تحاریر برائے ماہِ جون ، ۲۰۰۸


شہر زندہ دلان کا

تاریخی اہمیت کا حامل اور کئی قوموں کے عروج و زوال کا شاہد “لاہور” اپنے اندر ماضی کی کئی یادیں سموئے ہوئے اور اس کا چپہ چپہ عظمتِ اسلاف کا گواہ ہے۔ علاوہ ازیں ان عظیم نابغۂ روزگار ہستیوں کی آخری آرام گاہیں بھی یہاں موجود ہیں جو آج بھی اندھیری راہوں پر بھٹکنے والی انسانیت کے لیے چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ہم نے بھی جدید و قدیم کے حسین امتزاج کے حامل اس شہر کا سفر کرنے کی ٹھانی اور چند روز کے لیے کراچی کی مصروفیتوں اور تیز رفتار زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر کے طویل تھکا دینے والے سفر اور راستے میں بھانت بھانت کی نگریاں دیکھنے کے بعد بالآخر داتا کی نگری پہنچے۔

آرام کے بعد اگلے روز گھومنے کے لیے پہلی نظرِ انتخاب اس عظیم عبادت گاہ پر پڑی جو برصغیر میں سطوتِ مسلم کا نشانِ پائیدار ہے جسے بادشاہی یا عالمگیری مسجد کہا جاتا ہے۔ جس کے مینار صدیوں سے اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی فرزندانِ توحید اس میں ربِ ذوالجلال کے حضور سربسجود دکھائی دیتے ہیں۔ منصوبے کے تحت چند گھنٹے مسجد میں گزارنے کے بعد نماز ظہر ادا کرنی تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی لاہوریوں کی “زندہ دلی” کا سارا تاثر ختم ہو گیا بلکہ “زندہ دلی” کی جدید تعبیر کے مطابق، قائم ہوگیا۔ مسجد کے صحن میں جا بجا شوخ رنگوں کے کپڑوں میں ملبوس خواتین گھومتی پھرتی نظر آئیں، ہمیں خواتین کے مسجد آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح وہ حجاب و پردے سے بے نیاز گھوم رہی تھیں وہ کسی عام عبادت گاہ کے بھی شایان شان نہ تھا یہ تو پھر عالمگیری مسجد تھی۔ مسجد کے صحن میں موجود حوض تک پہنچے تو اگلا “منظر” وہاں موجود تھا، جینز اور شرٹ میں ملبوس اور دوپٹے سے بے نیاز ایک خاتون اپنے اہل خانہ کی تصاویر کو کیمرے کی آنکھوں قید کر رہی تھیں۔ اب اِدھر اُدھر جو نظر دوڑائی تو مسجد میں کئی جوڑے راز و نیاز میں مصروف دکھائی دیے۔ آنکھیں اس سے زيادہ مسجد کی بے حرمتی کی تاب نہ لا سکتی تھیں فوراً واپسی کا قصد کیا اور حضوری باغ کے سامنے حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دیتے اور اہلیان لاہور کا نوحہ پڑھتے ہوئے قلعۂ لاہور میں داخل ہوگئے۔ قدیم نوادرات و عمارات و تعمیرات سے اس مقامِ عبرت انگیز کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ جہاں کسی زمانے میں پرندے کو پَر مارنے کی اجازت نہ تھی، وہ راہداریاں جہاں صرف خاص الخاص اور خانوادۂ شاہی کے افراد کو قدم رکھنے دیا جاتا تھا آج وہاں “کلّو قصائی” اور “اللہ رکھے” کو بھی محض 5 روپے میں جانے کی اجازت تھی۔ وہ دروازے جہاں سے ظل الٰہی کے علاوہ کوئی گزر نہ سکتا تھا، اگر کوئی ایسی جسارت کرتا تو جسم سر کے بوجھ سے آزاد کر دیا جاتا، وہاں سے یہ ناچیز کئی مرتبہ گزر گیا۔ آہ دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہُوں۔
بہرحال عالمگیری مسجد اور مینار پاکستان کے درمیان تین صدیوں کی مسافت (بقول مختار مسعود) طے کر کے اس جدید یادگار کے پاس پہنچے جو اس وقت تزئین و آرائش کے مراحل سے گزر رہی تھی اور اوپر جانے کی اجازت نہ تھی۔ مینار کے ساتھ ہی ایک باغیچے کا چند روز قبل ہی افتتاح ہوا تھا لیکن وہاں لوگوں نے وہ “گندِ عظیم” مچا رکھا تھا کہ نیچے بچھا سبزہ بجائے سبز کے کینو کے چھلکوں کی بہتات کے باعث نارنجی نظر آ رہا تھا۔ 10 منٹ کی کوششوں کے بعد مجھے اپنے کھائے گئے کینوؤں کے چھلکے پھینکنے کے لیے ایک ٹوکری دکھائی دی۔ باہر نکلے تو چند لحظوں کے لیے “بدبوؤں کے باسی” بن گئے اور اس بو کے بارے میں تو یہاں لکھا بھی نہیں جا سکتا کہ کس چیز کی تھی۔
لاہوریوں کی زندہ دلی اور اس شہر کی خوبصورتی کے جو چرچے اور قصے یہاں سے سن کر وہاں گئے تھے ان کا اثر صرف چند لحظوں میں چکنا چور ہو گیا۔ یا شاید زندہ دلی کی تشریح ہمارے سمجھ میں نہ آ سکی تھی؟

