تحاریر برائے ماہِ جنوری ، ۲۰۰۹


ترک وزیراعظم کا دلیرانہ اقدام

ترکی پہلا مسلم اکثریتی ملک ہے جس نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا اور گزشتہ 60 سالوں سے اسرائیل اور اس کے درمیان اقتصادی، عسکری و سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ترکی اسرائیل کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 3 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ 2008ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ بھی گزشتہ 9 سالوں سے قائم ہے۔ علاوہ ازیں عسکری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بحری جنگی مشقیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی ہر لحاظ سے دونوں ممالک بہترین تعلقات میں بندھے ہیں لیکن تمام تر معاشی و عسکری رشتوں کے باوجود ترکی ماضی میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کی ہمیشہ کرتا آیا ہے اور 2004ء میں شیخ احمد یاسین کی شہادت کو دہشت پسند اقدام اور غزہ میں اسرائیلی پالیسی کو ریاستی دہشت گردی قرار دے چکا ہے۔

erdogan_peres

اردوگان اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

لیکن غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور تقریباً ڈیڑھ ہزار انسانوں کے قتل عام نے پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی اور اس جارحیت کے خلاف عوامی سطح پر بھی زبردست احتجاج سامنے آیا۔ ترکی نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیلی اقدامات کو “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیا۔ دوسری جانب عوام نے ملک بھر میں زبردست مظاہرے کیے اور استنبول میں دو لاکھ افراد نے غزہ کے باشندوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

گزشتہ روز (29 جنوری 2009ء بروز جمعرات) سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی تقریر پر سخت احتجاج کیا۔ جس پر اسرائیلی صدر نے زہریلا تبصرہ کرتے ہوئے کہا

ترکی کو اس وقت شور مچانا چاہیے جب میزائل استنبول پر گریں

اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دینے کی کوشش کے دوران میزبان نے ترک وزیراعظم سے معذرت کی کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے جس پر رجب طیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم کو کہا کہ “تم معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہو”۔ انہوں نے اسرائیلی صدر کی تقریر پر تالیاں بجانے والے شرکاء پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل عام پر تالیاں بجانے کا کوئی جواز نہیں۔ میزبان کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر رجب طیب نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اب میں کبھی ڈیووس اجلاس میں شرکت کروں گا۔ (واقعے کی مزید تفصیلات یہاں دیکھیے)

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں (تصویر: روزنامہ ایکسپریس)

ترک عوام نے وزیراعظم کے اس دلیرانہ اقدام کو سراہا ہے اور وطن واپسی پر ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ جمعہ کی صبح جب وہ وطن واپس پہنچے تو ایئرپورٹ پر 5 ہزار افراد ترک اور فلسطینی جھنڈے لیے ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

Google Buzz

وسط ایشیا میں احیائے زبان

نو آبادیاتی دور میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے غلام مسلمانوں کا مذہبی و قومی تشخص مسخ کرنے کی منظم انداز میں کوششیں کی گئیں لیکن جو انداز روس کے زیر قبضہ وسط ایشیائی ممالک میں اختیار کیا گیا وہ شاید پرتگال کے زیر نگیں انگولا اور بیلجیم کے زیر قبضہ کانگو میں بھی نہ تھا۔ بس وہ مظالم اس لیے “ہولوکاسٹ” نہیں کہلائے کیونکہ ایک تو وہ مظلوم مسلمانوں کا لہو تھا، دوسرا مسلمانوں کے پاس یہودیوں جیسا طاقتور میڈیا نہ تھا اور نہ ہے۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ استبداد ذرائع ابلاغ کی معمولی آزادی کا بھی قائل نہ تھا اس لیے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے تشخص و ثقافت کی پامالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا عشر عشیر بھی دنیا پر ظاہر نہ ہو سکا۔
روس میں زار کے دور میں ڈھائے گئے مظالم کو تو ملوکیت کا جبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن (نام نہاد) مساوات کی قائل اشتراکی حکومت نے پسے ہوئے مسلمانوں جبر کے جو پہاڑ توڑے وہ مساوات کے نام پر دھبہ ہیں۔ اشتراکی حکومت کی پہلی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے جدا کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جہاں فوری طور پر مدارس و مساجد کو بند کیا گیا وہیں ایسا ادب پھیلایا گیا جو نوجوان نسل کو اپنے دین سے برگشتہ کردے۔
اس لیے منظم اشتراکی کوششوں کا پہلا نشانہ بھی مسلم ادب ہی بنا اور مسلمانوں کو اپنی کتابوں سے بیگانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عربی رسم الخط کی بے ثباتی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا اور باقاعدہ قراردادیں منظور کر کے اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عربی رسم الخط جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اس لیے ضروری ہے کہ عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبانوں لاطینی رسم الخط پر منتقل کیا جائے۔ اور یوں ان نام نہاد کانفرنسوں کی قراردادوں پر لبیک کہتے ہوئے بیک جنبش قلم مسلمانوں کا اپنے ماضی سے ناطہ توڑ دیا گیا اور وسط ایشیا کے مسلمانوں کی تمام زبانوں کو لاطینی رسم الخط میں منتقل کر دیا گیا۔
لیکن جب ترکی نے 1928ء میں ترک زبان کو عربی رسم الخط سے لاطینی رسم الخط پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تو گویا اس امر سے بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ مسلمانوں کے لیے ترک سیکولر ازم بھی “ذریعۂ ہدایت” ہو سکتا ہے اس لیے وسط ایشیائی زبانوں کو لاطینی کے بجائے سیریلک (Cyrillic)، یعنی روسی، رسم الخط میں لکھنے کا اعلان کیا گیا اور یوں وسط ایشیائی باشندے اپنے تاریخی ادبی ورثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور انہیں انجان راہوں پر ڈال دیا گیا۔
واضح رہے کہ وسط ایشیائی مسلمان ازبک، تاتار، قازق، کرغز اور التائی زبانیں بولتے ہیں جو تمام کی تمام ترک زبان سے قریبی تعلق رکھتی ہیں جبکہ تاجک زبان پر فارسی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن رسم الخط کی تبدیلی نے ان زبانوں کو اپنی قریبی زبانوں اور اپنے ثقافتی و تاریخی ورثے سے کاٹ کر رکھ دیا اور ایک ایسے نامانوس ماحول میں لا کھڑا کردیا، جہاں صرف اور صرف اشتراکیت و الحاد کا غلغلہ تھا۔
بہرحال جبر کی یہ ریاست 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے انجام کو پہنچی۔ جہاں بیشتر نو آزاد ریاستوں نے تو اس “سنہری قفس کو ہی آشیاں” سمجھ کر قبول کر لیا وہیں چند وسط ایشیائی ریاستوں نے ایک بار پھر اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنےکی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان نے کوششوں کا آغاز کیا ہے کہ “ٹوٹے ہوئے سلسلے” کو دوبارہ جوڑا جائے۔ اس حوالے سے ماضی قریب میں تاجکستان کی جانب سے اس خواہش کا بھی شدت سے اظہار کیا گیا ہے کہ تاجک زبان کو ایک مرتبہ پھر فارسی رسم الخط میں تبدیل کیا جائے لیکن دہائیوں کے بعد حقیقی زبان کا احیاء مشکل تو ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں اور اس کے لیے اتنا ہی وقت درکار ہوگا جتنا لاطینی و سیریلک رسم الخط کے قبولیت عام حاصل کرنے میں لگا تھا۔
رسم الخط کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حال ہی میں ایک سافٹ ویئر جاری کیا گیا ہے جو سیریلک رسم الخط میں لکھی گئی تاجک زبان کو فارسی یعنی عربی رسم الخط میں تبدیل کر دے گا۔ اس سافٹ ویئر کو اس لیے اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تاجک عوام تیزی سے فارسی رسم الخط سے دوبارہ آشنائی حاصل کریں گے اور نتیجتاً حکومت کو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا جلد موقع ملے گا جس کا اظہار گزشتہ سال تاجک نائب وزیر ثقافت نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔
یہ سافٹ ویئر ریاضی کے طالب علموں لیونڈ گریشچینکو اور الیکسے فومن نے ماہرِ تعلیم ظفر عثمانوف اور دودیخودو سیمع الدینوف کی زیر نگرانی تشکیل دیا ہے۔ فومن کے مطابق یہ پروگرام اب اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی لکھی ہوئی تاجک تحریر کو سیکنڈوں میں فارسی تحریر میں بدل دے اور یہ تحریر 90 فیصد درست ہو گی۔
ظفر عثمانوف نے اس سلسلے میں بتایا کہ لاطینی رسم الخط اور پھر سیریلک رسم الخط کی جانب منتقلی سے تاجک زبان اپنے سالوں کے سائنسی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو گئی۔ 1980ء کی دہائی میں ماضی سے یہ رشتہ دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت ایسی ٹیکنالوجی موجود نہ تھی جو اس مسئلے کو حل کر سکے۔

Google Buzz

تاریخ میں آج کا دن: سانحۂ چیلنجر شٹل

خوب سے خوب تر کی جستجو اور بڑے سے بڑے چیلنج کو قبول کرنے کی قوت و صلاحیت نے انسان کو ترقی کی معراج پر پہنچایا ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان جو خواب دیکھتا آیا، حالیہ چند صدیوں میں اس کی تعبیر پائی۔
انسان کے بڑے خوابوں میں سے ایک آسمان کی وسعتوں کو چھونا تھا۔ پرندوں کے اس ہمہ وقت چیلنج کو انسان نے قبول کیا اور اڑنے کی سعی کی۔ عباس ابن فرناس سے شروع ہونے والا کوششوں کا یہ سفر بالآخر رائٹ برادران پر آ کر درست سمت پر گامزن ہو گیا اور انسان نے ان بسیط فضاؤں میں قدم رکھا۔ لیکن انسان کی سیمابی طبیعت کہاں ان آسمانوں میں ٹھہرنے والی تھی، اس کی اگلی منزل ستارے قرار پائے اور پھر زمین کے مدار سے نکلنے کی جستجو اسے ہر لحظہ تڑپائے رکھتی۔ بالآخر سائنسی ترقی نے اسے بھی ممکن بنایا اور 1961ء میں انسان کا خلاؤں میں پہنچنے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوا۔ لیکن پھر نئی منزلیں نئی جستجوؤں کا محرک ثابت ہوئیں اور انسان کا قریبی ترین پڑوسی ‘چاند’ اگلا پڑاؤ بنا اور پھر 20 جولائی 1969ء کو نیل آرمسٹرانگ کا “ننھا سا قدم، انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی جست” قرار پایا۔
challenger_explosion
لیکن خلاؤں میں اس تحقیقی سفر کو ایک بہت بڑا جھٹکا آج سے ٹھیک 23 سال قبل اس وقت لگا جب امریکی خلائی شٹل چیلنجر پرواز کے چند سیکنڈوں بعد تباہ ہو گئی۔ 28 جنوری 1986ء کو فلوریڈا میں واقع ناسا کے مرکز سے اڑان بھرنے والی چیلنجر شٹل صرف 73 سیکنڈز بعد تمام سات خلا بازوں سمیت فضاؤں میں بکھر گئی اور خلائی تحقیق کے پروگرام کے مستقبل پر سوالیہ نشان ڈال گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاں امریکا کو ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا نقصان سہنا پڑا وہیں اگلے 32 ماہ تک خلائی تحقیقی پروگرام بھی رکا رہا۔ یہ تاریخ کے 10 مہنگے ترین حادثات میں سے ایک ہے۔
چند روز بعد سانحۂ کولمبیا شٹل کی چھٹی برسی ہے۔ جس کے نتیجے میں خلائی شٹل پروگرام میں تین سال سے زائد کا تعطل پیدا ہوا۔
(ان موضوعات پر مزید مطالعے کے لیے دیے گئے روابط ملاحظہ کیجیے)

Google Buzz

احمد حسن دانی انتقال کر گئے

معروف تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ مرحوم ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے جس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ انہیں 14 زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں اردو اور مقامی زبانوں پشتو، سندھی، پنجابی، کشمیری، سرائیکی کے علاوہ فارسی، فرانسیسی، ہندی، بنگلہ، مراٹھی، تامل، سنسکرت اور ترک زبانیں بھی شامل تھیں۔
وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں پاکستان، شمالی علاقوں، وسط ایشیا، ٹیکسلا، ٹھٹھ، وادی سندھ کی تہذیب اور بنگال کی عظیم تواریخ بیان کی گئی ہیں۔ (مکمل کتابیں یہاں گوگل کتب پر تلاش کی جا سکتی ہیں۔)

آثار قدیمہ کے لیے شاندار خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغۂ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ وہ متعدد غیر ملکی اعزازات کے بھی حامل تھے۔ (مکمل اعزازات)
ان کے بارے میں کچھ تفصیلات یہاں وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
اللہ مرحوم کے درجات کو بلند کرے اور ان کے کارناموں سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق دے۔

Google Buzz

نصر من اللہ و فتح قریب

نصر من اللہ و فتح قریب

Google Buzz

انسانی قیادت کے حصول کے لیے درکار صلاحیت

امتِ مسلمہ آج اس بات پر نہ قادر ہے اور نہ اس سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انسانیت کے سامنے مادی ایجادات کے میدان میں ایسے خارق عادۃ تفوق کا مظاہرہ کرے، جس کی وجہ سے اُس کے آگے انسانوں کی گردنیں جھک جائیں، اور یوں اپنی اس مادی ترقی کی بدولت وہ ایک بار پھر اپنی عالمی قیادت کا سکہ منوا لے۔ یورپ کا عبقری دماغ اس دوڑ میں بہت آگے جا چکا ہے اور کم از کم آئندہ چند صدیوں تک اس امر کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی کہ یورپ کی مادی ترقی کا جواب دیا جا سکے یا اس پر تفوق حاصل کیا جا سکے۔
لہٰذا ہمیں کسی دوسری صلاحیت کی ضرورت ہے۔ ایسی صلاحیت جس سے تہذیبِ حاضر عاری ہے مگراس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مادّی ترقی کے پہلو کو سرے سے نظر انداز کر دیا جائے۔ بلکہ اس معاملے میں بھی پوری جانفشانی اور جدوجہد لازم ہے لیکن اس نقطۂ نظر سے نہیں ہمارے نزدیک موجودہ مرحلے میں انسانی قیادت کے حصول کے لیے کوئی ناگزیر صلاحیت ہے، بلکہ اس نقطۂ نظر سے کہ یہ ہمارے وجود و بقا کی ایک ناگزیر شرط ہے۔ اور خود اسلام جو انسان کو خلافتِ ارضی کا وارث قرار دیتا ہے اور چند مخصوص شرائط کے تحت کارِ خلافت کو عبادتِ الٰہی اور تخلیق انسانی کی غرض و غایت خیال کرتا ہے، مادی ترقی کو ہم پر لازم ٹھیراتا ہے۔
انسانی قیادت کے حصول کے لیے مادی ترقی کے علاوہ کوئی اور صلاحیت درکار ہے۔ اور یہ صلاحیت صرف وہ عقیدہ اور نظامِ زندگی ہو سکتا ہے جو انسانیت کو ایک طرف یہ موقع دے کہ وہ مادی کمالات کا تحفظ کرے؛ اور دوسری طرف وہ انسانی فطرت کی ضروریات اور تقاضے ایک نئے نقطۂ نظر کے تحت اسی طمطراق کے ساتھ پورا کرے جس طرح موجودہ مادی ذہن نے پورا کیا ہے اور پھر یہ عقیدہ اور نظامِ حیات عملاً ایک انسانی معاشرے کی شکل اختیار کرے اور بالفاظِ دیگر ایک مسلم معاشرہ اُس کا نمائندہ ہو۔
اقتباس: “جادہ و منزل” از سید قطب شہید (مکمل کتاب کے مطالعے کے لیے یہاں کلک کیجیے)

Google Buzz

بھارت: جدت سے انتہاپسندی کی جانب سفر

ممبئی فسادات کے بعد جو مسلم اور پاکستان مخالف رحجان بھارت میں تقویت پاتا جا رہا ہے اس سے یہ بات بالکل عیاں ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ بھارت میں اگلے انتخابات میں مسلم مخالف اور پاکستان دشمن جذبات پر سیاست کھیلی جائے گی اور گزشتہ دنوں چند بیانات سے بھارتی سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے اقتصادی سطح پر جو ترقی کی اس نے مسلسل اس تاثر کو تقویت پہنچائی کہ بھارت اب تنگ نظری و انتہا پسندی کی دلدل سے نکلتا جائے گا اور اقتصادی مجبوریاں اس کی پاؤں کی بیڑیاں بنیں گی۔ لیکن 2002ء کے گجرات فسادات نے ان تمام خوش فہمیوں کا خاتمہ کر دیا اور حالیہ واقعات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مستقبل کا بھارت ہندو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے مسلم کش گجرات فسادات اس حقیقت کا اظہار تھے کہ بھارت انتہاپسندی کے آتش فشاں پر بیٹھا ہے۔

گجرات فسادات میں حکومتی کردار اس قدر واضح تھا کہ اس سے نظریں چرانا ممکن ہی نہیں خصوصاً ریاستی وزیر اعلی نریندر مودی کے بیانات اس حقیقت کا کھلا اظہار تھے کہ وہ اور ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) بھارت کو صرف اور صرف ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ گجرات فسادات میں ڈھائی ہزار مسلمانوں کا قتل عام اور ہزاروں کے سماجی مقاطعے (social boycott) کے واقعات “دمکتے بھارت” کے اصل چہرے کو بے نقاب اور وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرنے کے لیے کافی تھے۔

گجرات فسادات اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اس ردعمل کا باعث بنیں جسے “مسلم انتہاپسندی” کا نام دیا گیا۔ لیکن سالِ گزشتہ کے اواخر میں ممبئی حملوں کے بعد ہندو توا کے علمبرداروں کو پاکستان کی آڑ میں مسلم دشمنی کا نیا موقع ملا۔اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اگلے انتخابات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تب تک “پاکستان مخالف بیانات” کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اگر صرف ریاست گجرات کے تناظر میں بات کی جائے تو بھارت کی موجودہ اقتصادی ترقی میں ریاست گجرات بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس اہم ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کا اثر و رسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وزیراعلٰی نریندر مودی گزشتہ تین ادوار سے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہیں اور اب لگتا ہے کہ پاکستان اور مسلم دشمنی کے موجودہ رحجان سے فائدہ سمیٹنے کے لیے بھارت کی انتہاپسند ہندو قیادت کی نگاہیں انہی پر جا ٹھہری ہیں۔ بھارتی معیشت کے دو بڑے ناموں سنیل متل اور انیل ا مبانی نے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قومی سطح کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت کی مستقبل کی قیادت ہیں۔ دونوں کاروباری شخصیات گجرات میں منعقدہ چوتھی “وائبرینٹ گجرات گلوبل انوسٹرز سمٹ” سے خطاب کر رہی تھیں۔
انیل ا مبانی نے کہا کہ “نریندربھائی کی زیر قیادت گجرات نے تمام شعبوں میں زبردست ترقی کی ہے اس لیے تصور کیجیے کہ جب وہ بھارت کی قیادت کریں گے تو کیا ہوگا۔ ان جیسی شخصیت کو تو ملک کا اگلا رہنما ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد دھیروبھائی کہا کرتے تھے کہ “مودی تو لمبی ریس کا گھوڑا ہے”۔

