جولائی 1955ء مصر کی “عوامی عدالت” (محکمۃ الشعب) کی طرف سے سید قطب کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ عدالت کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا کیونکہ موصوف اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ وہ عدالت میں حاضر نہ ہو سکتے تھے۔ 15 سالہ قید بامشقت کا ایک سال ہی گذرا تھا کہ جمال عبد الناصر کی طرف سے ایک نمائندہ سید قطب کے پاس جیل خانے بھیجا گیا۔ اس نے سید قطب یہ پیشکش کی کہ “اگر آپ چند سطریں معافی نامے کی لکھ دیں جنہیں اخبارات میں شائع کیا جا سکے تو آپ کو رہا کر دیا جائے گا اور جیل کے مصائب سے نجات پا کر آپ گھر کی آرام دہ زندگی سے متمتع ہو سکیں گے”۔ اس پیشکش کے جواب میں اس مرد مومن نے جو جواب دیا اسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔ انہوں نےکہا
مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے کہ جو مظلوم کو کہتے ہیں کہ ظالم سے معافی مانگ لے۔ خدا کی قسم! اگر معافی کے چند الفاظ مجھے پھانسی کے پھندے سے نجات دے سکتے ہں تو میں تب بھی کہنے کے لیے تیار نہ ہوں گا، اور میں اپنے رب کے حضور اس حال میں پیش ہونا پسند کروں گا کہ میں اس سے خوش ہوں اور وہ مجھ سے خوش ہو۔
آپ علامہ محمد اقبال کی طرح ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے مغرب کو بہت قریب سے دیکھا اور اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ آشیانہ شاخ نازک پر بنا ہے اور اس کی ناپائیداری سے عالم کو آگاہ کیا۔
معالم فی الطریق” (اردو ترجمہ: جادہ منزل) ہی ان کی وہ معرکۃ الآرا کتاب ہے جسے لکھنے کے “جرم” میں آپ کو سزائے موت دی گئی۔
کپلنگ نے کہا تھا
مشرق، مشرق ہے
اور مغرب، مغرب ہے
اور دونوں کا ملنا ناممکن ہے
لیکن مغرب، مشرق کے گھر آنگن میں آ پہنچا ہے
میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں
میرا نوکر بی بی سی کی خبریں سنتا ہے
میں بیدل اور حافظ کے بجائے
شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں
اخباروں میں
مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ہیں
مجھ کو چگی داڑھی والے اکبر کی کھسیانی ہنسی پر
رحم آتا ہے
اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہے)
مجذوب کی بڑہیں
وارث شاہ اور بلھے شاہ اور بابا فرید؟
چلیے جانے دیجیے ان باتوں میں کیا رکھا ہے
مشرق ہار گیا ہے
یہ بکسر پلاسی کی ہار نہیں ہے
ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگ آزادی کی ہار نہیں ہے
ایسی ہار تو جیتی جا سکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)
لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے
قبلائی خان تم ہار گئے ہو؟
اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولو
جیت گیا ہے
اکبر اعظم! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے
اور بڑا بھائی لکھا تھا
اس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیں
جو تمہیں مہابلی اور ظل الہی کہا کرتے تھے
مشرق کیا تھا؟
جسم سے اوپر اٹھنے کی خواہش تھی
شہوت اور جبلت کی تاریکی میں
اک دیا جلانے کی کوشش تھی
میں سوچ رہا ہوں، سورج مشرق سے نکلا تھا
مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے
لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے
میں ہار گیا ہوں
میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
میں ہار گیا ہوں
میں نے اپنے آئینے پر کالک مل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر اک ایسا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کے لیے صدیاں بھی ناکافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے ایک غصہ دے دو
ایسی نفرت، ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں
میں بھی
شاعر: سلیم احمد
۲۷ نومبر، ۲۰۰۷
مصنف: ابوشامل
زمرہ: فیض
198 مشاہدات
کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو
کچھ تو کہو ستم کشو، فریاد کچھ تو ہو
بیداد گرسے شکوۂ بیداد کچھ تو ہو
بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف تھا
اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا
مقتل میں کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا
رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو
خوں پر گواہ دامنِ جلاد کچھ تو ہو
جب خوں بہا طلب کریں، بنیاد کچھ تو ہو
گرتن نہیں، زباں سہی، آزاد کچھ تو ہو
دشنام، نالہ، ہاؤ ہو، فریاد کچھ تو ہو
چیخے ہے درد، اے دلِ برباد کچھ تو ہو
بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو
فیصل آباد سے اردو کے معروف بلاگر شاکر عزیز نے موجودہ حالات کے تناظر میں بہت اہم موضوع چھیڑا ہے۔ موضوع ہے “شخصیت پرستی” اور خصوصاً پاکستان کے موجودہ حالات میں جہاں “کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی” کے مصداق ہر “نئے” شخص سے امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں اور “شخصیت سازی” کا یہ عمل کچھ خاص مدارج سے گذرنے کے بعد بالآخر “شخصیت کی عبادت” تک پہنچ جاتا ہے۔ اصل میں ہمیں شخصیت کی نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے مانا کہ اس اجتماعی جدوجہد کی قیادت کے لیے کسی قائدانہ صلاحیت کے حامل فرد کی ضرورت لازمی ہے لیکن اگر اجتماعی سطح پر جدوجہد کا مادہ نہیں تو نظام کو بدلنا ایک شخص کے بس کی بات نہیں رہتی۔
ہمارا مجموعی قومی مزاج یہ ہے کہ ہم آغاز تو اظہار ہمدردی سے کرتے ہیں لیکن پھر جست لگاتے ہوئے پہلے اظہار محبت اور پھر اظہار عقیدت تک پہنچ جاتے ہیں اور یہی نفسیات عمران خان کے حوالے سے حالیہ واقعات پر عوامی جذبات میں کارفرما رہی۔ شخصیت پرستی کا مادہ من حیث القوم ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ فی الوقت کیونکہ بحیثیت مجموعی قوم کو موجودہ بحران سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی اس لیے اس اندھے راستے پر اسے جو کرن دکھائی دیتی ہے اس سمت سفر شروع ہو جاتاہے۔ اور یہ رویہ بہت زیادہ خطرناک بھی ہے کہ پورے معاشرے کا سارا بوجھ ایک فرد پر کس طرح ڈالا جا سکتا ہے اور کس طرح یہ امید باندھی جا سکتی ہے کہ اب جو کچھ کرنا ہے ایک فرد نے کرنا ہے۔ تبدیلی کے لیے تو بہت سی قوتوں کا اس کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن یہ بھی کافی نہیں کیونکہ کھڑے ہونے اور بوجھ بانٹنے میں بڑا فرق ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ آپ کے سر پر دس من وزن ہے اور میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ہماری مجموعی نفسیات یہ ہے کہ ہم اچھا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے خطرات اور اندیشوں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور بزدلوں اور نامردوں کی طرح یہ خواہش رکھتے ہیں کہ خطرات و اندیشے کوئی انگیز کرلے اور اچھا کام ہو جائے۔ اس عمل میں اگر خطرات و اندیشوں سے نمٹنے والے کا نقصان ہو جائے تو میں اس پر آٹھ آٹھ آنسو بہا لوں گا، اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا دوں گا، قصیدہ گوئی کروں گا، قلم سے صفحات سیاہ کر دوں گا لیکن خطرہ مول نہیں لوں گا۔ فوجی آمریت نے معاشرے کی علامت بن کر ابھرنے والی ہر کرن کو قتل کیا اور ہمارا ردعمل صرف اور صرف وقتی رہا اور کچھ عرصے بعد بالکل ایسے سکون سے بیٹھ گئے جیسے مردے کو دفنانے کے بعد دلوں کو قرار آ جاتا ہے۔ اور یہی ہمارا مزاج ہے کہ ڈاکٹر قدیر اور افتخار چوہدری کے بعد جیسے ہی عمران خان “نظر” آئے سب ان کی طرف دوڑ پڑے۔
