تحاریر برائے ماہِ ستمبر ، ۲۰۰۷


رمضان شہر الغفران

حالانکہ ماہ رمضان کے آغاز کو چند ہفتے گذر چکے ہیں لیکن کیونکہ میرا بلاگ ابھی شروع ہوا ہے اس لیے میں اپنے بلاگ پر آنے والے ہر شخص کو اس کی مبارک باد اس خوبصورت کارڈ کے ذریعے پیش کرتا ہوں، جو دراصل میرا اپنا تخلیق کردہ ہے۔
رمضان مبارک

Google Buzz

فتنۂ انکار سنت کی مختصر تاریخ

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اٹھا تھا اور اس کے اٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا۔ اور اس کی راہ میں حضور (ص) کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگي میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔اس بنا پر انہوں نےاحادیث کی صحت پر شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے تھے انہیں پوری طرح مسجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انہیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حال نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ انہوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سےوہ ان نام ہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہوجائیں۔ اس راہ میں پھر ہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان تیکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے، اور اس نظام فکر و عمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی رہنمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثيت سے لے لیا جائے، اور پھر اس کی من مانی تاویلات کر کے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو تیکنیک اختیار کی اس کے دو حربے تھے ۔۔۔۔۔ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الفور حضور (ص) کی ہیں بھی یا نہیں۔ دوسرے، یہ اصولی سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور (ص) کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت و اتباع کے پابند کب ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے، سو انہوں نے وہ پہنچایا دیا۔ اس کے بعد محمد (ص) بن عبد اللہ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے ہم ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے بن سکتا ہے۔
یہ دونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تک اسلامی دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت ان فتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:
محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جس نے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہ نہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں، اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیے بہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔
قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حیثيت ہر گز نہیں ہے جو منکرین سنت حضور (ص) کو دینا چاہتے ہیں۔ آپ قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ بر مقرر نہیں کیے گئے تھے، بلکہ آپ (ص) کو خدا نے معلم، رہنما، مفسر قرآن، شارع قانون اور قاضی و حاکم بھی مقرر کیا تھا لہذا خود قرآن ہی کی رو سے آپ (ص) کی اطاعت و پیروی ہم پر فرض ہے اور اس سے آزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعوی کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیں ہے۔
منکرین سنت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سنت رسول اللہ (ص) سے جب کتاب اللہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بری طرح بگڑتاہے،خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں، اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔
امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسول (ص) کی اطاعت و پیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔ چند سر پھرے انسان تو ہر زمانے اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تکی باتوں ہی میں تک محسوس کرتے ہوں۔ مگر پوری امت کا سر پھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوں کے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسول (ص) کی رسالت پر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایک سیدھا سادا مسلمان، جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملاً نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتاہے، لیکن یہ عقیدہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا کہ جس رسول (ص) پر وہ ایمان لایا ہے اس کی اطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخر کار منکرین سنت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑی بدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظام زندگی کو، اس کے تمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت، رد کر دیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت کی رہنمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقاء کرتا چلا آ رہا تھا، اور اسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جو دنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اسلام کا ایک جدید ایڈیشن نکالنا چاہتے ہوں۔
اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکار سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہ پھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتداء کرنے والے سر سید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلی مرتبہ اس کی پیدائس کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اسلامی تہذیبوں سے سابقہ پیش آنے پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا، اور تنقید کے بغیر باہر کی ان ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرہویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت مسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی و سیاسی غلبہ حاصل تھا، اور جن فلسفوں سے انہیں سابقہ پیش آیا تھا، وہ مفتوح و مغلوب قوموں کے فلسفے تھے۔ اس وجہ سے ان کے ذہن پر ان فلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔ اس کے برعکس تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ان کو معاشی حیثيت سے بری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کا نظام تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا، اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی و سیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصول تہذیب و تمدن اور جو قوانین حیات آ رہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اسلام کے نقطہ نظر سے تنقید کر کے حق و باطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کو کسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔
اس غرض سے جب انہوں نے اسلام کی مرمت کرنا چاہی تو انہیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے میں معتزلہ کو پیش آئی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے نظام حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اسی سنت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد اور منشا متعین کر کے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے۔ اور اسی نے ہر شعبہ زندگی میں اسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیاد پر تعمیر کر دیے ہیں۔ لہذا اسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سنت سے پیچھا چھڑایا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآں کے الفاظ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہوگا، نہ کوئی مستند تعبیر و تشریح ہوگی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو تاویلات کا تختہ مشق بنانا آسان ہوگا اور اس طرح اسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دنیا کے ہر چلتے ہوئےفلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے پھر وہی تیکنیک، انہی دو حربوں کے ساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحت پر شک ڈالا جائے جن سے سنت ثابت ہوتی ہے، اوردوسری طرف سنت کو بجائے خود حجت و سند ہونے سے انکار کر دیا جائے۔ لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس تیکنیک اور اس کے حربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنے کا علم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی ورک رکھتے تھے اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا، جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا، جس میں علوم دینی کے ماہرین بہت بڑی تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزی ہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سر سید کے زمانے سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علومی جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے اور “تعلیم یافتہ” اس شخص کا نام ہے جو دنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پر بہت مہربانی کرے تو کبھی کبھی اس کو ترجموں ۔۔۔۔اور وہ بھی انگریزي ترجموں۔۔۔۔ کی مدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات ۔۔۔۔ اور وہ بھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات۔۔۔۔ پر اکتفا کرے، اسلامی روایات پر زیادہ سے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثيت سے یہ کچھ بوسیدہ ہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے، پھر اس ذخیرۂ علم دین کے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کن رائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتاہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے!
اب جو تیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے اہم اجزاء یہ ہیں:
حدیث کے مشتبہ ثابت کرنے کے لیے مغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں ان پر ایمان لانا اور اپنی طرف سے حواشی کا اضافہ کر کے انہیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تاکہ ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے سواکوئی چیز بھی امت کو قابل اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے
احادیث کے مجموعوں کو عیب چینی کی غرض سے کھنگالنا ۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے کبھی قرآن کو کھنگالا تھا ۔۔۔۔۔ اور ایسی چیزیں نکال نکال کر، بلکہ بنا بنا کر عوام کےسامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جاسکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرمناک یا مضحکہ خیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اسلام کو رسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفتر بے معنی کو غرق کردو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔
صرف قرآن کو اسلامی قانون کا ماخذ قرار دینا اور سنت رسول کو اسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا
امت کے تمام فقہاء، محدثین، مفسرین اور ائمہ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تاکہ مسلمان قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں، بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ ان سب سے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھی تھی۔
خود ایک نئی لغت تصنیف کر کے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنا اور آیات قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دنیا کےکسی عربی دان آدمی کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کےسامنے قرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ کر دی جائیں تو وہ انہیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان کا دعوی یہ ہے اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے اس لیے اگر ان کے بیان کردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہی کا ہے) ۔
اس تخریبی کام کےساتھ ساتھ ایک نئے اسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کے بنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:
اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کرکے ایک مرکزی تصرف میں دے دیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیم رزق کی مختار کل ہو۔اس کا نام ہے “نظام ربوبیت” اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا۔ مگر پچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرت مارکس اور ان کے خلیفہ خاص حضرت اینجلز قرآن کے اس مقصد اصل کو پا سکے۔
اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعا کوئی جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجود اگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہ کر سکیں۔
اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس “اللہ اور رسول” پر ایمان لانے، اور جس کی اطاعت بجا لانے اورجسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہےاسسے مراد ہے “مرکز ملت”۔ یہ مرکز ملت چونکہ خود “اللہ اور رسول” ہے۔ اس لیے قرآن کو جو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوال سرے سے اٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حرام اور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔ اس کا فرمان شریعت ہے اور عبادات سے لے کر معاملات تک جس چیز کی جو شکل بھی وہ تجویز کرے اسکا ماننا فرض بلکہ شرط اسلام ہے۔جس طرح “بادشاہ” غلطی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح “مرکز ملت” بھی سبوح و قدوس ہے۔ لوگوں کا کام اس کے سامنے بس سر جھکا دینا ہے۔ “اللہ اور رسول” نہ تنقید کے ہدف بن سکتے ہیں، نہ ان کے خطا کار ہونے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کو بدلا ہی جا سکتا ہے۔
اس نئے اسلام کے “نظام ربوبیت” پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقی تمام تعمیری اور تخریبی اجزاء چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے اس کا تصور “مرکز ملت” بہت اپیل کرنے والا ہے۔ اس لازمی شرط کے ساتھ کہ مرکز ملت وہ خود ہوں اور یہ خیال بھی انہیں بہت پسند آتا ہے کہ تمام ذرائع ان کے تصرف میں ہوں اور قوم پوری طرح غیر منظم ہوکر ان کی مٹھی میں آ جائے۔ ہمارے ججوں اور قانون پیشہ لوگوں کا ایک عنصر اسے اس لیے پسند کرتا ہے کہ انگریزی حکومت کے دور میں جس قانونی نظام کی تعلیم و تربیت انہوں نے پائی ہے، اس کے اصولوں اور بنیادی تصورات و نظریات اور جزئی و فروعی احکام سے اسلام کا معروف قانونی نظام قدم قدم پر ٹکراتا ہے۔ اور اس کے ماخذ تک بھی ان کی دسترس نہیں ہے، اس بنا پر وہ اس خیال کو بہت پسند کرتے ہیں کہ سنت اور فقہ کے جھنجھٹ سے انہیں نجات مل جائے اور صرف قرآن باقی رہ جائے جس کی تاویل کرنا جدید لغت کی مدد سے اب اور بھی زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیونکہ اسلام سے نکل کرمسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلال اور “ملا کے اسلام” میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو
اقتباس: سنت کی آئینی حیثیت از سید ابو الاعلیٰ مودودی

Google Buzz

عہد حاضر کی جاہلیت

موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ساری دنیا “جاہلیت” میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کر سکتیں۔ اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے، وہ ہے اس زمین پر خدا کے اقتدار اعلی پر دست درازی، اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔ چنانچہ اس جاہلیت سے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے ارباب من دون اللہ کا مقام دے رکھا ہے۔ اس سیدھی سادی اور ابتدائی صورت میں نہیں جس سے قدیم جاہلیت آشنا تھی بلکہ اسی طنطنے اور دعوے کے ساتھ کہ انسانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خود افکار و اقدار کی تخلیق کریں، شرائع و قوانین وضع کریں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے جو چاہیں نظام تجویز کریں۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ معلوم کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ تعالی نے انسانی زندگی کے لیے کیا نظام اور لائحہ عمل تجویز کیا ہے، کیا ہدایت نازل کی ہے اور کس صورت میں نازل کی ہے۔ اس باغیانہ انسانی اقتدار اور بے لگام تصور حاکمیت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلق اللہ ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔ چنانچہ اشتراکی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے، یا سرمایہ دارانہ نظاموں کے دائرے میں سرمایہ پرستی اور رجوع الارضی کے عفریت نے افراد و اقوام پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ دراصل اسی بغاوت کا ایک شاخسانہ ہے، جو زمین پر خداوند تعالی کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جا رہی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو جو تکریم اور شرف عطا کیا ہے انسان اسے خود اپنے ہاتھوں پامال کر کے نتائج بد سے دوچار ہے۔
اسلام اور جاہلیت کا اصل اختلاف
اس بارے میں صرف اسلامی نظریۂ حیات ہی منفرد خصوصیت کا علمبردار ہے۔ اسلامی نظام حیات کے سوا آپ جس نظام کو بھی لیں گے آپ دیکھیں گے کہ اس میں انسان دوسرے انسانوں کی کسی نہ کسی شکل میں عبودیت کرتا نظر آتا ہے۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا نظام حیات ہے جس میں انسان اپنے ہی جیسےدوسرے انسان کی عبودیت سے آزاد ہو کر صرف خدائے واحد کی عبودیت اور بندگی کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے، صرف اللہ کی بارگاہ سے رشد و ہدایت کی روشنی حاصل کرتا ہے اور صرف اسی کے آگے سرافگندہ ہوتا ہے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں اسلام اور غیر اسلامی طرز حیات کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ یہ ہے وہ نیا اور نرالا تصور زندگی جسے ہم انسانیت کی خدمت میں آج پیش کر سکتے ہیں۔ یہ تصور نسانی زندگی کے تمام عمدہ پہلوؤں پرگہرے اثرات ڈالتا ہے۔ یہی وہ نادر خزانہ ہے جس سے آج انسانیت محروم ہے۔ اس لیے مغربی تہذیب اس سلسلے میں بانجھ ہے، اور یورپ کی حیران کن تخلیقی صلاحیتیں بھی اس خزانے تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بات ہم پورے دعوے سے کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسے نظام حیات کے داعی ہیں جو نہایت درجہ کامل اور ہر لحاظ سے منفرد و ممتاز ہے۔ پوری نوع انسانی ایسے گنج گراں مایہ سے خالی ہے۔ دیگر مادی مصنوعات کی طرح اسے “پیدا” کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ لیکن اس نظام نو کی خوبی اس وقت تک نمایاں نہیں ہو سکتی جب تک اسے عمل کے قالب میں نہ ڈھالا جائے۔ پس یہ ضروری ہے کہ ایک امت عملا اپنی زندگی اس کے مطابق استوار کرکے دکھائے۔ اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایک اسلامی ملک میں احیائے دین کی مہم کی طرح ڈالی ۔ احیائے نو کی یہی وہ ناگزیر کوشش ہے، جو طویل یا مختصر مسافت کے بعد بالآخر انسانی امامت و قیادت کے قبضہ پر منتج ہوگی۔
اقتباس: معالم فی الطریق از سید قطب (اردو ترجمہ: خلیل احمد حامدی)

Google Buzz

غم دیدہ

چند روزقبل ایک نجی ٹیلی وژن چینل پر ایک پروگرام دیکھنا نصیب ہوا، جس میں سرزمین اندلس کی تاریخ بیان کی گئی۔ پروگرام کو پیش کرنے کا انداز نرالا تھا،اس میں ہمارے نجی چینل کا کمال نہیں بلکہ یہ انگریزی یا ہسپانوی زبان میں بنی وڈیو تھی جس کا اردو ترجمہ کر کے ڈبنگ کی گئی تھی۔ پروگرام کچھ اس نوعیت کا تھا کہ تاریخ صوتی پس منظر کے ساتھ بیان کی گئی اور ساتھ ساتھ موجودہ مناظر دکھائے جاتے رہے۔ یعنی جبل الطارق پر طارق بن زیاد کے لشکر کی آمد کا احوال بیان کرتے ہوئے جبل الطارق یعنی جبرالٹر کے موجودہ مناظر دکھائے گئے۔ یہ پروگرام مجھے آبدیدہ کر گیا اور مجھے علامہ اقبال کے دل کی اس کیفیت کا علم ہوا جو یورپ سے واپسی پر بحیرہ روم کے جزیرے سسلی کے قریب سے گذرتے ہوئے ان پر وارد ہوئی تھی۔ علامہ کے دل کی تڑپ کا اندازہ تو ان کی نظم پڑھ کر ہی ہوتا ہے لیکن اس دل بے قرار کی بے قراری کا تھوڑا سا اندازہ مجھے وہ پروگرام دیکھ کر ہوا۔ اللہ اللہ ! مسجد قرطبہ کے مینار، الحمرا کے محلات، مدینۃ الزہرہ، جبل الطارق، الجزیرہ کی بندرگاہ، کھجوروں کے درخت اور دیگر زراعتی اجناس و پھلوں کے درخت جنہیں مسلمانوں نے یہاں متعارف کرایا، ذرے ذرے سے مسلمانوں کے عظیم ماضی کی جھلکتی یادگاریں مجھے آنکھیں تر کر گئیں۔اور ساتھ ہی ساتھ مجھے غرناطہ کے آخری فرمانروا ابو عبد اللہ کی والدہ کا وہ شہرہ آفاق جملہ بھی یاد آیا جو انہوں نے سقوط غرناطہ کے بعد آنسو بہاتے اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہا تھا کہ “جس کو تم جوانمردوں کی تلواریں نہ بچا سکیں اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو مت بہاؤ”۔
سسلی بھی کسی دور میں مسلم تہذیب کا گہوارہ رہا تھا اور پھر بقول شاعر “غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا”

