بیجنگ اولمپک

One World
Beijing

4 سال بعد دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر سب سے عالمی کھیلوں کے مقابلوں "اولمپکس" پر مرکوز ہیں اور اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جہاں اگلے ماہ اولمپکس 2008ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ بیجنگ نے 2001ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا مقابلہ اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد انہوں پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سخت محنت کے بعد ان عالمی کھیلوں کے شاندار انعقاد کے لیے بھرپورتیاری کی جس کا مظہر بیجنگ اور دیگر مقامات پر اولمپک کھیلوں کے تیار کی گئی شاندار عمارات و کھیل کے میدان ہیں۔ بیجنگ کھیلوں کے لیے جس زور و شور سے تیاریاں کی گئی ہیں وہ اسے تاریخ کا عظیم ترین اولمپک بنانے کے لیے کافی ہیں۔
بیجنگ اولمپک کا آغاز 8 اگست کو ہوگا اور یہ 24 اگست تک جاری رہیں گے۔ ان عظیم کھیلوں کا چین میں انعقاد اس امر کا اظہار ہے کہ عالمی سطح پر چین کا مقام تسلیم کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب چین نے عظیم الشان تعمیراتی شاہکار قائم کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی معراج کی جانب گامزن ہے۔ بیجنگ نیشنل اسٹیڈیم، بیجنگ نیشنل انڈور اسٹیڈیم، بینل نیشنل ایکویٹکس سینٹر، اولمپک گرین کنونشن سینٹر، اولمپک گرین اور بیجنگ ویوکسونگ کلچر اینڈ اسپورٹس سینٹر تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ ان میں ماسٹر پیس بیجنگ کا مرکزی نیشنل اسٹیڈیم ہے جو کسی پرندے کے گھونسلے جیسا لگتا ہے اور اس کی عرفیت بھی اس میں 80 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ افتتاحی و اختتامی تقریبات اسی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی۔

بیجنگ اولمپک میں 205 ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں جو 28 کھیلوں میں اپنے ملک کےلیے تمغوں کے حصول کی دوڑ میں مصروف دکھائی دیں گے۔
ایک جانب جہاں لاکھوں تماشائی یہ کھیل میدانوں میں ملاحظہ کریں گے وہیں دنیا بھر کے 4 ارب افراد اسے ٹیلی وژن پر بھی ملاحظہ کر سکیں گے تو ہم بھی منتظر ہیں صرف دو ہفتے بعد تاریخ کے اس عظیم ترین ایونٹ کے لیے اور چین کی شاندار تیاریوں کو عملی صورت میں ملاحظہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ چین پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں سب سے زيادہ تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کر پاتا ہے یا نہیں؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. بلا شبہ چینی قوم نے اس اولمپک کو حاصل کرنے اور پھر اسے کامیاب بنانے میں انتھک محنت کی ہے۔ اپنی نوعیت کی عظیم عمارتیں بیجنگ کی آلودگی کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں جس میں آدھی سے زیادہ گاڑیاں سڑکوں سے ہٹائی گئی ہیں یعنی طاق نمبر کی گاڑیاں ایک دن اور جفت نمبر کی گاڑیاں دوسرے دن سڑکوں‌پر آسکتی ہیں۔ گو کے تبت کے حوالے سے کئی جگہوں پر احتجاج بھی ہوئے ہیں لیکن پورے عمل میں یہ ثابت ہوا کے آج کی دنیا میں مضبوط معاشیات کے حامل کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ملک پر کوئی انگلی اٹھانے سے پہلے سو دفعہ سوچتا ہے اور اگر معاشی طور پر ملک مضبوط نہ ہو تو ایٹمی طاقت کو بھی افغانستان کی دھمکیاں آتی ہیں۔۔ افسوس اس بات کا کے شاید پاکستان ایک بھی میڈل نہ جیت سکے۔

  2. ابوشامل says:

    بیجنگ اور چین کے بڑے صنعتی شہر اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے دوچار ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جیسا کہ آپ نے بتایا۔
    آپ کے آخری جملے میں ایک اضافہ کروں گا کہ شاید پاکستان "اس مرتبہ بھی" ایک بھی میڈل نہ جیت سکے 😀
    میں پاکستان سے زیادہ ہندوستان کا منتظر ہوں کہ اس کی کارکردگی اس مرتبہ کیا رہتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.