کہا جاتا ہے کہ آخرت میں ہر کسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، آخرت کیا دنیا میں بھی یہی اصول ہے اور جو لوگ دنیا میں اپنا بوجھ دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچ گئے، انہیں معلوم نہیں اللہ تعالٰی پھر انہیں کوئی بھی بار اٹھانے کے لائق نہ سمجھتے ہوئے تاریخ کے سفر کی ہر ذمہ داری سے محروم کر دیتا ہے۔
اقبال کے بعد اب میر تقی میر سے معذرت کے ساتھ
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
جعلی اینٹی بایوٹک نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لی آنکھیں موند
پہلے بیوی پھر بچوں نے اپنا یہ انجام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے پولیس کرے ہے، ہم کو عبث بد نام کیا
سر زد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
اس کے ایک اشارے پر اپنوں کا قتل عام کیا
کس کا کعبہ، کس کا قبلہ، کون حرم ہے کیا احرام
وردی پہنی، واشنگٹن میں جا کے بش کو سلام کیا
یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل ہے جو سو اتنا ہے
اپنے کام ادھورے چھوڑے، اُس کی خاطر کام کیا
ساعد سیمیں دونوں ان کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
اس نے بھی ہمارے گالوں کو چانٹوں سے لالہ فام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
آخر ایک پڑھی لکھی ہرنی نے اس کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو، ان نے تو
پارٹی بدلی، ایماں بیچا، یوں زندہ اسلام کیا
بشکریہ: محمد ظہیر صاحب
روسی استبداد کے خلاف سالہا سال تک برسرِ پیکار رہنے والے عالمِ اسلام کے عظیم چھاپہ مار رہنما امام شامل رحمۃ اللہ علیہ کو روسی جرنیل وارنسٹوف نے ستمبر 1844ء میں قفقار پہنچ کر ایک خط لکھا کہ تم پانچ لفظوں اطاعت، فرماں برداری، ماتحتی، باج گزاری اور درخواست میں سے جو چاہو منتخب کرلو۔اس کے جواب میں امام شامل رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا:
وارنسٹوف مجھے تمہارے شہنشاہ پر ترس آتا ہے کہ وہ تم جیسے بوڑھے اور ازکارِرفتہ نام نہاد جرنیل کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اگر تم حقیقی جرنیل ہوتے تو تمہیں یہ علم ضرور ہوتا ہے ایک سپہ سالار دوسرے سپہ سالار سے کس طرح بات کرتا ہے۔تمہیں تو اتنا بھی علم نہیں کہ سپاہی گفتگو کا آغاز تلوار سے کرتاہے۔زبان کے استعمال کی نوبت اس وقت آتی ہے جب تلوارغالب یا عاجز آجائے۔ تمہاری اطلاع کے لیے یہ عرض ہے کہ قفقار میں کوئی یہ نہیں جانتاہے وارنسٹوف کس چڑیا کا نام ہے۔مگر ایک نام ایسا ہے جسے صرف جنوبی روس ہی میں نہیں،پورے روس میں،پورے قفقار میں ہر کوئی جانتاہے۔تمہارے زاروں، جرنیلوں ،افسروں اور سپاہیوں کے قبرستانوں میں مدفون لاکھوں لوگوں کی روحیں بھی اس نام سے واقف ہیں اوریہ نام ہے’شامل‘۔
ہاں ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ
ہم دوسروں کے ملک پر قبضہ نہیں کرتے،
ہم دوسروں کو اپنا غلام نہیں بناتے،
ہم مخالفوں کے باغات،کھیتیاں اور گھر نذرِ آتش نہیں کرتے اور ان کے کنویں بند کرکے اُنہیں پیاس سے نہیں تڑپاتے،
ہم کسی فانی انسان کو اپنا خداوند،آقا اور اپنی زندگیوں کا مالک نہیں تسلیم کرتے۔
ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ
ہمارے یہاں ماتحتوں کی بیویاں اپنے اعلیٰ افسروں کی بانہوں میں نہیں جھولتیں،
ہمارے یہاں غریب مائیں اپنی چھاتیاں اپنے آقاوں کے کتوں کے منہ میں نہیں دیتیں،
ہمارے یہاں خادم اپنے آقاوں کے کتوں کو گرمی پہنچانے کے لیے ساری رات اپنی گود میں لے کر نہیں بیٹھتے۔
وارنسٹوف!
