سیکولر ازم اور وقار
تحریر: شاہنواز فاروقی
مغرب کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے ایسے عناصر ہیں جو مغرب اور اس کے سیکولر ازم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان سیکولر ہوجائے تو دنیا میں اس کا وقار بلند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 2A سے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے مذہبی جماعتیں اکثر فائدہ اٹھاتی ہیں تو کیا واقعتاً اگر ہم سیکولر ہوجائیں تو دنیا میں ہمارا وقار بلند ہوسکتا ہے؟ لیکن ہر دعویٰ اپنی شہادتیں طلب کرتا ہے۔ البتہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مارشل ٹیٹو کے سابق یوگوسلاویہ میں رہنے والے بوسنیا وہرزیگووینا کے مسلمان سرتاپا سیکولر تھے‘ اتنے سیکولر کہ انہوں نے اپنے مسلم ناموں تک کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عالمی برادری نے انہیں کتنا وقار فراہم کیا؟ یوگوسلاویہ ٹوٹا توبوسنیا ہرزیگوینا کی”سیکولر مسلمانوں” کے لیے آزادی کا امکان پیدا ہوا مگر امریکا اور پورے یورپ نے کہا کہ ارے یہ مسلمان سیکولر تھوڑی ہیں یہ تو صرف مسلمان ہیں چنانچہ انہوں نے سربوں اور کروشیائی باشندوں کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا اور انہوں نے ساڑھے تین سال کی جنگ میں دو سے ڈھائی لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ سربوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو قتل کیا کہ تم نہیں تو کیا تمہارے آباواجداد تو مسلمان تھے۔ آپ کو معلوم ہے، بوسنیا میں ہونے والے اکثر حملوں کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت کیا تھی؟ یہ کہ ان میں سے اکثر حملے پڑوسیوں نے کیے۔ ان پڑوسیوں نے جو چالیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے پڑوسی تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تجربے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ سیکولر ازم نے مسلمانوں کا وقار عالمی برادری میں بہت بلند کردیا۔ یہ تو ایک قوم کی مثال ہوئی۔ دوسری مثال ایک رہنما یعنی یاسر عرفات کی ہے۔ یاسر عرفات بنیاد پرست نہیں تھے۔ وہ اپنی نہاد میں ایک قوم پرست اور سیکولر رہنما تھے مگر مغرب ان کو دہشت گرد کہتا تھا۔ اسرائیل ان کے خون کا پیاسا تھا۔ یاسر عرفات بالآخر مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت وضع کیے گئے امن سمجھوتے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط بھی کردیے مگر اسرائیل نے اس عظیم سیکولر رہنما کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی ایک شق پر بھی عمل درآمد کرکے نہ دیا۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو بالآخر ان کے دفتر میں محصور کردیا اور تقریباً تین سال تک محصور رکھا۔ یاسر عرفات اس دفتر سے نکل کر فرانس پہنچے تو چند ہی روز میں ان کا نہایت پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ یاسر عرفات کا سیکولرازم ان کے اور خود ان کی قوم کے کتنا کام آیا؟
تیسری مثال ایک ملک یعنی ترکی کی ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے مگر ترکی تو آئینی اعتبار سے سیکولر ہے اور دوچار سال سے نہیں 70سال سے سیکولر ہے مگر اس کے باوجود ترکی چالیس برس سے یورپی اتحاد کے دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اندر آنے دو اور ترکی سے کہا جارہا ہے کہ تم تو مسلمان ہو۔ سوال یہ ہے کہ ترکی کے سیکولر حال اور سیکولر ماضی نے عالمی برادری میں ترکی کے وقار کو کتنا بلند کردیاہے اور ترکی کا سیکولر ازم اس کے کتنے کام آرہا ہے؟
خود پاکستان کی تاریخ سیکولر رہنماؤں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب سیکولر تھے۔ جنرل یحییٰ سیکولر تھے۔ بھٹو سیکولر تھے۔ بے نظیر بھٹو سیکولر تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو کتنا بلند کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک مثال، صرف ایک مثال؟ پچاس سال کے سیکولرازم کو اتنا غریب تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ اور یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ مسلم دنیا گزشتہ پچاس سال سے سیکولر دنیا ہی ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں اگر غربت ہے تو اس کا ذمہ دار سیکولرازم اور اس کے علمبردار ہیں۔ اس دنیا میں اگر ناخواندگی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ضرورت سیکولرازم نہیں مذہب ہے۔ مغرب کا لبرل ازم نہیں اسلام ہے۔ سیکولرازم مسلم دنیامیں گندا انڈا ثابت ہوچکا۔ اس سے کچھ برآمد ہونا ہوتا تو اس کے لیے پچاس سال بہت تھے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا چنانچہ اب سیکولرازم کی حمایت مسلمانوں اور ان کے معاشروں سے بدترین زیادتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے عزت و توقیر حاصل کی ہے، اپنی انفرادیت پر اصرار کرکے کی۔ ہم نے اپنی جداگانہ شناخت پر اصرار کیا تو پاکستان بنا اگر ہم متحدہ قومیت کے قائل رہتے تو پاکستان وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشش کا اصول “مختلف” ہوتا ہے یکساں ہونا نہیں۔ اول تو مسلمان سیکولر ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو صرف نقال بن کر رہ جانا ہی ان کا مقدر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہماری تاریخ میں تو سیکولرازم کی کوئی مثال نہیں چنانچہ ہمیں یورپی تاریخ ہی کو سینے سے لگانا ہوگا۔ اور یہ نقالی کے سوا کیا ہوگا اور نقالوں کو اہلِ مغرب بندر کہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہماری زبان میں یہ جو ایک لفظ ”بابو“ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا ایک چھوٹا سا پس منظر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے لباس اور وضع قطع میں انگریزوں کی نقالی شروع کی تو انہوں نے نقالی کرنے والوں کو Baboon قرار دیا اور Baboon بندر کی ایک قسم ہے کثرتِ استعمال یا کسی اور وجہ سے رفتہ رفتہ اس لفظ سے صرف “N” غائب ہوگیا اور صرف ”بابو“ باقی رہ گیا۔ تو کیا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان تاریخ میں صرف ”بابو“ بن کر رہ جائیں؟؟ کیا یہ کوئی بڑی عزت کی بات ہوگی؟؟۔








