تحاریر برائے ماہِ جون ، ۲۰۰۹


یہ کون سا فونٹ ہے؟

ذرا دیکھیے تو صحیح یہ جملہ کس فونٹ میں لکھا ہے :)

کچھ منزلوں پہ قدم نہیں

دل جاتے ہیں!

الائیڈ بینک کا اشتہار

Google Buzz

ٹک ٹک دیدم

ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم

روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ صفحہ اول 25 جون 2009

الطاف حسین کراچی کی ترقی کیلئے ماہانہ 10 ہزار روپے عطیہ کریں گے
لندن (پ ر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ”کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ“ کے قیام پر سٹی ناظم کراچی مصطفےٰ کمال کو زبردست مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کا قیام شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے کراچی سٹی گورنمنٹ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے سلسلے میں ایک انوکھا اور انتہائی قابل تعریف قدم ہے۔ الطاف حسین نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ان کو جاری رکھنے کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں ہر ماہ 10 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کراچی کے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق رقم جمع کرائیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ کراچی سٹی گورنمنٹ کی حق پرست قیادت نے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کراچی کو جہاں دنیا کے بڑے ترقی یافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے وہیں اس نے اپنے منصوبوں کو جاری رکھنے اور شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے اپنے وسائل خود پیدا کرنے کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ قائم کر کے پورے ملک کی تمام شہری اور ضلعی حکومتوں کیلئے ایک بہترین مثال قائم کی ہے جس پر سٹی ناظم کراچی مصطفےٰ کمال اور ان کی ٹیم زبردست مبارکباد اور خراج تحسین کی مستحق ہے۔

بحوالہ: روزنامہ جنگ 25 جون 2009ء

Google Buzz

اعجازِ سیرتِ طیبہ

حضورؐ کی سیرت ِطیبہ خیال نہیں ہے، فلسفہ نہیں ہے، تاریخ نہیں ہے، تشبیہ و استعارہ نہیں ہے، علامت نہیں ہے۔ وہ ٹھوس تجربہ ہے۔ لا زمانی تجربہ۔ ایسا تجربہ جو ہر زمانے کے ذہنی اور نفسیاتی سانچے کے لیے کفایت کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے جارہے ہیں کہ کوئی رشوت اور بے ایمانی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ بھلا کوئی شخص ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے جس میں اس کا ذاتی مفاد نہ ہو۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ معاملات سنگین ہوں گے۔ مغرب میں اگر مذہب کو تخیلاتی شے اور انسانی ذہن کے ارتقاء کی ابتدائی منزل سمجھا گیا تو اس کی یہی وجہ تھی کہ لوگ مذہبی تجربے کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہوگئے۔ لیکن سیرت ِطیبہ کے “تجربے” میں وہ قوت ہے کہ وہ پندرہ سو برسوں کے دو سِروں کو باہم مربوط کرسکتا ہے۔ کمال کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ معمول بن جائے اور اس وجہ سے کمال محسوس نہ ہو۔ سیرت ِطیبہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کے بارے میں ‘بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر’ کہا گیا ہے اور بالکل درست کہا گیا ہے، لیکن دوسری جانب آپ نے ایسی زندگی بسر کی جو عام انسانوں کے حوصلوں کو بھی عمل کے لیے مہمیز دیتی ہے، ان کے حوصلوں کو پست نہیں کرتی۔ (شاہنواز فاروقی)

Google Buzz

لکھو اور لکھتے رہو

اپنے ارد گرد جو دیکھو، محسوس کرو، سنو سب لکھ ڈالو اور بہتر ہے کہ چھپوا ڈالو۔ تمہاری تحریریں ملک کی زبان، ادب، ثقافت، تہذیب اور تاریخ کا اہم جز ہیں۔ انہیں لکھتے رہنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو تمہاری تاریخ گم ہو جائے گی۔
پیر حسام الدین راشدی (بحوالہ کتاب: شمالی سندھ کی کہاوتیں اور محاورے از انجینئر عبد الوہاب سہتو)۔

Google Buzz

مہنت؟؟؟؟

ماسٹر آئل اشتہار

ماسٹر آئل اشتہار۔ روزنامہ ایکسپریس کراچی 22 جون 2009ء

روزنامہ ایکسپریس کراچی کی اشاعت 22 جون 2009ء میں چھپنے والا ایک اشتہار۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اردو کا اعلیٰ معیار۔ اخبار کو بھی توفیق نصیب نہ ہوئی، جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر چھاپ کر پیسے کھرے کر لیے۔

Google Buzz

وہ ایک چھکا ۔۔۔ یہ ایک فتح

1986ء میں جاوید میانداد نے شارجہ کے میدان میں چیتن شرما کو ایک چھکا رسید کیا اور اس ایک چھکے نے عرصۂ دراز تک بھارت پر پاکستان کا دبدبہ قائم کر دیا اور ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے اس پہلے کے نتیجے میں قومی ٹیم کا جو مورال بلند ہوا وہ بالآخر پاکستانی کرکٹ تاریخ کے اس عظیم ترین لمحے پر منتج ہوا جب 1992ء میں پاکستان نے دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز “ورلڈ کپ” جیتا۔
ورلڈ کپ میں فتح کے 17 سال بعد جب درمیانی عرصہ میں قومی کرکٹ کئی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد اب تقریباً لبِ گور تھی۔ 2007ء کے ورلڈ کپ میں پہلے راؤنڈ ہی میں ناکامی نے ٹیم سے وابستہ امیدوں کے چراغ تقریباً گل کر دیے اور ملکی کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی۔ ملک میں امن و امان کے مسائل نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ کرکٹ کی بین الاقوامی انجمن (آئی سی سی) اس سے چمپئنز ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرنے کے بعد ورلڈ کپ 2011ء سے بھی محروم کر چکی ہے، دنیا کی سب سے بڑی لیگ کرکٹ “انڈین پریمیر لیگ” کے دروازے اس کے کھلاڑیوں پر بند ہو چکے ہیں، دنیا کی کوئی ٹیم پاکستانی سرزمین پر نہیں کھیلنا چاہتی، اور جو ایک ٹیم کھیلنے کے لیے آئی وہ بھی دہشت گرد حملے کا نشانہ بنی اور بمشکل اپنی جانیں بچا سکی۔
اس پوری صورتحال کو نظروں میں رکھا جائے تو واقعی بقول رمیز راجہ کہ ٹونٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء میں پاکستان کی فتح ورلڈ کپ 92ء سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اور واقعی اس کے نتائج کہیں زیادہ دور رس ثابت ہوں گے اور یہ ایک فتح کئی سوالوں کا جواب ہے۔ اب بھارتی کرکٹ بورڈ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک چمپئن ٹیم کے کھلاڑیوں کی شمولیت پر ضرور غور کرے گا۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر دنیائے کرکٹ میں ابھر کر سامنے آگیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں کرکٹ کبھی نہیں مر سکتی، اس ایک فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹونٹی 20 کرکٹ میں دنیا کے بہترین کھلاڑی اس کی ٹیم میں شامل ہیں، فتح پر جشن نے ثابت کر دیا کہ پاکستانیوں کی بڑی اکثریت آج بھی کرکٹ کی شیدائی ہے، بس فتح کے ذریعے ان کے دلوں میں دبی چنگاری کو شعلہ بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ورلڈ کپ 2011ء کے میچز شاید پاکستانی سرزمین پر تو نہ کھیلے جائیں لیکن اس کے امکانات روشن ہیں کہ مالی مشکلات کے شکار قومی کرکٹ بورڈ کو متحدہ عرب امارات میں اس اہم ایونٹ کی میزبانی کا شرف مل سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں یقیناً مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
یہ واقعی ایک تاریخی لمحہ تھا جو تاعمر یاد رہے گا۔ ویل ڈن پاکستان

شاہد آفریدی کا فاتحانہ انداز

شاہد آفریدی کا فاتحانہ انداز

Google Buzz

سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ – قسط 2

کریمیا میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں خطے کے مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ سے لے کر روس کے قبضے تک کا احوال درج کیا گیا۔ اس پر قارئین کے سیر حاصل تبصروں نے مضمون کو حقیقتاً چار چاند لگا دیے اور موضوع کو دیگر کئی زاویوں سے دیکھنے میں بھی مدد ملی۔ اس پر تمام قارئین بالخصوص محترم جاوید گوندل کا مشکور ہوں جنہوں نے گزشتہ قسط کے چند متنازع پہلوؤں پر گہری نظر ڈالی اور اس ناچیز سمیت تاریخ کے کئی طالبعلموں کی معلومات میں زبردست اضافہ کیا۔
یہ سقوط کریمیا کے سلسلے کی دوسری و آخری قسط ہے۔ اس میں حوالہ جات اور موضوع کے مطابق کتب کی فہرست بھی شامل ہے۔ جبکہ تحریر کے دوران دیے گئے روابط بھی مفید معلومات کے حامل ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی قسط یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

زار کے عہد میں

1771ء میں روس نے جزیرہ نما کریمیا میں در اندازی کی اور عثمانیوں سے ایک معاہدے کے تحت 1772ء سے 1783ء کے دوران یہ علاقہ اس کے زیر تحفظ رہا۔ 1783 میں ملکہ کیتھرین ثانی نے عثمانیوں سے کیے گئے تمام تر معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کریمیا کو براہ راست روسی قلمرو میں شامل کر لیا۔
کریمیا اور ملحقہ علاقوں پر روسی قبضے کے بعد وہاں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے تاکہ مسلمان از خود علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کی وجوہات داخلی سے زیادہ خارجی تھیں۔ کیونکہ بحیرہ اسود میں بحری قوت کو مضبوط بنانا اور خصوصاً قسطنطنیہ پر قبضے کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دینا روس کا پرانا خواب تھا اس لیے اپنی ‘منزل’ کو پانے کے لیے پہلی رکاوٹ یعنی کریمیا کو ہٹانا ضروری تھا اور یہ حکمت عملی صرف زار کے عہد میں ہی اختیار نہیں کی گئی بلکہ جب جنگ عظیم دوئم میں فتح کے بعد توسیع پسندانہ عزائم کو مزید تحریک ملی تو اس خواب کی تعبیر کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی گئی اور درحقیقت کریمیائی مسلمانوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنا اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
اس سلسلے میں سب سے پہلا کام زراعت پر محصولات میں زبردست اضافے کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد مذہب کی جبری تبدیلی کے ذریعے مسلمانوں کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی جب دونوں حربے ناکام رہے تو آخری حربے کے طور پر غیر مقامی باشندوں یعنی سلافی (slav) نسل کے عیسائیوں کو آباد کرنا شروع کر دیا گیا اور اس پر طرّہ یہ کہ مقامی زمینیں ان نو آباد کاروں کو دے دی گئیں۔ اس سہ طرفہ زیادتی کے نتیجے میں مسلمانوں کی بڑی اکثریت اپنے ہم مذہب اور ہم نسل عثمانی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئی جو معاشی طور پر بھی ان کے لیے فائدہ مند تو تھی لیکن اس جبری ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں کریمیا مسلم اقلیتی علاقہ بن گیا اور محض 6 سال کے عرصے میں تین لاکھ مسلمانوں کو عثمانی علاقوں کی جانب ہجرت کرنا پڑی[1]۔

انقلاب روس اور ابتدائی خوشگوار دور

اس کے باوجود جو مسلمان وہاں رہ گئے وہ وہ ملوکیت کے جبر تلے گھٹ گھٹ کر جیتے رہے حتیٰ کہ روس میں انقلاب کی صدائیں آنے لگیں۔ کریمیا کے مسلمانوں کے لیے مساوات اور مزدور دوستی کے نعرے بہت خوشگوار تھے اس لیے انہوں نے انقلابیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد از انقلاب  مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کے باوجود کریمیا میں خوب مراعات ملیں حتیٰ کہ   Nativization کے عہد میں انہیں جزیرہ نما کریمیا کے اصل باشندے تک قرار دے دیا گیا۔

کشیدگی کا آغاز

لیکن 1930ء کی دہائی میں زراعت کو قومیانے کے عمل نے تاتاریوں کو اشتراکی حکومت سے برگشتہ کر دیا اورحکومت سے ان کے  تعلقات کشیدہ ہونا شروع ہو گئے۔ یہ مسلمانوں پر معاشی صورت میں پہلی ضرب تھی کیونکہ مسلمانوں کا تمام تر انحصار زراعت پر تھا اور اسے قومیانے کا عمل معاشی طور پر تاتاریوں کے قتل عام کے مترادف تھا اس لیے اس کی زبردست مخالفت کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشیدگی کے باعث  علاقے میں زراعت تباہ ہو کر رہ گئی اور 1932ء میں علاقے میں زبردست قحط آیا جس نے حکومت اور تاتاریوں کے درمیان رہی سہی امیدوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔
اسٹالن حکومت کا اگلا ہدف تاتاری ثقافت تھی جو 1935ء میں زیر قبضہ علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کا نشانہ بنی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان کے ثقافتی مراکز کو بند کیا گیا اور 1935ء سے 38ء کے دوران کریمیائی تاتاری زبان کے 23 میں سے 14 جرائد و رسائل کو بندش کا سامنا کرنا پڑا[2] ۔ 1937ء اور 38ء کے دوران کئی دانشوروں کو قتل کیا گیا[3]۔ قتل ہونے والے مسلمان دانشوروں میں ولی ابراہیموف اور بکر چوبان زادہ بھی شامل تھے۔

دوسری جنگ عظیم

دوسری جنگ عظیم سے کریمیا کے تاتاریوں کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوتا ہے کیونکہ اس کےدوران روسی اور جرمن دونوں جانب سے تاتاریوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ جرمنی نے 1942ء میں کریمیا پر قبضہ کیا لیکن روس کی خفیہ فوج اور اس کےجنگجوؤں کی گوریلا کاروائیاں 1944ء تک جاری رہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے جرمنی نے مقامی آبادیوں کے تحفظ کے لیے کریمیائی تاتاری جنگی قیدیوں  پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا اور یہی وہ جرم تھا جس کی بنیاد پر کریمیا کے تاتاریوں کو تاریخ کے بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی قیدیوں نے محض اس بنیاد پر مزاحمتی گروپ میں شمولیت پر رضامندی کا اظہار کیا کہ انہیں کیمپوں کی زندگی سے چھٹکارا ملا اور بہتر غذائی سہولیات بھی میسر آئیں۔
کریمیائی تاتاریوں کے حوالے سے لکھی گئی ایلن فشر کی مشہور کتاب “The Crimean Tatars” کے مطابق بحیثیت مجموعی ان گوریلوں کی تعداد تقریباً 20 ہزار تھی[4]۔جبکہ ان کی مدمقابل روسی افواج میں شامل کریمیائی باشندوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ روسی افواج میں کریمیائی تاتاریوں کی تعداد کا ذرا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ کے بعد تاتاری نسل کے 8 فوجیوں کو  Hero of the Soviet Union جیسا اعلیٰ اعزاز بھی عطا کیا گیا۔
اشتراکی روس کے لیے اپنے ہی ملک کی آبادی کا دشمن کے ساتھ مل جانا بہت بڑا صدمہ تھا اس لیے بحیثیت مجموعی پوری کریمیائی تاتاری قوم کو اس کی کڑی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اوراس سے کسی کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا ۔ اس سلسلے میں پہلا قدم 1942ء میں اٹھایا گیا جب جرمن، رومانیوں اور یونانیوں کے علاوہ کریمیائی تاتاریوں کے بھی روس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی اور ان کی تمام آبادیوں کو خالی کرا دینے کے احکامات صادر کیے گئے۔
ویسے تو  روس کے کئی علاقوں سے مسلمانوں کو جبری ہجرت کرائی گئی لیکن ان میں سے بیشتر دیہی علاقوں کے رہنے والے تھے لیکن کریمیا کے تاتاری ایک جیتی جاگتی ثقافت رکھتے تھے اور ان کی آبادی کی بڑی تعداد شہری علاقوں میں رہتی تھی [5]اور جدیدیت کی جو تحریک زار روس کے آخری ایام میں روس میں اٹھی تھی وہ بھی کریمیا اور قازان سے اٹھی تھی۔ اسماعیل گسپرالی جیسا عظیم رہنما بھی کریمیائی تاتار تھا جو اپنے کارناموں کے باعث بلاشبہ “روس کے سرسید” کہلانے کے قابل ہے۔

دور ابتلاء

11 مئی 1944ء کو جب روس کی “سرخ افواج” نے جزیرہ نما کریمیا میں آخری جرمن مقبوضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا تو اسی روز جوزف اسٹالن کے دستخط کے ساتھ ایک پروانہ (GKO resolution N5859ss)جاری کیا گیا جس میں کریمیائی تاتاریوں کی مکمل آبادی کی جبری طور پر ازبکستان بے دخل کرنے  کا حکم دیا گیا تھا۔ اس اہم کام کا بیڑا خفیہ پولیس NKVD کے بدنام زمانہ سربراہ لیورنتی بیریا اور عوامی رسد رساں برائے ذرائع نقل و حمل (NKPS) کے جلاد صفت سربراہ لازار کاگانووِچ کو سونپے گئے۔ حکم نامے کے تحت کریمیائی تاتار باشندوں کے گھر، فرنیچر، پالتو جانور اور زرعی زمین و پیداوار روسی حکومت کی ملکیت قرار دی گئی اور ہجرت کرنے والے ہر خاندان کو زیادہ سے زیادہ 500 کلو سامان اٹھانے کی اجازت دی گئی۔ حالانکہ قرارداد کے تحت انہیں گھر کے بدلے میں زر تلافی ادا کیا جانا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک باشندے کو معمولی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ 1956ء میں روسی حکومت نے واضح و باقاعدہ اعلان کر دیا کہ وہ جبری ہجرت کے دوران جائیداد سے محروم ہو جانے والے کسی بھی کریمیائی باشندے کو کوئی زر تلافی ادا نہیں کرے گی لیکن جائیداد کا کھو جانا ان مسلمانوں کے لیے اتنا بڑا المیہ نہیں تھا جتنا ان کی قومی شناخت اور آبائی زمین چھین لینا تھا۔
20 ہزار کریمیائی گوریلوں کی بڑی تعداد نے تو شکست کے بعد جرمنی میں پناہ حاصل کر لی لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد اب بھی جزیرہ نما میں موجود تھی اور جب قرارداد کی صورت میں ہجرت کا پروانہ جاری ہوا تو بیشتر مسلم آبادی عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی[6]۔ اشتراکیوں نے بلا تخصیص تمام مسلمانوں کو ایسی ٹرینوں میں ٹھونس دیا جن میں شاید جانوروں کو بھی سفر نہ کرایا جاتا ہو۔ جبری ہجرت کا نشانہ بننے والوں میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے اراکین اور سابق فوجی بھی شامل تھے، جن کا واحد ‘قصور’ یہ تھا کہ وہ ‘باغی’ مسلمان تھے۔

جبری ہجرت

جبری بے دخلی کا یہ آپریشن روس کے NKVD اسکواڈز نے کیا جنہوں نے بغیر کو پیشگی نوٹس دیے قصبوں اور دیہات کو خالی کرانا شروع کر دیا اور کریمیا میں تاتاری باشندوں کو صرف پندرہ منٹ میں اپنے گھر خالی کرنے کے احکام دیے گئے[7]۔
ہر مرد بچے اور عورت کو جانوروں کے ڈھونے والی گاڑیوں میں لاد دیا گیا اور ٹرینوں کے ذریعے ازبکستان جا کر چھوڑ دیا گیا۔ دوران سفر غذا اور پانی کی کمی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث 45 فیصد افراد رستے میں ہی لقمہ اجل بن گئے۔ نئے مقامات پر پہنچنے کے بعد انہیں خالی و بنجر میدانوں میں لے جا کر چھوڑ دیا گیا جہاں نہ کسی قسم کی رہائش گاہیں نہ تھیں یوں وہ مکمل طور پر مقامی حکومتی عہدیداروں کے رحم و کرم پر تھے اور خیراتی اداروں کے محتاج ہو گئے[8]۔
وسط ایشیا کی جانب بے دخل کیے گئے ان مہاجرین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھے۔ اس ‘دہشت گردی’ کا ایک واضح پہلو “کھلی نسل پرستی” تھا۔ زیر عتاب قومیت سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو بلا تخصیص رویہ، ماضی و طبقہ اس “جرم” کی سزا دی گئی حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹریوں کے ساتھ ساتھ فنکاروں، مزارعوں اور کارکنوں کو بھی جبراً علاقے سے بے دخل کر کے عقوبت گاہ نما کیمپوں میں مقید کر دیا گیا[9]۔
روسی دستاویزات کے مطابق مارچ 1949ء میں کی گئی مردم شماری میں 9 ہزار ایسے کریمیائی تاتاری نکلے جو سرخ فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے جن میں 534 افسران، 1392 سارجنٹ اور 7079 عام فوجی تھے۔ 742 کمیونسٹ پارٹی اراکین بھی ہجرت پر مجبور کیے گئے۔
صرف یہی بات کریمیائی مسلمانوں پر تاریخ کا عظیم ترین ظلم کرنے کے لیے کافی گردانی گئی کہ ان کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بیرونی جارحیت کا ساتھ دیا اور اسٹالن اور این کے وی ڈی کے سربراہ لیورینتی بیریا کے ہاتھوں یہ سزا پوری قوم کا مقدر ٹھیری[10]۔

روس بھر میں مسلمانوں کا قتل عام

ملک بھر میں “مادر وطن سے غداری” کے الزام میں جن افراد کو موت کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے اہم 20 لاکھ روسی مسلمانوں کا قتل عام ہے جن میں چیچن، انگش، کریمیائی تاتاری، تاجک، باشکر اور قازق شامل ہیں۔ آج چیچنیا میں آزادی کی جنگ لڑنے والے جانباز سوویت عقوبت گاہوں سے بچنے والے افراد ہی کی اولاد ہیں۔
اسٹالن کے دور میں اپنے ہی عوام پر مسلط کی گئی اس جنگ میں خفیہ پولیس کے اسکواڈ کو جماعت مخالف عناصر کے خاتمے کا حکم دیا گیا اور اسٹالن کے مقرر کردہ جلاد لازار کاگانووِچ نے فی ہفتہ 10 ہزار افراد کے قتل کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔ اس عظیم قتل عام میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے اسی فیصد دانشوروں کو قتل کیا گیا۔ 1932ء اور 33ء کی سخت سردیوں میں یوکرین میں ہر روز 25 ہزار افراد روسی افواج کی گولیوں یا بھوک و سردی سے موت کا نشانہ کنتے۔ مورخ رابرٹ کوئسٹ کے مطابق یوکرین ایک بڑے مذبح  خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
معروف صحافی ایرک مارگولس 1998ء میں یوکرین کی انہی اقوام گم گشتہ پر قلم اٹھایا۔ “The Forgotten Genocide”  میں مارگولس کہتے ہیں کہ روس بھر میں 70 لاکھ افراد کے اس عظیم قتل عام اور 20 لاکھ افراد کی جلاوطنی کو سوویت پروپیگنڈے کے پردوں میں چھپایا گیا۔ ان میں 30 لاکھ مسلمان بھی شامل تھے جن میں 15 لاکھ کریمیائی اور قازق تھے۔ اس عظیم قتل عام پر بھی ان لوگوں کی یاد میں کوئی “ہولوکاسٹ یادگار” قائم نہیں کی گئی۔
مارگولس کمیونسٹ نواز مغربی دانشوروں کا بھی رونا روتے ہیں کہ انہوں نے روسیوں کے ہاتھوں اس قتل عام کا اقرار نہیں کیا بلکہ اس کےخلاف آواز اٹھانے والوں کو فاشسٹ ایجنٹ کہا۔ امریکی، برطانوی اور کینیڈا کی حکومتوں نے علم ہونے کے باوجود اپنی آنکھیں بند رکھیں حتی کہ امدادی گروپوں کو بھی یوکرین جانے سے روکا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم چرچل نے اسٹالن سے قربتیں بڑھائیں، اس امر کا علم ہونے کے باوجود کہ اس کے ہاتھ کم از کم 30 لاکھ افراد کے خون سے رنگے ہیں اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہٹلر نے یہودیوں کے قتل عام کا آغاز بھی نہ کیا تھا۔ تو پھر حیرت ہوتی ہے کہ یہودیوں کے قتل عام کا اتنا واویلا کیوں کیا گیا اور جرمنوں کو مورد الزام ٹھیرا کر اس کا خراج مسلمانوں سے کیوں وصول کیا گیا؟
اسٹالن نے ہٹلر سے تین گنا زیادہ افراد کا قتل کیا اور برطانیہ اور امریکہ کا روس کے ساتھ اتحاد کرنا دراصل اس قتل عام میں شرکت کے مترادف تھا۔

ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ

حیرت کی بات یہ ہے کہ سوویت مظالم پر پردہ ڈالنے کی اتنی بھونڈی کوششیں کی گئیں کہ ژاں پال سارتر اس امر تک سے منکر ہو گئے کہ گولاگ (بطور سزا جبری مشقت کا سوویت طریقہ، Gulag) کا وجود بھی ہے  اور وہ اسے ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ قرار دیتے رہے۔ اتحادیوں کے لیے صرف نازی ازم ہی سب سے بڑا شیطان تھا اور اس کے لیے انہوں نے یہودیوں کے قتل عام “ہولوکاسٹ” کی ترویج کا سہارا لیا اور اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا کہ روسیوں کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کہیں چھپ گئے۔ یہودی اپنے عظیم قتل عام کو تاریخ کا منفرد ترین واقعہ سمجھتے ہیں حالانکہ ان سےچند سال قبل روسی علاقوں کے مسلمان کا ان سے کہیں زیادہ منظم قتل عام کیا گیا۔
ادبی و ابلاغی سطح پر حتی کہ فلموں میں بھی یہودیوں کے قتل عام کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔ یوکرین میں قتل عام کی تصاویر بھی بہت کم موجود ہیں اور اس سے بچنے والے افراد بھی۔ روس نے اپنے کسی جلاد صفت قاتل پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جیسا کہ جرمنی نے کیا۔
اسی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اب لوگوں کی بڑی تعداد نازی قاتلوں ایڈولف ایش مان اور ہنرخ ہیملر اور بابی یار کے بارے میں تو جانتی ہے لیکن اشتراکی جلادوں زیرزنسکی، کاگانووچ، یاگودا، یے زوف اور بیریا کے بارے میں کون جانتا ہے؟ آشوٹز اور دیگر قتل گاہوں کا علم رکھنے والے کتنے لوگ مگادان، کولیما اور وورکوتا کی عقوبت گاہوں کے بارے میں جانتے ہیں؟ نازی شیطانیت کے بارے میں ایک کے بعد ایک فلم جاری کی جاتی ہے لیکن روسی مظالم پر کتنی فلمیں بنائی گئیں؟

مرے وطن تیری جنت میں۔۔۔۔!

نکیتا خروشیف کو اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اسٹالن کے بد ترین جرائم سے نمٹنا تھا جو Destalinization کا عہد کہلاتا ہے۔ جبراً بے دخل کی جانے والی اقوام کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا تھا اور حکومت کے لیے یہ ایک بڑا درد سر تھا کیونکہ ان افراد کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی نسلی بنیادوں پر نئے تنازعات اور فسادات کا باعث بن سکتی تھی۔ جبراُ بے دخل کیے گئے افراد کی ملکیت اور رہائش گاہیں اب دوسرے لوگوں کے زیر تصرف تھیں۔ 1957ء میں جب چیچن، انگش، کراچئی اور بلکار قوموں کے باشندوں کو قفقاز واپسی کی اجازت دی گئی تو انہیں نوآبادکار روسی باشندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور 1958ء میں گروزنی نسلی فسادات کا نشانہ بنا۔
انہی اقوام گم گشتہ میں سے کریمیا کے تاتاری باشندے بھی شامل تھے جن کی خودمختار ریاست کا خاتمہ کر کے ان کی رہائش گاہیں اور ملکیتیں تک روسی اور یوکرینی باشندوں تقسیم کر دی گئیں۔ 1950ء کے اواخر میں بیشتر اقوام کو “جرائم” سے بری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں رہنے کی اجازت دی گئی لیکن کریمیا کے مسلمانوں کو اس امر کی اجازت نہ دی گئی کہ وہ اپنی آبائی سرزمین پر جا کر رہائش اختیار کریں۔ حتیٰ کہ روس کا خاتمہ قریب آن پہنچا۔ جب 1989ء کے اواخر میں کریمیائی مسلمانوں کے چند ابتدائی خاندان واپس جزیرہ نما پہنچے[11]۔ ۔ ان افراد میں معروف کریمیائی رہنما مصطفی عبد الجمیل قرم اوغلو (مصطفی جمیلوف) بھی شامل تھے۔ آج جزیرہ نما پر بسنے والے کریمیائی تاتاری باشندوں کی تعداد تقریباً 250،000 ہے[12]۔
یہ تاتاریوں کی اس پرامن جدوجہد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دہائیوں تک جاری رکھی۔ اس دوران انہوں نے کریمیائی تاتاریوں کی آبائی سرزمین پر واپسی کےلیے ایک دستخطی مہم بھی چلائی جس میں 30 لاکھ افراد نے دستخط کیے[13]۔

تحقیقات کا آغاز

اب یوکرین کی حکومت نے سوویت جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا ہے جو قومی سلامتی کے ادارے کے ماتحت ہوگا۔ گو کہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی کو سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اس انسانی جرم کے مرتکب افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں لیکن پھر بھی مصطفی عبد الجمیل کے مطابق اس جرم کی مکمل تصویر عوام کے سامنے لانے کے لیے تحقیقات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کریمیا کے تاتاری ہر سال 19 مئی کو جبری ہجرت کی یاد میں دن مناتے ہیں۔ اس موقع پر دنیا بھر میں مقیم کریمیائی تاتاریوں کی پرامن ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔

مفید کتابیں

Alan W. Fisher: The Crimean Tatars, Hoover Press, 1978, ISBN 0817966625, 9780817966621

Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004

Allworth, Edward A. (ed.): The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998).

Aleksander Nekrich: The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978), pp. 13-35

Peter Kenez: A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, New York, ISBN 978-0-521-68296-1

Dominic Lieven, The Cambridge History of Russia, Vol. II – Imperial Russia, 1689-1917, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81529-1

Ronald Grigor Suny, The Cambridge History of Russia, Vol. III – The Twentieth Century, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81144-6

The Hidden Ethnic Cleansing of Muslims in the Soviet Union: The Exile and Repatriation… Williams Journal of Contemporary History.2002; 37: 323-347

Ayshe Seytmuratova, The Elders of the New National Movement: Recollections’, in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998)


حوالہ جات

[1] ترکی اور ترک، ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز

[2] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[3] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[4] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[5] Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004

[6] Brian Glyn Williams, A Homeland Lost. Migration, the Diaspora Experience and the Forging of Crimean Tatar National Identity (Ph.D. diss., University of Wisconsin, 1999)

[7] Ayshe Seytmuratova, ‘The Elders of the New National Movement: Recollections’, in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998), pp. 155-179; 155

[8] The Cambridge History of Russia, Volume III – The Twentieth Century page no. 502

[9] Peter Kenez, A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, page no. 148

[10] Aleksander Nekrich, The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978)

[11] The Cambridge History of Russia, Volume III – The Twentieth Century page no. 502

[12] “Repatriation of the Crimean Tatars,” Forced Migration Monitor, no. 13, September 1996

[13] The Cambridge History of Russia, Vol. III، page no. 229 – 230

Google Buzz

سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ – قسط 1

وسط ایشیا، قفقاز، وولگا-یورال و کریمیا کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا “تاریخ ملت اسلامیہ” کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً وسط ایشیا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں بخارا و سمرقند جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔
ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ سوویت عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں برطانیہ، اٹلی، فرانس و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ سوویت اشتراکی عہد کا ایک کریہہ باب جوزف اسٹالن کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔
اشتراکی روس کیونکہ ایک ‘بند معاشرہ’ تھا اس لیے وہاں اقلیتوں یا مختلف نسلوں پر ہونے والے مظالم کے بہت کم اعداد و شمار ہی منظر عام پر آئے۔ حقیقتاً اشتراکی عہد میں ہونے والے مظالم “ہولوکاسٹ” سے بھی بھیانک تھے لیکن وہ آج بھی اقوامِ عالم کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان سے جان بوجھ کر صرفِ نظر کیا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ وہ مسلمانوں کا لہو تھا جو بہت ارزاں ہے۔
بہرحال اشتراکی عہد میں جو اقوام بدترین ظلم و جبر کا نشانہ بنیں ان میں کریمیا کے وہ تاتاری مسلمان بھی شامل تھے جو صدیوں سے جزیرہ نما کریمیا کے باسی تھے۔ کریمیا کا جزیرہ نما بحیرہ اسود کے شمالی ساحلوں پر واقع ہے اور آجکل خود مختار ریاست کی حیثیت سے یوکرین کا حصہ ہے۔
اس مضمون میں ہم کریمیا اور کریمیائی تاتاریوں کی مختصر تاریخ کا جائزہ لیں گے اور اگلی قسط (یا اقساط) میں زار اور اشتراکی عہد میں ان کی حالتِ زار اور موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالیں گے۔ امید ہے یہ مضمون ہولوکاسٹ، روس میں مسلمان، جوزف اسٹالن کے عہد اور سقوط سوویت یونین کے بعد قائم ہونے والے مسلم ممالک کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے نئی معلومات کا حامل ہوگا۔

کریمیا کی مختصر ابتدائی تاریخ

“جزیرہ نما کریمیا” ازمنہ وسطٰی(Middle Ages)سے مئی 1944ء تک کریمیائی تاتاری باشندوں کا وطن رہا ہے۔ کریمیائی مسلمان کا تعلق ترک اقوام کے اُس گروہ سے تھا جو 13 ویں صدی میں باتو خان کے لشکر زریں (Golden Horde)کا حصہ تھے اور پھر انہوں نے کریمیا کو اپنا وطن بنایا۔ کریمیائی تاتاری سنی مسلمان ہیں اور ترکی زبان کا ایک لہجہ “قپچاق ترک” بولتے ہیں۔

ریاست کا قیام

پندرہویں صدی کے وسط میں یہاں کے مسلمان ایک زبردست قوت کے طور پر ابھرے اور 1428ء میں انہوں نے ایک ریاست قائم کی جو ریاستِ خانانِ کریمیا کہلاتی تھی۔ اِسے انگریزی میں Crimean Khanate کہتے ہیں۔ یہ ریاست 1478ء میں سلطنت عثمانیہ کے زیرِ نگیں آ گئی اور 1772ء میں روسی قبضے تک عثمانیوں کی زیرِ سیادت رہی۔

عثمانیوں کے زیر نگیں

سلطنت عثمانیہ کی سیادت میں جانے کے باوجود کریمیائی تاتاریوں کی ریاست کی حیثیت باجگذار کی نہیں تھی، بلکہ بابِ عالی (یعنی سلطنت عثمانیہ) اور خانان کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات قائم ہوئے، منتخب سلطان کو قسطنطنیہ سے منظوری تو لینا پڑتی تھی تاہم وہ عثمانیوں کا مقرر کردہ نہیں ہوتا تھا۔ خانان کو اپنا سکہ چلانے اور جمعہ کے خطبے میں اپنا نام شامل کرنے کی بھی مکمل اجازت تھی، جو ان کی خود مختاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ عثمانی عہد خانانِ کریمیا کا زرّیں دور (Golden Age) تھا خصوصاً عسکری طور پر کوئی قوت ان کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ کریمیائی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پانچ لاکھ فوجیوں کا لشکر بھی میدان میں اتارنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ ریاست بلاشبہ 18 ویں صدی تک مشرقی یورپ کی بڑی قوتوں میں سے ایک تھی۔

تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا کریہہ باب

کیونکہ اسلامی تعلیمات اِن تاتاری مسلمانوں کی زندگیوں میں اچھی طرح راسخ نہ تھیں اس لیے انہوں نے اپنی اِس قوت کا ناجائز حد تک فائدہ اٹھایا۔ وہ محض غلاموں کے حصول کے لیے روس اور پولینڈ کے علاقوں پر حملہ کرنے میں بھی تامل نہ کرتے، پھر ان غلاموں کو فروخت کر کے دولت سمیٹتے۔ یہ تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا ایک کریہہ باب ہے اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے تاثر کے باعث ہی اشتراکی عہد میں جب ان پر مظالم ڈھائے گئے تو ان کے حق میں کوئی آواز نہ ابھری۔ تجارت کے علاوہ غلاموں کی واپسی کے لیے روس اور پولینڈ کی ریاستوں سے تاوان بھی وصول کیا جاتا تھا۔ یعنی انہوں نے غلاموں کی تجارت اور تاوان کی وصولی کو باقاعدہ معیشت بنایا ہوا تھا۔

کریمیائی تاتاریوں کی خدمات

اس امر کے باوجود کریمیائی تاتاریوں کی اسلامی علاقوں کے لیے سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے عرصۂ دراز تک مسلم علاقوں کی جانب روس اور پولینڈ کی پیش قدمی کو روکے رکھا اور شمالی جانب سے اسلامی سرحدوں کی بھرپور حفاظت کی۔ ان کی بھرپور قوت سے علاقے میں طاقت کا توازن برقرار رہا اور جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو طاقت کا یہی توازن بگڑا اور روس بپھرے ہوئے ریچھ کی طرح دولتِ اسلامیہ پر ٹوٹ پڑا۔
اس ریاست کا ایک اور کارنامہ یہ تھا کہ اس نے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل بحیرہ اسود میں طویل عرصے تک روسی اثر و رسوخ نہ بڑھنے دیا اور روس اور بحیرہ اسود کے درمیان ایک بہت بڑی رکاوٹ بن گئی۔ تجارت کو پھیلانے کے مواقع اور عسکری توسیع کی اسی خواہش نے روس کو کریمیا پر قبضہ کے لیے پرکشش بنادیا تھا۔ اسی لیے سترہویں صدی کے اواخر میں روس نے یہاں دو مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا البتہ اٹھارہویں صدی کے بالکل اوائل میں کچھ عرصہ کے لیے انہوں نے ایک اہم بندرگاہ پر قبضہ بھی کر لیا لیکن وہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔

روسی قبضہ

دوسری جانب سلطنت عثمانیہ کے تیز تر زوال کے باعث روسی سلطنت کو یہ سنہری موقع ملا کہ وہ تجارتی و عسکری توسیع کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائے اور خانان کریمیا کی ریاست کو کچل دے۔ ترکی اور روس کے درمیان ہونے والی جنگوں کے سلسلے (Russo-Turkish Wars)کےدوران ایک معاہدہ (معاہدۂ کوچک کناری) طے پایا جس کے تحت کریمیا کی ریاست عثمانی اثر سے باہر نکل گئی البتہ اس پر روسی سیادت قائم نہیں ہوئی لیکن چند ہی سالوں بعد ملکہ کیتھرائن اعظم نے سلطنت عثمانیہ سے کيے گئے تمام معاہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 1783ء میں کریمیا کو روس میں شامل کر لیا۔

مسلمان اقلیت بن گئے

اس فتح کے بعد کریمیا میں کچھ اس طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی کہ محصولات میں زبردست اضافے، مذہب کی جبری تبدیلی اور غیر مقامی باشندوں کی آبادکاری کے باعث مسلمانوں کا وہاں دوبھر ہو گیا اور پھر اُن کی اکثریت سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں کی جانب ہجرت کر گئی۔ اِس نقل مکانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ زار کے عہد میں ہی میں کریمیا میں مسلمان اقلیت میں بدل گئے۔

سقوط کریمیا، سقوط غرناطہ جیسا عظیم سانحہ

معروف مؤرخ ثروت صولت [آپ پاکستان میں ترکی زبان پر عبور رکھنے والے معدودے چند لوگوں میں سے ایک ہیں] اپنی کتاب “ترکی اور ترک” میں لکھتے ہیں کہ کریمیا پر روسی قبضے کے بعد آبادی کا تناسب انتہائی تیزی سے بدلنا شروع ہو گیا۔ پہلے زمینوں پر جبری قبضے اور روسی آبادی کی آبادکاری کو کامیاب بنانے کے لیے مسلمانوں کی زمینوں پر جبری قبضہ کیا گیا اور مزاحمت کرنے والے 30 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اس صورتحال میں وہاں آباد تاتاری باشندے ہجرت پر مجبور ہو گئے اور روسی قبضے کے محض 6 سالوں میں تین لاکھ تاتاریوں کو عثمانی سلطنت کے علاقوں کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ 1860ء میں حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہونے بعد ڈیڑھ لاکھ مزید تاتاری مسلم علاقوں کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اندازے کے مطابق روسی قبضے کے بعد کریمیا اور ملحقہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے تاتاری مسلمانوں کی تعداد 20 لاکھ تک ہے۔ ان ہجرتوں کے نتیجے میں کریمیا اور ملحقہ تمام علاقہ جہاں 18 ویں صدی تک مسلمانوں کی اکثریت تھی، زار کے عہد میں بھی وہاں مسلمان اقلیت میں آ گئے۔ باقی جو آبادی رہ گئی جنگ عظیم دوم کے بعد جوزف اسٹالن کے دور میں مکمل طور پر کریمیا سے بے دخل کر دی گئی۔ کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں سے جس بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کا انخلاء ہوا، وہ کسی طرح سقوط غرناطہ سے کم نہیں تھا، ہاں البتہ دونوں سانحات میں فرق یہ ہے کہ کریمیا کے تاتاری مسلمانوں کے بارے میں ہم بہت کم واقف ہیں۔
اگلی قسط میں ہم انقلاب روس کے بعد کریمیا میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے بارے میں پڑھیں گے۔ اس موضوع پر مفید کتب اور حوالہ جات بھی اگلی قسط میں پیش کیے جائیں گے۔

جاری ہے ……………………

Google Buzz

تعارف، وکیپیڈیا اور اردو کی تنصیب

اردو ٹیک پر بلاگنگ کے دوران تمام عرصہ تکنیکی مسائل سے نمٹنے میں گزرا اور ڈیڑھ سال میں کم از کم اتنا تو سیکھ لیا کہ ورڈ پریس پر مبنی بلاگ لکھنے کے لیے کیا کچھ ضروری ہے۔ جب بلاگنگ کا آغاز کیا تھا تو تھیم اور پلگ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا لیکن اب کم از کم اتنا تو معلوم ہے ہی :) ۔
خیر! جب نئے ڈومین اور ہوسٹنگ پر بلاگ منتقل کیا تو سوچ لیا تھا کہ ذاتی تعارف، کمپیوٹر پر اردو سپورٹ کی انسٹالیشن اور اردو وکیپیڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے صفحات میں کچھ اضافہ ضرور کروں گا۔ اس لیے ذاتی تعارف کا دائرہ بھی کچھ وسیع کیا ہے جبکہ اردو وکیپیڈیا کے تعارف اور وہاں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی کچھ آگاہی فراہم کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اسی سلسلے میں میں نے سائیڈ بار میں ایک اضافہ بھی کیا ہے جہاں قارئین اردو وکیپیڈیا پر میری تازہ ترین سرگرمیوں سے آگاہ رہ سکیں گے۔ کمپیوٹر پر اردو سپورٹ کی انسٹالیشن پر بھی کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں اردو فونٹس کے حوالے سے بھی تھوڑا بہت لکھا ہے تاکہ نو آموز صارفین اردو فونٹس کے ارتقاء کے بارے میں کچھ جان سکیں۔ ویسے مجھے اس بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں اس لیے بجائے گہراہیوں میں جانے کے موٹی موٹی باتوں سے ہی کام چلایا ہے۔ اردو وکیپیڈیا یا کمپیوٹر میں اردو سپورٹ کے حوالے سے صفحات میں کچھ اضافے یا مزید معلومات کے خواہاں افراد بلا جھجک تبصرے کے ذریعے اپنی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
تعارف
اردو وکیپیڈیا
Urdu language support
(نوٹ: تھیم کے کسی مسئلے کے باعث صفحات (Pages) پر تبصرے ظاہر نہیں ہو رہے۔ تکنیکی مسائل سے نابلد ہونے کے باعث فی الحال مجھے اس مسئلے کا حل نہیں معلوم۔ جو افراد ان تینوں تحاریر پر کوئی تبصرہ کرنا چاہیں وہ زیر نظر تحریر کو “تختۂ مشق” بنا سکتے ہیں :) )

Google Buzz

بلاگ کو دورہ

جمعہ 29 مئی کو بلاگ کے لیے کچھ لکھنے کے دوران محفوظ کرنے کا مرحلہ آیا تو بارہا کوشش کے بعد “Not found” کے الفاظ منہ چڑاتے رہے۔ جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر میرے بلاگ کی تمام تحاریر بمعہ تبصرہ جات ‘راہی عدم’ ہو چکی ہیں۔ نئے ڈومین پر منتقلی کے بعد یہ پہلا اور بڑا جھٹکا تھا اور چار دن گمشدہ ڈیٹا کی تلاش میں گزار دیے اور نہ ملنے پر فاتحہ پڑھ لی۔

دراصل ہم اپنی سست  طبیعت کے باعث جلد از جلد بیک اپ لینے کے عادی نہیں اس لیے نئے ڈومین پر منتقلی کے بعد سے اب تک اُسی روایتی سستی پر عمل پیرا تھے اس لیے بلاگ کو پڑنے والا یہ “دورہ” ہماری گزشتہ چند تازہ تحاریر اور ان پر قارئین کے سیرحاصل تبصروں سے محروم ہو گیا۔

بہرحال چند تحاریر جو میرے پاس موجود تھیں میں نے انہیں بغیر تبصروں کے ہی آویزاں کر دیا ہے اور آئندہ کے لیے یہ سبق ذہن نشین کر لیا ہے کہ مستقلاً بلاگ کا بیک اپ بنانا ہے۔

ان تمام افراد سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں جنہوں سے گزشتہ تحاریر پر تبصرے کیے تھے۔ اب ان میں سے چند تحاریر ان کے تبصروں کے بغیر ہی موجود رہیں گی۔ یہ تحریر لکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ کہیں قارئین یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہمارے بلاگ سے تبصرے حذف کر دیے گئے ہیں۔
میری دیگر ساتھی بلاگروں سےبھی گزارش ہے کہ اپنے بلاگ کو ‘ہر دم جواں پیہم رواں’ رکھنا چاہتے ہیں تو ہفتہ ڈیڑھ میں بیک اپ ضرور لے لیا کریں۔

Google Buzz