تحاریر برائے ماہِ فروری ، ۲۰۱۰


ملا برادر کی غیر متوقع گرفتاری، اسباب و محرکات

تحریر: زبیر انجم صدیقی

امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی “کامیابی” کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ “کامیابی” ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور عسکریت پسندوں سے رابطے کا ذریعہ، مذاکرات کار اور مزاحمت کے سب سے بڑے جرنیل (انسرجنسی کمانڈر) ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری۔ جس کے بعد جمعرات 18 فروری کو بغلان میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا عبدالسلام اور قندوز میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا میر محمد کو بھی پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری حقیقتاً اتنی نہیں تو اس سے کچھ کم درجے کی کامیابی ضرور ہوتی، اگر یہ اب سے چار یا پانچ مہینے پہلے ہوتی مگر اس وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لئے ان پاکستانی ذرائع ابلاغ نےاس خبر کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جتنا کہ وہ بالعموم نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں کو اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند دنوں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل امکانی صورتیں بنتی ہیں۔

ملا عبد الغنی کی گرفتاری طالبان کے سابق آپریشنل کمانڈر ملا داد اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ملا داد اللہ کو دو ہزار سات میں قندھار میں امریکی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب انہیں امیر المومنین ملا محمد عمر کی حکم عدولی کرنے پر ان کے منصب سے معزول کر کے عسکری کارروائیوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ ملا عمر کی تائید سے محروم ہونے کے بعد ملا داد اللہ کی قندھار کے قریب موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو فراہم کی تھیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اجازت کے بغیر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پر ملا عبد الغنی برادر کو دسمبر میں ان کے منصب سے علیحدہ کر دیا تھا۔ جس پر وہ ملا عمرسے ناراض ہو کر دسمبر میں ہی پاکستان آ گئے تھے۔ اور اس کے بعد سے ملا عمر نے تمام ذمہ داریاں طالبان دور حکومت میں قندھار کے گورنر ملا حسن رحمانی کو دے دی تھیں۔ اور ان دنوں ملا عمر کے بعد طالبان کے سے بڑے رہنما وہی ہیں اور وہی “ڈے ٹو ڈے” بزنس دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ ملا برادر۔

سترہ فروری کو مالدیپ کے صدر کے ترجمان نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ مالدیپ کے صدر نے جنوری میں لندن کانفرنس سے قبل طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی موجود تھے۔ دونوں جانب سے کے وفود گیارہ گیارہ ارکان پر مشتمل تھے۔ افغان مزاحمت کاروں کا گیارہ رکنی وفد تین حصوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔

اول، حزب اسلامی کا وفد (جس میں مالدیپ کے صدارتی ترجمان کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یار کا بیٹا بھی شامل تھا۔ حزب اسلامی کا دائرہ اثر مشرقی افغانستان ہے)

دوم، حقانی نیٹ ورک کا وفد (جنوبی مشرقی افغانستان میں مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ)

اور سوم، ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ملا عمر کی تائید حاصل نہیں تھی

اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر نے تیس جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ان کے حال ہی میں طالبان کی ” کوئٹہ شوریٰ” کے اہم رکن سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ رابطے کہاں اور کس رکن سے ہوئے ہیں۔ مگر سترہ فروری کو مالدیپ کے صدارتی ترجمان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کے بات یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مذاکرات کہاں اور کوئٹہ شوریٰ کے کس رکن سے ہوئے تھے۔

ہمارے اس تجزیے کو اس سوال پر غور کرنے سے بھی تقویت ملتی ہے کہ۔ پاکستان(آئی ایس آئی) طالبان کے کلیدی رہنما کو ایک ایسے وقت میں کیوں گرفتار کرائے گا کہ جب پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے لئے امریکہ اور طالبان سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پیشکش بلکہ خواہش ظاہر کی ہوئی ہے۔ اور جس کے لئےپاکستان کو طالبان کے جتنے اعتماد کی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ پاک فوج کم از کم ایسے وقت میں طالبان کو کوئی بڑا دھچکہ کیوں دے گی۔ اور اس اعتماد کو کیوں خطرے میں ڈالے گی جس کا مصالحت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان ہم آہنگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی ہے۔ جس وقت گیارہ ستمبر کا حملہ ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن ہی میں موجود تھے۔ تاہم حملوں کے بعد وہاں ان کے قیام کو توسیع دے کر ان سے طالبان کے اسٹریٹجک اہداف کی ایک فہرست حاصل کی گئی تھی۔ مگر “خدا کے فضل و کرم” اور اپنے”اسٹریٹجک اثاثے” کی حفاظت کے پیش نظر وہ سارے اہداف ڈمی ثابت ہوئے اور طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بڑا نقصان نہیں پہنچ سکا۔ ملا برادر اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کو اس تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے کلیدی ساتھی نہیں رہے تھے بلکہ اپنے مذاکراتی رابطوں کی وجہ سے ان کے لئے ایک بوجھ بن گئے تھے۔

گرفتاریوں کے اس غیر متوقع سلسلے کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دو نومبر دو ہزار دس کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے جس میں کامیابی کے لئے ڈیموکریٹس کو بہت ساری “فتوحات” اور”بڑی کامیابیوں” کی ضرورت ہے۔ جن میں اوباما انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی بھی شامل ہے۔ اسی لئے تیرہ فروری کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع مرجاہ میں شروع ہونے والے آپریشن مشترک کا “میڈیا ہائپ”‘(ابلاغیاتی بلبلہ) پیدا کیا گیا ہے۔ جسے کبھی گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوج کا سب بڑا آپریشن۔ کبھی طالبان کے زیر انتظام سب بڑی آبادی کو سر کرنے کا خطرناک معرکہ اور کبھی اوباما کی نئی” سرج پالیسی” کا لٹمس ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ جس قسم کی مہم پر پندرہ ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی مرجاہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں، طالبان اس قسم کی جنگ لڑ ہی نہیں رہے ہیں۔ وہ تو پورے افغانستان میں گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، وہ حملہ کرتے ہیں بھاگتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ وہ مرجاہ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اتحادی فوج کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں گے۔ اور”شدید مزاحمت” ہوگی۔ طالبان آپریشن سے کئی دن پہلے ہی مرجاہ سے نکل گئے تھے۔ اس لئے میرا خیال یہی ہے کہ چند دن کے بعد اتحادی فوج”شدید مزاحمت” کو”کچلتے”ہوئے۔ پچاسی ہزار کی آبادی پر کنٹرول قائم کر لے گی۔ جسے اوباما کی سرج پالیسی کی پہلی آزمائش کی “بڑی کامیابی” قرار دے دیا جائے گا۔ اور ملا برادر کی گرفتاری کے بارے میں جس طرح کی خبریں، بیانات اور تجزیے امریکی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون میں اضافے کا ثبوت۔ پاک امریکہ انٹیلیجنس تبادلہ ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ وائٹ ہائوس نے طالبان لیڈر کی گرفتاری کو مشترکہ کوششوں کی فتح قرار دے دیا۔ امریکی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب کے سب”بڑی کامیابی” کے نشے میں چور اورپاکستان کے تعاون کے لئے رطب اللسان ہیں۔ ذیل میں ہم صرف ایک امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے دے رہے ہیں۔

“American and Pakistani intelligence agents continued to press their offensive against the group’s leadership after the capture of the insurgency’s military commander”
“Together, the three arrests mark the most significant blow to the Taliban’s leadership since the American-backed war began eight years ago”.
“The three recent arrests — all in Pakistan — demonstrate a greater level of cooperation by Pakistan in hunting leaders of the Afghan Taliban than in the entire eight years of war”.

اوراس اقتباس پر تویہ کہنے کا دل چاہتا ہے کہ” اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔

Pakistani military and intelligence agencies, led by Gens. Ashfaq Parvez Kayani and Ahmed Shuja Pasha, may finally be coming around to the belief that the Taliban — in Pakistan and Afghanistan — constitute a threat to the existence of the Pakistani state.
“I believe that General Kayani and his leaders have come to the conclusion that they want us to succeed,” a senior NATO officer in Kabul said.

اس تجزیے کے بعد یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر براک اوباما کو فوجی انخلاء کے لئے افغانستان میں فوجی کامیابی کی نہیں بلکہ صرف کامیابی کے تاثر کی ضرورت ہے اور یہ ساری نئی پالیسی اس تاثر کو حاصل کرنے ہی کی سر توڑ کوشش ہے۔ یہ تو تھی غیر حقیقی”بڑی کامیابی” کا تجزیہ۔ اگلے بلاگ میں ہم آپ کو حقیقی بڑی خبر دیں گے۔

Google Buzz

ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔۔

برادر راشد کامران نے ایک چنچل کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے “جنگ” نے ایک عظیم الشان خبر پہلے ہی تیار کر کے رکھی تھی۔

چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (عوامی) کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ ہوا، نتیجے میں 3 محافظوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور خوش قسمتی سے شیخ صاحب بچ گئے۔ اس کے بعد سے الزامات کا ایک سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسی شور و غوغے کے دوران ان تین جاں بحق ہونے والے محافظین کی تدفین عمل میں آئی۔ اس خبر کی سرخی جنگ سے کیا جمائی ہے، ذرا ملاحظہ کیجیے۔ اور اس سرخی سے آپ کیا سمجھے ہیں؟ ہمیں بھی سمجھا دیجیے:

روزنامہ جنگ کراچی 10 فروری 2010ء صفحہ نمبر 16

Google Buzz

مودودی دا کھڑاک

تحریر: زبیر انجم صدیقی

یہ نگارشات لکھنے کا محرک بی بی سی اردو پر آٹھ فروری کو شائع ہونے والا محمد حنیف کا بلاگ بنا ہے جس کا عنوان ہے ’’مودودی دا کھڑاک‘‘۔ میں خود بھی محمد حنیف کےاسلوب تحریر کا مداح ہوں اور ان کے بعض واقعات پر لکھے گئے کالم انتہائی شاندار ہیں جن کا مشاہدہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جا کر کیا جا سکتا ہے۔ ۔مگر ان کے اس مضمون نے ہمارے قلم کاروں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اور وہ ہے تحقیق و اکتشاف سے جی چرانا اور صلاحیتوں اور کاوشوں کو سہل کاموں تک ہی محدود رہنا۔ میرا مقصود ان انگارشات میں حنیف صاحب یا کسی بھی شخصیت کو موضوع بنانا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بات کرنا ہے جس کی نشاندہی محمد حنیف کا بلاگ پڑھ کر ہوئی ہے اسی لئے نمونے کے طور پر انہی کے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمایئے:

خدا کے لیئے فلم سے زیادہ ایک قوم کی پکار ہے جس میں ہر ایک کو بظاہر اپنا چہرہ دکھائی دیا، اپنے دل کی دھڑکن سنائی دی۔اس فلم کا سب سے مقبول ڈائیلاگ وہ ہے جو ہندوستانی اداکار نصیر الدین شاہ کمرہ عدالت میں کہتے ہیں۔
‘داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں۔’
یہ ڈائیلاگ جماعت اسلامی کے بانی حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا ہے۔ اور جب نصیر الدین شاہ اپنی پیٹ تک آئی داڑھی کو سہلا کر یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سینما ہال میں دیر تک تالیاں بجتی ہیں۔ راقم کو کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ تالیاں اسلام کے لیے بج رہی ہیں، داڑھی کے لیے، ان کے باہمی آسان تعلق کے لیے یا پھر نصیر الدین شاہ کے لیے۔ کیونکہ راقم یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہماری ہی زندگی میں یہ کیسے ہوا کہ ناصر ادیب کی بجائے ہمارے پاپولر ڈائیلاگ رائٹر حضرت مودودی قرار پائے

محمد حنیف کا مکمل بلاگ یہاں ملاحظہ کیجیے

جن لوگوں نے بی بی سی اردو پر محمد حنیف کا مذکورہ بلاگ پڑھا ہے ان پر یہ واضح ہو جائے گا محمد حنیف مولانا مودودی کے نظریات و افکار شدید اختلاف رکھتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ہر کسی کو کوئی بھی رائے رکھنے اور اس کا ابلاغ لوگوں تک کرنے کا حق حاصل ہے۔

حنیف صاحب نے مودودی کے بارے اپنی رائے کا اظہار ان کی بھد اُڑانے کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک اچھا مزاحیہ کالم ضرور ہے۔ مجھے بھی یہ کالم پڑھ کر بہت مزہ آیا ہے خاص طور پر عنوان ’’ مودودی دا کھڑاک ‘‘ کا جواب نہیں ہے۔ مگر میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مودودی صاحب کے افکار کا مقابلہ مزاحیہ کالموں اور لطیفوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سنجیدہ تحقیقی اور علمی کام کیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ براہ راست واقف ہیں۔ جن تحریر کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور ان کا دنیا کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جو فکری کام مولانا مودودی نے کیا ہے وہ بالکل اسی سطح کا ہے جو بیسویں صدی میں ان کے ہم عصر علامہ اقبال ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کر چکے ہیں۔ اگر آپ مودودی کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو فکری اور نظری دلائل کے ذریعے ان کا جواب پیش کریں۔ اور ان کے افکار کو غلط ثابت کر کے وہ ’’سحر‘‘ توڑ دیں جو انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کے لکھوکھا ذہنوں پر طاری کر رکھا ہے۔

جس وقت مولانا مودودی نے تحریر و تصنیف کا آغاز کیا اس وقت روس میں سرخ انقلاب آچکا تھا اور کارل مارکس کا معاشی و سیاسی نظریہ چہار دانگ عالم میں ذہنوں کو اپیل کر رہا تھا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں اشتراکیوں نے تختے الٹ دیئے تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اشتراکی تحریکیں موجود تھیں۔ اس لئے کہ کمیونزم ایک جامد اور مجرد نظریہ نہیں تھا بلکہ اپنے جلو میں ایک مکمل سیاسی و معاشی نظام لئے ہوئے تھا جس کا عملی تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس وقت مولانا مودودی نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کی مخالفت محض کمیونسٹ اور اشتراکی شخصیت کی بھد اڑا کر نہیں کی بلکہ کارل مارکس اور اینجل کے سارے کام کا جائزہ لکھ کر اس کو فکری اور نظری اعتبار سے رد کیا اور اس کے مقابلے میں اسلام کا معاشی اور سیاسی نظریہ اس طرح پیش کیا کہ اسلام کاوہ سیاسی نظام جو کئی صدیوں سے عملاً کہیں موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے متبادل اور زیادہ بہتر تصور کے طور پر واضح ہو گیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی کارل مارکس اور اشتراکی حکومتوں اور ان کے نظریات کی بھد اڑا سکتے تھے مگر ان ہتھکنڈوں سے مزاح تو پیدا کیا جاسکتا تھا مگر سوشلزم اور کمیونزم کے افکار کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ علامہ اقبال کی مثال ہی کو لے لیں وہ فلسفے کے طالب علم ہوئے، انہوں نے بھی مغربی مفکرین کی بھد اڑانے جیسے سہل کام کرنے کے بجائے Reconstruction of Religious Thoughts in Islamجیسا شہرہ آفاق مقالہ لکھ کر اپنے فلسفے کی عمارت اس طرح تعمیر کی کہ کانت، نطشے، ہیگل ، برکلےاور گوئٹے جیسےمغربی فلسفیوں کے فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے۔ انہوں نے افکار و نظریات کا مقابلہ افکارو نظریات ہی سے کیا۔ کسی بھی ذہن میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی آپ اس سے اچھی رائے اور خیال پیش کریں وہ اس رائے کا قائل ہو جائے گا۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا

کیونکہ بھد اڑانے سے مزاح تو پیدا ہو سکتا ہے مگر افکار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، افکار کا مقابلہ افکار کرتے ہیں ، نظریات کی جنگ نظریات ہی سے جیتی جا سکتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے انارکی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کسی ٹھوس اور علمی کا م کا جواب طعن و طنز سے کرنے سے خود اپنا ہلکا پن ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اور یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دینے والا اپنی بات میں کوئی سنجیدہ ، علمی اور تعمیری پیغام نہیں رکھتا۔ محسن انسانیتﷺ میں نعیم صدیقی کیا خوب لکھتے ہیں:

جو لوگ خود کوئی تعمیری نصب العین نہیں رکھتے وہ کسی تعمیری کام کو محض اس لئے نہیں ہونے دینا چاہتے کہ کہ ایسا ہونے سے خود ان کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے نمایاں ہونے لگتا ہے

ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ صرف محمد حنیف ہی پہ کیا موقوف تمام اخبارات کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگاروں نے سنجیدہ معاملات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔ بقول اقبال:

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

Google Buzz

بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے اردو بلاگنگ کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور ہر ایک دو ماہ بعد ایک سے بڑھ کر ایک بلاگر اس میدان میں قدم رکھ رہا ہے۔ انہی میں سے ایک ہمارے نئے بلاگر ریاض شاہد صاحب ہیں، جو تاریخ و اسلام کے موضوعات پر تو اپنے قلم کے جوہر دکھا ہی رہے ہیں لیکن انہوں نے تکنیکی طور پر اپنے بلاگر ساتھیوں کو نئی معلومات سے آگاہ کرنے کا بھی بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔
ابھی گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک رہنے کے لیے جی میل کو اپنے بلاگ میں نصب کرنے کا طریقہ پیش کیا جو کئی بلاگرز کے لیے کارآمد ہوگا۔
لیکن افسوس کہ یہ طریقہ محض جی میل تک ہی محدود ہے۔ میں نے سوچا کہ اس کا دائرہ تھوڑا وسیع کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تو جی ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں میبو سے۔
میبو فوری پیغام رسانی (instant messaging) کا ایک ٹول ہے اور اس کا میبو بار دراصل آپ کے بلاگ کے لیے ہے تاکہ آپ کے قارئین آپ کے مواد کو فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے پھیلا بھی سکیں اور آپ سے ہمہ وقت رابطہ میں بھی رہ سکیں۔ آپ میبو کے اکاؤنٹ میں اپنے یاہو، ایم ایس این، جی میل، فیس بک، آئی سی کیو، اے آئی ایم وغیرہ کے کھاتوں کو یکجا کر سکتے ہیں اور اپنی ویب سائٹ سے تمام بلاگ قارئین اور روابط سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ میبو بار انتہائی سادہ و کارآمد بار ہے۔ اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے میبو پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا جو بالکل مفت ہے۔ پھر آپ انٹیگریشن وزرڈ کے ذریعے با آسانی اس بار کو اپنے بلاگ میں شامل کر سکتے ہیں۔
اس بار کو آپ وکی نامہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر پسند آئے تو اسے ضرور استعمال کیجیے اور اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک ہو جائیے۔

Google Buzz