بھارتی متل نے کہا کہ “وزیراعلی مودی سی ای او کے طور پر جانے جاتے ہیں درحقیقت وہ سی ای او نہیں ہیں کیونکہ وہ کسی ادارے یا شعبے کو نہیں چلاتے۔ وہ ایک ریاست کو چلا رہے ہیں اور ملک کو بھی چلا سکتے ہیں۔”

دونوں اہم شخصیات کے اس بیان نے بھارتی سیاست کے میدانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے دونوں اہم سیاسی جماعتیں پاکستان اور انتہاپسندی کی آڑ میں مسلم مخالف کارڈ کھیلیں گی اور نریندر مودی کے حوالے سے جاری بیانات اس کا واضح اظہار ہیں۔ کانگریس ہر گز یہ نہ چاہے گی کہ پاکستان مخالف رحجان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اسے اقتدار سے نکال باہر کرے جبکہ بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائے۔ کانگریس نے متل اور امبانی کو کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے سے پہلے “گجرات قتل عام” کو ذہن میں رکھیں۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مودی کی حکومت “معصوم لوگوں کی لاشوں” پر کھڑی ہے۔
مؤقر بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز نے بھی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ بی جے پی کی نچلی سطح کی قیادت نریندر مودی کو وزارت عظمٰی کا امیدوار دیکھنا چاہتی ہے اور انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ مودی کے امیدوار ہونے کی صورت میں انہیں 30 فیصد زیادہ ووٹ ملیں گے۔
آثار کہہ رہے ہیں کہ ان بیانات کے نتیجے میں بی جے پی میں زبردست اکھاڑ پچھاڑ ہو سکتی ہے اور “نئی قیادت” سامنے آ سکتی ہے جو اگلے انتخابات میں کانگریس جیسی نام نہاد “سیکولر” تنظیم کی بہت سخت حریف ثابت ہوگی۔

Google Buzz

بلاگ کے لیے اعزاز

2008ء میں منظرنامہ نے اردو بلاگنگ کی دنیا میں انقلابی قدم رکھا اور جلد ہی اردو بلاگرز کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی حیثیت تسلیم کروالی۔ اسی سلسلے میں منظرنامہ نے سال گزشتہ یعنی 2008ء کے لیے بلاگ ایوارڈز کا اجراء کیا۔ ایوارڈز کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے تین زمروں “بہترین بلاگ”، “فعال ترین بلاگ” اور “بہترین نیا بلاگ” میں تین تین اردو بلاگرز کو نامزد کیا۔
کمیٹی نے اس ناچیز کے بلاگ کو بہترین نئے بلاگ کے زمرے کا حصہ بنانے کے قابل سمجھا۔ یوں دسمبر تک ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ہمارا بلاگ فاتح قرار پایا۔ نتائج کے مطابق بہترین نیا بلاگ کے زمرے میں ڈالے گئے کل 52 ووٹوں میں سے 39 میرے بلاگ کو ملے۔ جس پر میں ان تمام افراد کا مشکور ہوں جنہوں نے میری اس حقیر سی کاوش کو اس قابل سمجھا۔
بہترین بلاگ کے زمرے میں منفرد طرز تحریر کے حامل راشد کامران صاحب کے بلاگ کو اعزاز عطا کیا گیا جبکہ فعال ترین بلاگ کا اعزاز میرا پاکستان کے بلاگ کو ملا۔
گزشتہ ہفتے منظرنامہ نے تقسیم اعزازات کی ذمہ داری نبھا کر اس سلسلے کو بخیر و خوبی انجام تک پہنچایا۔ یوں ہمارے بلاگ کے لیے یہ دو اعزازات دیے گئے ہیں۔
اعزازات کے لیے گرافکس کی ذمہ داریاں برادر خاور بلال نے انجام دی ہیں جو بلاشبہ ایک بہت باصلاحیت ڈیزائنر اور بہت اچھے دوست بھی ہیں۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔
آخر میں منظرنامہ کی ٹیم اور ووٹ دینے والے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ۔

