تحاریر برائے ماہِ جولائی ، ۲۰۰۹


اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات – میرا موقف

ایک گزشتہ تحریر پر قارئین کے تبصرہ جات کے بعد ضروری ہو گیا تھا کہ میں اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات سازی کے عمل پر اپنا موقف بیان کروں۔ سو یہ حاضر ہے:

اردو وکیپیڈیا سے احقر کا تعلق تقریباً تین سال پرانا ہے اور ابتدائی تقریباً دو سال انتہائی متحرک رہا۔ یہ وہ منصوبہ تھا جس سے مجھے ہمیشہ دلی لگاؤ رہا اور اس منصوبے کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوششیں کی۔ انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے جاری منصوبوں کی طرح کچھ خامیاں اس میں بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خرابیوں کو درست کرنے کے لیے عملی طور پر خود آگے بڑھا جائے کیونکہ یہ ایک “Community Project” ہے اس لیے اردو کے چاہنے والے تمام لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کچھ نہ کچھ حصہ اس میں ضرور ڈالیں۔
دراصل ہمارے ہاں دو رویے پائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر کسی کام کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ یہ غلط خطوط پر استوار ہے یا درست سمت میں نہیں ہو رہا تو اسے درست طریق پر ڈالنے کے لیے کوئی کام نہ کیا جائے بلکہ اس کے غلط ہونے کا ڈھنڈورا ہر جگہ پیٹا جائے۔ حالانکہ آپ اسے درست کرنے کے پورے اختیارات بھی رکھتے ہوں لیکن پھر بھی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اردو وکیپیڈیا کے حوالے سے جتنے بھی شاکی لوگ ہیں ان کا رویہ ہمیشہ یہی رہی ہے۔
میرا تعلق ہمیشہ اس قبیل سے رہا ہے جو اردو وکیپیڈیا پر خود ساختہ اصطلاحات کا مخالف رہا ہے لیکن اس کے باوجود میں نے اس منصوبے سے کبھی نفرت نہیں کی بلکہ جس میدان میں تنازعات سے ہٹ کر کام کیا جا سکتا تھا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اردو وکیپیڈیا کے درد مندوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کو اردو وکیپیڈیا کو وقت دیں لیکن کم از کم جن موضوعات میں مہارت یا دلچسپی ہو، ان کا تو حق ہے کہ ان پر چند سطریں اردو وکیپیڈیا کو دی جائیں اور یہ ان کی درد مندی کا تقاضا بھی ہے۔
اردو وکیپیڈیا کے متنازع معاملات پر وہاں کے منتظمین اور صارفین کے درمیان کئی مرتبہ طویل بحث مباحثے ہو چکے ہیں جن کا نتیجہ یہی نکلا کہ چند لوگ جو اس روش کے خلاف تھے یا تو ساتھ چھوڑ گئے یا میری طرح خاموش ہو گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خود ساختہ اصطلاحات کے لیے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ مجھے جیسے جاہل آدمی کا ان کا سامنا کرنا ممکن نہیں۔ ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو برادری توانا تر ہوتی جا رہی ہے لیکن اردو وکیپیڈیا کے لیے کام کرنے کے لیے تازہ خون سامنے نہیں آ رہا اور نہ ہی ان “گھاگ” اردو دانوں کو اردو وکیپیڈیا سے کوئی دلچسپی ہے جو ہر وقت اردو کا رونا رہتے ہیں۔ چند دوست احباب اردو کی لشکری حیثیت کو درمیان میں لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو میں تمام زبانوں کو سمونے کی اہلیت ہے اس لیے انگریزی زبان کے الفاظ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں مجھے ذاتی حیثیت میں اس دلیل سے اختلاف ہی رہے گا کہ فی زمانہ اردو کا ناطہ انگریزی سے جوڑنا دراصل اردو دوستی کا ثبوت ہے۔ پہلے ہم ان زبانوں سے تو تعلق جوڑیں جن سے اردو کا خمیر اٹھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہی سمجھتا ہوں کہ کیونکہ اردو میں اصطلاحات سازی کا کام ابھی نا مکمل ہے اس لیے انتظار ہی بہترین حکمت عملی ہے بجائے اس کے کہ خود ساختہ اصطلاحات تخلیق کی جائیں۔
ایک محترم دوست کی رائے یہ ہے کہ عوامی سطح پر جو الفاظ رائج ہو جائیں انہیں من و عن زبان میں قبول کر لینا چاہیے۔ یہ دلیل درست ہے لیکن اگر آپ کی زبان یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنی اصطلاح مرتب کر سکے تو چاہے عوام کسی اور زبان کا لفظ ہی استعمال کریں لیکن آپ اس کے لیے ایک الگ اصطلاح ضرور ایجاد کریں اور میری نظر میں یہ اختیار ایک ادارے کو ہونا چاہیے جیسے مقتدرہ قومی زبان وغیرہ۔ عرب ممالک میں کمپیوٹر اور موبائل کو کمبیوتر اور موبایل ہی بولا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے حاسوب اور ہاتف کی اصطلاحات بنائیں اور لکھت پڑھت میں یہی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو وکیپیڈیا کے منتظمین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کے ٹھیکیدار نہیں ہیں، اگر سرکاری سطح پر کوئی ادارہ اردو کے لیے اصطلاحات نہیں بنا رہا تو یہ ذمہ داری ان پر عاید نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی کی اصطلاحات بناتے پھریں۔ اس لیے عارضی طور پر جب تک اصطلاحات سازی کا معاملہ حل ہوتا ہے تب تک انگریزی اصطلاحات پر ہی اکتفا کیا جائے اور نامانوس اصطلاحات پر زور نہ دیا جائے۔
دوسری جانب اردو کے درد مندوں سے التماس ہے کہ وہ دلائل سے قائل کرنے کے لیے اردو وکیپیڈیا پر کچھ متحرک ہوں تاکہ اس عظیم منصوبے کو ضایع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اصطلاحات سازی سے قطع نظر وہاں کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔
علامہ فرما گئے ہیں:

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

Google Buzz

ابے روک نہ یار!

یہ وہ “uncut” اور “unreleased” وڈیو ہے جسے ہمارے ہاں کے نجی ذرائع ابلاغ کا “تخلیق کردہ” سب سے عظیم شاہکار گردانا جاتا ہے۔ اس وڈیو نے چاند نواب کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اب اچھے بھلے صحافی چاند نواب سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھنچواتے ہیں :) ۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان کے کسی رپورٹر کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جتنی اس چند منٹ کی وڈیو کے نتیجے میں چاند نواب کو ملی۔ ویسے نجانے کس نے اس بیچارے رپورٹر سے دشمنی نکالتے ہوئے اس کی وڈیو آن لائن جاری کر دی :)
(احتیاط: اس وڈیو میں رپورٹر نے چند نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے ہیں)

Google Buzz

تمنائیں زیر و زبر

ہمارے ایک بزرگ اور محترم کالم نگار نے چند روز قبل جو دانشوری کے گل بکھیرے ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ زائد العمری کے باعث ان کا دماغ کچھ چل گیا ہے یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے کالمز کوئی نو آموز لکھ رہا ہے اور ان کی مٹی پلید کرا رہا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ موخر الذکر بات درست ہے۔ 17 جولائی 2009ء کو روزنامہ جنگ کراچی میں ارشاد احمد حقانی صاحب نے “عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے” کے عنوان سے جو “تمنا” کی ہے ذرا اسے ملاحظہ کیجیے۔ اس کالم کے ایک ایک جملے سے ناتجربہ کاری و لا علمی جھلک رہی ہے۔ خیر میں ناچیز اس کالم کا کیا جواب دوں کہ یہ فریضہ محترم ابو نثر نے انجام دیا ہے اور کیا خوب دیا ہے۔ گو کہ سفیر احمد صدیقی (روزنامہ جنگ) بھی اس کا جواب دے چکے ہیں لیکن وہ اس کالم کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے گئے جبکہ ابو نثر نے اُسی انداز تحریر کو ان پر پلٹایا ہے اور نام نہاد دانشوری کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ ملاحظہ کیجیے پہلے محترم ارشاد احمد حقانی کی عربی پر تنقید (یہ کالم میں نے من و عن یہاں چھاپا ہے، اس میں املا کی اغلاط دراصل محترم بزرگ ہی کا کارنامہ ہیں)

عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے

(“حرف تمنا” ارشاد احمد حقانی، روزنامہ جنگ کراچی، 17 جولائی2009ء)

محترم قارئین! ادھر کچھ عرصہ سے بوجہ علالت طبع میرے لئے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی علیل ہوں لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبو ر ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصے سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں اور بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم لازمی کر دی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لئے پہلے ہی اردو، انگریزی یا کوئی ایک مادری زبان پڑھنا لازمی ہے۔ پوری دنیا کے ماہرین تعلیم تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں کے لئے بہترین ذریعہ تعلیم ان کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ ہمارے پاس عربی پڑھا سکنے والے اساتذہ تو شاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کیلئے کار دارد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کیلئے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنٰی ہے، غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ گھر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقول غالب سنگ اٹھانے پر مجبور کرنا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ ان کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کر دی گئی ہے لیکن نام نہادماہرین تعلیم ہیں کہ بچوں کو ان کے کچھ نہ سمجھنے کے باوجودعربی پڑھانے پر تلے ہوئے ہیں گویا ان کی کیفیت یہ ہے کہ :

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمے دانم

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شد بد بھی آجاتی ہو لیکن ایسی شد بد کا کیا فائدہ جو انہیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بنا سکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں بچیوں کے لئے لازم قرار دینے کافیصلہ غالباً جنرل شیر علی خاں مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے علمبردار بنتے تھے۔ انہوں نے جنرل یحییٰ خان سے اس کے لئے بڑے فنڈز لئے اور انہیں عربی پڑھانے پر صرف کیا۔ میرے لئے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا ۔ دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے انہوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ عربی پڑھنا سعودی عرب، مصر، شام، اردن اور دوسرے عرب ممالک کے لئے تو قابل فہم ہے اور وہ اس میں کمالات بھی دکھا سکتے ہیں اور انہوں نے کمالات دکھائے ہیں۔عرب دنیا کاتمام نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر گندم اگانا شروع کر دی ہے حالانکہ بقول قرآن اس وادی غیر ذی زرع میں اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا۔ پہاڑ ہی پہاڑ تھے۔ بڑے بڑے صحراً تھے جس کا حال جرمن نو مسلم علامہ محمد اسد نے اپنی کتاب ”دی روڈ ٹو مکہ“ میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم صحراؤں میں سفر کرتے تھے تو ریت کے بڑے بڑے ٹیلے (Drones???)بن جاتے تھے جن میں مسافر کے لئے راہ تلاش کرنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہر وقت انہیں اپنے پاس پانی کا ذخیرہ رکھنا پڑتا تھا۔ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ تازہ کافی کی خوشبو اتنی مسحورکن ہوتی تھی جیسے ایک نوجوان خاتون سے بغل گیر ہونا۔ تو یہ تھی اس وقت جزیرہ عرب کی حالت۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:

بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں
کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں
نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں
نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواہاں
لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انہوں نے
کیا دین برحق کو بدنام انہوں نے

تو عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عربی عربوں کی زبان ہے۔ بلاشبہ عربی ایک انتہائی فصیح و بلیغ زبان ہے اور اچھی خاصی مشکل بھی۔ اس کی گرامر کو سمجھنا عربوں کا کام ہے ہمارے نوجوان بچوں اور بچیوں کا نہیں۔ وہ لاکھ مغز کھپائیں یہ کام نہیں کرسکتے اردو کا ایک مقولہ ہے جس کا کام اسی کو ساجے۔دوسرا کرے تو ٹھینگا بھاجے۔ معلوم نہیں ہم کیوں تلے ہوئے ہیں کہ ہمارا بھی ٹھینگا بھاجے۔ ہمیں ان لوگوں سے جان چھڑانی چاہئے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک عجمی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا، برگ و بار نہیں لاسکتا۔ دنیا میں عقل عام (Common Sense)بھی کوئی چیز ہے اگرچہ کہتے ہیں کہ:

Common Sense is the most uncommon Phenomenon
ترجمہ:عقل عام سب سے نایاب چیز ہے“

عقل عام کے ادنیٰ ترین تقاضوں کو سمجھنا چاہئے اور عربی زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر ختم کر دینا چاہئے ایسا ہوا تو بچوں اور بچیوں کے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا اور ان کے والدین حکومت کو دعائیں دیں گے۔ ہاں عربی زبان کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن فیصلہ قرار پائے گا۔

———————————————————————————————-

یہاں ارشاد احمد حقانی کا شاہکار کالم ختم ہوتا ہے اور یہیں سے دوسرے شاہکار کا آغاز ہوتا ہے جو روزنامہ جسارت کراچی کے ممتاز کالم نگار ابو نثر نے تحریر کیا ہے۔ یہ کالم حقانی صاحب کی “زمین” پر ہی لکھا گیا ہے :) ذرا ملاحظہ کیجیے:

“عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے”

(“زیر و زبر” ابو نثر، روزنامہ جسارت کراچی، 21 جولائی 2009ء)

محترم قارئین ادھر کچھ عرصہ سے بوجۂ علالتِ ذہنی میرے لیے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی ذہنی طور پر علیل ہوں‘ لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی ذہنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبور ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصہ سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے اسکولوں (جسے میں ہمیشہ سُکولوں کہتا‘ لکھتا اور پڑھتا آیا ہوں) کے بچوں اور بچیوں کے لیے عربی زبان کی تعلیم لازمی کردی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لیے پہلے ہی انگریزی پڑھنا لازمی ہے۔ بلکہ ابتدائی جماعتوں سے تمام مضامین انگریزی میں پڑھنا اُن پر فرض ہے۔ پوری دُنیا کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے بہترین ذریعہ تعلیم اُن کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے۔ پس انگریزی سے زیادہ مامتا بھری مادری زبان بھلا اورکون سی ہوسکتی ہی؟ ہمارے پاس انگریزی پڑھا سکنے والے اساتذہ توشاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لیے ” کارے دارد“ (جسے میں کاردار صاحب سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہمیشہ” کاردارد“ لکھتا‘ پڑھتا اور بولتا آیا ہوں) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے لیے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنی ہے‘ غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقولِ غالب سنگ اُٹھانے پر مجبور کرنا ہے (وہ بھی انگریزی کے مجنوؤں پر)۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے (جس میں سے ایک میں بھی ہوں) کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ حالاں کہ ”مصیبت“ اور ”مسلط“ بھی عربی کے الفاظ ہیں۔ خود میرے نام کا ایک ایک لفظ عربی میں ہے چناں چہ میرا نام بھی کبھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ میرے بعض بچوں کے اپنے نام بھی عربی الفاظ میں ہیں‘ لہٰذا خود اپنا نام بھی ان کے پلے نہیں پڑتا۔ حتیٰ کہ میں نے یہ ”لہٰذا“ لکھنے کے بعد جو ”حتیٰ“ لکھ دیا ہے‘ یہ بھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ پھر اوپر جو…. علالت‘ علیل‘ مسئلہ‘ محب‘ وطن‘ تعلیم‘ لازمی‘ جماعت‘ مضامین‘ دُنیا‘ ماہرین‘ تسلیم‘ ذریعہ‘ اساتذہ‘حیثیت‘ معنی‘ بقول…. وغیرہ وغیرہ میں نے استعمال کیے ہیں (بشمول وغیرہ وغیرہ اور استعمال …. بلکہ یہ ”بشمول“ بھی) عربی النسل ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کے کچھ بھی پلے نہیں پڑتا۔ جبکہ مادری زبان انگریزی خوب پلے پڑتی ہے۔ کبھی میں نے نہ ہمارے ان بچوں نے اپنی مادری زبان انگریزی کو مصیبت تو کیا ”مِزری“ تک نہیں قرار دیا اور کبھی اپنے اوپر اِسے مسلط تو کیا ”امپوزڈ“ تک نہیں جانا۔ اِس کے برعکس انگریزی کی مشکل سے مشکل اور اَدق سے اَدق اصطلاحات کو ہم اپنے پلّے اور پلُّو میں اس طرح باندھ لیتے ہیں گویا یہ الفاظ اُن کو شیرِ مادر میں ”انجیکٹ“ کرکے اُن کے رگ و ریشے میں دوڑا دیے گئے ہوں۔

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شُدبُد بھی آجاتی ہو (بعض عربی دان اِسے ”شُدھ بُدھ“ بھی لکھتے ہیں‘ مگر میں نے ان ہندی الفاظ کو بھی عربی بنالیا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ…. کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!) لیکن ایسی شُدبُد کا کیا فائدہ جو انھیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بناسکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دُنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ یہاں دُنیا سے میری مُراد ظاہر ہے کہ نوعِ انسانی کی فراخ اور کشادہ دُنیا نہیں۔ مغرب اور اس کے غلاموں کی مفاد بھری دُنیا یعنی اپنی نفسانی خواہشات کی تنگ و تاریک دُنیا ہے‘ اور دین سے مُراد مذہب ِ گوسفنداں ہے۔ ورنہ بعض بے وقوف تو مجھ سے مشورہ کیے بغیر ہی دُنیا کمانے کے لیے بھی عربی سیکھ بیٹھتے ہیں اور تیل بھری دُنیائے عرب میں جاکر وہ دُنیاکماتے ہیں‘ وہ دُنیا کماتے ہیں کہ آج تک اتنی دُنیا تو میں خود بھی نہیں کماسکا۔

عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے احمق بلکہ حمقاء افریقا سے لے کر خلیج اورمشرقِ وُسطیٰ کے ممالک سمیت تمام عرب ممالک کو دُنیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بھلا وہ دُنیا بھی کوئی دُنیا ہے۔ دُنیا تو فقط وہ ہے جہاں میرے گھرکے بچوں کی مادری زبان انگریزی کی تعلیم لازمی قرار دی جاسکے۔ رہا دین کا کام…. تو دیکھیے کلمہ توحید اورکلمہ شہادت عربی میں ہے‘ قرآن عربی میں ہے‘ احادیث عربی میں ہیں‘ قرونِ اُولی کے (یہ الفاظ بھی عربی میں ہیں) تمام محققین کی تحقیقات اور تصنیفات عربی میں ہیں۔ اذان عربی میں ہے‘ نماز عربی میں ہے‘ حتیٰ کہ راقم الحروف کی (یہ بھی عربی الفاظ ہیں) نمازِ جنازہ بھی عربی میں پڑھائی جائے گی۔ ان میں سے کوئی چیز بھلا کبھی میرے گھرکے بچوں کے پلے پڑی ہے جو اب پڑے گی؟ مجھے افسوس ہے کہ قرآن میرے کالم نگار بننے‘ بلکہ میرے پیدا ہونے سے بھی چودہ سوسال پہلے نازل کیا جاچکا تھا‘ اگر میرے پاکستان کے سب سے زیادہ بِکے ہوئے اخبار کا سب سے بڑاکالم نگار بننے کا انتظارکرلیا گیا ہوتا تو میں بذریعہ کالمِ ہٰذا اﷲ تعالیٰ کو یہ مفید مشورہ دے سکتا تھا کہ قرآن کو بھی انگریزئ مبین میں نازل کیا جائے‘ جوکہ میرے گھر کے بچوں کی مادری زبان ہے۔

میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں اور بچیوں کے لیے لازم قرار دینے کا فیصلہ غالباً جنرل شیرعلی خان مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے عَلم بردار بنتے تھے۔آپس کی بات ہے‘ میرے خیال میں نہیں بلکہ میرے علم میں یہ بات ہے کہ سب سے پہلے سرآغا خان نے قائدِاعظمؒ کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان عربی قرار دی جائے۔ وہ بھی تحریک ِ پاکستان کے بہت بڑے لیڈر بنتے تھے۔ مگر میں نے جان بوجھ کر اِس بات کا ذکر آپ سے نہیں کیا۔ میرے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اُنھوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔ دُنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو عربی نہ پڑھا رہے ہوتے تو آج ہم بھی چاند پر پہنچے ہوئے ہوتے۔ اور زیرِ نظر کالم آپ وہیں پر معلق ہوئے پڑھ رہے ہوتے۔ ایک امریکا کو چھوڑکر دُنیا کی بقیہ تمام اقوام اپنے اپنے بچوں کو ایک آدھ لفظ عربی کا ضرور بالضرور پڑھا بیٹھی ہوں گی تبھی تو وہ بھی چاند پر نہیں پہنچ سکیں۔

پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے۔ اُنھوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ اب آپ یہ نہ کہہ بیٹھیے گا کہ چین‘جاپان اورکوریا میں بھی سائنس کا دور دورہ ہے‘ اُنھوں نے یہ کام انگریزی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ کیوں کہ ہمیں اُن لوگوں سے جان چھڑانی ہے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ نہ کہ اُن لوگوں سے جو ہما رے بچوں کے منہ میں انگریزی ایک مادری زبان کی حیثیت سے بڑی محبت سے ”ٹرانسپلانٹ“ کررہے ہیں۔ ایک عربی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا‘ برگ وبار نہیں لاسکتا۔ مگر ایک فرنگی پودا ایک اِسلامی جمہوریہ کی نئی پود اوراُس کے ”ماں باپ“ کا دِل گارڈن گارڈن کرسکتا ہے۔
دُنیا میں عقلِ عام (عربی) (Common Sense) (انگریزی) بھی کوئی چیز ہے۔ اگرچہ (انگریزی میں) کہتے ہیں:

Common sense is most uncommon phenomenon
ترجمہ : عقلِ عام (عربی) سب سے نایاب چیز ہے۔

(انگریزی کا اتنا لمبا فقرہ میں نے محض آپ کو یہ دکھانے کے لیے لکھا ہے کہ دیکھیے ایک فرنگی فقرہ عجمی زمین پر کیسا پھلا پھولا اور کتنے برگ و بار لایا ہے۔ ورنہ اہل فرنگ تو باہم بس اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ:

Common Sense is not common.

عقلِ عام (عربی) کے ادنیٰ ترین تقاضوں(عربی) کو سمجھنا چاہیے اور عربی کو ایک لازمی مضمون کے طور پر فی الفور (یعنی عربی ہی میں) ختم کردینا چاہیے۔ ہاں عربی کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن (عربی) فیصلہ قرار پائے گا۔ البتہ اِس قسم کا کلمہ کفر انگریزی کے بارے میں کبھی نہیں بکا جاسکتا۔ اُمید ہے کہ میرا یہ کالم پڑھ کر اب تک آپ بھی ذہنی طور پر اچھے خاصے علیل ہوچکے ہوں گے۔ یہ بھی عربی کی وجہ سے ہے۔ اگر عربی زبان دُنیا میں سرے سے موجود ہی نہ ہوتی تو دُنیا میں ”علالت“ ہوتی نہ آپ ”علیل“ ہونے پاتے۔

Google Buzz

فیض لاہوری نستعلیق

تحریر از ڈیولپمنٹ ٹیم برائے فیض لاہوری نستعلیق

یہ فانٹ جدید ترین انپیج ۳ میں شامل کردہ فیض نستعلیق کے خوبصورت ترسیمہ جات کی مدد سے تخلیق دیا گیا ہے۔ اس کا بیس فانٹ جوہر نستعلیق کی اشکال پر مبنی ہے جس کو لاہوری خط میں ڈھالنے کیلئے بہت صفائی کا خیال رکھا گیا ہے۔

تخلیق:

نوری نستعلیق اردو ٹائپو گرافی و پبلشنگ کے میدان میں تقریباً ۲۸ سال سے حکمرانی کر رہا ہے۔ اسکی آمد سے پہلے کاتب حضرات لاہوری نستعلیق میں ہی کتب و رسائل کی کتابت کرتے تھے۔ ۱۹۸۱ء میں نوری نستعلیق ایک مشینی انداز لے کر حاضر ہوا جس نے جلد ہی اردو پبلشنگ میں ایک خاص مقام حاصل کر لیا۔
آہستہ آہستہ ہاتھ کی خوبصورت کتابت ناپید ہوگئی اور یوں زمانہ جدید میں حقیقی اردو خط یعنی لاہوری نستعلیق کی کمی کا احساس شدت اختیار کر گیا۔ گو کہ مارکیٹ میں پہلے ہی نفیس نستعلیق اور اردو ماہر جیسے لاہوری طرز کے خطوط دستیاب تھے۔ مگر یہ سب صرف حرفی بنیادوں پر چلنے کی وجہ سے پبلشنگ انڈسٹری اور خاص کر انٹرنیٹ کیلئے ناقابل استعمال تھے۔
۲۰۰۸ء کے آخر میں جب انپیج ۳ ریلیز ہوا تو فیض نستعلیق کی جدت سے متاثر ہو کر اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا گیا۔۔۔ ابتداء میں ہمیں بہت سے ٹیکنیکل مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں لگیچرز کو ایک فانٹ میں سمونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ خاص کر جب آپ کے پاس ایک بھی لگیچر مکمل حالت میں موجود نہ ہو۔ مگر پھر قسمت نے ساتھ دیا اور ہمیں کچھ ایسے پروگرامز مل گئے جن کی بدولت سالوں کا کام چند مہینوں میں ہو گیا۔
لگیچرز کے حصول کے بعد اہم مرحلہ ایک ایسے حرفی فانٹ کی تکمیل تھی جس کی بنیاد پہ ترسیمہ جات گاڑے جا سکیں۔ متعدد نستعلیقی خطوط پر ٹیسٹس لئے گئے مگر ان میں سے کوئی بھی فیض لاہوری نستعلیق کے پاس سے بھی نہیں گزرا۔ آخر کار تنگ آکر ہم نے خود ہی اس کٹھن ترین کام کو بھی کرنے کی ٹھانی اور ۲ مہینے کی جدو جہد کے بعد ایک خوبصورت کیریکٹر بیسڈ فانٹ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

لگیچرز :

کسی بھی نستعلیقی فانٹ کی خوبصورتی اس میں شامل ترسیمہ جات کی تعداد پر منحصر ہے۔ یہ فانٹ اب تک ریلیز ہونے والے کسی بھی اردو فانٹ کے مقابلہ میں زیادہ لگیچرز حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ۳۷۰۰۰ سادہ، ۳۷۰۰ قرآنی (بغیر اعراب کے) اور قریباً ۲۱۰۰ اعراب والے لگیچرز شامل کئے گئے ہیں۔ یوں ترسیمہ جات کی کُل تعداد ۴۳۰۰۰ لگیچرز سے تجاوز کر چُکی ہے!

لاطینی فانٹ:

ویب اور پرنٹ میڈیا کی کوالٹی کو دیکھتے ہوئے اس میں لاطینی فانٹ Arial Normalکے گلفس شامل کیے گئے ہیں۔ جو اسکی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث ہیں۔

القابات :

چونکہ یہ فانٹ اسلامی کتب کی کمپوزنگ کیلئے بہت موزوں ہے۔ اس لئے جمیل نوری نستعلیق میں شامل القابات کو یہیں امپورٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل ریلیز پیکیج میں دیکھیں۔

مسائل:

چونکہ تمام لگیچرز ایک حد تک دستی طور پر بنائے گئے ہیں۔ اس لئے بعض ترسیمہ جات کے ساتھ کرننگ/بیرنگز کے مسائل نظر آئیں گے۔ انشاءاللہ ان کو بھی آئندہ ریلیزیز میں بہتر کر دیا جائے گا۔

لائسنس:

یہ فانٹ تمام محبان اردو کیلئے بالکل مفت ہے! اسے آپ اپنی ویب سائٹ، بلاگ، فارم، ٹی وی غرض ہر جگہ پر بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ اپنے نام سے اسکو بیچنا یا اسکا کسی بھی رنگ میں غلط فائدہ اٹھانا منع ہے۔

فیض لاہوری نستعلیق ڈاؤن لوڈ کیجیے

Google Buzz

اردو وکیپیڈیا کا نامہ

تحریر از اردو ٹیکسٹ، منتظم اردو وکیپیڈیا
ویب پر اردو کے آغازی دور میں بلاگرز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ جلد ہی اس صنف نے خاصی مقبولیت حاصل کر لی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ خاصے ذہین لوگ اس زمانہ میں بلاگنگ کی طرف متوجہ تھے۔ اسی زمانے میں اردو وکیپیڈیا کا آغاز بھی سُست رفتاری سے ہوا۔ بہت سے لوگ وکیپیڈیا پر لکھنے پر آمادہ نہ ہو سکے۔
اس کی ایک وجہ طرزِ نو کا ڈر تھا، کہ مضمون سب کا سانجھا ہوتا ہے، اور ایک لکھاری کا نہیں۔ مگر جن لوگوں نے وکیپیڈیا پر لکھنے کا تجربہ کیا، ان پر واضح ہوا کہ یہ کوئی رکاوٹ نہیں، اور وکیپیڈیا پر لکھنا اکیلے لکھنے سے زیادہ پُر لطف تجربہ ہے، کہ یہ ایک زندہ تحریر ہوتی ہے، جو ارتقاء میں رہتی ہے، پڑی پڑی باسی نہیں ہوتی۔
دوسری وجہ اصطلاحات کا مسئلہ تھا، ذہین لوگوں کو بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ تکنیکی اصطلاحات کا اردو میں ناپید ہونے کی وجہ سے جو خلاء ہے اس کا صحیح حل کیا ہو گا۔ کچھ لوگ انگریزی کلمہ نویسی کو اس کا حل سمجھتے تھے کہ کہاوت ہے: “اردو دوسری زبانوں کی اصطلاحات سمونے کی صلاحیت سے مالا مال ہے”۔ کچھ کے خیال میں اردو انڈو یورپی زبان ہے، اس لیے انگریزی سے ہی الفاظ لینے چاہیے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی نظر میں چونکہ اردو طبقہ انگریزی بھی پڑھ لیتا ہے، اور اس لیے انگریزی پر معیاری وکیپیڈیا کے ہوتے ہوئے اردو وکیپیڈیا پر تکنیکی موضوعات پر لکھنا وقت کا ضیاع تھا۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اردو وکیپیڈیا پر عربی و فارسی سے طرزیاتی اصطلاحات اخذ کرنے کا فیصلہ ہوا، جو سب کو پسند نہیں آیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوا کہ یہ فیصلہ غلط نہ تھا، اور اگر اردو دائرہ المعارف پر طرزیاتی اور سائنسی مضامین لکھنے ہیں، تو یہی درست روش ہے۔ البتہ اس وجہ سے کچھ اردو دانوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ” وکیپیڈیا اردو کی دشمن ہے” یا انہیں “اردو وکیپیڈیا سے نفرت ہو گئی ہے”۔
تیسری وجہ کہ اردو دان طبقہ میں چودھراہٹ (وڈیرہ پن، خان اعظم وغیرہ) کی ذہنیت تھی۔ ہر آنے والے صارف کا مطالبہ تھا کہ وہ بغیر کچھ کیے وکیپیڈیا پر منتظم بنائے جائیں۔ چونکہ وکیپیڈیا ابھی نئی تھی، اس تناظر میں یہ کوئی اچھنپا مطالبہ تو نہیں تھا، مگر ظاہر ہے کہ پورا کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں کسی منتظم سے دانستہ یا غیر دانستہ غلطیاں ہوئی ہوں جس سے کسی صارف کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ کچھ اچھے لکھنے والے اس رویہ سے وکیپیڈیا کو خیر باد کہہ گئے تھے۔
وکیپیڈیا کو جو اچھی بھلی شکل اختیار کرنا تھی وہ کر چکی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اردو داں بلاگرز اور وکیپیڈیا کے درمیان خلیج کو کم کیا جائے۔ اس سلسلہ میں تجربہ کار بلاگرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں خاور صاحب کا نام ذہن میں آتا ہے۔ پچھلے دنوں محب علوی صاحب نے ورڈپریس میں خودکار ربط کار کی اطلاع دی تھی جس کے استعمال سے اردو دان پلاگرز اور وکیپیڈیا میں تعلق استوار کیا جا سکتا ہے۔ جس بلاگر کو کسی اصطلاح کا ربط دینا ہو وہ دے، اور اگر وکیپیڈیا پر مضمون موجود نہیں تو اس پر کچھ سطریں وکیپیڈیا پر تحریر کر دے۔ اس کا آسان طریقہ انگریزی وکیپیڈیا کے مضمون کے ابتدائیہ کا ترجمہ کر دینا ہے۔
وکیپیڈیا کے دس ہزار ہدف کو عبور کرنے پر دیوان عام میں پیغام میں ایسے دوستوں کو بھی وکیپیڈیا پر واپس آنے کی دعوت دی گئی تھی جو کسی بھی وجہ سے وکیپیڈیا سے قطعِ تعلق کر گئے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ عرض کروں کہ وکیپیڈیا میں منتظمی کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے، اس لیے امید ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہیں ہونگی۔ ہر انسان کو کسی بھی شعبہ میں سیکھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے جو منتظمی کرنے والوں پر بھی صادق آتا ہے۔ اس پیغام کے ذریعہ میں ذاتی طور پر ان اصحاب سے معافی کا خواستگار ہوں جن کو کسی بھی منتظم یا صارف کے رویہ سے دُکھ پہنچا ہو۔

حوالہ جات:
اردو غیر اردو
معاونت:مدونات میں وکیپیڈیا ربط

Google Buzz

سماء کا کمال

سماء ٹی وی کا “کمال” گو کہ کچھ پرانا ہے لیکن اسے دیکھ کر آج بھی وہی سواد آتا ہے۔

Google Buzz

خبر کے ساتھ اجتماعی زیادتی

پاکستان کے اردو اخبارات سے مجھے ہمیشہ یہی گلہ رہا ہے کہ انہیں خبر کے مندرجات کو جانچنے پرکھنے کی ذرا توفیق نہیں ہوتی۔ اغلاط سے بھرپور خبروں کی اشاعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑی بڑی تنخواہوں پر کام کرنے والے ایڈیٹرز کو اپنا اخبار تک دیکھنے کی “فرصت” نہیں ملتی۔ ورنہ ہر مرتبہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار غلطیاں وجود میں نہ آتیں۔
حالانکہ اس عہدِ کمپیوٹر (کمپیوٹر ایج) میں مندرجات کو پرکھنا محض چند سیکنڈوں کا کھیل ہے۔ آپ کسی لفظ کے تلفظ میں پھنسے ہوئے ہوں یا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں، انٹرنیٹ پر محض چند سیکنڈ آپ کی ذہن کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود غلطیاں اور وہ بھی اجتماعی طور پر؟ ذرا ملاحظہ کیجیے
جمعرات 16 جولائی کو ملک بھر کے روزناموں میں ایران میں پیش آنے والے فضائی حادثے کی خبر شایع ہوئی۔ یہ حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان (Yerevan) جانے والے طیارے کو پیش آیا۔ یہ بد قسمت طیارہ قزوین کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار 168 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شایع ہوئی جس میں جو غلطی اجتماعی طور پر کی گئی وہ آرمینیا کے دارالحکومت کا نام تھا۔ آرمینیا کے دارالحکومت کے نام کا درست تلفظ یہاں سنیے

روزنامہ ایکسپریس کراچی اسے “پیریوان” قرار دیتا ہے اور نوائے وقت کراچی نے “پریوان” لکھا ہے۔ روزنامہ جسارت نے “بڑے” اخبارات کی طرح بالکل ہی غلط تو نہیں لکھا لیکن اسے “یرویوان” قرار دیا ہے جبکہ روزنامہ امت نے اسے “یروان” قرار دیا۔ روزنامہ خبریں نے ذرا ہوشیاری دکھاتے ہوئے یریوان کا ذکر گول کر دیا لیکن قزوین کے معاملے میں دھر لیے گئے کیونکہ انہوں نے قزوین کو “قضوین” لکھا ہے۔

اب ذرا پاکستان کے سب سے بڑے اخبار اور “جو ہمارے پاس نہیں، وہ خبر نہیں” کی بڑھکیں مارنے والے “روزنامہ جنگ” کا احوال سنیے۔ انہوں نے سرخی میں آرمینیا کو آرمینا لکھا ہے۔ قزوین کو انہوں نے “قازون” قرار دیا ہے جبکہ آرمینیا کے دارلحکومت کو وہ “باریوان” کہہ رہے ہیں۔ ماشآ اللہ ۔۔۔۔ اللہ جنگ کے مانیٹرنگ سیل کو مزید صلاحیتیں، قوتیں اور “عقل” عطا فرمائے۔ جنگ اخبار کے کرتا دھرتا نجانے کتنی مرتبہ قزوین اور یریوان کے دورے کر چکے ہوں گے لیکن ان سب کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے اخبار میں اس کا نام ہی درست لکھوا لیں۔
روزنامہ جنگ سے میری گزارش ہے کہ “جیو” پر ذرا اپنا دھیان کم کریں، گو کہ وہ بھی اِس وقت یہی عظیم غلطیاں دہرا رہے ہیں، اور اپنی تھوڑی سی توجہ جنگ پر بھی ڈالیں اور وہاں سوئے ہوئے ایڈیٹرز کو جگائیں۔ اس خبر سے جو اندازہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جسے آرمینیا کے دارالحکومت کا درست نام معلوم ہو :( ویسے آپ کو یہ نام درست معلوم ہو سکتا ہے یہاں دیکھئے

Google Buzz

استقلال مارشی – ترکی کا قومی ترانہ

ترکی کے قومی ترانہ “استقلال مارشی” یعنی ترانۂ آزادی کے خالق شاعرِ اسلام “محمد عاکف” ہیں۔ یہ ترانہ ترک جمہوریہ کے قیام سے دو سال قبل اس وقت تحریر کیا گیا جب جنگ عظیم اول کے بعد ملک پر بیرونی قوتیں قابض تھیں اور مصطفی کمال کی قیادت میں ملکی فوجیں اُن سے نبرد آزما تھیں [دیکھئے: ترک جنگ آزادی] ۔ جب ملک کے قومی ترانے کے لیے ایک مقابلہ کرایا گیا تو ملک بھر سے کل 724 شعراء نے اس مقابلے میں حصہ لیا ۔ ان ترانوں میں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار ترانے موجود تھے لیکن قومی کمیٹی کو جو مطلوب تھا وہ ترانہ نہ مل سکا۔ اُس وقت کے ترک وزیر تعلیم حمد اللہ صبحی نے دیکھا کہ محمد عاکف نے اس مقابلے میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں عاکف سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ نہ مقابلے میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں اور نہ 500 لیرا کا وہ انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں جو جیتنے والے کے لیے رکھا گیا تھا۔ انہیں بڑی مشکل سے ترانہ لکھنے پر آمادہ کیا گیا اور جب یکم مارچ 1921ء کو حمد اللہ صبحی نے یہ ترانہ مجلس کبیر ملی کے اجلاس میں پڑھ کر سنایا تو اراکین مجلس پر ایک جوش اور کیف طاری ہو گیا اور کمیٹی نے رائے دی کہ اب دوسرے ترانے سنے بغیر عاکف کے ترانے کو منتخب کر لیا جائے اور 12 مارچ 1921ء کو باضابطہ طور پر استقلال مارشی ترکی کا قومی ترانہ قرار دیا گیا۔

محمد عاکف ارصوی

عاکف کے جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں سے سخت ضرورت کے باوجود 500 لیرا کی انعامی رقم وصول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ رقم انہوں نے ترک فوج کو ہدیہ کر دی تھی۔ انہوں نے اس ترانے کو اپنے مجموعۂ کلام “صفحات” میں بھی شایع نہیں کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ میری نہیں بلکہ پورے ملک کی ملکیت ہے۔ عاکف کے مجموعۂ کلام میں یہ ترانہ ان کے انتقال کے بعد ہی شامل ہوا۔
عاکف نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ

اللہ اب اس ملت کے لیے پھر ترانۂ آزادی نہ لکھوائے! ہاں، نہ لکھوائے! اللہ اب پھر اس مملکت کو اور اس کی آزادی کو خطرے میں نہ ڈالے کہ وہ پھر ایک ترانۂ آزادی لکھنے پر مجبور ہو۔

استقلال مارشی کی پہلی دھن علی رفعت چغتائی نے ترتیب دی جو 1924ء سے 1930ء تک برقرار رہی ۔ یہ دھن 24 دھنوں میں سے منتخب کی گئی تھی جس پر علی رفعت کو بھی 500 لیرا انعام دیا گیا۔ تاہم 1930ء میں شفیع ذکی اونگور کی بنائی ہوئی دھن اختیار کی گئی جو آج بھی رائج ہے۔
پاکستان کے ماہر ترکیات ثروت صولت کہتے ہیں کہ زبان کی چاشنی اور حسن بیان کے علاوہ جوش و جذبات کے لحاظ سے دنیا میں کم ترانے ہوں گے جو ترکی کے قومی ترانے کا مقابلہ کر سکیں۔ 1928ء میں جب ترکی کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا تو لادینی نظام کے حامی عناصر نے ترانے پر سخت اعتراضات کیے اور اس کو بدلنا چاہا کیونکہ اس میں اسلامی جذبات نمایاں تھے لیکن اس ترانے کی غیر معمولی مقبولیت کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور یوں استقلال مارشی آج بھی ترکی کا قومی ترانہ ہے۔
ذیل میں استقلال مارشی کا اصل ترکی متن اور اس کے ساتھ ثروت صولت صاحب کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ میں نے ترکی متن میں ان الفاظ کو واضح کر دیا ہے جو عام طور پر اردو دان افراد سمجھ لیتے ہیں۔
میری کوشش ہوگی کہ محمد عاکف کے بارے میں ایک مضمون تحریر کروں۔ ان کے اور اقبال کے درمیان کافی مماثلت پائی جاتی ہے، وہ اقبال کے ہم عصر بھی تھے۔ علاوہ ازیں ترکی زبان کے حروف تہجی اور ان کے تلفظ و ادائیگی کے بارے میں مختصر مضمون بھی تحریر کرنے کا ارادہ ہے۔ [آپ ذیل کی سرخی پر کلک کر کے ترانہ سن بھی سکتے ہیں]

Istiklal Marsi

Korkma, sönmez bu şafaklarda yüzen al sancak;
Sönmeden yurdumun üstünde tüten en son ocak.
O benim milletimin yıldızıdır, parlayacak;
O benimdir, o benim milletimindir ancak.

ڈر کیسا! یہ شفق رنگ فضاؤں میں تیرنے، چمکنے اور لہرانے والا سرخ پرچم اس وقت تک لہراتا رہے گا جب تک ہمارے وطن کے سب سے آخری خاندان کا چراغِ حیات گل نہ ہو جائے۔ یہ ہماری ملت کی قسمت کا تارا ہے، جو روشن ہے اور روشن رہے گا۔ یہ ہمارا اور صرف ہمارا ہے۔

Çatma, kurban olayım çehreni ey nazlı hilâl!
Kahraman ırkıma bir gül! Ne bu şiddet bu celâl?
Sana olmaz dökülen kanlarımız sonra helâl,
Hakkıdır, Hakk‘a tapan, milletimin istiklâl!

اے پیارے ہلال، تیرے قربان جاؤں۔ تیرے چہرے پر رنج و غم کیسا؟ غصہ اور جلال کی یہ شدت کیسی؟ تو ہماری بہادر قوم کو دیکھ کر ایک بار مسکرا دے، ورنہ ہم نے جو خون بہایا ہے وہ ہلال کی شکل اختیار نہ کر سکے گا۔ استقلال اور آزادی خدائے برحق کو پوجنے والی اس ملت کا حق ہے۔

Ben ezelden beridir hür yaşadım, hür yaşarım.
Hangi çılgın bana zincir vuracakmış? Şaşarım!
Kükremiş sel gibiyim, bendimi çiğner aşarım;
Yırtarım dağları, enginlere sığmam, taşarım.

ہم ازل سے آزاد ہیں اور آزاد رہیں گے۔ وہ کون پاگل ہے جو ہمیں زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کرے گا۔ ہم گرجتے گونجتے سیلاب کی طرح ہیں اور ہر بند کو توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ ہم پہاڑوں کو چیر کر فضائے بسیط کی وسعتوں میں پھیلنا جانتے ہیں۔

Garbın âfakını sarmışsa çelik zırhlı duvar,
Benim iman dolu göğsüm gibi serhaddim var.
Ulusun, korkma! Nasıl böyle bir imanı boğar.
Medeniyet!” dediğin tek dişi kalmış canavar?

اگرچہ ہمارے مغربی افق پر فولاد کی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے لیکن ہمارا ایمان سے بھرا سینہ ہماری سرحد ہے۔ اے میری قوم! ڈر نہیں، یہ خونخوار جانور جسے “تہذیب” کہا جاتا ہے ہمارے ایمان کا گلا نہیں گھونٹ سکتا۔

Arkadaş! Yurduma alçakları uğratma sakın!
Siper et gövdeni, dursun bu hayasızca akın.
Doğacaktır sana vaadettiği günler Hakk‘ın;
Kimbilir, belki yarın, belki yarından da yakın.

اے برادران وطن خبردار، یہ بزدل آگے نہ بڑھ پائیں۔ اپنے سینوں کو سپر بنا دو اور بے شرموں کے حملے کو روک دو۔ اللہ نے جس دن کا وعدہ کیا ہے وہ طلوع ہو کر رہے گا اور کون جانتا ہے کہ وہ کل ہی طلوع ہو جائے؟ یا کل سے بھی پہلے!

Bastığın yerleri “toprak” diyerek geçme, tanı!
Düşün, altında binlerce kefensiz yatanı!
Sen şehit oğlusun, incitme, yazıktır atanı;
Verme, dünyaları alsan da bu cennet vatanı.

اس خاک پر یہ سمجھ کر قدم نہ رکھو کہ یہ زمین ہے۔ اس خاک کے نیچے تو ہزاروں بے کفن دفن ہیں۔ تم شہیدوں کی اولاد ہو، دیکھو، وہ مجروح نہ ہوں اور وطن کی اس جنت کو ہم سے کوئی چھین نہ سکے۔

Kim bu cennet vatanın uğruna olmaz ki fedâ?
Şüheda fışkıracak toprağı sıksan, şühedâ!
Can ı, cananı, bütün varımı alsın da Hüdâ,
Etmesin tek vatanımdan beni dünyada cüdâ.

کون ہے جو اس جنتِ وطن پر قربان نہ ہو جائے گا جس کے چپے چپے پر شہداء بکھرے پڑے ہیں۔ اےخدا، تو مجھے، میرے محبوب کو اور ہر چیز کو لے لے، لیکن مجھ کو جب تک زندہ ہوں اس وطن سے جدا نہ کر۔

Rûhumun senden, ilâhi, şudur ancak emeli;
Değmesin mabedimin göğsüne na-mahrem eli!
Bu ezanlar ki şahadetleri dinin temeli,
Ebed i yurdumun üstünde benim inlemeli.

اے اللہ! ہم اپنی روح کی گہرائیوں سے تیری بارگاہ میں التجا کرتے ہیں کہ ہماری عبادت گاہوں تک نا محرموں کی رسائی نہ ہو اور یہ اذانیں جو تیرے دین کی شہادت (گواہی) دیتی ہیں تا ابد ہمارے وطن کے طول و عرض میں گونجتی رہیں۔

O zaman vecd ile bin secde eder varsa taşım;
Her cerihamdan, ilâhi, boşanıp kanlı yaşım,
Fışkırır rûh-i mücerret gibi yerden nâşım;
O zaman yükselerek arşa değer belki başım!

اس وقت (جب وطن آزاد ہو جائے) اگر میں مر بھی گیا تو میری روح ہزاروں سجدے کرے گی اور میرے جسم کا زخم مندمل ہو جائے گا اور میرا سر عرش سے بھی بلند ہو جائے گا۔

Dalgalan sen de şafaklar gibi ey şanhilâl;
Olsun artık dökülen kanlarımın hepsi helâl!
Ebed iyyen sana yok, ırkıma yok izmihlâl.
Hakk ıdır, hür yaşamış bayrağımın hürriyet;
Hakk ıdır, Hakk‘a tapan milletimin istiklâl!

شفق رنگ فضاؤں میں لہرانے والے ہلال تُو اسی طرح لہراتا رہ اور ہمارا بہایا ہوا خون ہلال کی شکل اختیار کر لے۔ اے ہلال تُو ابد تک اسی طرح لہراتا رہے اور میری قوم سرنگوں نہ ہو۔ آزاد رہنے والے ہلال، آزادی تیرا اور خدائے بر حق کو پوجنے والی ملت کا حق ہے۔

Google Buzz

اغواء برائے تاوان

گاؤں سے آنے والے ایک عزیز سے مکالمہ

ڈاکو، وڈیرہ اور پولیس کی مثلث

یار وہ میری بائیک چوری ہو گئی
وہ کیسے؟
وہ کزن لے کر گیا تھا، گھر کے باہر کھڑی کی، آدھے گھنٹے بعد واپس آیا تو بائیک غائب
اوہو ۔۔۔ کچھ پتہ وتہ چلا یا نہیں؟
ہاں پتہ تو چل گیا ہے لیکن وہ 20 ہزار روپے مانگ رہے ہیں
وہ کون؟ اور پیسے کس بات کے؟
اغواء برائے تاوان اور کیا؟ اگر دے دیے تو بائیک واپس مل جائے گی ورنہ اُن کی ملکیت۔
تو پولیس کیا کر رہی ہے؟
پولیس نے کیا کرنا ہے۔ “اغواء کار” بھی وڈیروں کے آدمی اور پولیس بھی۔

Google Buzz

21 ویں صدی کا ہنڈا؟

انصاف کے حصول کے لیے در بدر ٹھکرانے کے بعد عوام نے احتجاج کے لیے نیا ٹھکانہ ڈھونڈنا شروع کیا اور نجانے کب یہ قرعہ فال پریس کلب کے نام نکل آیا اور پھر اخبار ان ایک کالمی خبروں سے بھرنے لگے کہ فلاں جماعت، فلاں شخص، فلاں انجمن و فلاں جمعیت کا اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ۔ کبھی کبھار کوئی تصویر بھی اخبار کی زینت بن جاتی۔ لیکن جب یہ سب بھی معمول کی صورت اختیار کر گیا تو اپنی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے مظاہرین کو کچھ “خاص” کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یوں وہ عجیب و غریب احتجاج جنم لینے لگے جن کی خبر لازماً اخبار کا حصہ بنتی۔
اس حوالے سے حیدر آباد پریس کلب خاص شہرت رکھتا ہے کہ جہاں کے بارے میں صحافی برادری کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے اس پریس کلب کے باہر ہوتے ہیں خصوصاً انوکھے قسم کے مظاہرے۔ ابھی گزشتہ ہفتے گھاس کھا کر مظاہرہ کیا گیا، اس سے پہلے پیٹ پر پتھر باندھ کر، کبھی زمین پر لیٹ کر، کبھی قمیضیں اتار کر تو کبھی منہ پر تالے لگا کر۔ غرض اپنے مطالبات کے حق میں اپنے تئیں بھرپور کوشش کر کے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائی گئی۔
گو کہ ہم بھانت بھانت کے مظاہرے دیکھنے کے بعد اب ڈھیٹ ہو چکے ہیں لیکن گزشتہ روز گجرات میں ہونے والے ایک مظاہرے نے بہت جلدی توجہ مبذول کرائی۔ یہ مظاہرہ پاکستان عوامی تحریک نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف کیا۔ مزید تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ “تصویریں بولتی ہیں”۔ ملاحظہ کیجیے:

Google Buzz