تحاریر برائے ماہِ اکتوبر ، ۲۰۰۹


جدیدیت بذریعہ جبر – قسط دوم

اس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے

مسلمانوں کو جدیدیت و جمہوریت کے جو پہلے مظاہر اپنی سرزمینوں پر دکھائی دیے انہوں نے ایسی مثال قائم کر دی کہ مغربی جمہوریت کے حوالے سے مسلمانوں کے اندر آج تک کوئی اچھا تاثر قائم نہ ہو سکا۔ پہلی مثال جمہوریہ ترکی کا قیام تھا، جو پہلی جنگ عظیم کی شکست خوردہ سلطنت عثمانیہ کے بطن سے پیدا ہوئی اور مسلم اکثریتی سرزمین پر پہلی جدید جمہوری ریاست تھی۔

جدید جمہوریت کا پہلا تجربہ

ترکی میں جمہوریہ کا قیام مسلمانوں کے لیے ‘جدید جمہوریت’ کا پہلا تجربہ تھا جو بہت تلخ ثابت ہوا کیونکہ اس میں استبدانہ رنگ عہدِ ملوکیت سے بھی زیادہ گہرا دکھائی دیا۔ صدیوں تک دنیائے اسلام کی قیادت کرنے والی ریاست کا وارث ترکی اپنی مسلم شناخت سے یک لخت محروم ہو گیا اور اسے ایک لادین (سیکولر) ریاست قرار دے دیا گیا۔ اتاترک نے ‘مذہب سے نفرت’ کو سیکولر ازم کی تعریف قرار دیا گیا اور اسے ہر شعبہ ہائے زندگی سے خارج کر دیا۔ جدیدیت کے لبادے میں ‘مغربیت’ کو اپنانے کی ہوسناک حد تک کی جانے والی اس کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مغربی جدیدیت اور جمہوریت سے برگشتہ کر دیا۔

اتاترک کی ‘اصلاحات’

مصطفیٰ کمال اتاترک نے ملک کو مغربی ممالک کے ہم پلہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسلام کو زد پر رکھا۔ مدارس کو بند کر دیا گیا حتیٰ کہ بے ضرر صوفی سلسلوں پر بھی پابندی لگائی گئی اور قونیہ میں مولانا روم کے مزار کے درویشوں کا ‘رقص’ تک بند کر دیا گیا۔
عورتوں کے لیے پردہ موقوف کر دیا گیا۔ مرد و خواتین کو جبراً مغربی لباس پہننے پر مجبور کیا گیا، اسلام اور مسلمانوں سے تعلق کی ہر نشانی مٹانے کی کوشش کی گئی۔ جسے ہندوستان میں ترکی ٹوپی کہا جاتا ہے، وہ ترکی میں ہی ممنوع قرار دے دی گئی۔ نام اختیار کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بیشتر ترک باشندوں کے نام عثمانی عہد کے ناموں سے یکسر مختلف ہیں، جن سے مسلمان ہونے کی ‘بو’ آتی تھی۔ اسلامی تقویم (کلینڈر) کا بھی خاتمہ کر دیا گیا اور اس کی جگہ عیسوی تقویم اختیار کی گئی۔
اسلام کے عائلی قوانین کا خاتمہ کر کے سوئس قوانین کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ نتیجتاً کثرت ازدواج بھی ممنوع ہو گئی۔ اس طرح 98 فیصد مسلمانوں کے حامل میں ایسی مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہوئی کہ ایک پرانے ترک سفرنامے یہ تک پڑھنے کو ملا ایک سے زائد شادی کرنے والے افراد قانون کے سامنےایک بیوی کو اپنی ‘گرل فرینڈ’ قرار دیتے تو ان سے کوئی باز پرس نہ ہوتی البتہ دو بیویاں رکھنے پر دھر لیا جاتا۔

رسم الخط پر ضرب

سب سے بڑی ضرب عربی رسم الخط کو کالعدم قرار دے کر لاطینی رسم الخط کو اختیار کر کے لگائی گئی۔ اس طرح ترک مسلمانوں کو بیک جنبشِ قلم اُن کے صدیوں پر محیط عظیم ادبی و ثقافتی ورثے سے محروم کر دیا گیا جو اسلامی فکر کا عکاس تھا۔ صرف رسم الخط کی تبدیلی پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ چن چن کر عربی اور فارسی الفاظ کو زبان سے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ یا تو مقامی و عوامی الفاظ کو اختیار کیا گیا یا پھر فرانسیسی سے استفادہ کیا گیا۔ یوں عثمانی ترک زبان کے مقابلے میں ایک ‘جدید’ زبان وجود میں آئی۔

مساجد میں عربی زبان میں اذان دینے اور حج کی ادائیگی پر بھی پابندیاں لگا دی گئیں۔ تقریباً پانچ صدیوں تک مرکزی حیثیت رکھنے والے شہر استنبول کے اس امتیاز کا خاتمہ کرتے ہوئے دارالحکومت کو انقرہ منتقل کر دیا گیا۔ فتح قسطنطنیہ کی سب سے اہم نشانی ایاصوفیہ کو مسجد سے عجائب گھر بنا دیا گیا۔ پوری کوشش کی گئی کہ ترکی کو مشرق سے کاٹ کر مغرب کا حصہ بنا دیا جائے۔ قوم پرستی کا غیر اسلامی نظریہ، جو پہلے ہی مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر چکا تھا، کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا گیا۔

ایسا ناممکن تھا کہ اس زبردست تبدیلی کے خلاف کوئی مزاحمت نہ ہوتی لیکن اتاترک نے راہ میں آنے والی ہر دیوار ڈھا دی۔ پورے ‘اصلاحی منصوبے’ کی تکمیل کے لیے اتاترک نے اپنے قریبی ترین ساتھیوں کو بھی نہ بخشا اور جنگ عظیم اول میں مشرقی محاذ پر ذمہ داریاں انجام دینے والے عظیم جرنیل کاظم پاشا کے اس احسان کو بھی بھول گئے جو انہوں نے خلیفہ کے حکم کے باوجود انہیں گرفتار نہ کر کے کیا تھا۔ جب خلافت کے خاتمے پر کاظم پاشا نے مخالفت کی تو انہیں نہ صرف حلقہ احباب سے نکال دیا بلکہ ان پر حکومت کو الٹنے کے لیے بغاوت کرنے کا الزام لگا کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ عظیم ترک مصنفہ خالدہ ادیب خانم کو اپنے شوہر عدنان آدیوار سمیت جلا وطنی اختیار کرنا پڑی اور ان کے علاوہ کئی ایسے رہنما تھے جنہوں نے جنگ آزادی میں اپنا بھرپور حصہ لیا تھا لیکن ‘اصلاحات’ کی دھن میں مگن اتاترک نے سب کو یا تو زندانوں میں ڈلوادیا، یا پھر سزائے موت دے دی یا پھر جلا وطن کر دیا۔ محمد عاکف جیسے عظیم شعراء نے بھی جلا وطنی کو غنیمت جانا۔

اس طرح کی اصلاحات، جنہیں تعمیری سمجھا گیا، تخریبی نتائج کا شاخسانہ بنیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر یہ بات عیاں ہوئی کہ جمہوریت دراصل ان کے مذہب کی دشمن ہے۔
اس زمانے میں اتاترک کے ان اقدامات نے دنیا کے کئی ممالک میں ‘جدید سوچ’ کے حامل حکمرانوں کو مہمیز عطا کیا۔
اگلی قسط میں ایران میں رضا شاہ پہلوی اور ان کے صاحبزادے محمد رضا پہلوی کے دور کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے گا۔

[ جاری ہے ]

Google Buzz

سیکولر اور اسلامی تہذیب

بہت ہی عزیز بلاگر ساتھی خرم بشیر چند روز قبل ایک تحریر پر ہونے والے تبصروں میں کچھ ان الفاظ میں رقمطراز ہوئے کہ میرے لیے گفتگو کو تبصرے میں سمیٹنا ممکن نہ رہا بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ انہوں نے اپنے تبصرے میں گفتگو کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا کہ اس کا جواب بذریعہ تبصرہ دیا ہی نہ جا سکتا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ اس کا جواب الگ سے ایک تحریر کے ذریعے دیا جائے تاکہ گفتگو کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے اور اس تبصرے کے نتیجے میں جو نئے موضوع کھلے ہیں ان کو سمیٹا جا سکے۔ مکالمے کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہاں اُس تحریر کا مطالعہ کیا جائے جو سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب ‘تنقیحات‘ سے لی گئی تھی اور اس کے بعد محترم خرم بشیر کا یہ درج ذیل تبصرہ ملاحظہ کیا جائے:

فہد بھائی سائنس وٹیکنالوجی تو ایک حقیقت ہیں۔ اللہ کے اصول ہیں۔ مغربی تہذیب کی عمارت ان پر استوار نہیں ہوئی۔ آپ دیکھئے ایک عیسائی بھی اللہ پر یقین رکھتا ہے اپنے تمام تر خراب عقائد کے باوجود۔ دھڑا دھڑ چرچ بن رہے ہیں، عطیات دیتے ہیں یہ لوگ اور اپنے تئیں نیکی کے کاموں میں خوب محنت کرتے ہیں۔ جو فرق ہے میرے تئیں وہ تہذیبی نہیں ہے، عملی ہے۔ مسلمانوں کی طرح عیسائیوں یا مغرب کے بھی دو گروہ ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جس بے ہنگم انداز سے مغربی معاشروں نے افرادی زندگی کو بے پردہ کیا ہے اس کے محرکات سائنس و ٹیکنالوجی نہیں بلکہ شائد وہ خلا ہے جو مذہب کو ایک ننھے سے خانے میں بند کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ سویہ کہنا کہ ان بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب استوار ہے وہ کچھ جچتا نہیں۔ اصل کام تو شائد یہ ہونا چاہئے کہ آپ علم حاصل کریں اور جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر سائنس، ہر فلسفہ اسلام کی حقانیت کو یقینی طور پر ثابت کرتا ہے۔ جب آپ اس علم سے مسلح ہوں گے اور ٹھوس دلائل آپ کے پاس ہوں گے تو مغرب کا یہ سچائی کا متلاشی اندھیروں میں بھٹکتا طبقہ اسلام کی طرف مائل ہوگا۔ یہاں ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نہ تو ایک تہذیب لے کر آیا ہے اور نہ کسی تہذیب کا مخالف ہے۔ اسلام تو چند بنیادی اصول وضع کرتا ہے اور ان کے اندر رہتے ہوئے ہر تہذیب کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یک تہذیبی دنیا ہی اگر پیدا کرنا ہوتی تو اللہ کو اتنی زبانیں، اتنے خطے، اتنے مزاج پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اسلام کی خوبصورتی تو یہی ہے کہ وہ اس متنوع گلدستے کے رنگوں کو مٹاتا نہیں بلکہ انہیں اُجاگر کرتا ہے۔

اس تبصرے سے مجھے کچھ یوں محسوس ہوا ہے کہ برادر محترم تہذیب اور ثقافت کو خلط ملط کر رہے ہیں ورنہ اسلام کی جانب سے کوئی تہذیب لانے سے انکاری نہ ہوتے اور نہ ہی یہ کہتے کہ اسلام کسی تہذیب کا مخالف نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ تہذیب کی تعریف مغرب کی جدید سیکولر تہذیب کے مطابق کر رہے ہوں جس کا دعویٰ ہے کہ عقائد تہذیب و ثقافت سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل جتنی بھی تہذیبیں دنیا میں وارد ہوئیں، بشمول اسلام، ان کا کہنا رہا ہے کہ تہذیب و ثقافت عقائد سے جنم لیتے ہیں۔

اس ‘معمولی’ سے فرق کو محسوس کرنے کے لیے تہذیب کے بنیادی عناصر اور مغربی تہذیب کی بنیادوں کے بارے میں پڑھنا ضروری ہے۔ مجھ ناچیز کے مطالعے کے مطابق کہ مغربی تہذیب کی بنیادیں سیکولر ازم کے جن اصولوں پر استوار ہوئی ہیں اُن میں سائنس ایک عقیدے کی حیثیت سے شامل ہے جہاں ہر نظریہ سائنس کی چھلنی سے گزر کر آتا ہے۔ موجودہ سیکولر مغربی تہذیب کی بنیادیں ‘ماورائی ماخذ سے انکار’، ‘فطرت سے تصادم’، ‘سیاست کی عدم تقدیس ‘اور ‘اخلاقی قدروں کے عدم استقلال’ پر کھڑی ہیں۔

ماورائی ماخذ سے انکار کے نتیجے میں ایک ایسا تصور حیات سامنے آتا ہے جس میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور Age of Enlightment اور اس کے بعد کے تمام مفکرین اس Man Centered دنیا کے تصور کو مستحکم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مغربی جمہوریت، حقوق انسانی، حقوق نسواں اور دیگر تمام نظریات دراصل اسی نظریے کی پیداوار ہیں (گو کہ میں اول الذکر کے علاوہ کسی کا مخالف نہیں ہوں، کیونکہ اسلام نے انسانی و نسوانی حقوق کو اُن سے کہیں پہلے متعین کر دیا تھا)۔

کیونکہ مغرب نے مذہب کو شکست دے کر موجودہ تہذیب کی بنیاد رکھی اس لیے اس میں تقدس کو لازماً دیس نکالا دیا جانا تھا لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاست میں کوئی اخلاقی و روحانی پہلو نہ بچا بلکہ مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا گیا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دنیا میں کہیں بھی موجودہ سیاسی نظاموں کے نتیجے میں معاشرے کے صالح و نیک افراد سامنے آتے نظر نہیں آتے۔

فطرت سے تصادم کا نظریہ دراصل خدا کے انکار کے بعد پیدا ہونے والا ایک لازمی ردعمل ہے۔ اس تصادم کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں بڑے واضح انداز میں بیان کیا تھا کہ

وہ فکرِ گستاخ جس نے عرياں کيا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اس کی بيتاب بجليوں سے خطر ميں ہے اس کا آشيانہ

فطرت پر غلبہ پانے کے اسی نصب العین نے ایجادوں کی دنیا میں ایسا زبردست انقلاب برپا کیا کہ انسان نے ہزاروں سال کی ترقی کو چند دہائیوں میں لپیٹ دیا۔ اس تصور میں ایک انتہائی بنیادی نوعیت کی خامی ہے کہ اس میں فطرت انسان کی مخالف و مزاحم ہے اور جسے مغلوب کرنے کے لیے وہ جدوجہد کر رہا ہے۔ فطرت سے مخالفت اور مزاحمت کا یہی تصور ہے جس نے رب کائنات کے پیدا کردہ نازک توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جدید دنیا میں ماحولیات کے حوالے سے پیدا کردہ مسائل دراصل مغرب کے اسی فطرت مزاحم فلفےک کا شاخسانہ ہیں۔ اس کے باوجود کیونکہ فطرت پر غلبہ خدائی انکار کے باعث سیکولر مغرب کی انا کا مسئلہ ہے اس لیے وہ اپنے نظام کے اس جزو لا ینفک کو علیحدہ کرنے سے انکاری ہے۔

اخلاقی اقدار کو معروضی قرار دیے جانے سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ وقت و ضرورت کے تحت تبدیل ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً اس بد ترین اخلاقی زوال نے معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے مظاہر ہم آئے روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ اب مجھے یہ بتائیے کہ کیا اسلام ان چاروں بنیادوں پر مغرب کے ساتھ مفاہمت کر سکتا ہے؟

سیکولر ازم کو سمجھنے کے لیے معروف پروفیسر ہاروے کوکس کی کتاب The Secular City لازماً پڑھنی چاہیے جو سیکولر ازم کے مطالعے کے لیے بہت اہم ہے اور اس میں سیکولر ازم کے اِن تمام ‘عقائد’ کو انتہائی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اب بات کا رخ آپ کی جانب سے مغرب میں مذہب کے ‘پھلنے پھولنے’ کی جانب پھیرتے ہیں، مغرب سیاست سے باہر مذہب کی روحانی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔ چرچ اور سیاست کے درمیان ہونے والی کشمکش کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں چرچ نے بھی اپنی شکست کو تسلیم کیا اور ریاست کی شرائط پر مفاہمت کی حکمت عملی اختیار کی۔ اس طرح دونوں کے دائرۂ کار کا تعین ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کے دائرۂ کار میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ اس پالیسی پر بائبل کے چند حوالوں نے مہر تصدیق ثبت کر دی، کیونکہ عیسائیت کسی واضح سیاسی نظام کی حامل نہ تھی بلکہ Theocracy کا تصور پاپائیت کا ‘اجتہاد’ تھا، اس لیے مذہبی حوالے بھی اس ‘سرینڈر’ کی موافقت میں سامنے آئے۔ اب آج جدید مغربی معاشروں میں چرچ اور معاشرے کی یہ مفاہمت بالکل صاف نظر آتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نو آبادیاتی دور میں مغربی استعمار کی کامیابی میں چرچ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور ‘غیر مہذب انسانوں’ کو عیسائیت کی ‘مہذب’ چھتری تلے لانے کا کام انجام دیا۔ اس عمل میں اسے سیکولر ریاست کی مکمل سرپرستی حاصل رہی۔

جتنا ناچیز نے مطالعہ کیا ہے اس کے مطابق اسلام اور مغرب کی تہذیبوں میں انتہائی بنیادی نوعیت کا تصادم ہے اور عقائد کی بنیاد پر دونوں میں ‘تہذیبوں کا تصادم’ ناگزیر ہے۔ اگر تہذیبوں کی تعریف اور اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان اختلافات کو ذہن میں رکھا جائے تو آپ کو یہ تصادم ہر جگہ نظر آئے گا۔
مجھے آپ کے اِس بیان سے بہت زیادہ حیرت ہو رہی ہے کہ آپ اسلام کی جانب سے کوئی تہذیب لانے سے انکاری ہیں۔ پھر تو میرے خیال میں تہذیب کی تعریف اور اس کے بنیادی عناصر کے بارے میں سوال اٹھنا لازمی امر ہے۔ مجھے امید واثق ہے کہ آپ یہاں تہذیب کو ثقافت کے معنوں میں استعمال کر رہے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو پھر شاید ہمیں تہذیب کی تعریف پیش کرنا پڑے ۔ جو کم از کم یہاں اور اِس وقت ممکن نہیں اور نہ ہی ناچیز کا مطالعہ اس قدر ہے۔ لیکن اگر تہذیب کی تعریف، جدید تہذیب، سیکولر ازم، زوالِ مغرب، اسلامی تہذیب اور دیگر موضوعات پر کچھ پڑھنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کی سفارش کروں گا:

  • Clash of Civilizations – سیموئل پی ہنٹنگٹن
  • Crisis of the Modern World – رینے گینوں
  • East and West – رینے گینوں
  • Figure of Speech or Figure of Thought – آنند کمار سوامی
  • Holy War – کیرن آرمسٹرانگ
  • The Decline of the West – اوشوالڈ اشپنگلر
  • The End of History and the Last man – فرانسس فوکویاما
  • The Reign of Quantity – رینے گینوں
  • What is Civilization – آنند کمار سوامی
  • اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی – سید ابو الاعلیٰ مودودی
  • تنقیحات – سید ابو الاعلیٰ مودودی
  • کلیات اقبال بالخصوص ضرب کلیم – محمد اقبال
  • وقت کی راگنی – محمد حسن عسکری
Google Buzz

ٹیگ کی رسی

ٹیگ کی ڈوری برادر راشد کامران کے بلاگ سے ہوتی ہوئی اب ایک رسی کی صورت میں ہمارے گلے میں آ پھنسی ہے۔ سو اس کو اتارنا بھی ضروری ہے۔ برادر راشد کے شکریے کے ساتھ سوالات کے جوابات:
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
تقریباً 9 گھنٹے روزانہ، کیونکہ کام کی نوعیت ہی ایسی ہے۔ اختتام ہفتہ پر نیٹ سے دو دن کی چھٹی کبھی کبھی بہت گراں گزرتی ہے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان دو دنوں میں مطالعہ اور بہت سارے اہم کام نمٹ جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات بلاگ کے لیے تحاریر بھی انہی دو دنوں میں لکھتا ہوں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
زندگی میں تبدیلی تو آئی ہے خصوصاً خیالات و نظریات میں تو کافی زیادہ۔ بھڑکنے پھڑکنے کے بجائے اب بات کو تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ زندگی میں آنے والی چند تبدیلیوں کو میں انٹرنیٹ ہی کی مرہون منت سمجھتا ہوں جن میں مطالعے کی عادت اور لکھنے کا آغاز اہم ہیں۔ البتہ اس کے چند نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ خطاطی، جس کا کسی زمانے میں بڑا شائق تھا، اب اتنی خوبصورتی سے نہیں کر سکتا جتنی کہ پہلے کرتا تھا، اب ہاتھ کے بجائے فونٹس اور خطاطی کے سافٹ ویئرز پر انحصار ہے۔

کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
بہت زیادہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ فی الوقت گھر پر انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتا، اس لیے تعطیلات میں زیادہ تر وقت گھر والوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ سماجی زندگی میں میں پہلے بھی اتنا زیادہ متحرک نہیں تھا اس لیے انٹرنیٹ کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ہاں یہ ہے کہ دوستوں سے اب ملاقاتیں بہت کم ہو گئی ہیں لیکن اس کا دوش انٹرنیٹ کو نہیں دوں گا۔

اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جان چھڑانے کی از خود کوشش کو کبھی نہیں کی لیکن ایک واقعے کے بعد دو سال تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ شاید 2002ء اور 2003ء کا زمانہ تھا۔ شاید اس کے بعد ہی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال میں زیادہ محتاط ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ گیمز کے بجائے کمپیوٹر کے مثبت استعمال کی جانب راغب ہوا۔ دوسری بات یہ کہ بھلا میں کیوں جان چھڑاؤں اس انٹرنیٹ سے، جس کے ذریعے مجھے اتنے با علم اور اچھے دوست ملے جن کا زندگی میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے میں اسے نعمت متبرکہ سمجھتا ہوں اور اسے ٹھکرانا کفران نعمت۔ البتہ یہ سب اس کے استعمال پر منحصر ہے ورنہ انٹرنیٹ پر شیطان کے پردادے بھی موجود ہیں، اب آپ کی مرضی ہے کہ اچھے ساتھیوں کا انتخاب کریں یا برے کا۔

کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ ایک تو گھر سے باہر کھیلنے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب عید وغیرہ پر خاندان بھر کے لوگ جمع ہوتے ہیں تو پھر جوانوں اور نوجوانوں کا کرکٹ میچ کھیل لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کبھی گھومنے یا باہر جانے کا منصوبہ بنے تو فوری عملدرآمد کرتے ہیں، اس میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔

کچھ اندازہ نہيں کہ یہ سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی اپنے تکے لگا کر ڈوری ان پانچ ساتھیوں کی جانب بڑھا دیتے ہیں
شاکر عزیز، محمد علی مکی، خرم شہزاد، ابو سعد اور سیدہ شگفتہ کی جانب۔

Google Buzz

نیا نیا کراچی

جب گوگل ارتھ اور گوگل نقشہ جات نئے نئے آئے تھے تو ہمارا آدھا دن اس پر آوارہ گردیوں ہی میں گزرتا تھا لیکن جیسے جیسے کراچی میں شہری حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی کام ہوتے گئے، گوگل پر کراچی کی پرانی تصاویر دیکھ کر ہم کڑھتے ہی رہ جاتے کہ نجانے کب یہ اپنے کراچی کے نقشوں اور تصاویر کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ ہر مرتبہ وہی 2002ء اور 2003ء کا پرانا کراچی دیکھ دیکھ کر کوفت طاری ہو گئی تھی۔ لیکن انتظار کی طویل گھڑیاں بالآخر ختم ہوئیں اور بالآخر گوگل والوں کو کراچی والوں پر رحم آ گیا ہے۔ انہوں نے کراچی کے تازہ ترین سیٹلائٹ امیجز پیش کر دیے ہیں جس کے ساتھ آپ کراچی میں ہونے والی تیز رفتار تعمیراتی ترقی کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ میں نے ان تازہ ترین تصاویر کے لیے گوگل میپس کو استعمال کیا ہے۔

(تصاویر بڑی کرنے کے لیے ان پر کلک کیجیے)

سہراب گوٹھ فلائی اوور اور لیاری ایکسپریس وے

سہراب گوٹھ فلائی اوور اور لیاری ایکسپریس وے

شاہراہ قائدین فلائی اوور

شاہراہ قائدین فلائی اوور

شاہ فیصل فلائی اوور

شاہ فیصل فلائی اوور

ناظم آباد انڈرپاس

ناظم آباد انڈرپاس

کارساز فلائی اوور

کارساز فلائی اوور

حسن اسکوائر فلائی اوور

حسن اسکوائر فلائی اوور

غریب آباد انڈرپاس

غریب آباد انڈرپاس

ایف ٹی سی فلائی اوور

ایف ٹی سی فلائی اوور

اسٹیڈیم فلائی اوور

اسٹیڈیم فلائی اوور

Google Buzz

Wikipedia meetup “Karachi 1″

18 اکتوبر 2009ء بروز اتوار

بمقام میک ڈونلڈز، نجیب سینٹر، طارق روڈ، کراچی

شرکاء:

  1. ثاقب قیوم (صارف وکی میڈیا کامنز)
  2. رابعہ ظفر (صارف انگریزی وکیپیڈیا)
  3. فہد احمد کیہر (منتظم اردو وکیپیڈیا)
  4. محمد علی مکی (صارف اردو وکیپیڈیا)
  5. ندیم احمد اعوان (صارف اردو وکیپیڈیا، مقامی صحافی)
  6. جمال عبد اللہ عثمان (مقامی صحافی، کالم نگار)

لائحہ عمل:

  • شرکاء کا تعارف
  • وکیپیڈیا کے بارے میں آپ کے تاثرات، تجربات
  • وکی پروجیکٹ پاکستان
  • اردو وکیپیڈیا
  • پاکستان میں وکیپیڈیا کی تشہیر تاکہ ملک میں آزاد معلومات کے نظریے کو پھیلایا جا سکے
  • سوالات و جوابات
  • اگلی ملاقات

وکیپیڈيا کے بانی جمی ویلز کا پیغام برائے شرکائے “کراچی 1″

بہت خوب! حال ہی میں میرا چین میں پاکستانی سفیر کے گھر جانا ہوا۔ میرے ايک دوست بھی ہیں جو پاکستان میں ٹی وی پر کام کرنے والے صحافی ہیں۔ اس پہلے اجلاس کا سن کر بہت خوشی ہوئی اور میں بہت مشتاق ہوں کہ اگلے سال میں کسی وقت پاکستان جاؤں اور ادھر کے وکیپیڈیا گروہ سے ملاقات کروں۔ یہ بڑا اچھا ہوگا کہ پاکستانی وکیپیڈیا گروہ متحرک و منظم ہو جائے تاکہ ہم ایسی ملاقاتوں سے بذریعہ تشہیر (پریس کوریج) زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے اور مختلف امکانات، خصوصاً ان پر جو اردو وکیپیڈیا سے متعلق ہوں، اپنی توجہ مبذول کر سکے۔ میرے لیے سب سے قابلِ توجہ موضوعات میں ہندی و اردو وکیپیڈیا کا آپس میں تعاون ہے کیونکہ دونوں زبانیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ خود آپ کے لیے زیادہ قابلِ توجہ موضوعات کون سے ہیں۔

تعارف:

ابتداء میں شرکاء نے ذاتی تعارف پیش کیا اور وکیپیڈیا کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے اور بتایا کہ وہ کس طرح وکیپیڈیا سے متعارف ہوئے اور بعد ازاں کیسے اس میں شمولیت اختیار کی۔

مسائل:

انگریزی وکیپیڈیا پر (تخریب کاری) vandalism کا مسئلہ ، نئے صارفین کے لیے کام میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

ہندوستانی وکی صارفین کی بہت بڑی تعداد کے باعث پاکستانی صارفین کے لیے کام کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔ افرادی قوت کی کمی وکی پروجیکٹ پاکستان کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث ایک نئے صارف کے لیے چومکھی جنگ لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی بہ نسبت اسے اردو وکیپیڈيا پر زیادہ آسان میدان میسر ہے جہاں وہ با آسانی اپنا کام کر سکتا ہے۔

اردو وکیپیڈيا پر لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے درپیش مسائل سے زیر بحث آئے۔ جن پر شرکاء کو اس ضمن میں تکنیکی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے بہت سارا مواد تفصیل کا طالب ہے جبکہ اردو وکیپیڈیا پر تو صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے، وہاں پاکستان کے حوالے سے مواد بہت زیادہ موجود نہیں۔ کئی پاکستانی صدور، وزرائے اعظم اور اہم رہنماؤں پر مقالے سرے سے موجود نہیں حتیٰ کہ تقسیم ہند اور تحریک پاکستان کا مقالہ بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کے علاوہ پاکستان پر جغرافیائی مضامین کی بھی بہت کمی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر کام کیا جائے۔

انگریزی پر پاکستان کے حوالے سے اچھے مضامین کی کمی ہے۔ پورے وکی پروجیکٹ پاکستان میں ایک بھی “منتخب مقالہ” (Featured Article) نہیں ہے۔

ہندی سے تعاون کرنے کی جو رائے جمی ویلز کی جانب سے پیش کی گئی ہے اس پر عملدرآمد کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ہندی وکیپیڈیا پر سنسکرت کی مشکل ترین اصطلاحات بالکل اسی طرح استعمال کی جا رہی ہیں جس طرح اردو وکیپیڈیا پر عربی اصطلاحات۔

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں، وہ یا تو خود بلاگر ہیں یا بلاگرز سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نہیں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ درپیش آ رہا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر تمام تر مسائل کے باوجود ہمیں اردو کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا، گو کہ زیادہ موثر ہتھیار ہے، کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا کی اہمیت ہمارے لیے اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایک کم پڑھے لکھے معاشرے کے لیے اردو زبان کا مواد زیادہ موثر ہوگا۔

اردو وکیپیڈیا پر زیر استعمال اصطلاحات کے حوالے سے شرکاء نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سائنسی و تکنیکی مضامین کے علاوہ ایسے بہت سے اہم موضوعات ہیں جن پر تنازع پیدا کیے بغیر لکھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر تاریخ ہند و پاک پر زور دیا گیا۔

تجاویز:

اخبارات میں وکیپیڈیا پر مضامین شایع کروانے چاہئیں، خصوصاً اس صورتحال میں مضامین کی اشاعت کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اخبارات انگریزی و اردو وکیپیڈیا سے بڑی حد تک استفادہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے نکلنے والے جرائد میں وکیپیڈيا کے حوالے سے مضامین کی اشاعت کے امکانات بہت زیادہ ہیں اس لیے اس جانب توجہ کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین وکیپیڈيا کی جانب متوجہ ہوں خصوصاً اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے۔ اس سلسلے میں اسپائیڈر اور انٹرنیٹ میگزین کے نام خاص طور پر لیے گئے جبکہ اردو وکیپیڈیا کے لیے گلوبل سائنس وغیرہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں قومی اخبارات میں شایع ہونے والے آئی ٹی کے صفحات کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وکیپیڈیا کا معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کا نظریہ زیادہ سے زیادہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح وکیپیڈیا کو نیا خون بھی میسر آ سکتا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا کے صارفین مقامی کمیونٹی میں متحرک ہوں، خصوصاً بلاگرز کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستانیوں کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پروجیکٹ پاکستان کئی ماہ سے غیر فعال ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنا کر اردو ویب سائٹس اور بلاگز پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ پاکستان میں معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کے نظریے کی ترویج کا حصہ بنیں۔

وکیپیڈیا پر کام صرف اور صرف مضامین لکھنا نہیں بلکہ زمرہ جات (کیٹگریز) کی درستگی، روابط (لنکس) ڈالنا، املاء کی غلطیاں درست کرنا، تصاویر شامل کرنا اور دیگر چھوٹے موٹے کام بھی اپنی جگہ بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کو انجام دینے کے لیے بھی خاص طور پر اردو وکیپیڈیا کو افراد کی ضرورت ہے، جبکہ انگریزی میں پروجیکٹ پاکستان وغیرہ کو متحرک کرنے کے لیے صارفین کی اشد ضرورت ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اردو وکیپیڈیا زیادہ موثر ہے نسبتا انگریزی وکیپیڈيا کے۔ کیونکہ انگریزی میں مضامین پہلے سے تیار شدہ ہیں، جن میں آپ ایک حد تک اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اردو میں تخلیقی مواد پیش کرنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا ابھی تعمیری مراحل میں ہے اور اس پر بہت زیادہ مواد کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی ترویج کے لیے ہندی وکیپیڈیا والی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے جس کے مطابق انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کسی بھی مضمون پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ابتدائیے کا اردو ترجمہ اردو وکیپیڈیا پیش کریں گے۔ اسی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے آج ہندی وکیپیڈیا جو کچھ عرصہ قبل اردو سے بہت پیچھے تھا، اب کہیں آگے نکل چکا ہے۔

فیصلے:

انگریزی وکیپیڈیا پر مضامین میں کام کرنے والے افراد کم از کم تعارفی حصہ اردو میں ترجمہ کر کے اردو وکیپیڈیا کے لیے پیش کریں گے۔

عربی وکیپیڈیا سے تراجم اردو وکیپیڈيا پر پیش کیا جائیں گے۔

اردو وکیپیڈيا پر پاکستان کے حوالے سے موجودہ مضامین میں اضافہ کیا جائے گا اور اہم مضامین کی تخلیق کے لیے منصوبہ تشکیل دیا جائے گا۔

پاکستان کے حوالے سے تصاویر کی کمی ہے۔ جو ساتھی اپنی تصاویر دائرۂ عام میں دینا چاہتے ہیں، وہ اس سلسلے میں ثاقب قیوم کی مدد کریں گے۔

اگلی ملاقات موجودہ میٹنگ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی روشنی میں جلد از جلد طے کی جائے گی۔

ویب سائٹس/بلاگز پر اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنائے جائیں گے۔

انگریزی وکیپیڈیا سے وابستہ افراد کمیونٹی میں متحرک ہوں تاکہ بلاگرز اور دیگر انٹرنیٹ صارفین کو انگریزی وکیپیڈيا پر لکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

سوالنامہ:

آخر میں شرکاء سے سوالنامہ بھروایا گیا جس سے اندازہ لگایا گیا کہ صارفین وکیپیڈیا کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔

Google Buzz

اسلام کو نشاۃ جدید کی ضرورت

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سوادِ اعظم اب بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے۔ لیکن دماغ مغربی افکار اور مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر اسلام سے منحرف ہو رہے ہیں اور یہ انحراف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سیاسی غلبہ و استیلا سے قطع نظر، مغرب کا علمی اور فکری داب و تسلط دنیا کی ذہنی فضا پر چھایا ہوا ہے اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیں کہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمان کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پر سوچنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ اشکال اس وقت تک دور نہ ہوگا جب تک مسلمانوں میں آزاد اہلِ فکر پیدا نہ ہوں گے۔ اسلام میں ایک نشاۃ جدید (Renaissance) کی ضرورت ہے۔ پرانے اسلامی مفکرین و محققین کا سرمایہ اب کام نہیں دے سکتا۔ دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے۔ اس کو اب الٹے پاؤں ان منازل کی طرف واپس لے جانا ممکن نہیں ہے جن سے وہ چھ سو برس پہلے گزر چکی ہے۔ علم و عمل کے میدان میں رہنمائی وہی کر سکتا ہے جو دنیا کو آگے کی جانب چلائے نہ کہ پیچھے کی جانب۔ لہٰذا اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتا ہے تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکر و نظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے ان بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہوئی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقِ فکر و نظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنا رکھیں جو خالص اسلامی فکر کا نتیجہ ہو۔ ایک نئی حکمتِ طبیعی (Natural Science) کی عمارت اٹھائیں کہ وہ تمام دنیا پر چھا جائے اور دنیا میں مغرب کی مادی تہذیب کے بجائے اسلام کی حقانی تہذیب جلوہ گر ہو۔

اقتباس: تنقیحات از ابو الاعلیٰ مودودی

Google Buzz

جدیدیت بذریعہ جبر – قسط اول

آجکل ہر طرف ‘شدت پسندی’، ‘عسکریت پسندی’، ‘دہشت گردی’ اور ملتی جلتی اصطلاحات کا غلغلہ ہے۔ کچھ لوگ اس کا حل عسکریت پسندی بمقابلہ عسکریت پسندی میں تلاش کرتے ہیں تو کچھ اس میں ‘بات چیت’ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے صورتحال اس حد تک گمبھیر ہو گئی کہ اطراف ایک دوسرے سے مذاکرات کے روادار نہیں؟ وہ کیا عوامل تھے جو اس تصادم کا سبب بنے؟ اس کے لیے ہمیں تاریخ میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

پرانے شکاریوں کا نیا جال

مغرب 11 ویں صدی میں مذہب کے نام پر بلادِ اسلامیہ پر چڑھائی کر چکا تھا اور 200 سال تک صلیبی جنگوں کی صورت میں لاحاصل جنگیں اُس پر مسلط رکھیں لیکن مذہب سے پیچھا چھڑانے کے بعد وہ مہذب دنیا کا علمبردار بن کر اٹھتا ہے اور ‘غیر مہذب دنیا’ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر تھا ورنہ اس میں عہدِ صلیبی میں کارگر رہنے والا ذہنی سانچہ ہی کام کر رہا تھا۔ دونوں طریقہ ہائے کار کئی باتوں میں مشترک تھے اور دونوں کے پیچھے سیاسی، اقتصادی و معاشرتی کے علاوہ مذہبی مقاصد بھی تھے۔ یورپ کے عہد جدید میں کلیسا سیاسی معاملات سے دستبردار ہونے پر رضامند تو ہو گیا لیکن مسلم امہ کے خلاف نوآبادتی دور میں کی گئی تمام کاروائیوں میں وہ لادین مغرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہا اور تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں جہاں نو آبادیاتی قوتیں گئیں وہاں وہاں کلیسا بھی اپنی تبلیغ کے لیے وارد ہوا اور اس نے نوآبادیات میں لادینی برکات سے خوب فیض سمیٹا۔ چھوٹی سی مثال سوڈان کی ہے جہاں جنوبی سوڈان میں مسلمان مبلغین کا داخلہ بند کر دیا گیا اور عیسائی مشنریوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ نتیجتاً وہاں کے مظاہر پرست عیسائی بن گئی اور یہیں عیسائی مسلمان تنازع آج بھی سوڈان کے لیے نزاع کا معاملہ بنا ہوا ہے۔

جڑیں کہاں؟

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ شدت پسندی کی جڑیں نو آبادیاتی دور میں پیوست ہیں جب استعماری قوتوں نے “غیر مہذب دنیا” کو “تہذیب یافتہ” بنانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کام کا آغاز کیا اور مسلم ممالک میں بالآخر ایک ایسا طبقہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئیں جو ظاہراً تو مقامی آبادی جیسا ضرور تھا لیکن اس کا ذہن مغرب کے پیدا کردہ احساس برتری تلے دبا ہوا تھا کہ وہ صرف مغرب کی نقالی کے ذریعے ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ یہ ذہن دراصل صدیوں تک مسلم ممالک کو غلام رکھنے کے بعد مغرب کو حاصل ہونے والا ایک زبردست اثاثہ تھا، جس کی بنیاد پر وہ طویل عرصے تک دنیا پر اپنی حکمرانی برقرار رکھ سکتا تھا اور آج بھی مسلم دنیا میں یہ اُس کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔

آخری ضرب، انتشار کا آغاز

جب لاحاصل جنگیں لڑنے کے بعد ‘تہذیب یافتہ معاشروں’ کی تشکیل کا عمل جاری رکھنے کی قوت نہ رہی اور مسلم دنیا میں ‘مہذب طبقہ’ بھی کافی حد تک بالغ ہو چکا، تو ایک ایک کر کے تمام مقبوضہ مسلم ممالک کو آزاد کر دیا گیا۔ لیکن جاتے جاتے ان معاشروں پر ایک آخری اور کاری ضرب لگائی گئی یعنی بلاد اسلامیہ میں سرحدوں کی تشکیل نو۔ جس کے نتیجے میں کئی ایسی ‘اقوام’ سامنے آئیں جو ماضی میں کبھی بھی ایک قوم نہیں رہیں۔اوطان (وطن کی جمع) کو اقوام کی بنیاد قرار دینے کے مغربی فلسفے کے دلدادہ مقامی ‘مہذب’ افراد نے جب ان ممالک میں زمامِ کار سنبھالی تو بزور شمشیر جدیدیت کو لاگو کرنے کی کوششوں نے مسلم معاشرے کو ایک زبردست تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا۔ ان جدت پسندوں نے مغرب کے اس طرز فکر کو اپنا امام بنایا کہ دور جدید میں مذہب سے پیچھا چھڑا کر ہی ترقی کی جا سکتی ہے، جو کسی طرح مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہ تھا۔ یوں مغربی تہذیب کے پروردہ افراد نے معاشرے کو مغرب کی عطا کردہ لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیا اور وہ بھی اس طرح کہ ان کا تخیل مغرب کی بھونڈی نقالی کے تصور سے آگے پرواز کر ہی نہیں پایا ، کیونکہ اس سے آگے اُن کے پر جلتے ہیں۔ اس طرح ایک زبردست انتشار نے جنم لیا جس نے آج تک مسلم ممالک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

سیب کے درخت سے کیلا حاصل کرنے کی امیدیں

مغربی جدیدیت کو بلاد اسلامیہ میں لاگو کرنے کی کوشش بالکل ویسا ہی عمل تھا جیسا سیب کے درخت میں سے کیلا نکلنے کی امید کرنا۔ اس لیے اس کے وہ نتائج بھی حاصل نہ ہو سکے جن کی امیدیں تھیں۔ دراصل مغربی تہذیب کا خمیر مذہب سے لاتعلقی، الحاد اور مادہ پرستی سے اٹھا تھا اس لیے مسلمانوں کو ابتداء ہی سے اس سے بنیادی اختلافات رہے لیکن چند تجربات نے ان خطرات کو حقیقت ثابت کر دیا کہ مغربی جدیدیت دراصل اسلام کی ضد ہے اور مسلمانوں کو جدید معاشرہ بننے کے لیے اپنے مذہب سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مسلمانوں کو جدیدیت کے جتنے تجربے ہوئے انہوں نے بھی ثابت کیا کہ ‘جدید سیاسی نظام’ میں اسلام اور شریعت کی کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ عیسائیت کے بر خلاف اسلام ایک مکمل سیاسی نظام کا حامل تھا اور ماضی میں زبردست سیاسی قوت بھی رہا تھا اس لیے ایسا ممکن ہی نہ تھا جدیدیوں کی جانب سے مغرب کی نقالی میں مذہب کو دیس نکالا دینے کی کوششوں کے خلاف ردعمل پیدا نہ ہوتا۔

مغرب کا منافقانہ طرز عمل

تصادم کی اس پوری صورتحال کے دوران مغرب کا طرز عمل بھی انتہائی منافقانہ رہا ہے۔ وہ تقریباً ایک صدی سے مسلم ممالک میں جدیدیت کو فروغ دینے اور جمہوریت کو اپنانے پر زور دے رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ آمروں اور بادشاہوں کی پیٹھ ٹھونکتا رہا ہے۔ مغرب نے اپنی آزادی سے جدیدیت کو اپنایا اور اُن تمام طویل و کرب انگیز ارتقائی مراحل سے گزرا جو کسی بھی معاشرے کی تبدیلی کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ مغرب 400 سال تک انقلابات، نسل کشی، مذہبی فرقہ وارانہ تصادم، کلیسائی استبداد، مزدوروں کے استحصال اور روحانی اضطراب سے نبٹتا رہا اور بالآخر اپنی منزل پا لی۔ لیکن مغرب کے مقابلے میں مسلم دنیا میں جدیدیت آزادی اور قومی خود مختاری کے عوض آئی اور اسے یہاں بزور قوت لاگو کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ‘جدیدیت بالرضا’ کے بجائے ‘جدیدیت بالجبر’ تھی۔

حقیقی تصورات کے بجائے بھونڈی نقالی

بھرپور کوششوں کے باوجود مسلم ممالک میں جدیدیت کو لاگو کرنے کی کوششیں اس لیے ناکام ہوئیں کیونکہ اس میں یورپ کی عالمی برتری کے پس پردہ تصورات کو نہیں اپنایا گیا بلکہ محض بھونڈی نقالی کر کے جلد از جلد ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور وہ نمائشی اقدامات بھی ایسے تھے جو براہ راست عوام کی ذاتی زندگی میں مداخلت تصور کیے گئے، لباس، مذہب، عبادات وغیرہ کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ایسا ہی نکلنا تھا۔
اگلی اقساط میں ہم مسلم اکثریتی ممالک میں جدیدیت کے مظاہر کی اولین اشکال اور اسے لاگو کرنے کے طریقہ ہائے کار کے بارے میں پڑھیں گے۔

[ جاری ہے]

Google Buzz

عثمانیہ

عثمانیہ مرکز کی خبر آنے کے بعد لگتا ہے اب مجھے سلطنت عثمانیہ کے حوالے سے اپنے مضامین کو تھوڑی سی ‘بریک’ لگانی ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ عثمان سے تعلق کے باعث دھر لیا جاؤں۔

Google Buzz

مجھے جھوٹ بولنے دیں

سندھی زبان کے معروف ادیب اور ڈرامہ نگار امر جلیل نے روزنامہ جنگ کے لیے کالم لکھنے کا آغاز کیا ہے اور موضوع انتہائی انوکھا چنا ہے “سب جھوٹ” اور ان کا دعویٰ ہے کہ سچ سن سن کر قوم کے کان پک گئے ہیں، اس لیے انہيں کچھ جھوٹ بھی سنانا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ روشنی کی اصل قدر اندھیرے کے باعث ہوتی ہے اور میٹھے کا اصل مزا کڑوا و کھٹا کھانے کے بعد آتا ہے بالکل اسی طرح یہ ضرورت ہے کہ عوام کو جھوٹ سنایا اور دکھایا جائے۔ اس دلچسپ موضوع کے ساتھ وہ آج (13 اکتوبر 2009ء) کو روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر جلوہ افروز ہوئے ہیں اور وہ بھی انتہائی طنزیہ کالم کے ساتھ۔ مجھے اس کالم کی سب سے اہم بات مصنف کی بے خوفی لگی۔ ذرا یہ جملے ملاحظہ کیجیے۔

ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔

میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔

ان دو “جارحانہ” قسم کے جملوں کے ساتھ ملاحظہ کیجیے امر جلیل کا پورا کالم۔

مجھے جھوٹ بولنے دیں

امر جلیل

اس کالم میں آپ جھوٹ پڑھیں گے۔ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، میں فطرتاً جھوٹا ہوں، جھوٹ بولنا میری عادت ہے۔ میں آپکو جھوٹے قصے سناؤں گا، آپ کو جھوٹی کہانیاں سناؤں گا۔ پچھلے 62 برسوں سے آپ نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ آپ جھوٹ کا نام تک بھول چکے ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ جس طرح سکّے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح سچ کے سکّے کا دوسرا رخ جھوٹ ہوتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ باولا کون ہے جو کھلم کھلا جھوٹ بولنے کے درپے ہے۔ اس شخص کا ارادہ کہیں پاکستان پر حکومت کرنے کا تو نہیں ہے؟
آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی۔ میں حقیر فقیر قسم کا گندا بندہ ہوں، محکوم ہوں، میری کیا مجال کہ حاکم بننے کے خواب دیکھ سکوں۔ ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں ایم این ایز کے بچے این اے اور ایم پی ایز کے بچے ایم پی اے بنتے ہیں۔ انہیں میں سے وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنتے ہیں۔ پاکستان میں وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں ، پیروں اور مرشدوں کے خاندانوں کیلئے اسمبلیوں میں نسل در نسل سیٹیں مختص ہوتی ہیں۔ ساس، بہو، سسر بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، چاچے، مامے، کزن اور ٹیلنٹڈ کزن اسمبلیوں میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ ان حالات میں مجھ جیسا حقیر فقیر پاکستان کا حاکم کیسے بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ میری بیوی ابھی زندہ ہے۔
میں جھوٹ اس لئے بولنا چاہتا ہوں کہ میرے دل میں وطن اور وطن کے لوگوں کا درد ہے۔ اس سے پہلے وطن اور وطن کے لوگوں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ اس سے پہلے سارے جہاں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ تب میں گلی کوچوں میں گاتا پھرتا تھا۔
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
پھر ایک کیا، دونوں جہاں کسی کی محبت میں ہار کے، ہم چل پڑے شب غم گزار کے۔ تب ایک جہاں کی جگہ وطن نے سنبھال لی۔ تب میں مارا مارا پھرتا تھا اور رک رک کر یہ کہتا تھا ”سارے وطن کا درد ہمارے جگر میں ہے“۔
ایک ڈاکٹر نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا تھا ”بیٹا، تیرے جگر میں وطن کا درد نہیں ہے، تجھے ہیپا ٹائٹس سی ہوگیا ہے“۔
میں ڈرگیا تھا۔ وطن کا درد میں نے جگر سے دل کی طرف منتقل کردیا تھا۔ تب سے مجھے وطن کا درد جگر کی بجائے دل میں محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے 62 برسوں سے عوام نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ حکمرانوں نے عوام سے صرف سچ بولا ہے۔ سچ کی اس قدر بوچھاڑ اچھی نہیں ہوتی۔ تاریکی کے بعد آنے والی روشنی آنکھوں کو اچھی لگتی ہے۔ لگاتار روشنی میں رہنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ہم بینائی کھوبیٹھتے ہیں۔ لگاتار میٹھا کھانے سے آپ ذیابیطس کے مریض ہوجاتے ہیں، آپ کے گردے خراب ہوجاتے ہیں، آپ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوجاتے ہیں، آپ دبلے ہوتے جاتے ہیں اور ایک روز غائب ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی میٹھا کھانے کا مزہ کچھ پھیکا کچھ تیکھا، کچھ کڑوا کھانے کے بعد آتا ہے۔ حلوہ کھانے سے دانت کھٹے نہیں ہوتے۔ کچھ کھٹا کھانے کے بعد آپ جان جائیں گے کہ دانت کھٹے ہونا کس کو کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھیرے کے بعد اجالا اچھا لگتا ہے، رات کے بعد دن اچھا لگتا ہے۔ جھوٹ سننے کے بعد سچ اچھا لگتا ہے۔
لگاتار استعمال میں رہنے کی وجہ سے بیچارہ سچ گھس گیا ہے، اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ لوگ بھول چکے ہیں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے اور جھوٹا کسے کہتے ہیں۔ پچھلے دنوں رحمان ڈکیت کے ہلاک ہونے کی خبر آئی تھی۔ ہر خبر کی طرح یہ خبر بھی سچ تھی کیونکہ سرکار کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ اس کے بعد میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔ ان کے کان سچ سننے کے عادی ہوچکے ہیں، وہ سچ کے سوا کچھ نہیں سنتے۔
یہ تشویشناک صورتحال ہے، سچ سننے، سچ پڑھنے اور سچ دیکھنے کی اس قدر عادت اچھی نہیں ہوتی۔ سرکار تو آخر کار سرکار ہوتی ہے۔ انڈا دے یا بچہ دے۔ یہ سرکار کی مرضی پر منحصر ہے۔ کون جانے سرکار کس کروٹ بیٹھے اور جھوٹ بولنا شروع کردے۔ سرکار کے منہ سے لگاتار 62 برس سچ اور صرف سچ سننے کے بعد سرکار کے منہ سے ایک جھوٹ سننے کے بعد لوگ سکتے میں آجائیں گے۔ وہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ پوری قوم کوما میں چلی جائیگی۔
ایسی بپتا پڑنے سے پہلے میں لوگوں کو ذہنی طور پر جھوٹ سننے کے لئے آمادہ کرنا چاہتا ہوں۔ بہت سچ سن چکی ہے یہ قوم!ْ نصف صدی اور اضافی بارہ برس چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ایک شخص کے سینئر سٹیزن ہونے کے بعد سٹھیانے کیلئے اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی میں 35 فیصد لوگوں کے دماغ میں خلل ہے۔ ان اعدادوشمار میں یقیناً صداقت ہے۔ کوئی سبب تو ہے کہ چھوٹے بڑے موبائل فون پر پانچ روپے میں پوری رات بات کرتے ہیں، اور دن بھر دفتروں، دکانوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اونگھتے رہتے ہیں اور خراٹے لینے لگتے ہیں۔ ان حالات میں میرا قومی فرض بنتا ہے کہ میں لوگوں کو جھوٹ سننے پر آمادہ کروں اور جھوٹ کا بول بالا کروں۔
ایک عرصے سے میں گلی کوچوں، سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں صدا لگاتے پھرتا تھا ”ہے کوئی خدا کا نیک بندہ جو مجھے اپنے سمعی، بصری اور اشاعتی ادارے سے جھوٹ بولنے کی اجازت دے!“
کیا مجال کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگتی، مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انسان کے سر میں طرح طرح کی وبائیں اور بلائیں پڑجانے کے بعد جوؤں نے اپنا مسکن بدل لیا ہے، اپنا حلیہ تک تبدیل کرلیا ہے۔ اب جوئیں انسان کے سر میں رہنے کے بجائے سوٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر سیکریٹریٹ میں رہنے لگی ہیں۔ یاد رہے کہ سیکریٹریٹ سرکار کا سر ہوتا ہے جس میں جوئیں سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری اور سیکریٹری کا روپ دھار کر رہنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں اکثر اوقات سرکھجاتے نظر آتی ہیں۔
جس ملک اور معاشرے میں صرف سچ بولا جاتا ہو، ایسے ملک اور معاشرے میں جھوٹ بولنا اور سراسر جھوٹ لکھنا آسان کام نہیں۔ میں اپنے انجام سے واقف ہوں۔ جھوٹ لکھنے کی پاداشت میں ہوسکتا ہے مجھ پر کاروکارری کا الزام لگا کر مجھے قتل کردیا جائے۔
ہوسکتا ہے مجھ پر بلاسفیمی کی تہمت لگا کر میرا سر کاٹ کر تن سے الگ کردیا جائے لیکن میں دھن کا پکا ہوں، بچپن سے آج تک جتنے گانے میں نے سنے ہیں ان سب گانوں کی دھنیں مجھے یاد ہیں۔ خاص طور پر راگ درباری کی دھن گنگنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
لہٰذا مجھے کچھ بھی ہوجائے، حالات دگرگوں ہوجائیں، میں کہتا پھروں گا ”سچ کھپے“۔
چونک گئے نا؟ میں جانتا تھا آپ چونک جائیں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ شخص جو جھوٹ بولنے اور جھوٹ لکھنے کے درپے تھا، اچانک ”سچ کھپے“ کیوں کہہ بیٹھا ہے! سچ چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کے دو معنی ہیں۔ ایک معنیٰ سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ تب اس لفظ کو بڑی پذیرائی ملی تھی جب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے فرمایا تھا ”پاکستان کھپے“ یعنی ”پاکستان چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کا دوسرا مطلب ہے، ختم ہوجائے، Finish ہوجائے۔ جیسے ”دارو کی یہ بوتل کھپے (یعنی ختم ہوجائے) اس کے بعد دوسری بوتل کھولیں گے“۔
ایک اور مثال : ”امریکی ڈالروں کا یہ انبار کھپے یعنی ختم ہوجائے، اس کے بعد دوسرے انبار پر ہاتھ ماریں گے“۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے ”سچ کھپے“ کس حوالے سے استعمال کیا ہے۔

Google Buzz

مجرد مذہب اور دین میں فرق

مجرد مذہب جسے انسانی زندگی کے صرف ایک چھوٹے سے خانے سے واسطہ ہوتا ہے ، اسے لے کر چلئے تو وعظ اور فیضانِ نظر سے بڑھ کر کسی سرگرمی کی ضرورت نہیں پڑتی، اوپر سے کوئی سا نظام سایہ پھیلائے ہوئے اور معیشت و معاشرت کے معاملات کسی بھی نہج پر چل رہے ہوں، لوگوں کے ذہنوں میں کچھ بھلے سے عقائد کی جگہ بھی نکالی جاسکتی ہے، انہیں کچھ جاپ، منتراور وظیفے بھی سکھائے جا سکتے ہیں، انہیں مسکینی و تواضع اور رحم دلی و ہمدردی جیسی خوبیوں سے بھی کسی نہ کسی حد تک آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک فاسد اور ظالم نظام میں اپنی خدمات کھپاتے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے نہایت ہی انسانیت کش راستوں سے رزق اور مفادات حاصل کرتے ہوئے ضمیر میں جو گھاؤ پڑتے رہتے ہیں، صوفیانہ طرز کے انفرادی مذہب اور ان کے بنائے ہوئے پیری مریدی کے ادارے ان کو ساتھ کے ساتھ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے دیتے رہتے ہیں اور ان پر مرہم لگے پھائے رکھتے ہیں۔

بد ترین تمدن کے اندر چھوٹا سا گوشۂ عافیت نکالنے والے مذاہب بھی در حقیقت انسان کے ذوق فراریت کی تخلیق ہیں۔ وہ اجتماعیت کے دائرے میں بڑے بڑے جرائم کرنے اور خوفناک مظالم میں حصہ لینے کے بعد انفرادیت کی کٹیا میں بیٹھ کر اپنے خدا کو راضی کرتا اور اپنے روٹھے ہوئے ضمیر کو مناتا ہے۔ لیکن جو دین غیر الٰہی نظام زندگی کے ٹاٹ میں یاد خدا کا ذرا سا مخمل لگا کر مطمئن نہ ہوتا ہو، بلکہ جسے پوری زندگی کو ہی اپنے رنگ میں رنگنا ہو اس کا کام نرے لجاجت آمیز وعظوں سے، خلوت پسندانہ ریاضتوں اور خدمت خلق کے محدود جذبوں سے نہیں چل سکتا۔ اسے باطل کے قفس کو توڑنے کے لئے ظلم کے دست و پا کو باندھ دینے اور امن و انصاف کے دورِ تمدن کی طرح ڈالنے کے لئے قوت کی ضرورت ہوتی ہے، اجتماعی تبدیلیاں بغیر مزاحمتوں کے واقع نہیں ہو جاتیں، اور مزاحمتیں توڑنے کے لئے نرے وعظ کافی نہیں ہوتے۔ جن کے جمے جمائے سلسلہ ہائے مفادات کو اکھیڑا جاتا ہے اور جن کے ڈھب پر کام کرنے والی ترتیب معاشرہ کو بدلا جارہا ہوتا ہے، وہ اپنا سارا زور تخریبی اقدامات میں کھپا دیتے ہیں۔ کوئی تحریک ان کو جب تک زور بازو سے کام لے کر راستہ سے نہ ہٹائے اجتماعی اصلاح کے خوش آئند خوابوں کی تعبیر کبھی برآمد نہیں ہوسکتی۔

نعیم صدیقی کی ‘‘محسن انسانیت’’ سے اقتباس

Google Buzz