غم دیدہ

چند روزقبل ایک نجی ٹیلی وژن چینل پر ایک پروگرام دیکھنا نصیب ہوا، جس میں سرزمین اندلس کی تاریخ بیان کی گئی۔ پروگرام کو پیش کرنے کا انداز نرالا تھا،اس میں ہمارے نجی چینل کا کمال نہیں بلکہ یہ انگریزی یا ہسپانوی زبان میں بنی وڈیو تھی جس کا اردو ترجمہ کر کے ڈبنگ کی گئی تھی۔ پروگرام کچھ اس نوعیت کا تھا کہ تاریخ صوتی پس منظر کے ساتھ بیان کی گئی اور ساتھ ساتھ موجودہ مناظر دکھائے جاتے رہے۔ یعنی جبل الطارق پر طارق بن زیاد کے لشکر کی آمد کا احوال بیان کرتے ہوئے جبل الطارق یعنی جبرالٹر کے موجودہ مناظر دکھائے گئے۔ یہ پروگرام مجھے آبدیدہ کر گیا اور مجھے علامہ اقبال کے دل کی اس کیفیت کا علم ہوا جو یورپ سے واپسی پر بحیرہ روم کے جزیرے سسلی کے قریب سے گذرتے ہوئے ان پر وارد ہوئی تھی۔ علامہ کے دل کی تڑپ کا اندازہ تو ان کی نظم پڑھ کر ہی ہوتا ہے لیکن اس دل بے قرار کی بے قراری کا تھوڑا سا اندازہ مجھے وہ پروگرام دیکھ کر ہوا۔ اللہ اللہ ! مسجد قرطبہ کے مینار، الحمرا کے محلات، مدینۃ الزہرہ، جبل الطارق، الجزیرہ کی بندرگاہ، کھجوروں کے درخت اور دیگر زراعتی اجناس و پھلوں کے درخت جنہیں مسلمانوں نے یہاں متعارف کرایا، ذرے ذرے سے مسلمانوں کے عظیم ماضی کی جھلکتی یادگاریں مجھے آنکھیں تر کر گئیں۔اور ساتھ ہی ساتھ مجھے غرناطہ کے آخری فرمانروا ابو عبد اللہ کی والدہ کا وہ شہرہ آفاق جملہ بھی یاد آیا جو انہوں نے سقوط غرناطہ کے بعد آنسو بہاتے اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہا تھا کہ “جس کو تم جوانمردوں کی تلواریں نہ بچا سکیں اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو مت بہاؤ”۔
سسلی بھی کسی دور میں مسلم تہذیب کا گہوارہ رہا تھا اور پھر بقول شاعر “غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا”

صقلیہ
(جزیرہ سسلی)

رولے اب دل کھول کر اے دیدہ خوننانہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تیغ ناصبور
مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا
آدمی آزاد زنجیر توہم سے ہوا
غلغلوں سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟
آہ ہے سسلی! سمندر کی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو
زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر پیما کو رہے
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا
نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہان آباد پر
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی
غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا
ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں
درد اپنا مجھ سے کہہ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا،میں اس کارواں کی گرد ہوں
رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں،اوروں کو وہاں رلواؤں گا

Google Buzz

ٹیگز: ، ، ، ،

اب تک 3 تبصرے کیے گئے

  1. کیا کہنے ابو شامل ، اندلس تو میری بھی کمزوری ہے.

  2. ابوشامل says:

    اندلس کے علاوہ میری تو کئی اور کمزوریاں بھی ہيں، کبھی موقع ملا تو سلطنت عثمانیہ کے بارے میں لکھوں گا، مزید کمزوریوں کا اندازہ بھی ہو جائے گا :)

  3. ضرور کیوں نہیں ، بلاگ کا فائدہ ہی یہی ہے کہ جتنا چاہیں اتنا لکھیں اور جب چاہیں تب لکھیں اور ساتھ ساتھ دوست احباب کے تبصرے اور تنقید بھی پڑھیں :)

تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے