جدیدیت بذریعہ جبر – قسط دوم
اس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے
مسلمانوں کو جدیدیت و جمہوریت کے جو پہلے مظاہر اپنی سرزمینوں پر دکھائی دیے انہوں نے ایسی مثال قائم کر دی کہ مغربی جمہوریت کے حوالے سے مسلمانوں کے اندر آج تک کوئی اچھا تاثر قائم نہ ہو سکا۔ پہلی مثال جمہوریہ ترکی کا قیام تھا، جو پہلی جنگ عظیم کی شکست خوردہ سلطنت عثمانیہ کے بطن سے پیدا ہوئی اور مسلم اکثریتی سرزمین پر پہلی جدید جمہوری ریاست تھی۔
جدید جمہوریت کا پہلا تجربہ
ترکی میں جمہوریہ کا قیام مسلمانوں کے لیے ‘جدید جمہوریت’ کا پہلا تجربہ تھا جو بہت تلخ ثابت ہوا کیونکہ اس میں استبدانہ رنگ عہدِ ملوکیت سے بھی زیادہ گہرا دکھائی دیا۔ صدیوں تک دنیائے اسلام کی قیادت کرنے والی ریاست کا وارث ترکی اپنی مسلم شناخت سے یک لخت محروم ہو گیا اور اسے ایک لادین (سیکولر) ریاست قرار دے دیا گیا۔ اتاترک نے ‘مذہب سے نفرت’ کو سیکولر ازم کی تعریف قرار دیا گیا اور اسے ہر شعبہ ہائے زندگی سے خارج کر دیا۔ جدیدیت کے لبادے میں ‘مغربیت’ کو اپنانے کی ہوسناک حد تک کی جانے والی اس کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مغربی جدیدیت اور جمہوریت سے برگشتہ کر دیا۔
اتاترک کی ‘اصلاحات’
مصطفیٰ کمال اتاترک نے ملک کو مغربی ممالک کے ہم پلہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسلام کو زد پر رکھا۔ مدارس کو بند کر دیا گیا حتیٰ کہ بے ضرر صوفی سلسلوں پر بھی پابندی لگائی گئی اور قونیہ میں مولانا روم کے مزار کے درویشوں کا ‘رقص’ تک بند کر دیا گیا۔
عورتوں کے لیے پردہ موقوف کر دیا گیا۔ مرد و خواتین کو جبراً مغربی لباس پہننے پر مجبور کیا گیا، اسلام اور مسلمانوں سے تعلق کی ہر نشانی مٹانے کی کوشش کی گئی۔ جسے ہندوستان میں ترکی ٹوپی کہا جاتا ہے، وہ ترکی میں ہی ممنوع قرار دے دی گئی۔ نام اختیار کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بیشتر ترک باشندوں کے نام عثمانی عہد کے ناموں سے یکسر مختلف ہیں، جن سے مسلمان ہونے کی ‘بو’ آتی تھی۔ اسلامی تقویم (کلینڈر) کا بھی خاتمہ کر دیا گیا اور اس کی جگہ عیسوی تقویم اختیار کی گئی۔
اسلام کے عائلی قوانین کا خاتمہ کر کے سوئس قوانین کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ نتیجتاً کثرت ازدواج بھی ممنوع ہو گئی۔ اس طرح 98 فیصد مسلمانوں کے حامل میں ایسی مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہوئی کہ ایک پرانے ترک سفرنامے یہ تک پڑھنے کو ملا ایک سے زائد شادی کرنے والے افراد قانون کے سامنےایک بیوی کو اپنی ‘گرل فرینڈ’ قرار دیتے تو ان سے کوئی باز پرس نہ ہوتی البتہ دو بیویاں رکھنے پر دھر لیا جاتا۔
رسم الخط پر ضرب
سب سے بڑی ضرب عربی رسم الخط کو کالعدم قرار دے کر لاطینی رسم الخط کو اختیار کر کے لگائی گئی۔ اس طرح ترک مسلمانوں کو بیک جنبشِ قلم اُن کے صدیوں پر محیط عظیم ادبی و ثقافتی ورثے سے محروم کر دیا گیا جو اسلامی فکر کا عکاس تھا۔ صرف رسم الخط کی تبدیلی پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ چن چن کر عربی اور فارسی الفاظ کو زبان سے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ یا تو مقامی و عوامی الفاظ کو اختیار کیا گیا یا پھر فرانسیسی سے استفادہ کیا گیا۔ یوں عثمانی ترک زبان کے مقابلے میں ایک ‘جدید’ زبان وجود میں آئی۔
مساجد میں عربی زبان میں اذان دینے اور حج کی ادائیگی پر بھی پابندیاں لگا دی گئیں۔ تقریباً پانچ صدیوں تک مرکزی حیثیت رکھنے والے شہر استنبول کے اس امتیاز کا خاتمہ کرتے ہوئے دارالحکومت کو انقرہ منتقل کر دیا گیا۔ فتح قسطنطنیہ کی سب سے اہم نشانی ایاصوفیہ کو مسجد سے عجائب گھر بنا دیا گیا۔ پوری کوشش کی گئی کہ ترکی کو مشرق سے کاٹ کر مغرب کا حصہ بنا دیا جائے۔ قوم پرستی کا غیر اسلامی نظریہ، جو پہلے ہی مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر چکا تھا، کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا گیا۔
ایسا ناممکن تھا کہ اس زبردست تبدیلی کے خلاف کوئی مزاحمت نہ ہوتی لیکن اتاترک نے راہ میں آنے والی ہر دیوار ڈھا دی۔ پورے ‘اصلاحی منصوبے’ کی تکمیل کے لیے اتاترک نے اپنے قریبی ترین ساتھیوں کو بھی نہ بخشا اور جنگ عظیم اول میں مشرقی محاذ پر ذمہ داریاں انجام دینے والے عظیم جرنیل کاظم پاشا کے اس احسان کو بھی بھول گئے جو انہوں نے خلیفہ کے حکم کے باوجود انہیں گرفتار نہ کر کے کیا تھا۔ جب خلافت کے خاتمے پر کاظم پاشا نے مخالفت کی تو انہیں نہ صرف حلقہ احباب سے نکال دیا بلکہ ان پر حکومت کو الٹنے کے لیے بغاوت کرنے کا الزام لگا کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ عظیم ترک مصنفہ خالدہ ادیب خانم کو اپنے شوہر عدنان آدیوار سمیت جلا وطنی اختیار کرنا پڑی اور ان کے علاوہ کئی ایسے رہنما تھے جنہوں نے جنگ آزادی میں اپنا بھرپور حصہ لیا تھا لیکن ‘اصلاحات’ کی دھن میں مگن اتاترک نے سب کو یا تو زندانوں میں ڈلوادیا، یا پھر سزائے موت دے دی یا پھر جلا وطن کر دیا۔ محمد عاکف جیسے عظیم شعراء نے بھی جلا وطنی کو غنیمت جانا۔
اس طرح کی اصلاحات، جنہیں تعمیری سمجھا گیا، تخریبی نتائج کا شاخسانہ بنیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر یہ بات عیاں ہوئی کہ جمہوریت دراصل ان کے مذہب کی دشمن ہے۔
اس زمانے میں اتاترک کے ان اقدامات نے دنیا کے کئی ممالک میں ‘جدید سوچ’ کے حامل حکمرانوں کو مہمیز عطا کیا۔
اگلی قسط میں ایران میں رضا شاہ پہلوی اور ان کے صاحبزادے محمد رضا پہلوی کے دور کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے گا۔
[ جاری ہے ]
















