ہاشم خان ، بال بوائے سے سات مرتبہ کے چیمپئن تک

پشاور سے خیبر ایجنسی جانے والے راستے پر واقع ایک معمولی سے گاؤں نواں کلی کے 8 سالہ بچے نے اپنے والد کے ہمراہ پشاور میں قائم برطانوی افواج کے افسران کے کلب میں قدم رکھا۔ درۂ خیبر کی حفاظت کی ذمہ داری پر مامور انگریز افواج کے لیے بنائے گئے کلب میں مختلف کھیلوں کے میدان تھے۔ اس بچے کو ٹینس کورٹس میں بال بوائے کی حیثیت سے خدمات کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ وہ دن تھے جب جب کلب میں اسکواش کورٹس کی تعمیر ہو رہی تھی۔ آؤٹ ڈور، بغیر چھت والے اسکواش کورٹس جن کو دیکھتے ہی ننھے دل میں تجسس ابھرا، اور یہیں سے ہاشم خان اور پاکستان کے اسکواش میں عظیم سفر کی داستان شروع ہوتی ہے۔

ہاشم خان کی ابتدائی زندگی بہت کٹھن تھی۔ انتہائی پسماندہ ہونے کے علاوہ جب وہ محض 11 سال کے تھے تو ان کے والد ایک حادثے میں چل بسے۔ اس کا نتیجہ اسکول چھوڑ کر مستقل طور پر کلب سے وابستگی کی صورت میں نکلا اورہاشم خان “ترقی” پا کر اسکواش کورٹس کی صفائی پر مامور ہوئے لیکن دل کھیل کی جانب لگا رہتا اور نگاہیں کھیلنے کے طریقے پر جمی رہتیں۔ جب فوجی افسران فارغ ہوجاتے تو ہاشم خان ایک ریکٹ اٹھاتے اور کسی پرانی سی گیند سے کھیلنا شروع کردیتے، اکیلے۔ یہاں تک کہ چاندنی راتوں میں وہ رات گئے تک کورٹ میں اپنے ہی خلاف لڑتے دکھائی دیتے۔

جوتے میسر نہ ہونے کی وجہ سے کورٹ میں ننگے پیر کھیلنے والے ہاشم آہستہ آہستہ اسکواش کی باریکیوں کو سمجھتے گئے یہاں تک کہ 1944ء میں بمبئی سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیشنل اسکواش کھلاڑی کو شکست دے کر انہوں نے کلب میں اپنی دھاک بٹھائی اور پھر 1944ء میں بمبئی میں آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیت کر خود کو ثابت کر دکھایا۔ اگلے تین سال تک ہندوستان کا کوئی کھلاڑی ان کو شکست نہ دے سکا لیکن ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کی نومولود ریاست سخت مالی مسائل سے دوچار تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہاشم خان کی پرواز رک جائے گی۔ وہ رائل ایئرفورس کلب سے بطور اسکواش کوچ وابستہ ہوگئے اور 1951ء میں کہیں جاکر انہیں برٹش اوپن میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔ اس وقت ان کی عمر 37 سال تھی اور اب ہندوستان میں بھی معدودے چند لوگ ہی انہیں جانتے تھے ۔ ایک نومولود ملک کا غیر معروف کھلاڑی اس عمر میں جیتنے کے لیے برطانیہ پہنچا، جب بیشتر کھلاڑی ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں۔پھر ہاشم نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ فائنل میں مصر کے مسلسل چار مرتبہ کے چیمپئن بلکہ دفاعی چیمپئن محمود الکریم کو شاندار شکست دی۔ اس کے بعد اگلے پانچ سال تک برٹش اوپن فاتح رہے اور مجموعی طور پر سات بار برٹش اوپن جیتا۔ جب انہوں نے آخری بار 1958ء میں برٹش اوپن کی ٹرافی اپنے ہاتھوں میں لی تو ان کی عمر 44 سال تھی اور اس کے دو سال بعد ہی وہ امریکہ منتقل ہوگئے۔

ہاشم خان کے خاندان نے اگلے تقریباً 50 سالوں تک اسکواش کورٹس میں پاکستان کے پرچم کو سربلند کیے رکھا۔ ہاشم کے بعد اعظم خان، روشن خان، جہانگیر خان اور جان شیر خان نے شاندار فتوحات پا کر اس خاندان کو کھیلوں کی تاریخ کا سب سے عظیم خاندان بنایا۔ جس سفر کا آغاز ننگے پیر ہوا تھا وہ چند نسلوں بعد ورلڈ اسکواش فیڈریشن کی صدارت، کھیلوں کی تاریخ کے انوکھے ترین ریکارڈز اور بلاشرکت غیرے اسکواش دنیا پر حکمرانی پر منتج ہوا۔ یہاں تک کہ اس منزل کی جانب پہلا قدم اٹھانے والے ہاشم خان چند روز قبل 18 اگست کو انتقال کرگئے۔ انہوں نے ابھی یکم جولائی ہی کو اپنی 100 ویں سالگرہ منائی تھی۔

حوصلوں کو مہمیز دینے والی اس عظیم داستان کا افسوسناک ترین پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد اور اذہان جن پر بحیثیت قوم ہمیں ہمیشہ فخر رہے گا، ہماری قدر کے طالب ہی رہے اور بالآخر اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ہاشم خان چاہے جتنے عظیم کھلاڑی ہوں، لیکن ان کو حقیقی قدر مغرب نے دی۔ ان کے بیٹے شریف خان کو برطانیہ کے مہنگے ترین اسکولوں میں سے ایک میں داخلہ بھی انہوں نے ہی دیا، ہاشم خان کو خود امریکہ منتقل کرنے کے لیے بھی انہی افراد نے کامیاب کوششیں کیں جو ان کے حقیقی قدردان تھے۔ ہم؟ ہم صرف ان کے مرنے کے بعد مرحوم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے لیے رہ گئے ہیں۔ افسوس صد افسوس!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *