تحاریر برائے ماہِ مارچ ، ۲۰۰۸


امریکہ کی دریافت: تصویر کا دوسرا رخ

امریکہ کیونکہ فی زمانہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی و عسکری قوت ہے جس کا دنیا بھر کے معاملات پر اس اثر و رسوخ ہے اور اس کی اہمیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس لیے اس کی تاریخ بھی دنیا بھر کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں امریکہ کا طوطی بول رہا ہے۔ وطن عزیز میں رہنے والا عام چند جماعت پاس شخص بھی، جو اپنی تاریخ سے واجبی سی واقفیت بھی نہیں رکھتا، امریکہ کی دریافت کے حوالے سے سوال پر فوری جواب دے گا “کولمبس!”
تاریخ کا ایک ایسا کردار جس کے کارنامے نے دنیا کی تاریخ پر عظیم اثرات مرتب کیے، جس کا یہ واحد کارنامہ دنیا میں کی بالادستی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور یورپ نے محض دو صدیوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے مسلمانوں کو باہر کر کے اپنی برتری قائم کر لی اور مسلمان ایک طویل نوآبادیاتی دور کے بعد موجودہ جدید ‘ذہنی’ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیے گئے۔ اس بات سے قطع نظر کہ امریکہ دریافت کرنا اس کا کارنامہ تھا یا نہیں یہ امر بہرحال تسلیم شدہ ہے کہ اس کا سفرِ امریکہ دنیا کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
“امریکہ کی دریافت” کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل مبارک علی صاحب کے ایک مضمون کا ترجمہ کر کے پیش کیا تھا جس پر یہ فرمائش کی گئی کہ امریکہ کی دریافت کے حوالے سے جو دیگر نظریات (خصوصاً مسلمانوں سے متعلق) پائے جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی لکھا جانا چاہیے، سو اس موضوع پر کچھ نظریات سامنے لانے کی کوشش کی ہے ، امید ہے یہ حقیر سی کوشش تاریخ کو دوسرے زاویے سے سمجھنے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوگی۔ مقصد صرف زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا اور پہنچانا ہے، کسی کے نظریے سے کلی اختلاف یا اتفاق کرنا نہیں۔ فی الوقت میرا موضوع امریکہ کی دریافت کے وہ دعوے ہیں جو مسلمانوں سے منسوب ہیں۔
کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی مبینہ دریافت دنیا کی تاریخ کا اتنا اہم واقعہ ہے کہ مورخین اِس سرزمین کی تاریخ کو ہی دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک قبل از کولمبس (Pre-Columbus Era) اور دوسرا بعد از کولمبس (Post-Columbus Era)۔ تاریخ انسانی کے اس واقعے کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ دعوے اور نظریات سامنے آئیں تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے اور اس موضوع کا مکمل احاطہ بھی ہو سکے۔
امریکہ دریافت کرنے کے حوالے سے مسلمانوں نے جتنے دعوے کیے ان کا سہرا اندلس، چین اور افریقہ کے مسلمانوں کو سر باندھا گیا ہے۔ اس نظریے کے حامل مورخین کا دعویٰ یہ ہے کہ 9 ویں سے 14 ویں صدی عیسوی تک اندلس اور المغرب (مراکش) کے مسلمان جہاز رانوں نے بحر اوقیانوس میں دور دور تک جہاز رانی کی اور اس دوران انہوں نے امریکی براعظم تک بھی رسائی حاصل کی۔
ان مسلمانوں نے تاریخ میں پہلی بار بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے اس پار نئی دنیا سے رابطے کا آغاز کیا۔ ان دعووں کے حق میں یہ مورخین کئی دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ان دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو قرون وسطٰی کے مسلمان دانشوروں کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مسلم جہاز رانوں کی امریکہ تک رسائی کا سب سے پہلا حوالہ ہمیں علی المسعودی (871ء تا 957ء) کی “مروج الذہب و معادن الجوہر” میں ملتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس میں ایک نامعلوم سرزمین کا ذکر کیا ہے اور اتنی کتاب میں اسے “ارض مجہولہ” کا نام دیا ہے۔ انہوں نے اپنی مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ خلیفہ اندلس عبدالرحمن ثالث کے دور میں ایک مسلم جہاز راں خشخش ابن سعید ابن اسود نے 889ء میں دیلبا (موجودہ پیلوس) سے سفر کا آغاز کیا اور بحر اوقیانوس کے اُس پار ایک “ارض مجہولہ: (نامعلوم سرزمین) پر پہنچے اور انواع و اقسام کے خزانوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ المسعودی کے مرتب کردہ دنیا کے نقشے میں افریقہ کے جنوب مغرب میں سمندر میں ایک بہت بڑا قطعہ زمین دکھایا گیا ہے جسے “ارض مجہولہ” کہا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان براعظم امریکہ کی موجودگی سے کولمبس کی دریافت سے 5 صدی قبل واقف تھے
ایک اور مسلم مورخ ابو بکر ابن عمر الغطیہ کے مطابق فروری 999ء میں اندلس میں اموی حکمران ہشام ثانی کے دور میں غرناطہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم جہاز راں ابن فرخ کناری جزائر پہنچے اور وہاں سے مغرب کی جانب بحر اوقیانوس میں سفر کا آغاز کیا اور دو ایسے جزائر پر پہنچے جنہیں اب کپراریا اور پلوتانا کہا جاتا ہے۔ وہ مئی 999ء میں غرناطہ واپس پہنچے۔
قبل از کولمبس تاریخ میں مسلمانوں کے “نئی دنیا” سے روابط کے حوالے سے سب سے اہم حوالہ مشہور مسلم جغرافیہ دان اور خرائط ساز محمد الادریسی (1110ء تا 1166ء) کی کتاب “نزہت المشتاق” سے دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس اور “نئی دنیا” کی تلاش کے لیے مسلم جہاز رانوں کی کوششوں کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:

مسلمانوں کے سپہ سالار علی ابن یوسف ابن تاشفین نے اپنے امیر البحر احمد ابن عمر کو بحر اوقیانوس کے مختلف جزائر پر حملے کے لیے بھیجا لیکن وہ اس حکم کی تعمیل سے قبل ہی انتقال کر گئے۔
بحر ظلمات کے اُس پار کیا ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ کسی کے پاس اس کا درست علم نہیں کیونکہ اس سمندر کو پار کرنا بہت مشکل ہے۔ اس پر دھند کے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، اس کی لہریں بہت طاقتور ہیں، یہ خطرات سے پُر ہے اور اس میں ہواؤں کے تیز جھکڑ چلتے ہیں۔ بحر ظلمات میں بہت سے جزائر ہیں جن میں سے متعدد غیر آباد ہیں اور دیگر پر سمندر کی لہریں غالب آتی رہتی ہیں۔ کوئی جہاز راں ان میں داخل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساحلوں کے قریب سے ہوتا ہوا گزر جاتا ہے۔
لزبن کے قصبے سے اس مہم کا آغاز کیا گیا جسے “مغررین” کا نام دیا گیا اور وہ بحر ظلمات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے نکل پڑے، تاکہ یہ جان سکیں کہ اس سمندر کا خاتمہ کہاں ہوتا ہے؟۔ 12 دن کے سفر کے بعد وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جو غیر آباد دکھائی دیتا تھا لیکن وہاں زرعی علاقے موجود تھے۔ وہ ان جزائر پر اترے لیکن جلد ہی ایسے افراد کے گھیرے میں آ گئے اور گرفتار کر لیے گئے جن کی جلد کا رنگ سرخ تھا، جسم پر بہت زیادہ بال نہیں تھے اور سر کے بال سیدھے تھے اور قامت بہت بلند تھی۔

ادریسی کا “سرخ رنگت کے حامل افراد” کا حوالہ دینا اس امر کا شاہد سمجھا جاتا ہے کہ یہ قافلہ دراصل ان افراد کی سرزمین پر پہنچا تھا جنہیں کولمبس نے “سرخ ہندی (Red Indians) کا نام دیا تھا۔
ان کے علاوہ افریقہ میں واقع
سلطنت مالی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں سے بھی مسلمان جہاز رانوں کا ایک قافلہ بحر ظلمات کو عبور کر کے امریکی سرزمین تک پہنچا تھا۔ اس مہم کا ذکر مسلم مورخ شہاب الدین ابو عباس احمد بن فضل العمری کی کتاب “مسالک الابصار فی ممالیک الامسار” میں ملتا ہے۔
رفتہ رفتہ مسلمانوں کی جانب سے امریکہ کی دریافت کے نظریات اتنی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے کہ 1969ء میں ناروے کے ایک مہم جوتھور ہیئرڈیہل (Thor Heyerdahl) نے شمالی افریقہ کی بندرگاہ صافی سے بارباڈوس، ویسٹ انڈیز تک کا سفر ایسی کشتی کے ذریعے کیا جسے مقامی افریقی باشندوں نے پیپیرس سے بالکل اس طریق پر تیار کیا تھا جس طرح قرون وسطٰی میں تیار کیا جاتا تھا۔ اس سفر کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ قرون وسطٰی میں افریقہ سے نئی دنیا تک سفر ممکن تھا
علاوہ ازیں چینی مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت بھی ایک اہم نظریہ ہے اور اس کا سہرا منگ دور حکومت میں معروف مسلم جہاز راں “ژینگ ہی” کے سر باندھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ کارنامہ مبینہ طور پر 15 ویں صدی میں کولمبس سے قبل اس دور میں انجام دیا جب چین نے تجارتی راستوں پر اپنے قدم جمانے کے لیے 7 بحری مہمات کا آغاز کیا تھا۔مہم کی قیادت ژینگ ہی کے سپرد کی گئی ۔ ایک یورپی مورخ Gavin Menzies نے اپنی متنازع کتاب 1421: The Year China Discovered the World میں اس کا ذکر کیا ہے۔کیونکہ اس نظریے کے حامی افراد 1421ء کو چینیوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا سال سمجھتے ہیں اس لیے مخالفین اسے 1421 Hypothesis کہتے ہیں۔
علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے 1492ء میں جب امریکہ دریافت کیا تو اس کی اس مہم میں کئی مسلمان جہاز راں بھی شامل تھے۔ اور کولمبس کے بیٹے فرنانڈو کولون نے اپنی کتاب تو یہاں تک کہا تھا کہ اسے جینووا کے مسلمان جہاز رانوں نے ہی بتایا تھا کہ وہ مغرب کی جانب سفر کر کے متبادل راستے کے ذریعے ہندوستان پہنچ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی “دریافت” کے اس تاریخی سفر میں دو ایسے جہاز راں بھی کولمبس کے ہمراہ تھے جن کے اجداد مسلمان تھے۔ ان جہاز رانوں کے نام مارٹن الونسو پنزون Martin Alonso Pinzon اور ویسنٹ یانیز پنزون Vicente Yanex Pinzon تھے جو بالترتیب PINTA اور NINA جہازوں کے کپتان اور آپس میں بھائی تھے۔ یہ دونوں امیر کبیر اور ماہر کاریگر تھے اور سفر کے دوران انہوں نے پرچم بردار جہاز SANTA MARIA کی مرمت بھی کی تھی۔ پنزون خاندان کا تعلق مرینی خاندان کے سلطان ابو زیان محمد ثالث (1362ء تا 1366ء) سے تھا۔
کولمبس کا بیٹا فرنانڈو کولون یہ بھی لکھتا ہے کہ پوائنٹ کاویناس کے مشرقی علاقوں میں رہنے والی آبادی سیاہ فام تھی اور اسی علاقے میں ایک مسلم نسل کا قبیلہ “المامی” بھی آباد تھا۔ مینڈینکا اور عربی زبان میں المامی “الامام” یا “الامامو” سے مشتق لگتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی یا قبائلی یا برادری کی سطح پر اعلٰی حیثیت کے حامل تھے۔
کئی مسلم حوالہ جاتی کتب میں شیخ زین الدین علی بن فضل الماژندرانی کے بحر ظلمات کے سفر کا ذکر ملتا ہے۔ جنہوں نے مرینی خاندان کے چھٹے حکمران ابو یعقوب سیدی یوسف (1286ء تا 1307ء) میں طرفایہ (جنوبی مراکش) سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور تقریباً 1291ء میں بحیرہ کیریبین میں واقع سبز جزیرے (Green Island) پر پہنچے۔ ان کے بحری سفر کی تفصیلات اسلامی حوالہ جات اور کئی مسلم دانشوروں کی کتب میں تاریخی واقعے کی حیثيت سے درج ہیں۔
