تحاریر برائے ماہِ دسمبر ، ۲۰۰۹


موثر ترین مسلم شخصیات

اُردن کے دارالحکومت عمان میں قائم رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی کے عبد الولید بن طلال سینٹر فار مسلم-کرسچن انڈسٹینڈنگ نے گزشتہ ہفتے دنیا کے 500 با اثر ترین مسلمانوں کی فہرست جاری کی۔
اس سلسلے میں 202 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی گئی ہے جو ان شخصیات کے ناموں اور تعارفوں پر مبنی ہے۔ اس دستاویز کو ایڈ مارکوئس اور ارسی غازی نے مدون اور تیار کیا ہے جبکہ پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو اور پروفسرا ابراہیم کالن اس منصوبے کے مدیر اعلیٰ تھے۔
یہ اپنی نوعیت کی پہلی فہرست ہے جو بلاشبہ کافی اہمیت کی حامل ہے۔ جاری کردہ دستاویز میں تعارف کے علاوہ دنیائے اسلام کی رنگارنگی،اولین 50 افراد کا تفصیلی تعارف، مکمل فہرست اور قابل ذکر افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیائے اسلام کا خوبصورت نقشہ اور دیگر اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں۔
فہرست کے ابتدائی 20نام یہ ہیں:
1. شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز السعود – خادم الحرمین الشریفین و شاہ مملکت سعودی عرب
2. سید علی خامنہ ای – رہبر معظم اسلامی جمہوریہ ایران
3. محمد ششم – شاہ مراکش
4. عبد اللہ ثانی بن الحسین – شاہ مملکت ہاشمیہ اردن
5. رجب طیب اردوغان – وزیر اعظم، جمہوریہ ترکیہ
6. قابوس بن سعید السعید – شاہ سلطنت عمان
7. سید علی حسین سیستانی- مرجع حوزہ، نجف
8. محمد سید طنطاوی – شیخ جامعہ الازہر، امام مسجد الازہر
9. یوسف القرضاوی – انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے رہنما
10. علی جمعہ – مفتی اعظم عرب جمہوریہ مصر
11. عبد العزیز ابن عبد اللہ آل الشیخ – مفتی اعظم مملکت سعودی عرب
12. محمد مہدی عاکف – رہبر اخوان المسلمون
13. فتح اللہ گلین – ترک مسلم مبلغ
14. عمرو خالد – مبلغ و سماجی کارکن
15. محمد عبد الوہاب – امیر تبلیغی جماعت پاکستان
16. سعدو ابو بکر ثالث – سلطان سوکوٹو ، نائیجیریا
17. حسن نصر اللہ – سیکرٹری جنرل حزب اللہ، لبنان
18. احمد ہاشم موزادی – چیئرمین نضہۃ العلماء، انڈونیشیا
19. سلمان العودہ – سعودی مفکر و ماہر تعلیم
20. کریم الحسینی آغا خان چہارم – اسماعیلیوں کے 49 ویں امام

اس فہرست کی اولین پچاس شخصیات میں شیخ محمد بن راشد المکتوم، محمد تقی عثمانی، خالد مشعل، محمود مدنی، حمزہ یوسف، اکمل الدین احسان اوغلو، مطیع الرحمن نظامی اور عبد القدیر خان بھی شامل ہیں۔
500 شخصیات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کل 16 شخصیات شامل ہیں جن میں سے دو شخصیات – محمد عبد الوہاب اور عبد القدیر خان – کا ذکر ہو چکا ہے جبکہ دیگر شخصیات یہ ہیں (بلحاظ حروف تہجی):

  • ڈاکٹر اسرار احمد
  • اشفاق پرویز کیانی
  • افتخار محمد چودھری
  • بلاول بھٹو زرداری
  • تنویر کوثر نعیم
  • چودھری اعتزاز احسن
  • سلمان احمد
  • ظفر اسحاق انصاری
  • عبد الستار ایدھی
  • عطاء الرحمٰن
  • محمد طاہر القادری
  • مختاراں بی بی
  • ملیحہ لودھی

202 صفحات کی یہ دستاویز انتہائی اہم اور معلومات سے بھرپور ہے، اور امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے جرائد کی جانب سے جاری کی جانے والی مختلف فہرستوں کی اہمیت کے باعث مسلم دنیا میں اپنا مقام بنا لے گی۔ جاری کردہ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر با اثر ترین مسلم شخصیات کی فہرست جاری کرے گا۔
مکمل دستاویز ذیل میں آن لائن پڑھیے یا ڈاؤنلوڈ کیجیے:
500 موثر ترین مسلم شخصیات

Google Buzz

اسلم کمال کی خطاطی، جدید آہنگ میں

پاکستان میں خطاطی کو نئے انداز میں متعارف کروانے میں صادقین کے ساتھ جس شخص کا نام لیا جاتا ہے وہ اسلم کمال ہیں۔ آپ نے مصورانہ آہنگ میں خطاطی کر کے اس علم کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ مصورانہ خطاطی نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت بخشی، اور آپ کا شمار پاکستان کے چند بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط میں ہوتا ہے۔
آپ ایک جامع الکمالات شخصیت ہیں۔ آپ عالمی شہرت یافتہ مصور و خطاط ہونے کے علاوہ ایک اچھے افسانہ نگار، صاحب طرز شاعر اور سفر نامہ نگار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں، بلکہ آپ ماہر اقبالیات بھی ہیں اور ایوان اقبال میں ڈائریکٹر پروگرام کے عہدے پر فائز ہیں۔
شاندار خدمات پر 1993ء میں آپ کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا اس کے علاوہ آپ نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر درجنوں اعزازات حاصل کیے۔
سرورق تخلیق کرنا آپ کا سب سے پسندیدہ اور مشہور کام ہے اور پاکستان کونسل آف آرٹس کے ریکارڈ کے مطابق 1961ء سے 2000ء تک آپ نے 18 ہزار سے زائد سرورق تخلیق کیے، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ آپ نے اقبال اور فیض کی شاعری کو بھی مصورانہ آہنگ میں پیش کیا اور خوب داد سمیس1۔آپ کے خطاطی کے مخصوص انداز کو خط کمال کہا جاتا ہے۔
ماہ رواں میں اردو محفل پر ایک گفتگو کے دوران برادر محترم نبیل حسن نے خط کمال کو فونٹ کے قالب میں ڈھالنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اصل مسئلہ ان کی خطاطی کے نمونوں کی دستیابی کا تھا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس محترم اسلم کمال کی مرتب کردہ کتاب “اسلامی خطاطی- ایک تعارف” موجود تھی جس میں اسلم کمال صاحب کی خطاطی کے درجنوں نمونے تھے۔ پہلی فرصت میں ان نمونوں کو اسکین کر کے فونٹ بنانے کے ماہر اشتیاق علی کو ارسال کر دیے گئے جنہوں نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض تین دنوں میں اس خط کو فونٹ کے قالب میں ڈھال کر زندہ جاوید کر دیا۔

یہ فونٹ آپ “جہان قلم” سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ اسلم کمال صاحب ایک شاعر بھی ہیں، اس لیے اس تحریر کا اختتام انہی کی شاعری پر کرتے ہیں:

متاع دیدۂ تر سے
میں اپنے مو قلم کو با وضو کر کے
“ا” لکھتا ہوں، “ب” لکھتا ہوں
بنور روزن غار حرا
بفیض جلوہ ہائے روح الامیں
بنام رحمت للعالمیں
بیاد خوش نویسان رسول
بیاد باب شہر علم — علی ابن ابی طالب
بیاد آں امام عاشقاں پور بتول
“ا” لکھتا ہوں اور “اللہ” لکھتا ہوں
میں “بسم اللہ” لکھتا ہوں

Google Buzz

بلاگ بھگوڑے کی سرگرمیاں

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے کا دورانیہ اس مرتبہ کچھ ایسا بڑھا ہے کہ بلاگنگ سے توجہ بالکل ہٹ گئی ہے۔ گو کہ پہلے بھی کبھی بہت زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ بلاگ نہيں لکھا لیکن ایسے طویل وقفے پہلے کبھی نہیں آئے جو اب آ رہے ہیں۔ امید ہے کہ وکیپیڈیا پر جاری منصوبے جلد تکمیل کو پہنچیں گے اور بلاگ کی جانب کچھ توجہ کرنے کا وقت ملے گا۔ دوسری طرف منظرنامہ ایوارڈ کے لیے ووٹنگ کا بھی آغاز ہو چکا ہے اور ووٹنگ کے خاتمے میں محض چند روز باقی ہیں۔ اتنے اعلی بلاگرز کی فہرست میں خود کو پا کر بہت خوشی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اپنی نالائقی پر شرمندگی بھی۔ تاہم میری التجا یہی ہوگی کہ حقدار کو اس کا حق ضرور دیں اور دوستیاں نبھانے کے بجائے حقدار کو ووٹ دیں۔

چلیے اب یہاں بلاگ پر آ ہی  گئے ہیں تو وکیپیڈیا پر اپنے لکھے گئے کچھ تازہ ترین مضامین سے ہی آگاہ کرتے جائیں۔ میں نے اس حوالے سے گزشتہ تحریر میں بتایا تھا کہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات کا حال بہت برا ہے اور اس لیے اردو وکیپیڈیا پر میں نے اور چند دیگر ساتھیوں نے ارادہ کیا ہے کہ اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں کو بہتر شکل دی جائے اور انہیں انگریزی والوں کے لیے رہنما بنایا جائے۔ اسی لیے آج کی فہرست میں پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات زیادہ ہیں۔ امید ہے بلاگ کے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ گزارش بھی ہے کہ اگر اغلاط نظر آئیں یا کسی معلومات کے اضافے کا ارادہ ہو تو بلا جھجک ان مضامین میں اضافہ فرماتے جائیں۔ ان مضامین میں سے چند ایسے ہیں جن میں دیگر وکی ساتھیوں کا تعاون بہت حد تک شامل رہا ہے۔

بلاگ ماہرین میری مدد کریں کہ یہاں میرے بلاگ پر چند مقامات پر بجائے متن کے سوالیہ نشان بنے آ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بیٹھے بیٹھے نجانے کہاں سے آ گیا۔ اسے حل کرنے میں میری کچھ مدد کریں، مشکور ہوں گا۔

پاکستان

اہم سرکاری عہدے

سیاسی جماعتیں

انتظامی تقسیم

قومی شاہراہیں

کراچی کے قصبہ جات

متفرق مضامین

Google Buzz

سقوط مشرقی پاکستان – چند اہم وجوہات

ہر سال 16 دسمبر آتا ہے، مشرقی پاکستان کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ قائد کے پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات زیر غور آتی ہیں اور بالآخر “رات گئی بات گئی” کی طرح ختم ہو جاتی ہیں لیکن ہم نے کبھی ان وجوہات سے سبق حاصل کرنے اور موجودہ صورتحال میں انہی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بہت ساری باتیں ایسی بھی ہیں جنہیں بہت کم زیر غور لایا جاتا ہے۔ اب آزادئ اظہار رائے کا دور ہے، بہت سارے پہلوؤں پر کھلے عام بحث کی جا رہی ہے ورنہ کچھ عرصہ قبل تک عام آدمی کے ذہن میں تصور ہی یہی تھا کہ بنگالیوں نے پاکستان سے غداری کی جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا۔ میں نے کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر، جو ڈھاکہ میں جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں، خرم مراد صاحب کی خود نوشت “لمحات” پڑھ رہا تھا۔ مرحوم کیونکہ خود ڈھاکہ میں رہ چکے تھے اور ان ایام کو اپنی نظروں سے دیکھ تھے جس میں یہ عظیم سانحہ رونما ہوا اس لیے ان کی کتاب اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

ان کی کتاب “لمحات” اور دیگر چند کتب پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سب سے اہم سبب یہاں کی عسکری و سیاسی قیادت کا غیر جمہوریت پسندانہ رویہ تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی دیگر کئی وجوہات ہیں، جن کا ذکر یہاں کروں گا۔

سقوط مشرقی پاکستان

مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی چند انتہائی بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک آبادی کے لحاظ سے وہ زیادہ بڑا علاقہ تھا جس کی وجہ سے کہ مغربی پاکستان کی نوکر شاہی اور عسکری قیادت کو یہ “خطرہ” لاحق ہو گیا کہ اگر سیاسی نظام کو جمہوری انداز میں چلنے دیا گیا تو بنگالی برسر اقتدار رہیں گے۔ اسی وجہ سے بنگال سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے غلام محمد نے برطرف کر کے پاکستان کے سیاسی نظام میں ایسی بدعت کا آغاز کیا جس کا خمیازہ بعد میں آنے والی کئی جمہوری حکومتیں بھگتتی رہیں۔ مغربی پاکستان میں دارالحکومت کراچی میں بیٹھ کر ایسی نوکر شاہی اور عسکری قیادت، جس کا 90 فیصد مغربی پاکستان کے باشندوں پر مشتمل ہو، حکومت چلانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ فوج اور نوکر شاہی تو کسی کی دال نہ گلنے دیتی، یہ تو خواجہ ناظم الدین جیسے شریف النفس انسان تھے، جن کو ہٹانے سے جمہوری حکومتوں کے قتل کا سلسلہ چل نکلا۔ رہی سہی کسر محمد علی بوگرہ کی حکومت کے خاتمے نے پوری کر دی جن کے دور میں دستور ساز اسمبلی ایک ایسی ترمیم منظور کرنے جا رہی تھی جس میں گورنر کے اختیارات کو کم کیا جانا تھا لیکن غلام محمد نے پہلے اسے برطرف کر دیا، یوں مطلق العنان آمریت کی مضبوط بنیاد ڈال گئے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے یہ دونوں بازو ہزار میل کے فاصلے پر صرف اور صرف اسلام کے رشتے سے جڑے تھے۔ جب قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے اسلام میں دلچسپی ہی نہ دکھائی تو پھر یہ رشتہ بے معنی تھا۔ وہاں سوشلسٹ اور سیکولر نظریات پھلتے پھولتے رہے اور انہی سے بنگلہ قوم پرستی نے بھی جنم لیا تو یہ جلتی پر تیل والا کام ہو گیا۔

تیسری اہم وجہ ہماری قیادت کا بے وجہ جذباتی پن تھا جس میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ نہ دینا تھا۔ اس بے جا اصرار کے نتیجے میں بنگالی قوم پرستوں کو عوام کے جذبات سے کھیلنے کا موقع ملا۔ “سرکاری زبان صرف اردو ہوگی” کا نعرہ تو لگا لیا گیا لیکن یہ محض جذباتی نعرہ تھا اور نتیجہ وہی ہوا کہ اردو آج تک سرکاری زبان نہ بن سکی اور بنگالی بولنے والے بھی ہم سے الگ ہو گئے۔ اس خواہ مخواہ کی کشمکش نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے باشندوں کے درمیان نفرت کے بیج بو دیے اور زبردست انتشار پیدا ہوا جو بالآخر سقوط مشرقی پاکستان پر منتج ہوا۔

پھر ماحول ایسا تخلیق کر دیا گیا کہ جس میں مغربی پاکستان کے باشندوں کے بنگال کے باشندوں کے مقابلے میں احساس تفاخر و برتری تھا اور وہ انہیں کم تر سمجھتے تھے۔ بنگال کے باشندوں کی ذہانت، حب الوطنی، قوت اور صلاحیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور انہیں دیگر قوموں کے مقابلے میں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دیے جاتے۔

چوتھی اہم وجہ وسائل کی تقسیم میں زبردست عدم توازن تھا اور یہ تک کہا گیا کہ “مغربی پاکستان کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے” لیکن اس کے باجود 25 سالوں میں مشرقی پاکستان میں جس بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا تو بالکل درست نہیں ہوگا کہ اقتصادی لحاظ سے بنگال کا علاقہ تقسیم ہند کے بعد مزید کمزور ہو گیا البتہ صوبوں کے درمیان وسائل کی یکساں تقسیم کا مسئلہ اُس وقت بھی آج ہی کی طرح گمبھیر تھا۔

پانچویں ایک اہم وجہ، جس پر کم دھیان دیا جاتا ہے، دارالحکومت کا کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا جانا تھی۔ کراچی پاکستان کی تمام اقوام کا شہر تھا جو حقیقتاً پاکستانیت کا مظہر بھی تھا۔ اس کے مقابلے میں جس نئے دارالحکومت کا انتخاب کیا گیا وہ فوج کے صدر دفاتر (جی ایچ کیو) کے دامن میں واقع تھا اور یوں سیاست دانوں پر واضح کر دیا گیا کہ اب حکومت فوج کی گود میں بیٹھ کر چلے گی۔ دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی نے بھی بنگالیوں کے ذہنوں پر بہت کچھ واضح کر دیا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے جمہوری حق کو ختم کرنے کے لیے ایک اور چال چلی جا چکی ہے۔

چھٹی سب سے بڑی اور اہم وجہ 1970ء کے انتخابات کے بعد فاتح عوامی لیگ کی اقتدار میں آنے کی تمام راہیں مسدود کرنا تھی جس کی مغربی پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت نے مل کر بھرپور کوشش کی۔ گو کہ 1970ء کے انتخابات میں بھی شیخ مجیب الرحمٰن نے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا تھا کہ بلکہ انہوں نے “چھ نکات بھی نافذ ہوں گے اور پاکستان بھی ایک رہے گا” کا بیان تک دیا۔ چاہے ان کے ارادے کچھ بھی ہوں، لیکن ان کے اس بیان سے اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام میں اس وقت بھی پاکستان مخالف جذبات اتنے زیادہ نہیں تھے، وہ مغربی پاکستان کی فوج اور افسر شاہی کے ضرورخلاف تھے اور اپنا آئینی و قانونی حق ضرور مانگتے تھے لیکن وہ وفاق پاکستان کے ہر گز خلاف نہ تھے یہی وجہ ہے تھی کہ مجیب الرحمٰن کو اس طرح کے بیانات بھی جاری کرنا پڑے ۔

25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے قبل عوامی لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سے علیحدگی کے حوالے سے بحث کے بعد بھاری اکثریت نے پاکستان کے ساتھ رہنے اور اسے برقرار کھنے پر رائے دی۔ اس میں صرف عوامی لیگ کی حامی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ واحد تنظیم تھی جس کی مرکزی کمیٹی نے پاکستان کے حق میں رائے نہ دی۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ آپریشن کے آغاز سے قبل ہی علیحدگی چاہتے تھے غلط تھا۔ اوپر سے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا ہٹ دھرمی والا رویہ بھی تابوت میں آخری کیل بن گیا۔

گو کہ سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن میں خرم مراد مرحوم کی خود نوشت سے ایک اہم اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا ، جس میں انہوں نے سقوط مشرقی پاکستان سے قبل کے چند اہم واقعات کو پیش کیا ہے:

یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ “کیا مجیب الرحمن پاکستان کے لیے سنجیدہ تھے، اور کیا ان کو اقتدار دے دیا جاتا تو پاکستان ایک رہتا؟” ہمارا اصولی موقف یہ تھا کہ “چونکہ انتخابات ہو گئے ہیں، اسمبلی میں عوامی لیگ کی اکثریت ہے، اس لیے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔” لیکن اس صاف اصولی موقف کے باوجود میں بھٹو صاحب کی اس بات کو بالکل بے وزن نہیں سمجھتا، جس کے مطابق اس بات کا بڑا خطرہ تھا کہ عوامی لیگ اسمبلی کے اجلاس میں آنے کے بعد پاکستان توڑنے کی قرارداد پاس کر دیتی۔ پھر اس کے بعد کسی کے بھی بس میں نہیں تھا کہ پبلک کے نمایندوں کے فیصلہ کو قانونی طور پر روک سکے۔ جبکہ یہ اسمبلی دستور ساز تھی۔

پھر یہ خوف بھی پایا جاتا تھا کہ پاکستان کو اپنے وسائل و ذرائع میں سے علاحدہ ہونے والے حصے کو اثاثہ دینا پڑتا۔ مثال کے طور پر خزانہ، اسلحہ، ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور اثاثہ جات میں آدھے سے زیادہ حصہ ادا کرنا پڑتا کیونکہ اسمبلی کی قرارداد سے یہ ایک قانونی اور دستوری کارروائی ہوتی۔ اس کے برعکس بغاوت کے نتیجے میں علاحدگی میں یہ ذمہ داری نہ ہوتی۔ ممکن ہے کہ مغربی پاکستان کے فیصلہ ساز لوکوں کو سامنے یہ بات بھی ہو، اس لیے وہ “بے دام علاحدگی” کو اپنے حصے کےلیے “نفع بخش سودا” تصور کرتے ہوں گے۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 25 مارچ کے آرمی ایکشن کے بعد کراچی جا کر بیان دیا کہ “خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا”۔ آرمی ایکشن کے غلط فیصلے کے باوجود، میں بھٹو صاحب جیسے ذہین آدمی سے یہ توقع نہیں رکھتا، کہ انہوں نے یہ بیان محض آرمی ایکشن کے حوالے سے دیا ہوگا۔ یقیناً ان کے سامنے کچھ اور باتیں بھی ہوں گی۔ اگرچہ ان باتوں میں تلخی پیدا کرنے اور ہٹ دھرمی کی آگ بھڑکانے کا ایک بڑا فعال سبب وہ خود بھی تھے۔

25 مارچ 1971ء تک مجیب الرحمٰن نے یہ نہیں کہا کہ “آزاد بنگلہ دیش بننا چاہیے”۔ حالانکہ اس دوران مغربی پاکستانی فوجی حکمرانوں اور مغربی پاکستان جو بہرحال ایک سیاسی اکائی نہیں تھا، بلکہ چار صوبے تھے، اس میں سے دو بڑے صوبوں کے سیاسی قائد مسٹر بھٹو نے مشرقی پاکستانی قیادت کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا تھا۔ اس دوران ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں دس دس لاکھ حاضرین کے جلسے ہوئے۔ بنگلہ دیش کا جھنڈا تک بن گیا تھا اور ہر جگہ لہرایا جا رہا تھا۔ بنگلہ دیش کی عظمت کے گیت ایک سماں باندھ رہے تھے اور جارحانہ نعرے فضاؤں میں گونج رہے تھے۔ ریڈیو بنگالی قوم پرستوں کے قبضے میں تھا جہاں سے سونار بنگلہ کا ترانہ نشر کیا جا رہا تھا۔ بنگالی سول سروس ان کے ساتھ تھی۔ یہاں تک کہ جنرل ٹکا خان کو جب صدر یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کا گورنر بنا کر بھیجا تو ڈھاکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا، اور وہ گورنر نہ بن سکے۔ اتنی ہمہ گیر ہڑتال اور ایسا عدم تعاون تھا کہ ہائی کورٹ کا کوئی بھی جج اس فرض کی بجا آوری کے لیے تیار نہیں تھا۔

ان حالات میں جنرل یحییٰ خان اور بھٹو صاحب ڈھاکہ آئے تو بات چیت شروع ہوئی۔ یہی نظر آ رہا تھا کہ بات چیت کا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے بارے میں آج بھی میں سو فی صد اطمینان سے یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ وہ پاکستان کو ایک رکھتے۔ میرے خیال میں ان کو اقتدار دینے سے پہلے مشرقی پاکستان میں عام لوگوں سے ریفرنڈم کرا لیا جاتا تو عام لوگ تو یہی کہتے کہ “پاکستان ایک رہے گا”۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے 25 مارچ سے پہلے بھی مثبت نتائج کے لیے قوی شواہد موجود تھے، حتیٰ کہ آرمی ایکشن کے کچھ عرصہ بعد بھی عام لوگ یہی فیصلہ دیتے۔

Google Buzz

کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء

کراچی کی سالانہ اہم سرگرمیوں میں سے ایک “کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء” پانچ دن تک اپنی رونقیں جمائے رکھنے کے بعد پیر 14 دسمبر کو اختتام کو پہنچا۔ یہ کراچی کے ادبی حلقوں اور کتب کے شائقین کے لیے ایک سالانہ اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے حجم کے اعتبار سے یہ گزشتہ تمام سالوں سے زیادہ بڑا تھا۔ اس میلے میں کراچی والے جس ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں وہ کتاب کے ساتھ اُن کے لازوال رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔

کتب میلے میں بیرون ملک سے صرف ایران، سعودی عرب اور بھارت کے چند ناشرین نے شرکت کی۔ گزشتہ دو سالوں سے کتب میلے میں بیرون ممالک کے ناشرین کی شرکت انتہائی کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔

کتب میلے میں سب سے بڑا اسٹال لبرٹی بکس، پیراماؤنٹ پبلشنگ انٹرپرائز اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کا تھا، جنہوں نے اپنی کتب پر 10 سے 50 فیصد تک رعایت دے رکھی تھی۔ ان کے علاوہ ویلکم بک پورٹ، فضلی سنز، شیخ شوکت اینڈ سنز، دارالسلام، فیروز سنز، جہانگیر بکس، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اقبال اکادمی، دعوۃ اکیڈمی، چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈز، ادارۂ معارف اسلامی اور دیگر کئی ناشران کتب کے اسٹال شائقین و حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ان کے علاوہ سندھیکا اکیڈمی نے پہلی مرتبہ سندھی کی کتب کا اسٹال لگایا۔ علاوہ ازیں کراچی اسکول آف آرٹس کی آرٹ گیلری بھی حاضرین کے لیے کشش کا باعث بنی رہی۔ ہال نمبر 1 میں ایک ایکٹیویٹی سینٹر بھی موجود تھا جہاں بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کے لیے مختلف پروگرامات منعقد کیے گئے۔ کتب کی تقاریب رونمائی اور پذیرائی بھی یہیں منعقد کی گئیں۔ اسی ہال میں بچوں کے ادب اور ڈیجیٹل کتب کے حوالے سے کئی اسٹال موجود تھے جن میں لائٹ ہاؤس کا ای-میگزین اور ٹریو وژن کی بچوں کے لیے سی ڈیز اور ڈیجیٹل سفرنامے بھی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔

اِس مرتبہ میرا اہل خانہ کے ہمراہ کتب میلے میں جانے کا پروگرام بنا اور میلے کے تیسرے روز سہ پہر سے رات گئے تک کا وقت وہیں گزرا۔ اگلا روز یعنی اتوار بھی کتب میلے میں دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ گزرا یوں چھٹی کے دونوں ایام کتابوں کی قربت و رفاقت میں گزرے۔

کتب میلے میں جو کتابیں خریدیں، ان کی فہرست یہ ہے (بلحاظ حروف تہجی):

  • اسباب زوال امت، علامہ شکیب ارسلان
  • اسلام اور سیکولر ازم، خالد نذیر
  • اسلام اور عالمگیریت، ڈاکٹر خالد علوی
  • اسلام سے وابستگی کے تقاضے، ڈاکٹر فتحی یکن
  • اسلام کی دس امتیازی خصوصیات، علامہ سید رشید رضا مصری
  • اقبال اور مسلم تشخص، ڈاکٹر خالد علوی
  • آکسفرڈ اٹلس فار پاکستان، ایڈیشن 2008ء
  • بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، ڈاکٹر ام کلثوم
  • تنقیحات، سید ابو الاعلی مودودی
  • ثقافت کا اسلامی تصور، ڈاکٹر خالد علوی
  • مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ، ڈاکٹر احسان حقی
  • نظریہ پاکستان، ڈاکٹر خالد علوی
Google Buzz

وکیپیڈیا سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے وکیپیڈیا پر سرگرمیاں کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں اور بلاگ پر توجہ کچھ کم ہوئی ہے، کبھی کبھی یہ بھی سوچا کہ شاید خاک وہیں پہنچ گئی ہے جہاں کا خمیر تھا :) کیونکہ میں نے انٹرنیٹ پر اردو کے لیے اپنی سرگرمیوں کا آغاز وکیپیڈیا ہی سے کیا تھا لیکن پھر بلاگ قارئین کا خیال آیا تو یہاں کا رخ کرنے کی جانب مائل ہوا، کیونکہ میں اپنے بلاگ کا اصل اثاثہ ان قارئین کو سمجھتا ہوں جو اپنے قیمتی تبصروں سے نوازتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں چند ساتھی ایسے سامنے آئے جو وکیپیڈیا کا رونا روتے رہے۔ حیرت بھی ہوتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے، شاید غصہ بھی آتا ہو لیکن کیا کیجیے؟۔ تقریبا تمام ہی لوگ اردو وکیپیڈیا پر “مشکل اردو” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ میری بلاگ پر گزشتہ تحاریر کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے پر کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ دیکھتے ہیں معترضین کیا انقلابی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ لیکن اب وہ بڑے بڑے معترض حضرات وکیپیڈیا پر نہیں دکھائی دے رہے جو اپنے بلاگز پر یا بالمشافہ و آن لائن ملاقاتوں میں وکیپیڈیا کی “زبوں حالی” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں اور زبان کے غم میں مرے جاتے ہیں۔ میرا ان تمام ساتھیوں سے مطالبہ ہے کہ آئیے اردو سے اپنے لگاؤ کو ظاہر کیجیے، آپ کے لیے میدان کھلا ہے، اپنے قلم کا جادو دکھائیے اور بتائیے کہ اردو اب بھی ایک زندہ زبان ہے۔ لیکن شاید یہ پکار بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوگی۔

میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اصطلاحات کے مسئلے سے دور ہٹ کر ایسے ہزاروں موضوعات ہیں جن پر اردو میں معلومات منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے لیکن شاید لوگوں کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا شوق ہے۔ ایک بہت بڑے اردو فورم نے بھی اپنی مسجد الگ بنانے کی کوشش کی تھی اور اردو وکیپیڈيا کے مقابلے پر ایک الگ “انسائیکلوپیڈیا” سجانے کا اعلان کیا لیکن آدھی اینٹ ہی اٹھا پائے اور آج ان کا ڈومین تک بند ہو چکا ہے۔ بہت اچھا ہوتا اگر ان کی کوششیں ایک مشترکہ منصوبے پر لگتیں لیکن انا اور ضد کا کیا کیا جائے؟

کوئی مجھے یہ بتائے کہ متنازع اصطلاحات کے حامل مضامین کی تعداد اردو وکیپیڈیامیں کتنی ہے؟ 10 فیصد؟ 20 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 30 فیصد؟ باقی 70 فیصد کام کو کتنا سراہا گیا؟ اس سلسلے میں کام کرنے والوں کی کتنی حوصلہ افزائی کی گئی؟ میرے علاوہ تو کوئی اور بلاگ بھی نہیں لکھتا کہ اسے اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملے۔ کبھی کسی “اردو کے عاشق” نے وکیپیڈیا پر جا کر ان کی کوششوں پر انہیں سلام پیش کیا؟ کبھی مسجد، افغانستان، شام، عراق، تونس، لبنان، صلیبی جنگیں، غزوۂ بدر، قرآن مجید کی سورتوں پر مضامین  دیکھنے کے بعد کسی کو توفیق ہوئی کہ ان ہزار ہا الفاظ پر مشتمل معلومات کے مصنفین کو دو لفظ خراج تحسین کے کہہ دیں۔ باقی اصطلاحاتی انتشار کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے تو ہر شخص اپنی قابلیتیں جھاڑتا دکھائی دیتا ہے۔ اصطلاحات پر تحفظات مجھے بھی ہیں، اور میں ان کا اظہار بھی بارہا وکیپیڈیا پر اور بلاگ پر کر چکا ہوں، لیکن اس کا ہر گز یہ طریقہ نہیں ہے جسے ہمیشہ ہماری اردو کی “عاشق” برادری استعمال کرتی ہے کہ اردو وکیپیڈیا اور اس کے منتظمین و صارفین کو تذلیل کا نشانہ بنایا جائے۔ چند دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ سنجیدہ انداز میں اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی بلکہ چند نے عملا وکیپیڈيا پر حصہ ڈالنا بھی شروع کیا لیکن بیشتر ساتھی ایسے ہیں جو فورا ہی دامن جھاڑ کر اٹھ جاتے ہیں کہ وکیپیڈیا والے تو اردو کی ایسی تیسی پھیر رہے ہیں۔ اور یہ ایک جملہ کہہ کر وہ مکمل طور پر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور اس اہم منصوبے کو پیروں تلے روند کر گزر جاتے ہیں۔

بہرحال اس جذباتی تقریر کے بعد مدعا یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے اردووکیپیڈیا پر مصروف ہوں، بلاگ پر تحاریر بہت کم ہو گئی ہیں، جس کا احساس ہے لیکن طبیعت کی ناسازی فارغ وقت میں بلاگ کے لیے کچھ لکھنے کا موقع نہيں دے رہی۔ کوشش کروں گا کہ بلاگ کے لیے جلد از جلد کچھ لکھ پاؤں۔  فی الحال بلاگ کے کرم فرما وکیپیڈيا پر لکھے گئے تازہ مضامین ملاحظہ کریں۔

بلاد و اماکن

  • آبادان‏ – عراق کی سرحد کے قریب واقع ایک ایرانی شہر
  • ابوجا‏ – نائجیریا کا موجودہ دارالحکومت، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قائم کیا گیا شہر
  • ارومچی‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا دارالحکومت
  • ازنیق‏ – ترکی کا ایک قدیم شہر جو یونانی عہد میں نیقیہ کہلاتا تھا
  • اسٹینلے‏ – جزائر فاکلینڈ کا دارالحکومت
  • بلغراد‏ – سربیا کا دارالحکومت
  • جوہانسبرگ‏ –  جنوبی افریقہ کا ایک اہم شہر
  • عین شمس‏ – مصری دارالحکومت قاہرہ کا ایک قدیم علاقہ
  • کاشغر‏‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا ایک اہم شہر
  • کویت شہر‏ – کویت کا دارالحکومت
  • ماپوتو‏ – موزمبیق کا دارالحکومت
  • ملبورن‏ – آسٹریلیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ، کھیلوں کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف
  • ممباسا‏ – کینیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ
  • موریہ‏ – یونان کا جزیرہ نما
  • نواکشوط‏ – موریتانیہ کا دارالحکومت
  • ہرارے‏ – زمبابوے کا دارالحکومت

جغرافیہ

  • برقہ‏ – لیبیا کا ایک جزیرہ نما جسے انگریزی میں سائرینیکا (Cyrenaica) کہا جاتا ہے
  • جربہ‏ – بحیرۂ روم میں تونس کا ایک جزیرہ
  • کوہ کینیا‏ – کینیا کا بلند ترین اور افریقہ کا دوسرا سب سے بلند پہاڑ، عالمی ثقافتی ورثے میں شامل
  • المغرب ‏‏ – جغرافیائی اصطلاح، مغربی افریقہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، عموما مراکش کو کہا جاتا ہے

پاکستان

سندھ کے اضلاع

اس مرتبہ پاکستان کے اضلاع کے بارے میں مضامین کو مکمل کرنے کی ایک مہم کا آغاز کیا گیا اور ابتدائی طور پر سلمان رضوی صاحب نے پنجاب کے اضلاع اور میں نے سندھ کے اضلاع پر مختصر مضامین لکھنے کی ٹھانی۔ میرے لیے پہلا اور کٹھن مرحلہ سندھ کے اضلاع کے درست اور تازہ ترین نقشے اور ان کی درست معلومات کی دستیابی کا تھا جس میں کافی وقت صرف ہوا بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ درست نقشوں کی تیاری نے اس مرتبہ کافی وقت ضایع کروایا بہرحال سندھ کے اضلاع کے درست ترین نقشے اور معلومات کے ساتھ پہلی مرتبہ پوری معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہوئی ہے۔ یہ معلومات نہ ہی حکومت سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور نہ ہی ضلعی حکومتوں کے مضامین میں بلکہ انگریزی وکیپیڈیا پر بھی غلط معلومات کی بھرمار ہے۔

علاوہ ازیں ضلع کراچی اور اس کے قصبہ جات (ٹاؤنز) پر مضامین لکھنے کا آغاز کیا گیا ہے اور ابھی تک تین مضامین لکھے جا چکے ہیں:

متفرق

تاریخ

  • جنگ آزادی بنگلہ دیش ‏‏ – بنگلہ دیش کی پاکستان سے  علیحدگی کے لیے لڑی جانے والی جنگ، مضمون ابھی ابتدائی صورت میں ہے

ترکیات

Google Buzz