Google Buzz

“ٹیگ ٹیگ” کے اکھاڑے میں

آج ہمیں ایک ایسے کھیل میں پھنسا دیا گیا ہے جس سے سابقہ ہی پہلی بار پڑا ہے اور وہ ہے، بقول شخصے بلاگرز کا پسندیدہ کھیل، “ٹیگ ٹیگ کھیلنا” اور اسے کھیلنے کے لیے ہمیں اکھاڑے میں دھکا دینے کا شرف حاصل ہوا ہے محترم عارف انجم کو۔ بہرحال اب دھکا دیا جا چکا ہے تو کھیلنا پڑے گا۔
تو جناب سب سے پہلے اس کھیل کے قوانین
(ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے
(ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے
(ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔
سوالات اور جوابات
(1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
سردی گرمی خزاں بہار، چاہے کچھ ہو دفتر آنے کے لیے جرابیں پہننی پڑتی ہیں اور اس وقت سیاہ رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں
(2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
ابھی دفتر پہنچا ہوں اور دفتر میں کام کرنے والی خواتین کی محفل سے بھن بھن کی آوازیں آ رہی ہیں (نجانے کس کی غیبت ہو رہی ہے؟)
(3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
ہاں وہی ناشتہ! پراٹھہ، انڈہ اور چائے
(4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
ہممممم آج اندازہ ہو رہا ہے کہ کوئی فلم دیکھے بہت عرصہ ہو گیا ہے، شاید آخری مرتبہ بچوں والی کوئی فلم دیکھی تھی ڈاکٹر ڈولٹل
(5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے
مرد کا ایک مرتبہ گھر کے اندر اور عورت کا گھر سے باہر دل لگ جائے تو انہیں پلٹانا سب سے مشکل ہے
(6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
کمپیوٹر پر نصب کردہ نیا گیم کھیل رہا تھا
(7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
یہ سب سے مشکل سوال ہے، اتنی شخصیات سے ملنے کی خواہش ہے کہ ہر شخصیت پہ دم نکلے۔ بہرحال حکیم الامت علامہ اقبال سے ملنے کی بہت تمنا ہے۔
(8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
پرسکون اسی وقت ہوتا ہوں جب غصہ اتر جاتا ہے، ویسے میں بذات خود کوشش نہیں کرتا بلکہ دیگر افراد میرے غصے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں
(9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
ل رات کو ایک دوست سے
(10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
بلاشبہ سب سے زیادہ مزا عید الاضحٰی پر آتا ہے۔
کھیل کے قوانین کے مطابق 5 دیگر بلاگرز کو زبردستی اس کھیل میں گھسیٹنا ہے تو میں دھکا دیتا ہوں ان بلاگرز کو:
راہبر، اظہر الحق، راشد کامران، نعمان اور اجمل صاحب

Google Buzz

جادہ و منزل

“معالم فی الطریق” سید موصوف کی آخری تصنیف ہے۔ جس میں ان کی نئی تحریروں کے ساتھ کچھ پرانی تحریریں بھی ترمیم و اضافہ کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو ہم “جادہ و منزل” کے نام سے اردو دان احباب کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہی وہ کتاب ہے جس نے سید قطب کو تختۂ دار تک پہنچایا ہے۔ جہاں تک سید قطب کی انقلابی شخصیت اور تحریکی جوش و ولولہ کا تعلق ہے۔ بے شک اس میں وہ اپنے دور کے چند گنے چنے لوگوں میں سے ہیں۔ جب مصر میں فوجی انقلاب برپا ہوا تھا اس میں سید قطب نے جو کردار ادا کیا تھا اس کی بنا پر بعض مصری مصنفین نے ان کو “انقلابِ مصر کا میرابو” کا لقب دیا ہے۔ “میرابو” سے ان کا اشارہ اس فرانسیسی رائٹر کی طرف ہے جو فرانس کے اندر جاگیرداری اور استبداد کے خلاف انقلاب برپا کرنے کے لیے عوام کو اکساتا رہا ہے۔ سید قطب کی کتاب “معرکۃ الاسلام و الراسمالیۃ” میں یہ انقلابی روح صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اور یہ اس دور میں لکھی گئی ہے جب وہ تمام بڑے بڑے جغادری جو اس وقت “اشتراکیت” اور “مساوات” اور اسی نوعیت کے دوسرے نعروں سے ہنگامہ نشور برپا کیے ہوئے ہیں منقار زیرِ پر تھے۔ “معالم فی الطریق” میں انہوں نے اسلامی نظریہ اور اسلامی تنظیم کے بنیادی خدوخال بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی پوری اسکیم جس بنیادی نقطہ پر مرکوز ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے صدر اول میں اسلامی معاشرہ ایک مستقل اور جداگانہ معاشرے کی صورت میں ترقی و نمو کے فطری مراحل طے کرتا ہوا بام عروج کو پہنچا تھا اسی طرح آج بھی ویسا صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے اُسی طریقِ کار کو اختیار کیا جانا لازم ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو ارد گرد کے جاہلی معاشروں سے الگ رہ کر اپنا تشخص قائم کرنا ہوگا۔
یہ اسی کتاب “معالم فی الطریق” کے اردو ترجمہ “جادہ و منزل” کے میں کتاب کے وہ تعارفی الفاظ ہیں جو کتاب اور مصنف کے تعارف کے ضمن میں ادا کیےگئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اس کتاب کو برقیانے کا کام ضرور کروں گا۔ ماہ اپریل کے اوائل میں اردو محفل پر اس سلسلے میں گفتگو کا آغاز کیا اور دو انتہائی شفیق دوستوں نے اس ضمن میں مدد کی یقین دہانی کرائی اور بعد ازاں عملی طور پر اس میں حصہ لیا اور صرف 25 دنوں کے عرصے میں 436 صفحات کی اس کتاب کی کمپوزنگ کا مرحلہ طے پا گیا۔
اب اس کے تکنیکی و پروف ریڈنگ کے اہم مراحل باقی تھے۔ اس پوری کتاب کو ایک فائل میں بند کرنا گویا “دریا کو کوزے میں سمانا” تھا اس لیے اس کی تیاری کے دوران پوری کوشش رہی کہ اس فائل کا حجم کم سے کم رہے اور اسی لیے صرف ایک فونٹ “نفیس ویب نسخ” کااستعمال کیا گیا ہے اور قرآنی آیات کے لیے خوبصورت سے خوبصورت فونٹس کی موجودگی کے باوجود کسی دوسرے فونٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفیس ویب نسخ کو بھی اس فائل کے اندر کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صارفین جن کے کمپیوٹر پر یہ فونٹ نصب نہیں، بھی اس کتاب سے استفادہ حاصل کر سکیں
مجھے امید ہے کہ تمام دوستوں کو یہ کاوش پسند آئے گی لیکن بحیثیت انسان غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے اس لیے اس برقی کتاب میں ہجے اور املاء کے علاوہ خاص طور پر کچھ تکنیکی غلطیاں ضرور ہوں گی اور وہ تمام افراد جن پر یہ غلطیاں ظاہر ہوں اس کے بارے میں مجھے مطلع کریں تو میں بہت مشکور ہوں گا اور اس غلطی کو فوری طور پر درست کردوں گا۔
آخر میں تمام اراکین سے التماس ہے کہ اس کتاب کے مصنف سید قطب شہید اور مترجم خلیل احمد حامدی صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں اور دعاؤں میں اس ناچیز اور کتاب کو برقیانے میں مدد دینے والے دیگر ساتھیوں کو بھی یاد رکھیں
جادہ و منزل” کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:
جادہ و منزل (مکمل برقی نسخہ)

