تحاریر برائے ماہِ نومبر ، ۲۰۰۹


سیکولر ازم اور وقار

تحریر: شاہنواز فاروقی
مغرب کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے ایسے عناصر ہیں جو مغرب اور اس کے سیکولر ازم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان سیکولر ہوجائے تو دنیا میں اس کا وقار بلند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 2A سے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے مذہبی جماعتیں اکثر فائدہ اٹھاتی ہیں تو کیا واقعتاً اگر ہم سیکولر ہوجائیں تو دنیا میں ہمارا وقار بلند ہوسکتا ہے؟ لیکن ہر دعویٰ اپنی شہادتیں طلب کرتا ہے۔ البتہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مارشل ٹیٹو کے سابق یوگوسلاویہ میں رہنے والے بوسنیا وہرزیگووینا کے مسلمان سرتاپا سیکولر تھے‘ اتنے سیکولر کہ انہوں نے اپنے مسلم ناموں تک کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عالمی برادری نے انہیں کتنا وقار فراہم کیا؟ یوگوسلاویہ ٹوٹا توبوسنیا ہرزیگوینا کی”سیکولر مسلمانوں” کے لیے آزادی کا امکان پیدا ہوا مگر امریکا اور پورے یورپ نے کہا کہ ارے یہ مسلمان سیکولر تھوڑی ہیں یہ تو صرف مسلمان ہیں چنانچہ انہوں نے سربوں اور کروشیائی باشندوں کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا اور انہوں نے ساڑھے تین سال کی جنگ میں دو سے ڈھائی لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ سربوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو قتل کیا کہ تم نہیں تو کیا تمہارے آباواجداد تو مسلمان تھے۔ آپ کو معلوم ہے، بوسنیا میں ہونے والے اکثر حملوں کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت کیا تھی؟ یہ کہ ان میں سے اکثر حملے پڑوسیوں نے کیے۔ ان پڑوسیوں نے جو چالیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے پڑوسی تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تجربے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ سیکولر ازم نے مسلمانوں کا وقار عالمی برادری میں بہت بلند کردیا۔ یہ تو ایک قوم کی مثال ہوئی۔ دوسری مثال ایک رہنما یعنی یاسر عرفات کی ہے۔ یاسر عرفات بنیاد پرست نہیں تھے۔ وہ اپنی نہاد میں ایک قوم پرست اور سیکولر رہنما تھے مگر مغرب ان کو دہشت گرد کہتا تھا۔ اسرائیل ان کے خون کا پیاسا تھا۔ یاسر عرفات بالآخر مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت وضع کیے گئے امن سمجھوتے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط بھی کردیے مگر اسرائیل نے اس عظیم سیکولر رہنما کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی ایک شق پر بھی عمل درآمد کرکے نہ دیا۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو بالآخر ان کے دفتر میں محصور کردیا اور تقریباً تین سال تک محصور رکھا۔ یاسر عرفات اس دفتر سے نکل کر فرانس پہنچے تو چند ہی روز میں ان کا نہایت پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ یاسر عرفات کا سیکولرازم ان کے اور خود ان کی قوم کے کتنا کام آیا؟
تیسری مثال ایک ملک یعنی ترکی کی ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے مگر ترکی تو آئینی اعتبار سے سیکولر ہے اور دوچار سال سے نہیں 70سال سے سیکولر ہے مگر اس کے باوجود ترکی چالیس برس سے یورپی اتحاد کے دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اندر آنے دو اور ترکی سے کہا جارہا ہے کہ تم تو مسلمان ہو۔ سوال یہ ہے کہ ترکی کے سیکولر حال اور سیکولر ماضی نے عالمی برادری میں ترکی کے وقار کو کتنا بلند کردیاہے اور ترکی کا سیکولر ازم اس کے کتنے کام آرہا ہے؟
خود پاکستان کی تاریخ سیکولر رہنماؤں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب سیکولر تھے۔ جنرل یحییٰ سیکولر تھے۔ بھٹو سیکولر تھے۔ بے نظیر بھٹو سیکولر تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو کتنا بلند کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک مثال، صرف ایک مثال؟ پچاس سال کے سیکولرازم کو اتنا غریب تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ اور یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ مسلم دنیا گزشتہ پچاس سال سے سیکولر دنیا ہی ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں اگر غربت ہے تو اس کا ذمہ دار سیکولرازم اور اس کے علمبردار ہیں۔ اس دنیا میں اگر ناخواندگی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ضرورت سیکولرازم نہیں مذہب ہے۔ مغرب کا لبرل ازم نہیں اسلام ہے۔ سیکولرازم مسلم دنیامیں گندا انڈا ثابت ہوچکا۔ اس سے کچھ برآمد ہونا ہوتا تو اس کے لیے پچاس سال بہت تھے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا چنانچہ اب سیکولرازم کی حمایت مسلمانوں اور ان کے معاشروں سے بدترین زیادتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے عزت و توقیر حاصل کی ہے، اپنی انفرادیت پر اصرار کرکے کی۔ ہم نے اپنی جداگانہ شناخت پر اصرار کیا تو پاکستان بنا اگر ہم متحدہ قومیت کے قائل رہتے تو پاکستان وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشش کا اصول “مختلف” ہوتا ہے یکساں ہونا نہیں۔ اول تو مسلمان سیکولر ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو صرف نقال بن کر رہ جانا ہی ان کا مقدر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہماری تاریخ میں تو سیکولرازم کی کوئی مثال نہیں چنانچہ ہمیں یورپی تاریخ ہی کو سینے سے لگانا ہوگا۔ اور یہ نقالی کے سوا کیا ہوگا اور نقالوں کو اہلِ مغرب بندر کہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہماری زبان میں یہ جو ایک لفظ ”بابو“ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا ایک چھوٹا سا پس منظر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے لباس اور وضع قطع میں انگریزوں کی نقالی شروع کی تو انہوں نے نقالی کرنے والوں کو Baboon قرار دیا اور Baboon بندر کی ایک قسم ہے کثرتِ استعمال یا کسی اور وجہ سے رفتہ رفتہ اس لفظ سے صرف “N” غائب ہوگیا اور صرف ”بابو“ باقی رہ گیا۔ تو کیا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان تاریخ میں صرف ”بابو“ بن کر رہ جائیں؟؟ کیا یہ کوئی بڑی عزت کی بات ہوگی؟؟۔

Google Buzz

اردو وکیپیڈیا پر تازہ سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے بلاگ سے غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ بہت عرصے بلکہ سالوں کے بعد اردو وکیپیڈیا پر بھرپور انداز میں متحرک ہوا اور کافی مضامین تحریر کیے۔ فی الوقت مضامین لکھنے کا یہ سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے، سنچری کے بعد ناٹ آؤٹ اننگ جاری ہے۔ ذیل میں حال ہی میں تحریر کردہ مضامین کی فہرست پیش کر رہا ہوں، امید ہے بہت سارے قارئین کے لیے کارآمد ہوں گے۔ مضامین کی یہ فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہے۔ چند مضامین صرف ابتدائی صورت میں ہیں، ان میں وقتا فوقتا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ اس مرتبہ یہ فہرست کچھ زیادہ طوالت کا شکار ہے اس لیے اگر کوئی پڑھ پڑھ کر تھک جائے تو اس سے پیشگی معذرت۔

تاریخ

  • امارت بخارا – وسط ایشیا کی ایک ریاست، 1785ء تا 1920ء
  • پرل ہاربر حملہ – دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم معرکہ، جنگ کا پانسہ پلٹنے میں اس معرکے کا اہم کردار تھا۔
  • جنگ ویت نام – دور جدید کی ایک اہم جنگ، ویت نام میں اشتراکیوں کی فتح اور موجودہ ریاست کا قیام
  • چنگ خاندان – یا مانچو خاندان، چین پر حکومت کرنے والا آخری خاندان
  • خانان خیوہ – وسط ایشیا کی ایک سابق ریاست، 1511ء تا 1920ء
  • خدیو – عثمانی عہد میں مصر کے والی کا لقب۔
  • سیاہ موت – قرون وسطی میں یورپ میں طاعون کی ایک زبردست وبا، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث Black Death کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
  • عظیم کھیل – 19 ویں و 20 ویں صدی میں وسط ایشیا پر بالادستی کے لیے روس اور برطانیہ کے درمیان مسابقت کے بارے میں استعمال ہونے والی اصطلاح
  • کساد عظیم – 1930ء کی دہائی میں امریکی و عالمی معیشت کا ایک زبردست بحران Great Depression
  • محاصرۂ مالٹا – عثمانی ترکوں کی جانب سے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا کا ناکام محاصرہ
  • معاہدۂ ورسائے – پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور اتحادی قوتوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ
  • نازی جرمنی – دوسری جنگ عظیم سے قبل نازی پارٹی اور ایڈولف ہٹلر کے زیر اقتدار جرمنی
  • نشاۃ ثانیہ –قرون وسطی میں جہالت کے اندھیروں سے یورپ کی کروٹ، مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز

شخصیات

بلاد و اماکن

  • برسلز – بیلجیئم کا دارالحکومت
  • بیونس آئرس – ارجنٹائن کا دارالحکومت
  • ترکی – ایشیا و یورپ کے سنگم پر واقع ایک اہم ملک
  • تل ابیب – اسرائیل کا اہم ترین شہر
  • تونس شہر – تونس کا دارالحکومت
  • الجزائر شہر – الجزائر کا دارالحکومت
  • ریو دے جینیرو – برازیل کا مشہور شہر
  • ساؤ پالو – برازیل کا سب سے بڑا شہر
  • طرابلس، لیبیا – لیبیا کا دارالحکومت
  • قارص – ترکی کا ایک شہر
  • قرطاجنہ – فونیقیوں کا قائم کردہ قدیم شہر، آج صرف کھنڈرات کی صورت میں باقی ہے
  • کنشاسا – عوامی جمہوریہ کانگو کا دارالحکومت
  • کیپ ٹاؤن – جنوبی افریقہ کا اہم شہر و بندرگاہ
  • لاس اینجلس – امریکہ کا مشہور شہر، تعلیمی و تفریحی لحاظ سے دنیا میں ممتاز مقام کا حامل
  • لاس ویگاس – امریکہ کا شہر، قمار بازی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور
  • لاگوس – نائجیریا کی اہم بندرگاہ و سابق دارالحکومت
  • ماسکو – روس کا دارالحکومت
  • مالدووا – مشرقی یورپ کا ایک ملک
  • میکسیکو شہر – میکسیکو کا دارالحکومت
  • نیروبی – کینیا کا دارالحکومت

تعمیرات

متفرق

جغرافیہ

Google Buzz

نامق کمال

نامق کمال بے

نامق کمال، (پیدائشی نام محمد کمال) ترکی کے ایک قوم پرست شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نویس، صحافی، مترجم اور سماجی مصلح تھے۔ نامق کمال کے افکار نے نوجوانان ترک اور ترک قوم پرست تحاریک پر زبردست اثرات ڈالے اور ترک زبان کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ وہ ترکی زبان کے غیر ملکی طلباء کے لیے لسانی مواد تیار کرنے والے بہترین مصنفین میں سے ایک تھے۔

ترکی کی مشہور ادبی شخصیت خالدہ ادیب خانم کے مطابق

آپ کی ذات جدید ترکی کی محبوب ترین شخصیت تھی اور ترکی کے افکار و سیاست کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی۔ (حوالہ: Turkey faces West، از خالدہ ادیب خانم)

سوانح حیات

آپ سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول کے مغرب میں واقع علاقے تکیر داغ میں 21 دسمبر 1840ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے فارسی، عربی اور فرانسیسی تعلیم نجی حیثیت میں حاصل کی۔

آپ نے صوفیہ (موجودہ بلغاریہ، جو اس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا) کے قیام کے دوران شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اور نامق تخلص اختیار کیا۔ عربی اور فارسی کی تکمیل بھی اسی شہر میں کی اور باقاعدہ فرانسیسی زبان سیکھنے کا آغاز بھی یہیں کیا۔ آپ کی شادی بھی اسی شہر میں ہوئی۔

1857ء میں آپ استنبول آ گئے اور باب عالی کے دفتر ترجمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ 5 سالہ دور ملازمت میں آپ کا استنبول کے ممتاز شعرائے کرام سے تعارف ہوا۔

ابتداء میں وہ غالب لسکوفچالی سے انتہائی متاثر تھے جو علماء کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی اقدار و نظریات کے علمبردار تھے۔ بعد ازاں وہ مصنف اور اخبار ‘تصویرِ افکار’ کے مدیر ابراہیم شناسی سے متاثر ہوئے جنہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ میں گزارا تھا اور مغربی طرز فکر کے حامل تھے۔ شناسی نے نامق کو مغربی انداز اختیار کرنے کامشورہ دیا۔ 1865ء میں نامق اُس وقت تصویر افکار کے مدیر بنے جب شناسی فرانس چلے گئے تھے۔ تاہم 1867ء تک اس اخبار کی پیدا کردہ سیاسی ہلچل نے سلطنت عثمانیہ کے لیے مسائل کھڑے کیے۔ کریٹ (اقریطش) کے مسئلے پر ایک اداریہ لکھنے پر اخبار پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی گئی۔ سیاسی مضامین کے باعث تصویر افکار سلطنت عثمانیہ کاسب سے با اثر اخبار بن گیا۔ “نوجوانان ترک” کی اصطلاح سب سے پہلے اسی اخبار میں شایع ہوئی۔

1865ء میں ہی اصلاحات کے حامی چھ نوجوانوں نے اتفاق جمعیت کے نام سے خفیہ تنظیم قائم کی جس میں معروف ادیب و شاعر ضیاء گوک الپ اور نامق کمال کے نام نمایاں تھے۔ اس تنظیم کو ژون تورک لر، ارباب شباب ترکستان، گنج عثمانلی لر اور ینی عثمانلی کے مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔

حکومت کی جانب سے زیر عتاب آنے کے بعد مارچ 1867ء میں نامق کمال، ضیاء پاشا اور ان کے تیسرے ساتھی علی سعاوی پیرس روانہ ہو گئے۔

نامق کمال نے اپنا یہ وقت مطالعے اور وکٹر ہوگو، روسو اور مونٹیسکیو جیسے فرانسیسی مصنفین کے ادبی کاموں کے ترکی میں تراجم کرنے میں گزارا۔ آپ نے یہاں ایک اخبار ‘حریت’ بھی نکالا جو مالی امداد بند ہونے کے باعث 1869ء تک ہی چل سکا حالانکہ یہ اخبار بعد ازاں مالی امداد ملنے کے باعث دوبارہ شروع ہوا لیکن نامق نے پھر اس سے کوئی تعلق نہ رکھا۔

لندن، ویانا اور برسلز میں کچھ عرصہ قیام کے بعد 1871ء میں نوجوانان عثمان استنبول واپس آئے تو نامق کمال نے اخبار ‘عبرت’ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی انقلابی تحاریر جاری رکھیں۔

اسی زمانے میں آپ نے ایک متنازع ڈرامہ ‘وطن’ تحریر کیا جو یکم اپریل 1873ء کو استنبول میں پیش کیا گیا جسے عثمانی حکومت نے قوم پرستانہ اور آزاد خیال افکار کے باعث خطرناک قرار دیا اور 9 اپریل کو نامق کمال کو قبرص میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ کی یہ نظر بندی 3 سال دو ماہ جاری رہی۔ اس عرصے میں آپ نے کئی ڈرامے، ناول اور تنقیدیں لکھیں۔
سلطان عبد العزیز کی جگہ مراد پنجم کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے 3 جون 1876ء کو آپ کی معافی کا اعلان کیا اور یوں 29 جون 1876ء کو آپ استنبول واپس آئے۔

نومبر میں آپ شورائے دولت (کونس آف اسٹیٹ) اور آئین سازی کے لیے ذیلی مجلس کے رکن مقرر ہوئے۔ صرف 93 دن کی خلافت کے بعد سلطان عبد العزیز کو معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ عبد الحمید نے عنان اقتدار سنبھالی۔ ابتداء میں انہوں نے دستور کی پابندی کا وعدہ کیا لیکن جلد ہی آئین منسوخ کر دیا گیا۔

فروری 1877ء میں نامق کمال کو سلطان کو معزول کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ الزام سے بری ہونے کے باوجود آپ کو رہا نہ کیا گیا اور ساڑھے پانچ ماہ استنبول میں قید رہنے کے بعد آپ کو مدللی (Midilli) جلا وطن کر دیا گیا۔

اپریل 1879ء میں آپ کو اسی جزیرے کا حاکم بنا دیا گیا۔ پانچ سال تک اس جزیرے کے حاکم رہے۔ اکتوبر 1884ء میں آپ کو جزیرہ رہوڈس کا حاکم بنا دیا گیا جہاں آپ تین سال حاکم رہے۔ انہوں نے رہوڈس کے کتب خانے کی توسیع میں ذاتی دلچسپی لی اور ہندوستان، ایران، مصر اور یورپ بھر میں گماشتے بھیج کر ذاتی خرچ پر کتب منگوائیں۔

بعد ازاں آپ کو ساکز (Chios) کا گورنر بنائے گئے، جہاں 2 دسمبر 1888ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر محض 48 سال تھی۔
عارضی طور پر ساکز میں دفنائے گئے بعد ازاں صاحبزادے علی اکرم نے جزیرہ نما گیلی پولی کے قصبے بولیر میں ایک بزرگ سلیمان پاشا کے پہلو میں دفن کرایا۔ سلطان عبد الحمید نے قبر پر مقبرہ تعمیر کرایا۔

تخلیقات

آپ کے معروف ادبی کاموں میں

  • رویہ
  • زوالی چوجک
  • کربلا
  • عاکف بے
  • گل نہال
  • انتباہ
  • امیر نوروز

شامل ہیں۔ آپ کی چند تحاریر قلمی ناموں سے جبکہ متعدد بغیر نام کے شایع ہوئیں۔

افکار و خیالات

ایک سماجی مصلح کی حیثیت سے نامق کمال کو دو بنیادی خیالات کے باعث شہرت حاصل ہے: ایک وطن دوسرا حریت (آزادی)۔ ایک آزاد خیال مفکر ہونے کے باوجود نامق کمال نے اسلام کو کبھی مسترد نہیں کیا۔ آپ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک آئینی حکومت کی حامل جدید ترکی ریاست سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ آپ کے سب سے زیادہ مشہور ناول ” علی بین سرگزشتی” (علی بے کی سرگزشت، 1874ء) اور 16 ویں صدی کے کریمیائی تاتاری خان عادل گیرائے کے حالات زندگی پر مبنی ناول “جزمی” (1887-88ء) ہیں۔

آپ نے تصویر افکار، حریت اور عبرت کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی مضامین لکھے جن میں مراۃ، مخبر، بصیرت، حدیقہ، اتحاد، صداقت، وقت اور محرر شامل تھے۔
نامق کمال کی حب الوطنی پر لکھی گئی تحاریر نے ترک قوم پرست تحریک اور جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کو بے حد متاثر کیا تھا۔

Google Buzz