2007ء کے اواخر میں مختلف ساتھیوں کی تحریک میں نے انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت بلاگنگ کے بارے میں “ککھ” نہیں پتہ تھا اور نہ ہی اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔ لیکن جتنے اچھے ساتھی اس میدان میں میسر آئے اور ان کی حوصلہ افزائی اور بلاگنگ سے خود کو پہنچنے والے فوائد کے باعث اسے نہ صرف مستقل چلا پایا بلکہ تحریروں کی “ڈبل سنچری” تک کر ڈالی۔
اب تک میرے بلاگ پر پیش کی جانے والی 200 تحاریر پر تقریباً 1750 تبصرے ہو چکے ہیں جو میری توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پر بلاگ کا حوالہ بہت زیادہ نہیں دیتا لیکن جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں یہی کہتا ہوں کہ میرے بلاگ پر تحریر سے زیادہ تبصرے سیر حاصل ہوتے ہیں، اور یہ سب ان تبصرہ نگاروں کی بدولت ہے جو اپنا قیمتی وقت لگا کر کسی موضوع کر قابل گفتگو سمجھتے ہیں۔
اس “ڈبل سنچری” کی خوشی میں نے اپنے بلاگ پر ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور وہ ہے وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کی بلاگ پر منتقلی تاکہ بلاگ دنیا سے وابستہ افراد اپنے قیمتی تبصروں کے ذریعے ان مضامین کو مزید بہتر بنا سکیں یا پھر نت نئے مضامین کی راہ دکھا سکیں۔ ابھی گزشتہ بلاگرز ملاقات میں ایک مرتبہ پھر کئی بلاگرز نے مطالبہ کیا کہ میں اپنے لکھے گئے وکیپیڈیا کے مضامین کو اپنے بلاگ پر منتقل کروں اور اس ضمن میں سب ڈومین بنا کر اس پر کام کا آغاز کرنے کی تجویز دی گئی۔ تکنیکی دشواریوں کے باعث میں نے عذر تراشا کہ میرے لیے یہ ممکن نہیں لیکن اردو بلاگرز بھی بڑے سیانے نکلے، عمار ضیاء خان نے چند ہی گھنٹوں میں میرے بلاگ پر سب ڈومین بنا کر اس میں ورڈپریس انسٹال کر کے حوالے کر دیا کہ اب آپ جانیں اور آپ کا نیا بلاگ۔
تو صاحبو! اب ہم پر ایک اور بلاگ لاد دیا گیا ہے “وکی نامہ” جہاں میں فی الوقت تو وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کو پیش کرنے میں جتا ہوا ہوں لیکن ایک مرتبہ بڑی تعداد میں مضامین منتقل ہو جانے کے بعد میرا ارادہ اس کو بلاگنگ کی دنیا میں اردو وکیپیڈیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنے کا ہے۔ لیکن فی الوقت اسے صرف مضامین تک ہی محدود رکھوں گا۔
وکی نامہ کو بہتر بنانے کے لیے مجھے قارئین کی مدد ہمیشہ کی طرح اب بھی درکار ہوگی۔ امید ہے کہ ساتھی اس سلسلے میں ضرور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے۔
اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں پر کام کرنے کے دوران موجودہ و سابق معروف قومی سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی ضرورت بھی پڑی اور بہت سارے پرچم وکی میڈیا کامنز میں مل گئے لیکن چند جماعتیں ایسی بھی تھیں جن کے پرچم موجود نہیں تھے۔ “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے” کا عزم لے کر ناموجود پرچم خود بنانے کی ٹھانی۔ ابتدائی طور پر جن پرچموں کی نشاندہی کی گئی، انہیں معروف اوپن سورس ویکٹر گرافکس سافٹ ویئر انک اسکیپ پر بنایا گیا۔ نتائج آپ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں، یہ صرف امیچز ہیں، آپ پرچم پر کلک کر کے ویکٹر ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:
متحدہ مجلس عمل کا پرچم
نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم
بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم
جمعیت علمائے اسلام کا پرچم
اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم
اب اس سلسلے کو کچھ مزید آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ اگر بلاگ قارئین پہلے وکی میڈیا کامنز کے اس زمرے پر ایک نظر ڈالیں، یہاں میرے اور دیگر وکی صارفین کے تیار کردہ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے موجود ہیں۔ اس فہرست کو دیکھنے کے بعد براہ مہربانی نشاندہی کریں کہ وہ کون سی معروف قومی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے پرچم موجود نہیں ہیں اور بعد میں ان پرچموں کا کوئی بھی نمونہ پیش کر دیں ، چاہے وہ کسی بھی فارمیٹ میں ہو، تو اس کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ بلاگ کے قارئین اس سلسلے میں میری اور اردو وکیپیڈیا کی ضرور مدد کریں گے تاکہ اردو کی ترویج کو ہر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے اور پاکستان کے حوالے سے معلومات کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکے۔
عرصہ سے میں نے اخبارات میں آنے والی غلطیوں پر اپنے قلم کو روکے رکھا ہے لیکن آج جتنی بڑی غلطی جنگ اخبار سے کی ہے، اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کا ذکر یہاں کیا جائے۔ آج جنگ اخبار کے صفحۂ اول پر سرخی کے نیچے ایک خبر کچھ یوں ہے
انڈین پریمیر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی “نیلامی” کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ “امن کی آشا” رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں تو بڑے پیمانے پر کس طرح دونوں ممالک ساتھ چل سکتے ہیں۔ بھارت نے یہی حرکت ٹوئنٹی 20 چیمپینز لیگ کے موقع پر بھی کی تھی، جب پاکستان کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کو شرکت نہیں کرنے دی گئی اور یوں چند سال قبل برطانیہ میں دنیا بھر کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیموں کو شکست دینے والی ٹیم یہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر ہی دیکھ پائی۔
دنیا بھر میں آئی پی ایل کے اس قدم کو حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا موجودہ عالمی چیمپین ہے اور اس طرز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پاکستان کے پاس ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان دنیا کی تمام بڑی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے، چاہے ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس کی کارکردگی کیسی بھی ہو۔ اس صورتحال میں دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی شمولیت کو روکنا سمجھ سے باہر ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آخری بولی میں پاکستانیوں پر ترجیح دے کر خریدا گیا ہے وہ یا تو انتہائی کم تجربہ کار ہیں یا چلے ہوئے گھوڑے ہیں، جن کی اب کسی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔ جن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا گیا ان کا ریکارڈ ملاحظہ کیجیے۔ کیرون پولارڈ کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ انہوں نے اب تک صرف 10 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں 7 اننگ میں صرف 86 رنز اسکور اور 7 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسری جانب اسی قیمت پر خریدے گئے شین بونڈ مسلسل اپنی فٹنس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے صرف اس لیے ریٹائرمنٹ لی کیونکہ وہ چھوٹی طرز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت شین بونڈ کی عمر 34 سال ہے اور بلاشبہ وہ ہر گز 18 سالہ محمد عامر سے اچھا آپشن نہیں ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی محض 13 مقابلوں کا ہے جس میں 17 وکٹیں ان کے ہاتھ لگی ہیں۔ کیا یہ کھلاڑی کسی بھی طرح عامر یا عمر گل یا شاہد آفریدی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹھکرایا گیا ان میں آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن کے بہترین کھلاڑی سہیل تنویر، متنازع انڈین کرکٹ لیگ کے شعلہ فشاں بلے باز عمران نذیر، اکمل برادران اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں رکھنے والے عمر گل بھی شامل تھے۔
فرنچائزز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ کسی ایسے کھلاڑی پر رقم نہیں لگانا چاہتے جس کی شرکت یقینی نہ ہو۔ لیکن آخری بولی سے چند روز قبل ہی سے یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ آئی پی ایل انتظامیہ نے فرنچائزز کو پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے ان افواہوں کی تردید کی لیکن بولی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور پھر للت مودی کے بیان نے واضح کر دیا کہ انتظامیہ اور فرنچائزز نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں کرنا۔
پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں شرکت کی تھی جن میں سے سہیل تنویر کو شاندار کارکردگی کی بدولت پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔ سہیل کی ٹیم راجھستان رائلز نے پہلے ایڈیشن میں فتح حاصل کی تھی۔ اگلے سال ممبئی حملوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو بھارت جانے سے روک دیا اور رواں سال انہیں اجازت دی گئی جس پر 26 پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو اپنی دستیابی سے آگاہ کیا۔ جن میں سے 11 کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں بولی کے موقع پر کسی نے نہیں خریدا۔
موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بھارت کے حوالے سے انہیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس سال آئی پی ایل کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں نے نام دیے اور کھیلوں کے کئی ملکی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شاید کھلاڑی اور بورڈ آئی پی ایل انتظامیہ کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار تھا، جو اب دور ہو گئی ہوگی۔ اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توجہ قومی کرکٹ ٹیم پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ممکنہ طور پر تبدیلی کے بہت بڑے عمل سے گزرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مقامی سطح پر کوئی بڑا مقابلہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملکی حالات کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت تو ممکن نہیں ہوگی، لیکن قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین شپ کی طرز کا کوئی کامیاب مقابلہ منعقد کروایا جا سکتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
کیا اسے دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ ہماری قوم جہالت کی کس اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی ہے؟ اور سیاستدان کیسے اس جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں؟ کسی ساتھی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ کیا ذیل کے بیان کے بعد بجنے والی تالیاں معجزہ نہیں ہیں؟ یہ وڈیو دیکھنے کے بعد تو واقعی قوم پر انا للہ پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ آپ بھی دیکھیے اور سر دھنیے۔
ہم اس کے قائل ہیں اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں جو “قوم” کی ہر تعریف اور معیار پر پوری اترتی ہیں۔ ہم دس کروڑ کی ایک قوم ہیں۔ مزید برآں ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ایک مخصوص اور ممتاز تہذیب و تمدن، زبان و ادب، آرٹ اور فنِ تعمیر، احساس اقدار و تناسب، قانونی احکام و اخلاقی ضوابط، رسم و رواج اور تقویم (کیلنڈر)، تاریخ اور روایات، رجحانات اور عزائم کی مالک ہے۔ خلاصۂ بحث یہ ہے کہ زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں ہمارا اپنا ایک امتیازی زاویۂ نگاہ ہے۔ اور قانونِ بین الاقوامی کی ہر دفعہ کے لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں”۔ گاندھی جی سے خط و کتابت (ستمبر 1944ء) [1]
“مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطۂ حیات، اپنے تہذیبی ارتقاء، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کرسکیں”۔ 21 نومبر 1945ء فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب [2]
“ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لیے متحرک کرتے ہیں۔” (21 نومبر 1945ء فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب [3]
“لیگ ہندوستان کے اُن حصوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کی عَلم بردار ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاکہ وہاں اسلامی قانون کے مطابق حکومت کرسکیں”۔ اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب [4]
“مگر خان برادران نے اپنے بیانات میں اور اخباری ملاقاتوں میں ایک اور زہرآلود شور برپا کیا ہے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین سے انحراف کرے گی۔ یہ بات بھی قطعی طور پر غلط ہے”۔29، 30 جون 1947ء کو بیان[5]
ساتھیوں کی گواہیاں
پشاور 14 جنوری: پاکستان کے وزیراعظم مسٹر لیاقت علی خان نے اتحاد و یکجہتی کے لیے سرحد کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے قائداعظم کے ان اعلانات کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ریاست ہوگا…. انہوں نے فرمایا کہ پاکستان ہماری ایک تجربہ گاہ ہوگا اور ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ تیرہ سو برس پرانے اسلامی اصول ابھی تک کارآمد ہیں”[6]
کراچی 26 جنوری: قائداعظم محمدعلی جناح گورنر جنرل پاکستان نے ایک اعزازی دعوت میں (جو انہیں کراچی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے گزشتہ شام دی گئی) تقریر کرتے ہوئے فرمایاکہ “میرے لیے وہ گروہ بالکل ناقابل فہم ہے جو خواہ مخواہ شرارت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنا پر نہیں بنے گا”[7]
“راولپنڈی 5 اپریل: مسٹر لیاقت علی خاں وزیراعظم پاکستان نے آج راولپنڈی میں اعلان کیا کہ پاکستان کا آئندہ دستور قرآن مجید کے احکام پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے فرمایاکہ قائداعظم اور ان کے رفقاءکی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کا نشوونما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو جو اپنے باشندوں کو عدل و انصاف کی ضمانت دے سکے۔”[8]
[1] مسٹر جناح کی تقریریں اور تحریریں، مرتبہ جمیل الدین احمد، ص 181
مصنوعی امن جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے،کیونکہ وہ زیادہ بڑی جنگ کی جانب لے جاتا ہے،اگرامن کی بنیادیں مضبوط، پائیدار اور حقیقی نہ ہوں تو صرف پانچ دس سال کے لئے آپ کسی کو دبا لیں گے ، تسلط قائم کر لیں گے ، مگر مسئلہ پھر اٹھے گا اور ایک نئی آویزش اور کشمکش برپا گی ۔ شاہنواز فاروقی
( شاہنواز فاروقی کی یہ آزاد نظم گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی)
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظرآنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصو ف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں
برادر زبیر انجم کی فرمائش پر “تہذیبوں کا تصادم” کے موضوع پر شاہنواز فاروقی کے ایک لیکچر کی وڈیو یہاں پیش کی جا رہی ہے: ابوشامل