تحاریر برائے ماہِ اکتوبر ، ۲۰۰۷


بی بی ماترے

آمرکوئی بھی وہ ہمیشہ لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے خائف رہتا ہے ۔۔ تاریخ میں دنیا کے کسی طالع آزما حکمران ۔۔ بادشاہ اور فوجی جرنیل عوام کو بڑی تعداد میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی ۔۔ عراق پر تیئس سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والا صدام حسین نظریاتی طور پر سخت گیر سنی مسلمان نہیں بلکہ ایک سیکیولر عرب قوم پرست تھا مگر اس نے بر سر اقتدار آتے ہیں جلسے جلوسوں کے ساتھہ شیعوں کے عزاداری کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی ۔۔ اور عزاداری کی تمام مجالس چار دیواری تک محدود کر دی گئیں ۔۔ بنگلہ دیش جیسے ملک میں فوج کی حمایت سے صرف انتخابات کرانے لئے آنے والی عبوری حکومت سب سے پہلا کام ایمرجنسی عائد کرکے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا کرتی ہے ۔۔ برما کی فوجی جنتا مذہبی کلمات ادا کرتے ۔۔ سرجھکائے گزرتے ہوئےبودھ بھکشوؤ‎ں کے جلوس کو چار دن بھی برداشت نہیں کر پائی اور ان پر فائر کھول دیا گیا ۔۔ عوامی اجتماعات کے بارے میں آمریت کی اس نفسیات کا بدترین اظہار حالیہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں دیکھنے میں آئے ۔۔ چیف جسٹس کی تحریک کے دوران اسلام آباد سے لاہور تک جسٹس افتخار کے فقیدالمثال استتقبال کے بعد بارہ مئی کو کراچی جنرل پرویز مشرف کی ’’بارہویں کور‘‘ نے استقبال کے لئے آنے والے اڑتالیس سیاسی کارکنوں کو قتل کر دیا ۔۔ جسے چند گھنٹوں بعد عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا گیا ۔۔ وکلا کی اس بے مثال تحریک کی پہلی کامیابی کے بعد پاکستان کے عوام میں ایک امید پیدا ہوئی ۔۔ کہ یہاں بھی قانون کی بالادستی اور اصولی سیاست کا آغاز ہو جائے گا اور عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار مل جائے گا ۔۔ مگر وکلا کی جدوجہد جب کامیابی کی جانب بڑھنا شروع ہوئی تو اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کی خواہشمند جماعت نے وکلا کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر تحریک کو ناکام بنا دیا ۔۔ پیپلز پارٹی نے آٹھ سالہ آمریت کو اس وقت سہارا دے کر تازہ دم کر دیا جب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔۔ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی چاہے کسی بھی طرح کے مفاہمتی آرڈیننس کے ذریعے ہوئی ہو مگر ان کی استقبالیہ ریلی ایک ایسی عظیم الشان سیاسی سرگرمی بن گئی تھی جس کے بعد سیاسی ماحول کو کنٹرول کرنا حکومت کے لئے ممکن نہیں تھا ۔۔ دھماکے سے ٹھیک پانچ منٹ پہلے بے نظیر بھٹو کا ٹرک کے اندر چلے جانا اور اعلٰی حکومتی شخصیات کی جانب سے جلسے جلوسوں پر پابندی کی تجاویز خود کئی شبہات کو جنم دے رہی ہیں ۔۔ مگر اصل معاملہ کچھ اور ہے ۔۔ اس واقعے کے بعد اصل ایشوز پش منظر میں چلے گئے ہیں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ دھماکوں کی تحقیقات تک محدود ہو گئی ۔۔ لوٹ مار کی دولت محفوظ کرنے کے لئے مقدمات کی واپسی کا مفاہمتی آرڈیننس پس منظر میں جا چکا ہے ۔۔ پیپلز پارٹی کے وہ رہنما جو میڈیا کے سامنے “این آر او” کا دفاع کرنے میں ناکام ہوچکے تھے مظلوم بن کر ہمدردیاں سمیٹتے نظر آرہے ہیں ۔۔انتیس ستمبر کو اسلام آباد میں صحافیوں پر تشدد کا واقعہ بھی مضمرات کے اعتبار سے اسی طرح کے نتائج سامنے لایا تھا ۔۔ جس دن ٹی وی چینلز پر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر بحث ہونا تھی اس دن سارے چینلز صحافیوں کی مظلومیت کا رونا رونے تک محدود ہو گئے تھے ۔۔ مگر یہ امید کی جاسکتی ہے دونوں معاملات ( صدر کے کاغزات نامزدگی کی منظوری اور این آر او ) سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر پس منظر میں نہیں جا سکیں گے ۔۔

