كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان كو تيار كر كے ديا تها وہ اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا، يہ مكهن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے كا وزن ايک كلوگرام تها۔
شہر ميں كسان نے اس مكهن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتہ فروخت كيا اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيرہ خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا۔
كسان كے جانے بعد۔۔۔۔۔۔ دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا۔۔۔۔ اسے خيال گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے۔
وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے مگر كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 – 900 گرام ہى تها۔ (more…)
تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال
کراچی میں کمیونٹی پولیس کا نام تبدیل کر کے سٹی وارڈن رکھا جا رہا ہے ۔شہریوں نے اس پر اپنی گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی ادارے کا نام تبدیل کر کے اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن عامہ کی بحالی کے لئے پولیس کا ادارہ قائم ہے مگر ایم کیوایم نے پولیس کے ادارے کے متوازی ایک نیا ادارہ قائم کر کے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ آئین اور قانون میں اس طرح سٹی وارڈن یا کمیونٹی پولیس کا کوئی تصورنہیں اور نہ ہی قانون پارٹیوں کو پولیس اور فوج کے قیام کی اجازت دیتا ہے ۔ ایم کیوایم نے اس ادارے کو قائم کرکے اپنے حلف یافتہ اور مجرمانہ ریکارڈ کے حامل کارکنوں کو اس میں بھرتی کیا ہے اور ایم کیوایم کے یہ حلف بردار کارکن کمیونٹی پولیس کی گاڑی میں پورے شہر کا گشت کررہے ہیں ۔ اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موٹر سائیکل گاڑیاں اورموبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے کمیونٹی پولیس کے قیام کے بعد شہر میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ آج پورا شہر ڈاکؤں اور چوروں کے رحم وکرم پر ہے ۔ جن افراد کو کمیونٹی پولیس میں بھرتی کیاگیا ان ایک ہی معیار ہے ۔شہر میں دوسری تمام ملازمتوں کا فیصلہ تو ایم کیو ایم کے مرکز پر ہوتا ہی تھا،مگر کمیونٹی پولیس کے لیے بھی کسی نزاکت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ شہرکے وسائل کو متحدہ اپنے کارکنوں پر صرف کررہی ہے جس سے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہورہا ہے۔ کیا پاکستانی فوج اور حکومت کراچی کو ملک سے کاٹنے اور خونریزی کا شکار کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سٹی وارڈن کو ختم کیا جائے اور اسے غیر قانونی قرار دیا جائے ۔
تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال
جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔
بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میں ہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈربھی۔ بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔”غیر مہذب” منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک ”ذمہ دار” شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔
منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک ”عمل” اور ایک” لفظ” کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔
دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت کے ساتھ کئے جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔
15 دسمبر 2008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔
جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔
لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