تحاریر برائے ماہِ اپریل ، ۲۰۰۹


تصویر کہانی

قومی بلاگرز کانفرنس کی ایک ان سنی اور ان کہی کہانی۔ تصاویر کی زبانی

قومی بلاگرز کانفرنس 2008ء ، 18 اپریل 2009ء

وہ وقت جب معروف کالم نویس ارد شیر کائوس جی کو ”بھائی” کا ” فکر و فلسفہ” سنانے کی کوشش گئی

کائوس جی ”فکر و فلسفے” پر روشنی ڈالے جانے کے دوران سر پکڑ کر بیٹھ گئے

اور جب ”فکر و فلسقے” کی تاب نہ لا سکے تو بلاگرز کانفرنس سے ”واک آئوٹ ” کر گئے

Google Buzz

سوات امن معاہدہ اور ان سولائزڈ سوسائٹی

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی

zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے اُس کے تحت انسان کا سب سے پہلا حق زندہ رہنے کا حق ہے اورسب سے پہلا فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ اس لئے تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تو دور کی بات، انسان کو روٹی اور پانی سے بھی پہلے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ امن ہے۔ شاید اسی وجہ سے سوات کے لوگ یہ بات سب سے زیادہ سمجھتے ہیں کہ امن کس چڑیا کا نام ہے اور ان سے بہتر کون یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ امن ہی عارضِ محبوب کا وہ تل ہے جس پر ثمرقند و بخارا بھی قربان کیے جا سکتے ہیں اور یہی وہ حق ہے جس سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے سوات کے لوگ محروم رکھا جارہا تھا اورسوات کے لوگوں کے لئے امن کا حصول ہی وہ حق اور مقصد تھا کہ جس کے لئے پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی آئیڈیالوجی پر ترجیح دیتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد سے مذاکرات کئے “ویل ڈن اے این پی”۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ امن لڑائی کے فیصلے کا نام ہےاور سوات کی شورش کا فیصلہ ہے نظام عدل ریگولیشن۔ ہمارے یہاں ایک سیاسی جماعت اور نام نہاد سول سوسائٹی نے امن معاہدے اور قومی اسمبلی میں قرارداد کی متفقہ منظوری کو طالبان کی فتح قرار دیا ہے۔ مگریہ معاہدہ کس کی فتح اور کس کی شکست ہے۔ اس کا جائزہ اور تجزیہ آئندہ سطور میں کرتے ہوئے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو اس کے نتیجے میں مولوی فضل اللہ اور طالبان جیسی قوتیں دیوار سے لگیں گی اور ریاست اور سوات کے عوام کامیاب ہوں گے۔

ہمارے خیال میں یہ مشہور انگریزی ترکیب کے مطابق “Win win Situation” ہے صرف پاکستان کی ریاست اور سوات کے شہریوں کے لئے۔ لیکن اس سے پہلے ان حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہےجن میں یہ معاہدہ کیا گیا ہے اور اس جائزے سے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ بھی ہوجائے گا کہ ہم اس معاہدے کو کیوں اتنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت وہ ہوتی ہے جو وہ استعمال نہیں کرتی اور اس طاقت کے لئے انگریزی میں لفظ “Deterance” استعمال کیا جاتا ہےاور جب ڈیٹرنس کو استعمال کر لیا جائے تووہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس معاہدے کی اندھی مخالفت کرنے والے آج جس حکومتی عملداری[1]پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ اسی دن ختم ہوگئی تھی جب 20 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف حکومت نے سوات میں آپریشن شروع کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی رٹ اس دن ختم نہیں ہوئی تھی جب مٹھی بھر نام نہاد طالبان نے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا بلکہ حکومت کے پاس اس دن بھی بات چیت کر کے عملداری قائم رکھنے کا راستہ موجود تھا، مگر جب فوج نے سوات کے شدت پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اس دن عملاً حکومت کی عملداری ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ڈیڑھ سال کے آپریشن میں فوج کو کامیابی نہ ہوسکی۔ مینگورہ ، سوات ، کبل ، مٹہ اور امام ڈھیری میں طاقت کے بھرپور استعمال اور سینکڑوں پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد بھی نوشتہ دیوار یہی ہے کہ فوج وزیرستان اور بلوچستان سے کہیں زیادہ بری طرح سوات میں ناکام ہوئی ہے۔ جبکہ فوج کےاستعمال سے وہ ڈیٹرنس بھی جاتا رہا جو ریاستوں کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اس تناظر کو دیکھا جائے توباآسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ امن معاہدہ کتنی نازک صورتحال میں عمل میں آیا ہے۔ دوسری جانب لڑائی کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں کے مقابلے میں فوج کی بھاری توپ خانے سے گولہ باری اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے۔ سوات آپریشن شروع ہونے کے بعد انتظامیہ غائب تھی۔ تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتراور بازار بند تھے جبکہ آئے دن کے کرفیو نے شہر میں اشیائے ضرورت کی فراہمی بند کر دی تھی جس کے نتیجے میں صوبے کی خوشحال اضلاع میں سے ایک کی تقریباً نصف آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہوکر دوسرے علاقوں میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ ان کا روزگار ختم ہوا، املاک تباہ ہوئیں، گھروں پر گولہ باری سے خواتین اور بچوں کی بڑی تعدادجاں بحق ہوئی جبکہ شدت پسندوں کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی صلاحیت میں کوئی کمی نہ آسکی۔ گزشتہ سال کبل میں آپریشن کے دوران تحریک طالبان کے سوات کے جس واحد سرکردہ رہنما کو ہلاک کیا گیا وہ بھی کوئی جنگجو کمانڈر نہیں بلکہ سرحد حکومت سے بات چیت کرنے والے مذاکرات کار علی بخت خان تھے۔ دوسری جانب فوج ایف سی اور پولیس کے وہ اہلکار بھی سینکڑوں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے جنہیں اس لڑائی میں جھونکا گیا تھا۔ یہ بھی ہماراعظیم نقصان ہے۔ یہ عام پاکستانیوں کے بیٹے شوہر اور بھائی تھے۔ پاکستان کے ان بیٹوں کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا جنہوں نے آپریشن شروع کرکے انہیں اپنے ہی لوگوں سے لڑانے کا فیصلہ کیا تھا۔

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت یہ بھی نہ کرتی تو کیا کرتی۔ سوات میں دیوار سے لگی ہوئی انتظامیہ ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس کا لازمی نتیجہ شدت پسندوں کے دیوار سے جالگنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس معاہدے سے پہلے شدت پسند ایک شترِ بے مہار کی طرح یکسر آزادی سےریاست کے اندر ریاست بنے ہوئے تھے۔ جسے چاہیں گرفتار کریں جسے چاہیں سزا دیں۔ ان کا کسی ضابطے کی بندش میں آجانا ایک بڑی کامیابی ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ طالبان کا شترِ بے مہار کی طرح راج کرنا بہتر تھا یہ انہیں کسی ضابطے کا پابند کرنا بہتر ہے۔ ہمارا خیال ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی عقل کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔

قاضی عدالتوں کا قیام بھی سب سے زیادہ بندشیں شدت پسندوں ہی پر عائد کرنے کا سبب بنے گا۔ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ ان کی جدو جہد کا مقصد صرف شرعی عدالتوں کا قیام تھااور ملاکنڈ میں انتظامی معاملات اور عملداری حکومت ہی کی قائم رہے گی۔ اگرچہ اتنے بگاڑ کے بعد بھی کوئی بناؤ کا کام ہوگیا ہے تو اسے غنیمت جاننا چاہیئے۔

آں چہ دانا کند ناداں ہم میکند و لیک بعد از خرابی بسیار

سوات دوبارہ آباد ہورہا ہے، رونقیں لوٹ رہی ہیں اور زندگی بحال ہورہی ہے۔ طالبان نے مسلح گشت ختم کرکے ہتھیار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان کے شدید مخالف اور تجزیہ کار سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بھی کہا ہے کہ نظام عدل ریگولیشن کے نتیجے میں ایک دو ماہ میں حکومت کی عملداری مکمل طور پر قائم ہو جائے گی۔ حیرت انگیز بات ہے شدت پسندوں سے ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ ایک ایسی جماعت کی جانب سے کیا جارہا ہے جس نے ایک غاصب کی 9 سالہ آمریت میں اتنا اسلحہ جمع کرلیا ہےجس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو کئی بار تباہ کیاجاسکتا ہے۔ کیا ان سے کوئی ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس کا مظاہرہ 12 مئی 2007ء کو شارع فیصل پر کیا گیا۔ اس موقع پر اس وڈیو کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی کہ جس کے بارے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری

حالات کا سبق دیکھیں کہ جس وڈیو کی بنیاد پرغیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ایسا طوفان اٹھایا کہ سب حیران رہ گئے کہ جو لوگ ہزاروں افراد کے قتل اور لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی پرایک لفظ نہ بول پاتے تھے، کیسی کیسی طویل تقریریں کرنا شروع ہوگئے اور اس ویڈیو پر کیسے میرانیس اور دبیر بن کر سامنے آئے۔ مگر جمعے کو وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے عدالت میں بیان داخل کرایا ہے کہ سوات میں لڑکی کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو جعلی تھی[2] ۔ یہاں بات یہ ہے کہ این ج اوزکو تو تنخواہ (غیر ملکی امداد) ہی اسی بات کی ملتی ہےکہ وہ خواتین کی آزادی کے نام پر پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اس وڈیو کو میڈیا میں پیش کرنے والی بھی ایک این جی او چلانے والی خاتون ثمر من اللہ تھیں تاہم کسی سیاسی جماعت کی سیاست ہی  Video Driven  ہوجانا نہ صرف افسوسناک بلکہ سیاست کے لئے نقصان دہ ہے اور بعد میں وڈیو کا جعلی ثابت ہونا اس سیاسی جماعت کے لئے باعث شرم بھی۔ قومی اسمبلی میں قراداد کی منظوری کے موقع پر ولولہ انگیز تقاریر کرنے والے سیاسی رہنما ایوان سے باہر چاہے کتنی ہی مخالفت کر لیں یہ حقیقت ان کے لئے ایک طمانچہ ہے کہ انہوں نے بھی قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے بھی ووٹ کا حق استعمال نہ کرکے قرارداد کی حمایت ہی کی ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نظام عدل ریگولیشن کے خلاف ایک ووٹ بھی نہ پڑ سکا۔ یہ بالکل ویسی ہی منافقت ہے جیسی 2006ء میں ایم ایم اے نے تحفظِ حقوقِ نسواں کے بل کی منظوری کے موقع پر ظاہر کی تھی۔ وہ بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جس کے نتیجے میں بل کے خلاف ایک ووٹ بھی نہیں پڑ سکا۔

اصولی طور پریہ بات درست ہے کہ سوات امن معاہدہ کسی جمہوی سیاسی اور پر امن جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بلکہ مسلح مزاحمت کے دباؤ میں عمل میں آیا ہے جس سے ایک غلط پیغام قوم اور دنیا کو پہنچا ہے۔ اس موقف کے حق میں دلائل بھی شاید میرے دلائل سے زیادہ جان دار ہوں، مگر یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کسی موقف کا درست ہونا محض اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے حق میں دلائل زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک اور حقیقت کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جب کسی خطے میں کوئی مسلح تصادم (Conflict) ہوجائے تو اس کے بعد حکومت کا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرنے کا مقصد یہ قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ ریاست شدت پسندوں یا ان کے موقف کو درست سمجھتی ہے بلکہ اس کا محض یہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ زمین پر مزید خونریزی نہیں چاہتی۔ راستے دو ہی تھےیا تو طاقت کے استعمال کی ناکام پالیسی کو جاری رکھ کر سواتیوں سے زندہ رہنے کا حق چھینا جاتا رہتا یا مزید خونریزی روکنے کے لئے وہ کیا جاتا جو سرحد حکومت نے کیا۔ نام نہاد سول سوسائٹی کو محض تنقید کے بجائے متبادل پیش کرنے چاہئیں۔ انگریزی کے اس مقولے پر اپنی بات ختم کروں گا

If you are not the part of solution then you are part of Problem


[1] رٹ آف دے گورنمنٹ۔ یہ وہی رٹ آف دی گورنمنٹ ہے جس کو قائم کرنے کے نام پر پرویزمشرف نے سینکڑوں افراد کو لاپتہ اور نواب اکبر بگٹی سمیت سینکڑوں بلوچوں کو قتل کر کے بلوچستان کو اس انجام تک پہنچایا مگر آج رٹ کہںش اور آرام کر رہی ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد کا وہ مسئلہ جو صرف ایک ایس ایچ او با آاسانی حاصل کر سکتا تھا۔ اسے بھی رٹ قائم کرنے کے جنون ہی نے کمانڈو آپریشن کرنے پر مجبور کیا۔ جس کے نیتجے میں دو ہزار سات پاکستان کی تاریخ کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا جس کے دوران ستاون خود کش حملے کئے گئے۔ پاکستان کو جتنا کمزور اس رٹ کے قیام کے جنون نے دیا ہےشایدکسی اور نے نہیں کیا۔ صحیح کہا ہے کسی نے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا

[2] اور اس وڈیو کے بارے میں روزنامہ ایکسپریس کے کالم نویس اوریا مقبول جان نے تفصیلی بات لکھ دی ہے اس لئے میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا

Google Buzz

نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009

جب برادر شعیب صفدر نے مطلع کیا کہ مورخہ 18 اپریل 2009ء کو حکومت سندھ کے زیر اہتمام نیشنل بلاگرز کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے تو جہاں ایک جانب خوشی ہوئی کہ بالآخر بلاگرز کو سرکاری سطح تسلیم کیا جا رہا ہے وہیں اردو بلاگنگ کا موقف پیش کرنے کے لیے ایک پریزنٹیشن کی تیاری کے “حکم” نے پریشانی سے دوچار کر دیا۔ لیکن اس سلسلے میں نعمان یعقوب نے جس مہارت کا ثبوت دیا اور اردو بلاگنگ پر پریزینٹیشن بنانے کے لیے مواد ترتیب دیا اور بڑی محنت سے اس کے مختلف فوائد اور پہلوؤں کو سامنے لے کر آئے، اس نے پریزینٹیشن کو حتمی شکل دینے میں بھرپور مدد دی۔ اس سلسلے میں کوتاہیاں اور خامیاں ضرور رہی ہوں گی لیکن ہم نے خلوص دل اور اپنی بساط کے مطابق بھرپور محنت کر کے اردو کا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی۔
میں ہفتہ کے روز ہی اس کانفرنس کے حوالے سے ایک تحریر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن گزشتہ دو روز سے بجلی نے مہلت ہی نہ دی کہ اس پر کام کرپاتا۔ اس لیے آج تاخیر سے اس کو مکمل کر رہا ہوں۔
اردو بلاگرز کانفرنس 18 اپریل 2009ء کو شام 4 بجے طے تھی لیکن سرکاری پروگرام ہونے کے باعث اس کا آغاز دیر سے ہی ہوا۔ پروگرام میں ایک چیز جو بہت زیادہ ناگوار گزری وہ ناقص کمپیئرنگ اور دوسری بلاگنگ سے غیر متعلقہ کاموں پر زیادہ وقت ضائع کرنا تھی۔ گو کہ ماما پارسی اسکول کی 11 سالہ عمیمہ کے کارنامے کو اعلیٰ سطح پر سراہے جانے کو ضروری سمجھتا ہوں لیکن اس میں کافی وقت ضائع کیا گیا جس سے بلاگرز کو کم وقت ملا۔ تقریب کے آغاز میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس میں بلاگرز کے لیے سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد کی گئی ہو۔
صوبائی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کراچی کے ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں منعقد کی گئی۔ میزبانی کے فرائض رابعہ غریب اور علی چشتی نے انجام دیے۔ اس موقع پر تقریب کے روح رواں صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون بھی موجود تھے۔ معروف انگریزی کالم نگار اردشیر کاؤس جی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار مہمان خصوصی تھے۔
معروف و اہم بلاگرز جنہوں نے بلاگنگ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اپنے تجربات دیگر بلاگرز کے سامنے رکھے، ان میں جہاں آراء، راجا اسلام، عواب علوی، عمار یاسر، رملہ اختر اور ہمارے عمار ابن ضیاء شامل تھے۔ میں میزبان علی چشتی کا اس امر پر تو شکر گزار رہوں گاکہ انہوں نے مہمان خصوصی کو مزید تقریباً 7 یا 8 منٹ بیٹھنے کی “زحمت” دی تاکہ وہ اردو بلاگستان کی افادیت و اہمیت کے حوالے سے چند الفاظ سنتے جائیں، تاہم قومی زبان کی حیثیت سے اگر اُسے 5 منٹ مزید بھی دے دیے جاتے تو میرا نہیں خیال کہ اس سے مہمان خصوصی کی نازک طبیعت پر کچھ گراں گزرتا۔ عمار نے بہت بہت کم وقت میں اردو بلاگنگ کا مقدمہ جس انداز میں پیش کیا وہ اس کی صلاحیتوں کا عکاس تھا۔ گو کہ ہمیں پریزینٹیشن مکمل نہیں کرنے دی گئی، غالباً وقت کی کمی مہمان خصوصی سے زیادہ انتظامیہ کو گراں گزر رہی تھی، اس لیے اسے جلد از جلد لپیٹنے کی کوشش کی گئی
بہرحال اردو کا مقدمہ پیش کرنے کے حوالے سے عمار نے جن پہلوؤں کو اجاگر کیا وہ یہ تھے:
* پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اردو میں معلومات چاہتی ہے۔ اس کا واضح اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین سب سے زیادہ اردو اخبارات، نیوز چینلز کی ویب سائٹس وغیرہ دیکھتے ہیں اور اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اردو میں مواد کی طلب انگریزی کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
* پاکستانی نوجوان انٹرنیٹ کے حقیقی فوائد سمیٹنے میں ناکام رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے اظہار کی زبان میں مواد موجود ہی نہیں۔
* پاکستان کے اہم انگریزی بلاگز کے نام تک اردو میں ہیں اور وہ جابجا اردو اشعار، محاورے، اصطلاحات وغیرہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانیت، چورنگی، بیٹھک، سوچ، وطن دوست، لاہور نامہ، جہان رومی وغیرہ۔
علاوہ ازیں نعمان نے انگریزی بلاگنگ کے حوالے سے عام مفروضوں پر بھی نکات پریزینٹیشن میں شامل کیے۔ مثلاً:
* ایک عام خیال ہے کہ انگریزی میں لکھ کر آپ غیر ملکی میڈیا کی توجہ زیادہ حاصل کرسکتے ہیں اور گلوبل ولیج میں رہتے ہوئے ساری دنیا کے ساتھ اپنے خیالات بانٹ سکتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی انگریزی بلاگ ایسا نہیں جس پر تبصرہ کرنے والے اور جس کے پڑھنے والوں میں دس فیصد بھی غیر ملکی ہوتے ہوں۔
* پاکستان کے مقبول ترین انگریزی بلاگز کے نوے فیصد سے بھی زیادہ قارئین پاکستانی یا پاکستانی نژاد غیر ملکی ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت نہ صرف اردو پڑھ اور لکھ سکتی ہے بلکہ شاید کئی اردو لکھنے والوں سے زیادہ اچھی اردو لکھ سکتی ہے۔
* “سوچ کی زبان” کو “اظہار کی زبان” بنانے کی دلیل بھی دی گئی۔ کہ کچھ پاکستانی انگریزی بلاگرز کی انگریزی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جملوں کو پہلے اردو میں ترتیب دیا گیا ہے اور پھر انہیں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ انگریزی کافی بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اردو میں سوچے گئے خیال کی صحیح ترجمانی نہیں کرپاتی۔
* علاوہ ازیں چند اردو بلاگرز کا ذکر بھی وہاں کیا گیا جو اس عام مفروضے کو ختم کرنے کے لیے تھا کہ لوگ اردو میں اس لئے نہیں لکھتے کہ انہیں کم پڑھا لکھا سمجھا جائے گا۔ اس مفروضے کے توڑ کے لیے زکریا اجمل، شاہ فیصل، رضا رومی، راشد کامران اور دیگر اردو بلاگرز کے حوالے دیے گئے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اردو میں بلاگنگ کرتے ہیں۔
* پھر کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے حوالے سے مشکلات کے مفروضے کو چند جملوں میں توڑنے کی کوشش کی گئی کہ کمپیوٹر پر اردو لکھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا انگریزي لکھنا۔
وقت کی کمی کے باعث بہت سارے نکات پر ہم اپنا موقف سامنے نہ لا سکے کیونکہ ہمیں قبل از وقت پریزینٹیشن ختم کرنے کا کہا گیا، جو بہرحال ہمارے لیے مایوس کن تھا، تاہم اتنا بھی کافی تھا کہ ہم کم از کم سرکاری سطح پر اردو بلاگنگ کی موجودگی تسلیم کرانے اور اسے کراچی کے کئی معروف بلاگرز کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
جو نکات ہم کانفرنس میں پیش نہ کرپائے ان میں اردو بلاگنگ کو مقامی میڈیا کی جانب سے مکمل نظر انداز کرنے کے شکووں کے ساتھ ساتھ گوگل اشتہارات بھی نہ ملنے کے دکھڑے شامل تھے۔ علاوہ ازیں اردو بلاگنگ پر اکسانے کے لیے چند سوالات تھے جن میں ایک بڑی ریڈرشپ اور مارکیٹ کی ترغیب دی گئی جو اردو میں اچھے مواد کی منتظر ہے اور آخر میں اردو بلاگنگ میں ہونے والی پیشرفت اور کمیونٹی کے کارناموں ، جیسے ورڈ پریس، تھیمز، پلگ انز کے ترجمے اور دیگر، کو پیش کیا جانا تھا۔

