ماضی میں قوم پرستی، سوشلسٹ اسلام، شرعی ریاست اور جمہوری ریاست کے نعروں کے بعد جب ملک کی بدقسمتی اور قوم کی بد اعمالیوں کے باعث ایک اور فوجی دور حکومت آیا تو ایک مرتبہ پھر نیا نعرہ بلند کیا گیا جس نے ہمارے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں خوب شرفِ قبولیت حاصل کیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ یہ نعرہ تھا “روشن خیالی” کا اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد اس نعرے کی عملی تفسیر کے لیے جب بیرونی وسائل بھی فراہم کیے جانے لگے تو گویا دھن آسمان سے پانی کی طرح برسنے لگا اور اس طبقے کی پانچویں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آ گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اِسے نجی ذرائع ابلاغ کی صورت میں روشن خیالی کی ترویج کا ایک ایسا زبردست پلیٹ فارم بھی مل گیا جس کی رسائی جھونپڑیوں سے لے کر محلات تک تھی۔ اس طرح روشن خیالی کی عملی تفسیر مختلف صورتوں میں مختلف ذرائع سے عوام پر ظاہر ہونے لگی، چہرے مختلف، موضوعات مختلف لیکن مقصد واحد اور واضح۔
لیکن گزشتہ دنوں اسلام کے شہر (اسلام آباد)، جو اسلام کے قلعے کا دارالحکومت بھی ہے، سے ایک ایسی خبر منظر عام پر آئی جو روشن خیالی کی معراج کی جانب ملک و قوم کی ایک بہت بڑی جَست قرار دی جا سکتی ہے بلکہ بقول شاعر “عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام” والی بات زیادہ بہتر رہے گی۔
روشن خیالی کے بڑے ترجمان انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز نے ایک خبر شائع کی کہ نیشنل آرٹ گیلری (این اے جی) میں ایسے فن پاروں کو نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے جن میں عورتوں کو عُریاں دکھایا گیا ہے۔ یہ کارنامہ نیشنل آرٹ گیلری میں واقع “خزانہ سووینئر شاپ” نے انجام دیا ہے اور یقیناً یہ قدم اٹھانے پر “روشن دماغوں” کی جانب سے خوب داد تحسین سمیٹی ہوگی۔
گیلری انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کوئی نئے نہیں بلکہ وہ اس سے قبل اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھی مرد و عورتوں کی عُریاں تصاویر پیش کر کے “خواص” اور “روشن خیال” ذرائع ابلاغ کے علاوہ “ہدایت کار” سے بھی داد سمیٹ چکا ہے لیکن اب مستقل بنیادوں پر ان تصاویر کو ملکی ثقافت کا حصہ بنا کر دکھانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی عوامی شکایات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ زیادہ افسوسناک بات یہی ہے کہ سووینئر شاپ کسی بھی عجائب گھر یا ثقافتی مقام میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں سے خریدی گئی چیز ہر شخص کو اُس دورے کی ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں کئی غیر ملکی (خصوصاً برادر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے) اس دکان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستانیوں کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عُریاں آرٹ مغربی معاشرے تک میں قبولیت عام کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہاں بھی عوام (چاہے قلیل تعداد ہی سہی) اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہیں اور وہاں عُریاں ثقافت کی ترویج کے خاتمے کی تجاویز بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ عین اسی دورِ خانہ خراب میں پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عُریاں تصاویر کی خم ٹھونک کر کی جانے والی نمائش عوام کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔
خزانہ” کی اس “جرات رندانہ” پر وہاں آنے والے شائقین کی اکثریت کو جس خفت و پشیمانی کا سامنا ہے اس کا اندازہ خبر میں چند افراد کی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔
ہر معاشرہ اخلاقی و مذہبی اقدار کے مجموعے کا حامل ہوتا ہے جس سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اب عُریاں تصاویر کی نمائش کا واحد مقصد معاشرے کے ایک خاص طبقے کو خوش کرنا لگتا ہے۔
اگر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی انتظامیہ این اے جی کو عوامی ملکیت قرار دیتی ہے تو اسے اُسی فن و ثقافت کی ترویج کرنی چاہیے جو شائقین کی جمالیاتی حس کو جِلا بخشے نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کرے۔
یہ عورت کی تذلیل و تضحیک کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس عظیم الشان گیلری کا قیام عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عمل میں آیا لیکن لیکن اب عوام کا یہاں آنا سوائے شرمندگی اور خِفْت اٹھانے کے کچھ بھی نہیں۔
دوسری جانب مصوروں کی اکثریت نے بھی گیلری انتظامیہ کی جانب سے اِن تصاویر کی نمائش کی مذمت کی ہے۔
ایک مصور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ
این اے جی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ گیلری عوامی ملکیت ہے اور صرف اُن فن پاروں کو اس میں جگہ دینی چاہیے جو عوامی دلچسپی کے حامل ہوں۔ کسی نجی گیلری میں تو کوئی مصور اپنے من پسند فن پارے پیش کر سکتا ہے لیکن این اے جی جیسے عوامی اداروں کو اپنے “من پسند فن” کی ترویج کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔
گیلری انتظامیہ “روشن خیالی” و ” اعتدال پسندی” کے دستور کے مطابق عورت کو شوپیس اور شمعِ محفل کے طور پر نمایاں کرنے کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ “خزانہ” سووینئر شاپ تین عورتوں نگین رحمان، غانیہ بدر اور عطیہ ظفر کی ملکیت ہے جنہوں نے پی این سی اے 4 سالہ ٹھیکہ کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
قوم کے عظیم سرمائے سے قائم ہونے والی اس گیلری کی انتظامیہ حکومت کی طرح مذہب کو تو کسی کھاتے میں ہی نہیں لاتی لیکن اب تو بنیادی اخلاقیات سے بھی اس کا دامن خالی ہوتا جا رہا ہے اور اس کا حقیقی اظہار اس گھٹیا قدم کی حمایت کی صورت میں سامنے آتا ہے اور یہ سب کچھ آرٹ کی ترویج کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
ذرا عذرِ گناہ بدتر از گناہ کی عملی مثال ملاحظہ کیجیے، پی این سی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (اور معروف مصور و اداکار) جمال شاہ نے اِس “قابلِ فخر” کارنامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمونہ معروف مصور نسیم حافظ قاضی کی تخلیق ہے اور اسے صرف عارضی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی انہوں نے عوام کی عدم مقبولیت کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ ایک الزام ہے کہ عوام اس آرٹ کو پسند نہیں کرتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عجائب گھر اور گیلریاں اس فن کی ترویج کرتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا؟ گیلری کو تمام اقسام کے آرٹ کو پیش کرنا چاہیے اور جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے تو اس لیے اس کو پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