بہترین نیا بلاگ۔ 2008ء

بہترین نیا بلاگ۔ 2008ء

Google Buzz

مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام – برقی کتاب کی صورت میں

میں نے چند ماہ قبل اپنے بلاگ پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سید سعادت اللہ حسینی کا مقالہ تین اقساط میں پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا “مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام”۔ قسط وار اور بلاگ پر پڑھنا تھوڑا مشکل امر محسوس ہوتا ہے لیکن اس اہم مضمون کو تمام افراد تک پہنچانے کے لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کو نہ صرف ای بک کی صورت میں پیش کر دیا جائے بلکہ آن لائن مطالعے کے لیے بھی رکھا جائے۔ اس کام کے لیے اسکربڈ (scribd) سے بہتر ویب سائٹ کون سی ہو سکتی ہے۔ سو یہ معاملہ نمٹا دیا ہے۔ آپ اس مضمون کو وہاں با آسانی پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ سعادت اللہ حسینی کو اس کا اجر خیر عطا فرمائے۔

Challenges of Post-Modernism and Islam

Publish at Scribd or explore others: Islam Religion urdu modernism
Google Buzz

سٹی وارڈن کاقیام ۔۔۔ریاست کے اندر ایک اور ریاست

تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال
کراچی میں کمیونٹی پولیس کا نام تبدیل کر کے سٹی وارڈن رکھا جا رہا ہے ۔شہریوں نے اس پر اپنی گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی ادارے کا نام تبدیل کر کے اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن عامہ کی بحالی کے لئے پولیس کا ادارہ قائم ہے مگر ایم کیوایم نے پولیس کے ادارے کے متوازی ایک نیا ادارہ قائم کر کے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ آئین اور قانون میں اس طرح سٹی وارڈن یا کمیونٹی پولیس کا کوئی تصورنہیں اور نہ ہی قانون پارٹیوں کو پولیس اور فوج کے قیام کی اجازت دیتا ہے ۔ ایم کیوایم نے اس ادارے کو قائم کرکے اپنے حلف یافتہ اور مجرمانہ ریکارڈ کے حامل کارکنوں کو اس میں بھرتی کیا ہے اور ایم کیوایم کے یہ حلف بردار کارکن کمیونٹی پولیس کی گاڑی میں پورے شہر کا گشت کررہے ہیں ۔ اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موٹر سائیکل گاڑیاں اورموبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے کمیونٹی پولیس کے قیام کے بعد شہر میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ آج پورا شہر ڈاکؤں اور چوروں کے رحم وکرم پر ہے ۔ جن افراد کو کمیونٹی پولیس میں بھرتی کیاگیا ان ایک ہی معیار ہے ۔شہر میں دوسری تمام ملازمتوں کا فیصلہ تو ایم کیو ایم کے مرکز پر ہوتا ہی تھا،مگر کمیونٹی پولیس کے لیے بھی کسی نزاکت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ شہرکے وسائل کو متحدہ اپنے کارکنوں پر صرف کررہی ہے جس سے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہورہا ہے۔ کیا پاکستانی فوج اور حکومت کراچی کو ملک سے کاٹنے اور خونریزی کا شکار کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سٹی وارڈن کو ختم کیا جائے اور اسے غیر قانونی قرار دیا جائے ۔

Google Buzz