جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔
یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔
دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں بھی حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی تھیں۔ قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائنس دان آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ حریت انسانی اور مساوات کے اسلامی تصور کے اثرات نے جنوبی اٹلی اور صقلیہ میں انسان دوستی (Humanism) کی جدید تحریکیں پیدا کی تھیں1۔
ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے استبداد کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لیے اس تحریک نے پورے عہدِ وسطٰی کو تاریک دور قرار دیا۔ مذہبی عصبیتوں، روایت پسندی اور تنگ نظری کے خاتمے کو اپنا اصل ہدف بنایا۔ شدید ردعمل نے اس تحریک کو دوسری انتہا پر پہنچا دیا اور روایت پرستی اور عصبیت کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے یہ تحریک مذہب اور مذہبی معتقدات ہی کے خلاف ہو گئی۔
جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن2، رینے ڈیکارٹ3، تھامس ہوبس4 وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت (knowable) ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں جو عقل، تجربے اور مشاہدے کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔ ان فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیاتی مزعومات (metaphysical contentions) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے
I think therefore I am
(میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں)
کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل (Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
پاسکل، مانٹسکیو، ڈیڈاراٹ، وسلی، ہیوم، والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی (Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ جدیدیت کی تعریف ہی یوں کی گئی: جدیدیت وہ روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو کسی بھی ہستی کی بالادستی اور روایت کو مسترد کرتی ہے اور صرف عقل اور سائنسی علوم کو ہی تسلیم کرتی ہے۔ یہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ سچائی اور معنی کا واحد منبع خود مختار فرد کی عقل ہے ۔۔۔۔۔۔ کارتیسی اصول: فکر کردم پس ہستم5
اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر6 جیسے الحاد کے علم برداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا، جب کہ ہیگل جیسے متشکک مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔
سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ آزادئ فکر، آزادئ اظہار اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کیے۔ تھامس ہابس کے حتمی اقتدار اعلٰی (Absolute sovereignty) کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاک نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کو اقتدار اعلٰی کا سرچشمہ قرار دیا۔ والٹیر نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ مانٹسکیو7 اور روسو8 نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کیے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔
جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ انہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خود مختار، جمہوری قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔
معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول تو سرمایہ دارانہ معیشت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا جس کی بنیاد ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی9۔ نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا استحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا، جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا، جس میں محنت کش کو بالادستی حاصل ہو10۔
اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادتیت (Utilitarianism) کا تصور عام کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اخلاقی قدروں کا تعلق افادیت سے ہے۔ جو رویے سماج کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ جائز اور جو سماج کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔ اور یہ کہ افادیت اخلاق کی واحد کسوٹی ہے۔ افادیت کے تصور نے قدیم جنسی اخلاقیات اور خاندان کے روایتی ادارے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں اباحیت (permissiveness) کا آغاز ہوا۔
جدیدیت ہی کے بطن سے نئے صنعتی معاشرے میں نسائیت (Feminism) کی تحریک پیدا ہوئی جو مرد و زون کی مساوات کی علم بردار تھی اور عورتوں کو ہر حیثیت سے مردوں کے مساوی مقام دلانا اس کا نصب العین تھا۔
انقلاب فرانس، برطانیہ میں جمہوریت کی تحریک، امریکہ کی آزادی کی تحریک اور اکثر یورپی ممالک کی تحریکیں جدیدیت کے ان افکار ہی سے متاثر تھیں۔ 20 ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پرجوش مبلغ اور داعی بن گئے۔ جدیدیت کو روشن خیالی (Enlightenment) اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام بھی دیے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔
چنانچہ 20 ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔ آزادی، جمہوریت، مساواتِ مرد و زون، سائنسی طرز فکر، سیکولرزم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا، لیکن سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے، جن کی دنیا بھر میں اشاعت اور نفاذ کے لیے ترسیل و اشاعت کے علاوہ ترغیب و تنفیذ کے تمام جائز و ناجائز طریقے اختیار کیے گئے۔ تیسری دنیا میں ایسے پٹھو حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔ اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ ترکی، تیونس اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لیے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔
حوالہ جات:
1۔ Nasr Seyyed Hossein (1993) A young muslim’s guide to the modern world; Cambridge university press p.156
2- بیکن کے افکار کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Bacon Francis (1863) Novum Organum Tr, James Spedding, Robert Leslie Ellis, and Douglas Denon Heath, Boston: laggard and Thomson [As availablein online library http://www.constitution.org/bacon/textnote.htm]
3۔ ڈیکارٹ کے خیالات کے لیے دیکھیے:
Descartes Rene (1983) Principles of Philosophy Trans. V. R. Miller and R.P. Miller. Doddrecht: D. Reidel
4۔ تھامس ہوبس کے افکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Hobbes Thomas (2007) Leviathan online available at ebooks@adelaide, http://etext.library.adelaide.edu.au/h/hobbes/thomas/h681/
Updated on March 12 2007
5. Electronic Library
http://elab.eserver.org/hfl0242.html
6۔ والٹیر کےخیالات کے لیے ملاحظہ فرمائیے:
Voltaire Francois (1961) Philosophical letters translated by Emest N. Dilworth, New York: Macmillan
7۔ مانٹیسکیو کے نظریات کے لیے ملاحظہ کیجیے:
Montesquieu Baron de (1914), Secondat, Charles de, The Spirit of Laws Tr, by Thomas Nugent, London: G. Bell & Sons [As available at http://www.constitution.org/cm/sol/htm [
8. روسو کے تصورات کے لیے دیکھیے:
Rosseau Jean-Jacques (2004) Emile Tr. By Barbara Foxley online available at http://gutenberg.org/etext/5427
9۔ ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Smith Adam (2007) An inquiry into the nature and causes of the wealth of nations online available at http://metalibriincubadora.fapesp.br/portal/authors/aninquiryintothenatureandcausesofthewealthofnations#books
10۔ مارکسی فکر کے لیے کمیونسٹ مینی فیسٹو سب سے مستند سرچشمہ مانا جاتا ہے
Marx Karl and Engels Frederick (2006) The Communist Manifesto available at http://www.anu.edu.au/polsci/marx/classics/manifesto.html