ہفتہ کی صبح موبائل کی گھنٹی نے بیدار کر دیا، ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا تو دفتر سے فون تھا۔ معلوم ہوا کہ فوری طور پر کوئی کام ہے اور ای میل چیک کرنے کا حکم ہے۔ کمپیوٹر اور وائر لیس سیٹ کی خرابی کے باعث گھر پر یہ کام ممکن نہ تھا اس لیے فوری طور پر باہر کا رخ کیا۔ صبح صبح کا وقت تھا اور رات گئے تک اپنی “خدمات” فراہم کرنے والے انٹرنیٹ کیفے ابھی کھلنا شروع نہیں ہوئےتھے۔ نصف گھنٹہ گلیوں میں بے مقصد گھومنے پھرنے کے بعد ایک انٹرنیٹ کیفے کا دروازہ کھلا نظر آیا۔ اندر گیا تو اس کا “مالک” ابھی جھاڑو دے رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کیبن نمبر 1 کی جانب اشارہ کیا۔ میں نےجاتے ہی براؤزر میں مطلوبہ سائٹ کھولنا چاہی لیکن server not foundکا پیغام منہ چڑاتا رہا۔
جھلا کر پوچھا “بھئی نیٹ کیوں نہیں چل رہا”
معصوم سا جواب “جناب نیٹ تو تین دن سے مسئلہ کر رہا ہے، آپ فلمیں اور گانے وغیرہ دیکھ لیں، سرور پر “تمام اقسام” کی فلمیں اور گانے رکھے ہیں”
میں لاحول پڑھتا ہوا نکل آیا اور منہ سے بے اختیار نکلا “کون لوگ ہو تسی اوئے؟”
جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ
اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک
ہے جس کے تصور میں فقط بزمِ شبانہ
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ
حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کئی دہائی قبل تجدید کے بارے میں یہ اشعار بیان کر گئے تھے جس میں جہاں تجدید کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے وہیں عالم اسلام میں، اُس وقت سے اب تک جاری، تجدید کے نعروں سے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی کوششوں کو بے نقاب بھی کیا ہے۔ اس اہم اور نازک موضوع پر علامہ کے ہمعصر مصنف سید ابو الاعلٰی مودودی نے ایک کتاب تحریر کی جس کا نام “تجدید و احیائے دین” تھا۔ کتاب میں تجدیدِ دین، مجدّدین، دین کے احیاء کے کام، مجددین کے کارناموں کو مختصراً بیان کرنے کے علاوہ تجدید اور تجدّد کے فرق، مجدد کامل کے مقام اور امام مہدی کی حیثیت کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت کے بعد اس پر بہت اعتراضات کیے گئے اور ہر جانب سے سید مودودی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ اسی سلسلے میں ماہنامہ ترجمان القرآن میں بھی کئی قارئین نے سوالات کیے جن کے دیے گئے جوابات کو اشاعت پنجم میں کتاب کا حصہ بنا دیا گیا۔
کتاب کے دیباچہ میں ہی سید مودودی نے کتاب کے مقاصد کو اس طرح واضح کیا ہے:
اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ “مجدد” بھی ہے ۔ اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو قریب قریب ہر شخص سمجھتا ہے ، یعنی یہ کہ جو شخص دین کو از سرِ نو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے ۔ لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کی طرف بہت کم ذہن منتقل ہوتے ہیں ۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ تجدیدِ دین کی حقیقت کیا ہے ، کس نوعیت کے کام کو “تجدید” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ، اس کام کے کتنے شعبے ہیں ، مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہو سکتا ہے اور جُزوی تجدید کیا ہوتی ہے ۔ اسی ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ ان مختلف بزرگوں کے کارناموں کی پوری طرح تشخیص نہیں کر سکتے جن کو تاریخ اسلام میں مجدد قرار دیا گیا ہے ۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ عمر ابن عبد العزیز بھی مجدد، امام غزالی بھی مجدد، ان تیمیہ بھی مجدد، شیخ احمد سرہندی بھی مجدد اور شاہ ولی اللہ بھی مجدد، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ کون کس حیثیت سے مجدد ہے اور اس کا تجدیدی کارنامہ کس نوعیت اور کس مرتبہ کا ہے ۔ اس ذہول اور غفلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن ناموں کے ساتھ “حضرت”، “امام”، حجۃ الاسلام”، “قطب العارفین”، “زبدۃ السالکین” اور اسی قسم کے الفاظ لگ جاتے ہیں ان کی عقیدت مندی کا اتنا بوجھ دماغوں پر پڑ جاتا ہے کہ پھر کسی میں یہ طاقت نہیں رہتی کہ آزادی کے ساتھ ان کے کارناموں کا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک مشخص کر سکے کہ کس نے اس تحریک کے لیے کتنا اور کیسا کام کیا ہے ، اور اس خدمت میں اس کا حصہ کس قدر ہے ۔ عموماً تحقیق کی نپی تُلی زبان کے بجائے ان بزرگوں کے کارنامے عقیدت کی شاعرانہ زبان میں بیان کیے جاتے ہیں جن سے پڑھنے والے پر یہ اثر پڑتا ہے ، اور شاید لکھنے والے کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فردِ کامل تھا اور اس نے جو کچھ بھی کیا وہ ہر حیثیت سے کمال کے آخری مرتبے پر پہنچا ہوا تھا۔ حالانکہ اگر اب ہم کو تحریکِ اسلامی کی تجدید و احیاء کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہم کو پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا۔ اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہوگا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کس کس طرح کیا ہے ، ان کے کارناموں سے ہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہونا چاہیے ۔
اس کتاب کو برقیانے کے سلسلے میں بھرپور مدد پر میں برادر خاور بلال کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے کتاب کے مواد کی کمپوزنگ کے علاوہ اس کے لیے یہ خوبصورت ٹائٹل بھی تیار کیا۔علاوہ ازیں میں پی ڈی ایف اور آن لائن ورژن کی تیاری پر نبیل حسن نقوی کا بہت مشکور ہوں۔

یہ کتاب منظرنامہ کے سلسلے “ایک بلاگر- ایک کتاب” کا حصہ ہے۔
مندرجہ ذیل ربط پر موجود ای-بک doc فارمیٹ میں ہے اور مکمل searchableہے۔
“تجدید و احیائے دین” اس ربط سے ڈاؤن لوڈ کیجئے
آن لائن مطالعے یا PDF ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجے
کتاب خوبصورت نستعلیق فونٹ “علوی نستعلیق” میں تیار کی گئی ہے اس لیے مطالعے کے لیے یہی فونٹ انسٹال کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ علوی نستعلیق یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے خالی الذہنی کی کیفیت طاری ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاملات پر گرفت، جداگانہ سوچ، فوری تبصرے، فی البدیہہ جملے اور وہ سب جو کبھی میری شخصیت کا خاصہ تھا، نجانے کیوں یکدم بکھرنے لگا ہے۔ حالت یہ ہے کہ جب کسی موضوع پر انتہائی توجہ اور غور سے نہ سوچوں اس حوالے سے کچھ ذہن میں نہیں آتا۔ بھول جانے کی عادت میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ سب کیوں ؟؟؟؟
کچھ دنوں اس پر کافی غور کیا۔ غورو فکر سے جو نتیجہ نکلا کہ وہ یہ تھا کہ زندگی بہت زیادہ مشینی رخ اختیار کر گئی ہے اور ہر معاملے پر مشینی انداز میں سوچ نے دماغ کی فطری خصوصاً تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی غور و فکر کے دوران اچانک علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
شعر تو بہت سادہ سا ہے، مجھ جیسے اردو سے نابلد افراد کے لیے بھی سمجھنا چنداں مشکل نہیں لیکن اس سے کیا کیا مفاہیم نکلتے ہیں، اور اس میں علامہ کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں، موجودہ ذہنی حالت کے پیش نظر اسے سمجھنے میں دقت کا سامنا تھا، سو استاد محترم سے رابطہ کیا کہ کیا فرماتے ہیں علامہ اس شعر میں؟
جواباً فرمایا: کہ مشین کے تین خصائص ہیں
(1) رفتار
(2) تکرار
(3) شور
علامہ دل کو وجودِ انسانی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ انسانی دل ایک مخصوص رفتار و ردھم کا حامل ہے۔ جدید مشینری سے قبل وہ تمام تر آلات جو انسان استعمال میں لاتا رہا ہے انسانی دل کی رفتار سے مکمل ہم آہنگ تھے لیکن جدید مشینوں کی رفتار اور ردھم کہیں زيادہ تیز تھا جس کی وجہ سے انسان اور مشینوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کا خاتمہ ہو گیا اور انسان مشین کی رفتار سے کام کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جیسے جیسے وہ مشین کی رفتار سے ہم آہنگ ہوتا گیا ویسے ویسے وہ انسانی خصوصیات سے محروم ہوتا چلا گیا۔ تعلق، محبت، مروت اور اس جیسے جذبے کمزور پڑتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ گیا۔ یہ رفتار کے عذاب کے نقصانات ہیں جو نوعِ انسانی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
دوسرا عذاب “کام کی تکرار” بھی انسان پر مسلط کر دیا گیا۔ تکرار و یکسانیت تخلیقی صلاحیتوں کے لیے موت ثابت ہوئیں۔ مشینوں سے قبل انسان کے کام میں تنوّع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا اور اس سے انسانی شخصیت مستقل ارتقا پذیر رہتی تھی۔ انہوں نے کتابت اور کمپوزنگ کی مثال بھی پیش کی کہ کتابت میں تنوع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا لیکن کمپوزنگ میں صرف رفتار، تکرار اور ایک ہی طرح کی تکنیکی مہارت ہے جو رفتہ رفتہ مشینی ہوجاتی ہے اور صرف ایک عادت بن کر رہ جاتی ہے۔ (اس کا تجربہ کمپیوٹر سے قریبی تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کو ہوگا)
باقی رہا شور کہ وہ انسانی ذہن، جذبات، احساسات اور اعصابی نظام پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ اس کا ذاتی زندگی میں ہمیں بار ہا تجربہ ہوتا رہتا ہے، یعنی کار کا تیز ہارن ہمارے حواس کے ساتھ کیا کرتا ہے، یہ سامنے کی بات ہے۔
آخر میں فرمایا: اقبال کی مجبوری تھی کہ وہ مصرعے میں صرف ایک لفظ یعنی مروت ہی استعمال کر سکتے تھے، یہ نہ ہوتا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ ہوتا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مشینوں کی حکومت صرف مروت ہی کو نہیں بہت سی قیمتی چیزوں کو کچل دیتی ہے۔
اس لیکچر کے بعد اب کچھ راہیں تو کھلی ہیں، لیکن اس مشینی عذاب سے بڑی حد تک چھٹکارا پانے کی سعی ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اگر قارئین مفید تجاویز و اپنے تجربات بیان کریں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