Google Buzz

اوپن سولارس

کمپیوٹر، اس کے پرزہ جات، سافٹ ویئر کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معروف بین الاقوامی ادارے اور اوپن آفس سمیت دیگر معروف اوپن سورس سافٹ ویئرز کے خالق “سن مائیکرو سسٹمز” کے نئے اوپن سورس پروجیکٹ “اوپن سولارس” کا پہلا کارنامہ منظر عام پر آگیا۔
سن نے گنوم ڈیسک ٹاپ انوائرمنٹ کی حامل نئی لینکس ڈسٹرو “اوپن سولارس” (OpenSolaris) پیش کر دی ہے۔ اسے براہ راست (Live CD) بھی کمپیوٹر پر چلایا جا سکتا ہے
آپ یہ جدید لینکس ڈسٹرو اوپن سولارس کی ویب سائٹ پر یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور سب سے خاص بات کہ یہ محض چند لینکس ڈسٹروز میں سے ایک ہے جو مفت سی ڈی بھی فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے لیے اس صفحے پر جائیے اور Get Free Mediaکے ربط پر کلک کر کے فارم پُر کر لیجیے اور سی ڈی آپ کے گھر پر پہنچ جائے گی
اوپن سولارس اسکرین شاٹ
یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر صارفین صرف سی ڈی منگوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے بعد لینکس کے استعمال یا اسے مزید پھیلانے کا کام نہیں کرتے۔ اس لیے اگر یہ ارادہ ہے تو پھر اوپن سورس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ سی ڈی ملنے کے بعد اس کی کاپیاں بنائیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کریں، اس سے اوپن سورس کو ترویج ملے گی۔

Google Buzz

اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں

میرؔ کہہ گئے ہیں:
اچھا نہیں ہے میرؔ کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
جیسے جیسے مئی کے ایام گزرتے گئے اور کراچی کی گرمی کی قیامت خیزی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے طبیعت مضحمل ہوتی چلی گئی اور بالآخر مئی کے آخری عشرے کے ساتھ ہی نزلے اور بخار نے جکڑ لیا اور یوں ہم بلاگ پر کچھ تحریر کرنے سے کم و بیش دو ہفتوں کے لیے محروم ہو گئے۔ ان دو ہفتوں کے دوران بخار ایک مرتبہ اتر کر دوبارہ چڑھا اور طبیعت اس قدر “پتلی” ہوتی چلی گئی کہ لکھنے لکھانے کے کسی کام کی جانب دل مائل نہیں ہوپایا۔ طبیعت میں گرانی تو اب بھی ہے تاہم حالت پہلے سے بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے التماس ہے کہ دعا کریں اور میری کوشش ہے کہ چند روز میں ہی بلاگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کرسکوں۔

Google Buzz