Google Buzz

گیا دور سرمایہ داری گیا

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی
zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لکھوکھا افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کے لئے آوازیں اس بار جتنی زور و شور سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اس بار یہ آوازیں کسی مسلم یا سوشلسٹ معاشرے سے نہیں بلکہ سرمایہ داری اور مغربی تہذیب کے مراکز سے ابھر رہی ہیں ۔ لندن میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ G-20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر یورپ کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے بیشتر بینر ایسے اٹھا رکھے تھے جس میں لفظ عالمگیریت کے حجاب کو استعمال کرنے کے بجائےبراہ راست صورتحال کا ذمہ دار عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا گیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مین ہٹن، نیویارک کی “وال اسٹریٹ”، جہاں سے بوژروا طبقے نے دنیا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں کسنے کا آغاز کیا، میں بھی سینکڑوں افراد نےکساد بازی کی لہر اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی بے روزگاری کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر خرابیوں کو قرار دیا گیا ۔

میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی

g20-protest

سرمایہ داری صدیوں کی اصلاحات کے باوجوداپنی ان خرابیوں کو دور نہیں کر سکی ہے، جو انتہادرجے کی خود غرضی اور سرمائے کے ارتکاز کی بنیاد پر قائم ہونے والے اس ظالمانہ نظام میں موجود ہیں ۔سود کی بنیاد پر بننے والا نظام مالیات، سسٹم میں وسائل پیدا کرنے والے اصل عاملین کے ساتھ ایک طرح ہر جہت میں ہمہ گیر بے انصافی کرتا ہے ۔اس نے اجتماعی معیشت کی ساری باگیں چند خود غرض سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں دے رکھی ہیں ۔جو اپنا سرمائے کی نفع اندوزی میں وقتی کمی دیکھنے کے روادار بھی نہیں اور یک جنبش قلم ہزاروں خاندانوں کی روزی اور مستقبل کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتے ۔اور ان سرمایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وضع کیا گیا نظام لبرل مٕغربی جمہوریت کی شکل میں موجود ہے ،جو ساہوکاروں اور بوژرواطبقے کی مشکلات کے حل کے لئے تو سینکڑوں ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کو تیار ہے تاہم کساد بازاری سے بیروزگار ہونے والے لاکھوں امریکیوں کے مسئلے کا کوئی حل اس کے پاس موجود نہیں ہے، جو آئے دن نیویارک اور شکاگو میں ہونے والے جاب فیئرز میں سینکڑوں فٹ طویل قطار میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر دس پندرہ سال بعد کساد بازاری کی لہر آنا باعث حیرت نہیں ہے بلکہ اس نظام کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ایسا نہ ہونا حیران کن ہوگا۔بے قید معیشت کے نام پر وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کے لئے بنے گئے تانے بانے سرمایہ دار کے دل میں ایسی خود غرضی اور لالچ پیدا کردیتے ہیں کہ ایک موقع پر وہ اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس میں بے تحاشہ سرمایہ لگانا شروع کر دیتاہے اور ایک موقع ایسا آتا ہے کہ سرمائے کی کثرت نفع کے امکانات ختم کرتی چلی جاتی ہے۔ کاروبار سردپڑتا دیکھ کر سرمایہ دار پہلے سے لگا ہوا سرمایہ کھینچنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر کساد بازاری کا دورہ پڑجاتا ہے۔

g20-protest01

ظاہر ہے ایسے حالات میں جب لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں اور کروڑوں اس قدر قلیل المعاش ہوں کہ سخت ضرورت کے باوجود وہ مال نہ خرید سکیں جن سے وال مارٹ جیسے سپر اسٹور بھرے پڑے ہیں، ایک ایسا منظر نگاہوں کے سامنے ہے کہ دنیاکے سامنے بے حدو حساب قابلِ استعمال ذرائع موجود ہیں، کروڑوں آدمی کام کرنے والے موجود ہیں اور وہ انسان بھی کروڑ ہا کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں جو اس سامان کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہی نہیں بلکہ شدید ضرورت مند ہیں، مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا کے کارخانے اور پیدوار کے مراکز اپنی استعداد کار سے بہت گھٹ کر جو کچھ تیار کر رہے ہیں وہ بھی منڈیوں میں میں محض اس وجہ سے پڑا ہوا ہے کہ لوگوں کے پاس خریدنے کے لئے رقم موجود نہیں ہے اور لاکھوں بے روزگاروں کو اس لئے کام پر نہیں لگایا جاسکتا کہ جو تھوڑا بہت مال بنتا ہے وہی بازار میں نہیں نکل رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی مزید سرمایہ لگاکر بے روزگاروں کو نوکری دینے کی جرات کر سکے ۔۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ایسی ہی کمزوریوں کو دیکھ کر کہا تھا:

ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پہ خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجہ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

ایک اور جگہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
دیارِ مغرب کے رہنے والوٕں خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم اعیار ہوگا

علامہ اقبال کی جانب سے مغربی تہذیب کے جلومیں موجود سیاسی اور معاشی نظام کے بارے میں اس رائے کا اظہار کسی مجذوب کی بڑ نہیں تھا بلکہ ان کی دیدۂ بینا نے سرمایہ داری کی خرابیوں کو دیکھ کر اس کے انجام سے ہمیں کئی عشروں قبل ہی آگاہ کر دیا تھا:

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

اللہ کے ایک اور بندے نے 30دسمبر1946ء کو سیالکوٹ میں خطاب کے دوران سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خرابیوں کو دیکھ کر جو پیشگوئیاں کی تھیں ان میں سے ایک پوری ہوچکی ہے جبکہ دوسری پیشگوئی کے پوری ہونے کے لئے اسٹیج پوری طرح تیار ہے۔آیئے دیکھتے ہیں کہ اس مفکر نے آج سے 63 سال قبل کیا کہا تھا؟

حتی کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کیلئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدنہ پاسکے گی اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے

اس وقت عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے بقا کا جواز تلاش کرنے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں یعنی بے قید معیشت اور حکومتی اجارہ داری سے آزادی پر بھی سمجھوتہ تیار کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ بینکوں کو قومیانہ –یا ان پر سرکاری کنٹرول کا قیام– سرمایہ داری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ بالکل اسی طرح معیشت پر بھی سخت ریگولیشن کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ حالیہ بحران نے عالمی مالیاتی نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اس لئے معیشت اور مالیات کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرافات

wallstreet-protest

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک اس کی جگہ لینے کے لئے دوسرا نظام موجود نہ ہو۔اسلام کے علاوہ کسی نظام کے پاس انسانیت کو درپیش مسائل کا حل موجود نہیں۔مگر موجودہ عالمی صورتحال میں نہ اسلام کے معاشی نظام کا کوئی ماڈل موجود ہے اور نہ ہی اس نظام کو متبادل کے طور پیش کرنے کے لئے وکیل اور سازگار حالات،اس لئے موجودہ سرمایہ داری اس وقت تک موجود رہے گی جب تک دوسرا نظام اس کی جگہ سنبھالنے کے لئے دنیا کے سامنے نہ پیش کر دیا جائے۔ماہرین کہتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکہ کی معیشت مسلسل تیس سال کی کساد بازاری برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے،مگریہ رائے آج کے حالات میں اتنی درست معلوم نہیں ہوتی۔اس نظام کی مثال اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسے مٹھی سے بھر بھری اور خشک ریت کو پکڑنے کی کوشش کی جائے ابتدا میں ریت بہت آہستہ آہستہ نکلتی ہے مگر جیسےجیسے مٹھی خالی ہوتی جاتی ہے ریت کے نکلنے کی رفتار بھی تیز ترین ہوتی چلی جاتی ہے ۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات

Google Buzz

تاشقند

گزشتہ سال یہ مضمون اردو وکیپیڈیا کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیےیہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسے حتی الامکان بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں موجود خامیوں یا غلطیوں کے بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا۔

