تحاریر برائے ماہِ مئی ، ۲۰۰۹


قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوز کر دو

جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔۔نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد مولانا صوفی محمد کے بیانات اور شدت پسندوں پر خلاف ورزیوں کے الزامات کی بنیاد پر شروع ہونے والی کارروائی کے بارے میں بھی ابھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پہلے کس جانب سے ہوئی تھی ۔۔حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ ۔معاہدے کی پہلی خلاف ورزی شدت پسندوں کی جانب سے چھبیس اپریل کو دیر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی تھی ۔یہ دعوی اس لحاظ سے بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کا فیصلہ اس واقعے سے دو دن پہلے(24 اپریل ) ہی کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدر اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں کر لیا گیا تھا۔

ایوان صدر اجلاس

جس کی تصدیق اس تاریخ کو ایوان صدرسے جاری ہونے والے اس بیان سے کی جاسکتی ہے ۔۔

حکومت کی جانب سےشدت پسندوں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے انہوں نے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ ہتھیار نہیں ڈالے تھے ۔۔حالانکہ معاہدےمیں صرف یہ طے پایا تھا کہ سوات کے طالبان ہتھیار رکھ کر مسلح گشت ختم کر دیں گے ۔۔
معاہدے میں درج الفاظ میں ہتھیار‘‘ رکھنے ’’ کو ‘‘ڈالنے ’’ سے بدل کر شدت پسندوں کو معاہدےکی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہاہے ۔۔حالانکہ دنیا کی گزشتہ پچاس سالہ تاریخ میں جتنے بھی مسلح تصادم دنیا بھر میں ہوئے ہیں ۔ان کا جائزہ لےکر بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان سے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ جس رویئے کا مظاہرہ کیا گیا تھا اس کے لئے فریقین کو ایک طویل عرصے تک اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوتے ہیں ۔۔جس معاہدے کی ‘‘خلاف ورزی’’ کا الزام شدت پسندوں پر لگایا جارہا ہے اس میں یہ بھی درج تھا کہ فوج ملاکنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں سےنکل جائے گی ۔ فوجی چیک پوسٹیں ختم ہوں گی ۔۔ اور سیکیورٹی کے انتظامات پولیس اور ایف سی کے اہلکار سنبھالیں گے ۔ نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد شدت پسندوں نے تو مسلح گشت ختم کر دیا تھا مگراس دوران فوج کو واپس بلائے جانے کے بجائے مزید فوج تعینات کی جاتی رہی۔۔اور چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔۔جس کے نتیجے میں ۔۔اس فریق کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو معاہدے کے نتیجے میں دیوار سے لگنا شروع ہوگیا تھا ۔۔
مگر قصر سفید کی اطاعت گزار حکومت نے شاید یہ معاہدہ ہی کسی جنگی حکمت عملی کے تحت توڑنے کے لئے ہی کیا تھا جس کی تصدیق خود وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اکیس مئی کو پرائم منسٹر ہائوس میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور فیڈرل کونسل کے اجلاس میں اس وقت کی جب ان یہ سوال کیا گیا کہ آل پارٹیز کانفرنس آپریشن شروع کرنے کے کئی دن بعد کیوں بلائی گئی ۔اس وقت وزیر اعظم نے یہ کہا کہ حکومت نے آپریشن کے فیصلے کو اس لئے خفیہ رکھا تھا کہ ماضی میں آپریشن اعلان کر کے شروع کرنے کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے رہے ہیں ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر آپریشن اعلان کر کے شروع کیا جائے تو شدت پسندان علاقوں سے نکل جاتے ہیں اور فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں صرف عام شہری مارے جاتے ہیں ۔۔ابھی پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس بیان کی بھی وضاحت کرنا ہے جو پانچ مئی کو خطے کے لئے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے دیا ہے ۔۔

رچرڈ ہالبروک

رچرڈ ہالبروک نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے بغیر کمیٹی کو بتایا کہ صدر زرداری انہیں پہلے ہی یہ بتاچکے تھے کہ ۔۔سوات امن معاہدہ نہیں چلے گا ۔۔مگر پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومت کو یہ کریڈٹ تو دینا ہی پڑے گا ک انہوں نے الزامات کی اتنی دھول ضرور اڑا دی ہے کہ لوگ کنفیوز(ابہام کا شکار) ہوگئے ہیں ۔عوام کے کنفیوزہونے اور آپریشن کی مخالفت نہ کرنے کو حکومت نےآپریشن کی حمایت ۔مارکیٹنگ کے اس اصول پر کامیابی سے عمل کرکے کیا ہے کہ اگر لوگوں کو قائل نہیں کر سکتے تو انہیں کنفیوز تو کر ہی دو۔۔ حالانکہ اس آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے ۔اس کا اندزاہآئندہ چند ہفتوں کے دوران ہی ہوجائے گا ۔۔ملاکنڈ ڈویژن کےمتاثرین کی اکثڑیت نے خیمہ بستیوںمیں پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ اپنے گھروں سے طالبان کی وجہ سے نہیں بلکہ فوجی آپریشن کے باعث نکلے ہیں ۔۔
فوجی آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات اکیس اپریل کو رلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے دو جڑواں بچوں کے نام ان کے والدین نے صوفی محمد اور فضل اللہ رکھ دیئے ہیں ۔۔ایک اور واقعہ بھی ایسا پیش آیا ہے جس نے فوج اور برسراقتدار روشن خیالوںکی اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی ہے ۔۔وہ طاقتیں جو پہلے ہی آپریشن راح حق شروع کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں انہوں نے عوام کو علاقے سے نکالنے کے بجائے بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا۔۔ ملاکنڈ ڈویژن کے آپریشن کے ستائے مصیبت زدہ خاندان ہجرت پر ہوئےتو انہیں نکالنے کے لئے فوج وفاقی و صوبائی حکومت ، پیپلز پارٹی اے این پی ،اور آپریشن کی حامی مسلم لیگ نوازکی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا ۔۔کیوں کہ جب ملاکنڈ ڈویژن کے مصیبت زدہ خاندان عورتوں ۔۔ بچوں اور رخت سفر کے ساتھ اپنے ہی وطن میں پیدل ہجرت پر مجبور ہوئے تو انہیں گاڑیوں میں پہنچانے کے لئے صرف آپریشن کی مخالف جماعت ،جماعت اسلامی اوراس کے فلاحی ادارے الخدمت فائونڈیشن کی گاڑیاں ہی موجود تھیں ۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت فائونڈیشن کے رضا کاراپنے اپنے علاقوں کے ایک ایک خاندان کوگاڑیوں میں بٹھا کر کیمپوں میں پہنچانے کا انتظام کرتےرہے ۔۔الخدمت کی اس خدمت کا اعتراف۔۔ جماعت اسلامی کے مخالفین میں شامل بائیں بازو کے صحافی نصرت جاوید نے بھی اپنے پرگرام بولتا پاکستان میں کیا

نصرت جاوید نے بجا طور پر کہا کہ یہ کیسے لبرل اور روشن خیال ہیں جوہزاروں خاندانوں کو ۔۔ خواتین ،شیرخواربچوں ، بیمار اور ضعیف العمرافراد کو کئی کئی میل پیدل ہجرت کرنے پر مجبور کر نے کے لئے بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔۔انہیں خیمہ بستیوں تک پہنچانے میں نہ تو فوج کوئی مدد کرتی ہے اور نہی ہی روشن خیال مرکزی اور صوبائی حکومتوں اوراعتدال پسندوں کے دل میں کوئی انسانی ہمدردی کا احساس جاگتا ہے ۔۔ان کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔۔ کہ متاثرین ملاکنڈ کا سب سے بڑا اورسب سے بہتر سہولیات دینے والا کیمپ۔۔ حماس کے بانی شیخ احمد یسین کے نام پر ۔۔ایک‘‘نان اسٹیٹ ایکٹر’’ لخدمت فائونڈیشن نے قائم کیا ہواہے ۔۔چند دن قبل متحدہ قومی موومنٹ نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو چوڑیاں پہننے کا طعنہ دیتےہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سوات کے عوام کو ‘‘درندہ صفت ’’ طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔ مگر چند دن بعد اسی ‘‘ رحم دل ’’اور ‘‘فرشتہ صفت’’ جماعت نے متاثرین کو سندھ میں پناہ نہ دینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔ متاثرین کی آڑ میں طالبان کی یلغارہورہی ہے ۔۔

Google Buzz

جنگ اخبار کی قائد اعظم کی شان میں گستاخی

اخباری صحافت کا معیار کسی وقت بلند ہوا کرتا تھا لیکن جب سے نجی ٹی وی چینلوں کی آمد شروع ہوئے ہے، تجربہ کار صحافیوں کی چینلوں میں منتقلی کے باعث اخباری صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اگر پاکستان سے نکلنے والے 5 بڑے اردو اخبارات کی ایک روز کی غلطیوں کو سمیٹا جائے تو اس کے لیے ایک الگ بلاگ کی ضرورت پڑے گی جہاں روزانہ 12 سے 15 تحاریر قارئین کی منتظر ہوں گی۔
لیکن جو کمال گزشتہ روز (21 مئی 2009ء) کو روزنامہ جنگ، کراچی نے کیا ہے، ایسا شاہکار تو شاید ہی آج تک کسی نے تخلیق کیا ہو۔ روزنامہ جنگ خبر کے اندر لکھتا ہے کہ
“قائداعظم کے نواسے نیس واڈیا اور ان کے بھارتی دوست لڑکی چھیڑنے پر پٹ گئے”۔

قائداعظم کے نواسے کے حوالے سے جنگ کی خبر کا تراشہ

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا اپنی زندگی میں ہی اپنے اہل خانہ سے ناطہ ٹوٹ گیا تھا تو پھر ان لوگوں کو، جنہیں قائد اور ان کے ملک حتیٰ کہ ان کے مذہب سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی، گھٹیا کرتوتوں کے باعث یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ بھی قائد کے نام کے ساتھ۔
دوسرا اخبارات کو خود بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ منفی خبروں ہی کو سامنے لے کر کیوں آتے ہیں؟ پاکستان کے کس اخبار نے یہ خبر شایع کی کہ قائد اعظم کے نواسے انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم “کنگز الیون پنجاب” کے مالک ہیں؟ لیکن جب مبینہ طور پر “لڑکی چھیڑنے” کا معاملہ آیا تو فوراً خبر بھی قائد اعظم کے نام سے لگا دی گئی اور اس کے گرد لکیر کھینچ کر واضح بھی کر دیا گیا تاکہ کسی کی نظروں سے یہ خبر چوک نہ جائے۔
ان صحافیوں کی عقلوں پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس خبر پر جنگ اخبار سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔
جنگ اخبار کے مختلف شہروں میں دفاتر کے نمبر اور ای میل پتے درج ذیل ہیں

groupeditor@janggroup.com.pk

کراچی: 2637111 اور 2636066

راولپنڈی: 5962444 اور 5962277

لاہور: 6367480 اور 6361026

ملتان: 547970 اور 586240

کوئٹہ: 842016 اور 830876

Google Buzz

“مفاہمت” کا پوسٹ مارٹم

معروف محقق سلیم منصور خالد نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو (مرحومہ) کی آخری کتاب Reconciliation: Islam, Democracy and West (اردو ترجمہ: مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب) کا تنقیدی جائزہ لیا ہے جو ایک برقی کتاب کی صورت میں بذریعہ ای میل ملا ہے۔
بے نظیر بھٹو کی یہ آخری کتاب تو ویسے ہی پڑھنے کے قابل ہے کیونکہ اس سے ان کی شخصیت اور فکر کے بارے میں قاری پر کئی در وا ہو جاتے ہیں۔ س۔م۔خ نے اس کتاب کا بہت خوب تجزیہ کیا ہے حالانکہ انہوں نے انتہائی محدود تناظر میں کتاب کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ یہ کتاب کسی بھی اچھے کتاب گھر سے طلب فرمائیں۔ کراچی میں رہنے والے قارئین ماہ جون 2009ء میں ویلکم بک پورٹ پر جاری سالانہ سیل سے فائدہ اٹھائیں اور رعایتی قیمت پر یہ کتاب حاصل کریں۔

