تحاریر برائے ماہِ اگست ، ۲۰۰۸


رمضان مبارک

الحدیث

لوگو تم پر عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے ، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس کے روزے اللہ تعالی نے فرض قرار دیے ہیں اور اس کی رات کا قیام نفل ہے ، جس نے بھی اس مہینے میں نیکی کی وہ ایسے ہے جس طرح عام دونوں میں فریضہ ادا کیا جاۓ ، اور جس نے رمضان میں فرض ادا کیا گویا کہ اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے ، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت اور درمیان مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے

Google Buzz

ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1

جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔
یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔
دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں بھی حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی تھیں۔ قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائنس دان آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ حریت انسانی اور مساوات کے اسلامی تصور کے اثرات نے جنوبی اٹلی اور صقلیہ میں انسان دوستی (Humanism) کی جدید تحریکیں پیدا کی تھیں1۔
ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے استبداد کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لیے اس تحریک نے پورے عہدِ وسطٰی کو تاریک دور قرار دیا۔ مذہبی عصبیتوں، روایت پسندی اور تنگ نظری کے خاتمے کو اپنا اصل ہدف بنایا۔ شدید ردعمل نے اس تحریک کو دوسری انتہا پر پہنچا دیا اور روایت پرستی اور عصبیت کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے یہ تحریک مذہب اور مذہبی معتقدات ہی کے خلاف ہو گئی۔
جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن2، رینے ڈیکارٹ3، تھامس ہوبس4 وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت (knowable) ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں جو عقل، تجربے اور مشاہدے کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔ ان فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیاتی مزعومات (metaphysical contentions) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے

I think therefore I am
(میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں)

کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل (Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
پاسکل، مانٹسکیو، ڈیڈاراٹ، وسلی، ہیوم، والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی (Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ جدیدیت کی تعریف ہی یوں کی گئی: جدیدیت وہ روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو کسی بھی ہستی کی بالادستی اور روایت کو مسترد کرتی ہے اور صرف عقل اور سائنسی علوم کو ہی تسلیم کرتی ہے۔ یہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ سچائی اور معنی کا واحد منبع خود مختار فرد کی عقل ہے ۔۔۔۔۔۔ کارتیسی اصول: فکر کردم پس ہستم5
اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر6 جیسے الحاد کے علم برداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا، جب کہ ہیگل جیسے متشکک مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔
سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ آزادئ فکر، آزادئ اظہار اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کیے۔ تھامس ہابس کے حتمی اقتدار اعلٰی (Absolute sovereignty) کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاک نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کو اقتدار اعلٰی کا سرچشمہ قرار دیا۔ والٹیر نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ مانٹسکیو7 اور روسو8 نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کیے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔
جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ انہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خود مختار، جمہوری قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔
معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول تو سرمایہ دارانہ معیشت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا جس کی بنیاد ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی9۔ نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا استحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا، جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا، جس میں محنت کش کو بالادستی حاصل ہو10۔
اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادتیت (Utilitarianism) کا تصور عام کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اخلاقی قدروں کا تعلق افادیت سے ہے۔ جو رویے سماج کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ جائز اور جو سماج کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔ اور یہ کہ افادیت اخلاق کی واحد کسوٹی ہے۔ افادیت کے تصور نے قدیم جنسی اخلاقیات اور خاندان کے روایتی ادارے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں اباحیت (permissiveness) کا آغاز ہوا۔
جدیدیت ہی کے بطن سے نئے صنعتی معاشرے میں نسائیت (Feminism) کی تحریک پیدا ہوئی جو مرد و زون کی مساوات کی علم بردار تھی اور عورتوں کو ہر حیثیت سے مردوں کے مساوی مقام دلانا اس کا نصب العین تھا۔
انقلاب فرانس، برطانیہ میں جمہوریت کی تحریک، امریکہ کی آزادی کی تحریک اور اکثر یورپی ممالک کی تحریکیں جدیدیت کے ان افکار ہی سے متاثر تھیں۔ 20 ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پرجوش مبلغ اور داعی بن گئے۔ جدیدیت کو روشن خیالی (Enlightenment) اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام بھی دیے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔
چنانچہ 20 ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔ آزادی، جمہوریت، مساواتِ مرد و زون، سائنسی طرز فکر، سیکولرزم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا، لیکن سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے، جن کی دنیا بھر میں اشاعت اور نفاذ کے لیے ترسیل و اشاعت کے علاوہ ترغیب و تنفیذ کے تمام جائز و ناجائز طریقے اختیار کیے گئے۔ تیسری دنیا میں ایسے پٹھو حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔ اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ ترکی، تیونس اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لیے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔

حوالہ جات:
1۔ Nasr Seyyed Hossein (1993) A young muslim’s guide to the modern world; Cambridge university press p.156
2- بیکن کے افکار کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Bacon Francis (1863) Novum Organum Tr, James Spedding, Robert Leslie Ellis, and Douglas Denon Heath, Boston: laggard and Thomson [As availablein online library http://www.constitution.org/bacon/textnote.htm]
3۔ ڈیکارٹ کے خیالات کے لیے دیکھیے:
Descartes Rene (1983) Principles of Philosophy Trans. V. R. Miller and R.P. Miller. Doddrecht: D. Reidel
4۔ تھامس ہوبس کے افکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Hobbes Thomas (2007) Leviathan online available at ebooks@adelaide, http://etext.library.adelaide.edu.au/h/hobbes/thomas/h681/
Updated on March 12 2007
5. Electronic Library

http://elab.eserver.org/hfl0242.html

6۔ والٹیر کےخیالات کے لیے ملاحظہ فرمائیے:
Voltaire Francois (1961) Philosophical letters translated by Emest N. Dilworth, New York: Macmillan
7۔ مانٹیسکیو کے نظریات کے لیے ملاحظہ کیجیے:
Montesquieu Baron de (1914), Secondat, Charles de, The Spirit of Laws Tr, by Thomas Nugent, London: G. Bell & Sons [As available at http://www.constitution.org/cm/sol/htm [
8. روسو کے تصورات کے لیے دیکھیے:
Rosseau Jean-Jacques (2004) Emile Tr. By Barbara Foxley online available at http://gutenberg.org/etext/5427
9۔ ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Smith Adam (2007) An inquiry into the nature and causes of the wealth of nations online available at http://metalibriincubadora.fapesp.br/portal/authors/aninquiryintothenatureandcausesofthewealthofnations#books
10۔ مارکسی فکر کے لیے کمیونسٹ مینی فیسٹو سب سے مستند سرچشمہ مانا جاتا ہے
Marx Karl and Engels Frederick (2006) The Communist Manifesto available at http://www.anu.edu.au/polsci/marx/classics/manifesto.html

Google Buzz

جشن آزادی مبارک

وطنِ عزیز پاکستان کے 62 ویں یوم آزادی کے موقع پر میرے پاس ادائیگی کے لیے الفاظ نہیں بلکہ صرف یہ دو تصاویر ہیں۔ جنہیں میں بدقسمت پاکستانی قوم کی جانب سے پیش کر رہا ہوں کہ آج کے دن بھی ہم انہیں بھولے نہیں:

Google Buzz

کولا وار خاتمے کی جانب گامزن

سافٹ ڈرنکس بنانے والے بڑے اداروں نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی اپنی چند نئی مصنوعات بھی پیش کی ہیں جن میں معدنی پانی (mineral water) اور پھلوں کے رس (juices) کے علاوہ snacksتک شامل ہیں۔ اس حیران کُن تبدیلی نے ذہنی طور پر اس بارے میں کچھ تحقیق پر آمادہ کیا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟
اب آپ یہ “نام نہاد تحقیق” ملاحظہ کیجیے جو انٹرنیٹ پر متعلقہ موضوعات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں تبصرہ نگار بھی اپنی معلومات شیئر کرنا چاہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔
کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس گزشتہ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کے دلوں پر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کے ذریعے راج کرتی آ رہی ہیں اور آج بھی “نیا جال لائے پرانے شکاری” کے مصداق یہی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے
کیا سنہرے دن اب صرف یادوں کی صورت میں ہی رہ گئے ہیں؟ کیونکہ کم از کم مغربی ممالک کی حد تک تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں کو “کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس” میں اپنا مستقبل نہیں دکھائی دیتا۔ کیونکہ صحت عامہ کے ماہرین گزشتہ دو دہائیوں سے سافٹ ڈرنکس کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور اب لگتا ہے کہ جلد ہی سگریٹ کی ڈبیہ کی طرح سافٹ ڈرنک کی بوتلوں پر بھی “صحت کے لیے مضر ہے” جیسے الفاظ درج ہوں گے :)
سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ Beverage Digestکے مطابق امریکہ میں  کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔ حالانکہ جریدے کے مطابق اس کاروبار کے حجم میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ امریکہ میں 72 ارب ڈالرز کی صنعت بن چکا ہے لیکن اس کی وجہ بھی روایتی مشروبات کی قیمتوں اور انرجی ڈرنکس کی فروخت میں اضافہ بیان کی جاتی ہے، اور کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کا اس اضافے میں کوئی کردار نہیں۔ ان تازہ اعداد و شمار کے باوجود امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں سافٹ ڈرنکس کا 55 فیصد امریکہ میں استعمال ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی سال میں 576 سافٹ ڈرنکس پیتا ہے یعنی روزانہ ڈیڑھ سے زائد۔

اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سافٹ ڈرنکس صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس کے “عادی” افراد زیادہ صحت مند مشروبات جیسے پانی، دودھ اور جوسز وغیرہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور طبی تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں جن میں مٹاپے اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض بھی شامل ہیں۔
ماہرینِ طب کے مطابق سافٹ ڈرنک نہ پینے والے بچوں کے مقابلے میں اسے استعمال کرنے والے بچوں میں مٹاپے کی شرح کہیں زیادہ ہے جس کا بنیادی سبب سافٹ ڈرنک پینے کے باعث زیادہ بھوک لگنا اور مشروب میں چینی کا استعمال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 330 ملی لیٹر کا ایک کین پینے کا مطلب مہینے میں ایک پاؤنڈ وزن کا اضافہ کرنا ہے۔
2004ء میں ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ روزانہ ایک یا اس سے زائد سافٹ ڈرنک پینے والے افراد میں ذیابیطس ہونے کے امکانات اُن افراد کے مقابلے 80 فیصد زیادہ ہوتے ہیں جو مہینے میں صرف ایک مرتبہ یہ مشروب پیتے ہیں۔
بینزین سرطان کا باعث بننے والا ایک عنصر ہے اور اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کم از کم 1990ء تک بڑی سافٹ ڈرنک کمپنیاں اسے اپنے مشروبات میں استعمال کرتی رہی ہیں۔
2006ء میں برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی نے سافٹ ڈرنکس میں بنزین کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا اور 150 مصنوعات کا جائزہ لیا گیا جس کے نتائج کے مطابق 4 میں بنزین کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار سے زیادہ تھی۔ بہرحال بنزین کا استعمال اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس خطرناک عنصر کی سافٹ ڈرنکس میں شمولیت سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا۔
سافٹ ڈرنکس ایک سے زائد تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جن میں فاسفورک اور سٹرک ایسڈ عام ہیں۔ علاوہ ازیں بغیر کولا کے مشروبات اور کین میں بند “چائے”میں بھی میلک، ٹارٹیرک اور دیگر نامیاتی تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیےسافٹ ڈرنکس سب سے زیادہ دانتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اب معالجین اسے اسٹرا کے ذریعے دانتوں سے لگائے بغیر براہ راست نگلنے کا مشورہ دیتے ہیں علاوہ ازیں وہ اس کی تیزابیت کے باعث پینے کے فوراً بعد دانتوں کو برش کرنے سے بھی منع کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس تیزاب کے نتیجے میں نرم پڑ جاتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں شامل کیفین کے باعث یہ نیند کو بھی متاثر کرتی ہے اور نیند کی کمی کے باعث طبیعت مضمحل رہتی ہے۔
اس کے علاوہ چند واقعات بھی سافٹ ڈرنکس کی “شہرت” خراب کرنے کا باعث بنے جن میں سب سے اہم حالیہ سالوں میں ہی بھارت میں پیپسی اور کوکا کولا کے بطور کیڑے مار دوا کے استعمال کا واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں چند ریاستوں میں تو اس کےاستعمال پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ ایک بڑی مارکیٹ میں اس طرح کی صورتحال کا پیش آنا دونوں بڑی کمپنیوں کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہ تھا اور اس سے نکلنے کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلانا پڑی لیکن بہرحال “چُنری کو داغ” لگ چکا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن تھا۔
یہ تمام صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد کمپنیوں کو اس امر کا ادراک ہو گیا کہ انہیں نئی مارکیٹوں کی تلاش کے علاوہ آہستہ آہستہ “صحت بخش مشروبات” کی جانب منتقل ہونا ہوگا اور انہوں نے فی الفور دونوں اہداف کے حصول کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔
ان اداروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کیونکہ امریکہ اور یورپ ہیں جہاں صحت عامہ کے حوالے سے عوام باشعور ہیں ، اس لیے اعداد و شمار تو واضح کرتے ہیں کہ وہاں سافٹ ڈرنکس کے استعمال میں بدستور کمی آتی جا رہی ہے اور اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال انتہائی محدود رہ جائے گا۔ اس لیے سب سے پہلے تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں نے شمالی افریقہ، مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا کی نئی مارکیٹوں پر اپنے قبضے کے مستحکم کیا اور اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی اور اس کے لیے اداکاروں، اداکاراؤں اور کھلاڑیوں کا سہارا لیا۔
دوسری جانب انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے Aquafina نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “Kinley لے آیا۔ آخر الذکر Minute maid کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے Tropicana Twister متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب Kurkureجیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔
تو کیا یہ لگتا ہے کہ اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا خاتمہ ہو جائے گا؟

Google Buzz

Anoushey knows what??

وطن عزیز پاکستان میں “روشن خیالی” کے نام پر جو کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں ان کے بھیانک اثرات بہت جلد نظر آنا شروع ہوں گے۔ اس سلسلے میں میں پہلے بھی ذرائع ابلاغ کو کردار کو نشانہ بناتا رہا ہوں اور تنقید کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو کر آج اس پوسٹ کی صورت میں آپ کے سامنے آ رہا ہے۔
پاکستان میں خاص طور پر انگریزی صحافت روشن خیالی کے قافلے کا ہراول دستہ ہے۔ وہ اخبارات ہوں یا انگریزی اخبارات کے زیر نگیں چلنے والے انگریزی و اردو ٹیلی وژن چینلز، ان تمام کا بنیادی ہدف عوام میں دین سے دوری اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے ناامیدی پیدا کرنا ہے۔ اور ان دونوں بنیادی اہداف کی تکمیل میں کوشاں ذرائع ابلاغ کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں اور اس کے لیے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ یہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔
انگریزی صحافت میں جس اخبار کو “روشن خیالی کا سرخیل” کہا جا سکتا ہے وہ”ڈیلی ٹائمز ہے۔ یہ اخبار جمعہ کو بچوں کے لیے خصوصی میگزین “Wikkid ” کے نام سے نکالتا ہے جس میں Celeb Solution: Anoushey Knows Bestکے نام سے ایک سلسلہ چلتا ہے جس میں بچوں کے الجھنوں کے مسائل بیان کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں اخبارات و رسائل پڑھنے کا رحجان بہت کم ہے وہیں ہر اخبار کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی جھلک قارئین کے خطوط میں دکھائی دیتی ہے۔ یہی جھلکیاں بچوں کو انوشہ کو بھیجے گئے خطوط میں بھی واضح ہوتی ہیں لیکن سوال چاہے جیسا بھی ہو خاتون کو انفرادی حیثیت میں اور اخبار کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ننھے ذہنوں میں زہر نہیں اُگلنا چاہیے۔ یکم اگست 2008ء کو “Wikkid” کی اشاعت میں بھی یہ سلسلہ باقاعدگی سے آیا اور میری نظر سے گزرا۔ پہلا سوال پڑھ کر جھٹکا سا لگا لیکن ساتھ تجسس پیدا ہوا کہ جواب کیا ہوگا؟ ملاحظہ کیجیے، اصل اخبار کا اسکین شدہ ٹکڑا:


کیا کسی موقر جریدے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ مذہبی و اخلاقی اقدار کو پامال کرنے ننھے ذہنوں کو پراگندہ کرے؟ چاہے وہ سوال کرنے والا غیر مسلم ہو اور جواب دینے والی بھی لیکن کم از کم اس امر کو تو ملاحظہ کرنا چاہیے کہ ہماری بیشتر آبادی مسلمان ہے اور اسلام میں 6 سال کی عمر کے بعد بچوں کے بستر بھی الگ کر دینے کا حکم ہے تو یہ خاتون کس بنیاد پر سوال کا یہ “عالمانہ جواب” دے رہی ہیں۔ میں نے یہ موضوع اس لیے نہیں چھیڑا کہ میری اس صدائے احتجاج پر ڈیلی ٹائمز اپنی پالیسیاں بدل دے گا بلکہ اس لیے کہ وہ لوگ جو لاعلمی میں صرف بچوں کی انگریزی “بہتر” بنانے کے لیے گھروں پر انگریزی اخبارات لگواتے ہیں، یہ اخبارات ان کے بچوں کی کیا ذہن سازی کر رہے ہیں؟ آج سے 6 سال قبل روزنامہ جنگ سے وابستہ معروف انگریزی اخبار بھی بچوں کے صفحات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وابستہ بائبلی قصہ شائع کرنے کا کارنامہ انجام دے چکا ہے جس میں اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسحاق علیہ السلام کی قربانی کا ذکر تھا۔ اس واقعے کو درج کرنے سے بڑا ظلم یہ کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کارٹونک تصویر بھی شائع ہوئی۔ اس پر بعد ازاں اخبار نے معافی ضرور مانگی اور ذمہ دار افراد کی شاید سرزنش بھی ہوئی لیکن اس تحریر کے نتیجے میں کتنے ذہنوں تک غلط معلومات پہنچی اور انبیاء کی توہین ہوئی اس کا شاید کسی کو اندازہ نہ ہو۔
میری گزارش ہے کہ آج کے پرفتن دور میں اپنے بچوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کریں۔ انٹرنیٹ پر وہ کس قسم کی ویب سائٹس ملاحظہ کرتے ہیں، ان کی نصابی کتب میں کیا تعلیم دی جا رہی ہے، وہ کس قسم کا لٹریچر پڑھ رہے ہیں، کس قسم کی محفلوں میں بیٹھ رہے ہیں اور گھر میں جو اخبارات و رسائل آتے ہیں ان میں کس قسم کا مواد ہے جو ان کے زیر مطالعہ ہے۔ یقین جانیں اگر ہم نے ان امور پر آج دھیان نہیں رکھا تو کل سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا۔

Google Buzz