ارمنی نسل کشی کا معاملہ اور امریکہ کی حکمت عملی
ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی قوتوں کے خلاف جدوجہد کا نتیجہ بنا اور یوں ترک جمہوریہ نے جنم لیا۔ اتاترک نے جو ‘اصلاحات’ کیں ان میں سرفہرست نظام تعلیم تھا جس میں بہت زیادہ بہتریاں پیدا کی گئیں نتیجتاً ترکی میں شرح خواندگی بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور آج وہاں شرح خواندگی تقریباً 90 فیصد ہے اور وہ ان مسلم اکثریتی ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے۔
ترک جمہوریہ کو مصطفیٰ کمال نے سیکولر ازم کی راہوں پر گامزن کیا اور آج بھی ترکی سیکولر ازم کا پیروکار ہے اور اس کی فوج آئینی طور پر سیکولر ازم کی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ سیکولر ازم کی ترویج ایک ایسے ملک میں ہر گز آسان نہ تھا جو صدیوں تک خلافت اسلامیہ کا علمبردار رہا ہو اور جس کا حکمران امت مسلمہ کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہو لیکن مصطفیٰ کمال کی کرشماتی شخصیت اور کارناموں نے سب ازموں کو گہنا دیا اور یوں مسلم دنیا میں پہلا سیکولر ملک ابھرا جس نے ہر لحاظ سے خود کو مغربی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ اپنی تاریخ کا ناطہ بھی مشرق سے توڑ کو مغرب سے جوڑنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپی اتحاد (یورپین یونین) کی رکنیت کے لیے جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ یہی ہیں کہ ترکی کی تاریخی جڑیں مغرب میں پیوست ہیں، یہ الگ بات کہ مغرب اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے (اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ترکی کی تہذیبی و تاریخی جڑیں دراصل مشرق ہی میں پروان چڑھیں)۔
یہ پس منظر اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ آگے کی بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بات اگر افغانستان جیسے ملک کی ہوتی جہاں جدوجہد کرنے والے خود نہیں جانتے کہ کامیابی کے بعد انہوں نے کرنا کیا ہے، تو کچھ سمجھ آتا لیکن ترکی جیسے ملک کے بارے میں مغرب کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مغرب اپنے رویے سے خود انتہا پسند تخلیق کرنا چاہ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ قطر میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کے موقع پر امریکی و ترک سفیروں کے مابین ہاتھا پائی دراصل مغرب اور ترکی کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری کا ایک ہلکا سا اظہار تھا لیکن ابھی اس کی خبریں ٹھنڈی ہی نہ ہونے پائی تھیں کہ گزشتہ روز ایک بڑی خبر سامنے آ گئی جو یقیناً امریکہ اور ترکی کے تعلقات پر کاری ضرب لگائے گی۔
خبر یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت پہلی جنگ عظیم کے دوران ارمنی باشندوں کے بڑے پیمانے پر مبینہ قتل عام کو “نسل کشی” قرار دیا گیا ہے۔ ارمنی نسل کشی (Armenian Genocide) ترکی کے لیے ہمیشہ نزع کا معاملہ رہا ہے اور وہ ہمیشہ انکاری رہا ہے کہ جنگ عظیم میں ترک دستوں کی جابن سے ارمنی باشندوں کی بڑے پیمانے پر منظم نسل کشی کی گئی بلکہ اس کا موقف ہے کہ ارمنی باشندے ہر گز اتنی بڑی تعداد میں قتل نہیں کیے گئے تھے جتنے ظاہر کیے جاتے ہیں (یعنی 10 سے 15 لاکھ) اور صرف ارمنی نہیں بلکہ دیگر نسلی گروہ بھی جنگ عظیم میں بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے اس لیے ارمنی باشندوں کا منظم نسل کشی کا دعویٰ غلط ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے چیمپیئن مغربی ممالک ہمیشہ اس ضد پر اڑے رہے ہیں کہ ترکی ارمنی باشندوں کی نسل کشی کرنے پر ان سے معافی مانگے۔ اب جو افراد مغربی ممالک کے ان حربوں کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ ایسا صرف مخصوص ممالک کو دباؤ میں ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہ خبر ترک حکومت پر بجلی کی طرح گری ہے اور انہوں نے فوری طور پر احتجاجاً امریکہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس قرارداد کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی نے واشنگٹن میں ترک سفیر نامق تان کو انقرہ واپس طلب کر لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ترک-امریکہ تعلقات تاریخ کے سب سے کامیاب دور سے گزر رہے ہیں” اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ترک-امریکہ تعلقات کو خراب نہیں کیا جائے گا۔
