شکست تسلیم، مگر اعلان بعد میں فتح کے تاثر کے ساتھ
تحریر: زبیر انجم صدیقی
گزشتہ دنوں “ایک اطلاع” کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس دعوے کو تاریخ کے تناظر میں گہرے منطقی دلائل اور زمینی حقائق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس “دعوے” کے صائب ہونے کو ثابت کرتے چلے گئے۔
28 فروری کو برطانوی فوج کے سربراہ ڈیوڈ جنرل رچرڈ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغان جنگ 2011ء میں ختم ہو جائے گی۔ مگر ہمارا اندازہ یہی ہے کہ افغان جنگ 2009ء کے وسط ہی میں ختم ہو گئی تھی۔ اور اس کے بعد سے اس جنگ کو سمیٹنے کا عمل جاری ہے۔ اور یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ افغان مزاحمت کاروں کی فتح پر منتج ہوئی ہے۔ دسمبر میں ایک اور امریکی دفاعی میگزین کی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ کابل کے علاوہ افغانستان کے جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی صوبوں میں کم و بیش 60 فیصد پولیس اور فوج کے اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اور باقی ماندہ بھی بمشکل ہی طالبان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے آثار کو نمایاں کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو جنوبی افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کو ان کے افغان مترجم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد اس مترجم کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ فروری میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض افواج کس طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔ فروری کے وسط میں مشرقی صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب میں ایک کارروائی کے دوران اتحادی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز مد مقابل آ گئیں۔ جس میں سات افغان پولیس اہلکار مارے گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کو “فرینڈلی فائر” قرار دیا ۔ اس طرح کے واقعات اب افغانستان میں معمول بنتے جارہے ہیں جس میں افغان سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی فوجی ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے ہیں۔ 30 جنوری کو خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر ہمام البلاوی کے خود کش حملے کے واقعے نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے میدان میں بھی امریکہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کو اس بات کا علم تو ضرور تھا کہ افغانستان میں قابض افواج کی شکست یقینی ہے۔ مگر 2009ء میں صورتحال اس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگی اس کا اندازہ شاید طالبان کو بھی نہیں تھا۔
“ایک اطلاع” کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ شکست امریکہ کے بجائے افغان مزاحمت کاروں کو ہوتی تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ پر کئی مہینوں تک بریکنگ نیوز کی طرح نشر کی جاتی۔ مگر اس وقت مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس “خبر” کو نشر کریں اور اس کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوباما انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلی عہدیداروں کی “آنیاں جانیاں” افغان جنگ کو سمیٹنے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اور اگر آئندہ چند دنوں میں نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان قیادت سے امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں تو یہ خبر کم از کم ہمارے لئے باعث حیرت نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے نامور تجزیہ کاروں کو اب اس بارے میں سوچنا اور لکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف افغان مزاحمت کاروں کی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت کی شکست ہوگی۔ اور تاریخ کا ادراک رکھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کی شکست کے اثرات اور مضمرات ہمہ گیر اور دور رس ہوا کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مجھے آمادہ تحریر کرنے والی کرشماتی شخصیت نے اپنے 25 فروری کے کالم میں اس بارے میں کیا لکھا ہے:
انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، طبعی عمر پوری ہوتے ہی انسانی ساختہ نظریہ فنا ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 70 سال میں سوشلزم کی نظریاتی کشش کم ہو چکی تھی اور وہ ریاستی طاقت کے سہارے کھڑا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ریاستی طاقت اس کی پشت سے ہٹی سوشلزم منہ کے بل گر گیا۔ چونکہ سوشلزم کا پھیلاؤ عالمگیر تھا اس لئے اس کی پسپائی بھی عالمگیر ثابت ہوئی۔
برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک سے افغانستان کے بارے میں جو اعلانات آ رہے ہیں وہ شکست ہی کا اظہار ہیں۔ چاہے وہ فوج واپس بلانے کا اعلان ہوں یا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار۔ مگر امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کا رویہ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ شکست کا اعلان تو کیا جاسکتا ہے مگر فتح کے تاثر کے ساتھ۔ درج ذیل آزاد نظم آپ اس بلاگ پر ایک بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دوبارہ پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ جو گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظر آنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصوف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں









میں برادر زبیر انجم کا بہت مشکور ہوں کہ میری مصروفیات کے باعث انہوں نے بلاگ اپنی سنجیدہ و بہترین تحاریر سے سجا رکھا ہے۔
ان کی گزشتہ تحریر پر دیکھا گیا ہے کہ چند اخبارات نے اجازت کے بغیر ان کی تحریر کو شایع کیا، میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ جن اخبارات کو ان کی یہ تحریر ارسال کی جائے ان کے علاوہ کسی بھی اخبار کا abushamil.com کا حوالہ دیے بغیر اس تحریر کو نقل کرنا درست نہیں۔ امید ہے کہ اخبارات اس بات کا خیال رکھیں گے۔
جذباتی انداز فکر توازن کی ضد ہے . امریکہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ بیٹھنے کے لئے نہیں آیا تھا. جانا اس کا مقدر ٹھر چکا تھا اور یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو چکی تھی مگر لگتا ہے کہ جاتے جاتے وہ ایک ایسے آتش فشاں کا دہانہ کھول جائے گا کہ ہمیں اسے بجھانے میں دانتوں تلے پسینہ آجائے گا .. خدا سے مستقبل میں پاکستان کے حق میں اچھائی کی دعا کریں .
ابو شامل صاحب
اگر اچھی بات پھیل رہی ہے تو آپ کو خوش ہونا چاہیئے یہ کاپی رائٹس کے چکر میں کیوں پڑ رہے ہیں . مقصد پر نگہ رکھا کریں نہ کہ فروعات پر
محترم ریاض شاہد صاحب
مجھے آپ کی رہنمائی درکار ہے ، کہ جذباتی انداز فکر آپ کو مضمون میں نظر آیا یاآزاد نظم میں ، نظم تو میں نے برسبیل تذکرہ اختتام پر رکھی ہے ۔۔ ہو سکتا ہے کہ میں ’’ جذباتی اندز فکر ‘‘ موجود بھی ہو ۔۔ مگر میں آپ سے یہ سمجھنا چاہوں گا کہ مضمون کی وہ سطور کون سی ہیں جو ’’ جذباتی انداز فکر‘‘ ظاہر کر رہی ہیں ۔
آپ کی نشاندہی کا منتظر
“انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔“
مودوديت کے بارے ميں کيا خيال ہے؟
http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/02-03-2010/col1.htm
یہ ایک اطلاع نامی تحریر کہاں شائع ہوئی ہے؟
افغانستان سے اتحادی افواج کا انخلا پاکستان پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟
کیا پاکستان میں تحریک طالبان زور پکڑے گی یا ہمیں بھی قبائلی علاقہ جات میں طالبان کا حق حکمرانی تسلیم کرنا ہوگا؟
کیونکہ انخلا کے بعد امریکہ حسب سابق پاکستان سے جان چھڑائے گا ان کا بجٹ خسارہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پاکستان کو سات سو ملین ڈالر سالانہ امداد دیتے رہیں۔ امداد نہ ملنے پر ہماری حکومت کا کاروبار چلانا ہی مشکل ہوجائیگا تو طالبان سے لڑائی جاری رکھنا تو بہت مشکل کام ہے۔
آپ کے محترم دانشور ایک علمی شخصیت ہیں اور میں اُن کے علم و فضل کی بنا پر اُن کی عزت کرتا ہوں مگر دجال عصر پر فتح کا جشن منانے میں وہ کچھ جلدی نہیں کر رہے ؟ ۔ اس راہ میں کچھ دو چار سخت مقام آتے ہیں جن پر انہوں نے نظر ڈالنا فی الحال مناسب نہیں سمجھا ۔ جو وہ بیان کر رہے ہیں وہ تاریخ کا ایک اصول ہے مگر اس کا وقت میرے خیال میں فی الحال ابھی نہیں آیا ۔ خدا کے ہاں وقت کا تصور ہمارے تصور وقت سے بہت مختلف ہے ۔ ابھی انتظار کے ساغر کو کچھ اور کھینچنا ہوگا اس کے بعد جشن ضرور منائیے گا ۔
تحریر امید افزا ہے اور واقعی جشن پہ اکساتی ہے لیکن ریاض کی بات بالکل درست ہے۔ بڑے دعووں کے مقابل دلائل کا اختصار اور کمی صاف نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارا دل بھی یہی چاہتا اور کہتا ہے کہ ”یہی ہو گا ان شا اللہ“
—
@ابوشامل: سر جی یہ کونسا بلگ ان ہے سائیڈ بار میں؟
— وکی نامہ سے تازہ تحاریر—
آپ نے بھی ماڈریشن سٹارٹ کر دی؟ :O
Blog does not exist.
If you have changed the name of your blog after installing the widget, then please re-install the widget to get the updated link.
this is the error appears when we try to follow the blog
@زبیر صاحب! اچھا موضوع منتخب کیا ہے۔ ویسے میں تو پھچلے بلاگ کی دوسری قسط کا انتظار کر رہا
تھا۔
@ابوشامل
بہتر ہوتا اگر آپ ’’اطلاع‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم کا لنک بھی دے دیتے۔
اخبارات کو اسے شائع کرنے دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حوالے کے چکر میں کالم شائع ہی نہ ہو ۔ آپ کا یا آپ کے کسی ساتھی کا لکھا اگر بڑی تعداد میں پڑھا جارہا ہے تو یہ بھی اعزاز کی بات ہے۔
اس کالم کا انگریزی ترجمہ عمر جاوید کے بلاگ پر شائع ہوا ہے۔ انگریزی پڑھنے والے اسے پڑھ سکتے ہیں۔
ترجمہ عمر جاوید نے خود کیا ہے
لنک مل سکتا ہے جناب؟
شکست طُلم کا مقدّر ہے ۔ اللہ کے ہاں دير کی مصلحت ہوتی ہے جو محدود عقل انسان سمجھ نہيں پاتا ۔ کب کيا ہونا ہے ؟ يہ صرف اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہی جانتا ہے ۔ جب يونين آف سوشيلسٹ ريپبلکس آف رشيا ٹوٹی تو دو گھنٹے پہلے بھی کوئی نہيں جانتا تھا کہ ٹوٹے گی ۔ پاکستان اتنی جلدی بن جائے گا اس کا تصور مسلم ليگ کو بھی نہ تھا اور اتنی لوٹ مار اور سازشوں کے باوجود اللہ کے فضل سے پاکستان جيسا کيسا بھی ہے آج تک قائم ہے اور ان شاء اللہ قائم رہے گا ۔ اس کا تصور نہ کسی ہندو کو تھا اور نہ کسی اسرائيلی اور نہ کسی عيسائی کو ۔
جموں کشمير ميں بھارتی استبداد کے خلاف لڑنے والے ايک شخص نے سات آٹھ سال قبل مسجد ميں کھڑے ہو کر کہا تھا “ان شاء اللہ روس کی طرح امريکہ بھی ٹوٹے گا ۔ صرف چودہ سال انتظار کريں”۔ اُس وقت ايسا کہنا پاگل پن نظر آتا تھا ۔ ہونا کيا ہے وہ اللہ جانتا ہے
تبصروں پر ساتھیوں کا بہت شکر گزار ہوں۔
کامران نسیم، توجہ دلانے کا شکریہ۔ میں جلد از مسئلے کو درست کرتا ہوں۔ تکلیف کے لیے معذرت خواہ
باقی دیگر ساتھی، جیسا کہ ریاض شاہد اور تلخابہ صاحبان، نے تحریر نقل کرنے کے حوالے سے موقف سے کچھ مختلف اظہار کیا ہے کہ تو جناب مصنف کا کہنا ہے کہ ان کی تحریر کم از کم علم میں لائے بغیر شایع نہ کی جائے۔ کم از کم مصنف کو معلوم تو ہونا چاہیے کہ اس کی تحریر کہاں کہاں موجود ہے؟
ڈفر میاں! میں نے ماڈریشن شروع نہیں کی، جن لوگوں کا تبصرہ دو سے زائد بار منظور کرلوں وہ اگلی مرتبہ براہ راست تبصرہ کر سکتے ہیں لیکن آپ کا یہ تبصرہ نجانے کیوں ماڈریشن میں چلا گیا۔ واللہ اعلم۔
تلخابہ صاحب
عمر جاوید کے بلاگ کا لنک یہاں دے دیں تو بہت اچھا ہوگا ۔
http://blog.criticmagazine.pk
اس پر دیکھ لیں ۔
حسن بھائی
’’مودودیت‘‘ کوئی انسانی ساختہ فکر نہیں ہے ، بلکہ علامہ اقبال ، اور سید قطب کی طرح ابولاعلی مودودی کے بھی تمام اصول و نظریات قرآن و سنت سے اخذ ہوئے ہیں ، اس لئے ’’اقبالیت‘‘ اور’’ قطبیت‘‘ کی طرح ’’مودودیت‘‘ بھی کوئی انسانی ساختہ نظریہ نہیں بلکہ وہی آفاقی پیغام ہے جو قرآن مجید چودہ سو سال سے دے رہا ہے ۔
زبیرانجم صاھب نے لکھنے کا ھق ادا کیا ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ، امریکہ کے افغانستان سے نکلنے میں میری نظر میں اب کوئی دو رائے نہیں،ہاں یہ ضرور ہے کہ صورت واقعہ مختلف ہو سکتی ہے،فی الوقت اہم بات یہ ہے کہ صاھبان فکرونظر آنے والے منظر نامہ کے متعلق سوچیں اور عمل کی سطح کے لئے درکار تیاری مکمل کریں۔
عمدہ تحریر ہے اور سچائی پر بھی مبنی ہے ۔ بلاشبہ تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہاتھی کو زمین بوس ہونے میں وقت لگتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری چیز یاد رکھنے کی یہ ہے کہ اس کے زمین بوس ہونے سے کمزور اور ننھی مخلوقات کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے اور ہمیں ایسے نقصانات کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے (اگرچہ میری رائے میں ہم خاصے تیار ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر کا بہت زیادہ تعداد میں پڑھا جانا اچھی بات ہے کہ حقائق کو عام ہونے میں کوئی قباحت نہ ہونی چاہیے مگر ابو شامل کا یہ مطالبہ کہ حوالہ ضرور دیا جائے اخلاقا و قانونا درست ہے ۔
وسلام
میں پیشگی معذرت کے ساتھ کہ شاید رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات ہو لیکن ذاتی طور پر مجھے یہ اعلان “ڈیجاوو” معلوم ہوتا ہے کیونکہ بالکل ایسے ہی جشن فتح کے اعلانات پچھلی دہائیوں میں بھی کیے گئے تھے. سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ اور روس، بھارت اورا یران کے حمایت یافتہ دھڑوں نے اس بات کا پورا یقین دلا دیا ہے کہ اب کی بار وہ سیر شکر ہو کر ایک ہی گھاٹ سے پانی پیئیں گے؟ اگر صرف غیر ملکی افواج کا نکل جانا فتح ہے جیسا کے پہلے بھی تاثر دیا گیا تھا تو پھر تو یہ اعلان فتح جائز ہےلیکن خانہ جنگی کے لیے ماحول پھر پہلے سے زیادہ سازگار ہے اور اب کی بار پاکستان کے کچھ علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں اور ایران کو بین الاقوامی طور جس دباؤ کا سامنا ہے اس کے حوالے سے تو افغانستان میں خانہ جنگی اس کی سیاسی ضرورت ہے.
پھر یہ کہ اپنی فتح کے اعلان کے لیے ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہی نہیں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ کہ اصل محاذ کہیں اور ہے اور ہم مصروف جنگ کہیں اور.. امید ہے اس بار “وہی حلقے” دوبارہ اس قوم کو جھوٹی فتح کا تاثر نہیں دیں گے کیونکہ جس جنگ میں ہم مصروف ہیں وہاں لوز لوز ہی دو صورتیں ہیں اصل جنگ عسکری نہیں ہے.
میرے سوالات کا جواب نہیں ملا۔ کم از کم ایک اطلاع نامی اس مضمون کا کوئی ربط ہی دے دیں۔ یا یہ بتادیں کہ کہاں شائع ہوا ہے کس نے لکھا ہے؟
میں ان تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں جنہوں نے اس تحریر پر تبصرہ کر کے مجھے اپنی رائے ، خیالات اور تجزیئے پر نظر ثانی کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ میں اس طرز عمل کو حصول علم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہوں کہ ذہن میں پہلے سے بنی ہر رائے کو حتمی سمجھا جائےاور زیادہ بہتر رائے کو صرف انانیت کی تسکین کے لئے قبول کرنے سے گریز کیا جائے ، میں تو ویسے بھی آپ ساتھیوں کے مقابلے میں تحریر کے میدان میں نووارد ہوں ، اور تمام تبصروں کو کھلے ذہن اور اس ارادے سے پڑھتا ہوں کہ اگر کوئی خیال میری رائے سے بہتر ہے تو میں اس پر نظر ثانی کر کے اسے قبول کر لوں ۔۔
پہلے تبصرے میں مکرمی ریاض شاہد لکھتے ہیں ۔
’’ امریکہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ بیٹھنے کے لئے نہیں آیا تھا. جانا اس کا مقدر ٹھر چکا تھا اور یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو چکی تھی‘‘
میں نے یہ کب کہاکہ امریکہ ہمیشہ رہنے کے لئے افغانستان آیا ہے ۔۔ مگر یہ ضرور ہے کہ امریکہ شکست کے ارادے سے افغانستان نہیں آیا تھا ، اور عراق کی طرح اپنے مفادات کی محافظ حکومت کے قیام میں ناکامی اور لڑائی کے میدان میں ناکامی امریکہ کی شکست ہی ہے ۔۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہم مزاحمت کی کامیابی کی خبر قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔۔
آپ کی دوسری بات سے سو فیصد اتفاق کہ قابض افواج کے انخلاء کے بعد حکومت کے قیام کے لئے طالبان ، جلال الدین حقانی اور حزب اسلامی کے درمیان ممکنہ محاذ آرائی اس نو سالہ خونریزی سے زیادہ بڑا المیہ ثابت ہوسکتاہے ۔۔ اسی لئے ہم نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کا نکلنا یقینی ہے ، اس کے بعد کیا ہوگا ؟ افغانستان کے استحکام میں پاکستان کا کردار کلیدی ہوگا ، جو فوج آئی ایس آئی اور سیاسی قیادت کے لئے کڑی آزمائش ثابت ہوگا، اور اگر اس کو سنبھالنے میں ناکامی ہوئی تو بدامنی پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ، جس کا سد باب ابھی کرنے کی ضرورت ہے ۔۔
نعمان صاحب
ایک اطلاع نامی مضمون کا لنک شاید مجھے ابو شامل نے بھیجا تھا ، مگر وہ چند ماہ پہلے کی بات ہے ، میں نے تلاش کرنے کی کوشش کی مگر مجھے مل نہیں رہا ہے ۔۔ جیسے ہی ملا پیسٹ کر دیا جائے گا ۔۔
تمام ساتھیوں سے درخواست ہے اس بحث کو وسعت دیتے ہوئے اس سوال کا جواب تلاش کریں کے افغانستان میں قابض افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال کی کیا کیا امکانی صوتیں ہو سکتی ہیں ۔پاکستان کے لئے اس کے اثرات و مضمرات کیا ہوسکتے ہیں ، افغانستان کا عدم استحکام خطے کے دیگر حصوں کو بھی لپیٹ میں لے گا جبکہ عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفادات کی محافظ حکومتوں کے قیام کے لئے افغانستان ہی کو اپنے مکروہ کھیل کا میدان بنانے کے لئے پر تولے بیٹھی ہیں ۔اس میں پاکستان کے مفاد کا تحفظ کس طرح ہو سکتا ہے ؟؟؟
آپ کے محترم دانشور ایک علمی شخصیت ہیں اور میں اُن کے علم و فضل کی بنا پر اُن کی عزت کرتا ہوں مگر دجال عصر پر فتح کا جشن منانے میں وہ کچھ جلدی نہیں کر رہے ؟ ۔ اس راہ میں کچھ دو چار سخت مقام آتے ہیں جن پر انہوں نے نظر ڈالنا فی الحال مناسب نہیں سمجھا!
ریاض شاہد صاحب سے مکمل اتفاق کرتا ہوں،نائن الیون کا کھیل کھیل کر جو لوگ یہاں تک پہنچ گئے ہیں کیا وہ اتنی آسانی سے ہاتھ جھاڑ کر چلتے بنیں گے وہ یہاں سے جانے کے لیئے نہیں آئے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہاں کہ معدنی ذخائر ہیں اور دوسری ان کی ذندگی اور موت کا سوال ہے یہ جو ماحولیاتی تبدیلیوں کا رونا اتنے عرصے سے رویا جارہا ہے یہ بلا جواز نہیں ہے،اور ان کے کندھوں پر چڑھ کر اور کون آئے گایا آنے کی کوشش کررہا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں سو فتح سے پہلے فتح کی خوشیاں منانا کبھی کبھی بڑی شکست کا باعث بھی بن جاتا ہے تاریخ کی گواہی بعض معملات میں بہت معتبر بھی ثابت ہوتی ہے!
اس سے ملتی جلتی ناقص آراریاض شاہد کے بلاگ پر بھی تحریر کی ہے!
اقتباس
“اور عراق کی طرح اپنے مفادات کی محافظ حکومت کے قیام میں ناکامی اور لڑائی کے میدان میں ناکامی امریکہ کی شکست ہی ہے ۔۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہم مزاحمت کی کامیابی کی خبر قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔۔”
تبصرہ
محترم اگر آپ مجھے امریکہ نواز ہونے کا طعنہ نہ دیں یا دنیا کا بندہ نہ سمجھیں تو میں یہ سوال کرنے کی جرآت کروں گا کہ آپ سے کس نے یہ کہا کہ عراق میں قائم حکومت امریکہ کے مفادات کی محافظ نہیں ۔ عراق پر حملے کا مقصد عراق کی اسرائیل کے لئے خطرہ عراقی جدید جنگی مشینری کا خاتمہ اور تیل کے ذخائر کو اپنے زیر دست رکھنا تھا اور یہ مقصد کافی عرصہ ہوا پورا ہوچکا ہے اب عراقی بیٹھے فرقہ ورانہ ، علاقائی اور لسانی فسادت میں آپس میں ایک دوسرے کوتباہ و برباد کرتے رہیں گے اور کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جائیں گے۔ سعودی سرمایہ اور تیل مفت میں ہاتھ آیا جنگی اخراجات بھی سعودی عرب نے برداشت کیے ۔ اور یہی مقصد امریکی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔
افغانستان میں لڑائی کے میدان میں شکست سے مراد آپ کیا لیتے ہیں ۔ میرے خیال میں آپ جنگ کے جدید تصور سےہنوز ناآشنا ہیں اور ابھی تک جنگ عظیم اول کے زمانے میں رہ رہے ہیں ۔ افغان طالبان کی لڑائی کی ہم اس لئے حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے وطن کو آزاد کرانے کی جدو جہد میں مصروف ہیں جو جائز ہے افغان طالبان کی لڑائی میرے بھی دل سے قریب ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انہیں کامیابی ملے ۔ لیکن اقتدار کے آخری دنوں میں اپنے بلند بانگ دعووں کے بر عکس اپنے عوام کو امریکیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ ایک آدھ مہنیے میں ہی ڈھیر ہونے والے طالبان کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے جو مستقبل قریب میں پورا ہوتا نظر نہیں آتا ۔ ایک آدھ مہنے میں ایک آدھ خود کش حملہ کر کے ایک آدھ امریکی یا ناٹو فوجی کو مارنا اور کئی بے گناہ افغان کو مار کر اپنے ہی عوام کی تکالیف میں اضافہ کرنا کوئی لڑائی نہیں ہے ویسے اب تک امریکہ کا کتنا جانی نقصان ہو چکا ہے۔ جتنا ہو چکا ہے اس سے زیادہ امریکی ہر سال قدرتی آفات میں مر جاتے ہیں ۔ امریکی افواج کی نقل حرکت فضائی ذریعے سے ہوتی ہے اور وہ طالبان کی پہنچ سے بہت دور ہیں ۔ زمین پر قبضہ کرنا امریکیوں کے مقاصد میں کبھی نہیں تھا ۔ انہوں نے سوویت رشیا کے تجربے سے بہت کچھ سکھا ہے اور طالبان سے دو بدو مقابلے کی بجائے ڈرون حملوں اور جدید ترین جنگی آلات سے وہ ان کا چوہوں کی طرح شکار کر رہے ہیں اور ہمیشہ طالبان کے سمال آرمز کی رینج سے دور رہتے ہیں ۔ صرف بڑے شہروں میں بیسز بنا کر قابض ہیں۔ کیا طالبان ایک بھی بیس کا قبضہ اب تک چھڑا سکے ہیں ۔ رہا سہا کام شمالی اتحاد اور بھارتی فوج بخوبی سرانجام دے رہی ہے ویسے بھی انڈیا اس کام کو کرنے کا بہت مشتاق ہو رہا ہے اور افغانستان میں اپنے قدم جما چکا ہے ۔ میرے خیال میں امریکہ کے افغانستان میں آنے کے ٹیکٹیکل مقاصد پورے ہو چکے ہیں ۔ طالبان کا امیج پوری اسلامی دنیا خصوصا پاکستان اور افغانستان میں تباہ ہو چکا ہے جس کے وہ خود ذمہ دار ہیں ۔ القائدہ کی کمر فوجی اور فکری لحاظ سے ٹوٹ چکی ہے ۔ آثار بتاتے ہیں کہ افغان طالبان نے اتنی پٹائی کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا ہے اور ہم بیٹھے بغلیں بجا رہے ہیں ۔ امریکہ کے تزویراتی مقاصد البتہ ہنوز تشنہ تکمیل ہہں جن میں پاکستان کی افواج کو کمزور کرنا ، نیوکلیر ہتھیاروں کی تباھی یا غیر فعالیت ، چین اور رشیا کا گھیراو وغیرہ شامل ہیں اور وہ ان عزائم کی تکمیل کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا کیونکہ یہ عبداللہ کے الفاظ میں ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔
اگر امریکہ افغانستان سے چلا بھی گیا تو کیا بار بار معاہدے کر کے توڑنے والے ، خانہ خدا میں بیٹھ کر حلف اٹھانے اور انہیں توڑنے والوں کی ماہیت قلب ہو چکی ہے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ ماضی کی طرح آپس میں اقتدار کی خاطر پھر بھوکے بھیڑیوں کی مانند نہیں لڑیں گے کم از کم افغانساتن کی تاریخ تو کچھ اور کہتی ہے ۔ پاکستانی اور افغان طالبان اپنی ضرورتوں اور کمزوری کی بنا پر اس وقت عالمی اور علاقائی طاقتوں کا مہرہ بن چکے ہیں اور وہ بڑی بے رحمی سے ان کا استعمال اپنے مفادات کے لئے کر رہے ہیں ۔ مگر وہ بہر حال بہت چھوٹا مہرہ ہیں ۔ میں افغان طالبان کا پاکستانی طالبان کی پشت پناہی اور بھارتی عزائم کی تکمیل دانستہ یا نادانستہ کرنے کے جرم کو کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔ آپ اگر سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان بر سر اقتدار آ کر آپ کے دوست رہیں گے اور آپ کی خواہشوں پر آمنا و صدقنا کہیں گے تو میں اس خوش فہمی پر سوائے افسوس کے اور کیا کہ سکتا ہوں کیونکہ اسلامی تاریخ بہر حال ایک مختلف منظر پیش کرتی ہے ۔
امریکی کمانڈروں کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے مت لیا کریں ۔ دیتے ہیں یہ دھوکہ بازی گر کھلا ۔ یہ میڈیا وار کا حصہ ہوتا ہے ۔
عاشقوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ محبوب سے وصل کی خواہش میں باقی دنیا اور عقل کو بالائے بام رکھ دیتے ہیں اور ہر قدم اٹھاتے ہوئے سوچتے ہیں کہ محبوب بس اب دو چار قدم کے فاصلے پر ہے اور محبوب کو ایک عیار تاجر یا سی ایس پی افسر لے اڑتا ہے اور ان کی باقی زندگی آنسو بہاتے اور دنیا میں ہر ایک فرد سے نفرت کرنے میں گذرتی ہے ۔
ناقص رائے،
ریاض شاہد صاحب
میں نے بھی تو یہی کہا ہے کہ جو کامیابی امریکہ کو عراق میں ملی ہے وہ افغانستان میں نہیں مل سکی ہے ۔شاید جملے کی ترتیب میں غلطی کے باعث میں ما فی الضمیر واضح نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے آپ کو غلط فہمی ہوئی ۔۔
اور قابض افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر جن خدشات کا ظہار میں نے کیا ہے آپ نے بھی تقریبا وہی بات کی ہے ۔ تبصرے کا شکریہ
اب کامیابی کیا ہے اس موضوع پر میں ایک اور تحریر نہیں لکھ سکتا ۔ فرصت نہیں ہے ۔
http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5319745,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
ریاض شاہد صاحب
جہاں تک مجھے پتہ ہے ۔۔ افغانستان کے کئی صوبوں کے مرکزی فوجی اڈے اتحادی افواج نے طالبان کے حملوں کے بعد خالی کر دیئے ہیں ۔ جبکہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ دیگر اتحادی ممالک کے بارے میں یہ رپورٹ سامنے آرہی ہیں کہ وہ فوجی اڈوں پر حملے نہ کرنے کے لئے طالبان کو رشوتیں دے رہے ہیں اور خود اڈوں صرف اڈوں تک محدود ہیں ۔ اس بارے میں کچھ وڈیوز کے لنک پیسٹ کر رہاہوں ملاحظہ کیجئے ۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=tMhxkW2W9go
http://www.youtube.com/watch?v=Z6xOHBN0Hcw&feature=PlayList&p=567B518EAAE89DD8&playnext=1&playnext_from=PL&index=69
زبیر میں ایسے کئی لنک فراہم کر سکتا ہوں جس میں پاک فوج پر بھی یہی الزامات پاکستانی طالبان کے بارے میں لگائے تھے مگر پیوچار کی پہاڑیوں کے آپریشن نے ایسے تمام دعووں کی قلعی کھول دی . افغانستان میں آپریشن اناکونڈا جو شاہی جنگ میں ہوا اس نے مشرقی سرحد میں افغآن طالبان پر کاری ضرب لگائی اور انہیں پاکستان مین دھکیل دیا تھا . اور آپریشن راہ حق اور راہ نجات کے بعد پاکستانی طالبان بکھر کر اب پہاڑیوں میں اکا دکا سر گرداں ہیں . آپ اپنے فراہم کردہ لنک کے جواب میں ناٹو کی حکومتوں کا رد عمل بھی تو پڑھ لیں .
بات کسی نظریے کی شکست کی نہیں اس بات کی ہے کہ کیا ایک قدیم طرز تنظیم کی حامل گوریلا فورس ایک جدید تنظیم کی حامل قوت پر غالب آ سکتی ہے . اگر دنیا اس نظریے کو صحیح مانتی تو افواج کے بہت سارے صیغوں کا وجود ہی ختم ہو جاءے . میرا آرٹیکل وار اینڈ اینٹی وار
http://jaridah.wordpress.com/2010/02/19/%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%b1/
میرے خیال میں جدید جنگ کے موضوع پر اردو میں مزید آرٹیکلز لکھنے کی ضروت ہے
خواب غفلت سے بیدار ہوجائیے اور دشمن کی اس چال میں نہ آئیں کہ وہ شکست کا ڈرامہ کر کے آپکو گھیر لے!
موبائیل سے پہلا تبصرہ
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/03/100305_us_turkey_update.shtml
ریاض شاہد
۔۔ آپ سے ہونے والی بحث اتنی مفید تو رہی ہے کہ اس کے نتیجے میں میرا نقطہ نظر تبدیل ہوا ہے ،اور میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی رائے کو مزید عقلی اور منطقی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے
زبیر مجھے ایک خوشگوار سی حیرت ہو رہی ہے ورنہ ہمارے ہاں اپنی رائے سے رجوع کرنے کا رواج بہت کم ہے اور اسے اپی ہار سمجھا جاتا ہے ۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں خدا آپ کو اپنے مقاصد میں کامیاب کرے
’’ جو لوگ مادی طاقتوں پر اعتماد کرتے ہیں ، ان کا اعتماد در اصل ایسی چیزوں پر ہے جو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتیں ۔ ایسے بے زوروں پر اعتماد کرنےکا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی ویسے ہی بے زور ہو جاتے ہیں، جیسے ان کے سہارے بے زور ہیں ، وہ اپنے گرد جو مستحکم قلعے بناتے ہیں وہ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں ۔ان میں کبھی یہ طاقت ہو ہی نہیں سکتی کہ ان لوگوں کے مقابلے میں سر اٹھا سکیں جو حقیقی قدرو عزت رکھنے والے خدا پر اعتماد کر کے اٹھیں ‘‘
اقتباس
زبیر صاحب
اسلام علیکم
نجانے کیوں مجھے یہ وہم ہے کہ خدا نے یہ سعادت ہماری تقدیر میں ہی لکھی ہے
جنگ کو کھیل سمجھتا ہئ عد
خندقیں کھود کر بیٹھا ہوں میں اپنے دل میں
سرکا کیا تھا اسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی ٹھویل میں ہیں برسوں سے
پائوں صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
محمدریاض شاہد صاحب پاکستان کو آپ جیسے لوگوںکی سخت ضرورت ہے۔
یہ پہلی دفہ نہی ہواں کے ہمارے افواج کے خلاف ان کے شکشت کی خبرکواجاگر نہی کیا گیا ھوبلکہ یۃ حیرت کی بات ہے کہ امریکی اور اتحادی افواج کی شکشت کا جشن منایا جائے ناکہ اس کے بارے مین خوفزدۃ ہوا جٓائے۔ یہ وہ موقہ ہے جب امریکی اور اتحادی افواج کی تعداد
بڑھائی جارہی ہیں اور اس وقت پچھلے اٹھ سالوں میں ہماری افواج نےٓاورزیادہ عزم دیکھیا ہے۔ جیساکہ صدر براک ٓٓاوباما پچھلے سال اعلان کیا تھا کہ ہم تیس ہزاراور فوج بھیج رہے ہیں جوجاکر سترہزار افواج جووہاں پہلے سے موجود ہیں کے ساتھ مل جائیگیں۔ اتحادی فوج بھی اپنی تعداد برھارہی ہیں۔ نیٹوافواج نے طالبان کوان کے مزبوت علاقہ حیلمند شے نکال پھیکا اور اب جلد ہی ان سےکنداہار بھی لےلیاں جائےگا۔
میں یہ بإت سمجھنے سے قاصرہون کے اتہادی افواج کی شکشت کو خوش آیند خبرکیوں سمجھا جا رہاہے اس کے برعکس یہ باعث تسویش ہے۔ ساری دنیا کے ساتھ افغان عوام بھی بہت ٓاچھی طرح جانتے ہیں کہ طالبان کیا صلاحیت رکھتے ہین اپنے لوگوں کےلئے۔ ان کا قتل و غارت کرنا، انکے گھروں کو، اسکولوں کواور اسپتالون کو تباہ اوربرباد کرنا۔ یقینأ افغان عوام خود نہی طالبان کی واپسی چاہتے ہین اور وہ ان کےبربریت سے ہمیسہ دوررہنا چاہتے ہین۔
امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں افغان حکومت اور عوام کے درخواست پرائے ہین۔ تاریخ واصیح ہے۔ طالبان نے اپنے دورحکومت مین ظلم وبربریت کی انتہا کر رکھی تھی۔ان کی حکومت گرنے کے باد بھی افغان عوام کواندھادھند تشدد اورظلم کا نسانہ بناتےرہے ہیںجبکہ اتحادی افواج جو عوام کے منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے اس کا واحد مقصدافغان عوام کوتحفظ پہچانا ہے تاکہ ہماری افواج گھر واپس اجائے۔ ہم افغانستان میں اسکول،ہسپتال اورسڑکیںوغیرہ بناتے ہین تاکہ ایک عام افغانی عوام کی زندگی بۃترہوسک جبکہ طالبان ان کوتباہ کرتے ہین۔ اور یہی سچ ھے
رازوان خان
ڈی۔ی۔ٹی
یو۔ ایس۔ سنٹرل کمانڈ
Brother have written such a nice article and i am truly satisfied with his article very good work bro and keep up the good work.
شکریہ ماہی صاحب
اسی بلاگ پر اس سلسلے کے دیگر مضامین بھی موجود ہیں ۔
محترم زبیر انجم بھائی………..
ُبھت خوب صورت تحریر اور طرز تحریر ھے میں نے اس پر ھوئے تبصروں،اصلاحی نکات کو پڑھا مجھے دل سے یہ بات محسوس ھو ئی کہ “اپ کا عنوان اور اس میں موجود” با ت سے کوئی بھی تبصرہ و رائے کا اظہار کرنے والے نے باہر جانا منا سب نا سمجہا جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ھے کے اس بلاگ پر سنجیدہ قاری و لکہاری مو جود ہیں……..