تاشقند ازبکستان اور صوبہ تاشقند کا دارالحکومت ہے۔ 2006ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کی آبادی 31 لاکھ اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ سے زائد ہے۔
قرون وسطیٰ میں یہ شہر چچ کے نام سے جانا جاتا تھا جو بعد ازاں چچ قند یا چش قند اور پھر تاشقند بن گیا۔ ترک زبان میں تاش کا مطلب ہے پتھر جبکہ قند شہر کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سمرقند، یرقند، پنجی قند وغیرہ)۔نام کی یہ تبدیلی 16 ویں صدی کے بعد عمل میں آئی۔ موجودہ نام تاشقند (Tashkent) کے ہجے روسی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
جغرافیہ
شہر شمقند اور سمرقند کے درمیان شاہراہ پر کوہ التائی کے مغربی جانب زرخیر میدان میں واقع ہے۔ تاشقند عین اس مقام پر واقع ہے جہاں دریائے چرچک اور اس کے دیگر معاون دریا آپس میں ملتے ہیں۔ یہ زلزلے کی متحرک پٹی پر واقع ہے اور زلزلے کے چھوٹے موٹے جھٹکے آنا معمول ہے۔ 1966ء میں یہاں آنے والے ایک زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 ناپی گئی تھی۔
تاریخ
تاشقند دریائے چرچک کے کنارے کوہ گولستان کے قدموں ایک نخلستان کے طور پر معروف ہوا۔ زمانہ ہائے قدیم میں اس علاقے میں کانگجو اتحاد کا گرمائی دارالحکومت تھا۔
امارت چچ، جس کا مرکزی قصبہ 5 ویں سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان ایک مربع قلعے کی کی شکل میں تعمیر کیا گیا تھا، سیر دریا سے 8 کلومیٹر شمال میں واقع تھی۔ 7 ویں صدی عیسوی میں چچ میں 30 قصبے تھے اور 50 سے زائدنہروں کا جال بچھا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ سوگدیائی اور ترک باشندوں کے درمیان تجارتی مرکز بن گیا۔ یہ خطہ 8 ویں صدی کے اوائل میں مملکت اسلامیہ کا حصہ بنا۔
عرب اس شہر کو الشش کہا کرتے تھے۔ جدید ترکی نام تاشقند (پتھر کا شہر) 10 ویں صدی میں قرہ خانی خاندان کی حکومت کے دوران ملا۔
1219ء میں چنگیز خان نے حملہ کر کے شہر کو تباہ کر دیا۔ تیموریوں اور شیبانیوں کے دور میں اس شہر نے خوب ترقی کی تاہم اس عرصے میں یہ ازبکوں، قازق باشندوں، فارسیوں، منگولوں اور دیگر اقوام کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔
1809ء میں تاشقند خانان خوقند کے زیر نگیں چلا گیا۔ اس وقت تاشقند کی آبادی ایک لاکھ تھی اور یہ وسط ایشیا کا خوشحال ترین شہر تھا۔ مئی 1865ء میں جنرل میخائل چرنیایف نے شہر پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ عددی برتری اور مضبوط حصار حاصل ہونے کے باوجود خانان خوقند کی فوج دو روز بھی روسی افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور شہر روسیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ چرنیایف، جو شیرِ تاشقند کے نام سے مشہور ہوا، نے عوام کے دل جیتنے کے لیے خانان کے لگائے گئے تمام ناجائز محصولات ایک سال کے لیے ختم کر دیے اور عام لوگوں کے مسائل کے خاتمے کے لیے کوششیں کیں۔ اسے زار کی جانب سے تاشقند کا عسکری گورنر بنایا گیا اور اس نے زار الیگزینڈر ثانی سے یہ بھی سفارش کی کہ وہ شہر کو روس کے زیر تحفظ ایک آزاد ریاست بنا دے۔
زار نے چرنیایف اور اس کے سپاہیوں کو اعزازات و تمغوں سے نوازا لیکن کیونکہ جنرل نے یہ حملہ اُس کی اجازت کے بغیر کیا تھا اس لیے وہ زیادہ عرصہ اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں ناکام رہا اور جلد ہی اس کی جگہ قسطنطین پیٹرووچ وان کوف مین کو مقرر کر دیا اور تاشقند کو آزاد ریاست تصور کرنے کے بجائے اسے روسی ترکستان کے نئے علاقے کا دارالحکومت بنا دیا جس کا پہلا گورنر جنرل کوف مین تھا۔ قدیم شہر کے قریب ایک چھاؤنی اور روسی آبادی بنائی گئی اور ملک کے کئی علاقوں سے روسی آبادی اور تاجروں کو آباد کیا گیا۔ وسط ایشیا پر اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے روس اور برطانیہ کے مابین ہونے والے تنازع، جسے عظیم کھیل (The great game) کہا جاتا ہے، کے دوران یہ شہر جاسوسی کا گڑھ بن گیا۔ 1889ء میں ٹرانس کیسپیئن ریلوے کی پٹری یہاں پہنچی اور جن کارکنان نے یہ پٹری تعمیر کی وہ یہیں آباد ہو کر رہ گئے اور انہوں نے بالشویک انقلاب کے بیج یہاں بھی بودیے۔
20ویں صدی
روسی سلطنت کے خاتمے اور بالشویک انقلاب کے ساتھ ہی یہاں کی صوبائی حکومت نے تاشقند کو اپنے زیر انتظام لے کر روسی استبداد سے آزادی کی کوشش کی جسے بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے سختی سے کچل دیا گیا۔ اپریل 1918ء کو تاشقند کو ترکستان خودمختار سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس عرصے میں مسلمانوں نے بسماچی تحریک کی صورت میں علم بغاوت بلند کر دیا لیکن روسی سلطنت نے اس ابھرتے ہوئے خطرے کا بھی خاتمہ کر دیا۔ بالآخر 1930ء میں تاشقند کو سمرقند کی جگہ ازبک سوشلسٹ سوویت جمہوریہ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔
1920ء اور 1930ء کی دہائی میں شہر میں صنعتوں کا جال بچھا دیا گیا خصوصاً دوسری جنگ عظیم کے درمیان نازی جرمنوں کے حملے کے پیش نظر مغربی روس سے بڑی تعداد میں صنعتیں یہاں منتقل کی گئیں۔ ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں کے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں روسی آبادی یہاں منتقل کی گئیں خصوصاً جنگ سے متاثرہ علاقوں کے تمام پناہ گزینوں کو مسلم اکثریتی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ آبادی میں “توازن” قائم کیا جا سکے۔ بالآخر ہدف حاصل کر لیا گیا کہ تاشقند کی نصف آبادی روسی باشندوں پر مشتمل ہو جائے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ کے بعد اسی شہر میں معاہدہ طے پایا جو تاریخ میں معاہدہ تاشقند کے نام سےجانا جاتا ہے۔
26 اپریل 1966ء کو آنے والے ایک شدید زلزلے میں تاشقند کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 تھی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 3 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔
1991ء میں سوویت روس کے زوال کے وقت تاشقند ملک کا چوتھا بڑا شہر اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبہ جات میں تعلیم کا مرکز تھا۔
سوویت اتحاد سے آزادی کے بعد تاشقند نومولود ریاست ازبکستان کا دارالحکومت قرار پایا۔ شہر میں آج بھی روسی آبادی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ شہر اپنی سرسبز شاہراہوں، فواروں اور دلفریب باغات کے باعث مشہور ہے۔ تاشقند متعدد بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بھی بن چکا ہے جس کا الزام حکومت مبینہ اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد کرتی ہے۔
1991ء میں آزادی کے بعد شہر میں اقتصادی، ثقافتی اور تعمیراتی اعتبار سے کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ جس جگہ ولادیمیر لینن کا سب سے بڑا مجسمہ ایستادہ تھا آج اس کی جگہ ایک کرۂ زمین (گلوب) نصب کر دیا گیا ہے۔ سوویت دور کی عمارتوں کی جگہ اب جدید عمارتیں لے رہی ہیں جس کی ایک مثال تاشقند کا مرکزی تجارتی علاقہ ہے جہاں 22 منزلہ این بی یو بینک، انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل، انٹرنیشنل بزنس سینٹر اور پلازہ بلڈنگ کی صورت میں فلک بوس عمارتیں کھڑی ہیں۔
سوویت دور کی پابندیوں کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کی کھلی اجازت ملی۔ 2007ء میں تاشقند کو اسلامی دنیا کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔
قابل دید مقامات
1917ء میں انقلاب روس کے بعد شہر کی کئی قدیم خصوصاً مذہبی عمارات کو تباہ کر دیا گیا اور رہی سہی کسر سوویت دور کے صنعتی انقلاب اور بعد ازاں 1966ء کے زلزلے نے پوری کر دی۔ اس لیے تاشقند کے عظیم ثقافتی و تعمیراتی ورثے کا بہت کم حصہ ہی بچا ہے۔ اس کے باوجود تاشقند میں عجائب گھر اور سوویت دور کی کثیر یادگاریں موجود ہیں۔
کوکلداش مدرسہ
1557ء سے 1598ء تک برسر اقتدار رہنے والے عبد اللہ خان کے زمانے سے قائم ہونے والا مسجد و مدرسہ اب مسلمانانِ ماوراء النہر کے صوبائی مذہبی بورڈ نے بحال کیا ہے۔ اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کرنے کی سفارشات ہیں لیکن فی الوقت یہ بطور مسجد استعمال ہو رہا ہے۔
کورشو بازار
کوکلداش مدرسہ کے قریب ایک بہت بڑا بازار ہے جو قدیم شہر تاشقند کا مرکز تھا۔ یہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء دستیاب ہیں۔
خشت امام مسجد
اس مسجد کی خاص بات ہے یہاں صحیفہ عثمانی کی موجودگي جو خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زیر استعمال قرآن ہے۔ یہ دنیا کا قدیم ترین نسخہ قرآن ہے۔ 655ء کے اس نایاب نسخے پر خون کے کچھ نشانات بھی ہیں جو شہادت عثمان سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔ یہ نسخہ امیر تیمور اپنے ساتھ سمرقند لایا تھا جسے روسیوں نے قبضے کے بعد سینٹ پیٹرز برگ منتقل کر دیا۔ 1989ء میں یہ نسخہ ازبکستان کو واپس دیا گیا۔
15 ویں صدی کے چند مزارات کو بھی 19 ویں صدی میں بحال کیا گیا جس میں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے دادا یونس خان کا مقبرہ بھی شامل ہے۔
شہزادہ رومانوف کا محل
19 ویں صدی میں الیگزینڈر ثالث کے قریبی عزیز نکولائی کونسٹاٹینووچ کو روسی شاہی جواہرات کی مشتبہ سودے بازیاں کرنے پر تاشقند جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کی قیام گاہ آج بھی مرکز شہر میں موجود ہے۔
وزارت امور خارجہ کے زیر اہتمام اس عجائب گھر قرار دیے جانے والے محل میں قبل از روس کی تاریخ کے مجسمے، فن پارے اور 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دستکاریوں کے کئی نمونےموجود ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں رومانوف کی جانب سے لائی گئی تصاویر کا وسیع مجموعہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ عجائب گھر کے عقب میں ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس میں 1917ء کے انقلاب روس میں مارے گئے بالشویک انقلابیوں کے علاوہ پہلے ازبکستانی صدر یلدش اخون بابایف کی قبریں موجود ہیں۔
علی شیر نوائی اوپیرا اور بیلے تھیٹر
ماسکو میں لینن کا مقبرہ تعمیر کرنے والے ماہر تعمیرات الیکسی شوسیف کے ذہن کی ایک اور تخلیقی کاوش اس شہر میں واقع یہ تھیٹر ہے۔ اس تھیٹر کی تعمیر میں دوسری جنگ عظیم میں پکڑے گئے جاپانی قیدیوں کو بطور مزدور استعمال کیا گیا تھا۔
تاریخی عجائب گھر
سابق لینن عجائب گھر میں واقع یہ تاشقند کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔
امیر تیمور عجائب گھر
نیلے گنبد اور آراستہ و پیراستہ اندرونی دیواروں کی حامل یہ متاثر کن عمارت میں امیر تیمور اور صدر اسلام کریموف کی یادگاریں موجودہیں۔ عجائب گھر کے باہر واقع باغیچہ میں گھوڑے پر سوار امیر تیمور کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ عجائب گھر کے گرد شہر کے خوبصورت ترین باغ اور فوارے واقع ہیں۔
انفرادی خصوصیات
یہاں وسط ایشیا کا واحد زیر زمین ریلوے نظام واقع ہے۔ (استانا اور الماتے میں ابھی یہ نظام تعمیراتی مراحل میں ہے)
تاشقند میں ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ واقع ہے جو شہر کو ایشیا، یورپ اور امریکین سے جوڑتا ہے۔
شہر کا سب سے بڑا چوراہا، جو سوویت دور میں آزادی چوک کہلاتا تھا، سوویت دور میں لینن کے سب سے طویل القامت (30 میٹر) مجسمے کا حامل تھا۔ 1992ء میں لینن کے مجسمہ کی جگہ یہاں دنیا ایک کرۂ زمین نصب کر دیا گیا ہے جس پر ازبکستان کو واضح کیا گیا ہے۔
تعلیم
شہر کی چند جامعات اور اعلٰی تعلیم کے ادارے:
*تاشقند اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی
*انٹرنیشنل بزنس اسکول “کالجاک علمی”
*تاشقند یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجیز
*ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل یونیورسٹی تاشقند
*قومی جامعہ ازبکستان
*یونیورسٹی آف ورلڈ اکنامی اینڈ ڈپلومیسی
*تاشقند اسٹیٹ اکنامک یونیورسٹی
*تاشقند اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف لا
*تاشقند انسٹیٹیوٹ آف فنانس
*اسٹیٹ یونیورسٹی آف فارن لینگویجز
*کنزرویٹری آف میوزک
*تاشقند اسٹیٹ میڈیسن اکیڈمی
*انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹیڈیز
*تاشقند اسلامک یونیورسٹی
ذرائع ابلاغ
شہر سے ازبک زبان کے 9 اور انگریزی زبان کے 4 اخبارات اور روسی زبان کے 9 جرائد شایع ہوتے ہیں۔
متعدد ٹیلی وژن اور کیبل ٹیلی وژن تنصیبات بھی شہر میں موجود ہیں جن میں برجِ تاشقند (تاشقند ٹاور) بھی شامل ہے جو وسطِ ایشیا کی بلند ترین تعمیر ہے۔
جڑواں شہر
استنبول، ترکی
سیاٹل، واشنگٹن، امریکہ
کراچی، پاکستان
برلن، جرمنی
نیپروپیٹرفسک،یوکرین
کھیل
تاشقند کا سب سے معروف فٹ بال کلب پختاکور تاشقندہے جو ازبک لیگ میں کھیلتا ہے۔
معروف سائیکلسٹ جمال الدین عبدالجباروف اور فٹ بالر ویزیلس ہازیپیناگیس اسی شہر میں پیدا ہوئے۔ ٹینس کھلاڑی ڈینس استومن کا مقام پیدائش و رہائش یہی شہر ہے۔

متعلقہ مضامین
معاہدہ تاشقند

بیرونی روابط
تاشقند کی سیاحت
تاشقند کی تصاویرکا سب سے بڑا مجموعہ روسی زبان میں
تاشقند کی حالیہ تصاویر تبصروں کے ساتھ انگریزی زبان میں

Google Buzz

کیا؟ کون؟ کب؟ کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟

جب خبر کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں شامل عناصر کی بات کی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اس میں ان 6 “ک” کا شامل ہونا ضروری ہے جسے انگریزی میں پانچ “ڈبلیو” اور ایک “ایچ” کہا جاتا ہے یعنی “کیا؟ کون؟ کب؟ کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟” اور انگریزی میں “What?, Who?, When?, Where?, Why? اور How?” ان عناصر کی تکمیل کے بغیر یا ان میں سے کم از کم 4 عناصر کی شمولیت کے بغیر کوئی خبر تصدیق شدہ تو کجا خبر کہلانے کی مستحق بھی نہیں ہوتی۔
اس واضح امر کے باوجود ایک ایسی خبر کو دو دن تک عوام کے ذہنوں پر سوار رکھا گیا جس میں خبر کا صرف ایک عنصر یعنی “کیا؟” شامل تھا کہ ایک لڑکی کو، جس کی شناخت بھی واضح نہیں، کوڑے مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ “کب؟ کون؟ کیوں؟ کہاں؟ اور کیسے؟” کا کوئی علم نہیں۔ “نامعلوم” کی یہ تکرار غالباً اس سے قبل صرف لطیفوں میں ہی سنی تھی جس میں نامعلوم ملزمان نامعلوم سمت سے آ کر کاروائی کرتے ہیں اور نامعلوم سمت ہی کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔
ایک بلاشبہ یہ واقعہ کہیں بھی پیش آئے وضاحت طلب ضرور ہے اور وڈیو میں پیش کردہ مناظر کو دیکھ کر کسی حد تک اسے شرمناک بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون یا لڑکی کو سر عام مردوں کی موجودگی میں کوڑے لگائے جائیں۔ لیکن میڈیا کا کردار بھی شرمناک و افسوسناک رہا جس نے بغیر تصدیق کے اس خبر کو عوام کے ذہنوں پر سوار کیا۔ اور صرف خبر پر ہی کافی نہ سمجھا بلکہ اس پر تبصروں و تجزیوں، مذمتوں اور احتجاجوں کی منڈی لگا دی۔ عقل کے گھوڑے چہار سمت دوڑائے گئے، نتیجتاً عوام کے ذہنوں کی “چٹنی” بن گئی۔ دوسری جانب کچھ لوکوں کی جراتیں بھی اتنی بڑھ گئی کہ وہ واضح الفاظ میں “شریعت کے کالے قوانین” (نعوذ باللہ) اور اسلامی سزاؤں کو “انسانیت کی تذلیل” کہنے سے بھی نہ چوک رہے۔
واقعے کے حوالے سے طالبان سے تو وضاحت طلب کرنا بیکار ہے کہ وہ خود کو ہر وضاحت سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان سے کچھ مطالبہ کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ پھر بھی ہر مسلمان (پاکستانیوں کو تو وہ گھاس نہیں ڈالتے) کے ذہن میں یہ وضاحت طلب سوالات ضرور ابھرتے ہیں کہ یہ لڑکی کون تھی؟ اسے کن الزامات کے تحت کون سی قاضی عدالت میں پیش کیا گیا؟ الزامات کی نوعیت بھی سامنے لائی جائے، کون کون سے گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور ان کا اپنا ماضی کیسا تھا؟ پھر قرآن و شریعت کی رو سے اس لڑکی کو کس طرح سزا دی گئی؟ اور اس سزا پر عملدرآمد کہاں؟ کب؟ کیسے اور کس نے کیا؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس عمل کے مرتکب افراد پر قرض ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے بگڑتے ہوئے حالات سے خطے میں آنے والی واضح تبدیلیاں اس امر کی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ بگڑتے ہوئے حالات کے ساتھ پاکستان کو افغانستان سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے مزید ٹکڑے کرنے کے ہدف پر کام کیا جائے گا بلکہ اس پر کام جاری ہے اور پاکستانی آپسی اختلافات میں اضافے سے اس “منزل” کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ سرحد اور بلوچستان کی خراب صورتحال دراصل آزاد پخونستان یا افغانیہ اور آزاد بلوچستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے اور پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے محروم کرنے کے منصوبے کا حصہ لگتی ہے۔

Google Buzz

الیاس سیتا پوری اور ضیاء تسنیم بلگرامی

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم
میگزین رسائل جرائد اور ڈائجسٹ پڑھنا کسی طرح سنجیدہ مطالعے کے زمرے میں نہیں آتا (تاہم ادبی مجلے اور تذکرے اس سے مستثنٰی ہیں ) تاریخ، ادب، فلسفے اور عمرانیات کے بارے قرار واقعی علم حاصل کرنے کے لئے موضوع کی مناسبت سے مفصل کتاب ہی سے موضوع کا حق ادا ہوسکتا ہے۔ مگر میں ڈائجسٹ اور جرائد کے اس کردار کا ضرور معترف ہوں جو سنجیدہ مطالعے کے ذوق کی پیاس پیدا کرنے میں انہوں نے ادا کیا ہے۔ ہر چیز کی طرح مطالعے کا ذوق بھی بتدریج ہی پروان چڑھتا ہے اگرچہ میری عمر اور کتاب خوانی کا تجربہ اتنا وسیع نہیں ہے مگر میرا اپنا تجربہ مجھے یہی بتاتا ہے۔
سات سال کی عمر میں، میں نے اپنے جیب خرچ میں سے پچیس پیسے بچا کر میں نے اپنی پہلی کہانی خریدی تھی۔ اس کے سرورق پر بنی خوفناک جن کی تصویر آج بھی میرے ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ اس کے بعد جن بھوت پریتوں اور جادوگروں کی کہانیوں اور کئی سال تک بچوں کے ادب کے ماہانہ پرچے پڑھنے کے بعد تیرہ سال کی عمر سے چھوٹے چچا سے چھپ کر ان کے سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ پڑھنے شروع کئے تاہم اٹھارہ انیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ان رسالوں کا لطف بھی جاتا رہا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد چھٹیوں میں گھر کے کباڑ سے میرے ہاتھ 70 اور 80 کے عشرے کے تلف کئے گئے سب رنگ ڈائجسٹ لگے جن کا معیار میں 1990 کے عشرے کے سسپنس اور ڈائجسٹ سے بدرجہا بہتر پاتا اور انہیں ڈائجسٹوں میں میرا الیاس سیتاپوری اور ضیا تسنیم بلگرامی کے زیادہ وسیع کام سے اصل تعارف ہوا جبکہ کرشن چندر اور ممتاز مفتی ایسے کمال فن رکھنے والے افسانہ نگاروں سے شناسائی پیدا ہونا بھی اسی دور کا تحفہ ہے۔ لیکن اس کے بعد میں نے ڈائجسٹ نہیں بلکہ ان مصنفین کی کتابیں خریدیں اور اس کے بعد مطالعے کا سفر شعر و ادب، انگریزی فکشن سے ہوتا ہوا ان دنوں تاریخ معاشیات، مابعد الطبعیات اور مابعد جدیدیت اور دیگر عمرانیاتی موضوعات پر جاری ہے۔
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے باگ ہاتھ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
یہ باتیں تو بلاوجہ ہی ضبط تحریر میں آگئیں محض یہ بتانے کے لئے کہ اگرچہ جرائد اور ڈائجسٹ سنجیدہ مطالعے کے زمرے میں تو نہیں آتے مگر مطالعے کے ذوق کو سنجیدگی کے مطلوبہ معیار تک پہنچانے کے لئے ان کے بغیر بھی شاید آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
جہاں تک الیاس سیتاپوری کی تاریخ نگاری کا تعلق ہے تو ان کا انداز ٹیکسٹ بک یا مستند انداز تاریخ نگاری سے یکسر مختلف ہے۔ تاریخ نگاری کا وہ رائج انداز جو مستند سمجھے جانے والے مسلم مورخین یا مستشرقین نے اختیار کیا اس میں لکھنے والوں کا سب سے زیادہ زور واقعات کی صحت ثابت کرنے پر محسوس ہوتا ہے جو قاری کو بہت جلد بور کر کے کتاب کو دوبارہ طاقِ نسیاں میں رکھ ڈالنے پر مجبور کردیتا ہے۔میرا خیال ہے الیاس سیتاپوری نے کبھی واقعات کی صحت کو ثابت کرنے پر زور نہیں دیا بلکہ اس عہد کے مرکزی کرداروں کے بجائے ایک معمولی شخصیت سے اس عہد کو سمجھانے کی کوشش کی ہے جس سے قاری خود کو اسی دور میں چلتا پھرتا اور واقعات کو اپنے سامنے رونما ہوتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور اس اپروچ سے کام ہی کو میں الیاس سیتاپوری کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں۔ اگر آپ تاریخ کو پڑھنے کے بجائے اس عہد میں لوٹنا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن میں پہلے سے موجود تاریخ نگاری کے سانچوں کو توڑ کو الیاس سیتاپوری کی جانب آیئے یقین جانئے بہت لطف آئے گا۔
اور
جہاں تک تعلق ہے ضیاء تسنیم بلگرامی صاحبہ کا، انہوں نے بھی اپنے کام کے لئے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے اس کے بارے میں میں نعیم صدیقی مرحوم کی یہ نگارشات مجھے یاد آگئیں ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ نعیم صدیقی کیا کہتے ہیں:
’’ زندگی کے شہر میں اولادِ آدم کے انبوہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں ہر آن کچھ تعداد پردۂ عدم کے پیچھے چلی جاتی ہے اور اپنے سے زیادہ جانشین چھوڑ جاتی ہے مگر ان میں مجسمہ ہائے حسن و خوبی کم ہوتے ہیں۔ اشخاص کروڑوں ہوتے ہیں لیکن شخصیت کم کم میں پائی جاتی ہے اور پھر ان میں تابناک شخصیات تو اکا دکا ہی پائی جاتی ہیں۔ شخصیت نگار کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہجوم میں سے کوئی ایسی بہترین شخصیت کا انتخاب کرے جس کے فکر و عمل سے سب سے زیادہ استفادہ کیا جاسکتا ہو جس کی مثال سے دوسروں کو زیادہ سے زیادہ روشنی بہم پہنچائی جاسکتی ہے جس کو سمجھنا واقعی ضروری ہو، اور اس کی دوسری ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شخصیت کی تصویر گری ایسے زاویوں سے کرے کہ دوسرے لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ اخذ و اکتساب کر سکیں۔ ‘‘
یہ تو تھی شخصیت نگاری کے بارے میں نعیم صدیقی کی رائے۔ جس کے بعد صرف اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ جو لوگ ضیاء تسنیم بلگرامی کے کام سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام کس حسن و خوبی سے کیا ہے اور جو واقف نہیں ہیں۔ وہ صرف ان کی تصانیف کے عنوانات سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کام کے لئے کیسی شخصیات کا انتخاب کیا۔ انبیائے کرام کے حالات زندگی ہوں یا صحابہ کرامؓ کی عشق و مستی کے واقعات۔ مجدّدین کی جدوجہد ہو یا اولیائے کرام اور مجاہدین کے کارنامے، ان تمام لوگوں کے کام اور شخصیت کا جس خوبصورتی اور غیر جانبداری سے احاطہ کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جبکہ حق کی شناخت کے لئے ان لوگوں کے حالات زندگی بھی بتائے جو باطل کی علامت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ چیزیں اپنی ضد ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔
الغرض سیتاپوری مرحوم اور بلگرامی صاحبہ نے جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہی ہے۔

Google Buzz