تحاریر برائے ماہِ فروری ، ۲۰۰۹


آہ موسٰی خان

سوات میں “قیام امن” کے معاہدے کے محض چند گھنٹوں کے اندر معروف مقامی صحافی موسی خان خیل کا قتل صحافتی برادری کے لیے ایک اندوہناک واقعہ تھا۔ یہ خبر جہاں جنگ و شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتی ہے وہیں وابستہ اداروں کی بے پروائی کی بھی قلعی کھولتی ہے۔
جنگ و شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح رپورٹنگ کرتے ہیں، سامنے آنے والی خبر میں اس کا بہت کم اندازہ ہو پاتا ہے۔
اس حوالے سے معروف صحافی عبد الحئی کاکڑ کا کہنا صد فی صد درست ہے کہ اخبارات و چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ اور بریکنگ نیوز کلچر نے ایک اور صحافی کو ہم سے محروم کر دیا۔
چاہے موسی خان کو کسی نے بھی قتل کیا ہو لیکن اس کی ذمہ داری اس ادارے پر بھی عائد ہوتی ہے جس سے وہ وابستہ تھے۔
احتجاج و مذمتوں کے ڈھنڈورے تو بہت پیٹے جاتے ہیں لیکن کبھی جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کی تربیت دینے یا خبر کے بجائے اپنی جان کو اولیت دینے کا اصول نہیں سکھایا جاتا۔ آزادی صحافت کی نام لیوا تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے اصول مرتب کرنے اور اس حوالے سے صحافیوں کی تربیت کرنے کی کبھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ٹی وی چینلز یہ بھول جاتے ہیں کہ رپورٹر کس کس عذاب کا شکار ہے اور کن گروہوں کی دھمکیوں کے باوجود ادارے کو خبریں بھیج رہا ہے۔ اس کے باوجود “ھل من مزید” کی صدا اور ہر وقت سر پر نوکری سے نکالے جانے کی لٹکتی ہوئی تلوار اس کا مقدر ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایڈیٹرز، پروڈیوسرز اور نیوز کاسٹرز کو بھی اس امر کی تربیت نہیں دی جاتی کہ انہوں نے شورش زدہ علاقوں میں موجود رپورٹرز سے کوئی ایسا سوال ہر گز نہیں کرنا جس کا جواب دینے پر وہ کسی گروہ کی “ہٹ لسٹ” پر آ جائے۔
چینل مالکان براہ راست نشریات کے ذریعے دوسرے چینل سے سبقت لے جانے کے لیے کروڑوں روپے کی ڈی ایس این جی وین بھیجنے کو تو تیار ہیں لیکن صحافیوں کو تربیت دینے کو تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنے رپورٹرز کی جان کی پروا ہی نہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد موسٰی خان مٹہ نہیں جانا چاہ رہے تھے لیکن ادارے کے اعلٰی حکام کی جانب سے دباؤ اور نوکری سے نکالے جانے کی دھمکیوں کے بعد وہ مذکورہ علاقے میں جانے پر مجبور ہوئے اور بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واللہ اعلم۔

Google Buzz

تاریخ میں آج کا دن – نیلسن منڈیلا کی آزادی

نیلسن منڈیلا کی آپ بیتی سے اقتباس

12 فروری 1990ء
بڑے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی میں اور ونی کار سے باہر نکل آئے اور جیل سے باہر جانے والے راستے پر آہستہ آہستہ پیدل چلنا شروع کیا۔ مجھے باہر کی دنیا کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ کوئی ڈیڑھ دو سو فٹ دور سے میں نے دیکھا کہ باہر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم بے قرار کھڑا ہے، سینکڑوں کی تعداد میں فوٹوگرافر، ٹی وی کے کیمرہ مین، اخبار نویس اور میرے ہزار ہا خیر خواہ جمع ہو چکے تھے۔ حقیقتا مجھے اتنے عظیم منظر کی توقع نہیں تھی۔ میرا خیال تھا کہ بڑے دروازے کے قریب صرف داروغے، محافظ اور اہل خانہ موجود گےاور یہ تو ابتدا تھی۔
ابھی ہم دروازے سےبیس پچیس فٹ اندر ہی تھے کہ کیمرے حرکت میں آ گئے۔ اچھا خاصا شور برپا تھا۔ اخباری نمائندوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ٹیلی وژن کے لوگ ہجوم کر آئے۔ افریقی نیشنل کانگریس کے حمایتی اراکین تالیاں بجا رہے اور نعرے بلند کر رہے تھے۔ ایک ہنگامے کی سی صورتحال تھی۔ ٹی وی کے نمائندوں سے ایک عجیب سی ‘لمبی سیاہ چیز’ میرے سامنے رکھ دی۔ میں سہم گیا، کہیں یہ کوئی نیا ایجاد کردہ ہتھیار نہ ہو ۔۔۔ مگر ونی نے بتایا اسے مائیکروفون کہتے ہیں۔

