تحاریر برائے ماہِ دسمبر ، ۲۰۰۸


وکیپیڈیا سرگرمی

اردو وکیپیڈيا انٹرنیٹ پر میری اولین مصروفیات میں سے ایک ہے جس میں میں نے اکتوبر 2006ء میں شمولیت اختیار کی۔
اپنی تحاریر میں جغرافیہ، تاریخ اور تعمیرات کے شعبوں کا احاطہ کیا البتہ چند شخصیات پر بھی مضامین لکھے۔ ڈيڑھ سال بعد اردو وکیپیڈیا پر میں اپنی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکا جس کی وجہ بلاگنگ کا آغاز اور دیگر مصروفیات تھیں۔اردو وکیپیڈیا پر جاری کام کی اہمیت کا احساس ہونے کے باعث گاہے بگاہے مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اس کے لیے تحریر کرتا رہتا ہوں چاہے وہ ترجمے کی صورت میں ہوں یا تحقیق کی صورت میں۔ گزشتہ چند دنوں میں میں نے وکیپیڈیا اردو پر درج ذیل مضامین تحریر کیے ہیں۔ امید ہے قارئین کو پسند آئیں گے۔
تاشقند (ازبکستان کے دارالحکومت کے بارے میں تفصیلی مضمون)
ترک جمہوریہ شمالی قبرص (جزیرہ قبرص کے شمالی نصف حصے میں واقع جمہوریہ, جہاں ترکوں کی اکثریت ہے)
جنگ نیل (تاریخ مصر کی ایک اہم جنگ، جس کے نتیجے میں مصر پر فرانسیسی غلبہ کو زبردست نقصان پہنچا)
جنگ اہرام (نپولین کی زیر قیادت مصر پر حملہ آور فرانسیسی فوج کا اہم معرکہ)
ارض روم (ترکی کا ایک تاریخی و اہم شہر)
گوہر نصیبہ (سلجوقی سلطنت کی ایک شہزادی، جس سے موسوم دارالشفاء سلجوقی دور کی واحد موجود عمارت ہے)
گوہر شاد (تیموری سلطنت کے دوسرے فرمانروا شاہ رخ تیموری کی اہلیہ، مشہد کی مسجد گوہر شاد ان کے ذوق کی آئینہ دار ہے)
ابو سعید (تیموری سلطنت کا ایک فرمانروا)
قزلباش (13 ویں صدی عیسوی کا ایک مسلح گروہ)
خانان کریمیا (کریمیا (موجودہ یوکرین) کی تاریخ کی ایک اہم مسلم سلطنت)
غلطہ پل (ترکی کے شہر استنبول کے قدیم حصوں کو ملانے والا تاریخی پل)
برج غلطہ (قدیم استنبول کا ایک اہم مینار)

امید ہے یہ مضامین تمام ساتھیوں کی معلومات میں اضافے کا سبب بنیں گے۔

Google Buzz

غزہ حملے، احتجاج کیجیے

غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈکرائیے۔ عملی طور پر مظاہروں میں شرکت کے علاوہ آپ بلاگ، فورمز اور ویب سائٹس پربھی غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں۔ تاکہ دنیا بھر کو اندازہ ہو کہ ہم اس ننگی جارحیت اور وحشیانہ کاروائی کے خلاف ہیں۔

ذیل میں آپ میرے ساتھیوں کی تیار کردہ تصاویر، پوسٹرز، اواتار اور آئیکونز وغیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تصاویر کو انٹرنیٹ پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیے، اپنی نمائندہ تصویر کی جگہ یہاں پیش کردہ اواتار لگائیے اور بڑے سائز کے پوسٹرز کے پرنٹ آؤٹ آپ کسی بھی مظاہرے میں شرکت کے دوران استعمال کر سکتے ہیں۔

نیچے دی گئی تمام تصاویر و پوسٹرز زيادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانے کے لیے ہیں اس لیے خود استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے دوستوں تک بھی پھیلائیے۔

Avatar




Google Buzz

ایشیا کا مرد بیمار

محترم صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے فرانس کے معروف اخبار “لی فیگارو” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ

پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں

(انٹرویو فرانسیسی زبان میں ہے، گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے اسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پڑھا جا سکتا ہے)۔اس تاریخی بیان نے ان کے دیگر کارناموں کو ہر گز نہیں گہنایا، بلکہ ان کے سنہرے اقوال کی فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔

بہرحال اب آپ یہ انٹرویو ملاحظہ کیجئے اور ذیل میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا وہ تاریخی پس منظر بھی ملاحظہ کر لیجئے جس کے باعث ہم اس اصطلاح کے استعمال پر معترض ہیں۔

19 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ تیزی سے زوال پذیر تھی لیکن اس کا وجود روس کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف یورپ کی دیگر طاقتوں کے مفاد میں تھا۔ عظیم طاقتوں کا یہی مفاد اس کی بقا کا ضامن دکھائی دیتا تھا لیکن درحقیقت اس سے سلطنت اپنا اختیار، وجود اور حیثیت سب کھوتی جا رہی تھی۔ سلطنت اور روس کے درمیان مخاصمت کی ایک وجہ تو دونوں ملکوں میں مسلم اور عیسائی آبادی کا بڑی تعداد میں موجود ہونا تھا۔ روسی سلطنت بارہا سلطنت عثمانیہ میں عیسائی رعایا کی محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی اور جن جنگوں میں اس کو فتوحات حاصل ہوئیں ان میں کیے گئے معاہدوں میں یہ شق ضرور شامل ہوتی کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی محافظ ہوگی۔ دوسری جانب روس اور سلطنت عثمانیہ کے سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی رہتی تھی جو روس کے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ہر وقت ایک بڑے خطرے کا سامنے کیے ہوئے تھی۔ اس طرح دونوں سلطنتوں میں ہر وقت چپقلش چلتی رہتی اور بالآخر 19 ویں صدی میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل جنگیں ہوئی جنہیں تاریخ میں روس-ترک جنگیں یا Russo-Turkish Wars کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا زوال اور تیز ہو گیا اور روسی دیو تیزی سے مشرق و مغرب میں مختلف علاقوں کو نگلتا چلا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس روس کی اس تیز رفتار توسیع کو بہت بڑا خطرہ سمجھتی تھیں کیونکہ اس سے ایک جانب جہاں علاقے میں ان کے مفادات کو براہ راست ٹھیس پہنچ رہی تھی وہیں دوسری جانب ایشیا اور افریقہ میں ان کے مقبوضات کا رابطہ بھی منقطع ہو سکتا تھا اور اپنے مقبوضہ علاقوں کی راہ میں روس جیسی عظیم قوت حائل ہونے کا واضح مطلب یہی تھا کہ یورپی قوتیں اپنی سونے کی چڑیاؤں سے محروم ہو جائیں۔ یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث برطانیہ اور فرانس نے روس کے مقابلے میں سلطنت عثمانیہ کی حمایت کی۔

سلطنت عثمانیہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور مالی و دفاعی اعتبار سے کمزوری اسے روس کے مقابلے میں تر نوالہ بنا رہی تھی۔ “بدقسمتی” سے اسلام اور عیسائیت کے لیے مقدس ترین مقامات بھی اسی سلطنت میں (بیت المقدس میں) واقع تھے اور یوں عیسائی رعایا کے محافظ قرار دیے جانے کے معاملے پر فرانس اور روس میں چپقلش ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔روس کے خلاف سسلطنت عثمانیہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر جنگ (جنگ کریمیا) میں حصہ لیا اور عالمی تجارتی آبی گزرگاہوں پر روسی اثر و رسوخ کے خاتمے میں کامیاب ہو گئیں۔

اس جنگ کے دوران روس کے زار نکولس اول نے ایک یادگار جملہ ادا کیا تھا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا اور آج تک بطور اصطلاح جملہ رائج ہے۔ انہوں نے برطانوی سفیر کے ایک مکتوب میں سلطنت عثمانیہ کے بارے میں یہ کہا:

عثمانی سلطنت ایک مردِ بیمار ہے، بہت زیادہ بیمار، ایک ایسا “مرد” جو ضعف وشکستگی کی حالت تک پہنچ چکا ہے

اس طرح “مردِ بیمار” کی یہ ایسی اصطلاح وجود میں آئی جو آج بھی ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دفاعی و مالیاتی اعتبار سے عالمی قوتوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ درحقیقت یہ ایک ایسا طعنہ تھا جو ایک ملک کے سربراہ نے اپنے دشمن ملک کے لیے استعمال کیا بلکہ اگر واضح الفاظ میں کہا جائے کہ جنگی تناؤ کے دوران حوصلہ پست کرنے کے لیے دشمن ملک کو گالی دی گئی۔

اب ڈیڑھ صدی کے بعد یہ کارنامہ ہمارے صدر نے انجام دیا ہے کہ اپنے ہی ملک کو اس گالی کا حقدار قرار دیا ہے۔

Google Buzz

جوتے دو ہی اچھے

تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال

جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔

بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میں ہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈربھی۔ بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔”غیر مہذب” منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک ”ذمہ دار” شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔

منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک ”عمل” اور ایک” لفظ” کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔

دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت کے ساتھ کئے جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔

15 دسمبر 2008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔

جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔

لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔

Google Buzz

آہ مشرقی پاکستان

آج 16 دسمبر ہے۔ ملکی تاریخ کا وہ سیاہ دن جب قائد اعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں، کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس وطن کے قیام میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھر 1971ء میں اس کو بچانے کے لیے بھی ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں دیں لیکن دلوں میں موجود نفرتوں کا لاوا سب کچھ جلا کر راکھ کر گیا۔ حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی، فوج کی ہر معاملے کو بزور قوت حل کرنے کی پالیسی، جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے کی حکمت عملی نے سب کچھ خاک میں ملا دیا۔

حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم نے سقوط مشرقی پاکستان سے کچھ نہ سیکھا بلکہ بقول ہیگل کہ ” تاریخ سے یہ سبق سیکھا گیا ہے کہ کسی قوم اور حکومت نے تاریخ سے کوئي سبق نہیں سیکھا”

والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ

“71ء کی جنگ کے دوران پاکستان کا سرکاری میڈیا “سب اچھاہے” کہ راگ الاپ رہا تھا اور ٹائیگر نیازی کے یہ بیان بھی پیش ہوتے تھے کہ “ڈھاکہ فتح کرنے کے لیے دشمن کو میری لاش پر سے گزرنا ہوگا”۔ دوسری جانب مغربی پاکستان کی عوام کو حقیقت سے بالکل بے خبر رکھا گیا اور پھر 16 دسمبر کے منحوس دن اچانک ابو گھر میں داخل ہوئے۔ ہشاش بشاش طبیعت کے حامل ابو یکدم مجھے بہت بوڑھے لگے۔ چہرے کی جھریاں بہت زیادہ نمایاں لگنے لگیں اور کندھے جھکے ہوئے، بلکہ ایک نظر میں ہی ایسا لگتا کہ ہوش و حواس میں نہیں ہیں۔ گھر والوں نے خیریت کا پوچھا تو ان سے رہا نہ گیا اور ایک دم اندر کا غم آنسوؤں کی صورت میں امنڈ پڑا اور اس صورت میں منہ سے جو الفاظ نکلے وہ ہمارا کلیجہ چیرنے کے لیے کافی تھے کہ قائد کا پاکستان اب نہیں رہا۔ والدہ بتاتی ہیں کہ یہ والد صاحب کی زندگی کا واحد موقع تھا جب میں نے انہیں روتا دیکھا۔ اس کے بعد تین دن تک نہ ہمارے گھر میں کسی نے ایک دوسرے سے بات کی اور نہ چولہا جلا۔ ہر کوئی کونوں کھدروں میں روتا دکھائی دیتا۔”