Post mortem of Reconciliation: Islam, Democracy & West

Google Buzz

ابلاغی جنگ کا دور اور ہمارے ذرائع ابلاغ

مشرق میں صحافت ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات میں بھی تقدیس کا یہی رنگ جھلکتا ہے۔ مغرب میں تو اس کے لیے journalism کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ مطلب روزنامچہ تحریر کرنا ہو سکتا ہے جبکہ مشرق میں عربی اور اس سے وابستہ زبانوں میں لفظ صحافت رائج ہے جو صحیفہ سے نکلا ہے اور دین میں صحیفوں کی حیثيت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے یعنی “آفاقی پیغام”۔
قیام پاکستان کے بعد سے اکیسویں صدی تک پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا کردار مخصوص دائرے تک ہی محدود رہا لیکن قومی کردار کی تعمیر، تہذیبی و اخلاقی اقدار کی پاسداری اور اصلاح احوال سے کبھی غفلت نہیں برتی گئی لیکن اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستان میں جیسے ہی نجی ٹی وی چینلوں کے آغاز کے ساتھ ہی جو “ابلاغی انقلاب” برپا ہوا اس نے ملک کو سماجی، معاشرتی، سیاسی، معاشی اور نظریاتی جڑوں کو کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ جدید دور میں عوام کی سوچ و فکر پر گہرا اثر مرتب کرنے والا میڈیا اب پاکستان میں ایک ایسی دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے جو اپنے ہی ملک کی نظریاتی، اخلاقی و حقیقی سرحدوں کے درپے ہو گیا ہے۔
حقیقتا تو عوامی رحجانات ہی میڈیا کو اپنا رخ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن وطن عزیز میں میڈیا عوامی رحجانات کو “نئے نئے رخ” عطا کر رہا ہے۔ صرف یہ امر زیر غور لائیے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کی صرف 30 فیصد آبادی خواندہ ہو وہاں میڈیا کیا کیا قیامتیں ڈھا سکتا ہے۔ میڈیا “trend setter” ہے جو عام آدمی کے ملبوسات سے لے کر اس کی سوچ تک پر گہرے اثرات ڈالتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کے مثبت کردار کا مطالبہ جائز بر حق ہے۔
ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایک جانب جہاں عوام میں مایوسی بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب غیروں کی تہذیب کو اپنی تہذیب سے برتر ثابت کر کے احساس کمتری میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ تہذیب اسلامی سے ناطہ توڑ کے تہذیب ہند سے رشتے استوار کیے جا رہے ہیں۔
اس معاملہ پر ہماری حکومتوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے کہ نجی چینلوں کے آغاز کے موقع پر ہی ان کے لیے “ضابطۂ اخلاق” مرتب نہ کیا۔ “ضابطۂ اخلاق” میں میرا زیادہ زور “اخلاق” پر ہے جس سے بلاشبہ ہمارا ذرائع ابلاغ اب بالکل عاری ہوچکا ہے۔ جس طرح کے پروگرامات نشر ہو رہے ہیں یہ ثقافت حقیقتا تو شاذ و نادر ہی دِکھے گی، یا پھر وطن عزیز میں کہیں اس کا وجود ہے تو وہ ایک مخصوص طبقے اور حلقوں تک ہی محدود ہے۔ حتیٰ کہ سندھی اور پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے چینل بھی جس طرح کے پروگرامات اور گانے نشر کرتے ہیں اُس میں دکھائی گئی ثقافت کا حقیقت سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، کیا آپ نے کبھی سندھ یا زیریں پنجاب کے کسی گاؤں میں گھومنے والی لڑکی کو جینز و ٹی شرٹ میں ملبوس دیکھا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ثقافت “درآمد” کرنے کا یہ عمل جبرا کیا جا رہا ہے۔ معاشرے کی اخلاقی و نظریاتی بنیادوں کو کھودنے کی اس سوچی سمجھی حکمت عملی کا واضح ہدف نوجوان نسل ہے جو اب میڈیا کے تمام “اسباق” کو ازبر کرنے کے بعد “میدانِ عمل” میں “عملی تجربات” کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
قدامت پسند تو درکنار کچھ ترقی پسند اور لادین ساتھی بھی ایسے واقعات سناتے ہیں جو آنکھیں کھول دینے کے کافی ہیں۔ جیسے ایک میرے استاد، جو ایک مشہور اخبار کے معروف ترقی پسند کالم نگار ہیں، نے بتایا کہ ایک شادی میں ان کے سامنے بچہ اپنی والدہ سے یہ کہتا پایا گیا کہ “امی ایسے کیسے شادی ہو گئی؟ سات پھیرے تو لگائے نہیں؟”۔ علاوہ ازیں کئی بچوں کی زبان پر ذرائع ابلاغ نے بہت برا اثر ڈالا ہے حتی کہ “خ” کو “کھ” اور “پھ” کو “ف” بولنا کئی بچوں کی عادت بن چکی ہے۔ اسکولوں میں پرائمری سطح پر بھی بچے “پریم پتر” کے ہمراہ پکڑے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب ملک بھر میں ایک جانب جہاں گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں خواتین کی عصمت دری کے واقعات بھی بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حتی کہ کئی واقعات میں5، 6 سالوں کی معصوم جانیں بھی اپنی عصمت اورجان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کیا معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ جنسی انتشار ذرائع ابلاغ کا پھیلایا ہوا نہیں ہے؟ جس کا ہر ڈرامہ، ہر فلم، ہر کارٹون، ہر پروگرام ایک لڑکے اور لڑکی کی محبت اور ان کے تعلق کے گرد گھومتا ہے۔ علاوہ ازیں ساس اور بہو کے تعلق اتنا بھیانک کر کے پیش کیا جا رہا ہے کہ اب دونوں رشتوں کے درمیان ایک دوسرے سے حسن ظن رکھنے کا رحجان ہی کم ہوتا جا رہا ہے اور بہو گھر آنے سے قبل ہی یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا کر آتی ہے کہ اس کی ساس ظالم ہوگی۔ اس سے ہمارے معاشرے میں رائج خاندانی نظام پر براہ راست زک پڑی ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ نے مغربی و ہندو “بد تہذیب” کا شیطانی رقص ہر گھر میں جلوہ گر کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن اسے مسلم تہذیب سے اتنی دلی پرخاش ہے کہ مسلم معاشرے کی بنیادی ظاہری علامات تک سے اس طرح قطع نظر کر رہا ہے جیسے وہ بھی “دہشت گردی” کی علامات (Symbol) ہیں۔ بنیادی علامات کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اسلام کی عظیم ترین دعوت اور انقلاب آفریں پیغام کو تو مسلمان کب کے بھلا چکے، اب لے دے کے بنیادی ظاہری علامات نماز، روزہ، حج وغیرہ ہی رہ گئی ہیں۔ لیکن “ٹوپی اور پائنچے” والے اس “بے ضرر اسلام” سے بھی آزادئ اظہار کے ان نام نہاد علمبرداروں کو اتنی چڑ ہے کہ کسی نجی ٹیلی وژن چینل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوتا ہےنہ اوقات نماز و اذان کے بارے میں کوئی معلومات ملتی ہے، حدیث مبارکہ کا کوئی سلسلہ ہے نہ اسلاف کے عظیم کارناموں کی کوئی خبر، مسلمانوں کی قرون اولٰی سے کوئی نسبت دکھائی جاتی ہے نہ اسلام کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔ بس لے دے کر پردہ، موسیقی، جہاد اور مستشرقین کے “ہدایت یافتہ” وہ تمام مسائل نام نہاد “مذاکروں” اور “ٹاک شوز” میں پیش کیے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے ذہنوں کو مزید منتشر کرنا ہوتا ہے۔ ان پروگرامات کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اسلام کو “جدید روشن خیالی” کے فلسفے سے مکمل ہم آہنگ (Compatible) ثابت کر دیا جائے اس کی واضح مثال “الف”، “غامدی” اور اسی طرح کے دیگر پروگرامات ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں کی 70فیصد آبادی کسی بھی زبان میں اپنا نام لکھنے سے بھی قاصر ہو، وہ اسلام کے حوالے سے متنازع موضوعات پر گفتگو سننے کے بعد ایمان کے کس درجے پر پہنچے گی؟ اس کا اندازہ ہر شخص کو بخوبی ہوجانا چاہئے۔
یہ حال ہے “اسلام کے قلعہ” کی “توپوں” کا۔ ابلاغی جنگ کے اس دور میں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اور ابلاغی دونوں توپوں کا رخ اس کی اپنی ہی جانب ہے۔ حقیقی توپیں محب وطن عناصر کا خاتمہ کر رہی ہیں تو ابلاغی توپیں نظریاتی اساس کے درپے ہیں۔
ہمارے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ذمہ دار شخصیات کے بجائے کاروباری افراد کی ملکیت ہیں جو منافع کے اعتبار سے ہی سب کچھ دکھاتے ہیں۔ اسی لیے وہ ایک مسلم اکثریتی ملک میں موجودگی کے باعث خود پر عائد ہونے والی اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی بری الذمہ ہیں۔ مقصد گفتگو صرف اور صرف اتنا ہے کہ میڈیا جب ملکی سیاسی معاملات پر صرف اس لیے اتنا اثر انداز ہو رہا ہے کیونکہ وہ ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے تو قوم کی اخلاقی تربیت اور تہذیب کی حفاظت کہیں اعلی و ارفع مقصد اور قومی ذمہ داری ہے۔
اخلاقی میدان میں بگاڑ پیدا کرنے اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف بھرپور “دراندازی” کے علاوہ عوام میں مایوسی پھیلانے میں بھی نجی چینلوں سے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ صحافت کے بنیادی اصولوں کے تحت خبر کو جوں کا توں پیش کرنا ہمارے ذرائع ابلاغ کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ لیکن جب 2 منٹ کی خبر کو طول دے کر 4 گھنٹے پر محیط کیا جائے گا اور اس پر مذاکرے و مباحثے پیش ہوں گے تو خبر تو خود بخود مبالغہ آمیز ہوگی ہی ۔ خبروں میں رنگ آمیزی کا یہ رحجان اس وقت کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر جاتا ہے جب وہ پاکستان جیسے ملک میں ہو۔ یہی سب سے بنیادی نکتہ ہے کہ ایسے ملک میں جہاں کے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہو، اور خواندہ افراد بھی معاشرے کا کوئی واضح نظریہ اپنے ذہن میں نہ رکھتے ہوں کیا وہاں “جارحانہ انداز کی صحافت” کی جا سکتی ہے؟
ایک جانب رنگین ثقافت کا حد سے زیادہ اظہار اور دوسری جانب خبروں کی رنگ آمیزیوں کے نتیجے میں جو قوس قزح بکھری ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے کا ہر فرد خصوصاً نوجوان طبقہ اپنے مذہب، قوم و ملک سے مکمل مایوسی کا شکار ہو چکا ہےاور اس کی آنکھوں پر مادہ پرستی و عیش پسندی کی ایسی پٹی بندھی ہے کہ وہ تعیشات کے حصول کے لیے بگ ٹٹ چلا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ذرائع ابلاغ بیرونی ثقافت و رسوم و رواج کے بجائے قومی کردار کی تعمیر اور تہذیبی اقدار و ثقافت کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی یہ تعین بھی کیا جائے کہ ہماری صحافت کا موضوع کیا ہے؟ ان کا ہماری حقیقی قومی ترجیحات سے کیا تعلق ہے؟ ملکی سیاسی معاملات پر صرف اس لیے اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا کہ ذرائع ابلاغ جمہوری اقدار کے فروغ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تو قوم کی اخلاقی تربیت اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت اس سے کہیں زیادہ بڑی ذمہ داری ہے۔ معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور اچھائیوں کے فروغ کے لیے ذرائع ابلاغ جو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اسے ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے بلکہ اس کی پوری قوتیں درآمد شدہ ثقافت کو قوم پر بالجبر لاگو کرنے پر لگ رہی ہیں۔ اور ایک مستقل رو بہ زوال و ناخواندہ قوم پر تو درآمد شدہ ثقافت کچھ زیادہ ہی اثر دکھاتی ہے۔ بیرونی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تو سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کے پاس اپنی تہذیب ہو، جب آپ کی تہذیب کے بند ہی ٹوٹ چکے ہوں تو کون سی یلغار اور کون سا مقابلہ؟

Google Buzz

ورلڈ کپ سے محرومی، راست اقدام کی ضرورت

پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کی خراب صورتحال کے باعث خود سے یہ توقع رکھنا کہ ہم ورلڈ کپ 2011ء کا انعقاد کامیابی سے کر لیں گے، ویسے ہی عبث تھا لیکن سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے نے اس موہوم کی امید کو بھی ختم کر دیا جو شاید بورڈ کے نہاں خانۂ دل میں کہیں موجود تھی۔ سری لنکن ٹیم تو “جان چھوٹی سو لاکھوں پائے” اپنے وطن تقریباً صحیح سلامت پہنچ گئی لیکن اس روز پاکستان میں کرکٹ قذافی اسٹیڈیم کی پچ تلے دفن ہو گئی۔
ممبئی میں ہونے والوں حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سطح پر جو زبانی جنگ شروع ہوئی اس نے یہ رنگ دکھانا شروع کر دیا کہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر سری لنکا نے عالمی رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ “ایڈونچر” انہیں مہنگا پڑ گیا اور یوں مستقبل قریب میں پاکستان میں کرکٹ کا انعقاد ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
گو کہ پاکستان کے پاس دبئی اور ابو ظہبی یا ملائیشیا کے قریبی مقامات پر “ہوم سیریز” کھیلنے کے مواقع موجود ہیں، جس کے ذریعے پاکستانی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے لیکن اس وقت پاکستانی کرکٹ کو جو بڑے خطرے لاحق ہیں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں موجود بھارتی لابی اور دوسری جانب پاکستانی کرکٹ بورڈ کی نااہل انتظامیہ ہے۔
بھارت اپنی وسیع تر مارکیٹ اور اثر و رسوخ کے باعث بین الاقوامی کرکٹ پر گہرے اثرات رکھتا ہے۔ یہ بات اس امر سے اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بڑے اسپانسرز میں تقریباً تمام ادارے بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے آئی سی سی کا بھارت کے زیر اثر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
بھارت نے لبرٹی سانحہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور آئی سی سی سے یہ فیصلہ کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ سیکورٹی مسائل کے باعث پاکستان میں 2011ء ورلڈ کپ کا انعقاد ممکن نہیں اور اس طرح نہ صرف وہ پاکستان کو میزبانی سے محروم کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ اس نے پاکستان کے میچز بھی ہڑپ کر لیے اور اب وہ تمام میچز جو پاکستان میں کھیلے جانے تھے، اب بھارت میں کھیلےجائیں گے۔
گو کہ اس غیر منصفانہ فیصلے پر احتجاج کرنے کے بہت سےطریقے ہیں لیکن میرے خیال میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اس امر کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں حالات فی الوقت اتنے سازگار نہیں کہ وہ ورلڈ کپ جیسا اہم ترین ایونٹ اپنے ملک پرامن طور پر منعقد کرا سکے اور اتنے بڑے ایونٹ صرف توقعات کی بنیاد پر منعقد ہو بھی نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے فی الوقت بہتر یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میزبانی چھن جانے کے اس افسوسناک واقعے سے ہونے والے مالی نقصان کو پورا کروائے کیونکہ ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹ کی میزبانی چھن جانے کا کچھ “تاوان” کچھ تو ملنا چاہیے یا پھر آئی سی سی کو مختلف آپشنز دے۔ لیکن مقدمے جیسے فیصلے پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو بھی برگشتہ کر دیں گے۔
عالمی ثالثی عدالت میں آئی سی سی کے خلاف مقدمہ کرنے کا بے وقوفانہ فیصلہ نجانے کن مشیروں کے کہنے پر کیا گیا ہے؟ ایسی صورتحال میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کی مالی پوزیشن بھی بہت کمزور ہے ، اور حال یہ ہے کہ “ہوم سیریز” بیرون ملک کھیلنے پر مجبور ہونے کے باوجود اسپانسرز موجود نہیں، بورڈ پر اخراجات کا ایک نیا بوجھ ڈال دیا گیا اور وہ بھی اس صورتحال میں کہ میزبانی کے حصول کے لیے پاکستان دلائل کے ذریعے قائل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں کیونکہ ایک تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اس اجلاس میں موجود ہی نہ تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا اور دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اس وقت پاکستان کا جو منظرنامہ پیش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک صوبہ تقریباً پورا طالبان کے قبضے میں ہے اور شدت پسند مبینہ طور پر دارالحکومت سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا سراسر عاقبت نااندیشی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے خزانے پر اضافی بوجھ ہے۔
بہرحال عدالت میں معاملہ گھسیٹنے کے بے وقوفانہ فیصلے کے بعد (جو غالباً پاکستان سے تعلق رکھنے والےآئی سی سی کے سابق سربراہ نے دیا ہے) اب پاکستان نے الگ محاذ کھول دیا ہے، وہ ہے “نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے” اور بورڈ اور پاکستان کرکٹ کے مختلف خیر خواہوں کی جانب سے مستقل اس طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستان غیر محفوظ ہے تو بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکامیں بھی راوی چین نہیں لکھ رہا اور وہ ممالک بھی امن و امان کے مسائل سے اتنا ہی دوچار ہیں جتنا کہ پاکستان، اس لیے ورلڈ کپ 2011ء کے آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں منعقد کیا جائے۔ سری لنکا کی صورتحال تو اِس وقت بھی تسلی بخش نہیں جہاں تامل باغیوں اور فوج میں زبردست لڑائی جاری ہے جبکہ بنگلہ دیش میں حال ہی میں فوجی بغاوت ہو چکی ہے۔ البتہ بھارت میں امن و امان کی صورتحال کی خرابی کے بارے میں بتاتے ہوئے ہمیں محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا کیونکہ خدانخواستہ مستقبل قریب میں بھارت میں دہشت گردی کی کوئی کاروائی ہوتی ہے تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر با آسانی اس طرح لگا سکتا ہے کہ پاکستان بھارت کو ورلڈ کپ سے محروم کرنے کے لیے دہشت گردی کی کاروائیاں کروا رہا ہے۔ اس کے لیے بہتریہی ہے کہ بات دلیل سے کی جائے جیسے انڈین پریمیر لیگ کی جنوبی افریقہ منتقلی کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب بھارت خود اپنی سیکورٹی سے مطمئن نہیں تو وہ ورلڈ کپ کا انعقاد کیسے کروا سکتا ہے؟
بہرحال اس سلسلے میں سب سے پہلے تو یہ ضروری تھا کہ اپنی طرف سے آسٹریلیااور نیوزی لینڈ کا نام لینے کے بجائے پہلے اُن ممالک سے رابطہ کیا جاتا اور پھر لابنگ کے بعد باقاعدہ اُن ممالک کی جانب سے ہی اس مسئلے کو آئی سی سی میں پیش کروایا جاتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ورلڈ کپ 2011ء کی میزبانی آسٹریلیا نیوزی لینڈ اور 2015ء کی میزبانی برصغیر کو دینے کے لیے لابنگ کی جاتی۔ سیکورٹی کے حوالے سے ہمیشہ تشویش کے شکار انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کو بھی اس مہم میں پاکستانی موقف کا حامی بنایا جا سکتا ہے اور انہیں اس امر پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا فی الوقت بین الاقوامی ایونٹ کے لیے موزوں مقام نہیں اور اگر 5 سے 6 ممالک اس مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھائیں تو ہم “خود ڈوبنے کے بعد صنم کو ڈبونے” میں بھی کامیاب ہو جائیں گے :) ۔ البتہ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی سی بی جاوید میانداد کی رائے اچھی ہے کہ پاکستان کے پاس نیوٹرل وینیو کی صورت میں متحدہ عرب امارات کا ایک اچھا آپشن موجود ہے اس لیے اگر آئی سی سی کسی صورت پاکستان میں میچز کا انعقاد نہیں کرنا چاہتی تو پاکستان سے اس کے میچز واپس نہ لیے جائیں بلکہ پاکستان وہ میچز ابوظہبی اور دبئی میں منعقد کروائے جہاں سیکورٹی کے حوالے سے تمام ٹیموں کو اطمینان حاصل ہوگا۔
بھارت نے پاکستان پر پانی بم (water bomb) پھینکنے کے بعد اب کرکٹ بم (cricket bomb) کا استعمال کیا ہے اس لیے اس وقت یہ بالکل مناسب قدم ہے کہ ہم انہیں بھی میزبانی سے محروم کریں جو پاکستان کرکٹ کو ایک بہت بڑا مالی جھٹکا دینے کا سبب بنے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نازک پوزیشن کو سمجھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کونسل برائے کھیل میں دائر مقدمہ واپس لینے کے بعد آئی سی سی میں مناسب انداز میں اپنا موقف پیش کریں اور متعلقہ ممالک کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں تو ایک اچھے فیصلے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر ان سب اقدامات کے باوجود پاکستان کی شنوائی نہیں ہوتی تو پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ 2011ء کا بائیکاٹ کرنے میں حق بجانب ہوگی۔

Google Buzz

سوات متاثرین کی مدد، ہمارا فرض

ضلع سوات میں آپریشن کے آغاز کے بعد سے قیام پاکستان کے بعد کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی ہے اور اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے والے ان پاکستانیوں کو بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔ اس بات سے قطع نظر کے آپریشن کے محرکات کیا ہیں اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے یا نکل سکتے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سےبراہ راست متاثر ہونے والے لاکھوں عام پاکستانیوں کی مدد کی جائے۔ اس وقت ان مہاجرین کی تعداد بڑھ کر 10 سے 12 لاکھ افراد تک جا پہنچی ہے جو صوابی، دیر، ملاکنڈ، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور وغیرہ میں پناہ گزین کیمپوں میں بسے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے ان متاثرین کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستانی قوم ان سے محبت کرتی ہے اور انہیں اپنا بھائی سمجھتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوابی میں 2 لاکھ 30000، دیر زیریں میں 1 لاکھ 50000، ملاکنڈ ایجنسی میں 2 لاکھ، مردان میں 2 لاکھ، پشاور میں 50 ہزار، چارسدہ میں 30 ہزار، نوشہرہ میں 20 ہزار، دیر بالا میں 20 ہزار اور دیگر علاقوں میں 60 ہزار متاثرہ افراد موجود ہیں۔
اس وقت ان متاثرین کو خیموں، ترپالوں، غذائی اجناس و دودھ، متاثرہ علاقوں سے نکلنے کے لیے ذرائع آمدورفت، کھانے و پینے کے برتنوں، کپڑوں و جوتوں اور طبی سہولیات و ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر شہروں میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کے خواہشمند متاثرین کو نقد رقوم کی ادائیگی بھی ضرورت ہے۔
آپ اپنے عطیات الخدمت فاؤنڈیشن کو دے سکتے ہیں جو 2005ء کے زلزلے میں مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر مدد کر چکی ہے۔ حالانکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے چند ماہ گزارنے کے بعد زلزلہ زدہ علاقے چھوڑ گئے جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن آج بھی ان علاقوں میں عوام کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔
یا پھر کسی بھی اچھی ساکھ کے حامل فلاحی و امدادی ادارے کی اس کام میں مدد کر سکتے ہیں۔
قدم آگے بڑھائیے متاثرین سوات آپریشن کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
AL-KHDIMAT FOUNDATION PAKISTAN
Soneri Bank Limited.
Bank Information
02011459382 Pak rupees
02180030740 US $
02190005108 Pound Sterling
02200003782 Euro
Swift Code: SONEPKKALHR
Main Branch, Branch Code: 001
Soneri Bank Ltd. 87- Shahrahe Quaid-e-Azam, Lahore

Edhi Foundation

International Red Cross

Google Buzz

ایکسپریس سنڈے میگزین کا پوسٹ مارٹم

روزنامہ ایکسپریس ملک کے باوقار ترین اردو روزناموں میں سے ایک ہے۔ ایکسپریس نے پاکستان میں اردو صحافت کو نئی جدتوں سے روشناس کرایا۔ خصوصاً کھیلوں کی خبروں کے حوالے سے جن نئی روایتوں کا آغاز کیا آج پاکستان کے تقریباً تمام اخبارات ایکسپریس ہی کی متعین کی گئی ان راہوں پر سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کے بیشتر بڑے روزناموں کی طرح ایکسپریس بھی ہفت وار میگزین جاری کرتا ہے جو سنڈے ایکسپریس کے نام سے ہر اتوار کی اشاعت میں شامل ہوتا ہے۔ جو بات اس میگزین کو دیگر سے ممتاز کرتی ہے وہ اس میں شایع ہونے والے انتہائی معلوماتی مضامین ہیں، اور معیار کے سلسلے میں ان مضامین کا مقابلہ بہت کم ملکی اخبارات ہی کرپائیں گے۔
لیکن اتوار 26 اپریل 2009ء کی اشاعت میں سنڈے میگزین میں دو مضامین پڑھ کر “سنڈے ایکسپریس” کے گھٹتے معیار کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ ایک “عالمی امور” کے ضمن میں شایع ہونے والا مضمون “صومالیہ: ریاست در ریاست کی بدترین شکل” اور دوسرا “سیاحت” کے سلسلے میں شایع ہونے والا مضمون “قدرت کے تشکیل کردہ پیالے، ترکی کا خوبصورت سیاحتی مقام” ہر گز اس معیار کے نہیں تھے جس کے لیے ایکسپریس اخبار شہرہ رکھتا ہے۔
“صومالیہ: ریاست در ریاست کی بدترین شکل” کو اغلاط کا مجموعہ کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک تو اس میں معلومات بکھرے ہوئے انداز میں بیان کی گئیں اور جملوں اور پیراگرافس میں کوئی ربط نہیں دکھائی دیا، دوسری جانب اعداد و شمار کی اور جغرافیائی اغلاط بھی بھرپور تھیں۔ ابتدائی چند جملے ہی اس مضمون کی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ “صومالیہ، افریقہ کا سینگ کہلاتا ہے تاہم نقشہ پر اس کی شکل دریائی گھوڑے کی سی ہے۔ شمال مشرق کی جانب سے جبوتی، جنوب مغرب کی طرف سے کینیا اور خلیج عدن، شمال کی جانب سے یمن، مشرق کی طرف سے بحر ہند اور مغرب میں ایتھی اوپیا اسے چھوتا ہے۔ “
ان چند جملوں کو پڑھ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے، پہلی یہ کہ صومالیہ کو افریقہ کا سینگ نہیں کہا جاتا، بلکہ افریقہ کا سینگ کی اصطلاح کی غلط ہے اصل میں “قرن افریقہ” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اور اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ صاحبِ مضمون موضوع پر کتنی گرفت رکھتے ہیں اور ان کی معلومات صرف انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے تک کی محدود ہے لیکن بصد افسوس ترجمہ بھی ناقص ہے۔ دوسری بات یہ کہ قرنِ افریقہ کی اصطلاح کا اطلاق صرف صومالیہ پر نہیں ہوتا بلکہ اس سے ملحقہ چند مزید تقریباً تمام علاقے بھی اس کے زمرے میں آتے ہیں جن میں جبوتی، ایریٹیریا، ایتھوپیا شامل ہیں۔ پھر صومالیہ کے حدود اربعہ کو بیان کرتے ہوئے جو فاش غلطیاں کی گئی ہیں ذرا وہ ملاحظہ کیجیے کہ جبوتی کو بجائے شمال مغرب کے شمال مشرق کی جانب کر دیا گیا، جنوب مغرب میں خلیج عدن کو دھر دیا گیا، یمن کی سرحدیں شمالی علاقوں سے ملا دی گئیں، حالانکہ ان کے درمیان خلیج عدن کی صورت میں ایک وسیع سمندری علاقہ موجود ہے۔ علاوہ اردو میں ہمیشہ ایتھوپیا یا حبشہ ہی لکھا جاتا ہے لیکن اس مضمون میں پہلی بار “ایتھی اوپیا” پڑھنے کو ملا۔
مضمون میں ترجمے اور ٹائپنگ کی بھی بے شمار غلطیاں ہیں۔ بہتر کو “بہ تر”، بحالی کو “بہ حالی”، جنگجوؤں کے لیے کہیں “وارلاڈز” اور کہیں “جنگ باز” کا استعمال، مجھے جنگ باز لکھنے پر کوئی اعتراض تو نہیں لیکن کہیں وار لارڈز اور کہیں لڑاکے اور جنگ باز لکھنا کچھ جچتا نہیں۔
تاریخی لحاظ سے بھی مضمون میں کچھ تشنگیاں موجود ہیں خصوصاً قحط کے بعد خطے میں امریکہ کا کردار اور جنرل فرح عدید کا ذکر بھی بہت کم رہا اور اتحاد المحاکم الاسلامیہ کے ذکر کو بہت زیادہ طول دے دیا گیا حالانکہ بغیر معلومات گھٹائے اسے مختصر کیا جا سکتا تھا اور اس کی جگہ امریکی اور فرح عدید کے کردار کو مضمون کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔
اب کچھ “نظرِ کرم” دوسرے مضمون پر ڈالتے ہیں جس میں مصنف (یا مترجم) نے وجۂ تسمیہ لکھنے کے باوجود مقام کے نام میں بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ انہوں نے ترکی کے معروف سیاحتی مقام Pamukkale کو اردو میں “پامیوکیل” لکھا ہے جو سراسر غلط ہے۔ حالانکہ انہوں نے وجۂ تسمیہ کے ذیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ مبینہ پامیوکیل کا مطلب “کپاس کا قلعہ” ہے۔ میرے خیال میں یہ جملہ لکھنے کے بعد تو ان پر یہ واضح ہو جانا چاہیے تھا کہ یہ پامیوکیل نہیں بلکہ “پاموق قلعہ” ہے۔ شاید وہ اس وجہ سے نہ سمجھ پائے ہوں کہ اردو میں قلعہ بولتے ہوئے ہمارا تلفظ کچھ یوں ہوتا ہے “قلعا” جبکہ فارسی اور ترکی زبان میں اس کا تلفظ کچھ یوں بنتا ہے “قلعے”۔ فارسی میں لالہ کو لالے اور فرزانہ کو فرزانے ہی کہا جاتا ہے اور بالکل یہی قاعدہ ترکی زبان میں بھی لاگو ہوتا ہے، اس لیے یہ اچھا اور معلوماتی مضمون صرف نام کی غلطی کی وجہ سے زیرِ عتاب آ گیا۔
مضامین کے حوالے سے یہ گزارشات بذریہ مدیر ایکسپریس دونوں مضامین تحریر کرنے والے حضرات محترم انوار فطرت صاحب اور محترم عتیق احمد تک پہنچا دی گئی ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں اس حوالے سے اچھی پیشرفت ہوگی اور اردو صحافت میں مضامین بھرپور تحقیق کے بعد شایع ہوں گے۔ میری یہ گزارش بھی رہی کہ کم از کم اس طرح کے مضامین ایک موضوعاتی ماہر کی نظروں سے ضرور گزرنے چاہئیں تاکہ اعداد و شمار و جغرافیہ کی اغلاط درست ہو سکیں یا پھرغلط اصطلاحات کی اصلاح ہو سکے۔

Google Buzz

اوپن آفس میں نستعلیق ٹائپنگ

2008ء اردو کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اردو کمپیوٹنگ نے اس ایک سال جتنی پیشرفت کی اتنی گذشتہ ایک دہائی میں بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ اگر اردو کمیونٹی کے کسی منصوبے کو سال گذشتہ کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا جائے تو وہ بلاشبہ اوپن ٹائپ نستعلیق فونٹ “علوی نستعلیق کا” اجراء ہوگا۔ علوی نستعلیق کا اجراء اردو کمپیوٹنگ میں تقریباً اتنی ہی اہمیت کا حامل کارنامہ قرار دیتا جا سکتا ہے جتنا نستعلیق ٹائپوگرافی کے خالق احمد مرزا جمیل نےنوری نستعلیق کی اشکال بنا کر اشاعت کی دنیا میں انقلاب برپاکر کے انجام دیا تھا۔
گو کہ علوی نستعلیق اردو کمیونٹی کی امیدوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ فونٹ ثابت ہوا اوراس نے لینکس میں بھی اتنے شاندار نتائج دیے کہ اس کے تیار کرنے والے بھی حیرانگی میں مبتلا ہوگئے، لیکن سب سے زیادہ افسوسناک و کربناک لمحہ وہ تھا جب اس نے “اوپن آفس” میں مطلوبہ نتائج نہ دیے۔ یوں لینکس کے صارفین اپنے پسندیدہ اوپن سورس ورڈ پروسیسرمیں اس فونٹ کے حقیقی فوائد حاصل نہ کرسکے۔ نتائج مندرجہ ذیل اسکرین شاٹ سے واضح ہیں، جن میں ٹوٹے ہوئے الفاظ کو واضح کیا گیا ہے۔

alvi-screenshot

بڑی تصویر دیکھنے کے لیے کلک کیجیے

پھر یہ سکوت “خاموشی” سے ٹوٹا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ جب “جمیل نستعلیق ” نامی فونٹ جاری کر کے نستعلیق ٹائپوگرافی کے بانی احمد مرزا جمیل کو خراج تحسین پیش کیا گیا تو شاید کسی کو معلوم نہ تھا کہ دراصل اوپن آفس کے اس “بگ” کا مسئلہ حل ہوچکا ہے جو مجھ ایسے کئی صارفین کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔
جمیل نستعلیق میں لکھے گئے ایک پیراگراف کے نتائج ملاحظہ کیجیے۔

jameel-screenshot

بڑی تصویر دیکھنے کے لیے کلک کیجیے

نستعلیق کے حوالے سے یہ تجربات اوبنٹو لینکس پر کیے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لینکس کی دیگر ڈسٹروز میں نتائج مختلف ہوں۔ اگر آپ یہ فونٹس ڈاؤن لوڈ کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل لنکس استعمال کیجیے۔

علوی نستعلیق یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے
جمیل نستعلیق یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Google Buzz