تعارف


مختصر تعارف:
میرا نام ابو شامل ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے انٹرنیٹ پر دنیائے اردو سے وابستہ ہوں۔ آباؤاجداد کا تعلق بالائی سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ میں کراچی میں پیدا ہوا اور زندگی کے ابتدائی دو سال اپنی جیکب آباد میں گزارنے کے بعد ‘پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کاخمیر تھا’۔ اُس وقت سے اب تک بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کی تمام منازل اسی شہرِ پُر آشوب میں طے کیں اور اب جبکہ بڑھاپے کی جانب گامزن ہیں تب بھی یہی شہر مسکن بنا ہوا ہے :) ۔

پیشہ ورانہ زندگی:
شعبہ صحافت سے وابستگی کے باعث گزشتہ 8 سالوں سے قلم کی ایک جدید صورت یعنی کی بورڈ سنبھالے ہوئے ہوں۔ تین سال قبل خبروں کا دامن چھوڑ کر شعبۂ ترجمہ و تالیف سے وابستہ ہوا۔ انٹرنیٹ سے تقریباً 9 سال پرانا تعلق ہے لیکن کبھی بھی ای میل چیک کرنے اور خبروں کے حصول کے آگے بات نہیں بڑھی حتیٰ کہ 2006ء آ گیا۔ جب میں پہلی بار کسی ویب سائٹ کو اپنی خدمات پیش کیں۔ یہ ویب سائٹ تھی “وکیپیڈیا اردو”۔ وکیپیڈیا سے گہری دوستی عرصہ دو سال تک قائم رہی جس کے بعد “نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ۔۔۔۔۔” البتہ اب بھی کوشش ہوتی ہے کہ اردو میں جتنی معلومات بھی میں رکھتا ہوں اسے دنیا بھر کے اردو صارفین کے لیے بذریعہ وکیپیڈیا پیش کروں۔ اردو وکیپیڈیا پر میرا صفحہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے

بلاگنگ کی دنیا میں:
بلاگنگ کے میدان کی جانب آنا میرا ذاتی فیصلہ نہ تھا بلکہ اس میں برادر محب علوی کا کردار تھا۔ بلاگ کا آغاز کرنے کے بعد ہی دیگر بلاگرز کو پڑھنا شروع کیا۔ تکنیکی طور پر صفر ہونے کے باعث ابتداء میں کافی مشکلات پیش آئیں لیکن آہستہ آہستہ ساتھیوں کی مدد سے ان رکاوٹوں کو عبور کیا اور بلاگ کو ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔
بلاگنگ کے آغاز سے قبل اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا لیکن اب سوچتا ہوں تو بلاگ زندگی میں کئی تبدیلیاں بھی لے کر آیا ہے ایک تو تحریر کی مشق اور خیالات کو پیش کرنے کا ہنر آتا ہے اور تحریر پر دیگر لوگوں کے تبصرے اور بار بار کی مشق طرزِ تحریر کو مزید نکھارنے اور سوچ کو نیا زاویہ دینے میں مدد دیتی ہے۔ بلاگنگ کا ایک فائدہ اور ہوتا ہے کہ آپ کا مشاہدہ زیادہ قوی ہوجاتا ہے اور آپ اپنے اردگرد کے واقعات پر زیادہ گہری نگاہ ڈالتے ہیں اور دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ جن واقعات پر آپ عام طور پر نظر نہیں ڈالتے تھے وہی واقعات پھر آپ کے لیے اہم ہو جاتے ہیں۔

اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کا مستقبل:
سب سے پہلے تو چند بنیادی عناصر کا ذکر کرلوں کہ اردو کمپیوٹنگ اس وقت تک عروج حاصل نہیں کر سکتی جب تک ہمارے ملک میں اردو کو اس کا اصل مقام عطا نہیں کیا جاتا اور اردو لکھنے کا رحجان تقویت نہیں پاتا۔ دوسری بات جن علاقوں میں اردو بولی جاتی ہے وہاں ایک تو کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں اور دوسرا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کمپیوٹر پر اردو کس طرح لکھی جاتی ہے؟ اب جب آپ لکھ ہی نہیں سکتے تو آپ انٹرنیٹ پر پھیلے اردو کے مواد کے تلاش کس طرح کر سکتے ہیں؟اس لیے ایک مختصر گزارش کرتا چلوں کہ اردو کے چاہنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قرب و جوار میں واقع تمام کمپیوٹر صارفین کو اردو کی تنصیب کے حوالے سے آگاہ کریں اور ہو سکے تو یہ فریضہ خود انجام دے لیں۔
اگر اردو بلاگنگ کی بات کی جائے تو گو کہ صورتحال بہت زیادہ خوش آئند نہیں ہے، لیکن ایک حوالے سے اسے انگریزي بلاگنگ پر اخلاقی فوقیت حاصل ہے کہ اردو بلاگنگ مکمل خلوص نیت کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ انگریزي بلاگنگ کے معاشی فوائد بھی ہیں جبکہ اردو بلاگنگ میں کچھ ملنے کے بجائے الٹا جیب سے ہوسٹنگ وغیرہ کے پیسے دینا پڑتے ہیں۔ اس لیے اردو میں بلاگنگ وہی کر سکتا ہے جس کو نہ ستائش کی تمنا ہو نہ صلے کی پروا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں بلاگنگ بہت معیاری ہے اور غیر معیاری بلاگز کی تعداد کافی کم ہے۔ دوسری جانب چند ایسے لوگ بھی ہیں جن کی بلاگنگ کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ خصوصاً اردو ٹیک کا ذکر کرنا چاہوں گا جس نے اردو بلاگنگ کو نئی شاہراہو ں پر گامزن کیا ہے۔ اس کے علاوہ اردو ویب، ورڈپریس پی کے اور انفرادی سطح پر چند افراد نےنمایاں کام کیا ہے۔
علاوہ ازیں سال 2008ء میں کراچی میں اردو بلاگرز کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اردو بلاگنگ کو نمائندگی ملی اور 2009ء میں سرکاری سطح پر بلاگرز کے لیے ایک نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں اردو میں بلاگنگ کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انفرادی سطح پر بھی مختلف افراد اردو بلاگنگ کی ترویج کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور اگلے 4 سے 5 سالوں میں اردو کمپیوٹنگ کا مستقبل بہت روشن دکھائی دیتا ہے۔

میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے “منظرنامہ” کو دیا گیا میرا انٹرویو ملاحظہ کریں۔

رابطہ کے لیے مندرجہ ذیل ای میل ایڈریس استعمال کریں:

fahad [at] abushamil [dot] com

fkehar [at] gmail [dot] com

Google Buzz