22 کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی پالیسی اور صدر براک اوباما پہلی جنگ عظیم میں ارمنی باشندوں کے قتل کو باضابطہ طور پر “نسل کشی” کہیں۔ اب امریکی اسپیکر نینسی پلوسی کو لازماً فیصلہ کرنا ہے کہ وہ منظور ہونے والے اس بل کو ایوانوں میں منظوری کے لیے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔
واضح رہے کہ 2007ء میں بھی کانگریشنل کمیٹی کی جانب سے ایسا ہی بل منظور کیا گیا تھا تاہم بش انتظامیہ پر دباؤ کے باعث اسے ایوان میں پیش نہیں کیا گیا تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رحجانات میں زبردست اضافہ ہوا اور سروے سے ظاہر ہوا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رائے عامہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
ارمنی نسل کشی ترکی کو درپیش بڑے خارجہ مسائل میں سے ایک ہے اور لیکن نہ صرف اس معاملے میں بلکہ قبرص کے معاملے میں بھی مغرب اور امریکہ کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے اور بجائے حقائق کو سمجھنے کے انہوں نے ان تنازعات کو پیدا کر کے ہمیشہ ترکی کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں ذہن میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ اپنے سب سے بہترین اتحادی کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیل رہا ہے؟ اگر معاملہ صرف انسانی حقوق کا ہے تو پاکستان پر کبھی بنگالیوں کی نسل کشی کا الزام لگا کر ایسی قرارداد کیوں نہیں منظور کی گئی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مختلف ممالک کو دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف کارڈز وقتاً فوقتاً پھینکتا ہے اور ان کارڈز کو بچا رکھتا ہے، جس طرح اس نے پاکستان کو دیگر معاملات میں پھنسا رکھا ہے اور اس طرح ترکی کو قبرص و ارمنی نسل کشی کے معاملات میں الجھا رکھا ہے۔ ویسے کیا امریکہ کا رویہ یہ بات ثابت نہیں کر رہا کہ چاہے مسلمان سیکولر ہو یا انتہا پسند، اس کی نظر میں مسلمان ہی ہے اور وہ اس سے ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جو وہ مسلمانوں سے کرتا آ رہا ہے؟ بس فرق صرف اتنا ہے کہ افغانستان پر گولے برسائے جاتے ہیں اور ترکی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر اس حکمت عملی کو تسلیم کیا جائے تو دیگر کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں:
کیا امریکہ کے اس طرح کے اقدامات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ واقعتاً دنیا کو تہذیبی خطوط پر تقسیم کرنا چاہ رہا ہے؟
کیا اس طرح کے اقدامات واقعی تہذیبوں کے درمیان خلیج میں اضافہ کر رہے ہیں؟ جس کا نتیجہ ایک زبردست تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے؟
پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی کو صرف اس وجہ سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی آبادی کی اکثریت اسلام کی نام لیوا ہے؟
مزید دیکھئے
ارمنی قتل عام (Armenian Genocide) کے حوالے سے میرا وکیپیڈیا پر لکھا گیا ایک مختصر مضمون
اس حوالے سے چند خبریں:
کرسچن سائنس مانیٹر کی خبر
وال اسٹریٹ جرنل کی خبر
وائس آف امریکہ کی خبر









میں آج اخبار میں جب یہ خبر پڑھ رہا تھا تو بعینہ اسی طرح کے خیالات میرے ذہن میں بھی پیدا ہو رہے تھے . میرے خیال میں ترکی کو اس کے اسلامی تشخص ، ماضی میں امریکی حکم عدولی ، وزیر اعظم طیب اردگان کے ڈیواس میں ٹی وی پر منعقدہ ایک مباحثے میں سر عام اسرائیلی وزیر اعظم کو فلسطینیوں کے قتل عام پر قاتل کا لقب دینے اور اسلامی دنیا میں ایک طاقتور فوجی اور معاشی قوت ہونے کی بنا پر خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے . اب تین اسلامی ممالک ایسے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کی بنا پر مغربی دنیا کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں . ترکی ، ایران اور پاکستان اور ان کا مکو ٹھپنا بہت ضروری ہے اس سے پہلے جب وہ ایک ایسا خظرہ بن جائیں کہ قابو میں نہ آئیں .
پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی قتل عام کے الزام کا ٹریلیر ماضی مین ایک دفعہ اخبارات میں چلایا گیا تھا اور اس کارڈ کو فی الحال محفوظ رکھا گیا ہے اور اس وقت استعمال کیا جائے گا جب پاکستان مزید اپنی چالوںاور پالیسیوں کی بنا پر امریکہ کو غچہ دینے میں ناکام ہو جائے گا یا پاکستان اپنے اسلامی تشخص اور عالم اسلام کا لیڈر ہونے پر بہت دھڑلے سے اصرار کرنے کی کوشش کرے گا .
میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی ممالک خصوصا اوپر بیان کردہ تینوں ممالک انتہائی مہارت سے ، بغیر امریکی سانڈ کو مشتعل کئے ، اپنے درمیان اتحاد کا ایک مضبوط رشتہ استوار کریں اور فوجی ، سائینسی ، اور معاشی طور پر مشترکہ بلاک بنانے کی کوشش کریں . اس کی بنیادیں پہلے کی موجود ہیں بس تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے . مگر سوال موجود رہتا ہے کہ کیا اسلامی ممالک اپنے فقہی ، لسانی ، معاشی اور علاقائی مفادات کی پست سطح سے بلند ہونے کی ہمت رکھتے ہیں ؟ لگتا تو نہیں ہے اور امریکی قوت کا اسلامی دنیا میں کارگر اثر نفوذ کا اصل راز یہی ہے
ریاض صاحب! درست فرمایا۔ وہ جو کسی اور نے بھی نشاندہی کی ہے نا کہ دراصل یہاں مسئلہ اسرائیل سے تعلقات میں پیدا ہونے والی خرابی ہے۔ اب ایک خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ایک مرتبہ پھر ترک آئين کا بہانہ بنا کر جمہوری حکومت کا تختہ نہ الٹ دیا جائے۔ اب وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے لیے “اسلام کے لیے خدمات” پر شاہ فیصل ایوارڈ نے تو ترک سیکولر طبقوں کی جلتی پر تیل کا کام کیا ہوگا۔
آپ نے “امریکی سانڈ کو مشتغل کیے بغیر” والی جو بات کہی ہے وہ بہت پتے کی ہے۔ میں اس حوالے سے ایران کی پالیسی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا گو کہ امریکہ کا رویہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ خود کو اندر سے مستحکم کیا جائے۔ پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ترکی کا کردار بلاشبہ بہت تاریخی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تو تعلقات پیچیدہ ہیں لیکن ترکی جس طرح پاکستان کی مدد کر رہا ہے وہ اس بات کا شاہد ہے کہ ترکوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ آپ نے جن مفادات کی بات کی ہے تو میرے خیال میں اس وقت تمام لسانی و مسلکی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت صرف اور صرف ترکی کے پاس ہے۔
آہ،
ریاض شاہد صاحب امریکہ پہلے بھی اسلامی ممالک کے اتحادکا مکو ٹھپ چکا ہے اور یہ ایک کھلا سچ ہے!
جو اس کھیل کے پیچھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اب نہیں تو کبھی نہیں اور یہ بات اب اسلامی ممالک کی سمجھ میں بھی آچکی ہے!
lets hope for the best
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/03/100304_yemen_alqaida_mah.shtml
شطرنج کی بساط بچھی ہوئی ہے مہرے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کو شہ ہوتی ہے اور کس کو مات!
ہاہاہاہاہاہاہا
کس کو شہ ہوتی ہے اور کس کو مات
ریاض شاہد صاھب نے کہا کہ فوجی، سائینسی اور معاشی بلاک بنانے کی ضرورت ہے. اپچحلے ایک ہزار سال میں جو کچحھ بھی ہوا. لیکن پچھلے تیس سال سے امریکہ نے اسلامی جہاد کو اپنے حق میں اور اسلامی ممالک کو پسماندہ بنانے کے لئیے خوب اچھی طرح استعمال کیا ہے. القاعدہ ، کو وجود دینے والا امریکہ ہے اور اب اسے وہ اسلامی ممالک کی تباہی کے لئے استعمال کر رہے ہیں.
راتوں رات ، اسلامی ممالک فوجی، سائینسی اور معاشی استحکام کیسے حاصل کر سکتے ہیں. اس حقیقت سے وہ خوب اچھی طرح واقف ہیں.
دوسری طرف انکی یہ پالیسی صرف اسلامی ممالک کی طرف نہیں ہے. اس سے پہلے انہوں نے جاپانیوں کیساتھ یہی کیا. امریکہ سے لاکھوں جاپانیون کو نکلنا پڑا. اور جنگ عظیم دوئم میں جاپان کو دو ایٹم بموں کا سامنا کرنا پڑا. امریکہ پر بھی جاپانیوں کی نسل کشی کا الزام لگنا چاہئیے. اسکے علاوہ امریکہ کا لاطینی امریکن ریاستوں پہ تسلط قائم کرنے کی کوشش اور انکو عاجز کر کے رکھنا یہ بھی کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں.
در حقیقت ساری دنیا کو امریکہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرنی چاہئیے. وہ استحصال کی علامت ہیں ، اور ہر کمزور کو گدھ کی نظر سے دیکھتے ہیں. اس وقت جبکہ امریکہ خود اپنے بد ترین معاشی حالات سے گذر رہا ہے اور کسی جگہ کوئ نہ کوئ محاذ جنگ کھولنا چاہتا ہے.تو کیا ترکی یا ایران یا پاکستان ، سب ہی نشانے پہ ہیں.
آخر امریکہ اپنے حریف، چین کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کرتا. جبکہ وہ انکی سپر پاوریت کے لئے بڑا خطرہ ہیں.
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عیسائ، یہودیوں پہ عرصہء حیات تنگ کر کے رکھنے والے اب مسلمانوں کی طرف اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں. یہودی جنہوں نے عیسائیوں کے ہاتھوں اتنی قتل ، غارت گری، اور ذلت اٹھائ وہ آخر کیوں مسلمانوں کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں. وہ عیسائیوں سے اس ذلت کا بدلہ کیوں نہیں لیتے.
محترمہ! آپ نے بہت اہم سمت نشاندہی کی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کا یہ حربہ رہا ہے کہ اپنی حرکتوں پر ان کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں۔ میرے خیال میں ترکی کو اقوام متحدہ سے رابطہ کر کے جاپانیوں کی نسل کشی کی قرارداد پیش کرنی چاہیے۔ گو کہ معاملہ آگے نہ بڑھے گا لیکن سفیر واپس بلانے کے بعد کم از کم ترکی کا یہ دوسرا بڑا احتجاج تو ہوگا۔
یہودیوں نے عیسائیوں کے ساتھ جو کیا ہے وہ تو سب کے سامنے ہے۔ “فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے”۔ وہ تو چند کروڑ یہودیوں کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔
انیقہ یہویوں نے عیسائیوں سے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا ہے اور خوب لیا ہے عیسائیوں کے سر پر بیٹھ کر انکو نکیل ڈال رکھی ہے اور جہاں چاہتے ہیں اس بپھرے ہوئے ہاتھی کا منہ موڑ دیتے ہیں!
اور اب وہ اپنے دوسرے دشمن سے بدلہ لینے کی فکر میں ہیں،مگر ان کا یہ دوسرا دشمن ہے کے خطرے کے احساس ہونے کے باوجود اس ہیروئنچی کی طرح بے بس نظرآتاہے جو اپنی صلاحیتوں کو پہلے ہی تباہ کرچکا ہے!
