سوائے شاعری ، نثر (ادبی) اور مذہب کے ، تمام تر علوم میں انتہائی پسماندہ اردو زبان کے لیے اردو دائرۃ المعارف نے ابتداء سے ہی یہ کوشش رکھی کہ جس قدر ہوسکے ان علوم کی اصطلاحات کو اردو ہی میں درج کیا جائے جو کہ اردو سے غالباً یکسر ناپید ہیں۔ اس کوشش کے دوران جب کسی اصطلاح کا ایسا اندراج سامنے آئے کہ جو عربی ابجد کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی میں (یعنی عربیزدہ انگریزی) لکھا گیا ہو تو دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کی اصلاح کر کے اردو متبادل سے تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس سعی پر جو بار بار کا ایک گھسا پٹا رد عمل سامنے آتا ہے وہ ہے کہ ؛ “—–اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے—–” اور اس دقیانوسی رٹے رٹائے جملے کو ادا کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام مسائل حل ہو گئے اور اب اردو میں کسی ترقی کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ تو ہر زبان سمو لینے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال ہے ہی ، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
مولوی یا کچھ اور؟
فی الحقیقت یہی “—–اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے—–” والی سوچ ہے کہ جس نے اردو کو ترقی یافتہ زبانوں کی جانب لے جانے والے تمام دروازوں کو ہمیشہ بند رکھا۔ گو اردو میں علومِ دنیا کے موضوعات پر ناکافی (سائنسی) ادب ہونے اور بطور خاص سائنس میں اسلامی دنیا کی پسماندگی کا الزام تجزیہ نگاروں نے مولویوں پر بارہا لگایا ہے کہ ان مولویوں نے اسلامی زبانوں کو سائنس سے دور رکھا ، یہ بات مکمل طور پر درست نہیں بلکہ شائد بالکل درست نہیں ، اسلامی ممالک میں بولی جانے والی زبانوں (خواہ وہ عربی ابجد استعمال کرتی ہوں یا غیر عربی) اور بالخصوص اردو میں دنیاوی علوم پر مستند مواد کی ناقصیت و ناپیدی مولویوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی متعدد وجوہات کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا دقیانوسی سوچ بھی ایک وجہ ہے جس نے ہر زمانے میں سائنسی اصطلاحات کو اردو میں تلاش کرنے سے متعلق ناصرف عدم دلچسپی پیدا کی بلکہ ان اصطلاحات کو رائج العام ہونے سے بھی روکے رکھا۔
سمونا کیا ہے؟
اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اول تو یہ کہ اس میں سوائے انگریزی کے دیگر زبانوں کے الفاظ کیوں نہیں سموئے جاتے؟ اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اس میں کتنے الفاظ جاپانی کے ہیں ؟ کتنے فرانسیسی کے ہیں ؟ اور جو انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے چند ایک الفاظ ہیں بھی (جیسے جاپانی کا رکشا) تو وہ بھی انگریزی ہی سے سموئے گئے ہیں ؛ بلکہ مضحکہ خیز بات یہ کہ انگریزی کا سمجھ کر ہی سموئے گئے ہیں۔ اگر اردو دیگر زبانوں کے الفاظ سے مل کر وجود میں آئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے یہ بہانہ تراش لیا جائے کہ اردو میں تمام کے تمام الفاظ بس انگریزی سے لے لے کے لکھے جاتے رہیں؟ آج کی بولی جانے والی زبانوں میں سے کون سی زبان دنیا کی ایسی ہے کہ جو اپنے سے قدیم (بسا اوقات ناپید) زبان سے الفاظ نہیں لیتی؟ مگر ان زبانوں کے بولنے والے تو کبھی یہ بہانا نہیں تراشتے کہ ہماری زبان میں ہر لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے! کیوں؟ انتہائی عام مثال ہے ؛ germ کے لیے بنے ہوئے الفاظ جرثوم ، جراثیم حتیٰ کے اس میں عربی قاعدے کے مطابق ہ کے اضافے سے جرثومہ تک بن جانے کے باوجود آج بھی عربی کی لغات میں اسے غیر عربی ہی لکھا جاتا ہے۔
کیا صرف اردو؟
یہ دوسری زبانوں کو اپنے اندر سمو لینے والی بات محض اردو زبان کے لیے مخصوص نہیں ہے؛ ہر زبان انسانی رابطے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرنے والے افراد اس میں وہ الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ جس کے بارے میں ان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ مخاطب کی سمجھ میں آ جائیں گے۔ کسی بھی زبان میں اس کے قواعد کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ، کسی دوسری غیر زبان کا کوئی بھی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے؛
جیسے اردو میں کہا جائے کہ : اس نے خود کو اس کام کے لیے کمیٹڈ کر لیا ہے۔
تو ایسے ہی انگریزی میں کہا جاسکتا ہے کہ : He was a prominent mufassir of his time.
مذکورہ بالا دونوں مثالوں میں جب تک مُخاطِب اور مُخاطَب واضح کیے گئے بالترتیب اردو اور انگریزی کے لیے غیر زبان کے الفاظ سے واقف نہیں ہونگے ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا، یعنی کسی — روزمرہ — گفتگو کی زبان میں وہی الفاظ اختیار کیے جاتے ہیں کہ جو رائج ہوں (رائج پر بحث آگے کسی قطعے میں آئے گی)۔ انگریزی اور اردو کے ان دو چھوٹے سے جملوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو میں کوئی ایسی انوکھی خوبی نہیں ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سموتی رہے ، ایسا تو ہر زبان میں ممکن ہے گو یہاں محض نویسات کی طرزیاتی قیود کے باعث منگولی ، بنگالی اور جاپانی وغیرہ کی مثالیں نہیں لکھی گئیں۔
سموئے ہیں یا ٹھونسے گئے؟
درحقیقت یہ سمونے والا لفظ ایک دھوکا اور فریب ہے، معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو میں انگریزی کے جو الفاظ روزمرہ گفتگو میں دھڑا دھڑ اور بلا کسی شرم و افسوس کے استعمال کیے جاتے ہیں وہ بیچاری اردو نے اپنے اندر سموئے نہیں ہیں ، وہ تو اس کے اندر زبردستی ٹھونسے گئے ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پندرھویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی کے اواخر تک ہندوستان پر قائم رہنے والی حکومت میں ابتدائی طور پر فارسی اور پھر اردو کے بجائے انگریزی زبان استعمال کی جاتی تھی؟ اور کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس قدر طویل المیعاد حکومت کسی بھی قسم کی سائنسی سرگرمی سے یکسر نا بلد رہی ہو؟ کیا ہندسیات ، طرزیات اور ریاضیات کے علوم سے لاعلم افراد ہمایوں کا مقبرہ ، فتح پور سیکری اور تاج محل و لال قلعہ جیسی تعمیرات کر سکتے ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ جدید علوم اور دنیاوی ترقی سے ناآشنا حیدر علی اور پھر ٹیپوسلطان کی افواج ، چین میں دریافت ہونے والے بارود کے استعمال کو نفاست اور ترقی کی انتہا پر لے جا کر اسے کامیابی کے ساتھ بطور missile استعمال کرسکتی ہو؟ [1]یا پھر کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا تمام تر دنیاوی علوم کی ترقی اس زمانے میں فارسی اور اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہو رہی تھی؟ یہ تو وہ زمانہ تھا کہ جب انگریزی کے رنگ برنگے الفاظ تو کجا ، خود لفظ —- انگریزی —- بھی ناپید تھا۔
کہاں بنی اور کہاں بگڑی؟
عہد مغلیہ کے ابتدائی دور میں عربی اور فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہنے اور پھر درجہ بہ درجہ شاہجہاں کے دور تک اردو کے ایک مسلمہ زبان صورت اختیار کرنے [2]سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اردو کی ابتداء بھی کوئی پندرھویں صدی سے ہی ہوئی ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہے آج سے کوئی نو سو سال قبل ، سلطنت دلی سے بھی پہلے ، وسط ایشیا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لشکروں میں ایک بین اللسانی رابطے کی زبان وجود پاچکی تھی جس کو ریختہ بھی کہا جاتا ہے [3]اس زبان ریختہ میں وسط ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی وجہ سے فارسی کا بہت گہرا اثر تھا، اس میں ترکی بھی پائی جاتی تھی اور عربی بھی۔ اور پھر جب ان لشکروں کا ہندوستان پر اثر بڑھتا گیا اور سلطنت دلی کے وجود پا جانے کی وجہ سے ان کی زبان ریختہ ہندوستان کے علاقائی لسانی قواعد سے امتزاج کرتی گئی اور رفتہ رفتہ بارہویں صدی کے آغاز سے اردو کی تشکیل کا آغاز ہوا۔ دنیا کے دوسری جانب کا منظر بطور اندازہ بیان کیا جائے تو یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسپین میں امارت غرناطہ اپنی بقا و فنا کی کشمکش سے ابھی دور اور نسبتاً پرسکون سی تھی۔ امیر خسرو(1253ء – 1325ء) کو اس نئی بننے والی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ہے۔
عروج
یہ بات تو بکثرت لکھی جاتی ہے کہ عرب سائنسدانوں (جن میں تمام مادری زبان والے عرب نہیں تھے) نے اعداد اور صفر کا تصور ہندوستان سے لیا اور اسی وجہ سے اعداد کو ہندسہ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق بہت ناکافی ہے کہ طارق بن زیاد کے اسپین میں داخل ہونے کے ساتھ 711ء میں ہی ہندوستان میں داخل ہو کر 1857ء تک موثر رہنے والے ان افراد کی سائنس و طرزیاتی میدانوں میں سرگرمیاں کیا رہیں کہ جن کا رسم الخط موجودہ اردو کی پیدائش کا موجب بنا۔ لیکن بہرحال ایک بات طے ہے کہ ہڑپہ کے زمانے سے انیسویں صدی تک جو بھی سائنسی ترقی ہوئی اس میں انگریزی زبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ عہد مغلیہ کی بات کی جائے تو یہ بات متعدد تاریخی دستاویزات سے ظاہر کہ تعمیرات (اور اس سے متعلقہ ہندسیات و ریاضیات، پارچہ بافی، حرکابی ہندسیات ، علم طب اور ادویہ سازی کے شعبہ جات جامد نہیں تھے بلکہ مغل اپنے ساتھ ہندوستان میں اسلامی دنیا کی طرزیات اور علوم بھی لائے تھے؛ مغل بادشاہ بہادر شاہ اول کے پوتے محمد شاہ (روشن اختر) کے کہنے پر جے سنگھ سوائی (1688ء تا 1743ء) نے دلی میں جنتر منتر کے نام سے رصد گاہ تعمیر کی[4]، جس میں قدیم ہندوستانی اور اسلامی علوم فلکیات سے استفادہ کیا گیا اور اردو چونکہ شاہجہاں کے زمانے سے سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل کر چکی تھی لہذا اس جنتر منتر کی تعمیر کے دوران درکار روابط میں اردو کا کردار غیر موجود کہنا بھی غیر منطقی بات ہوگی۔ اب اس بات میں کلام نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں اور تحاریک ، انگریزی کی بیساکھیوں کے بغیر جاری تھیں۔
انگریزی کی بھرمار کا پس منظر
عربی کی ایک ضرب المثل یہاں صادق آتی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ ‘لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں’۔ اردو کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر راج کیا اور اپنا اقتدار برصغیر کو آزاد کرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک قائم رکھا۔ لارڈ میکالے اور دیگر انگریزوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ اگر اس علاقے پر اپنا اقتدار قائم رکھنا ہے تو انہیں ان کی زبان سے محروم کر دو اور ایسے لوگ پیدا کرو جو رنگ و نسل میں تو ہندوستانی ہوں مگر چال ڈھال اور نظریات میں انگریز بننے میں سبقت کی کوشش کرتے رہیں۔ اگر انگریز نہ ہوتے تو اردو کی ترقی اس نہج پر آ چکی تھی کہ برما (رنگون) سے لے کر کابل تک بے شمار لوگ اردو بول اور سمجھ سکتے تھے حالانکہ یہ ان کی مادری زبان نہ تھی۔ اردو ایک انتہائی بڑے علاقے کی مشترک زبان بن رہی تھی جس کی آبادی دنیا کا پانچواں حصہ تھی۔ مگر پہلے تو انگریزوں نے تعلیم کا طریقہ بدلا اور انگریزی کو رائج کیا۔ پھر رسم الخط کا جھگڑا کھڑا کیا جس سے اردو ایسی زبان بن گئی جسے دو مختلف رسوم الخط میں لکھنے روایت پڑی۔ ہندو اکثریت نے اردو کو ہندی کہا اور اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ جو بخوبی اردو کا حصہ بن چکے تھے انہیں نکال کر سنسکرت کے الفاظ رائج کئے اور یہ سلسلہ پچھلے ساٹھ سال سے جاری ہے۔ دوسری طرف اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرمار شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ایسے الفاظ متروک ہو گئے ہیں جو اردو میں موجود تھے مگر اب ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ بولنا فخر سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف ممالک کے نام لوگ وہ لینا پسند کرتے ہیں جو انگریزی میں رائج ہوں چاہے اس ملک کے لوگ کچھ اور کہتے ہوں۔ مثال کے طور پر ‘اطالیہ’ لفظ اردو میں رائج تھا اور خود اطالیہ کے لوگ اپنے ملک کو ایسے ہی پکارتے ہیں مگر احباب اسے اٹلی کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں ممالک کے ناموں تک محدود نہیں بلکہ بے شمار ہیں۔
انگریزوں کے اقدامات
1900ء میں انگریزوں نے بغیر کسی طلب کے اردو اور ہندی کو برابر کی زبانیں قرار دیا جس کا مقصد تھا کہ ایک ہی زبان کو دو رسوم الخط کی بنیاد پر دو زبانیں قرار دیا جائے۔ اس کے بعد اردو اور ہندی جو بنیادی طور پر ایک ہی زبان تھی ایک دوری پیدا ہونا شروع ہو گئی۔انگریزوں نے اس خیال کو ترقی دی کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندو لوگوں کی۔ اس سے غیر مسلموں میں اردو سے ایک نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نے مسلمانوں اور ہندو اقوام کے درمیان لسانی فسادات کو جنم دیا[5]۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950ء میں بھارت کے آئین کے تحت دیوناگری رسم الخط رکھنے والی ہندی زبان کو بھارت کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔
موجودہ دور کی انگریزی زدگی
موجودہ دور کی انگریز زدگی کی واضح مثال خود اخبارات و جرائد ہیں جہاں ایسی اردو استعمال کی جاتی ہے جس میں ایسے انگریزی الفاظ موجود ہوں جن کے اردو متبادل اردو الفاظ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ماضی میں بخوبی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ کام نام نہاد اردو کے اخبارات و جرائد کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی مثالیں درج کی جا رہی ہیں جس میں اردو لفظ اور اس کے ساتھ آج کل استعمال ہونے والے الفاظ دیے گئے ہیں۔ اردو لفظ (اردو لفظ کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ): انگریزی (انگلش)، نشست (سیٹ)، اطالیہ (اٹلی)، مزاح (کامیڈی)،سمندر پار (اوورسیز)،بین المدتی (مڈ ٹرم)، مجلس یا پارلیمان (پارلیمنٹ)،کھیل (گیمز) ۔ ۔ دوسری مثال پاکستان میں، جہاں کی 90 فی صد آبادی اردو سمجھتی ہے، تمام سرکاری سطح پر انگریزی یا انگریزی زدہ اردو کا استعمال ہے۔ پارلیمان میں تمام حلف انگریزی زبان میں اٹھائے جاتے ہیں، تمام سرکاری بیانات انگریزی میں دیے جاتے ہیں، تمام عدالتی فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، مقابلے کے امتحانات میں انگریزی لازمی ہے مگر اردو نہیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ بھارت میں اخبارات و دور درشن وغیرہ پر اردو اور ہندی دونوں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جو عام بھارتی افراد نہیں بولتے۔ اس میں سنسکرت کی بھرمار ہوتی ہے جبکہ عام لوگ جو زبان آج بھی بول رہے اس میں سنسکرت کی اتنی بھرمار نہیں۔
وہ بد حواسی ہے کہ ۔۔۔
یہ بات ہر اس شخص پر عیاں ہو جائے گی جو اردو میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ کا متلاشی ہوگا کہ اردو کا گھر عربی ہی ہے۔ ان الفاظ کی اکثریت بھی کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی ہیں ، اصل میں عربی سے ہی فارسی میں آئے ہیں اور یوں عربی ہی ہیں۔ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں میں کتابوں سے محبت کا جذبہ سویا نہیں تھا اور مسلمان مختلف موضوعات پر کتابیں تخلیق کر رہے تھے اور ان میں تمام لکھنے والے عرب نہ ہونے کے باوجود تمام کتب کی زبان عربی ہی ہوا کرتی تھی۔ عربی میں کوئی خاص بات نہیں ، وہ بھی بس ایک انسانی رابطے کا ذریعہ ہی ہے ، جیسے اردو اور فارسی یا انگریزی؛ مگر اس کے باوجود یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عربی میں علمی (سائنسی) اصطلاحات پیدا کرنے کی صلاحیت اردو اور فارسی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ سائنس میں انتہائی ضروری بات ، اصطلاحات کا زندہ ہونا ہے۔ اگر اصطلاحات کے بجائے عبارات (یعنی پورے پورے جملے) لکھے جائیں گے تو سائنسی موضوعات پر کچھ لکھنا نا صرف ناممکن ہوگا بلکہ نوبت یہاں تک آئے گی کہ ترجمہ اور ہو بہو انگریزی سائنسی مضامین کی نقل تک نا ممکن ہو جائے گی۔ فارسی میں ایک رجحان پیدا ہوا ، فارسی کو خالص بنانے کا ، باالفاظ دیگر فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج فارسی میں سائنسی مضامین لکھنا دشوار ترین ہو چکا ہے۔
کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم
وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم
اردو والوں کو فارسی سے لگے رہنے کا نقصان یہ اٹھانا پڑا کہ ایک طرف تو یہ کہ بدحالی کی جانب گامزن فارسی سے جدید اصطلاحات کے الفاظ نہیں مل سکے اور دوسری جانب وہ انگریزی میں سیلاب کی طرح بہی چلی آنے والی اصطلاحات کا متبادل تلاش کرنے کے لیے عربی کی جانب متوجہ ہونے سے بھی ہچکچاتے رہے یعنی اس اصطلاحات کا بروقت متبادل دستیاب نہ ہونے کی صورتحال نے اردو دانوں کی اکثریت (تمام نہیں) میں ایک ایسی بدحواسی پیدا کر دی کہ وہ اس انگریزی میں برستے ہوئے سائنسی اصطلاحاتی اولوں سے اپنا سر چھپانے کے لیے اپنے گھر کی چھت کے نیچے بھی نہ آسکے ، خود اردو کو بدحواسی کے عالم میں اپنے گھر کی جانب بھی جانے کا موقع نہ دے سکے۔
فارسی پاک کرو!
عرصۂ دراز تک عربی سے مستفید ہونے کے بعد ، عرصۂ دراز تک مادری زبان فارسی رکھنے والے مسلم سائنسدانوں کے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف عربی میں لکھتے رہنے کے بعد بالآخر نفرت کی دیواریں لسانیات میں بھی کھڑی کی جانے لگیں۔ فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا رجحان انیسویں صدی کے اواخر سے دکھائی دیا جانے لگا اور آج اس کو پرانی فارسی کی کتب اور پھر موجودہ فارسی کتب کو پڑھنے والے باآسانی محسوس کر لیتے ہیں۔ فارسی سے عربی الفاظ کو نکالنے کے سلسلے میں ایران کے جنوب میں واقع قدیم شہر جنداق سے تعلق رکھنے ابوالحسن یغمۂ جنداقی کا نام ابتداء کرنے والوں میں شامل کیا جاسکتا ہے، جنداقی نے اپنی کتاب کلیاتِ یغمۂ جنداقی[6] فارسی کو عربی سے پاک کرنے کی اس روش یا طرز عمل کو “تازہ روشِ نو دیدار” کا نام دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس روش نے نہ صرف یہ کہ فارسی کو عربی کی بلاغت سے محروم کرنا شروع کر دیا بلکہ اسلام سے قریب الفاظ (یہاں مذہبی تفریق سے مقصود نہیں بلکہ صرف اس حقیقت کا بیان ہے کہ عربی الفاظ اسلام سے قریب ہی تصور کیے جاتے ہیں) سے بھی فارسی کو محروم کرنا شروع کر دیا ، اسلامی عربی ناموں کی جگہ پہاڑوں اور غاروں میں سے ڈھونڈ دھونڈ کر قبل از اسلام کی اصطلاحات بھری جانے لگیں اور اس تمام صورتحال نے فارسی کو سائنس کے میدان میں مفلوج کر ڈالا کیونکہ ایک تو اس سے وہ صدیوں کی آزمودہ اصطلاحات غائب ہونا شروع ہو گئیں جو کہ مسلم سائنسدان ؛ مسلم اندلس اور اور بغداد کے مدینۃ الحکمت میں عربی اور فارسی کو عطا کر چکے تھے اور امت سے ہم آہنگی کا ایک رشتہ بھی کمزور ہو گیا[7]۔ آج کی فارسی وہ فارسی نہیں ہے کہ جس میں اقبال نے شاعری کی تھی
علم از سامانِ حفظِ زندگی است
علم از اسبابِ تقویمِ خودی است
مندرجہ بالا اقبال کا فارسی شعر پڑھنے کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے اصل فارسی پر عربی کا کس قدر گہرا اثر ہے اور اس میں کس کثرت سے عربی اصطلاحات و الفاظ استعمال ہوتے ہیں؛ مذکورہ بالا —– فارسی شعر —– میں کل 12 الفاظ ہیں جن میں سے 5 (علم ، حفظ ، اسباب ، تقویم اور خودی) عربی ہیں۔ یہ تو صرف ایک عام فہم شعر کی مثال ہے اگر دیگر قدیم کتب کا مطالعہ کیا جائے (مسلم سائنسدانوں کی کتب کی تو خیر بات ہی الگ ہے کہ وہ تو مکمل عربی ہی میں ہیں) تو وہ اس شعر کی نسبت بہت زیادہ عربی الفاظ سے بھری ہوتی ہیں۔
اردو کا خسارہ
غضب یہ نہیں ہوا کہ فارسی سے عربی الفاظ نکالنے سے صرف فارسی ہی علمی اصطلاحات سے محروم ہوتی گئی بلکہ غضب یہ ہوا کہ اس خطے میں بسنے والے تمام افراد جدید علوم کو اپنے اندر سمولینے کے بجائے اس سے ذہنی طور پر مغلوب ہوتے چلے گئے؛ یہ ذہنی مغلوبی براہ راست سائنس یا جدید علوم الدنیا سے تو ہوئی ، ساتھ ہی ساتھ اس زبان سے بھی ہوئی کہ جس میں یہ سائنسی اور جدید علوم کی اصطلاحات آنا شروع ہوئیں۔ جدید علوم الدنیا کو اردو میں سمونے کے بجائے اردو میں انگریزی سموئی جانے لگی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مغلیہ دور کے اواخر تک یہاں فارسی ہی کا سکہ چلتا رہا اور ہندوؤں نے بھی فارسی کو بخوشی و بخوبی اپنایا کیونکہ یہ ناصرف تمام اداروں اور دفاتر میں لازم تھی بلکہ اس کا سیکھنا تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ ہونا تصور کیا جاتا تھا ، بالکل ایسے ہی کہ جسے آج کسی انگریزی نہ سمجھنے والے کو انگریزی سمجھنے والے کی نسبت جاہل سمجھا جاتا ہے۔ فارسی کے یوں اہم ترین زبان کا رتبہ رکھنے والے دور میں بھی عربی کی علمی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی اور عربی زبان کی تحصیل کے بغیر اعلیٰ تعلیمی اسناد کا حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔
اردو نوازی
بہرحال یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریز قوم جب یہاں آئی تو اس کے سامنے سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ یہاں عرصے سے حکومت کرتی چلی آنے والی قوم کو ذہنی طور پر کمزور اور ناتواں کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے اہم کردار علوم الدنیا سے ہم آہنگ نہ رہ سکنا کرتا ہے یعنی نفسیاتی طور پر جب کوئی قوم (یا فرد) علوم الدنیا (یا اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں) سے ہم آہنگ نہ رہ سکے تو وہ قوم ذہنی طور پر ناتواں اور مغلوب ہو جایا کرتی ہے۔ قرون وسطٰی (middle ages) ہی نہیں بلکہ ساتویں صدی سے تیرھویں نہیں تو بارہویں صدی تک عربی زبان دنیا میں جدت کی علامت رہی؛ جو کام آج اس وکیپیڈیا پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کام کو 1492ء کے بعد سے تمام یورپی کرنے میں جنون کی حد تک ملوث تھے اور عربی سائنسی مواد کے تراجم لاطینی و دیگر زبانوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کئے جا رہے تھے۔ گیارھویں اور تیرھویں صدی کے زمانے میں انگلستان میں عربی زبان سیکھنے کا رجحان زوروں پر تھا[8] اور برصغیر میں بہروپیوں کی شکل میں وارد ہونے والی اور عربی سے نفسیاتی طور پر خوفزدہ اسی انگلستانی قوم سے زیادہ اس بات کو اور کون بہتر جان سکتا تھا کہ جب تک عربی اصطلاحات کا پتہ صاف نہ کیا جائے گا اس برصغیر کی قوم میں یہ احساس پیدا ہی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ؛ یہاں بات مذہب پر لانا مقصود نہیں لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ انگریز کو ہندی یا مغلیہ دور کی دیگر زبانوں سے پریشانی نہیں تھی کیونکہ ان میں بغداد اور اندلس جیسے کتب خانوں کی طرح علمی اور سائنسی اصطلاحات موجود نہیں تھیں اور ان زبانوں کو جب چاہے انگریزی سے بھرا جاسکتا تھا (ہندی جاننے والے آج بھی اس حقیقت کو باآسانی ہندی وکیپیڈیا پر ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔ پس انگریز نے علمی اصطلاحات کے ذخائر سے اس نو محکوم قوم کو محروم کرنے کی خاطر فارسی کی جگہ اردو کو ترجیح دینا شروع کی، مقصد اس کا ایک ہی تھا کہ فارسی کی موجودگی میں عربی سے تعلق نہیں توڑا جاسکتا تھا لہٰذا اردو کو لاڈ پیار دیا جانے لگا۔
ڈنڈے نہیں سوٹی سے مارو!
مغلیہ دور کے اواخر سے اردو زبان درباروں میں جگہ پانے لگی تھی اور اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے شعراء اور ادباء نے اس میں نئی اور پر مغز اصطلاحات کا عربی اور فارسی امتزاج ڈالنا شروع کر دیا تھا اب اردو بالغ ہو چکی تھی اور اس میں ناصرف مقامی زبانوں کے میٹھے الفاظ تھے بلکہ علمی عربی و فارسی روایات بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور مسلمان سمیت تمام قوم اس سے کسی نہ کسی قسم کا تعلق محسوس کرتی تھی[9] اور اس کی یہی وہ کیفیت تھی کہ جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز نے فارسی اور عربی کا خاتمہ کر کے اس قوم کو جدید علوم سے ہم آہنگ ہونے سے محروم رکھا ، انگریز کے پاس اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا کہ اردو کو اہمیت دے ، اب اردو اسے ایک ایسی سوٹی نظر آ رہی تھی کہ جس سے مارا بھی جاسکے اور مار کھانے والا مرے بغیر مار بھی کھاتا رہے۔ انگریز کو بخوبی اندازہ تھا کہ فارسی اور عربی سے جدا کر دیا جائے تو اس قوم کے پاس ہندی کے سوا کچھ نہ بچے گا خواہ اس کو عربی حروف استعمال کر کے اردو کا نام دیا جاتا رہے یا کوئی اور[10] ۔ ایک بار عربی سے جان چھڑا لی جائے تو بعد میں صرف یہ کرنا ہوگا کہ ہندوؤں کو عربی رسم الخط سے بیزار کیا جائے اور بس! کام ختم! ایسا ہونے کے بعد اس قوم کے ہاتھ رہے گا کیا؟ اس کے پاس سوائے انگریزی سے چمٹ جانے کے اور انگریزی زبان کا ذہنی غلام بن جانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ بابائے اردو کہلائے جانے والے مولوی عبدالحق نے اس مکار اور عیار حکمت عملی اور اس قوم سے دشمنی کو انگریز کے احسان کا نام دیا ہے؛ سبحان اللہ!9 ۔
وکالت یا مخالفت
قطعہ اردو کا خسارہ ، بظاہر ایسا احساس اجاگر کرتا ہے کہ یہاں اردو کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے؛ یہ قطعہ اس زبان کی بات کر رہا ہے کہ جس سے اس کی روح چھین لی گئی ہو، جس سے بے پناہ علمی الفاظ کا ذخیرہ چھین لیا گیا ہو9 جس سے اس کی شناخت چھین کر صرف نام برقرار رکھا گیا ہو۔ یہ قطعہ اردو کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس دھوکے کی مخالفت میں ہے کہ جو اردو کے نام پر جاری رکھا گیا، اردو سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیئے جائیں تو باقی جو رہ جاتا ہے وہ ہندوی ہو سکتی ہے ہندوستانی ہو سکتی ہے یا صاف الفاظ میں ہندی ہوسکتی ہے اردو ہرگز نہیں10۔ اور جب اس مستقبلیاتی بصیرت سے کام لیتے ہوئے (جسے اردو دان دانستہ یا نا دانستہ نظر انداز کرتے رہے یا اس زمانے کے مسائل سے بھرپور حالات میں سمجھ نہ سکے) انگریز نے اردو کی پشت سے عربی و فارسی کا سہارا الگ کر دیا تو عربی کی اصطلاح سازی کی خداداد صلاحیت سے محروم ہو جانے والی اس ہندوستانی )کہ جس کو عربی رسم الخط میں عرصے تک لکھ کر اردو کہا جاتا رہا) کے پاس نئی اصطلاحات کے لئے انگریزی کے سامنے دست دراز کرنے کے سواء کوئی چارہ باقی نہ رہا۔
بر صغیری مسئلہ
اس قطعے کا عنوان مسلم قوم کا مسئلہ بھی رکھا جاسکتا تھا لیکن چونکہ احاطہ مقصود ہے ان تمام اقوام کا جو کہ سائنس میں یوں چکر پھیری کھا رہی ہیں کہ جیسے لٹو۔ عرصے تک محکومی و لاچاری اور اقتصادی بدحالی نے ان کا وہ حال کیا ہے کہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا کہ سائنس کو کس طرح اپنایا جائے؟ ایک بات طے ہے کہ آپ اردو میں لاکھ لکھ لیں ، کامیابی نہیں ہوگی اگر اس میں شامل تمام الفاظ اس بر صغیری قوم کے لیئے قابل قبول نہ ہوئے کہ جو عربی رسم الخط سمجھ سکتی ہے (پنجابی ، پشتو ، سندھی اور بنگالی و حیدر آبادی وغیرہ وغیرہ)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اردو میں تمام علمی مواد بھر دیا جائے اور پھر نہ پنجابی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ، بلوچی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ؟ اور اس قسم سے اصطلاحاتی ٹکڑوں میں منتشر ہونے کے بعد آپس کی سائنسی تحقیق میں کوئی مشترکہ کاوش ممکن ہوگی ؟ کیا اس سے قسم کی اردو محبت سے خود اردو کو کوئی فائدہ ہوگا جو دیگر علاقائی زبانوں کے لیئے کوئی رہنمائی نہ کرسکتی ہو؟ کیا صرف اردو بولنے والوں کی ترقی سے پورے علاقے میں ترقی کی آسکتی ہے؟
سائنسی تحقیق میں اشتراک و یکسانیت
ہندی میں آج جو مسائل ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ ان کو یہ درپیش ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر ہندی کو ایک بہت ہی بڑی زبان کے طور پر دکھانے کی جو فریب النظری دی گئی وہ آج نہ صرف ہندی زبان کی ترقی بلکہ ان تمام اقوام کو سائنسی اصطلاحات پر متفق ہونے کے قابل نہ کرسکنے کی وجہ سے کہ جن کی الگ الگ زبانوں کو تقسیم ہند پر پر فریب انداز میں ( زبردستی ملا کر ) ہندی کا نام دے دیا گیا تھا ، ان کی سائنسی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے اور ان کو انگریزی کے سوا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جو مشترکہ عربی رسم الخط (یا الگ رسم الخط مگر عربی الفاظ) استمعال کرتے ہیں ؛ جیسے سندھی ، پنجابی ، فارسی ، پشتو ، اردو ، بلوچی ، عربی اور بنگالی وغیرہ۔ اگر ان سب میں الگ الگ سائنسی اصطلاحات بنائی جانے لگیں تو وہ حال ہوگا کہ دماغ کی دہی بن جائے! نہ وہ سائنسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے آپس میں رابطہ کر سکیں گے اور نہ ہی سندھ کے علاقے میں کیا جانے والا کوئی سائنسی تحقیقی کام پنجاب کے علاقے والوں کے کسی کام کا ہوگا ، نہ اردو والے کی تحقیق سے بلوچی استفادہ کرسکے گا نہ پنجاب کی تحقیق سے پشتو والا کوئی استفادہ اٹھا سکے گا۔ کیا اس قسم کی محدود (ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں میں رنگ برنگی اور ایک دوسرے سے الگ الگ) اصطلاح سازی کا واقعی کوئی فائدہ ہوگا ؟ یہ تمام کام تو ان علاقے والوں کی محنت کو کوئی مشترکہ سمت دینے کے بجائے ان کے مابین علمی اور تحقیقی روابط کو توڑنے کا باعث بنے گا۔
کیا یہ اردو سے نفرت ہے؟
اگر اصطلاحات سازی کا کام کرنا ہی ہے اور علمی مواد کو برصغیر کے ان تمام افراد تک پہنچانا ہی ہے کہ جو عربی رسم الخط پڑھ سکتے ہیں تو کیوں نہ ایسی صورت میں پہنچایا جائے کہ جس کو وہ بعد میں یکسانیت کے ساتھ اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں بخوشی منتقل کرنے پر متفق ہوں؟ اس میں کیا برائی ہے؟ کیا اردو میں پیش کیے جانے والے اس کام کو اس طرح پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرنا کہ یہ کام اردو میں ہی نا ٹھیر جائے بلکہ پورے علاقے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں میں یہ ترقی اور تحقیق کی لہر شروع کر سکے ، اردو سے نفرت کے زمرے میں آئے گا ؟ سائنسی ترقی جس زبان میں بھی ہوئی ہے وہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان معاشروں کو رنگ برنگے زبانوں والے معاشرے سے واسطہ نہیں رہا اور ان میں لسانی یکسانیت موجود تھی جیسے جاپانی ، انگریزی ، جرمنی وغیرہ (واضح رہے کہ اس جملے سے مراد اسی زبان میں سائنسی اصطلاحات سے ہے)۔ یہاں تو ہندی کی چھتری کے نیچے رہنے والے آپس میں عام لہجوں پر ہی متفق نہیں ہو پاتے ، یہاں تو ایک عربی رسم الخط استعمال کرنے والے آپس میں ایسے الفاظ پر بھی متفق نہیں ہوتے جن پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ کیا وکیپیڈیا پر سائنسی مواد کو اردو میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی منصوبہ بندی کا خیال رکھنا کہ یہ مواد علاقے کی دیگر زبانیں بھی بلا تعصب قبول کر لیں ، اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ٹھہرایا جائے گا ؟ یہ تو اردو سے حقیقی محبت کے مترادف ہے کہ جس کے ذریعے اردو سے دیگر علاقائی زبانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
مستقبلیات اور حیثیت میں اضافہ
کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اردو وکیپیڈیا پر اس قدر محنت کر کے علمی مواد پیش ہی کیا جائے تو ایسے پیش کیا جائے کہ اس چراغ سے چراغ جلتے جائیں اور اس قسم کا رجحان علاقائی زبانوں میں بھی پیدا ہو جائے؟ تو کیا اس کے لئے عربی رسم الخط استعمال کرنے والی زبانوں کے لئے اصطلاحات کے انتخاب کی خاطر عربی کا استعمال ممکنہ حد تک یکساں قبولیت کا زیادہ امکان نہیں رکھتا ؟ کیا ایسا کرنا اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ہے ؟ اگر اتنے بڑے علاقے کے افراد کم از کم اصطلاحات کو ہی مشترکہ طور پر اختیار لیں گے تو اس سے مستقبل میں تحقیق کے اجتماعی فوائد آنے کا امکان زیادہ نہیں ؟ کیا اس طرح اردو سے بہت زیادہ ترقی یافتہ عرب زبان اور اقوام کی ترقی سے براہ راست فائدہ اٹھاتے رہنے کا امکان زیادہ نہیں ہوگا ؟ جب ہر اردو لغت عربی کے الفاظ سے بھری ہوئی ہے تو پھر ہر عربی لغت سے کوئی بھی لفظ اردو میں لکھا جاسکتا ہے اور اسے اردو ہی کہا جائے گا۔ اور جب اس قدر محنت سے اردو میں ہی علم پیش کرنا ہو تو پھر اسے ایسے پیش کیا جانا بہتر نہیں کہ اس کا فائدہ صرف اردو تک محدود نہ رہے بلکہ اردو کے انداز میں لکھی جانے والی ہر علاقائی زبان اس کو ایک غیرجانبدار اصطلاح کی حیثیت سے اختیار کرنے پر رضامند ہو ، یا کم از کم ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ کیا یہ اردو کی جانب سے دوسری زبانوں کے لیئے خدمت نہیں ہوگی ؟ کیا اس سے اردو کی حیثیت میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اردو میں تمام لسانی طبقات کو ترقی اور تحقیق کے لئے مشترکہ سائنسی رابطہ فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔
تحقیق نو کا رونا
ایک رجحان اس وکیپیڈیا پر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جسے ہر کوئی اسی سوٹی کی مانند استعمال کرتا ہے کہ جیسے انگریز نے حاکم قوم سے حکومت چھیننے کے بعد اسی کی زبان اردو کی سوٹی سے اس کو مارا اور مار مار کر تتر بتر کیا اور یوں تتر بتر کیا کہ تتر بتر ہونے والے جھک جھک کر آج بھی تتر بتر کرنے والوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے دانشور اور اردو دان انگریز کے اس منصوبے کو انگریز کا احسان قرار دیتے ہیں اور فورٹ ولیم کالج کی عمارت کے بوجھ سے آج بھی ان اردو دانوں کی ہڈیاں چرخ چوں کرتی رہتی ہیں۔ یہ فورٹ ولیم کالج ہی کا عظیم کارنامہ تھا کہ جس نے ہزاروں سال سے ساتھ چلی آنے والی قوموں میں (صدیوں قبل ناپید ہو جانے والی سنسکرت کو دوبارہ تخلیق کر کے) سنسکرت اور عربی رسم الخط کا نفاق پیدا کیا اور وہ کیفیت پیدا کی کہ فارسی اور عربی سے منقطع ہونے کا مسلمانوں کو احساس تک نہ ہونے دیا[11] [12]۔ بالکل ایسے ہی یہ معترضینِ تحقیقِ نو بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پیدا کر رہے ہیں کہ تخلیقی کاموں میں رکاوٹ کے لئے ہر جگہ ناجائز طور پر اس حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ وکیپیڈیا کے بارے میں اس تحقیق نو کے ابہام کے سوا ایک اور ابہام یہ بھی دور ہونا چاہیے کہ وکیپیڈیا کا مقصد اس زبان میں لکھنا ہے کہ جس زبان میں وہ وکیپیڈیا ہو اور اگر اس زبان میں ثنائیِ لسان (diglossia) کی کیفیت پائی جاتی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ پھر تو منطقی بات ہے کہ اس انداز کو چنا جائے گا جو کہ کتب اور لغات میں دستیاب ہے نہ کہ اس diglossia کے اس انداز کو چن لیا جائے کہ جو شرح خواندگی میں کمی کے سبب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی کثرت کے سبب ، زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں۔ تحقیق نو کے بارے میں چند محفوظات کا خیال یہاں متعدد صفحات پر دیگر منتظمین بھی کر چکے ہیں (ایک مثال اسی صفحے کے تبادلۂ خیال پر دیکھی جاسکتی ہے)۔
تحقیق نو سے مراد اصل میں کوئی خود تحقیقی بیان یا نظریہ پیش کرنے کے ہوتے ہیں
تحقیق نو ، لغات سے نئے الفاظ لکھنے کو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کسی بھی تحریر میں ضرورت پڑے تو ظاہر ہے کہ نئے الفاظ لغات سے ہی لیئے جائیں گے
اگر کسی بیان یا نظریے کا حوالہ درج ہے تو وہ بات خواہ کسی بھی لب و لہجے میں لکھی گئی ہو تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آسکتی (جیسے یہ صفحہ)
اردو کی ہر لغت عربی اور فارسی الفاظ سے بھری ہوئی ہے اور وہ تمام الفاظ درج کرنا تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آتا
ہر عربی اور فارسی لغت کا کوئی بھی لفظ درج کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی وضاحت اور اس کا ماخذ بھی بیان کر دیا گیا ہو اور اسے اردو لفظ ہی کہا جائے گا نہ کہ تحقیق نو کہا جائے
[1] اخبار ہندو پر
حیدر علی کا تذکرہ اور عبد الکلام سے متعلق موقع پر
ٹیپوسلطان کا تذکرہ
[2] عہد مغلیہ میں ہندوستانی لسانیات کا ایک بیان
[3] اردو زبان کے 900 سال قبل آغاز کا بیان
[4] ہندوستان میں سائنسی سرگرمیوں کی تاریخ
[5] Religious Controversy in British India by Kenneth W. Jones, p124, ISBN 0791408272 Google book
[6] Abu al-Hasan Yaghma Jandaqi, Kulliyat-i Yaghma Jandaqi (Tihran: Ibn Sina), p. 49; Aryanpur, Az Saba ta Nima, p. 114
[7] The Constitutionalist Language And Imaginary. Mohamad Tavakoli
[8] Is Arabic the language of science and modernity? روئے خط مضمون
[9] قواعد اردو ؛ مولوی عبد الحق : الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ
[10] Hit it with a stick and it won’t die by Christopher Lee; Syracuse university روئے خط مضمون
[11] The Jewish conspiracy is British Imperialism by Henry Makow PhD روئے خط مضمون
[12] پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ڈان میں ایک مضمون روئے خط