اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات – میرا موقف
ایک گزشتہ تحریر پر قارئین کے تبصرہ جات کے بعد ضروری ہو گیا تھا کہ میں اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات سازی کے عمل پر اپنا موقف بیان کروں۔ سو یہ حاضر ہے:
اردو وکیپیڈیا سے احقر کا تعلق تقریباً تین سال پرانا ہے اور ابتدائی تقریباً دو سال انتہائی متحرک رہا۔ یہ وہ منصوبہ تھا جس سے مجھے ہمیشہ دلی لگاؤ رہا اور اس منصوبے کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوششیں کی۔ انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے جاری منصوبوں کی طرح کچھ خامیاں اس میں بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خرابیوں کو درست کرنے کے لیے عملی طور پر خود آگے بڑھا جائے کیونکہ یہ ایک “Community Project” ہے اس لیے اردو کے چاہنے والے تمام لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کچھ نہ کچھ حصہ اس میں ضرور ڈالیں۔
دراصل ہمارے ہاں دو رویے پائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر کسی کام کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ یہ غلط خطوط پر استوار ہے یا درست سمت میں نہیں ہو رہا تو اسے درست طریق پر ڈالنے کے لیے کوئی کام نہ کیا جائے بلکہ اس کے غلط ہونے کا ڈھنڈورا ہر جگہ پیٹا جائے۔ حالانکہ آپ اسے درست کرنے کے پورے اختیارات بھی رکھتے ہوں لیکن پھر بھی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اردو وکیپیڈیا کے حوالے سے جتنے بھی شاکی لوگ ہیں ان کا رویہ ہمیشہ یہی رہی ہے۔
میرا تعلق ہمیشہ اس قبیل سے رہا ہے جو اردو وکیپیڈیا پر خود ساختہ اصطلاحات کا مخالف رہا ہے لیکن اس کے باوجود میں نے اس منصوبے سے کبھی نفرت نہیں کی بلکہ جس میدان میں تنازعات سے ہٹ کر کام کیا جا سکتا تھا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اردو وکیپیڈیا کے درد مندوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کو اردو وکیپیڈیا کو وقت دیں لیکن کم از کم جن موضوعات میں مہارت یا دلچسپی ہو، ان کا تو حق ہے کہ ان پر چند سطریں اردو وکیپیڈیا کو دی جائیں اور یہ ان کی درد مندی کا تقاضا بھی ہے۔
اردو وکیپیڈیا کے متنازع معاملات پر وہاں کے منتظمین اور صارفین کے درمیان کئی مرتبہ طویل بحث مباحثے ہو چکے ہیں جن کا نتیجہ یہی نکلا کہ چند لوگ جو اس روش کے خلاف تھے یا تو ساتھ چھوڑ گئے یا میری طرح خاموش ہو گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خود ساختہ اصطلاحات کے لیے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ مجھے جیسے جاہل آدمی کا ان کا سامنا کرنا ممکن نہیں۔ ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو برادری توانا تر ہوتی جا رہی ہے لیکن اردو وکیپیڈیا کے لیے کام کرنے کے لیے تازہ خون سامنے نہیں آ رہا اور نہ ہی ان “گھاگ” اردو دانوں کو اردو وکیپیڈیا سے کوئی دلچسپی ہے جو ہر وقت اردو کا رونا رہتے ہیں۔ چند دوست احباب اردو کی لشکری حیثیت کو درمیان میں لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو میں تمام زبانوں کو سمونے کی اہلیت ہے اس لیے انگریزی زبان کے الفاظ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں مجھے ذاتی حیثیت میں اس دلیل سے اختلاف ہی رہے گا کہ فی زمانہ اردو کا ناطہ انگریزی سے جوڑنا دراصل اردو دوستی کا ثبوت ہے۔ پہلے ہم ان زبانوں سے تو تعلق جوڑیں جن سے اردو کا خمیر اٹھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہی سمجھتا ہوں کہ کیونکہ اردو میں اصطلاحات سازی کا کام ابھی نا مکمل ہے اس لیے انتظار ہی بہترین حکمت عملی ہے بجائے اس کے کہ خود ساختہ اصطلاحات تخلیق کی جائیں۔
ایک محترم دوست کی رائے یہ ہے کہ عوامی سطح پر جو الفاظ رائج ہو جائیں انہیں من و عن زبان میں قبول کر لینا چاہیے۔ یہ دلیل درست ہے لیکن اگر آپ کی زبان یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنی اصطلاح مرتب کر سکے تو چاہے عوام کسی اور زبان کا لفظ ہی استعمال کریں لیکن آپ اس کے لیے ایک الگ اصطلاح ضرور ایجاد کریں اور میری نظر میں یہ اختیار ایک ادارے کو ہونا چاہیے جیسے مقتدرہ قومی زبان وغیرہ۔ عرب ممالک میں کمپیوٹر اور موبائل کو کمبیوتر اور موبایل ہی بولا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے حاسوب اور ہاتف کی اصطلاحات بنائیں اور لکھت پڑھت میں یہی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو وکیپیڈیا کے منتظمین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کے ٹھیکیدار نہیں ہیں، اگر سرکاری سطح پر کوئی ادارہ اردو کے لیے اصطلاحات نہیں بنا رہا تو یہ ذمہ داری ان پر عاید نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی کی اصطلاحات بناتے پھریں۔ اس لیے عارضی طور پر جب تک اصطلاحات سازی کا معاملہ حل ہوتا ہے تب تک انگریزی اصطلاحات پر ہی اکتفا کیا جائے اور نامانوس اصطلاحات پر زور نہ دیا جائے۔
دوسری جانب اردو کے درد مندوں سے التماس ہے کہ وہ دلائل سے قائل کرنے کے لیے اردو وکیپیڈیا پر کچھ متحرک ہوں تاکہ اس عظیم منصوبے کو ضایع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اصطلاحات سازی سے قطع نظر وہاں کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔
علامہ فرما گئے ہیں:
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر













