اگر خاندان معاشرے کی اکائی ہوں، اور خاندان کی بنیاد اس اصول پر ہوکہ زوجین کے درمیان تقسیم کار ہو اور جو جس کام کی خصوصی صلاحیت اور فطری اہلیت لے کر دنیا میں آیا ہے اُسی کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، اور نئی پود کی تربیت و نگہداشت خاندان کا اصل وظیفہ ہو تو ایسا معاشرہ بلا شبہ مہذب معاشرہ ہوتا ہے۔ اس طرز کا خاندانی نظام اسلامی اصولِ حیات کے تحت وہ ماحول مہیا کر دیتا ہے جس میں اعلٰی انسانی قدروں اور انسانی اخلاق کے شگوفے کھلتے ہیں اور نمو پذیر ہوتے ہیں اور نژادِ نو کو اپنی تازگی اور نکہت سے نوازتے ہیں۔ یہ قدریں اور اخلاق خاندانی اکائی کے علاوہ کسی اور اکائی کے اندر شرمندۂ وجود نہیں ہو سکتے لیکن اگر جنسی تعلقات، جنہیں “آزاد جنسی تعلقات” کا نام دیا جاتا ہے، اور ناجائز نسل معاشرے کی بنیادی اینٹ ہوں، اور مرد و عورت کا باہمی رشتہ نفسانی خواہش، جنسی بھوک اور حیوانی اکساہٹ پر قائم ہو اور خاندانی ذمہ داریوں اور قدرتی صلاحیتوں کے مطابق تقسیم کار کے اصول پر استوار نہ ہو۔ عورت کا کام صرف زینت و آرائش، دلربائی اور ناوک اندازی ہو، اور نئی پود کی تربیت و نگہداشت کے منصبِ اساسی سے دست بردار ہو جائے، اور خود یا معاشرے کی طلب پر کسی ہوٹل، یا بحری جہاز یا ہوائی جہاز میں “مہمان نواز” بننے کو ترجیح دے، اور اس طرح اپنی صلاحیتیں اور قوتیں انسان سازی کے بجائے مادی پیداوار اور سامان سازی پر صرف کر دے۔ کیوں کہ “انسانی پیداوار” کی نسبت اُس کے لیے مادی پیداوار زیادہ نفع بخش، زیادہ عزت افزا اور زیادہ باعثِ نمود و ستائش ہے پس جب نوبت یہ آ جائے تو اسے انسانیت کے لیے تہذیبی پس ماندگی اور تہذیبی افلاس کا پیغام سمجھنا چاہیے۔ اسی حالت کو اسلامی اصطلاح میں جاہلیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خاندانی نظام اور زوجین کے باہمی تعلقات کی بنیاد یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جو معاشرے کی حیثیت متعین کرنے میں فیصلہ کن اور حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم جان سکتے ہیں کہ کوئی معاشرہ پسماندہ ہے یا مہذب، جاہلی ہے یا اسلامی۔ جن معاشروں پر حیوانی اقدار و اخلاق اور حیوانی جذبات و رحجانات کی سیادت ہوتی ہے وہ کبھی مہذب معاشرے نہیں ہو سکتے۔ چاہے صنعتی، اقتصادی اور سائنسی ترقی میں وہ کتنے ہی عروج پر ہوں۔ یہ وہ پیمانہ ہے جو “انسانی ترقی” کی مقدار معلوم کرنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ (اقتباس:معالم فی الطریق از سید قطب شہید، اردو ترجمہ بعنوانجادہ و منزل از خلیل احمد حامدی(
سکھر میں بسلسلۂ ملازمت قیام کے دوران ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا جس میں ہم تین افراد رہائش پذیر تھے۔ ایک روز ہمارے ایک ساتھی (جو میرے قریبی عزیز بھی ہیں) نے اپنے ایک دوست کا تعارف کروایا کہ یہ پرویز ہیں اور آج سے ہمارے ساتھ رہیں گے۔
پرویز ادھیڑ عمر تھے، 70ء کی دہائی کے انداز کی (8:20) مونچھوں کے حامل، سر میں تیل اور آنکھوں میں سرمہ ہر وقت لگائے رکھتے۔ خاص نشانی یہ تھی کہ ہمیشہ بے تکے انداز میں پینٹ شرٹ پہنتے حتٰی کہ گہرے سبز رنگ کی پینٹ اور گلابی شرٹ میں بھی دیکھے گئے۔ ویسے تو نفاست پسند دکھائی دیتے تھے، بالوں کو ہر وقت سنوارتے رہتے، سنگھار کے تمام دیسی طریقے انہیں ازبر تھے، روزانہ شیو بناتے لیکن ایک بد عادت انہوں نے نجانے کہاں سے اختیار کی تھی کہ ہر وقت کھنکھارتے اور تھوکتے رہتے۔ گھر میں کہیں بھی موجود ہوں ان کی “تھوتھوکار” سے ان کے مقام کا علم ہو جاتا۔ باتیں کرنے کے حد درجہ عادی تھے، خصوصاً بے ڈھنگی، جن میں ان کا محبوب موضوع “صنف نازک” تھا۔ اپنی زندگی میں پیش آنے والے “حادثات” کے بارے میں دیگر ساتھیوں کو بتاتے اور حسنِ دل افروز کی جلوہ نمائیوں کے قصوں سے بھرپور داد سمیٹتے۔ اور ان تمام عادتوں پر مہان عادت یہ کہ خود کو عقلِ کل سمجھتے۔ قصہ مختصر، پہلے دن سے ہمارے دل کو نہ بھائے اور یوں ایک چھت تلے رہتے ہوئے بھی راہیں جدا جدا رہیں۔ البتہ ہمارے عزیز کی اُن سے بہت گاڑھی چھنتی اور مشترکہ رہائش گاہ میں قیام ان کی دوستی اور ہماری رہائش گاہ میں قیام میں مزید اضافے کا باعث بنی۔
یہ تمام حلیہ اور عادات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقربا پروری کس حد تک راسخ ہو چکی ہے اور سفارش کا کلچر کیسے کیسوں کو کہاں کہاں پہنچا دیتا ہے۔ ایک روز موصوف نے بتایا کہ وہ قومی ایئر لائن میں بھی ملازمت کر چکے ہیں۔ حیرت سے مجھے تو ایک جھٹکا لگا کہ محترم کی “شخصیت” دیکھیے، پی آئی اے میں کیا کرتے ہوں گے؟۔ گومگو کی اسی کیفیت کے دوران پوچھا کہ حضور! کیا کیے تھے پی آئی اے میں؟ تو فخر سے بولے “میں flight steward (یعنی فضائی میزبان) تھا”۔ یہ جملہ تو تیرنا نہ جاننے والے ہم جیسے کسی شخص کو سمندر میں پھینکنے کے مترادف تھا تاکہ وہ حیرت کے سمندر کا تصور کر کے اس میں کچھ ٹامک ٹوئیاں مار لے۔ بے ساختہ دل سے نکلا کہ آج معلوم ہوا کہ قومی ایئر لائن کی تباہی کے اسباب کیا ہیں؟ مزید تفتیش پر انہوں نے عقدہ کھولا کہ محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں ان کے ایک قریبی عزیز وزیر قرار پائے تھے، اور انہی کے توسط سے انہیں بھی وطنِ عزیز کے اس اہم ادارے میں ملازمت ملی لیکن محترمہ کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی نوکری کا بھی “تختہ الٹ گیا”۔
اس انکشاف کے بعد اُن کی اصلاح کی ہماری تمام اُمیدوں نے دم توڑ دیا کہ جس شخصیت کو پی آئی اے کا ماحول اور فلائٹ اسٹیورڈ کی نوکری نہ سدھار سکی تو ہم تین افراد کس کھیت کی مولی ہیں؟ موصوف کیونکہ “چمڑی جائے، دمڑی نہ جائے” کی عملی تفسیر تھے اس لیے چند روز بعد ہی گھر کے ماہانہ حساب کتاب کے معاملے پر دیگر ساتھیوں سے بحث کر بیٹھے اور فسادی طبیعت سے مجبور ہو کر خود معاملے کو ہاتھا پائی کی نوبت تک لے آئے جس پر بڑے بے آبرو ہو کر ہمارے کوچے سے نکالے گئے۔
حضرت ان شخصیات میں سے ہیں جن کو یاد کر کے میں دعائیں مانگتا ہوں کہ ان سے زندگی میں دوبارہ ملاقات نہ ہو بلکہ ان کے بارے میں کوئی بات میرے ذہن میں ہی نہ آئے لیکن آج اپنے وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ کے بیانات نے مجھے پرویز کی یاد دلادی۔ محترم وزیر اعلٰی صاحب فرماتے ہیں:
بے روزگار نوجوانوں کو 50 ہزار ملازمتیں دی جائیں گی اور شہید بینظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے بھی 50 ہزار نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا، غریب نوجوانوں کا کوئی انٹرویو نہیں ہوگا وہ صرف فارم پر کر کے بھرتی ہوں گے۔ (حوالہ روزنامہ ایکسپریس، پیر 20 اکتوبر 2008ء)
یعنی اس طرح پرویز جیسے نااہل لوگوں کو اپنی مرضی کے اداروں میں مرضی کی پوسٹس پر بھرتی شروع کا عمل شروع ہوگا اور جب تک زرداری صاحب کی حکومت رہے گی تب تک تو اُن کی نوکری پکی ہی رہے گی۔
مسکین صفت وزیر اعلٰی ایک لاکھ نوکریاں دینے کا دعویٰ تو کر بیٹھے ہیں لیکن اگر 50 ہزار نہیں تو چند ہزار ملازمتیں تو دی ہی جائیں گی تاکہ “بی بی کوٹے” پر اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل عام کے ایک اور سلسلے کا آغاز کیا جائے۔
ایسے ہی نااہل لوگ، جنہیں یقین ہوتا ہے کہ اگلے روز تک ملازمت کی بقاء یقینی نہیں، بدعنوانی کے ریکارڈ توڑ مظاہرہ کرتے ہیں۔ ملک میں ویسے ہی معیشت کی صورتحال دِگرگُوں ہے اور اس منظرنامہ میں اگر حکومت اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی خدشات کے مطابق ہی رویہ اختیار کرتی ہے تو یہ “مرے ہوئے پر سر دُرّے” کے مترادف ہوگا۔
مانا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا لیکن موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ وطن عزیز کے وہ بہتر دماغ، جن کی موجودہ صورتحال میں ملک کو اشد ضرورت ہے، اس کے پاس موجود رہیں لیکن حکومتی رویے اور میرٹ کے قتل عام کے باعث وہ اپنی دماغی صلاحیتوں اور کاوشوں کا بہترین صلہ پانے کے لیے کسی بھی ایسی جگہ جانے میں حق بجانب ہوں گے جہاں ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جائے۔ اقربا پروری کی یہی سیاہ تاریخ ہے جس نے ہماری بہترین و عبقری شخصیات کو مجبور کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین صلہ پانے کے لیے غریب الوطنی اختیار کر لیں۔
رہبانی تہذیب کو مستثنٰی کر کے ہر وہ تہذیب جو دنیا کی زندگی کے متعلق ایک جامع نظریہ اور کاروبارِ دنیا کو چلانے کے لیے ایک ہمہ گیر طریقہ رکھتی ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ جاہلیت کی تہذیب ہو یا اسلام کی، طبعاً اس بات کی طالب ہوتی ہے کہ حاکمانہ اختیارات پر قبضہ کرے، زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لے اور زندگی کا نقشہ اپنے طرز پر بنائے۔ حکومت کے بغیر کسی ضابطہ و نظریہ کو پیش کرنا یا اس کا معتقد ہونا محض بے معنی ہے۔ راہب تو دنیا کے معاملات کو چلانا ہی نہیں چاہتا بلکہ ایک خاص قسم کے “سلوک” سے اپنی خیالی نجات کی منزل تک باہر ہی باہر پہنچ جانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، اس لیے نہ اس کو حکومت کی حاجت، نہ طلب۔ مگر جو دنیا کے معاملات ہی کو چلانے کا ایک خاص ڈھنگ لے کر اٹھے اور اسی ڈھنگ کی پیروی میں انسان کی فلاح و نجات کا معتقد ہو، اس کے لیے تو بجز اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اقتدار کی کنجیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ جب تک وہ اپنے نقشے پر عملدرآمد کرنے کی طاقت حاصل نہ کر لے، اس کا نقشہ واقعات کی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ کاغذ پر اور ذہنوں میں بھی زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکتا۔
جس تہذیب کے ہاتھ میں زمامِ کار ہوتی ہے دنیا کا سارا کاروبار اسی کے نقشہ پر چلتا ہے۔ وہی علوم و افکار اور فنون و آداب کی رہنمائی کرتی ہے، وہی اخلاق کے سانچے بناتی ہے، وہی تعلیم و تربیتِ عامہ کا انتظام کرتی ہے، اسی کے قوانین پر سارا نظامِ تمدن مبنی ہوتا ہے، اور اُسی کی پالیسی ہر شعبۂ زندگی میں کار فرما ہوتی ہے۔ اس طرح زندگی میں کہیں بھی اس تہذیب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی جو اپنی حکومت نہ رکھتی ہو، یہاں تک کہ جب ایک طویل مدت تک حکمران تہذیب کا دور دورہ رہتا ہے تو غیر حکمران تہذیب عمل کی دنیا میں خارج از بحث ہو جاتی ہے، اُس کی طرف ہمدردانہ نقطۂ نظر رکھنے والوں کو بھی اس امر میں شبہ ہو جاتا ہے کہ یہ طریقہ دنیا کی زندگی میں چل سکتا ہے یا نہیں۔ اُس کے نام نہاد عَلَم بردار اور اس کی لیڈر شپ کے بزعمِ خود وارثین تک تہذیبِ مخالف سے مدارات (Compromise) اور آدھے پونے کا مشترک معاملہ کرنے پر اُتر آتے ہیں۔ حالانکہ حکمرانی میں دو بالکل مختلف الاصول تہذیب کے درمیان مقاسمت و مصالحت قطعی غیر ممکن العمل چیز ہے اور انسانی تمدن اس شرک کو برداشت نہیں کر سکتا۔ بٹائی کو ممکن العمل خیال کرنا عقل کی کمی پر دلالت کرتا ہے اور اس کے لیے راضی ہونا ایمان اور ہمت کی کمی پر۔ (اقتباس: تجدید و احیائے دین از سید ابو الاعلٰی مودودی)
انسانیت کی شاید سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ جس کسی کو بھی برسر قوت آنے کا موقع تاریخ میں ملا ہے۔ تلوار کے زور سے، سازش کے بل پر، جمہوری انتخاب کے راستے سے یا کسی اتفاقی حادثے کے تحت اسی کو اپنے متعلق یہ زعم ہو گیا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کا معلم اور زندگی کا مصلح بھی ہے۔ ایسے مصلحین و معلمین کے ہاتھوں میں جب اقتدار کا لٹھ آتا ہے تو وہ عقلِ کُل بن بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بہترین مفکر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ہر سر چشمۂ علم سے بے نیاز ہو کر اور معاشرہ کے بہترین زیرک اور حساس عناصر کو برطرف رکھ کر اندھا دھند محیر العقول اقدامات کرنے لگتے ہیں جن میں سے ہر اقدام ایک خوف ناک حادثہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ تشدد کے ہتھیاروں سے انسان کو انسان بنانا چاہتے ہیں اور زندگی کی پیٹھ پر کوڑے برسا برسا کر اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ بسا اوقات اصلاح و انقلاب کے ایسے مدعیوں کو سرے سے انسان کی فطرت کا پتہ نہیں ہوتا۔ انہیں زندگی کے بناؤ اور بگاڑ کے موجبات کا مبتدیانہ علم بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کبھی یہ کاوش ہی نہیں کی ہوتی کہ انسان کو انسانیت سکھانے کے صحیح طریقے کیا ہیں اور بگاڑ کا سرچشمہ کہاں واقع ہے اور اس کی اصلاح کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور اس کی تکمیل کہاں جا کے ہوتی ہے۔ وہ سابق تجربات سے فائدہ اٹھائے بغیر اپنا تجربہ الف با سے شروع کرتے ہیں۔ وہ مشورہ و تنقید کے دروازے بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کا کوئی خیر خواہ اور انسانیت کا کوئي محب ان کے مہلک تجربہ کی تکمیل میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ ان کے پاس ہر درد کی ایک ہی دوا ہوتی ہے۔ جبر و تشدد! سخت ترین قوانین بنانا، نت نئے کڑے احکام جاری کرنا، عوام الناس کے چاروں طرف قدغنیں کھڑی کر دینا اور پھر ان کی تواضع بار بار اپنے غیظ و غضب کے تازیانے سے کرتے رہنا۔
محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جو انقلاب برپا کیا اس کی روح تشدد کی روح نہ تھی، محبت و خیر خواہی کی روح تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) انسانیت کے لیے حد درجہ رحم دل تھے اور ابنائے آدم کے ساتھ آپ کو سچا پیار تھا۔ اپنی دعوت کی نوعیت کو آپ نے مثال دے کر سمجھایا کہ
تم لوگ پروانوں کی طرح آگ کے گڑھے کی طرف لپکتے ہو اور میں تم کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچانے کی کوشش کر رہا ہوں (حوالہ: ریاض الصالحین، باب السادس عشر۔ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ(
قرآن نے اسی لیے آپ کو پیغامبر رحمت قرار دیا۔ ذرا اس حقیقت پر غور کیجیے کہ وہ ہستی اتنا عظیم انقلاب لاتی ہے مگر تشدد سے کام لینے کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی، مدینہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دس سالہ زندگی میں سنگین درجے کی ایمرجنسی کے زیر سایہ رہا ہے۔ ہر آن حملے کا خطرہ رہتا۔ قریش نے تین بار بڑے بڑے حملے کیے، چھوٹی چھوٹی جھڑپوں اور سرحدی آویزشوں کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے تھے۔ متفرق قبائل مدینہ پر دھاوا بولنے کے لیے کبھی اِدھر سے سر اٹھاتے کبھی اُدھر سے، بار بار طلایہ گردی کرنے اور فتنوں کی سرکوبی کے لیے مدینہ سے فوجی دستوں کی ترسیل ہوتی۔ راتوں کو فوجی پہرہ لگایا جاتا۔غرضیکہ ایک جنگی کیمپ کی سی زندگی تھی۔ اس پر مستزاد یہود اور منافقین کی سازشیں تھیں — جنگ کی سازشیں اسلامی معاشرہ کو پھاڑ دینے اور مختلف عناصر کو ٹکرا دینے کی سازشیں، حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قیادت کو ناکام کرنے کی سازشیں، اور پھر اس زندگی بخش ہستی کو قتل کر دینے کی سازشیں، ایمرجنسی کا اس سے بڑھ کر اور کیا عالم ہو سکتا ہے۔ مگر حضور نے (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ کبھی اپنے لیے کوئی مستبدانہ اختیار حاصل کیا، نہ کوئی ہنگامی آرڈیننس جاری کیا، نہ کوئی جابرانہ ایکٹ نافذ کیا، نہ کسی ایک فرد کو نظر بندی میں ڈالا، نہ کوئی ہنگامی عدالتیں بٹھائیں، نہ تازیانے برسا کر لوگوں کی کھال ادھیڑی، نہ جرمانے اور تاوان ڈالے، نہ کسی شہری پر کوئی بار خدائی قانون سے تجاوز کر کے ڈالا، نہ اختلاف اور تنقید کا حق سلب کیا، نہ کسی کی زباں بندی کی اور نہ کسی پر پابندی عائد کی۔ حتٰی کہ عبد اللہ بن ابی جیسے فتنہ پرداز تک سے کوئی تعرض نہ کیا۔ سارا دار و مدار اپنی دعوت کی صداقت اور اپنے کردار کی پاکیزگی پر رکھا۔ کبھی کسی پر دھونس نہیں جمائی، کبھی رعونت نہیں دکھائی، کبھی کسی کی انسانیت کی تحقیر نہیں کی۔ کبھی اکڑفوں سے کام نہیں لیا بلکہ دوسرے کی — جو درحقیقت کمزور اور بے بس تھے — رعونتوں کو صبر سے برداشت کیا۔ یہی وجہ تھی کہ دشمنوں کے دل مسخر ہو جاتے تھے۔ ساتھ آنے والے دیدہ و دل فرش راہ کرتے تھے۔ مخالفت کرنے والے اپنے آپ کو پست اور ذلیل محسوس کرتے تھے اور پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت و شرافت کے آگے سر جھکا دیتے تھے تو ان میں ایسی تبدیلی آتی تھی کہ گویا کایا کلپ ہو گئی۔
حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سینے میں خدا کی جو محبت کار فرما تھی اسی کا دوسرا روپ یہ تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) انسانیت سے گہری محبت رکھتے تھے۔ اس محبت انسانی کا اگر ہم اندازہ کرنا چاہیں جو محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سینے میں کار فرما تھی تو ہم اس واقعہ سے کر سکتے ہیں کہ وہی مکہ جس کے باسی جنگ کی تلوار لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقابلے میں کھڑے تھے۔ ان پر قحط کا زمانہ آتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) غلہ کی رسد جاری کراتے ہیں اور اسی شہر کے غرباء کے لیے پانچ سو اشرفی نقد بھجواتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت انسانی کا اندازہ ہم اس واقعے سے بھی کر سکتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں کی کراہیں گوش مبارک تک پہنچیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نیند اڑ گئی اور آپ اس وقت تک آرام سے نہ سو سکے جب تک ان کے بندھن ڈھیلے کر کے انہیں آرام نہ پہنچا دیا گیا۔ آپ کی محبت انسانی کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ بنو ہوازن کے چھ ہزار قیدی ایک اپیل پر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اشارے سے رہا کر دیے جاتے ہیں اور پھر آپ کی محبت انسانی کا اندازہ کرنا ہو تو فتح مکہ کے موقع پر اس کا عظیم الشان مظاہرہ دیکھیے۔ انسانیت کا محسن (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں کامل فاتحانہ شان سے داخل ہوتا ہے اور اس کے خلاف بیس برس تک لڑنے والے دشمن اس کے سامنے بے بس ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی دوسرا ہوتا تو ایک ایک واقعہ کا انتقام لیتا۔ قتل عام کا حکم جاری کرتا اور خون کی ندیاں بہا دیتا کشتوں کے پشتے لگائے بغیر نہ ٹلتا۔ وہ لوگ عرفاً قانوناً اخلاقاً ہر لحاظ سے مجرم تھے اور دین و سیاست دونوں پہلوؤں سے گردن زدنی۔ مگر اس لمحے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت انسانی ابھرتی ہے اور قریش کے مظالم کی ساری تاریخ پر خط عفو پھیر کر کہتی ہے کہ “لا تثریب علیکم الیوم اذھبو فانتم الطلقاء” (آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم آزاد ہو) الٹا ان کی تالیف قلب کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کو مال و دولت عطا کرتے ہیں اور ان کو ذلیل اور مسترد کرنے کے بجائے ان کو ذمہ داریاں سونپتے ہیں اور گلے لگا لیتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) پر یہ حقیقت روشن تھی کہ جو انقلاب انتقام پر اتر آتا ہے وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور جو انقلاب عفو اور دلبری سے کام لیتا ہے وہ دشمنوں کو رام کرتا ہے اور مزاحمت کرنے والوں کو خادم بنا لیتا ہے۔
یہ قریش کا ذوق تشدد تھا جس کے تحت انہوں نے نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مجبور کر دیا کہ ان کی تیغ خون آشام کی دھار توڑ دی جائے اور جنگ کے سر آ پڑنے پر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نظام حق کے بچاؤ میں پوری طرح بازی لگا دی۔ مگر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت انسانی نے جنگی پالیسی اور دفاعی تدابیر ایسی نکالیں کہ کم سے کم جانی نقصان ہو اور کم سے کم خون بہے، نیز حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کڑا اہتمام کیا کہ میدان جنگ میں بھی انسانیت کا احترام برقرار رہے۔
محبت انسانی کی ایسی روشن اور وسیع مثال کسی دوسرے انقلاب میں نہیں ملتی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انقلاب خالص تعلیمی انقلاب تھا اور اس کی اساس بنی آدم کی خیر خواہی پر تھی۔ (اقتباس: “محسن انسانیت” از نعیم صدیقی)