تم نے کہا کہ میں پانچ الفاظ میں سے ایک لفظ منتخب کرلوں۔میں تمہارے پانچوں الفاظ مسترد کرتا ہوں۔میرے منتخب کردہ پانچ الفاظ یہ ہیں
اللہ کی راہ میں جہاد
ایک محفل کا ذکر احوال جہاں چند ادھیڑ عمر افراد اور بزرگ ایک معاملے پر گفتگو کر رہے ہیں
نوٹ: میری حیثیت صرف سامع کی ہے
مشرف ہماری اقدار کو تبدیل کرنے جا رہا ہے
ہاں بھیا! اس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے تو بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے
اخلاقی اقدار، شرافت، حیا، ادب آداب کا جنازہ نکال دیا ہے
صرف آٹھ نو سال کے عرصے میں معاشرے میں کتنی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے
نہیں! مجھے تو کچھ ایسا نہیں لگتا، دیکھو جب ہم نوجوان تھے تو اس وقت داڑھی رکھنے والوں پر پھبتیاں کسی جاتی تھیں، حتٰی کہ لڑکوں کے رشتے سے صرف اس بنا پر انکار کر دیا جاتا تھا کہ اس کی داڑھی ہے لیکن اب دیکھیے برقعوں کی بہار ہے،
داڑھی سجائے کتنے نوجوان گھومتے نظر آتے ہیں، میرے خیال میں حالات اتنے خراب نہیں ہوئے
دیکھیں اقدار کی تبدیلی کا عمل اتنا آسان نہیں ہوتا، اقدار کوئی ماچس یا لائٹر نہیں کہ کسی کے بھی طلب کرنے پر اس کے حوالے کر دی جائیں
لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ مشرف نے آتے ہی خود کو اتاترک کا پیروکار کہا تھا اور وہ اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے
آپ تاریخ کا مطالعہ کر کے یہ بھی تو سمجھ سکتے ہیں کہ اتاترک نے اپنی قوم کے لیے بہت کچھ کیا، مشرف نے ملک کو کیا دیا ہے، مہنگائی، لاقانونیت، خودکش حملے، بے حیائی، بے غیرتی، ہر میدان میں ناکامی، اپنے بھی خفا بیگانے بھی ناخوش۔ اتاترک جس کی مثال دی جاتی ہے اس نے اپنی قوم کو آزادی دلائی، آدھے ملک کو غیر ملکی پنجوں سے آزاد کرایا، ایک مردہ ہوتی ہوئی قوم میں نئی زندگی پھونکی، اس نے ملک کو نیا اقتصادی و تعلیمی نظام دیا، اس نے نیا آئین دیا، اس کے دور میں ترکی ترقی کی راہوں پر گامزن ہو چکا تھا اور وہ مرنے سے پہلے ایک مستحکم و خوشحال ملک چھوڑ کر گیا۔ جب کوئی شخص عوام کو وہ سب کچھ دے تو اس کے بدلے میں عوام اقدار دینے پر بھی رضامند ہو جاتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اقدار کے بدلے میں بہت کچھ دینا پڑتا ہے۔ لیکن مشرف نے عوام کو کیا دیا کہ عوام اپنی اقدار اس کی جھولی میں ڈال دیں۔
جس کو ساری انسانیت کا امام بننا ہو، اس کو ہر لحاظ سے اپنے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی اور ایک دنیا کو اپنے اندر سمونا ہوگا اور ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اسے اپنے دل کے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی، وہ وسعت کہ جس میں سارے لوگ سما جائیں، دماغ کی وسعت کہ جو سارے افکار کا مقابلہ کر سکے، عمل کی وسعت کہ جو سارے انسانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکے۔جس کا دل تنگ ہو، جس کی نظر تنگ ہو، جس کا دماغ محدود ہو، جو اپنے ناک کے آگے نہ دیکھ سکتا ہو، وہ ساری دنیا کا امام نہیں بن سکتا۔ صحابہ کرام قیصر و کسریٰ کے دربار میں کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے کہ ہم تو اس لیے آئے ہیں کہ تم کو دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعت تک پہنچا دیں۔
جو اُس جنت کا طلب گار ہو جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائیں، نہ اس کا دل تنگ ہو سکتا ہے نہ نگاہ، نہ اس کا دماغ تنگ ہو سکتا ہے نہ فکر سطحی اور نہ اس کی نظر محدود ہو سکتی ہے۔ لہٰذا امامت عالم کے لیے مقاصد میں، دل میں، فکر میں، نظر میں اور رویوں میں تنگی کے بجائے وسعت ناگزیر ہے۔ (خرم مراد)
۱۹ نومبر، ۲۰۰۷
مصنف: ابوشامل
زمرہ: فیض
227 مشاہدات
آج کے نام
اور
آج کے غم کے نام
آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا
زرد پتوں کا بن
زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے
درد کی انجمن جو میرا دیس ہے
کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام
کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام
پوسٹ مینوں کے نام
تانگے والوں کے نام
ریل بانوں کے نام
کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام
بادشاہِ جہاں، والیِ ما سوا، نائب للہ فی الارض،
دہقاں کے نام
جس کے ڈھوروں کو ظا لم ہنکا لے گئے
جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھالے گئے
ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے
دوسری مالئے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے
جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے
دھجیاں ہو گئ ہے
ان دکھی ماؤں کے نام
رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور
نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤ ں میں سنبھلتے نہیں
دکھ بتاتے نہیں
منتوں زاریوں سےبہلتے نہیں
ان حسیناؤں کے نام
جن کی آنکھوں کے گل
چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے
مرجھاگئے ہیں
ان بیاہتاؤ ں کے نام
جن کے بدن
بے محبت ریا کار سیجوں پہ سج سج کے اکتاگئے ہیں
بیواؤں کے نام
کٹڑیوں
اور گلیوں، محلوں کے نام
جن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوں
کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو
جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا
آنچلوں کی حنا
چوڑیوں کی کھنک
کاکلوں کی مہک
آرزو مند سینوں کی اپنے پسینےمیں جلنے کی بو
پڑھنے والوں کے نام
وہ جو اصحاب طبل و علم
کے دروں پر کتاب اور قلم
کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے
پہنچے، مگر لوٹ کر گھر نہ آئے
وہ معصوم جو بھولپن میں
وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن
لے کے پہنچے جہاں
بٹ رہے تھے، گھٹا ٹوپ، بے انت راتوں کے سائے
ان اسیروں کے نام
جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر
جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صر صر میں
جل جل کے انجم نما ہو گئے ہیں
آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام
وہ جو خوشبوئے گل کی طرح
اپنے پیغام پر خود فدا ہو گئے ہیں
امیر الاسلام ہاشمی صاحب نے نجانے کب یہ نظم اقبال سے انتہائی معذرت کے ساتھ لکھی تھی لیکن یہ ہماری موجودہ انفرادی و اجتماعی صورتحال کی عکاس ہے۔ میں بھی مرشد (اقبال) سے انتہائی معذرت کے ساتھ اسے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں۔
دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم، کہ جلاؤں
شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن
شاہیں کا جہاں آج ممولے کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملا سے ، مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے؟
کردار کا، گفتار کا، اعمال کا مومن
قائل نہیں، ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے اب بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلواروں سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی، کوئی زنجیر
دیکھو تو ذرا، محلوں کے پردوں کو اٹھاکر
شمشیر و سِناں رکھی ہیں طاقوں میں سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سوگئی، طاؤس پہ آکر
مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کوہر شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ورے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے، یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر، جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو اب میں لاؤں کہاں سے