Google Buzz

اسلام پروحشت کا الزام

عوام کی نجی صحبتوں میں ایک اور اعتراض جو بڑی کافرانہ جسارتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، کہ اسلامی قانون میں بہت سی چیزیں قرونِ وسطٰی کی تاریک خیالی کے باقیات میں سے ہیں جنہیں اس مہذب دور کے ترقی یافتہ اخلاقی تصورات کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے، مثلاً ہاتھ کاٹنے اور درے مارنے اور سنگسار کرنے کی وحشیانہ سزائیں۔ یہ اعتراض سن کر بے اختیار ان حضرات سے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ جس دور میں ایٹم بم ستعمال کیا گیا ہے، اس کے اخلاقی تصورات کو ترقی یافتہ کہتے وقت آدمی کو کچھ تو شرم محسوس ہونی چاہیے۔ آج کا نام نہاد مہذب انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے اس کی مثال تو قدیم تاریخ کے کسی تاریک سے تاریک دور میں بھی نہیں ملتی ۔ وہ سنگسار نہیں بم بار کرتا ہے۔ محض ہاتھ ہی نہیں کاٹتا، جسم کے پرخچے اڑاا دیتا ہے۔ درے برسانے سے اس کا دل نہیں بھرتا، زندہ آگ میں جلاتا ہے اور مردہ لاشوں کی چربی نکال کر ان کے صابن بناتا ہے ۔ جنگ کے ہنگامۂ غیظ و غضب ہی میں نہیں، امن کے ٹھنڈے ماحول میں بھی جن کو وہ سیاسی مجرم، یا قومی مفاد کا دشمن، یا معاشی اغراض کا حریف سمجھتا ہے ان کو دردناک عذاب دینے میں وہ آخر کون سی کسر اٹھا رکھتا ہے؟ ثبوت جرم سے پہلے محض شبہے ہی شبہے میں تفتیش کے جو طریقے اور اقبالِ جرم کرانے کے جو ہتکھنڈے آج کی مہذب حکومتوں میں اختیار کیے جارہے ہیں وہ کس سے چھپے ہوئے ہیں ۔۔۔ فرق جو کچھ واقع ہوا ہے وہ دراصل اخلاقی قدروں میں ہے۔ ان کے نزدیک جو جرائم واقعی سخت ہیں اًن پر وہ خوب عذاب دیتے ہیں اور دل کھول کر دیتے ہیں، مثلاً ان کے سیاسی اقتدار کو چیلنج کرنا، یا ان کے معاشی مفاد میں مزاحم ہونا۔ لیکن جن افعال کو وہ سرے سے جرم ہی نہیں سمجھتے، مثلاً شراب سے ایک گونہ بے خودی حاصل کر لینا، یا تفریحاً زنا کر لینا، ان پر عذاب تو درکنار، سرزنش اور ملامت بھی انہیں ناگوار ہوتی ہے۔ اور جرم نہ سمجھنے کی صورت میں لامحالہ وہ ناگوار خاطر ہونی ہی چاہیے۔ (سید مودودی)

Google Buzz

واپسی

غیر حاضری کچھ زیادہ طویل تو نہیں ہو گئی؟ اصل میں مسئلہ یہ ہوگیا کہ رمضان کے آخری عشرے میں ویسے ہی مصروفیات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور لکھنے لکھانے کا زیادہ وقت نہیں رہتا پھر عید الفطر کی تعطیلات سے فارغ ہوا تو معلوم ہوا کہ بلاگ میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے اور میں ایڈمن سیکشن میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا۔ بدتمیز بھائی کی مہربانی اور نظر کرم سے آج بلاگ ٹھیک ہوا ہے اس لیے یہ آزمائشی پوسٹ کر رہا ہوں۔