Google Buzz

ڈاکٹر محمد صابر اور ڈاکٹر حمید اللہ

ڈاکٹر محمد صابر پاکستان کے واحد ماہر ترکیات اور پاکستان میں ترکی زبان کے چند ماہرین میں سے ایک ہیں۔ آپ 1958ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند حاصل کرنے کے بعد ترکی زبان و ادب پر پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ پر استنبول گئے اور معروف ترک شاعر میر علی شیر نوائی کی مثنوی “حیرت الابرار” پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔
ڈاکٹر صابر کے بارے میں میں نے پہلی بار ڈاکٹر حمید اللہ کے توسط سے پڑھا۔ انہوں نے اپنے استاد ڈاکٹر حمید اللہ کے بارے میں لکھی گئی کتاب “ڈاکٹر محمد حمید اللہ” میں ایک مضمون “ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ساتھ تین سال” تحریر کیا جو ان کی 1958ء سے 1961ء تک جامعہ استنبول کی یادوں پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ان دنوں جامعہ استنبول میں اعزازی لیکچرر تھے۔ دونوں حضرات کا رابطہ بذریعہ خط و کتابت بھی طویل عرصہ تک قائم رہا۔
ڈاکٹر صابر 1967ء میں “ترکانِ عثمانی” کے نام سے عثمانی ترکوں کی تاریخ مرتب کر چکے ہيں جو غالباً آج بھی جامعہ کراچی اور ملک کے کئی تعلیمی اداروں میں اسلامی تاریخ کے نصاب کا حصہ ہے۔ “ترکی-اردو لغت” کے علاوہ آپ ترکی کے معروف شاعر محمد عاکف ایرصوئے کی حیات و خدمات پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے اکبر کے اتالیق اور ترکمان جنگجو بہرام خانِ خاناں کے ترکی دیوان کو بھی مرتب کیا ہے۔
بہرحال ڈاکٹر محمد صابر کا مذکورہ مضمون بہت معلومات افزاء ثابت ہوا اور اس نے مجھے کچھ نئی تحقیق پر آمادہ کیا ہے، بہرحال میں تحقیق کے نتائج پر ضرور تبصروں کروں گا۔
موصوف لکھتے ہیں کہ ترکی میں مصطفی کمال کے دور کے نتیجے میں اسلام پر لگائی گئی سخت پابندیوں کے خلاف زبردست جدوجہد کے بعد 1956ء میں انقرہ سے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام “اسلام” تھا۔ دنیا بھر میں رسالے کے جو نمائندے مقرر ہوئے ان میں کراچی سے محمد صابر صاحب کا انتخاب ہوا اور وہ محمد صابر احسان اوغلو (یعنی ابن احسان) کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ آپ نے مولانا مودودیؒ کی مختصر سوانح بھی تحریر کی جو ماہنامہ اسلام انقرہ کے مئی 1956ء کے شمارے میں شایع ہوئی اور سائیکلو اسٹائل کرا کے ملک بھر میں تقسیم کی گئی۔ ڈاکٹر صابر بتاتے ہیں کہ جب اکتوبر 1958ء میں استنبول پہنچے تو ان کی پہلی ملاقات معروف ترکی ادیبہ خالدہ ادیب خانم سے ہوئی جو اس وقت جامعہ استنبول سے انگریزی کی استاد کی حیثیت سے ریٹائر ہو چکی تھیں۔ موصوف بتاتے ہیں کہ جامعہ میں ان کی جن صاحب سے دوسری ملاقات ہوئی انہیں وہ پہلی ملاقات میں پاکستانی سمجھے اور ان کی وضع قطع، نرم گفتاری اور بردباری سے بہت متاثر ہوئے۔ استفسار پر محمد صابر نے بتایا کہ وہ ڈاکٹریٹ کرنے آئے ہیں اور ترکی زبان سے واقف ہیں جن پر وہ بہت حیران ہوئے کہ آج تک ہندوستان و پاکستان سے کوئی ایسا طالبعلم نہیں دیکھا جو ترکی میں ترکی بولتا ہواآیا ہو جس پر صابر صاحب ان کے مشکور ہوئے اور تعارف کا تقاضہ کیا جس پر بتایا گیا کہ احقر محمد حمید اللہ ہے ۔ اب صابر صاحب نے رسالہ “اسلام” کا حوالہ دیا تو ڈاکٹر حمید اللہ نے حیرانگی سے پوچھا کہ آپ ہی ہیں احسان اوغلو؟ میں تو سمجھا تھا کہ کراچی میں کوئی ترک ہوگا۔ ڈاکٹر صابر کے مطابق یہ یادگار ملاقات مارچ 1959ء میں ہوئی تھی۔
ڈاکٹر صابر نے قیام استنبول کے دوران ایک ہندوستانی ظفر حسن ایبک سے دوستی استوار کر لی تھی جو دراصل پنجاب کے رہنے والے تھے اور برطانوی ہند کی پنجاب رجمنٹ کے ایک افسر تھے جسے پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کے خلاف جنگ کے لیے میدان میں اتارا گیا تھا لیکن وہ بغاوت کر کے اپنے ساتھیوں سمیت مصطفی کمال کی فوج میں شامل ہو گئے۔ اب وہ ترکی ہی میں قیام پذیر ہیں اور ترک شہریت کے حامل ہیں۔ حسن ایبک نے ایک ترکی-اردو لغت مرتب کی تھی اور میری تجویز پر 1968ء میں اس کی ایک نقل مجھے ارسال کی اور انہوں نے اسے شایع کرایا۔ ڈاکٹر صابر نے 1959ء میں ترکی کی جنگ آزادی کے ہیرو عصمت انونو سے بھی ملاقات کی جو اس وقت حزب اختلاف کے رہنما تھے۔ بعد ازاں 1961ء میں ترکی کی وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد انونو نے ڈاکٹر صابر کے مطالبے پر جامعہ کراچی میں شعبہ علوم ترکیات کے قیام کی ہدایت دی۔ لیکن شیخ الجامعہ کراچی آئی ایچ قریشی کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی حکومتی عدم دلچسپی اور مالی مدد نہ ہونے کے باعث بدقسمتی سے یہ شعبہ کبھی قائم نہ ہو سکا۔
آپ بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق قرآن مجید کے مصحف عثمانی کے جو نسخے اس وقت دنیا میں موجود ہیں ان میں سے استنبول کے توپ قاپی سرائے عجائب گھر میں موجود نسخہ اصل میں وہی نسخہ ہے جس کی تلاوت کے دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق اس نسخے میں خون کے چھینٹے سورۂ بقرہ کی آیت 137 پر ہیں اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت انہی آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس لیے وہ استنبول والے نسخے کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ بہرحال کراچی کے قومی عجائب گھر میں تاشقند والے نسخے کی نقل موجود ہے جو باباخانوف نے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کو بنوا کر دی تھی۔
ڈاکٹر محمد صابر نے ایک مرتبہ ڈاکٹر حمید اللہ سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں دستور سازی کے لیے گئے اور پھر ناراض ہو کر واپس آ گئے اس کی وجہ؟ تو ڈاکٹر حمید اللہ نے فرمایا کہ مجھے قرارداد مقاصد کی روشنی میں سفارشات پیش کرنے اور مصادر سے مطلع کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن جب دیکھا یہ لوگ اِدھر اُدھر کی باتوں میں وقت ضایع کر رہے ہیں، اور پھر ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے مجھے جب یہ کہا کہ مولانا ہم آپ کو اعتدال پسند سمجھتے تھے، آپ کی سفارشات تو بڑی سخت ہیں تو میں نے ناراض ہو کر کہا کہ آپ کسی اور سے مشورہ کر لیں کیونکہ میں تو قرآن و سنت کے مطابق ہی رائے دے سکتا ہوں۔ یوں ڈاکٹر حمید اللہ اس سلسلے میں دوبارہ کبھی پاکستان نہیں آئے۔ علاوہ ازیں وہ ڈاکٹر علی صدیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر حمید اللہ پاکستانی شہریت اختیار کرنے پر تیار تھے لیکن ان سے اتنے سوالات کیے گئے اور اتنے کاغذات طلب کیے گئے کہ وہ بد دل ہو گئے۔ وہ اس کو اپنی توہین سمجھتے تھے کہ مجرموں کی طرح اسناد و کاغذات پیش کرتے جائیں۔

Google Buzz

حسین پاکستان کی عکاسی کرتا نیا بلاگ

میرے خاندان سے ایک ننھے سے ساتھی نے بھی بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور ان کا مقصد پاکستان کے قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ان کے والد ایک معروف سیاح اور سفرنامہ نگار ہیں اور کئی دہائیوں کی سیاحت کے دوران حسین لمحات کو اپنے کیمروں میں قید کرتے رہے ہیں۔ اب ان کے صاحبزادے نے اپنے والد کی فوٹوگرافی کو منظر عام پر لانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
وہ بہت تیزی سے اپنے تصاویر کے مجموعے میں سے خوبصورت تصاویر پیش کرتے جا رہے ہیں۔ امید ہے آپ لوگوں کو پسند آئیں گی۔
اس سلسلے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار تبصروں کے ذریعے کیجیے اور بلاگنگ کی دنیا کے اس ننھے مہمان کو درج ذیل ربط (link) پر خوش آمدید کہیے۔
عکس

Google Buzz