روشن خیالی و اعتدال پسندی اور کیا کیا گُل کھلائے گی؟
انسانی فطرت شرپسند نہیں ہے۔ اسے دھوکا ضرور دیا جا سکتا ہے، اور ایک بڑی حد تک مسخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے اندر بھلائی کی قدر کا جو مادہ خالق نے ودیعت کردیا ہے، اسے بالکل معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ انسانوں میں ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو بدی ہی سے دلچسپی رکھتے ہوں اور اس کے علمبردار بن کر کھڑے ہوں۔ اور ایسے لوگ بھی کم ہوتے ہیں جنہیں نیکی سے عشق ہو اور اسے قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان عام انسان نیکی اور بدی کے ملے جلے رجحانات رکھتے ہیں۔ وہ نہ بدی کے گرویدہ ہوتے ہیں اور نہ نیکی ہی سے انہیں غیرمعمولی دلچسپی ہوتی ہے۔ ان کے کسی ایک طرف جھک جانے کا انحصار تمام تر اس پر ہوتا ہے کہ خیر اور شر کے علمبرداروں میں سے کون آگے بڑھ کر انہیں اپنے راستہ کی طرف کھینچتا ہے۔ اگر خیر کے علمبردار سرے سے میدا ن میں آئیں ہی نہیں اور ان کی طرف سے عوام الناس کو بھلائی کی راہ پر چلانے کی کوئی کوشش ہی نہ ہو تو لامحالہ میدان علمبردارانِ شر ہی کے ہاتھ رہے گا اور وہ عام انسانوں کو اپنی طرف کھینچ لے جائیں گے۔ لیکن اگر خیر کے علمبردار بھی میدان میں موجود ہوں۔ اور وہ اصلاح کی کوشش کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں تو عوام الناس پر علمبردارانِ شر کا اثر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ان دونوں کا مقابلہ آخرکار اخلاق کے میدان میں ہو گا، اور اس میدان میں نیک انسانوں کو بُرے انسان کبھی شکست نہیں دے سکتے۔ سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ، ایمانداری کے مقابلہ میں بے ایمانی، اور پاک بازی کے مقابلہ میں بدکرداری خواہ کتنا ہی زور لگائے، آخری جیت بہرحال سچائی، پاک بازی اور ایمان داری کی ہوگی۔ دنیا اس قدر بے حس نہیں ہے کہ اچھے اخلاق کی مٹھاس اور بُرے اخلاق کی تلخی کو چکھ لینے کے بعد آخرکار اس کا فیصلہ یہی ہو کہ مٹھاس سے تلخی زیادہ بہتر ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ، از سید ابو الاعلٰی مودودیؒ)

بالآخر وہ وقت آن ہی پہنچا جس کا سب کو انتظار تھا۔ اوبنٹو کا دوسرا ایل ٹی ایس ورژن 8.04 ہارڈی ہیرون لینکس کے متوالوں کے دلوں کو گرمانے کے لیے آ رہا ہے۔ ساتھ ساتھ اہم ترین خبر یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اوبنٹو مفت سی ڈیز فراہم کر رہا ہے۔ بس اس ربط پر جائیے اگر پہلے سے مندرج صارف ہیں تو لاگ ان ہونے کے بعد سی ڈی کا آرڈر کر دیں یا پھر پہلے اپنا اندراج کرائیں اور پھر سی ڈی کا آرڈر دیں۔
اِس مرتبہ صرف ایک سی ڈی فراہم کی جائے گی کیونکہ اوبنٹو پر “فرمائشوں” کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا تھا اس لیے “لوڈ شیڈنگ” کرتے ہوئے سی ڈیز کی تعداد 5 سے کم ہوتے ہوتے بالآخر 1 پر آ گئی ہے۔
انتخابات میں ماضی کے حکمرانوں کا “صفایا” ہونے کے بعد جو طبقات سب سے زیادہ مسرور دکھائی دیتے ہیں ان میں سرفہرست ذرائع ابلاغ ہیں۔ پاکستانی صحافت نے 2002ء سے 2008ء بالخصوص 2007ء میں اپنی تاریخ کا سیاہ ترین دور دیکھا ہے۔ اس دور میں اخبارات کو اشتہارات بند کرنے اور ٹیلی وژن چینلوں پر پابندیاں عائد کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ صحافیوں کو بزور قوت روکنے کی کوشش کی گئی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ مختلف شہروں میں پیش آنے والے متعدد واقعات میں درجنوں صحافی زخمی ہوئے بلکہ چند تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ پرورش لوح و قلم کا فریضہ انجام دینے کی پاداش میں ان کے ہاتھ قلم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات ہمیشہ کسی اہم موقع پر اٹھائے جاتے اور ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے استعمال سے کوئی اہم معاملہ پس منظر میں چلا جاتا کیونکہ ٹیلی وژن چینل صحافیوں پر تشدد کو حد سے زیادہ کوریج دینے لگ جاتے تھے۔ اس کی مثالیں جیو اور آج ٹی وی پر ہونے والے حملے تھے جن میں دونوں چینلوں کی تمام خبروں کا پورا زور حملے پر تھا نا کہ حقیقی واقعے کی جانب۔
نئی حکومت نے آتے ہی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا عندیہ دیا اور نہ صرف وعدے کیے بلکہ اب تو عملی طور پر بھی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی کہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے بعد ٹی وی چینلز کو بند نہیں کیا جا سکے گا اور براہ راست کوریج کی اجازت دیتے ہوئے آلات قبضے میں لینے کے پیمرا کے اختیارات بھی سلب کر لیے گئے ہیں۔ اب ذرائع ابلاغ کہیں زیادہ مطمئن نظر آتا ہے اور گزشتہ دور میں پابندی کا شکار بننے والے تمام پروگرامات ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئے ہیں۔ چاہے وہ آج ٹی وی کا “بولتا پاکستان” یا “لائیو ود طلعت”، یا جیو ٹی وی کا “کیپٹل ٹاک ہو” یا “میرے مطابق”، تمام پروگرامات پوری آب و تاب کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ٹیلی وژن اسکرین پر جلوہ گر ہو چکے ہیں۔ اس طرح ایک حد تک ذرائع ابلاغ کے شکوے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ چینلوں کے لیے “ضابطۂ اخلاق” نہ گزشتہ حکومت نے مرتب کیا اور نہ موجودہ حکومت اس کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔ “ضابطۂ اخلاق” میں میرا زیادہ زور “اخلاق” پر ہے جس سے بلاشبہ ہمارا ذرائع ابلاغ اب تقریبا عاری ہوچکا ہے۔ جس طرح کے پروگرامات نشر ہو رہے ہیں یہ ثقافت حقیقتاً توآپ کو شاذ و نادر ہی دکھے یا پھر وہ ایک مخصوص طبقے اور حلقوں تک محدود ہے۔ حتی کہ سندھی اور پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے چینل بھی جس طرح کے پروگرامات اور گانے نشر کرتے ہیں اس میں دکھائی گئی ثقافت کا حقیقت سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، کم از کم میں نے تو آج تک سندھ کے کسی گاؤں میں گھومنے والی لڑکی کو جینز پہنے نہیں دیکھا۔ اس پورے عمل کے پیچھے ایک بہت بڑی “حکمت” کار فرما ہے اور وہ یہ کہ ان تمام پروگرامات کا ہدف موجودہ نہیں بلکہ نوجوان نسل ہے جنہوں نے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اس کو “عملی جامہ” بھی پہنانا ہے۔
معاشرے میں تاریک خیالی کے فروغ کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ جو کردار ادا کر رہا ہے اسے میں “گھناؤنا” سے کم کوئی لفظ نہیں دینا چاہتا بلکہ شاید یہ لفظ اس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ملک کے ایک فیصد سے بھی کم مادر پدر آزاد طبقے کی درآمد شدہ نام نہاد ثقافت کو معاشرے کے تمام طبقات پر نافذ کرنے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا جا رہا ہے وہ بالکل ایسا ہے جیسے وہ اس “ثقافت” کو معاشرے پر جبراً نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ نے مغربی و ہندو بد تہذیب کا شیطانی رقص ہر گھر میں جلوہ گر کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جا رہی لیکن دوسری جانب اسے مسلم تہذیب سے اتنی دلی پرخاش ہے کہ مسلم معاشرے کی بنیادی ظاہری علامات تک سے اس طرح قطع نظر کر رہا ہے جیسے وہ بھی “دہشت گردی” کی علامات (Symbol) ہیں۔ بنیادی علامات کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اسلام کی عظیم ترین دعوت اور انقلاب آفریں پیغام کو تو مسلمان کب کے بھلا چکے، اب لے دے کے بنیادی ظاہری علامات نماز، روزہ، حج وغیرہ ہی رہ گئی ہیں۔ لیکن “ٹووپی اور پائنچے” والے اس “بے ضرر اسلام” سے بھی آزادئ اظہار کے ان نام نہاد علمبرداروں کو اتنی چڑ ہے کہ کسی ٹیلی وژن چینل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوتا ہےنہ اوقات نماز و اذان کے بارے میں کوئی معلومات ملتی ہے، حدیث مبارکہ کا کوئی سلسلہ ہے نہ اسلاف کے عظیم کارناموں کی کوئی خبر، مسلمانوں کی قرون اولی سے کوئی نسبت دکھائی جاتی ہے نہ اسلام کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔ بس لے دے کر پردہ، موسیقی، جہاد اور مستشرقین کے “ہدایت یافتہ” وہ تمام مسائل نام نہاد “مذاکروں” اور “ٹاک شوز” میں پیش کیے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے ذہنوں کو مزید منتشر کرنا ہوتا ہے۔ ان پروگرامات کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اسلام کو “جدید روشن خیالی” (حقیقی تاریک خیالی) سے مکمل ہم آہنگ (Compatible) ثابت کر دیا جائے اس کی واضح مثال “الف”، “غامدی” اور اس طرح کے دیگر پروگرامات ہیں۔
یہ حال ہے “اسلام کے قلعہ” کی “توپوں” کا کیونکہ یہ دور ابلاغی جنگ کا ہے اور اس جنگ میں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اور ابلاغی دونوں توپوں کا رخ اس کی اپنی ہی جانب ہے۔ حقیقی توپیں محب وطن عناصر کا خاتمہ کر رہی ہیں تو ابلاغی توپیں نظریاتی اساس کے درپے ہیں۔
اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک چینل ضرور “روشن مینار” کی طرح ایستادہ رہا جو عرف عام میں “ڈاکٹر ذاکر کا چینل” کہلاتا ہے یعنی Peace TV
اسلام اور اس کے حوالے سے “جدید” ذہن کے شبہات کو ختم کرنے، اسلام کو جاہلیت (جدیدیت) سے ہم آہنگ ثابت کرنے کے بجائے اسے مکمل سچائی کے ساتھ بیان کرنے، حق کو حق کہنے کی جرات رکھنے اور مغربی تہذیب کا پردہ چاک کرنے کا بیڑہ اٹھانے والا یہ چینل گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں بند ہے اور ہمارے ہاں ایک صحافی کا سر پھٹنے پر شہ سرخیاں لگانے والے اخبارات اور بریکنگ نیوز پیش کرنے والے نیوز چینلز کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے روزنامے جنگ نے صرف ایک کالمی خبر شائع کی جبکہ ایکسپریس نے خبر سرے سے شائع نہ کر کے “اپنوں” سے وفاداری” کا بھرپور ثبوت دیا۔ سیاست دانوں کے ڈنر مینیو میں شامل اشیاء تک کی خبر دینے والے نیوز چینلوں نے اس خبر کو مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا حالانکہ یہ قدم بھی پیمرا نے ہی اٹھایا تھا اور اتنا ہی قابل مذمت تھا جتنا پیمرا کے اس سے پہلے اٹھائے گئے دیگر اقدامات تھے۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ پیس ٹی وی کا تعلق پاکستان سے نہیں، اس لیے پیشہ وارانہ مسابقت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے چینل کس طرح کی خبریں پیش کرنے کے حوالے سے پیش پیش رہتے ہیں اور کون سی خبروں سے جان بوجھ کر تجاہل برتتے ہیں۔
اب جبکہ پیمرا کے “کالے قوانین” کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے اور ذرائع ابلاغ کے تمام مطالبات منظور ہونے جا رہے ہیں، ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پیس ٹی وی جیسے معلومات افزاء چینلوں پر سے پابندی اٹھائی جائے بلکہ اسے ان چینلوں کی فہرست میں شامل کیا جائے جسے دکھانا تمام کیبل آپریٹرز کے لیے ضروری ہو۔
علاوہ ازیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں، جہاں خواندہ باشندے کی تعداد صرف 30 فیصد ہے، ذرائع ابلاغ ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور تہذیب اغیار کے بجائے اپنی ثقافت و تہذیب کو اجاگر کرے اور اس ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی قوتیں صرف کرے۔
موجودہ عالمگیر مادہ پرستانہ تہذیب کے ظاہر فریب پردوں کے پیچھے جھانک کر انسانیت کا جائزہ لیجیے، تو وہ حال زار سامنے آتا ہے کہ روح کانپ جاتی ہے۔ پوری اولادِ آدم کو چند خواہشات نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہے اور ہر طرف دولت و اقتدار کے لیے ہاتھا پائی ہو رہی ہے۔ آدمیت کے اخلاقی شعور کی مشعل گل ہے۔ جرائم تمدنی ترقی کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں کا زور ہے اور ذہنی سکون یکسر غائب ہوچکا ہے۔ انسانی ذہن و کردار میں ایسا بنیادی فساد آگیا ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ اس کی منحوس پرچھائیں سے محفوظ نہیں رہا۔ فلسفہ و حکمت سے سچائی کی روح کھو گئی ہے۔ اعتقادات و نظریات میں توازن نہیں رہا۔ روحانی قدریں چوپٹ ہو چکی ہیں۔ قانون روحِ عدل سے خالی ہو رہا ہے۔ سیاست میں جذبۂ خدمت کی جگہ اغراض پرستی گھس گئی ہے۔ معیشت کے میدان میں ظالم اور مظلوم طبقے پیدا ہوگئے ہیں، فنون لطیفہ میں جمال کی ساری رنگ آمیزیاں جنسی جذبوں اور سفلی خواہشوں سے کی جانے لگی ہیں۔ تمدن کے سارے عوامل میں چپہ چپہ پر تضادات ابھر آئے ہیں جن کے درمیان تصادم برپا ہے اور پوری تاریخ ایک خوفناک ڈرامے میں بدل گئی ہے۔ عقل ترقی کر گئی ہے مگر اس کی حماقتیں ہمارے درپۓ آزار ہیں۔ علم کے سوتے ابل رہے ہیں، مگر اسی کی پروردہ جہالتوں کے ہاتھوں آدم زار کا ناک میں دم ہے۔ دولت کے خزانے ہر چہار طرف بکھرے پڑے ہیں مگر خاکی مخلوق بھوک، ننگ اور محرومی کے عذاب میں گھری ہے۔ ہزار گونہ تنظیمیں اور سیاسی ہئیتیں، نظریاتی وحدیں اور معاہداتی رابطے نمودار ہیں مگر انسان اور انسان کے درمیان بھائی بھائی کا سا تعلق نہیں چیتے اور بھیڑیے کا سا معاملہ ہے۔ عقلی، سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی شعور کی ترقی کے چرچے ہیں، مگر ظلم اور تشدد کے انتہائی ناپاک حربے آج بھی انسانیت کے خلاف کام میں لائے جا رہے ہیں۔ تاریخ ایک وسیع اکھاڑا ہے جس میں کہیں امپیریلزم اور حریت پسندی کے درمیان، کہیں کمیونزم اور سرمایہ داری کے درمیان، کہیں جمہوریت اور آمریت کے درمیان اور کہیں فرد اور اجتماعیت کے درمیان اور کہیں مغربیت اور ایشیائیت کے درمیان ایک خونخوار آویزش جاری ہے۔
ایسی ہے یہ دنیا جس میں ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں!
مصنوعی سیاروں اور میزائلوں کے اس دور میں سائنس الہ دین والے روایتی چراغ کے جن کی طرح مادی قوتوں کے نئے نئے خزانے انسان کے ایک ایک اشارے پر بہم پہنچا رہی ہے۔ قدرت کے سربستہ رازوں کے ازلی قفل حکمت کی کنجی سے کھل رہے ہیں، ہیبت ناک رفتار انسان کو زمان و مکان پر وسیع تصرف دلا رہی ہیں، جوہری توانائی نے تباہ دیووں کے لشکر انسان کے سامنے مسخّر کر کے کھڑے کر دیے ہیں جو بس ایک اشارۂ ابرو کے منتظر ہیں۔ دوسری طرف خود انسان کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ شیطانی اور تخریبی قوتوں کے پنجے میں پہلے سے زیادہ بے بس دکھائی دیتا ہے جو بار بار اسے اپنے ہی خلاف محشر آرا کرتی رہی ہیں اور جنہوں نے ہر دور میں اس کے عظیم تعمیری کارناموں اور اس کے شاندار تمدنوں کو خود اسی کے ہاتھوں ملیامیٹ کرایا ہے۔
ذرا کسی ایسے کارواں کا تصور کیجیے جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر ڈیرہ ڈالے اور زربفت کے خیمے نصب کر کے کھانے پینے، رقص و موسیقی اور شعر و شراب میں مگن ہو، اس کے پاس کاروباری اموال کے انبار ہوں، اس کے ساتھ روپے سے بھری ہوئی تھیلیاں ہوں، جانوروں اور سواریوں کی کثرت ہو، اس کے اسلحے چمکدار اور اس کا پہرہ مضبوط ہو ۔۔۔۔۔ لیکن عیس اس کے قالینوں اور بستروں اور مسندوں کے نیچے کی زمین میں چند فٹ کی گہرائی پر خوفناک لاوا کھول رہا ہو اور تھوڑا ہی وقفہ اس میں باقی ہو کہ پہاڑ پھٹ پڑے اور آگ کا طوفان امڈنے لگے۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے قافلہ تمدن کا ہے جو موجودہ لمحہ تاریخ کی پہاڑی پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ اس پہاڑی کے سینے میں ہولناک ترین بحران کا لاوا کھول رہا ہے
ہمارے سامنے مشیت عالمی بحران کا چیلنج لیے کھڑی ہے، وقت کے راستہ پر پیچھے بھاگنے کا امکان نہیں۔ چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت موجودہ مادی تہذیب اور اس کے بنائے ہوئے انسان میں نہیں ہے۔ کوئی نیا فلسفہ نہیں ابھر رہا ہے جو کم سے کم ایک چھلاوے کی طرح وقتی طور پر ہی سرمایۂ اطمینان بن سکے ۔۔۔۔۔ کسی طرف کوئی راہ نجات کھلتی نظر نہیں آتی۔
اضطراب کے اس لمحے میں جب چاروں طرف نگاہیں گھماتا ہوں تو تاریکی کا ایک سمندر شش جہت سے محاصرہ کیے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس سمندر میں دور ۔۔۔چودہ صدی کی دوری پر۔۔۔ ایک نقطہ نور دکھائی دیتا ہے
یہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی مشعل ہے! وہی مشعل جس کی روشنی کو خود ہم نے ۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں نے ۔۔۔ اپنے افکار پریشاں اور اپنے اعمال پراگندہ کے غبار میں گم کر رکھا ہے !!
(محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم از نعیم صدیقی)
ہم پر لازم ہے کہ ابتدا سے ہم اس خالص سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کریں جس سے اسلام کے پہلے لاثانی معاشرے کے افراد نے فہمِ دین حاصل کیا تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالٰی نے یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ہر گونہ اختلاط و آمیزش سے محفوظ رہے گا۔ ہمیں کائنات اور حیاتِ انسانی کی حقیقت، اور ان دونوں کے باہمی تعلق، اور پھر ان تمام چیزوں کے اور وجود کلی (باری تعالٰی کے وجود) کے باہمی تعلق کا صحیح تصور اس سرچشمہ سے حاصل کرنا ہوگا۔ اور اسی ضمن میں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ زندگی کا صحیح تصور کیا ہے؟ ہماری قدریں اور اخلاق کس نوعیت کے ہوں؟ ہمارا نظامِ حکمرانی کس ڈھب کا ہو؟ ہماری سیاست اور اقتصاد کن اصولوں پر قائم ہو؟ غرضیکہ زندگی کے ہر ہر پہلو کے بارے میں اس کتاب ہدایت سے ہمیں رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ جب ہم ان مسائل کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسلام کے چشمہ صافی (قرآن کریم) کی طرف رجوع کریں تو “علم برائے عمل” کے احساس و جذبہ کے ساتھ اُسے پڑھیں نہ کہ لُطف اندوزی، تسکین ذوق اور بحث و تحقیق کے شوق کی بنا پر۔ ہم یہ معلوم کرنے کے لیے اُس کی طرف رجوع کریں کہ وہ ہم سے کیسا انسان بننے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ویسا انسان ہم بن کر دکھائیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ مقصدِ حقیقی کے حصول کے دوران ہم پر قرآن کا فنی کمال اور ادبی حُسن بھی آشکار ہو جائے گا، اس کے حیرت انگیز قصے ہمارا دامنِ دل پکڑیں گے، مناظر قیامت بھی آنکھوں کے سامنے جھلکیں گے اور اُس کی وجدانی منطق کی بھی ہم گلگشت کریں گے۔ الغرض وہ سب لذتیں ضمناً ہمیں حاصل ہوگی جن کی تلاش جویانِ علم کو ہوتی ہے اور جن کی طلب میں اربابِ ذوق سرگرداں رہتے ہیں۔ بے شک ان سب فوائد و لذائذ سے ہم ہمکنار ہوں گے لیکن یہ چیزیں ہمارے مطالعہ کا اصل مقصد نہ ہو گی۔ ہمارا اصل مقصد صرف یہ معلوم کرنا ہوگا کہ قرآن ہم سے کس طرح کی عملی زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ زندگی اور کائنات کے بارے میں وہ اجمالی تصور کیا ہے جس پر ہمیں قرآن قائم کرنا چاہتا ہے؟ وہ ہمیں اللہ تعالٰی کے بارے میں کس نوعیت کا شعور اور احساس رکھنے کی تلقین کرتا ہے؟ اُسے کس قِسم کے اخلاق پسند ہیں؟ اور وہ زندگی میں کس ڈھنگ کا قانونی اور دستوری نظام نافذ کرنے کا خواہاں ہے؟ (“معالم فی الطریق” از سید قطب شہید (اردو ترجمہ “جادہ و منزل” از خلیل احمد حامدی
انٹرنیٹ گردی کے دوران ایک “تھنک ٹینک” Free World Academyکی ویب سائٹ تک رسائی حاصل ہوئی، ان کی رپورٹیں ملاحظہ کر کے اندازہ ہوا کہ مغربی دانشور طبقے میں کس طرح کی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ انتہا پسند صرف مسلم دنیا میں نہیں بلکہ مغربی دنیا میں بھی ہیں، اور وہ بھی اِس سطح کے جس کا بھرپور اندازہ مندرجہ ذیل ربط سے رپورٹ پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ رپورٹ 2005ء کے بارے میں ہے لیکن اس کے مطالعے کے بعد مغربی دانشور طبقے کی مسلمانوں اور مسلم دنیا کے بارے میں گھٹیا سوچ کا مکمل ادراک کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل ربط سے ملاحظہ کیجیے کہ مغرب کا ایک خاص طبقہ مسلم دنیا کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور اس پر کیسی نگاہ رکھتا ہے
مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا مستقبل- فری ورلڈ اکیڈمی کی رپورٹ