Google Buzz

عالمی حدت

میرے پاس امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) کی ای میلز باقاعدگی کے ساتھ آتی ہیں اور میں لازماً ان کا مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ کسی زمانے میں مجھے خلا اور زمین کی معلومات کا بہت زیادہ شغف رہا ہے اور آج تک جغرافیہ سے دلچسپی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔لیکن ناسا کی جانب سے جو آخری ای میل مجھے موصول ہوئی وہ کافی پریشان کن ہے جس میں ایک نہایت خوفناک خبر میری منتظر تھی۔ خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک ‍قطب شمالی میں ریکارڈ برف پگھلی ہے اور اس خوفناک خبر کا ثبوت ذیل میں دی گئی خلا سے کھینچی گئی یہ تصویر ہے۔

دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی آلودگی کے نتیجے میں عالمی ماحولیات پر مرتب ہونے والے اثرات نے “عالمی حدت کا جو عذاب کھڑا کیا ہے اس کے نتائج آپ دنیا بھر میں روز بروز بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے نتیجے میں دیکھ رہے ہوں گے۔ یورپ اور امریکہ میں صنعتی ترقی نے جہاں دنیا کو نت نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کروایا ہے وہیں ان کارخانوں سے خارج ہونے والا دھواں گرین ہاؤس گیسوں میں تبدیل ہو کر آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔
سمندروں کی سطح میں اضافہ، سیلاب، موسموں کی شدت میں اضافہ اور دیگر کئی عوامل اسی بڑھتی ہوئی عالمی حدت کا تحفہ ہیں۔ لیکن ٹھیریے سب سے بڑا خطرہ تو ابھی باقی ہے یعنی قطب شمالی کی برف کا پگھلنا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوگا اور مالدیپ جیسے ممالک زیر آب آ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بُری خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک کے عرصے میں قطب شمالی پر ریکارڈ برف پگھلی ہے۔ نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر (این ایس آئی ڈی سی) کی 16 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سمندری برف کا حجم4.13 ملین مربع کلومیٹر (1.56 ملین مربع میل) کم ہوا ہے جو اوسط سے 38 فیصد اور گذشتہ (2005ء کے) ریکارڈ سے 24 فیصد کم ہے۔
مندرجہ بالا تصویر امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے نے 16 ستمبر کو جدید مائیکروویو اسکیننگ ریڈیو میٹر آلے (اے ایم ایس آر ای) سے حاصل کی ہے۔ جس میں گرین لینڈ سے روس تک پھیلے ہوئی برف کو دیکھا جا سکتا ہے
واضح رہے کہ سمندری برف زمین کے “ایئر کنڈیشنر” کی طرح کام کرتی ہے۔ بحر منجمد شمالی کی سفید شفاف برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے۔ جبکہ اس سے ملحقہ سمندر کا گہرے رنگ کا پانی سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ اگر برف پگھلنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو سورج کی روشنی کو خلا میں واپس کرنے کے عمل میں کمی اور پگھلنے کے عمل میں تیزی واقع ہوگی اور عالمی حدت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ حتٰی کہ این ایس آئی ڈی سی کے سینئر تحقیقی سائنسدان مارک سیریز نےیہ خطرہ تک ظاہر کر دیا ہے کہ 2030ء تک بحر منجمد شمالی مکمل طور پر پگھل سکتا ہے۔
عالمی حدت بڑھنے کے نتیجے میں جو دیگر خطرات ہیں ان میں 1990ء سے 2100ء تک سمندروں کی سطح میں 110 سے 770 ملی میٹر کا اضافہ، زراعت پر اثرات، اوزون کی سطح میں کمی، طوفانوں اور موسموں کی شدت میں اضافہ اور ملیریا اور ڈینگی بخار جیسے امراض میں اضافہ شامل ہیں۔

دوسری جانب عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والے امریکی و یورپی کارخانوں کے نزدیک ان کی جیبوں میں جانے والا پیسہ زمین کے فطری نظام میں بگاڑ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کثیر القومی اداروں نے ایک خاص مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ عالمی حدت کے حوالے سے خدشات صرف ڈرامہ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ اور آسٹریلیا نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی معاہدے “کیوٹو پروٹوکول” (Kyoto Protocol) پر آج تک دستخط بھی نہیں کیے۔
حالانکہ ماحولیات کبھی بھی میرا پسندیدہ مضمون نہیں رہا لیکن نجانے کیوں اس ای میل کے بعد میں مجبور ہوگیا کہ آپ کو اُن خطرات سے آگاہ کروں جو ہماری دنیا کو درپیش ہیں۔

Google Buzz

قصِرصدارت پاکستان

چند روز قبل مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں چند تصاویر بھیجی گئی تھیں اور دعویٰ یہ تھا کہ یہ مملکت خدادا پاکستان کے “قصر صدارت” کے اندر کی تصاویر ہیں اور عنوان تھا “یہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے، یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے”۔ اب آپ ہی بتائیے بھلا اس محل کو کون چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے شاید صدر مشرف نے وردی اتارنے کا “وعدہ” کیا ہے لیکن صدارتی محل چھوڑنے کا نہیں۔
آئیے آپ بھی دیکھیے











Google Buzz

سانحۂ 6 اکتوبر

سمجھ میں نہیں آر ہی ہے کہ مملکت پاکستان میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ فرد واحد کی خوشنودی کی خاطر تمام آئینی و دستوری حتٰی کے اخلاقی اصولوں کو بھی بالائے طاق رکھ کر جس طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ملکی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب رقم کر رہے ہیں۔
ماورائے عدالت و آئین اقدامات جہاں ایک جانب فرد واحد کی کرسی کے پائے مضبوط کر رہے ہیں وہاں “قومی مفاہمتی آرڈیننس” جیسے احکامات سیاست دانوں کے ہاتھوں لٹے پٹے عوام کی رہی سہی کسر بھی پوری کر رہے ہیں۔ افسوس صد افسوس 6 اکتوبر کا دن پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر ہی یاد کیا جائے گا جب شرافت و دیانت کے مقابلے میں جھوٹ، مکاری، عیاری، دغا بازی، غداری اور لوٹ مار کو فتح نصیب ہوئی۔
ملک کو لوٹنے بلکہ جونکوں کی طرح عوام کے محصولات سے بھرنے والے خزانے کو چوسنے والے افراد اب تو “ذاتی مفادات آرڈیننس” کی بہتی گنگا سے “پوتر” ہو کر نکلیں گے اور اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کروا کر نئے سرے سے قوم کو لوٹنے کا سامان کریں گے۔ اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ جہاں بی بی اور”زر” داری کو ہوگا وہیں الطاف حسین اور ان کی جماعت کے کارکنان کے گذشتہ تقریباً بیس سال
کے گناہ بخش دیے گئے۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں وہ ایسی “مقدس گائے” بن گئے ہیں کہ جنہیں اب کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا کیونکہ آرڈیننس کے تحت قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ ان کے قریب نہیں پھٹک سکتا اور قوم کو لوٹنے اور مارنے کے مکمل اختیارات سے لیس ہوں گے۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ مشرف جو خود کو اصول پسند لیڈر کہتے نہیں تھکتا اور گذشتہ 8 سالوں سے سیاست دانوں کو لٹیرے اور چور اور بھگوڑے لیڈر قرار دیتا رہا ہے اور اب صرف خود کو بچانے کے لیے اس طرح کے آرڈیننس پیش کر کے سودے بازی کر رہا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی بے ضمیر سیاسی جماعتیں (ہی) موجود ہیں جو ضمیر بیچنے کے لیے آگے آگے ہیں بلکہ اس میں بھی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون سی جماعت اس میں کامیاب ہوتی ہے؟ ہر سیاست دان اپنے قبلے “وائٹ ہاؤس” کے در پر سجدہ ریز ہے۔ لیکن بی بی تو “اسفل السافلین” کے درجے کو پہنچ گئیں اور یہ کہنے میں بھی تعامل نہ کیا کہ میں ڈاکٹر قدیر کو بھی حوالے کرنے کو تیار ہوں اور میں پاکستان میں امریکی فوج کو کاروائی کرنےکا اختیار دینے پر بھی راضی ہوں بس مجھے ایک بار وزیراعظم بنوادو۔ کیا انہیں جمہوریت کے لیے تحریک چلانے والے پیپلز پارٹی کے ان کارکنوں کا خیال نہیں جن کا خون 12 مئی کو کراچی کی سڑکوں پر بہا؟ نواز شریف پر محلات میں بیٹھنے اور مجلس عمل کو 17 ویں ترمیم کا طعنہ دینے والی بی بی صاحبہ خود کیا اقدامات اٹھا رہی ہیں؟ وہ سب پر واضح ہیں، میرے خیال میں اب پیپلز پارٹی کے کسی عہدیدار کو مجلس عمل کو سترہویں ترمیم کا طعنہ دینے سے پہلے کم از کم ایک بار اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے۔ اس قدر افسوس ناک صورتحال میں بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاسی کارکن اتنا اندھا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے پیچھے بھیڑوں کی طرح بس چلے جا رہا ہے اور اس کا اندازہ مجھے کل کراچی کی ایک دیوار پر یہ نعرہ لکھا دیکھ کر ہوا “نہ جھکنے والی نہ بکنے والی بے نظیر بے نظیر”۔ اب آپ بتائیے کہ اس نعرے پر کیا تبصرہ کیا جائے؟
اًدھر عدلیہ کا کھیل بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا، صدارتی انتخابات 6 اکتوبر کو ہوئے ہیں اور اس کے حوالے سے مقدمے کی سماعت 17 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ یہ کیا ڈرامہ ہے؟ معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے بہت اچھی بات کی کہ میں کسی عالم دین سے جا کر پوچھوں کہ کیا پانی پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ تو وہ یہ جواب دیں کہ آپ ایسا کریں کہ فی الحال تو پانی پی لیں، روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔ یعنی فی الحال تو آپ انتخاب کے ذریعے صدر منتخب ہو جائیں یہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ صدارتی انتخاب درست تھا یا نہیں۔ اب صورتحال کو واضح کرنے کے لیے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اس پورے منظر نامے سے مستقبل میں ایک انقلاب کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے اور موجودہ ملکی حالات بھی ایسے ہیں جو یہ نوید دے رہے ہیں کہ انقلاب دستک دے رہا ہے۔