صقلیہ
(جزیرہ سسلی)

رولے اب دل کھول کر اے دیدہ خوننانہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تیغ ناصبور
مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا
آدمی آزاد زنجیر توہم سے ہوا
غلغلوں سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟
آہ ہے سسلی! سمندر کی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو
زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر پیما کو رہے
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا
نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہان آباد پر
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی
غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا
ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں
درد اپنا مجھ سے کہہ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا،میں اس کارواں کی گرد ہوں
رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں،اوروں کو وہاں رلواؤں گا

Google Buzz

ابتدائے عشق

لیجیے جی میں بھی حاضر ہوں اردو بلاگنگ کی دنیا میں، اور کوشش تو پوری ہوگی کہ کچھ ایسا پیش کیا جائے تو جو اب تک اردو بلاگنگ میں موجودہ نہیں البتہ یہ دعوی نہیں۔ اس بلاگ میں اسلام، سیاست، تاریخ، موجودہ عالمی حالات، مسلم دنیا، کمپیوٹنگ، اردو دنیا، شاعری، نثر، فوٹوگرافی، گرافک ڈیزائننگ میں سے نہ جانے کیا کیا پیش کیا جائے اس بارے میں فی الحال تو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ابھی کچھ نہیں سوچ رکھا کہ اس کو کس ڈگر پر چلانا ہےلیکن موقع کی مناسبت سے مختلف موضوعات پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ بلاگنگ کی دنیا میں مجھے “پیش” کرنے کا سہرا برادر محب علوی کا سر ہے جن کی کوششوں سے میں بلاگ شروع کرنے پر رضامند ہوا۔
بہرحال اب شروع کر رہا ہوں، سمجھ تو نہیں آ رہی کہ پہلی پوسٹ کیا ہو، اور شرمندگی بھی ہے کہ کافی دن ہوگئے بلاگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن میں ابھی تک اس میں کچھ پوسٹ نہیں کر سکا۔ تاہم آج میں نے کچھ وقت نکال کر اس کو شروع کرنے کا عزم کر ہی لیا ہے۔
لاکھوں افراد کی طرح حکیم الامت علامہ محمد اقبال (رحمت اللہ علیہ) میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اور ان کے کلام کے ذریعے میں اپنے بلاگ کا آغاز کر رہا ہوں

چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں، سورج میں، تارے میں
بلندی آسمانوں میں، زمینوں میں تری پستی
روانی بحر میں، افتادگی تیری کنارے میں
شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوق تکلم کی
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں
جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہے
شجر میں، پھول میں، حیواں میں، پتھر میں، ستارے میں
مجھے پھونکا ہے سوز قطرہ اشک محبت نے
غضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں
نہیں جنس ثواب آخرت کی آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہوں، میں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں
سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستی ہے
تڑپ کس دل کی یارب چھپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں
صدائے لن ترانی سن کے اے اقبال میں چپ ہوں
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے میں

Google Buzz