ساتھ ساتھ جن اقوام میں وہ قیام کرتے اور شادیاں کرتے تھے ان کو بھی، روس کہتے تھے اور یہی جدید روس کے نام کا منبع بھی ہے۔

یہ نام صرف مشرق میں استعمال ہوتا تھا۔ فرانس اور صقلیہ (سسلی) میں وہ نارمنز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ بزنطینی بادشاہوں کے مشرقی نورس مین پر مشتمل منتخب محافظ کو ویرنجیئنز (Varangians) کہلاتے تھے، لیکن یہ اصطلاح اس خطے سے باہر کبھی بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوئی۔ اندلس یعنی اسلامی ہسپانیہ میں انہیں مجوس یعنی آتش پرست کہا جاتا تھا، جو ان کے مشرکانہ عقائد کی جانب اشارہ کرتی تھی۔

صرف برطانوی ہی ان کو، اور یہ خود بھی اپنے آپ کو، “وائی کنگز” کہتے تھے اور یہ لفظ شاید ‘وک’ یعنی خلیج اور اوسلو جھیل کے نام ‘ویکن’ سے نکلا تھا، وہی کہ جہاں سے ابتدائی وائی کنگ بحری جہاز نمودار ہوئے تھے۔ لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اولڈ نورس ادب کے پروفیسر جیسی بیوک کہتے ہیں کہ ” اسکینڈینیویا کے تمام باشندے وائی کنگ نہیں تھے۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی اپنے خطے کے لٹیروں کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ اصطلاح کبھی ان مقامی کاشت کاروں کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔”

مغربی یورپ میں وائی کنگ حملوں کا زیادہ تر ذکر راہب اور مذہبی پیشواؤں کے حوالے سے ملتا ہے، جن کی زیادہ تر توجہ اس بات پر تھی کہ حملہ آوروں کو بدترین اور وحشیانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ لیکن مشرق میں معاملہ مختلف تھا۔ یہاں قوم روس کو عام طور پر تلاش کار، آباد کار اور تاجر سمجھا جاتا تھا، حالانکہ وہ اچھی طرح مسلح ہوتے تھے لیکن مسلمان تاجر انہیں تاجر-جنگجو سمجھتے تھے جن کا بنیادی کام کاروبار کرنا تھا۔ قوم روس عباسی خلافت کے درہموں کی دلدادہ تھی، انہوں نے خطے میں قدم رکھا اور دور دراز علاقوں میں بس گئے، تاکہ خراج و محصول سے بچ سکیں، وہ زیادہ تر تجارت مسلمانوں کے ساتھ کرتے تھے جو نئے تجارتی مواقع کی تلاش میں شمال اور مغرب میں ان کے علاقوں کا رخ کرتے تھے۔

ہم درحقیقت اِس قوم روس ، یعنی مشرقی نورس مین، کے بارے میں آج بہت کم علم رکھتے، اگر مسلم سیاح ابن فضلان نویں صدی عیسوی میں تفصیلاً ان کا ذکر نہ کرتے۔ انہوں نے دریائے وولگا کے کناروں پر مقیم قوم روس اور ساتھ ساتھ دیگر کئی اقوام کا بھی تفصیلی احوال اپنے “رسالہ” میں درج کیا ہے۔ ایک صدی بعد قرطبہ کے ایک تاجر طرطوشی نے ڈنمارک کے ایک قصبے کا حوالہ دیا ہے جو ہمیں اس علاقے کی بودوباش کے بارے میں ایک معمولی سی جھلک دکھاتا ہے۔ 943ء میں مسعودی کی لکھی گئی “سونے کےمرغزار” اور مقدسی کی 985ء میں تحریر کردہ “خطے کے بہترین علمی ادارے” بھی روس کا ذکر کرتی ہیں۔

یورپ کے مقابلے میں یہ عرب حوالے قوم روس کے خلاف معاندانہ رویہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے یہ زیادہ غیر متعصب اور جدید دور کے ماہرین کی نظر میں زیادہ قابل بھروسہ سمجھے جاتے ہیں۔ کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ وائی کنگز قرونِ وسطیٰ کے “ناقص ذرائع ابلاغ” کا نشانہ بنے ہیں حالانکہ اس عہد میں شارلمین اور دیگر یورپی بادشاہوں کے عسکری حملے بھی اتنے ہی بے رحمانہ ہوتے تھے۔ لیکن وائی کنگز پڑھے لکھے نہیں تھے، اور سوائے قبروں کے کتبوں اور چند مقامات کی علامتیں نصب کرنے کے علاوہ وہ کبھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکے کہ تاریخ کو خود سے بہتر بنائیں۔ ان کے سورماؤں اور دیوتاؤں کی زبانی کلامی کہانیاں بھی 12 ویں صدی سے پہلے قلم زد نہیں ہوئیں۔

———– جاری ہے ———–

یہ تحریر ناروے سے تعلق رکھنے والی امریکی صحافی جوڈتھ گیبریل کے مضمون “Among the Norsetribes” کا ترجمہ ہے۔ آپ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ اسکینڈینیویا کے بارے میں بھی لکھتی ہیں۔ آپ لاس اینجلس کے سہ ماہی الجدید اور نیو یارک کے ہفتہ وار ناروے ٹائمز دونوں کے لیے ادارت کی خدمات انجام دیتی ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *