تحاریر برائے ماہِ ستمبر ، ۲۰۰۹


بلاگ سالگرہ اور اردو بلاگستان سے اپیل

20 ستمبر 2009ء کو ہمارے بلاگ کی دوسری سالگرہ تھی۔ رمضان کے آخری ایام اور عید کی تعطیلات کے باعث یہ موقع خاموشی کے ساتھ گزر گیا۔
20 ستمبر 2007ء کو جب بلاگنگ کا آغاز کیا تھا تو ذہن کے کسی نہاں گوشے میں بھی اسے مستقلاً جاری رکھنے کا خیال نہ تھا بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ مکمل خالی الذہنی کے ساتھ بلاگنگ کے میدان میں قدم رکھا، گو کہ بلاگنگ آج بھی الل ٹپ ہی جا رہی ہے لیکن یہ تبصرہ نگاروں کی ذرہ نوازی ہے کہ وہ تحاریر کو پسند کرتے ہیں، انہیں تبصروں سے نوازتے ہیں اور مزید لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ میں اس موقع پر تمام تبصرہ نگاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس موقع پر میں تمام بلاگرز سے ایک گزارش ہے۔ اردو بلاگستان میں بیشتر ساتھی ورڈپریس پر بلاگنگ کرتے ہیں اور تقریباً تمام بلاگرز ہی تھیمز تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ میں صرف اتنی درخواست کروں گا کہ اپنی وہ تھیمز جو آپ استعمال کر چکے ہیں، ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کریں تاکہ وہ اردو بلاگنگ کی دنیا میں نئے آنے والے افراد کے کام آ سکیں۔

اس مقصد کے لیے میرے خیال میں منظر نامہ ایک بہت اچھا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جہاں ہم تمام ورڈ پریس اردو تھیمز کو جمع کر سکتے ہیں۔ ماضی میں اپنے بلاگ کے لیے میں کئی ایک تھیمز پر ہاتھ صاف کیے تھے۔ ناتجربہ کاری کے باعث بہت ساری تھیمز ناقابل استعمال تھیں، جن پر میں نے اپنی بساط کے مطابق دوبارہ محنت کی ہے۔ ان تھیمز کی ٹیسٹنگ مکمل ہونے کے بعد میں انہیں چند ایک روز میں یہاں پیش کر دوں گا۔ اس وقت تک اس مطالبے پر ساتھیوں کی رائے بھی سامنے آ جائے گی۔

میرے خیال میں اگر میری اس اپیل پر 30 تھیمز بھی جمع ہو گئیں تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا اور ناچیز کے بلاگ کی سالگرہ بھی ایک انوکھے انداز میں ہو جائے گی۔
بلاگ اسپاٹ پر لکھنے والے ساتھیوں کی پیشگی معذرت قبول :)

Google Buzz

عظیم شاعر و پاکستان میں پہلے ترک سفیر – یحییٰ کمال بیاتلی

یحیی کمال بیاتلی

یحییٰ کمال بیاتلی ترکی زبان کے معروف شاعر، مصنف اور سیاست دان تھے۔ آپ 2 دسمبر 1884ء کو اسکوپے، سلطنت عثمانیہ (موجودہ مقدونیہ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام احمد آغا تھا لیکن آپ اس کے علاوہ آغا کمال، اسرار، محمد آغا اور سلیمان سعدی کے قلمی ناموں سے بھی لکھتے رہے ہیں۔

آپ کا تعلق عثمانی دربار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ دوران تعلیم آپ نے کچھ عرصہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی گزارا جہاں کئی معروف ترک دانشوروں، سیاست دانوں اور مصنفین سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے یورپ بھر میں سیاحت کی اور متعدد ثقافتوں کا جائزہ لیا۔ آپ فرانس کی رومانوی تحریک سے متاثر تھے۔ بعد ازاں آپ نے شاعری کرنے کا فیصلہ کیا۔

1912ء میں استنبول واپسی تک آپ ایک شاعر کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے اور حکومت کی تبدیلی نے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک آپ کی رسائی کو ممکن بنا دیا۔ آپ تکیر داغ اور استنبول کے صوبوں سے مجلس (پارلیمان) کے رکن بنے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد آپ کو نئی ریاست پاکستان کے لیے جمہوریہ ترکی کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا۔ لیکن اس عہدے پر مقرر ہونے کے بعدآپ کی طبیعت روز بروز ناساز ہوتی چلی گئی اور 1949ء میں آپ کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور آپ کو ترکی واپس آنا پڑا۔ آپ کے مرض کی درست شناخت نہ ہو سکی اور یوں آپ کی صحت دوبارہ کبھی درست طور پر بحال نہ ہو سکی اور بالآخر یکم نومبر 1958ء کو آپ استنبول میں انتقال کر گئے۔

یحییٰ کمال بیاتلی کے کلام میں جدید و قدیم کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ کو 20 ویں صدی میں ترکی کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض نقاد کو آپ کو فضولی کے بعد ترکی زبان کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔ (حوالہ: ترکی اور ترک، ثروت صولت، ص 352، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور)

شاعری:

*کندی گوک قبہ مز (Kendi Gök Kubbemiz) (ہمارا اپنا آسمان – 1961ء)
*اسکی شعرِن رُزگاریلہ (Eski Şiirin Rüzgârıyle) (قدیم شاعری کی ہواؤں کے ساتھ، 1962ء)
* رباعی لر و خیام رباعی لرنی ترکچہ سوئلیش (Rubailer ve Hayyam Rubailerini Türkçe Söyleyiş) (رباعیاں اور ترک زبان میں عمر خیام کی رباعیاں، 1963ء)
*بتمیشش شعرلر (Bitmemiş Şiirler) (نامکمل نظمیں، 1976ء)

مضامین، مقالے، یادداشتیں:

*عزیز استنبول (Aziz İstanbul) (پیارا استنبول، 1964ء)
*ایغل داغلر (Eğil Dağlar) (سجدہ کرو اے پہاڑو، قومی جنگ آزادی پر مضامین، 1966ء)
*سیاسی حکایلر (Siyasî Hikâyeler) (سیاسی کہانیاں، 1968ء)
*سیاسی و ادبی پورٹلر (Siyasî ve Edebî Portreler) (سیاسی و ادبی نمونے، 1968ء)
*ادبیاتہ دایر (Edebiyata Dair) (ادب پر، مضامین، 1971ء)
*چوجک لوغم گنج لغم، سیاسی و ادبی خاطر لرم (Çocukluğum, Gençliğim, Siyasî ve Edebî Hatıralarım) (میری بچپن، جوانی اور سیاسی و ادبی یادداشتیں، 1973ء)
*تاریخ محاسبہ لری (Tarih Muhasebeleri) (تاریخ کا محاسبہ، 1975ء)
*مکتوب لر- مقالہ لر (Mektuplar-Makaleler) (مکتوبات و مقالہ جات، 1977ء)

Google Buzz

غازیان کردار کی ضرورت

کوئی دعوت بھی اگر صرف لفظی دعوت ہو، اور اس کے ساتھ اخلاقی زور موجود نہ ہو تو وہ کیسی ہی زریں کیوں نہ ہو، اور تھوڑی دیر کے لئے دلوں پر کتنا ہی سحر کیوں نہ طاری کر لے، آخر کار دھویں کے مرغولوں کی طرح فضا میں تحلیل ہو جاتی ہے، تاریخ پر محض الفاظ سے کوئی اثر نہیں ڈالا جا سکا ہے، اور اکیلی زبان کبھی کوئی انقلاب نہیں اٹھا سکی ہے، الفاظ بھی جبھی موثر ہوتے ہیں جب کہ عمل کی لغت کی رو سے ان کے کوئی معنی ہوں، زبان کا جادو صابن کے سے خوشنما جھاگ اور بلبلے تو پیدا کر سکتا ہے، مگر یہ بلبلے کسی ایک ذرہ خاک کو اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے، اور ساتھ کے ساتھ مٹتے چلے جاتے ہیں، دلیل جب کردار کے بغیر آئے، اپیل جب اخلاص سے خالی ہو، اور تنقید جب اخلاقی لحاظ سے کھوکھلی ہو تو انسانیت اس سے متاثر نہیں ہوا کرتی۔ کردار کی اخلاقی طاقت ہی کسی دعوت میں اثر بھرتی ہے۔ عمل کی شہادت کے بغیر زبان کی شہادت بے کار ہوتی ہے۔

نعیم صدیقی کی ‘‘محسن انسانیت’’سے اقتباس

Google Buzz

کافر کون

ملک کے داخلی و معاشی حالات انتہائی خراب ہونے کے باوجود آج کل ایک بحث بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ زی المعروف بلیک واٹر کے اہلکار ملک کے کئی علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن ہم ایسے گڑھے مردوں کو اکھاڑ رہے ہیں جنہیں ہم آج سے 35 سال قبل دفنا چکے تھے یعنی قادیانی مسئلہ۔ قادیانی عقائد کے مطالعے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلے انہوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دیا، مسلمانوں کی جانب سے انہیں کافر قرار دینے کا معاملہ تو دہائیوں کے بعد پیش آیا۔ سب سے پہلے تو تکفیر کی گنگا میں انہوں نے ہاتھ دھوئے۔ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی اپنی کتابوں میں یہ واضح کر دیا تھا کہ “مسیح موعود” کا انکاری کافر ہے

کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں (حوالہ: آئینۂ صداقت مصدفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، خلیفۂ قادیان، ص 35)

اس کے دیگر حوالوں سے قطع نظر معاملہ اگر قادیانیوں کو کافر قرار دینے پر ناراضگی کا ہے تو پہلا عتاب تو قادیانیوں پر نازل ہونا چاہیے۔ بہرحال یہ بہت زیادہ تفصیل طلب بحث ہے، جسے کسی اور وقت کے لیے چھوڑ رکھتے ہیں۔ فی الوقت صرف اتنا کہ قادیانی لٹریچر کے مطالعے سے اس امر میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں رہے گا کہ وہ ختم نبوت کے انکاری ہیں اور اس لیے مسلمان نہیں ہیں۔ موقع محل کے مطابق میں اپنے ایک بزرگ صحافی کا واقعہ بھی پیش کرنا چاہوں گا جس سے ایک پڑھے لکھے اور زمانے کی سمجھ بوجھ رکھنے والے قادیانی کے ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔ محترم بزرگ انسانی حقوق کے بڑے ترجمان ہیں، ایک غیر سرکاری ادارے (این جی او) سے وابستہ ہیں۔ قوم پرست اور لبرل سیاست سے وابستہ رہے ہیں اور آزاد خیال و جدید سوچ رکھتے ہیں۔ اس لیے اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ ایک مشہور اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ محفل میں قادیانیوں کا ذکر چھڑا تو انہوں نے مجھے ایک واقعہ بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ربوہ گئے۔ وہاں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے “انسانی حقوق” کے جذبے سے مغلوب ہو کر ہمدردی کا اظہار کیا کہ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انہیں ہمہ وقت اپنی مذہبی شناخت کے باعث جان کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے، اس کے باوجود قادیانیوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جو بہت افسوسناک ہے۔ ان کی اس ہمدردانہ گفتگو کے بعد ربوہ کی بار کونسل کے صدر موصوف فوراً کہنے لگے تو آپ مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے؟ محترم پہلے تو ایک لمحے کو چونکے اور پھر پوچھا کہ کیا مطلب؟ مسلمان تو میں ہوں۔ تو ان وکیل صاحب نے کہا کہ نہیں میرا مطلب ہے آپ قادیانی کیوں نہ ہو جاتے کیونکہ حقیقی اسلام ہی یہی ہے ۔ جب آپ ہم سے اتنی ہمدردی رکھتے ہیں تو سب سے بہتر یہی ہے کہ آپ “مسلمان” ہو جائیں۔ یقین کریں میں نے زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ انہیں اپنے مذہب کے حوالے سے اتنا جذبات میں دیکھا۔ بہرحال یہ واقعہ بتانے کے بعد ان کا تبصرہ یہ تھا کہ”جاہل” مولویوں اور قادیانیوں میں کوئی فرق نہیں، جیسا سخت گیر موقف مولویوں کا ہے بالکل ویسی ہی حرکتیں قادیانیوں کی بھی ہیں (نوٹ: یہ ان بزرگ صحافی کا تبصرہ ہے، میرا نہیں)۔

قادیانیوں کی کچھ اعلیٰ ظرفیوں اور دل نشیں زبان کا مظاہرہ آپ یہاں اور یہاں تبصرہ جات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Google Buzz

عوام اور سیاست دانوں کے رویے میں تبدیلی کی ضرورت

پاکستان کی تاریخ کا بدترین لمحہ وہ تھا جب 1958ء میں فوجی جرنیل ایوب خان نے آئین کو معطل کرتے ہوئے پاکستان میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ان کے چند اقدامات نے ملک کی جڑوں میں ایسے ناسور پیدا کر دیے جس کی وجہ سے آج تک نہ جمہوریت پنپ سکی نہ ہی ملک اپنے قیام کے حقیقی ثمرات حاصل کر سکا۔ اس کی وجہ جہاں سیاست دانوں کا عدم اتحاد اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے لیے جی ایچ کیو کا رخ کرنا بھی ہے، وہیں عوام کا غیر جمہوری رویہ بھی ہے۔ جس کی مثال آجکل موجودہ حکومت کے خلاف ای میل، موبائل پیغامات اور ٹیلی وژن چینلوں پر خبروں کی صورت میں خواہشات پیش کرنا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ دور حکومت میں بھی جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔

ہماری ملکی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس میں زیادہ تر فوجی آمروں نے حکومت کی ہے جن میں ایوب خان 1958ء سے 1969ء تک، یحییٰ خان 1969ء سے 1971ء تک، ضیاء الحق 1977ء سے 1988ء تک اور پرویز مشرف 1999ء سے 2008ء تک مسند اقتدار پر قابض رہے۔ ان تمام ادوار کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں ایک خاص ایجنڈے کے تحت ملکی معاملات چلائے گئے۔ ایوب خان کے دور میں گو معاشی سطح پر پاکستان کو بہت استحکام دیا گیا لیکن سیاسی طور پر اس کے نظام میں وہ خامیاں پیدا ہوئیں جس کا پھل ہم آج تک کھا رہے ہیں۔ خصوصاً دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ ایسا تھا جس کے باعث آج تک ہماری پارلیمان جی ایچ کیو کی گود میں بیٹھنے پر مجبور ہے۔ اس فیصلے سے جہاں ملکی سیاست کو زبردست کو نقصان پہنچایا وہیں جمہوریت پسند اور ملک کی اکثریتی بنگالی آبادی پر یہ واضح کر دیا کہ یہاں اکثریت کا نہیں بلکہ طاقت کا حکم چلے گا اور یقیناً یہی فیصلہ تھا جس نے سقوط مشرقی پاکستان کی راہ ہموار کی۔ اور بالآخر یحییٰ خان کے مختصر و پر آشوب دور میں ہم مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ضیاء الحق نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور ان کے 90 دن مرنے تک مکمل نہ ہوئے۔ اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کو “اسلامی” رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں افغانستان سے کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر وارد ہوا۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کو آمریت کے خلاف قوت پکڑنے سے روکنے کے لیے قوم پرستی کی سیاست کو تقویت دی گئی نتیجتاً فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات کو ہوا ملی خصوصاً اہم صنعتی شہر کراچی اس کا بدترین نشانہ بنا۔

آمرانہ ادوار کے اس ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بحیثیت عوام ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی کوئی جمہوری حکومت ایسی نہیں جس نے ایک روز جمہوریہ بننے کا اعلان کیا اور اگلے دن جمہوریت کے فیوض و برکات آسمان سے نازل ہونے لگے، بلکہ انہوں نے اس جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔ جمہوریت کے حقیقی ثمرات سمیٹنے کے لیے ریاست  ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کیا وہاں پارٹیاں خاندانوں کی ملکیت نہیں؟ مثال کانگریس، نہرو سے سونیا تک، کیا وہاں بد عنوانی نہیں؟ ایک سے بڑھ کر ایک بد عنوان ہندوستانی تاریخ میں گزرا ہے، کیا وہاں غربت نہیں؟ دنیا میں سب سے زیادہ غریب وہیں پائے جاتے ہیں، کیا وہاں جہالت نہیں؟ اکیسویں صدی میں بھی ہندوستان کی شرح خواندگی اسے مہذب اقوام کی صف میں کھڑا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،کیا انہیں علیحدگی کی تحریکوں کا سامنا نہیں؟ کشمیر سے لے کر آسام اور ناگالینڈ تک درجنوں تحریکیں اس کے درپے آزار ہیں۔ ان کے اور ہمارے مسائل یکساں تھے اور ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آج ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہے ہیں جسے مستقبل کی عالمی قوت کہا جا رہا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے بہر صورت سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رکھا اور فوج کو تمام تر کارناموں کے باوجود اقتدار سے روکے رکھا۔ یہی واحد وجہ ہے جس نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اب بہت زیادہ فرق پیدا کر دیا ہے۔ تقریباً 80ء کی دہائی تک پاکستان اور ہندوستان تقریباً ہر درجہ بندی میں برابر ہی ہوتے تھے لیکن اب پاکستان دنیا کی ناکام ریاستوں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور ہندوستان مستقبل کی سپر پاور سمجھا جا رہا ہے۔

اس لیے بد ترین فیصلوں، ملکی سالمیت پر مجرمانہ خاموشی، معاشی دیوالیہ پن، بد عنوانی کی انتہا کے باوجود یہ موقع ہر گز نہیں کہ درون خانہ فوج کو ایک مرتبہ پھر اقتدار کی راہ دکھائی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر ملک کے سیاسی معاملات کو خود طے کریں، ورنہ آمریت کا شکنجہ ملک کو ایک مرتبہ پھر ویسے ہی جکڑ لے گا جیسا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کو جکڑا ہوا ہے۔

مغرب کی سب سے بڑی مکاری یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے تو آزادانہ جمہوریت کو پسند کیا اور مسلمانوں کے لیے آمریت کو تاکہ وہ “فتنۂ فردا” کو قابو میں کر سکے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو پیش آنے والے اگلے خطرے کو بڑھنے سے پہلے ہی ختم کر دے۔

Google Buzz

عظیم حادثہ یا اک منظم تخلیق کائنات

انسانی گروہوں کی رنگارنگی اور تمدنوں کے مدو جذر کا جائزہ لو۔ اپنے نفوس اذہان کی گہرائیوں میں جھانکو، تم دیکھو گے کہ ہر طرف اٹل قوانین کام کر رہے ہیں۔ ہر دائرہ وجود میں ایک نظم کی کار فرمائی ہے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے واقعات و حوادث کا رخ کسی غایت کی طرف ہے، گوناگوں اضداد باہم دگر تعاون کر رہے ہیں، پورے کارخانۂ ہستی میں ایک توافق کار فرما ہے، کثرت وحدت کے رشتے میں بندھی ہے، پھر ہر شے میں ارتقاء ہے ہر چیز بہتری کی طرف جا رہی ہے ہر علت کسی اہم نتیجے کو پیدا کر رہی ہے اور پھر ہر نتیجہ خود آگے کے لئے ایک علت بن رہا ہے، یہ قانون، یہ نظم، یہ توافق، یہ تعاون، یہ وحدت، یہ ارتقاء آپ سے آپ بطور ایک اتفاقی حادثے کے نمودار نہیں ہوا۔ چیزیں اپنے آپ کو خود تجویز نہیں کرتیں، اپنا نقشہ خود نہیں بناتیں۔

نعیم صدیقی کی محسن انسانیت سے اقتباس

Google Buzz

جہان تازہ، افکار تازہ

اردو وکیپیڈیا پر سرگرمیاں بدستور جاری ہیں اور مندرجہ ذیل وہ مضامین ہیں جو گزشتہ تحریر کے بعد اب تک “دریا میں ڈال” چکا ہوں۔ ان میں بیشتر مضامین ابتدائی صورت میں ہیں کیونکہ فی الوقت ابتدائیہ کی حد تک معلومات اردو میں منتقل کرنے کو ہدف بنا رکھا ہے اس کے بعد تفصیلات کو شامل کیا جاتا رہے گا۔ البتہ چند مضامین تفصیلی بھی ہیں۔
امید ہے کہ اردو میں نئی معلومات کے خواہاں افراد کے لیے دلچسپی کے حامل ہوں گے۔ ساتھ ساتھ “اصطلاحات سازی” پر معترض ساتھیوں کو بھی اندازء ہوگا کہ اصطلاحات سازی کے علاوہ اور بھی بہت کچھ اردو وکیپیڈیا پر ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ مندرجہ ذیل تمام تحاریر حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں۔

تاریخ

  • آہنی پردہ – سوویت اتحاد کے زیر نگیں ممالک کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح جسے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے استعمال کیا (انگریزی: Iron Curtain)
  • انقلاب اکتوبر – انقلاب روسکا دوسرا حصہ جس میں ولادیمیر لینن کی زیر قیادت بالشیوک انقلابی بر سر اقتدار آئے
  • انقلاب فروری – انقلاب روس کا پہلا حصہ جس میں زار نکولس دوئم کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا
  • برلن ناکہ بندی – دوسری جنگ عظیم کے بعد منقسم برلن کے مغربی حصے کی سوویت ناکہ بندی، سرد جنگ کا اہم واقعہ
  • پرتگیزی سلطنت – دنیا کی پہلی نو آبادیاتی سلطنت
  • ترک جنگ آزادی – پہلی جنگ عظیم کے بعد اتاترک کی زیر قیادت ملک کو اتحادیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی مہم،
  • جرمن اتحاد مکرر –مشرقی و مغربی جرمنی کا دوبارہ اتحاد، دیوار برلن کا انہدام، سرد جنگ کا خاتمہ (انگریزی: German Reunification)
  • سفید تحریک – انقلاب کے بعد  روس میں بالشیوک اقتدار کے خلاف ناکام تحریک
  • سلطنت روس – 18 ویں سے 20 صدی تک کا روس
  • سلطنت ہسپانیہ – عالمی تاریخ کی سب سے بڑی نو آبادیاتی ریاست
  • عرب بغاوت – پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ سے عربوں کی گئی بغاوت۔ نتیجتاً عرب علاقے عثمانیوں کے ہاتھوں سے نکل گئے  (انگریزی: Arab Revolt)
  • فرانسیسی استعماری سلطنت – نو آبادیاتی دور میں فرانس کے زیر نگیں علاقوں پر مشتمل سلطنت
  • کریمیائی تاتاریوں کی جبری ملک بدری – دوسری جنگ عظیم میں سوویت اتحاد کی جانب سے کریمیا کے مسلمانوں کی جبری ملک بدری
  • گولاگ – استالن دور میں سزا کے طور پر جبری مشقت کا نظام(انگریزی: Gulag)
  • مارشل منصوبہ – دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معاشی بحالی کے لیے پیش کیا گیا امریکی منصوبہ  (انگریزی: Marshal Plan)
  • مشرقی اتحاد – سرد جنگ کے دوران سوویت اتحاد کے زیر اثر یورپی ممالک کا اتحاد  (انگریزی: Eastern Bloc)
  • معرکۂ استالن گراد – دوسری جنگ عظیم کا اہم ترین معرکہ، نازی جرمنی کی شکست سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا
  • وارسا معاہدہ – سوویت اتحاد کے زیر اثر اشتراکی ممالک کے درمیان طے پانے والا دوستی کا معاہدہ  (انگریزی: Warsaw Pact)
  • ولندیزی سلطنت –ولندیزیوں کی نو آبادیاتی ریاست

شخصیات

بلاد و اماکن

  • افلاق –مشرقی یورپ کا تاریخی علاقہ، موجودہ رومانیہ میں شامل، (انگریزی: Wallachia)
  • سرائیوو ‏ -بوسنیا کا دارالحکومت
  • طرابلس –لیبیا کا دارالحکومت
  • طلیطلہ –ہسپانیہ کا تاریخی شہر
  • فلپائن‏ – مشرق بعید کا اہم ملک
  • مشرقی برلن – سرد جنگ کے دوران نقسم برلن کا مشرقی حصہ جو سوویت اتحاد کے زیر انتظام تھا
  • مشرقی جرمنی – سرد جنگ کے دوران منقسم جرمنی کا مشرقی حصہ جو سوویت اتحاد کے زیر انتظام تھا
  • مغربی برلن‏ – سرد جنگ کے دوران منقسم برلن کا مغربی حصہ جو اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس) کے زیر انتظام تھا
  • مغربی جرمنی – سرد جنگ کے دوران منقسم جرمنی کا مغربی حصہ جو اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس) کے زیر انتظام تھا
  • میدرد –ہسپانیہ کا موجودہ دارالحکومت

متفرق

  • اولمپک مقاطعے –مختلف مواقع پر مختلف ممالک کی جانب سے اولمپک کھیلوں کا مقاطعہ
  • کوجاتپہ مسجد –ترک دارالحکومت انقرہ کی ایک شاندار مسجد
  • اچ شریفلی مسجد –ترکی کے شہر ادرنہ کی ایک تاریخی مسجد
  • زرخیز ہلال – مشرق وسطیٰ کے ایک علاقے کے لیے استعمال ہونے والی ایک قدیم اصطلاح (انگریزی : Fertile Crescent)
Google Buzz

ہم مصطفوی ہیں

1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم موقع تھا جب اتحاد کی خواہش لیے دنیا بھر کے مسلم ممالک کے درمیان قربتوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ایک ترانہ پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پر نشر کیا جاتا تھا۔ یہ ترانہ مہدی ظہیر کی انوکھی آواز میں گایا گیا “ہم مصطفوی ہیں” تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ مہدی ظہیر کی زندگی کا یہ پہلا اور آخری گانا تھا۔ آپ ریڈیو پاکستان میں بطور میوزک ڈائریکٹر کام کرتے تھے۔ اس ترانے نے انہیں لازوال حیثیت دے دی۔ شاعری شاید جمیل الدین عالی صاحب کی ہے (تصدیق درکار ہے)۔
آجکل عرصہ بعد یہ ترانہ ایک مرتبہ پھر ٹیلی وژن اسکرینوں کی زینت بنا ہوا۔ دودھ اور اس سے تیار کی گئی اشیاء بنانے والی کمپنی “اینگرو فوڈز” نے “اولپرز دودھ” کے لیے رمضان المبارک میں ایک شاندار اشتہار بنانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ “ہم مصطفوی ہیں” کو استعمال کیا ہے۔ اشتہار میں یہ ترانہ معروف گلوکار عاطف اسلم اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نو مسلم گلوکار داؤد وارنسبائی علی (Dawud Wharnsby Ali) نے گایا ہے جبکہ یہ پاکستان، انڈونیشیا، برونائی اور مراکش میں فلمایا گیا ہے۔ اس میں دنیائے اسلام کی تین مشہور مساجد بادشاہی مسجد، لاہور پاکستان؛ سلطان عمر علی سیف الدین مسجد، بندر سری بیگوان، برونائی دارالسلام؛ اور مسجد حسن ثانی، دار البیضاء (کیسابلانکا)، مراکش کے خوبصورت مناظر بھی پیش کی گئے ہیں۔
ذیل میں اس ترانے کی شاعری اور اشتہار کی وڈیو پیش کی جا رہی ہے۔ شاعری میں کسی غلطی کی نشاندہی اور شاعر کی تصدیق کرنے والے کا بے حد مشکور و ممنون ہوں گا۔

ہم مصطفوی ہیں (ترانۂ ملت)

ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں
ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں

دین ہمارا دین مکمل استعمار ہے باطل ارذل
خیر ہے جدوجہدِ مسلسل
عند اللہ (4 مرتبہ)
اللہ اکبر (4 مرتبہ)

سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ یہ وحدت فرقانی
روحِ اخوت، مظہرِ قوت، مرحمتِ رحمانی
سب کی زبان پر سب کے دلوں میں اک نعرۂ قرآنی
اللہ اکبر (4 مرتبہ)

امن کی دعوت کل عالم میں، مسلک عام ہمارا
دادِ شجاعت دورِ ستم میں یہ بھی کام ہمارا
حق آئے باطل مٹ جائے یہ پیغام ہمارا
اللہ اکبر (4 مرتبہ)

Google Buzz

ترکی کا اقبال – محمد عاکف

محمد عاکفمحمد عاکف ارصوی (ترکی زبان: Mehmet Akif Ersoy) ترکی کے معروف شاعر، ادیب، دانشور، رکن پارلیمان اور ترکی کے قومی ترانے “استقلال مارشی” کے خالق تھے۔ اپنے وقت کے بہترین دانشوروں میں شمار کیے جانے والے ارصوی ترکی زبان پر اپنے عبور اور حب الوطنی اور ترک جنگ آزادی میں مدد کے باعث بھی شہرت رکھتے ہیں۔

ان کا تخلیق کردہ ترانہ ترکی کے ہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کی دیوار پر، ترکی کے قومی پرچم، بابائے قوم مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصویر اور نوجوانوں سے کی گئی ایک تقریر کے متن کے ساتھ، آویزاں کیا جاتا ہے۔

بردور میں ان کے نام سے ایک جامعہ بھی قائم ہے۔ ارصوی کی تصویر اور قومی ترانہ 1983ء سے 1989ء تک 100 ترک لیرا کے بینک نوٹ پر موجود رہی۔

سوانح حیات

محمد عاکف 1873ء میں سلطنت عثمانیہ کے شہر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا گھرانہ انتہائی مذہبی تھا اور آپ کے والد طاہر آفندی ایک مدرسے میں مدرس تھے۔ انہوں نے آپ کا نام محمد رغیف رکھا تھا۔ یہ عربی نام کیونکہ ترکی میں زیادہ معروف نہ تھا اس لیے وہ محمد عاکف کہلائے لیکن والد تمام عمر ان کو رغیف ہی پکارتے تھے۔ والد کی وفات اور آگ لگنے سے گھر کی تباہی کے باعث آپ کو تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا اور ملازمت کرنا پڑی۔ لیکن وہ اپنے پیشہ ورانہ دور کا آغاز جلد از جلد کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے ملکیہ بیطار مکتبی (علاجِ مویشیاں کی درس گاہ) میں داخلہ لیا اور 1893ء میں اعزازی سند کے ساتھ فارغ ہوئے۔

اسی سال محمد عاکف نے سرکاری ملازمت حاصل کی اور اناطولیہ میں مختلف مقامات پر متعدی امراض پر تحقیق کیں۔ اپنے مذہبی پس منظر کے باعث وہ مسلمانوں کے زوال پر بہت پریشان تھے اس لیے انہوں نے اس عرصے کے دوران مختلف مساجد میں خطبے بھی دیے اور منبر کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ہم عصر ادیبوں رضا زادہ محمود اکرم، عبد الحق حامد اور جناب شہاب الدین کے ہمراہ انہوں نے مدافعِ ملیِ حیاتی کے جریدے سبیل الرشاد میں کام کیا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی شاعری اور مضامین صراط مستقیم نامی جریدے میں بھی شایع ہوتے تھے۔

سلطنت عثمانیہ کے اختتامی دور میں محمد عاکف ایک محب وطن ادیب کی حیثیت سے ابھرے۔ انہوں نے ترکی کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ لیا اور اناطولیہ بھر کی مساجد میں خطبوں کے ذریعے عوام میں جذبہ حب الوطنی اجاگر کیا۔ 19 نومبر 1920ء کو کستامونو کی نصر اللہ مسجد میں دیے گئے مشہور خطبے میں انہوں نے معاہدہ سیورے کی مذمت کی اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ایمان و اسلحے کے ذریعے مغربی نو آبادیاتی قوتوں کا مقابلہ کریں۔ جب یہ تقریر سبیل الرشاد میں شایع ہوئی تو ملک بھر میں پھیل گئی اور بعد ازاں اسے پمفلٹ کے ذریعے ترک فوجیوں میں بھی تقسیم کیا گیا۔

قومی ترانہ

ترک جنگ آزادی کے دوران آپ کی لکھی گئی ایک نظم “استقلال مارشی” نے بہت شہرت حاصل کی اور بعد از قیام جمہوریہ اسے ترکی کا قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ قومی ترانے کے خالق کی حیثیت سے ترکی میں انہیں لا فانی حیثیت حاصل ہو گئی۔ استقلال مارشی کو 12 مارچ 1921ء کو مجلس کبیر ملی کے اجلاس کے دوران قومی ترانے کی حیثیت دی گئی۔

یہ ترانہ اور محمد عاکف کی تصویر 1983ء سے 1989ء تک رائج 100 ترک لیرا کے بینک نوٹ پر بھی موجود رہی۔ ترانہ سرکاری و عسکری تقاریب، قومی نمائشوں، کھیلوں کے مواقع اور اسکولوں میں پڑھا جاتا ہے جہاں 10 بندوں پر مشتمل اس ترانے کے اولین دو بند ہی گائے جاتے ہیں۔

خود ساختہ جلا وطنی و انتقال

ترکی میں قیام جمہوریت کے بعد اتاترک کی لادینی پالیسیوں کے باعث 1925ء میں وہ دل شکستہ ہو کر ترکی چھوڑ گئے اور مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکونت اختیار کر لی جہاں ان کا قیام 11 سال رہا۔ لبنان کے ایک دورے میں انہیں ملیریا نے جکڑ لیا اور وہ 1936ء میں اپنی وفات سے محض 6 ماہ قبل استنبول واپس آئے۔ ان کی صحت بہت بگڑ چکی تھی، اس لیے وہ جانبر نہ ہو سکے اور بالآخر 27 دسمبر 1936ء کو انتقال کر گئے۔

انہیں شہر کے ادرنہ کاپی قبرستانِ شہداء میں سپرد خاک کیا گیا۔ شدید سردی اور برف باری کے باوجود لاکھوں افراد نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ وہ جمہوریہ ترکی کی تاریخ کی پہلی شخصیت تھے جن کی آخری رسومات کے موقع پر قومی ترانہ بجایا گیا۔

ادبی کارنامے

محمد عاکف روایتی مشرقی علوم میں زبردست مہارت رکھتے تھے۔ بچپن میں انہوں نے والد سے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے سرکاری ملازمت کے ایام میں دوستوں کے مشورے پر فرانسیسی زبان بھی سیکھی۔

ان کا سب سے مشہور ادبی کام “صفحات” ہے جو ان کی 44 نظموں پر مشتمل مجموعہ کلام ہے۔ ان کے مجموعہ کلام میں لافانی حیثیت “استقلال مارشی” کو حاصل ہے گو کہ یہ ترانہ ان کی زندگی میں “صفحات” کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا کیونکہ بقول محمد عاکف “یہ ترانہ قوم کی ملکیت ہے، اس لیے میں اسے اپنے مجموعہ کلام میں شامل نہیں کروں گا۔” تاہم ان کے انتقال کے بعد چھپنے والے مجموعوں میں استقلال مارشی کو بھی شامل کر دیا گیا۔ ترکوں کی بڑی اکثریت انہیں قومی شاعر تسلیم کرتی ہے لیکن ان کے اسلامی پس منظر اور مذہب سے والہانہ لگاؤ کے باعث انہیں سرکاری سطح پر قومی شاعر نہیں مانا جاتا۔ ان کی کتاب “صفحات” بھی حال ہی میں قبولیت عام حاصل کر پائی ہے ورنہ پہلے اسے بھی بڑے پیمانے پر شایع و فروخت نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ برسر اقتدار لا دینی عناصر کے نظریات سے متصادم تھی۔

ان کے اہم ادبی شہ پاروں میں سلیمانیہ کورسو سوندہ (سلیمانیہ کے منبر پر، 1912ء)، حقن سیس لری (صدائے حق، 1913ء)، فاتح کورسوسوندہ (فاتح کے منبر پر، 1914ء) خاطرہ لر (یادداشتیں، 1917ء)، عاصم (1924ء)، گولگہ لر (سائے، 1933ء) کستامونو نصر اللہ کورسوسوندہ (کستامونو نصر اللہ کے منبر پر، 1921ء)، قرآن دن آیت و حدیث لر (آیات و احادیث از قرآن، 1944ء) شامل ہیں۔

خاطر لر میں ان کی اہم نظم “صحرائے نجد سے مدینہ تک” شامل ہے۔ اس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ “اسلامی ادبیات میں اس نظم سے زیادہ شاید ہی کوئی اور نظم مذہب اور رسول مقبولؐ سے عقیدت پیدا کرنے والی ہوگی۔ [1]

ترکی میں قوم پرستی کی بڑھتی ہوئی لہر کے باعث عاکف کی آواز پر بہت زیادہ کان نہیں دھرا گیا اور رہی سہی کسر ترکی میں رسم الخط کی تبدیلی نے پوری کر دی لیکن 1944ء میں جب ان کے داماد عمر رضا طغرل نے “صفحات” کو لاطینی رسم الخط کی جدید ترکی میں شایع کیا تو وہ مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

کلام عاکف سے چند اقتباسات

  • “اگر کسی دن مذہب (اسلام) کا منبع خشک ہو جائے تو نہ احساس باقی رہے گا اور نہ ہی زندگی باقی رہے گی۔ جماعت کی بقا کا انحصار دین کی بقا پر ہے۔”
  • “یا تو ہم قرآن کو کھولتے ہیں اور اس کے اوراق پر نظر ڈالتے ہیں یا اُسے پڑھ کر مردوں کو بخش دیتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ قرآن نہ ہی قبرستان میں تلاوت کرنے کی غرض سے اور نہ فال بینی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔”
  • “صرف دین اسلام، دین شجاعت اور دین عزت ہے۔ حقیقی اسلام بہادری کی سب سے بڑی داستان ہے۔”
  • “فضائل اخلاق سے ہمارے پاس کیا ہے؟ رزائل اخلاق سے ہمارے پاس کیا ہے کم ہے؟ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ حسن اخلاق کا عظیم ترین حامی ایمان ہی ہے۔”
  • “قومی اخلاق کو بچوں کا کھیل نہ سمجھو کیونکہ یہی قوم کی روح ہے۔ اخلاق کا افلاس بڑی بھیانک موت ہے اور یہ دراصل موت کلی ہے۔”

حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انسانیت کی جو خدمت کی عاکف نے اپنی مشہور نظم “ایک رات” میں اس کا اس طرح تذکرہ کیا ہے:

  • “وہ کمزور جس کے تمام حقوق پامال ہی ہونے کے لیے تھے زندہ ہو گیا۔ رستم جس کے زوال کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا ، اپنی موت آپ مر گیا۔ ہاں آپ کی شرح مبین اہل عالم کے لیے ایک رحمت تھی جس نے ہر داد خواہ کے گھر پر اپنے بازوؤں سے سایہ کیا۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہے سب ان ہی کی دہش ہے۔ تمام اہل جہاں ان کے مرہون منت ہیں۔ تمام دنیائے انسانیت اس معصوم کی مقروض ہے۔ الٰہی! قیامت کے دن مجھے اسی اقرار کے ساتھ اٹھائیو۔”

اپنی ایک نظم “اذانیں” میں اذان کے بارے میں عاکف کہتے ہیں

  • “یہ اللہ کی آواز ہے جو آسمانوں کو معمور کر دیتی ہے۔ کیا اس آواز کے لیے یہ کوئی بڑی بات ہے کہ یہ ساری دنیا کو ہلا دے۔”

سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کے خواہشمند البانوی اور عرب قوم پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے کہا

  • “علیحدگی کا خیال تمہارے دلوں میں کیسے پیدا ہوا؟ کیا نظریہ قومیت کو شیطان نے تمہارے دلوں میں ڈال دیا ہے۔ ان تمام اقوام کو ایک ہی ملت کے جھنڈے کے نیچے اکٹھا کرنے والے اسلام کو جڑ بنیاد سے تباہ وہ برباد کرنے والا زلزلہ قومیت ہے۔ اس حقیقت کو ایک لحظہ بھی بھول جانے کا نتیجہ ابدی محرومی ہے۔ عربیت اور البانی تعصب کے ساتھ یہ ملت آگے نہیں بڑھ سکتی۔”

ایک اور نظم میں کہتے ہیں:

  • “ارے تجھے معلوم نہیں کہ تیری قومیت اسلام ہے۔ یہ قومیت کیا ہے؟ تو اپنی ملت سے کٹ کر استحکام و مضبوطی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے؟ کیا عرب کو ترک پر، لاز کو چرکس یا کرد پر اور ایرانی کو چینی پر کوی ترجیح دی گئی ہے؟ کیا اتحاد اسلامی میں جداگانہ عناصر کا جواز ہے؟ ہر گز نہیں پیغمبر اسلاام تصور قومیت پر لعنت بھیجے تھے۔” [2]

عاکف اور اقبال

اگر فکری ہم آہنگی اور نظریاتی مماثلت و مشابہت کو دیکھا جائے تو اقبال اور عاکف کے کلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اسلامی دنیا کا کوئی شاعر اقبال سے اتنی فکر قربت نہیں رکھتا۔ [3]

ترکی اور پاکستان میں ایک دوسرے کے ممالک کے جن دو شعراء کا زیادہ ذکر کیا جاتا ہے اور جن کا حوالہ بھی دونوں ممالک میں شایع ہونے والے جرائد و رسائل میں دیا جاتا ہے وہ جلال الدین رومی (مولانائے روم) اور علامہ محمد اقبال ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مولانائے روم کو پیر رومی قرار دیا ہے اور خود کو مرید ہندی تاہم کلام اقبال اور کلام عاکف کا مطالعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ترکی اور اردو شاعری میں جن دو اسلامی شاعروں کے کلام میں حد درجہ مشابہت پائی جاتی ہے وہ عاکف اور اقبال ہی ہیں۔

عاکف اقبال ہی کی طرح عظیم محب وطن تھے لیکن وہ بھی مغربی قومیت کے سیاسی نظریہ کے خلاف تھے اور اتحاد اسلامی کے علمبردار تھے۔ اقبال وطنیت کو مذہب کا کفن سمجھتے تھے اور عاکف وطنیت کو شیطانی تصور خیا ل کرتے تھے۔ جس کا ہلکا سا اظہار بالا میں قومیت کے حوال سے ان کے خیالات سے ہوتا ہے۔

اسلامی دنیا کی زبوں حالی کا جو نقشہ اقبال نے کھینچا تھا بالکل اسی طرح عاکف نے بھی عالم اسلام کے مصائب اور اس کی زبوں حالی کی منظر کشی کی ہے۔

آنحضورؐ سے محبت کلام اقبال کی نمایاں حصوصیت ہے عاکف کے کلام میں بھی یہی خصوصیت نمایاں ہے۔ ان کی کتاب “خاطرہ لر” کی نظم “صحرائے نجد سے مدینہ تک” نبی مہربانؐ سے ان کی محبت کی عکاس ہے۔

علاوہ ازیں ملائیت، پردہ، جدیدت ادب اور استبداد وغیرہ پر بھی دونوں شعراء یکساں سوچ کے مالک ہیں۔ [4]

عاکف نے علامہ اقبال کے فارسی کلام کا مطالعہ کیا اور عربی کے معروف مترجم و شارح عبد الوہاب عزام بے کو کلام اقبال سے متعارف کروایا۔ عبد الوہاب عزام کہتے ہیں کہ:

“اقبال کے بارے میں میری منتشر معلومات میں اس وقت تک اضافہ نہیں ہوا جب تک کہ میری ملاقات میرے شاعر دوست محمد عاکف مرحوم سے نہ ہوئی۔ وہ میرے دوست، رفیق اور مونس تھے اور ہماری رہائش گاہ حلوان کے علاوہ جامعہ قاہرہ میں بھی میرے ساتھی تھے۔ ایک روز انہوں نے مجھے اقبال کا ایک دیوان پیام مشرق دکھایا۔ میں نے اس سے قبل اقبال کا کوئی شعر، نہ کم نہ زیادہ، نہ پڑھا تھا اور نہ سنا تھا۔

محمد عاکف نے بتایا کہ ایک دوست نے جو ان دنوں غالباً افغانستان کے سفیر تھے یہ کتاب مجھے بھیجی ہے۔ ہم دونوں نے اس دیوان کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے اشعار اور افکار ہم کو بہت ہی پسند آئے۔ ہم اس گلشن میں گھومتے رہے تھے جو روح اور نگاہوں کو بار بار اپنی چمک اور پھولوں کی طرف متوجہ کرتا تھا اور جو رنگ رنگ کے پھولوں، طرح طرح کے نمونوں، رونق اور خوبصورتی کا سنگم تھا۔

اب میں نے اقبال کو براہ راست ان کے کلام کے ذریعے پہنچانالیکن یہ علم صرف ایسا تھا جیسا کسی بھی ایسے شخص کا ہو سکتا ہے جس نے بہت تھوڑا سا پڑھا ہو۔ میں ان کی مخصوص عبارتوں سے بے خبر، ان کے رموز سے نا آشنا، ان کے فلسفہ اور افکار سے کافی حد تک بے بہرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی دعوت اور مقصد سے بھی کچھ زیادہ واقفیت نہیں رکھتا تھا۔

پیام مشرق کا یہ نسخہ جو دوست محمد عاکف نے مجھے دیا تھا اب تک میرے پاس ہے۔ اس پر ان تمام مقامات پر نشانات لگے ہوئے ہیں جن کو ہم نے پسند کیا تھا یا بقول فرزوق “مقامات سجدہ” پر۔ یہ نسخہ میرے پاس پیامِ مشرق کے ذریعے اقبال سے پہلی ملاقات کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اسلام محمد عاکف کی بھی یادگار ہے۔” [5]

عاکف سب سے پہلے جنگ آزادی کے ایام میں انقرہ میں کلام اقبال سے واقف ہوئے۔ یہ تعارف اقبال کے کسی کتابچے سے ہوا جو کسی نے سبیل الرشاد کے دفتر میں پہنچایا تھا۔ عاکف نے اس کتابچے سے یہ رائے قائم کی کہ ان کے اور اقبال کے کلام میں مشابہت پائی جاتی ہے. [6]

عاکف نے اقبال کا تفصیلی مطالعہ قیام مصر کے زمانے میں کیا جن میں پیام مشرق بھی شامل تھی۔ عاکف نے گولگہ لر میں ایک نظم کے درمیان اقبال کے ایک شعر کا ترکی ترجمہ دیا ہے:

Heyecana verdi gonulleri heyecanli nagmesi gonlumun

Bbe no nagmeden mugeheyyicim kiyokihtimali terennumen

“میرے نغموں پر ترنم کا گمان نہ کیا جائے، یہ میرے دل کی آواز ہے جس نے لوگوں کے دلوں میں ہیجان برپا کر دیا ہے۔” [7]

کتابیات

  • اشرف ادیب، محمد عاکف (دو جلدیں)
  • مدحت جمال قونتائی، محمد عاکف (دو جلدیں)
  • سلیمان نظیف، محمد عاکف
  • حسن بصری چانتائی، عاکف نامہ
  • فوزیہ عبد اللہ تنسل، محمد عاکف ارصوی
  • احمد کبکلی، محمد عاکف
  • فاروق قادری تیمورتاش، محمد عاکف اور ہمارا معاشرہ
  • علی نہاد تارلان، محمد عاکف (اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد صابر نے کیا ہے۔ مترجم ترکیات میں ڈاکٹریٹ کی سند رکھتے ہیں)
  • ثروت صولت، ترکی اور ترک، ابواب “ترکی کا شاعر اسلام: محمد عاکف” اور “عاکف اور اقبال”، صفحہ نمبر 291 تا 342، اسلامک پبلیکیشنز لاہور فروری 1989ء

[1] محمد عاکف، علی نہاد تارلان، اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد صابر، لاہور 1970ء

[2] ترکی کا شاعرِ اسلام، محمد عاکف ارصوی، از ثروت صولت، مطبوعہ المعارف، لاہور، جنوری فروری 1974ء

[3] عاکف اور اقبال، ثروت صولت، مطبوعہ سہ ماہی فکر و نظر، اسلام آباد ۔ اگست 1970ء

[4] ترکی اور ترک، ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، سن اشاعت فروری 1989ء

[5] محمد اقبال سیرتہ و فلسفتہ و شعرہ از عبد الوہاب عزام (عربی) صفحہ 4 تا 5۔ مطبوعات پاکستان، طبع 1954ء

[6] محمد عاکف ارصوی از فوزیہ عبد اللہ تنسل صفحہ 123

[7] “صفحات”، محمد عاکف ارصوی، صفحہ 515

Google Buzz

انقلابی تحاریک اور رائے عامہ

بہت سے لوگ تلوار کے زور سے قطعات اراضی کے فاتح بنے، بہت سی بادشاہتیں اور آمریتیں جبر کے زور سے قائم ہوتی رہتی ہیں، اور کشاکش مفاد کے لئے بے شمار فیصلے جنگ کے میدانوں میں طے پاتے رہے ہیں، لیکن دنیا کی کوئی بھی انقلابی تحریک ہو اسے اپنی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ رائے عامہ کے دائرے میں کرنا ہوتا ہے، انسانی قلوب جب تک اندر سے کسی دعوت کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوں اور اپنے ذہن و کردار کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے راضی نہ ہوجائیں، محض جبر و تشدد سے حاصل کئے گئے علمبردار اس کے لئے مفید نہیں ہوتے بلکہ الٹا وہ اس کی کامل بربادی کا سبب بن جاتے ہیں۔ پس ہر اصولی تحریک کا مزاج تعلیمی ہوتا ہے اور اس کے چلانے والو ں میں مربیانہ اور معلمانہ شفقت کی روح کام کر رہی ہوتی ہے۔

نعیم صدیقی کی کتاب “محسن انسانیت” سے اقتباس

Google Buzz