Google Buzz

جوتا بھی دس نمبری نکلا

امریکہ کے صدر جارج بش کی جانب سے مقبوضہ عراق کا اچانک الوداعی دورہ اس وقت کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا جب عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے ان کی جانب جوتے برسائے تاہم وہ کمال پھرتی سے غچہ دینے میں کامیاب ہو گئے اور آخر کیوں نہ ہوتے آخر وہ ہالی ووڈ کے دیس سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ہیرو گولیوں کو پچھاڑ دیتا ہے یہ تو پھر یہ معمولی جوتا تھا۔
بہرحال یہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا ہمارے چٹ پٹ میڈیا نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا حتٰی کہ جنگ اور ایکسپریس جیسے موقر روزناموں نے بھی اس خبر کو ‘سپر لیڈ’ میں جگہ دی حالانکہ اس اہم اور نازک موقع پر- جب برطانوی وزیراعظم کی پاکستان آمد، صدر آصف زرداری کے بیان، بھارتی فضائیہ کی جانب سے دراندازی کی تردید جیسی اہم خبریں موجود تھیں- اس خبر کی جگہ وہ بننی چاہیے تھی جو اسے روزنامہ جسارت (اشاعت 15 دسمبر 2008ء) نے دی یعنی صفحہ اول پر سب سے نیچے دو کالمی خبر۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً چہار سو پھیل گئی اور پھر جتنے منہ اتنی باتیں۔ ان تمام باتوں میں سے کچھ باتیں ایسی تھیں جنہیں سن کر بے اختیار ہنسنے کو جی چاہتا۔ چند تیکھے جملے نذرِ قارئین:
- اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے جوتے اتروا لئے جائیں گے
- ایک بات تو ثابت ہوئی کہ موصوف نے بیس بال کھیلنا شاید اسی لمحے کیلئے شروع کیا تھا
- جوتے کی قسمت اچھی تھی کہ بشکے پلید جسم کہ ساتھ مس ہونے سے بچ گیا
- صحافی کو جوتوں کے بجائے ہینڈ گرنیڈ پھینکنا چاہیے تھا۔
- کاش صحافی کے پیر کا سائز تھوڑا بڑا ہوتا بلکہ کہیں زیادہ بڑا ہوتا۔
- کاش نشانہ خطا نہ ہوتا ۔ سوالات کو گھما پھر کر جواب دینے میں تو بش کمال نہیں رکھتے لیکن جوتوں کو کمال مہارت سے غچہ دے گئے۔
- ممکن ہے صرف صحافیوں کے لیے ہی نہیں تمام مسلموں کے لیے جوتا پہننا ممنوع ہو جائے کہ امریکی شہریوں کی جان کو اب جوتوں سے بھی خطرہ ہے
- میں اس کارِ خیر کے لیے اپنے جوتے عطیہ کرنے کو تیار ہوں لیکن ٹھیریے پہلے میں ان میں سیسے کے تلوے لگوالوں۔
- ہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بش کے پاس جوتوں کی دو جوڑیاں ہو گئیں۔
- بش کے مطابق جوتا 10 نمبر کا تھا۔ واقعی 10 نمبری تھا ورنہ اسے لگتا ضرور۔

Google Buzz

اردو بلاگز کی بڑی کامیابی — جریدے میں مضمون کی اشاعت

گزشتہ دنوں ایک عزیز نے بتایا کہ روزنامہ جسارت کراچی کے سنڈے میگزین (اشاعت 30 نومبر 2008ء) میں اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر قارئین کے تبصروں کے بارے میں ایک مضمون شایع ہوا ہے۔
تلاش بسیار کے بعد یہ مضمون مل گیا۔ این خان نے اس مضمون میں اردو بلاگز کی تحاریر اور ان پر قارئین کے تبصروں کو پیش کیا ہے۔ یہ اردو بلاگز کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کی تحاریر کو اخباری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس قابل سمجھایا گیا ہے کہ اخبار کی زینت بنایا جائے۔میری طرف سے تمام اردو بلاگرز کو بہت بہت مبارک باد ۔
بہرحال مجھے دو چیزوں کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے ایک اگر ان تمام بلاگرز کو تبصرے کے ذریعے آگاہ کر دیا جاتا کہ آپ کے بلاگ کی تحریر اور تبصروں پر مشتمل مضمون فلاں تاریخ کو سنڈے میگزین کی زینت بنے گا تو اچھا لگتا۔ دوسری بات اگر زیر موضوع تمام بلاگز کے لنکس آخر میں فراہم کر دیے جاتے تو لوگ ان اردو بلاگز کی دیگر تحاریر سے بھی مستفید ہو پاتے۔
بہرحال فی الحال تو میں بھی خوش ہوں کہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا ہے کیونکہ تحاریر کو تو اس قابل نہیں سمجھا گیا لیکن میرے نام سے دو تبصرے ضرور اس مضمون کا حصہ بنے ہیں :)
bloggers-article-jasarat

Google Buzz

عید نامہ

اب جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں عید منائی جا چکی ہے۔ تو برادر ساجد اقبال کی تحریک پرگزری عید کا کچھ احوال ہی تحریر کر جاتے ہیں تاکہ عوام و خواص کو اندازہ ہو جائے کہ کراچی میں عید کس طرح کی منائی جاتی ہے یا اس مرتبہ کس طرح کی منائی گئی؟

مویشی منڈیاں

تصویر از: اسما مرزا
کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔ چند سال قبل ہر گلی کوچے میں منڈیاں کھمبیوں کی طرح اُگ آتی تھیں۔ پھر ضلعی حکومتوں کے نظام کے آتے ہی اس سلسلے کو کچھ منظم صورت دی گئی اور صرف مخصوص مقامات پر ہی منڈی قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں شہر کے گلی کوچوں کو بن بلائے مہمانوں کی مصیبت سے آزادی ملی۔ اس مصیبت کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ چشم تصور میں سوچئے کہ آپ کے گھر کے سامنے پچاس بکرے کھڑے ہوں اور تمام دن ان کی “ہاؤ ہو” کے علاوہ گاہکوں اور بیوپاریوں کے بھاؤ تاؤ کا غلغلہ مچا ہوا ہو۔
پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا ‘وی آئی پی پویلین’ ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔ منڈی کے اس حصے کی رونق اُن کے دم سے ہے جن کے آمدنی کے ذرائع “نامعلوم” ہیں، اس لیے جس طریقے سے کمایا ویسے ہی خرچ کر ڈالا۔ بہرحال اس منڈی میں مال بیچنے والے گائے بیل کے ایک لاکھ روپے اس طرح بولتے ہیں جیسے یہ لاکھ نہیں بلکہ دس روپے کہہ رہے ہوں۔ اس منڈی میں اسپیشل بکروں کی قیمتیں بھی لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہیں جبکہ گائے بیل کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک کی بھی ہوتی ہے۔

نت نئے کاروبار

تصویر از اسما مرزا
ایک جانب جہاں یہ مویشیوں کے یہ ننھے شہر آباد ہوتے ہیں وہیں عید قربان سے وابستہ کئی نت نئے کاروبار بھی جنم لیتے ہیں۔ گھاس اور چارا بیچنے والے عام ہو جاتے ہیں، جانوروں کی باربرداری میں استعمال ہونے والی مخصوص گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی پھرتی نظر آنے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے عید کے دن قریب آنے لگتے ہیں چھریاں بیچنےوالوں کی تعداد اور انہیں تیز کرنے والوں کے کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ منڈی کے ارد گرد جانوروں کی سجاوٹ کے سامان سے لدی پھندی دکانیں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔ گویا منڈی کے قریبی علاقوں میں ہر دن روزِعید اور رات شبِ برات ہوجاتی ہے۔

موسمی قصائی

عید قرباں کے حوالے سے کراچی کی ایک اور خاص “روایت” یہاں “موسمی قصائیوں” کا برساتی مینڈکوں کی طرح پیدا ہو جانا ہے۔ عید کے ایام میں جب ہر شخص جلد از جلد قربانی کرنے کا خواہاں ہوتا ہے تو یکایک قصائیوں کا کال پڑ جاتا ہے تو اس “کمی” کو پورا کرنے کے لیے “رضاکاروں” کے ٹولے گلی محلوں میں وارد ہو جاتے ہیں اور پھر “مجبوری کا نام شکریہ”۔
قصائی کے بھاؤ سے نصف سے بھی کم میں یہ لڑکے جانور کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔۔۔۔ اس کی کھال کو تو دو کوڑی کا بھی نہیں چھوڑتے کہ پھر وہ صرف مچھلیاں پکڑنے کے کام آ سکتی ہے۔ اور گوشت کو قیمہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث ہڈیوں کے کچومر میں بوٹیاں چھوڑ کر اگلے “شکار” کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ اگر عید کے ایام میں کسی عزیز کے ہاں دعوت پر جانے کا اتفاق ہو اور کھانا کھانے کے دوران بار بار آپ کے منہ میں چھوٹی چھوٹی ہڈیاں آئیں تو سمجھ جائیے کہ جانور کسی ایسے ہی موسمی قصائی کے ہتھے چڑھ گیا ہوگا۔ بہرحال اگر یہ موسمی قصائی نہ ہوں تو کئی لوگ عید کے تین دن قصائی کو ڈھونڈنے میں ہی صرف کر دیں اور سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے محروم رہ جائیں۔
مزا تب آتا ہے جب کسی علاقے میں موسمی قصائیوں کا واسطہ کسی “ڈاڈے” جانور سے پڑ جائے۔ اور پھر وہ واقعہ جنم لیتا ہے جو تمام عینی شاہدین اکثر عید قربان کے دنوں میں جانوروں کے موضوع پر گفتگو کے دوران سناتے ہیں۔

قربانی کی کھالیں

شہر کراچی میں کیونکہ وطن عزیز کی سب سے زیادہ قربانیاں ہوتی ہیں اس لیے قربانی کی کھالوں کے باعث یہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اداروں کے لیے سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیشتر امدادی و حقوق انسانی کے اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ قربانی کی کھالیں ہی ہیں۔ ابتداء میں تو یہ کام چند تنظیمیں ہی کیا کرتی تھیں لیکن جب اس منفعت بخش کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو ہر کوئی اس میں کود پڑا اب یہ کراچی میں اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے۔
اب عید الاضحی کے پہلے روز صبح سے تیسرے روز کی شام تک آپ کو ہر گلی میں مخصوص ٹوکری لیے پیدل، موٹرسائیکلوں یا سائیکلوں پر مختلف افراد دکھائی دیں گے جو ان تین دنوں میں جان توڑ محنت کرکے اپنے ادارے کے سال بھر کے بجٹ کا انتظامکر جاتے ہیں۔

عید سنگینوں کے سائے تلے

جب سے کراچی میں قوم پرستی نے جنم لیا ہے اسی دن سے یہاں کا امن و سکون غارت ہو گیا اور گزشتہ دو دہائیوں سے تو یہ صورتحال ہے کہ ہر عید قربان پر کھالیں چھیننے کے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں اور اس چھینا جھپٹی میں کچھ جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے عیدین پر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر کے انہیں ڈیوٹیوں پر بلایا جاتا ہے اور اس عید پر بیشتر پولیس و رینجرز اہلکاروں کی ڈیوٹیاں کھالیں جمع کرنے والے اداروں کے ساتھ ہی لگتی ہیں تاکہ کھالوں کی ترسیل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔
ماضی قریب میں جب شہر بدامنی کا گہوارہ تھا تو ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں عید قربان سے قبل کھال دینے کا وعدہ نہ کرنے پر جانور کو گولی مار دی گئی یا پھر کھال اترنے کے بعد کھال کے حریف “امیدوار” پہنچ گئے اور ان کی دھینگا مشتی کا خمیازہ کسی مظلوم کو بھگتنا پڑ گیا اور یوں وہ جانور کے ساتھ خود بھی قربان ہو گیا۔

اجتماعی قربانی

آج سے ایک ڈیڑھ دہائی قبل کراچی میں ایک مذہبی جماعت نے اجتماعی قربانی کے رواج کو عام کیا۔ جو قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے کی “بدعت” کے بعد اس جماعت کی دوسری اختراع تھی۔ ابتدا میں تو دیگر تنظیموں کو یہ جھنجٹ لگا کہ کون جانوروں کوخریدنے کا انتظام کرے، انہیں پالے، قصائی کا انتظام کرے اور پھر گوشت کی تقسیم تک کےتمام مراحل کو منظم کرے اس لیے کسی نے اس جانب کان نہیں دھرا۔ لیکن اس کا ایک بہت بڑا فائدہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کے لیے در در بھٹکنے کے جھنجٹ سے آزادی ملی اور یوں اگر 15 سے 20 جانور بھی اجتماعی قربانی میں مل جائیں تو یہ علاقے میں بہت بڑی کامیابی تسلیم کی جاتی۔ بہرحال جب اس کے فوائد “منظر عام” پر آئے تو ہر ایرے غیرے نے “اجتماعی قربانی” کے بینر لٹکا کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی۔ اب یہ کراچی میں عید قربان سے منسلک ایک اہم ایونٹ تسلیم کیا جاتا ہے۔

تعفن زدہ ماضی، صاف ستھرا حال

بچپن میں عید قرباں کے بعد شہر میں گندگی کے وہ مناظر دیکھا کرتے تھے کہ آج بھی سوچ کر جھرجھری آ جاتی ہے۔ سڑکوں پر، گلیوں میں، کوڑے کے ڈھیروں پر ہر جگہ آلائشیں ہی آلائشیں۔ ہر گھر کے سامان خون کا سیلاب بہتا دکھائی دیتا۔ جانوروں کی آلائشوں سے بدبو کے وہ بھبکے اٹھتے کہ گلیوں سے گزرنا محال ہو جاتا۔ گزشتہ شہری حکومت نے اس سلسلے میں پہلی مرتبہ سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور آلائشیں اٹھانے کی مہم بڑے پیمانے پر چلائی اور یوں شہر میں آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا ایک منظم انتظام ہوا۔ اب گزشتہ 8 سالوں سے شہر میں وہ گندگی نہیں ہوتی جو ہر مرتبہ عید قربان کے بعد ہوا کرتی تھی۔
اس لیے میں کہتا ہوں کہ ضلعی حکومتوں کے نظام سے کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن اہلیان کراچی کو بہت فائدہ ہوا۔
“رضاکار فورس” جانوروں کی رکھوالی و دیکھ بھال کی ذمہ دار
اندرون شہر میں جہاں کئی منزلہ عمارتوں میں لوگ رہتے ہیں اور گھر کے ساتھ صحن یا زمین پر ایک دو منزلہ مکانوں کا رواج نہيں وہاں جانوروں کو سنبھالنا کافی مشکل ہو سکتا ہے اس کے لیے چند “رضاکار” میدان میں کودتے ہیں اور محلے میں واقع کسی میدان یا گلی میں شامیانے اور قناتیں لگا کر جانوروں کی رکھوالی کا فریضہ سنبھالتے ہیں۔ یہ نازک کام انجام دینے کا وہ معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں، چند چارہ کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتے ہیں اور فی یوم کے حساب سے چارج لیتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف رکھوالی کی ذمہ داری لیتے ہیں چارہ مالکان خود فراہم کرتے ہیں۔ کراچی شہر میں جہاں جانوروں کا چھن جانا عام ہے وہاں یہ اہم ذمہ داری انجام دینا بہت دل گردے کا کام ہے۔

عید کا مردانہ پہناوا

کراچی کا ایک رواج یہ بھی ہے کہ مردوں کی اکثریت نئے کپڑے صرف عید الفطر پر ہی سلواتی ہے اور عید الاضحی پر صرف نماز کے لیے میٹھی عید کا شلوار قمیص یا کرتہ زیب تن کیا جاتا ہے اور نماز سے واپس واپس آتے ہی تمام مرد کپڑے بدل کر “قصائی” بن جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ جانور کو ذبح کرنے کے عمل میں حصہ ڈالیں لیکن کم از کم جانور کو سنبھالنے اور گوشت کی رشتہ داروں،عزیزوں اور محلے میں تقسیم کا فریضہ انجام دینے کے لیے ہی ان کا کپڑے بدلنا لازم ہو جاتا ہے۔

بچہ پارٹی

“عید تو بچوں کی ہوتی ہے” یہ جملہ بہت مشہور ہے اور واقعی بہت بڑی حقیقت بھی۔ عید قربان پر تو بچوں کی یہ عید کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی ہے۔ ایک ڈیڑھ ہفتہ قبل سے ہی جانوروں کی محلوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یوں ہر بیل، گائے، بھینس، بھیڑ اور بکرے کے پیچھے دوڑتے یہ بچے محلے کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان بچوں کو ایک ایک گھر کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ کس کے گھر میں کون سا جانور آیا ہے اور اسے کتنے میں خریدا گیا؟ محلے بھر کی خبر گیری کرنےوالی یہ سروس عید قربان کے آخری دن تک تمام خبریں اپنے پاس رکھتی ہے اور لمحہ لمحہ کی رپورٹ اپنے گھر میں کرتی رہتی ہے کہ کس کی گائے کٹ چکی ہے، کس کا اونٹ کس وقت قربان کیا جائے گا اور کس کو قصائی نہیں مل رہا :)

Google Buzz

منافقت کی حدوں کو چھوتا میڈیا

ذرائع ابلاغ تو کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں اور اپنے ذرائع ابلاغ کے جائزے سے تو ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہم منافقت کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔
کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے سے حالات جو رخ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اردو بولنے والوں اور پشتون آبادی کے درمیان تنازع کے بعد شہر ایک آتش فشاں پر کھڑا ہوا ہے، کچھ لاوا تو گزشتہ ہفتہ نکل چکا لیکن اگر یہ آتش فشاں پھٹ پڑا تو پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت کئی سالوں بعد ایک مرتبہ پھر بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
بہرحال بات ذرائع ابلاغ کے کردار کی ہو رہی تھی۔ ملک بھر کے خبری چینلز اور اخبارات اس حقیقت کا کھل کر اظہار نہیں کر رہے کہ تنازع کن فریقین کے مابین ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ شروعات آخر کیسے ہوئی؟ اور ان فسادات کا نشانہ کون بن رہا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام فسادات میں نقصان صرف اور صرف غریب طبقے کا ہوا ہے۔
ذرا ایکسپریس اخبار کی اس خبر کو دیکھئے، یہ خبر جہاں زبان حال سے بہت کچھ کہہ رہی ہے وہیں اس میں “مخصوص طبقہ” کا لفظ اس اخبار کی
منافقت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیا اس “طبقے” کا نام لینا بھی اب “گناہ” ہو گیا ہے؟


حوالہ:
روزنامہ ایکسپریس کراچی اشاعت 2 دسمبر 2008ء

Google Buzz

احیائے اسلام کے لیے ناگزیر کام

اپنا صحیح رول ادا کرنے کے لیے اسلام کے لیے ایک امت اور قوم کی شکل اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ دنیا کے کسی دَور میں، اور بالخصوص دورِ حاضر میں، کبھی ایسے خالی خولی نظریہ پر کان نہیں دھرا جس کا عملی مظہر اسے جیتی جاگتی سوسائٹی میں نظر نہ آئے۔ اس لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امت مسلمہ کا “وجود” کئی صدیوں سے معدوم ہو چکا ہے کیونکہ امتِ مسلمہ کسی ملک کا نام نہیں ہے جہاں اسلام بستا رہا ہے اور نہ کسی “قوم” سے عبارت ہے جس کے آباؤ اجداد تاریخ کے کسی دور میں اسلامی نظام کے سائے میں زندگی گزارتے رہے ہیں بلکہ یہ اس انسانی جماعت کا نام ہے جس کے طور طریق، افکار و نظریات، قوانین و ضوابط، اقدار و معیار رد و قبول سب کے سوتے اسلامی نظام کے منبع سے پھوٹتے ہیں۔ ان اوصاف و امتیازات کی حامل امتِ مسلمہ اسی لمحہ سے نہان خانۂ عدم کی نذر ہو چکی ہے جس لمحہ روئے زمین پر شریعتِ الٰہی کے تحت حکمرانی و جہانبانی کا فریضہ معطل ہوا ہے۔ لیکن اگر اسلام کو دوبارہ وہ کردار ادا کرنا ہے جس کے لیے آج انسانیت چشم براہ ہے تو ناگزیر ہے کہ پہلے امت مسلمہ کے اصل وجود کو بحال کیا جائے، اور اس امتِ مسلمہ کو از سرِ نو زندہ کیا جائے جس پر کئی نسلوں کا ملبہ پڑا ہوا ہے، جو غلط نظریات کے انباروں میں دبی پڑی ہے، جو خود ساختہ اقدار و روایات کے اندر مدفون ہے اور جو ان باطل قوانین و دساتیر کے ڈھیروں میں پنہاں ہے جن کا اسلام اور اسلام کے طریقۂ حیات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود اب تک اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ اس کا وجود قائم و دائم ہے اور نام نہاد “عالم اسلامی” اس کا مسکن ہے!
میں اس بات سے بے خبر نہیں ہوں کہ تجدید و احیاء کی کوشش اور حصول قیادت کے درمیان بڑا طویل فاصلہ ہے۔ ادھر امتِ مسلمہ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے اصل “وجود” کو عرصۂ طویل سے فراموش کر چکی ہے، اور تاریخ کے اسٹیج سے رخصت ہوئے اسے زمانۂ دراز گزر چکا ہے۔ غیر حاضری کے اس طویل وقفے میں انسانی قیادت کے مناسب پر مختلف نظریات و قوانین، اقوام اور کچھ روایات قابض پائی گئی ہیں۔ یہی وہ دور تھا جس میں یورپ کے عبقری ذہن نے سائنس، کلچر، قانون اور مادی پیداوار کے میدان میں وہ حیرت ناک کارنامے انجام دیئے، جن کے باعث اب انسانیت مادی ترقی اور ایجادات کے نقطۂ عروج پر پہنچ چکی ہے چنانچہ ان کمالات پر یا ان کمالات کے موجدین پر بآسانی انگلی نہیں دھری جا سکتی۔ خصوصاً اس حالات میں جب کہ وہ خطۂ زمین جسے “دنیائے اسلام” کے نام سے پکارا جاتا ہے ان ایجادات سے قریب قریب خالی ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود اسلام کا احیاء نہایت ضروری ہے۔ احیائے اسلام کی ابتدائی کوشش اور حصولِ امامت کے درمیان خواہ کتنی ہی لمبی مسافت حائل ہو اور خواہ کتنی ہی گھاٹیاں سد راہ ہوں، احیائے اسلام کی تحریک سے صرف نظر نہيں کیا جا سکتا۔ یہ تو اس راہ میں پہلا قدم ہے اور ناگزیر مرحلہ!
(معالم فی الطریق از سید قطب شہید – اردو ترجمہ “جادہ و منزل” از خلیل احمد حامدی)

Google Buzz