کولمبس نے 21 اکتوبر 1492ء بروز پیر کیوبا کے شمال مشرقی ساحلوں پر جبارا کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک مسجد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں کیوبا، میکسیکو، ٹیکساس اور نیواڈا میں مسجدیں اور قرآنی آیات سے مزین میناروں کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ کولمبس نے ٹرینیڈاڈ میں مقامی باشندوں کی خواتین کے لباس کا ذکر جس طرح کیا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مسلمان بھی موجود تھے اور اس کے بیٹے نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ ان کا لباس غرناطہ کی مسلمان خواتین جیسا ہی ہے۔
جدید مصنفین نے بھی اس موضوع پر خاصا کام کیا ہے جن میں بیری فیل، ایوان وان سرتیمی اور الیگزینڈ وان ووتھینو شامل ہیں۔ آخر الذکر جرمن مصنف کا کہنا ہے کہ کولمبس سے پہلے افریقہ، ایشیا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مختلف النسل افراد نئی دنیا میں موجود تھے تاہم انہوں نے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کو تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر بیری فیل نے اپنی کتابSaga America میں ٹھوس شواہد دے کر ثابت کیا ہے کہ شمالی اور مغربی افریقہ کے مسلمان کولمبس کی آمد سے صدیوں قبل نئی دنیا میں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ویلی آف فائر، ایلن اسپرنگز، لوگومارسینو، کی ہول، کینین، واشو اور ہکیسن سمٹ پاس (نیواڈا)، میسا ورڈی (کولوراڈو)، ممبریس ویلی (نیو میکسیکو) اور ٹپر کینو (انڈیانا) میں مسلم مدارس کی باقیات دریافت کیں جن کا تعلق 700 سے 800 صدی عیسوی سے ہے۔ باقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان مدارس میں ریاضی، مذہب، تاریخ، جغرافیہ، علم ہیئت اور جہاز رانی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اُن کے مطابق امریکہ (484) اور کینیڈا (81) میں 565 مقامات (دیہات، قصبات، شہر، پہاڑ، جھیل اور دریا وغیرہ) ایسے ہیں جن کے نام دراصل اسلامی و عربی النسل ہیں۔ ان مقامات کے نام قبل از کولمبس دور میں رکھے گئے۔
ایوان وان سرتیما نے 1976ء میں اپنی کتاب They Came Before Columbus میں افریقی لوگوں کے براعظم امریکہ سے روابط کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیز، زمورس، مرابطین اور مرابیوس کے نام اس امر کے شاہد ہیں کہ قبل از کولمبس دونوں براعظموں کے آپس میں تعلقات تھے خصوصاً مرابطین کا نام ان کے لیے کشش کا حامل رہا کیونکہ مرابطین المغرب میں مسلمانوں کی معروف حکومت تھی۔
اس کے علاوہ عثمانی دور کے معروف ترک جہاز راں و امیر البحر پیری رئیس کے بنے ہوئے جو اعلٰی ترین نقشے آج تک موجود ہیں ان میں ایک نقشہ ایسا بھی ہے جس میں بحر اوقیانوس کے اُس پار برازیل کا علاقہ دیکھا جا سکتا ہے حالانکہ اس وقت کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا چرچا بھی نہ ہوا تھا۔ پیری رئیس کا یہ قدیم نقشہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام شواہد پر بھاری ہے جو مورخین کولمبس سے قبل مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کے بارے میں دیتے رہے ہیں۔ (یہ نقشہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے)
(اس مضمون کی تیاری میں مختلف حوالہ جات اور کتب سے مدد لی گئی ہے جن تک مضمون میں دیے گئے روابط کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے)

Google Buzz

Ubuntu Hardy Heron 8.04

Ubuntu اگلے ماہ اپنا دوسرا Long term support (LTS) ورژن 8.04 جاری کر رہا ہے جسے Hardy Heron کا نام دیا گیا ہے۔ Ubuntu کے ڈیولپرز ہر 6 ماہ بعد ایک مختصر مدت اور ہر دو سال بعد ایک طویل مدت تک support کرنے والا ورژن جاری کرتے ہیں اور 2006ء کے بعد اب دوسرا LTS جاری کرنے کی باری ہے جس کے لیے لینکس شائقین کو اگلے ماہ (اپریل 2008ء) تک کا انتظار کرنا پڑے گا لیکن وہ افراد جو انتظار نہیں کر سکتے ان کے لیے Ubuntu 8.04 Beta دستیاب ہے۔

Hardy Heron میں کئی نئی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ Beta ورژن میں لینکس کرنل 2.6.24 شامل کیا گیا ہے جو AMD64 کمپیوٹرز کو بھی support کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں GNOME کا تازہ و اعلٰی ترین ورژن 2.22 شامل ہے جو کئی نئی خوبیوں اور خصوصیات کا حامل ہے جس میں Nautilus کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اسکرین ریزولیوشن کو configure کرنے کے لیے Xorg 7.3 شامل ہے جو خاص طور پر ان laptop صارفین کے لیے بہتر رہے گا جو projector یا اضافی monitor استعمال کرتے ہیں۔ انتظامی user interfaces میں PolicyKit کو بھی شامل کیا گیا ہے جو زیادہ usability اور security کے ذریعے user permissions کو بہتر بناتا ہے۔ PulseAudio کو بھی default میں شامل کیا گیا ہے جبکہ web browser کے طور پر Firefox 3 Beta 4 استعمال کیا گیا ہے۔ Gnome BitTorrent کی جگہ مشہور Transmission کو Ubuntu کا BitTorrent client بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ default میں شامل کیے گئے دیگر سافٹ ویئرز میں VNC client Vinagre، Brasero (CD/DVD burning application) اور World Clock Applet شامل ہیں۔ اس کے علاوہ Beta میں ایک نئی Firewall application شامل کی گئی ہے جسے ufw (Uncomplicated Firewall) کا نام دیا گیا ہے۔

اس مرتبہ WinFOSS کے ذریعے Windows کے لیے open source software پیش کرنے کے بجائے umenu کو launcher کے طور پر شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارف کو Ubuntu کی تنصیب کے لیے مختلف Options دیے گئے ہیں۔

اندازہ ہے کہ میرا پسندیدہ سافٹ ویئر Inkscape اس مرتبہ Ubuntu میں شامل کیا جا رہا ہے، اس کا یقین تو Hardy Heron کے آنے کے بعد ہی آئے گا تب تک انتظار !!!!

اور آخر میں سب سے اہم خصوصیت! Windows کے وہ صارفین جو ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ Linux ان کے تمام partition اڑا دے گا اور سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مکمل text-based operating system ہے، اُن کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اس مرتبہ Ubuntu کی تنصیب کا ایک نیا option دیا گیا ہے جسے Wubi کہا جا رہا ہے جس کے ذریعے Ubuntu کو بالکل اسی طرح install یا uninstall کیا جا سکتا ہے جیسے Windows میں کسی پروگرام کو کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص partition کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ bootloader کو متاثر کرتا ہے۔ Wubi ،physical CD یا stand-alone mode میں کام کرتا ہے۔ یہ CD کے root میں Wubi.exe کے نام سے موجود ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ایک مخصوص partition میں مکمل تنصیب Ubuntu سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے لیکن Wubi کو صرف چند روز یا ہفتے بھر کے لیے تجرباتی طور پر استعمال کرنا Windows صارفین کے لیے نئے تجربے کا باعث ہوگا۔
تحریر کے لیے اس ربط سے مدد لی گئی ہے:

Ubuntu Hardy Beta

Google Buzz

خوف کے بادل چھٹنے لگے؟

2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اب ریاست کے مسلمان آہستہ آہستہ خوف کے سائے سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔ معروف بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق فسادات کے 6 سال بعد اب ریاست کے مسلمان اب خاص نمبر پلیٹوں کی نیلامی میں ایک مرتبہ پھر “786″ کے حصول کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جسے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
فسادات سے قبل مسلمان زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر اپنی گاڑیوں کے لیے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کیا کرتے تھے لیکن 2002ء کے اوائل سے ایسی نمبر پلیٹوں کی نیلامی روک دی گئی تھی جن پر 786 درج ہوتا تھا اور ان فسادات کے بعد ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مسلمان اپنی شناخت چھپانے اور ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایسی نمبر پلیٹوں سے گریز کرنے لگے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نیلامی میں مسلمان ایک مرتبہ پھر 786 کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیے اور پرویز شیخ نامی ایک مسلمان نے نیلامی میں 4186 روپے کی ادائیگی کر کے اپنی موٹر سائیکل کے لیے 786 کے نمبر کی حامل پلیٹ حاصل کر لی۔
بھارتی گجرات میں 2002ء فسادات کے بعد مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ اور کیا اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور کیا واقعی ریاست گجرات میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے؟ کیا دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی اسی وزیر اعلٰی کی موجودگی میں مسلمان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں؟ کیا 786 نمبر والیتختیوں کی نیلامی اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی ہر اس شخص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جو خود کو امت واحدہ کا حصہ سمجھتا ہے۔

Google Buzz

حزب اللہ و حزب الشیطان

کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اس پر ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔
تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ آیت 14 تا 22

Google Buzz

اردو نقشہ جات

نو عمری سے ہی نقشوں میں دلچسپی بہت زیادہ تھی اور آج بھی بہتر سے بہتر نقشوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہوں۔ لیکن جب سے اردو کے “عشق” میں مبتلا ہوئے تب سے یہ غم ہمیشہ دل میں رہا کہ اردو زبان میں معیاری نقشے بالکل دستیاب نہیں اور اس “غم” کا علاج اس وقت تک دکھائی نہیں دیا جب تک میں نے اردو وکیپیڈیا میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ کچھ عرصہ وہاں کام کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اردو میں نقشہ جات بنانے پر کام کیا جا سکتا ہے ابتدا میں کچھ ہاتھ پیر چلائے اور کوشش کی کہ معیاری نقشے تیار کیے جائیں اور سادہ سے نقشے بنانے میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی لیکن اصل مسئلہ ایسے نقشے بنانے کا تھا جن میں جغرافیائی خصوصیات کو نمایاں کیا گیا ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر موجود اردو برادری سے بھی مدد طلب کی لیکن ایک سال بعد بھی علاجِ غم نہ ہوسکا تو ارادہ ملتوی کر کے بیٹھ گئے اس ماہ عرصہ بعد امید بر آئی اور ایک ایسا راز ہاتھ لگا جس کے ذریعے خوبصورت جغرافیائی نقشے مرتب دیے جاسکتے ہیں (راز نہیں بتاؤں گا) اس سلسلے میں پہلی کوشش یہ کی ہے۔

آبنائے ہرمز کا جغرافیائی نقشہ

مجھے اندازہ ہے کہ اس میں ابھی بہت بہتری کی ضرورت ہے اور سب سے بڑی کمی ایک اچھے یونیکوڈ نستعلیق فونٹ کی ہے جوAdobe Photoshop پر کام کر سکے۔ تمام آرا کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل قریب انشاء اللہ بہتری کی جانب مزید پیشرفت کے ساتھ نقشے مرتب کریں گے تاکہ انٹرنیٹ پر اردو کے حوالے سے یہ تاثر ختم کرایا جا سکے کہ اردو دان کمیونٹی میں تخلیقی کام اور با صلاحیت افراد کی کمی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس مقصد میں کامیاب کرے۔
(اتنے روز بلاگ سے غیر حاضری کا سبب شہر میں غیر موجودگی، مندرجہ بالا منصوبے اور وکیپیڈیا پر دیگر مصروفیات کے باعث تھی)

Google Buzz