آپ لوگ اتنی خوفناک باتيں کيوں کر رہے ہيں
ہاہاہا ۔۔۔۔۔ خوفناک باتیں نہیں محترمہ، حقیقتیں ہیں۔ کیا کریں “میٹھی میٹھی پوسٹیں” ہضم نہيں ہوتی اور کچھ “نمکین” کا انتظام یہاں کر دیتے ہیں
۔
ايک طرف صيہونی ہيں اور دوسری طرف جسے وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہيں ۔ صيہونی اپنی منصوبہ بندی اور ہوشياری سے آدھی دنيا پر چھا چکے ہيں اور مسلمانوں کو لُوٹ کھسوٹ اور آپس ميں ايک دوسرے کی ٹانگ کھينچنے سے فرست نہيں
اسماء یہ خوفناک باتیں تو ہمیں چودہ سو سال پہلے بتا دی گئی تھیں،ہم ہی آنکھیں بند کیئے بیٹھے ہیں!
62 سال ملے تھے ہمیں جو ہم نے اپنی خو غرضیوں کی بھینٹ چڑھا دیئے اور رونا تو یہ ہے کہ اب بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں،
جب ہم خود اپنوں پر ظلم کرتے ہیں تو دوسروں کو کیسے روک سکتے ہیں ؟
یہودیت ایک ذہنیت ہے اور یہ آپکو اپنے ارد گرد موجود مسلمانوں میں بھی بدرجہ اتم نظر آئے گی!
ان کی سب سے بدترین برائی یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں خود کو صحیح سمجھتے ہیں اور جائز اور ناجائز خود کو فائدہ پہنچانا ان کا دینی فریضہ ہوتا ہے!
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی یہ امریکہ کی پالیسی ہمیشہ سےہی مسلمانوں کےخلاف رہی ہے۔وہ مسلمان چاہیے اپنےآپ کوسیکولرکہےیاطالبان۔ وہ مسلمانوں کونیچادکھاناچاہتاہےاورہم تممام مسلمانوں ممالک میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کامقابلہ کرسکیں۔ ہم نےجب سےاپنےایمان کوبیچ دیاہےاوراسلام کےاصولوں کوپس پشت ڈال دیاہےتوہمیں سوائےذلت کےکچھ نہیں ملا۔جب تکہ میں اللہ تعالی کی رسی کومضبوطی سےنہیں تھامیں گےاسی طرح ذلت ورسوائی ہمارامقدرہے۔ اللہ تعالی ہم کواسلام کےاصولوں پرزںدگی گزارنےکی ہمت و حوصلہ عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
محترمہ عنیقہ صاحبہ کا تجزیہ خوب ہوتا ہے اور وہ دوران تبصرہ زیر بحث مسئلے کے کچھ نئے پہلو بھی آشکار کرتی ہیں
محترمہ آپ نے کافی سارے نکات کو یکجا کر دیا ہے اور ہر ایک نکتے پر مفصل بحث ہو سکتی ہے .
میرے خیال میں القائدہ ایک رد عمل کی تحریک ہے جو مسلمانوں کی اپنی فکری ناکامی کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی .
میں نے یہ نہیں کہا کہ تمام مسلمان ممالک راتوں رات ایک بلاک بنانے سے ترقی کر جائیں گے میں نے ان مسلمان ممالک کا ذکر کیا ہے جو جدید دور کے آلات اور فنون میں مہارت رکھتے ہیں . مثلا ترکی اپنے جید ڈرون طیارے بنا رہا ہے . ایف سکسیٹین وہ اسی کی دہائی ایک امریکی لائسنس کے تحت بنا رہا ہے اور اس مہارت کا عکس اس کی انڈسٹری میں بھی نظر آتا ہے . ترکی کی فوج مغرب سے تربیت یافتہ ہے اور اس کی تنظیم جدید ترین خطوط پر استوار ہے . فکری محاذ پر اس کے سکالر دنیا کے پہلے بیس اہم افراد کی صف میں شمار ہوتے ہیں ..
پاکستان نے آج سے دس سال قبل امریکی ہارپون میزائیل میں ردوبدل کر کے اس کی صلاحیتوں کو اس حد تک بڑھا لیا کہ ہندوستان کی شکایت پر امریکہ نے سفارتی سطح پر احتجاج کیا . ائر ویپن کمپلیکس کامرہ نے ایسے میزائل بنا لئے ہیں جو بیس سے پچیس کلومیٹر دور سے طیارے کے ذریعے ہدف پر داغے جاتے ہیں اور ان میں غلطی کا دائرہ پچیس میٹر ہے . پاکستان کی عسکری تکنیکی میدان میں مہارت ایک مسلمہ امر ہے جس کا اعتراف تمام دنیا کرتی ہے .البتہ فکری سطح پر جو بھی جوہر قابل نظر آتا ہے فرعون کی طرح اس کا قلع قمع ہم بہت پہلے کر دیتے ہیں یا وہ بیرون ملک بھاگ جاتا ہے . انڈسٹری میں اس کا عکس اس لئے نظر نہیں آتا کیونکہ ہماری انڈسٹری تعلیمی ادروں سے جڑی ہوئی نہیں ہے .
ایران نے بھی سائینس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑے قدم اٹھائے ہیں اور اس کا مظاہرہ وہ اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام کی صورت میں کر رہا ہے . فکری لحاظ سے ایرانی ترقی سے میں بے خبر ہوں. مزید ذکر طوالت کے پیش نظر چھوڑ رہا ہوں .
اسرائیل اور یہودیوں کے متعلق اتنا ہی کہوں گا کہ امریکہ اور یہودی دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو استعمال کر رہے . ابھی تک تو خوب نبھ رہی ہے آگے کا پتہ نہیں .
جاپان کو اس کی توسیع پسندی کی سزا ملی . اگر برما میں انگریز بازیافت کی جنگ نہ لڑتے تو شاید آج میں اور آپ جاپانی لکھ اور بول رہے ہوتے .
ایک سامراج کی مانند امریکہ تمام مسلمان ممالک کو زیر دست رکھنا چاہ رہا ہے ایسے ہی جیسے ہماری اسلامی سلطنیتیں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر دنیا میں جہاں چاہے کاروائی کرتی تھیں .
چین کے خلاف امریکہ اپنے ہر قسم کے مہرے استعمال کرتا رہا ہے سری لنکا کی لڑائی میں تامل ٹائگر کی شکست چین کی جیت کی ایک مثال ہے جس نے ہندوستان اور امریکہ دونوں کو فکر مند کر دیا ہے . البتہ پابندیاں اس لئے نہیں لگا سکتا کہ درمیان میں ویٹو حائل ہے اور ابھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے .
ہیرونچی والی بات درست ہے . امداد کی اگلی قسط کب آ رہی ہے؟
گو کہ امریکہ کی بڑی خواہش ہے کہ وہ پوری دنیا کے اپنے زیر نگیں رکھے لیکن لگ رہا ہے کہ اب ایسا کرنا امریکہ کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اگر کوئی بڑا واقعہ پیش آ جاتا ہے تو بہت امکان ہے کہ عالمی قیادت امریکہ کی ہاتھ سے نکل جائے۔ جس طرح کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری بم پھینکنے کے بعد عالمی قیادت بحر اوقیانوس پار کر کے برطانیہ سے امریکہ پہنچ گئی تھی۔
لیکن ایک چیز جو غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ کو تو درپیش خطرات تو دکھائی دے رہے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کو کوئی خطرہ نہیں دکھائی دیتا۔ آپ اور محترمہ عنیقہ سے میرا سوال ہے کہ آپ اپنے وسیع مطالعے کے پیش نظر کیا سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مغرب سے مشرق میں منتقل ہو جانے سے کیا فرق پڑے گا؟ کیونکہ یہی وہ ممکنہ عالمی تبدیلی نظر آ رہی ہے جو مستقبل قریب میں ہو سکتی ہے ورنہ مسلم ممالک کے اتحاد کے تو دور دور تک کوئی امکانات نہیں ہیں۔
جناب ریاض شاہد،
میں بھی امام کے پیچھے!
سوال یہ ہے کہ ترکی کو یورو میں شامل ہو کر کیا ملے گا۔ وہ تو پہلے ہی کرپٹ ہو چکا ہے!
ترکی کو بھی معلوم ہے کہ یورپی اتحاد میں اس کی شمولیت ناممکن ہے۔ جہاں فرانس جیسے ممالک بیٹھے ہوں جو سیکولر ازم کے نام لیوا ہونے کے باوجود یورپی christendom بنانا چاہتے ہوں، وہاں بھلا ترکی کا کیا کام جس کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ترک بھی بس ان سے کھیل رہے ہیں
۔
ویسے کیا امریکہ کا رویہ یہ بات ثابت نہیں کر رہا کہ چاہے مسلمان سیکولر ہو یا انتہا پسند، اس کی نظر میں مسلمان ہی ہے اور وہ اس سے ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جو وہ مسلمانوں سے کرتا آ رہا ہے؟
متفق علیہ۔
امریکہ کمزور قوموں اور خاصکر مسلمان قوموں کی گردن کا سائز جانتے ہوئے ان کے لئیے کانگریس اور اپنے قانون قاعدوں کے نام پہ ، پہلے سے تیار “پھندے“ ہمیشہ سے محفوظ رکھتا ہے جونہی جس نوعیت کا معاملہ درپیش ہو اسی طرح کی پھائی (پھندہ) مسلمان قوم کی گردن میں پہنا دیتا ہے۔ جسے وہ اپنے ہاں کانگریس وغیرہ کی ترامیم کے نام پہ جب چاہتا ہے اپنے مفادات کے تحت نئے جال، نئے پھندے تیار کر لیتا ہے اور کمال ہوشیاری سے اسے اسقدر مقدس قرار دے دیتا ہے جس کے سامنے امریکہ کی حکومت اور صدر بھی اپنی معذوری ظاہر کر دیتاہے۔ یہ یونہی ہی ہے جیسے ایک قبیلے کے لوگ طاقت کی بناء پہ کمزور خاندانوں سے اس بناء پہ معاملات کریں کہ ان کی ترقی کی کوشش کی جائے گی۔ یا انھیں تحفظ دیا جائے گا ۔اور اس بدلے میں اُن سے سیاسی و مالی پوری قیمت وصول کریں۔ اور کسی خاندان پہ مشکل وقت آنے پہ یا خود ہی اس خاندان کے لئیے مشکل حالات پیدا کر کے ۔اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد کے ذرئعیے گھر بیٹھ کر ہمیشہ اپنے مفاد میں فیصلہ کرتے ہوئے ہر وعدے ،ہر معائدے سے اس بناء پہ پھر جائیں ،کہ چونکہ حالات وہ پہلے والے نہیں رہے نیز کسی دور میں اس کمزور خاندان کے پڑدادا کے گدھے نے دریا سے بلا اجازت پانی پیا تھا لٰہذاہ اس بناء پہ اس کمزور خاندان کو تحفظ اور دیگر مراعات نہیں دی جاسکتیں ۔ جبکہ اس تحفظ یا مراعات کی وہ مالی اور سیاسی قیمت پیشگی وصول کرچکے ہوں۔ نیز مشکل کے شکار مظلوم قبیلے سے یہ مطالبہ کریں کہ چونکہ یہ انکے قبیلے کے جرگہ کا فیصلہ ہے لہٰذاہ اس خاندان پہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اسکی مزید قیمت ادا کرے۔ اور انکے قبیلے کے سرکردہ سیانوں کے جرگے کے فیصلے کو درست سمجھتے ہوئے اس پہ بلا چون و چرا عمل کرے۔
اب آپ اسے کوئی سا بھی نام دے لیں۔ کوئی سا بھی پروٹوکول کہہ لیں حقائق یہی ہیں ۔اس ہیراپھیری اور وعدہ خلافی کو کتنا بھی مقدس ایوانوں کے نام پہ کچھ بھی کہہ کر پیش کر لیں مگر یہ ہے ہیراپھیری اور سینہ زوری اور اس کے معانی نہیں بدلتے۔ اسمیں امریکہ کی چالاکیوں سے زیادہ مسلمان قوموں کی سادہ لوحی اور ان کے حکمرانوں کی نالائقیوں اور قوم و ملت سے غداری کا زیادہ عمل دخل ہے۔ پاکستان اسکی ایک واضح مثال ہے۔ ہر بار امریکہ کی چشمِ ابرو کے ایک ہلکے سے اشارے پہ پچھلے باسٹھ سالوں سے لٹتا آیا ہے مگر امریکہ ہے کہ ہر بار کسی صنم بے وفا کی طرح جب چاہتا ہے اپنی مطلب براری کے بعد ایسی طوطا چشمی دکھاتا ہے کہ کہ پاکستانی حکمرانوں کی عقل پہ ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔
یہ دادا گیری صرف کمزوروں اور غلام ابنِ غلام حکمرانوں پہ ہی چلتی ہے۔
ترکی کی شامت اعمال اسرائیل پہ تنقید کی وجہ سے آئی ہے۔کیونکہ ترکی صدیوں سے یہودیوں کا خیرخواہ اور مربی چلا آرہا ہے اسلئیے ترکی کو اس بات کا بہت زعم رہاہے کہ یہودی اس کے خلاف کبھی سازش نہیں کریں گے۔
اوپر کسی نے صہونیت کو ذہنیت قرار دیا ہے اور اسے پاکستانی قوم پہ ٹھونسنے کی کوشش کی ہے۔ قربان جاؤں۔ پتہ نہیں ہم یہود کی تقلید اور خوشامد میں اتنے دور کیوں نکل جاتے ہیں۔ یہود تو شیطان کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کسی انسان کے بد اعمال کو شیطانی رویہ قرار دیتے ہیں اور شیطان کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔یہ بھی یہودیوں کا پروپگنڈاہ ہے کہ صہونیت وغیرہ کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ ایک طرح کا طرزعمل ہے۔ کاش کوئی فلسطین پہ قبضے کے پیچھے صیہونی تحریکوں کے بارے میں انھیں بتا سکے کہ صہونیت کیا ہے۔؟
آپ نے بہت اچھا نقطہ اٹھایا ہے، میرے خیال میں ترکوں کا زعم اب ختم ہو جانا چاہیے کہ انہوں نے یہودیوں پر 500 سال قبل ہسپانیہ سے نکالے جانے سے لے کر آج تک جو احسانات کیے ہیں اس کا بدلہ یہودی احسان کی صورت ہی میں دیں گے۔ موجودہ حکومت کو تو ہر گز یہ غلط فہمی نہیں ہے اس کا اندازہ اس کے بیانات سے ہوتا رہتا ہے۔
گوندل صاحب یہ جو آپنے اوپر ظالم اور مظلوم کمزور اور طاقتور قبیلے کی مثال دی ہے یہی یہودی ذہنیت کی مثال ہے اور کیا یہ ذہنیت حکمرانوں سے ہوتی ہوئی ہم میں داخل نہیں ہوچکی؟
کیا ہم 62 سال سے طاقت کے ذعم میں اپنے سے کمزوروں کا حق نہیں مارتے رہے ہیں؟بلا جواز جھوٹے بہانے بنا کر کمزوروں پر ظلم نہیں ڈھاتے رہے ہیں؟ اور ان مظالم کے خلاف آواز اٹھا نے پرغداری کے جھوٹے الزامات لگا کرلوگوں کا منہ بند نہیں کرتے رہے ہیں؟
گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھ لینا اچھا رہتا ہے دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود کو درست کرنا ضروری ہوتا ہے!
عبداللہ صاحب!
بجا ارشاد فرمایا۔ اس تناظر میں آپ کی بات درست ہے۔
very nice article and now all muslim countries came to know what is planning of america just to ruin the name of muslims throughout the world.the main thing is if our muslim countries unites and we can give a very nice and strong answer to us for the thing what they are doing and INSHALLAH
ابو شامل صاحب
اگرچہ خلافت نام نہاد تھی لیکن ایک اسلامی طرزِ حکومت کی شبیہہ تو رکھتی تھی. اب تو تاریخ سے شغف رکھنے والے بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ مغربی جمہوریت کے علاوہ بھی کوئی نظام پنپ سکتا ہے اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو سکتا ہے .
کمال اتاترک کے بارے میں، میں اپنے خیالات محفوظ ہی رکھوں تو بہتر ہے.