Google Buzz

دربار اکبری

مرحوم آغا شورش کاشمیری نے اپنے رسالے ‘چٹان’ میں ‘دربار اکبری’ کے زیر عنوان ایک نثری فیچر لکھا تھا جس میں یہ بتایا گیا کہ جنرل ایوب خاں کی درباری مخلوق کس طرح کورنش بجا لاتی ہے اور وہ جواب میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ فیچر سے ایوب خاں اتنے برا فروختہ ہوئے کہ اس وقت کے وزیر قانون غلام نبی میمن اور ایڈوکیٹ جنرل سید ناصر حسین شاہ کو گورنمنٹ ہاؤس بلوا کر سخت جھڑکیاں دیں۔ ساتھ ہی فرمایا “ابھی تک یہ شخص باہر کیوں ہے، اس کا اخبار کس لیے جاری ہے؟ میں سپاہی ہوں اور سپاہی فیلڈ میں دشمن کو برداشت نہیں کیا کرتا
اس کے بعد مدیر چٹان دھر لیے گئے ۔۔۔۔ فوراً بعد میمن صاحب رخصت ہوگئے۔ سید ناصر شاہ بھی نکال دیے گئے۔ ملک امیر محمد خاں کو بھی جانا پڑا۔ یہ سب عزت سے گئے لیکن رسوائی اور پسپائی کا جو الاؤ ایوب خاں کے لیے روشن ہوا، وہ ایسا عبرت ناک سبق ہے کہ پاکستان کی کئی نسلیں اسے بھول نہیں سکتیں۔ ذیل کی نظم ایوب خاں کے عہد کی جانکنی کا منظر پیش کرتی ہے اور اگر آج کے حالات پر اسے منطبق کیا جائے تو زیادہ تفاوت نظر نہیں آتا۔
مصاحبین
حضور ہم دس برس سے حاشیہ بردار اولٰی ہیں
عمومی شور و غل شہروں کی دیرینہ طبیعت ہے
سیاسی کھیل ہیں، شوریدہ سر ہلڑ مچاتے ہیں
انہیں لیڈر نچاتے ہیں
ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں
اگر ہم جیل بھجوائیں
تو اکثر تلملاتے ہیں
حضور! ہم خانہ زادِ سلطنت سجدے لٹاتے ہیں
شاہ
بکو مت چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
یہاں کیا ہو رہا ہے، کون سا شیطان اٹھا ہے
جھروکے سے اُدھر دیکھو، یہ کیا طوفاں اٹھا ہے
دمادم، پے بہ پے ایوب مردہ باد کے نعرے؟
افق پر بے تحاشا جھملاتی شام کے تارے
گرجتے گونجتے الفاظ میں تقریر کے پارے
بکو مت، چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
ایک اور مصاحب داخل ہو کر آداب بجا لاتا ہے
مصاحب
امیر المومنین! بالی عمریا کا وزیر آیا
بہتر نشتروں میں ایک نشتر میر صاحب کا
بہ قول آنجہانی شیخ، چہرہ ماہتابی ہے
طبیعت آفتابی ہے
خدا جانے؟ سنا ہے
بچپنے ہی سے شرابی ہے
شاہ
بلا لاؤ، اکیلا ہے
کہ کوئی دوسرا بھی ہے؟
مصاحب
جماعت کے بہت سے منچلے بھی ساتھ آئے ہیں
غزلہائے ہفت خواں کے ولولے بھی ساتھ آئے ہیں
جوانی ناگنوں کے رنگ میں آواز دیتی ہے
دل سد رہ نشیں کو طاقت پرواز دیتی ہے
بالی عمریا کا وزیر دربار میں داخل ہو کر قدم بوس ہوتا ہے
شاہ
چپڑ غٹو، الل ٹپو، نکھٹو، دًم کٹے ٹٹو
فضا لاہور کی ہنگامہ پرور ہوتی جاتی ہے
کہاں ہو؟ کس طرف ہو؟ دیکھتے کیا ہو میاں لٹو
جماعت کی صدارت اس لیے تم کو عطا کی ہے
عوام الناس بازاروں میں نعرہ باز ہو جائیں
سیاسی مسخرے اس دور کے شہباز ہوجائیں
ارے گھسیٹے، ارے بچھیے کے باوا
سوچتا کیا ہے؟
وزیر
امیر المومنین!۔۔۔۔ ہم بندگانِ خاص کے آقا
ہم ایسے سینکڑوں سرکارِ عالی پر نچھاور ہیں
یقیں کیجیے، حریفوں کے مقابل میں دلاور ہیں
جری ہیں، جانتے ہیں بچپنے سے جاننے والے
کہ ہم ہیں آپکو ظلِ الٰہی ماننے والے
مرے قبلہ، مرے آقا، مرے مولا، مرے محسن
سوائے چند اوباشوں کے، ساری قوم خادم ہے
سیاسی نٹ کھٹوں کی گرم گفتاری پر نادم ہے
شاہ
بکو مت، چپ رہو، یہ ہم سمجھتے ہیں یہاں کیا ہے
وہ مودودی کے فتنے اور نصر اللہ کے شوشے
وہ پاکستان مسلم لیگ کے بھڑکے ہوئے گوشے
ڈیورنڈ روڈ کا وہ شاطرِ اعظم، معاذ اللہ
کوئی ٹکرائے اس شہباز سے، یہ تاب ہے کس میں؟
کوئی ایسا بھی ہے، یہ جوہرِ نایاب ہے کس میں؟
وہ کائیاں چودھری یعنی وزیراعظم سابق
پڑا ہے لٹھ لیے پیچھے مرے اور ضرب ہے کاری
تمہیں معلوم ہے عبد الولی خاں کی سیہ کاری؟
وہ بھٹو، جو مجھے کہتا تھا ڈیڈی، اب کہاں پر ہے
کہ سخت گفتنی نا گفتنی اس کی زباں پر ہے
وہ شورش جس نے بھوک ہڑتال سے لرزا دیا سب کو
تمہیں معلوم ہے بد بخت نے تڑپا دیا سب کو
قصوری اور شوکت کس لیے آزاد پھرتے ہیں
انہیں زنداں میں ڈلواؤ، دار پر کھنچواؤ، مرواؤ
ہمارا حکم ہے ان سب کے خنجر گھونپتے جاؤ
جسارت اس قدر؟ اب گالیاں دینے پہ اترے ہیں
سیاسی نٹ کھٹوں کے بیچ بازاریوں کے نخرے ہیں
کچھ دیر چپ رہنے کے بعد حکومت کی ایک رقاصہ سے
شاہ
اری نازک بدن، زہرہ ادا، گوہر صفت لیلٰی
ترے قربان، بوڑھی ہڈیوں میں جان آ جائے
رخِ زیبا
پہ غازہ ہے مگر سی آئی اے کا ہے
کوئی داؤ بتا، یہ بے تکا طوفان تھم جائے
ہمارا پاؤں اکھڑا جا رہا ہے پھر سے جم جائے
بتا نور جہاں، نورِ نظر، رقاصۂ عالم
ہماری ذات اقدس سے عوام الناس ہیں برہم
رقاصہ
مرے آقا! اجازت ہو تو میری بات اتنی ہے
شریروں کی ہمارے ملک میں تعداد کتنی ہے؟
یہی دو چار مُلا، پانچ چھ لڑکے شریروں سے
پرانے گھاگ لیڈر، جیل خانے کے اسیروں میں
انہیں زہر اب دے کر گولیوں سے کیجیے ٹھنڈا
کہ شوریدہ سروں کی ڈار کا استاد ہے ڈنڈا
یہ سب گستاخ ہیں، ان کے لیے تعزیر واجب ہے
یہ سب غدار ہیں، ان کے لیے زنجیر واجب ہے
یہ سب بزدل مسافر موت کے ہیں، موت پائیں گے
کسی حیلے بہانے سے نہ ہر گز باز آئیں گے
شاہ
بہت اچھا، ہم اب ان کے لیے اعلان کرتے ہیں
بس ان کی ناگہانی موت کا سامان کرتے ہیں
مارچ کو ورق الٹ جاتا ہے
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
الٹ ڈالا، عوام الناس سے فرعون کا تختہ
طنابیں ٹوٹتی ہیں، شاہ زادے تھر تھراتے ہیں
وہ گوہر جان نے لاہور کو رخت سفر باندھا
وہ رقاصہ نکل کے پہلوئے اغیار میں پہنچی
کٹی شب دختِ رز پیمانۂ افکار میں پہنچی
سیاسی ڈوم ڈھاری چل بسے، شورِ فغاں اٹھا
زمانے کی روش پر ایک سیلاب رواں اٹھا
بہت سی قمریوں سے باغبانوں کو ہلا ڈالا
کئی ذروں نے مل کر آسمانوں کو ہلا ڈالا
عوام الناس جاگ اٹھیں،تو ناممکن ہے سو جائیں
علی بابا کے چوروں کی زبانیں گنگ ہو جائیں

Google Buzz

یوم القدس

آج یوم القدس ہے، مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس کا دن، جو صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ ایران کے انقلابی رہنما امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس قراردیا اور اس کامقصد فلسطین کی مظلوم قوم کا دفاع اور صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرنا ہے۔اس دن دنیا بھر میں مظاہروں و احتجاج کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں میرے ایک ایرانی دوست ہادی کا تیار کردہ خوبصورت وال پیپر۔

Google Buzz

ایسی آزادئ اظہار ۔۔۔۔۔ پہلے تو نہ تھی

آج سے چند روز قبل ملک کے تمام موقر روزناموں میں حکومتی “اشتہاری مہم” کے سلسلے کا ایک اہم اشتہار شائع ہوا جس کی سرخی تھی “ایسی آزادی اظہار ۔۔۔۔ پہلے تو نہ تھی” ۔ اس کے علاوہ اسی سلسلے کے دیگر اشتہارات بھی چند دنوں سے اخبارات کی زینت بن رہے ہیں جن کا مقصد آنے والے انتخابات کے لیے حکمران جماعت کی تشہیر اور رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔ لیکن آزادی اظہار والا اشتہار چھپنے کے صرف 6 روز بعد اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر “آزادی اظہار” کو جس طرح پیروں تلے کچلا گیا، وہ حکومت کے بلند بانگ دعووں کی نفی کرتا ہے۔ صحافیوں کو وکلا کے احتجاج کی کوریج سے روکنے لیے جس طرح “لاٹھی گولی” کا استعمال ہوا وہ دنیا بھر میں پاکستان کی مزید رسوائی کا باعث بنا۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوتا ہے جہاں صحافیوں کے لیے حالات بہت تشویشناک ہیں اور انہیں کھل کر کام کرنے کی آزادی بھی حاصل نہیں۔ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے تو دوسری جانب انہیں خفیہ اداروں کی جانب سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت جو سب سے زيادہ اظہار کی کھلی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتی پھرتی ہے، کے دور میں اب تک 25 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے صرف ایک یعنی ڈینیل پرل کے قتل کی تحقیقات ہوئیں وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ امریکی تھا اور اس کے لیے حکومت پر سخت دباؤ تھا، اس کے علاوہ کسی صحافی کے قتل کی تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ حکومت کے آزادی اظہار کے دعووں کے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس آزادی کی وجہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ذرا سے تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی اس لیے نہیں دی گئی تھی کہ فوج کو تنقید کانشانہ بنایا جائے اور اس کے سیاسی کردار پر بحثیں کی جائیں بلکہ آزادی اس لیے دی گئی تھی کہ پاکستان میں مادر پدر آزاد معاشرے کو پروان چڑھایا جاسکے اور وہ نجی چینلوں کے ذریعے وہ کچھ دکھایا جا سکے جو سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھایا جا سکتا۔ صرف گذشتہ 5 سالوں کا جائزہ لے لیں، ہمارے ٹیلی وژن میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔ نجی چینلوں کی آمد سے قبل اور اِن کی آمد کے بعد ذرائع ابلاغ کا جائزہ لے لیں۔ “حیا اَٹھ گئی زمانے سے”
لیکن “اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے”، حکومت کی تدبیریں اسی پر الٹنا شروع ہوگئیں۔ اور ذرائع ابلاغ نے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ سب اپنے چینلوں پر بیان کرنا شروع کر دیا جو حکومت کے لیے کسی طرح قابل برداشت نہ تھا۔ پھر پروگراموں کو بند کرنے کی کوشش، فون پر دھمکیوں، صحافیوں کو خفیہ اداروں کے ہاتھوں اٹھوانے اور اس طرح کے دیگر اقدامات کیے گئے جس سے بجائے بات سنورنے کے اور بگڑ گئی اور ذرائع ابلاغ بجائے حکومت کے حلیف بننے کے حریف بن گئے۔ جیو ٹیلی وژن پر حملہ، آج ٹی وی کو نوٹس، اُس کے دفتر پر فائرنگ اور یکے بعد دیگرے کئی واقعات نے ذرائع ابلاغ پل کی دوسری جانب لا کھڑا کیا۔ اس طرح حکومت کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور رائے عامہ حکومت کے خلاف ہوتی چلی گئی جس میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کے لیے وکلا کی تحریک کی کوئی حیثیت نہ ہوتی اگر ذرائع ابلاغ اس کو نمایاں انداز سے پیش نہ کرتے اور میرے خیال میں در حقیقت اس وقت ملک میں تبدیلی کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں ان میں ذرائع ابلاغ کا کردار مرکزی ہے۔ اور حکومت کو اس کا بھرپور انداز ہے کہ آئندہ پاکستان میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اسی کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس لیے 29 ستمبر کے واقعات کے ذریعے ذرائع ابلاغ پر یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ ابھی نقطۂ آغاز ہے، ابھی تو صدر کا انتخاب، عام انتخابات اور کئی مراحل پڑے ہیں جن میں اس پر مزید مصیبتیں نازل ہوں گی۔

Google Buzz