9 جنوری 1948ء کو ہمیشہ کے لیے کراچی آ گیا۔ اپنی والدہ محترمہ رابعہ بیگم کو روتا چھوڑ آیا۔ اپنے عظیم محسن اور بھائی کو اداس چھوڑ آیا۔ اپنی ہر جائداد چھوڑ آیا۔ اپنا پیارا شہر دہلی چھوڑ آیا۔
میں فکری اعتبار اور مزاجی لحاظ سے بھارت کا وفادار نہیں ہو سکتا تھا۔ جب میں بھارت کا وفادار نہیں ہو سکتا تھا تو مجھے اصولاً وہاں نہیں رہنا چاہیے تھا۔ بھارت چھوڑنے پر میرا ہر دوست مخالف تھا۔ میرے عزیز و اقارب کو میرا بھارت چھوڑنا گوارا نہ تھا حتیٰ کہ حضرت مولانا ابو الکلام آزاد تک نے بھی پاکستان نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ میرے بزرگ بلکہ دوست حضرت خواجہ حسن نظامی کی رائے بھی تھی کہ بھارت کے مسلمانوں میں رہنا چاہیے۔ مگر میں نے اصول کی خاطر ہر چیز قربان کردی اور خالی ہاتھ پاکستان چلا آیا۔
میں نے اپنی مرضی سے اور اپنی خوشی سے بھارت کے”ہمدرد” کو اللہ تعالی کے نام وقف کر دیا تھا۔ یہ وقف بھارت کے لیے تھا۔ وقف کی املاک پاکستان منتقل کرنے کو میرا دل تیار نہ تھا۔ بھارت کا وقف بھارت کے کام آنا چاہیے تھا۔ پاکستان میں اصولاً نہیں لانا چاہیے تھا۔
لکھ پتی حکیم سعید پاکستان خالی ہاتھ آ گیا!
نونہالو! میں تمہیں ایک دلچسپ واقعہ سناتا ہوں جس نے میری زندگی کا ایک نیا رخ متعین کیا۔ اس واقعے نے میرے عزائم اور مقاصد کو ایک نئی روح دی۔
یہ واقعہ 9 جنوری 1948ء کا ہے۔ نئی دہلی کے پالم ایئرپورٹ پر مجھے رخصت کرنے کے لیے بہت لوگ تھے۔ دس بجے دن کا وقت۔ موسم خاصا سرد، دھوپ کھنڈی ہوئی تھی اور ہم سب دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے۔ باتیں ہو رہی تھیں۔ چند لوگ میرے جانے سے خوش، باقی سب کے سب رنجیدہ، ملول خاطر، کبیدہ۔
سب سے زیادہ پریشان میرے بھائی جان محترم جناب حکیم عبد الحمید صاحب۔ ان کا دل ٹوٹا ہوا،حواس مختل، پریشان خاطر، مگر اس اندرون قلب غم فراق کا اظہار ذرا نہیں ہو رہا تھا۔ میں تو ان کا چہیتا بھائی تھا۔ میں ان کے اندر کے طوفان کو دیکھ سکتا تھا۔ میں ان کے فکر میں مد و جزر کو سمجھ سکتا تھا۔
میرے استاد محترم مولانا قاضی سجاد حسین بھی آئے تھے۔ ان کو ایک خاص قسم کا اطمینان تھا۔ میں نے ان کو پریشان نہیں پایا۔ اپنے اطمینان کا اظہار انہوں نے کیا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ وہ میرے عظیم بھائی جان محترم سے فرما رہے تھے:
“جناب حکیم صاحب! آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ میاں سعید کو جانے دیں۔ جب وہاں نئے حالات سے دوچار ہوں گے اور تابڑ توڑ ناکامیوں کے حملے ہوں گے تو چند دنوں میں پریشان ہو کر خود ہی لوٹ پڑیں گے۔”
حضرت مولانا قاضی سجاد حسین کی اس گفتگو سے میرے بھائی جان محترم کو کوئی اطمینان نہیں ہوا۔ وہ اپنے ضدی، بلکہ جن بھائی کے اندرون سے واقف تھے مگر حضرت مولانا صاحب کی گفتگو میرے لیے ایک چیلنج بن گئی! میں نے ان کا یہ چیلنج قبول کر لیا۔ جب اعلان ہوا کہ جہاز روانہ ہو رہا ہے، مسافر سوار ہو جائیں تو میں نے ایک ایک کو گلے لگا کر اللہ حافظ کہا اور جب میں نے استاد مکرّم سے معانقہ کیا تو ان سے میں نے کہا:
“ان شاء اللہ تعالی اب جب تک پاکستان کا وہ ہمدرد ایک وقف نہیں بنا دوں گا اور اسے ہمدرد انڈیا کے برابر لا کھڑا نہیں کروں گا،بھارت واپس نہیں آؤں گا۔”
یہ کہہ کر میں جہاز میں سوار ہو گیا اور دلی کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے خیر باد کہہ دیا!
——————————————————————————-
واضح رہےکہ حکیم محمد سعید نے انتہائی مفلوک الحالی کے ابتدائی ایام کے بعد روز و شب کی کوششوں سے کراچی میں ہمدرد مطب قائم کیا اور بالآخر 1953ء میں اسے وقف قرار دیا لیکن حکومت کی سطح پر اسے وقف تسلیم نہیں کیا گیا اور بدستور چالیس سال تک محصولات وصول کیے جاتے رہے۔ حکیم سعید اصول پسند آدمی تھے، چاہتے تو کسی بھی حکمران سے کہہ کر یہ معاملہ بالا ہی بالا طے کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے کسی کے سامنے عرض نہ کیا۔ بالآخر 1993ء میں حکومت پاکستان نے “ہمدرد” کو “وقف” تسلیم کر لیا۔ آج “ہمدرد پاکستان” “ہمدرد بھارت” سے کہیں بڑا ہے۔
اللہ مرحوم حکیم محمد سعید کو جوار رحمت میں جگہ دے۔
یہ مملکت (مدینہ کی ریاست) ابتداءمیں ایک شہری مملکت تو تھی لیکن کامل شہر میں نہیں تھی بلکہ شہر کے ایک حصے میں قائم کی گئی تھی، لیکن اس کی توسیع بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ اس توسیع کا آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ صرف دس سال بعد جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئي، اس وقت مدینہ ایک شہری مملکت نہیں بلکہ ایک وسیع مملکت کا دارالسلطنت تھا۔ اس وسیع سلطنت کا رقبہ تاریخی شواہد کی رو سے تین ملین یعنی تیس لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ دوسرے الفاظ میں دس سال تک اوسطاً روزانہ کوئی آٹھ سو پینتالیس مربع کلومیٹر علاقے کا ملک کے رقبے میں اضافہ ہوتا رہا۔ سلطنت کی یہ توسیع کچھ تو پرامن ذرائع سے ہوئي اور کچھ جنگوں کے نتیجے میں۔ آنحضرتﷺ کے غزوات و سرایا کے متعلق دیگر تفصیلات کے علاوہ مقتولین اور شہداء کے اعداد و شمار بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تین ملین کلومیٹر رقبہ فتح کرنے کے لیے دشمن کے جتنے لوگ مرے ہیں، ان کی تعداد مہینے میں دو بھی نہیں ہے، دس سال میں ایک سو بیس مہینے ہوتے ہیں تو ایک سو بیس کے دو گنے دو سو چالیس آدمی بھی ان لڑائیوں میں نہیں مرے، دشمن کے مقتولین کی تعداد اس سے کم تھی، مسلمانوں کے شہداء کی تعداد دشمن کے مقتولین سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان جنگ احد میں ہوا کہ ستر آدمی شہید ہوئے اور یہ نقصان بھی مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہوا۔ بہرحال بحیثیت مجموعی میدان جنگ میں قتل ہونے والے دشمنوں کی تعداد مہینے میں دو سے بھی کم ہے، جس سے ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول اللہﷺ کس طرح اسوۂ حسنہ بن کر دنیا بھر کے حکمرانوں اور فاتحوں کو بتاتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ اور ان کو شکست دینے کی کوشش ضرور کرو لیکن بے جا خون نہ بہاؤ۔ مقصد یہ کہ دشمن جو آج غیر مسلم ہے ممکن ہے کل وہ مسلمان ہو جائے یا اس کے بیوی بچے اور اس کی آئندہ نسلیں مسلمان ہو جائیں لہذا اس امکان کو زائل کرنے میں اپنی طرح سے کوئي ایسا کام نہ کرو جس سے پچھتانے کی ضرورت پیش آئے۔ (اقتباس از خطبات بہاولپور، ڈاکٹر محمد حمید اللہ)
صلیبی جہاد نے ازمنہ وسطٰی کے یورپ کو مشرق وسطٰی کے دوش بدوش کھڑا کر دیا تھا۔ یورپ اُس عہد کے مسیحی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا۔ مشرق وسطٰی مسلمانوں کے دماغ کی، اور دونوں کی متقابل حالت سے اِن کی متضاد نوعیتیں آشکارا ہو گئی تھیں۔ یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا علم بردار تھا۔ مسلمان علم و دانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتا تھا۔ مسلمان لوہے اور آگ کےہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا۔ مسلمانوں کا خدا کی مدد پر بھی تھا۔ لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سروسامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا۔ دوسرے نے نتائجِ عمل کے ظہور کا۔ معجزے ظاہر نہیں ہوئے، لیکن نتائجِ عمل نے ظاہر ہو کر فتح و شکست کا فیصلہ کر دیا۔
ژو این ویل کی سرگزشت میں بھی یہ تضاد تقابل ہر جگہ نمایاں ہے۔ جب مصری فوج نے منجنیقوں (Petrays) کے ذریعہ آگ کے بان پھینکنے شروع کیے تو فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا کچھ نہ تھا، بالکل بے بس ہو گئے۔ ژو این ویل اس سلسلے میں لکھتا ہے:
“ایک رات جب ہم ان برجیوں پر جو دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھیں، پہرہ دے رہے تھے، تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جسے پٹریری (یعنی منجنیق) کہتے ہيں، لاکر نصب کر دیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر میرے لارڈ والر نے جو ایک اچھا نائٹ تھا، ہمیں یوں مخاطب کیا”اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آ گیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے اِن میں آگ لگا دی تو ہم بھی برجیوں کے ساتھ جل کر خاک ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہيں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ہم ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے۔ میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جونہی مسلمان آگ کے بان چلائیں، ہمیں چاہیے کہ گھٹنے کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔ چنانچہ سب سے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا۔ ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے۔ یہ بات اتنے بڑے ہوتے تھے، جیسے شراب کے پیپے، اور آگ کا شعلہ جو اِن سے نکلتا تھا، اُس کی دُم اتنی لمبی ہوتی تھی جیسے ایک بہت بڑا نیزہ۔ جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں، اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی جیسے ایک آتشیں اَژدہا ہوا میں اُڑ رہا ہو۔ اِس کی روشنی نہایت تیز تھی۔ چھاؤنی کے تمام حصے اس طرح اُجالے میں میں آ جاتے جیسے دِن نکل آیا ہو۔”
اس کے بعد خود لوئس کی نسبت لکھتا ہے:
“ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت پادشاہ سنتا تھا، تو بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا تھا اور روتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر نجات دہندہ سے التجائیں کرتا۔ مہربان مولٰی! میرے آدمیوں کی حفاظت کر! میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے پادشاہ کی اِن دعاؤں نے ہمیں ضرور فائدہ پہنچایا۔”
لیکن فائدہ کا یہ یقین خوش اعتقادانہ وہم سے زیادہ نہ تھا۔ کیونکہ بالآخر کوئی دُعا بھی سُودمند نہ ہوئی اور آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔
یہ حال تو تیرھویں صدی مسیحی کا تھا۔ لیکن چند صدیوں کےبعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا،تو اب صورت حال یکسر اُلٹ چکی تھی۔ اب بھی دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے، جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے۔ لیکن اتنی تبدیلی کے ساتھ کہ جو دماغی جگہ پہلے یورپ کی تھی ، وہ اب مسلمانوں کی ہو گئی تھی اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی، اسے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا۔
اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ علماء ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے کہ انجاحِ مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم، ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شیخ عبدالرحمن الجبرتی نے اس عہد کے چشم دید حالات بیان کیے ہیں اور بڑے ہی عبرت انگیز ہیں۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیرِ بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ اُدھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کر رہی تھیں۔ اِدھر لوگ ختمِ خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے، “یا مقلب القلوب یا محوّل الاحوال” کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلہ کا نکلنا تھا۔ جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو، دوسری طرف ختم خواجگان!
دُعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں مگر اُنہی کو پہنچاتی ہیں جو عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ بے ہمتوں کے لیے تو وہ ترکِ عمل اور تعطلِ قویٰ کا حیلہ بن جاتی ہیں۔
اقتباس: غبارِ خاطر از ابوالکلام آزاد