ٹک ٹک دیدم

ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم

روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ صفحہ اول 25 جون 2009

الطاف حسین کراچی کی ترقی کیلئے ماہانہ 10 ہزار روپے عطیہ کریں گے
لندن (پ ر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ”کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ“ کے قیام پر سٹی ناظم کراچی مصطفےٰ کمال کو زبردست مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کا قیام شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے کراچی سٹی گورنمنٹ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے سلسلے میں ایک انوکھا اور انتہائی قابل تعریف قدم ہے۔ الطاف حسین نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ان کو جاری رکھنے کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں ہر ماہ 10 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کراچی کے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق رقم جمع کرائیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ کراچی سٹی گورنمنٹ کی حق پرست قیادت نے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کراچی کو جہاں دنیا کے بڑے ترقی یافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے وہیں اس نے اپنے منصوبوں کو جاری رکھنے اور شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے اپنے وسائل خود پیدا کرنے کیلئے کراچی ڈیولپمنٹ ٹرسٹ قائم کر کے پورے ملک کی تمام شہری اور ضلعی حکومتوں کیلئے ایک بہترین مثال قائم کی ہے جس پر سٹی ناظم کراچی مصطفےٰ کمال اور ان کی ٹیم زبردست مبارکباد اور خراج تحسین کی مستحق ہے۔

بحوالہ: روزنامہ جنگ 25 جون 2009ء

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

19 تبصرے

  1. اب روزانہ دو چار بندے پھڑکائے نہیں جائیں گے یا وہ کاروبار ساتھ ساتھ چلتا رہے گا ؟

  2. فیصل says:

    بھائی سے کہیں جس ملک میں رہ رہے ہیں اسکے دس ہزار عطیہ کریں.

  3. حاتم طائ کی روح تڑپ گئ ھوگی
    ویسے جس کے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا وہ بھی پانے پیسوں سے کوئ فنڈ قائم کریں
    ایک بار پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اب اربوں روپے کہاں کھپا رھے ھیں کون پوچھے گا

  4. دس ہزار روپے یعنی سو برطانوی پاؤنڈ سے بھی کم .. ماشاءاللہ کیا سخاوت ہے. لیکن اس میں اس بات کا کہیں تذکرہ نہیں کے یہ سو پاؤنڈز ٹیوب اسٹیشن پر گٹار بجا کر کمائے جائیں گے یا کسی اور ذریعے سے حاصل ہوں گے کیونکہ آخری اطلاعات تک تو قائد تحریک کی کل وقتی جاب قائد تحریکی ہی تھی.

  5. اچھا؟ مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ رقم یہاں سے جمع ہونے والی رقم سے سیدھی کاٹ لی جائے گی یا یہاں سے جانے کے بعد دوبارہ بھیجی جائے گی؟

  6. اوہ ہو، اب کے کراچی سدھر ہی جائے گا کیونکہ بھائی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں. :)...

  7. جعفر says:

    ہےےےےے ۔۔۔
    دھیان سے بولنے کا۔۔۔
    بولے تو ۔۔ بھائی کی شان میں۔۔۔
    تم لوگ بہوت بڑ بڑ کریلا ہے۔۔۔
    فر بولنے کا نئیں ۔۔۔ بھائی سپاری دیا۔۔۔
    کیا۔۔۔۔۔

  8. چوھدری حشمت says:

    اور اگر یہ واقعی کامیاب ہو گے تے فر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟

    آپ بھی کچھ ایساہی کردکھانے کی ٹھان کر میدان میں آنا،،،،،،،

  9. عبداللہ says:

    ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم!
    ابو شامل صاحب کیوں؟
    اجمل صاحب بندے پھڑکانے اور پھاڑنے،یہ دونوں کام آجکل آپکے صوبے کے لوگ زیادہ زوق و شوق سے اور زیادہ بڑی تعداد میں کررہے ہیں،
    فیصل،پاکستانی دینے پر تو اتنے سوالا“ جوابا“ ہیں جہاں رہتے وہاں کے دیتے تو کیا کیا ہوتا؟
    راشد صاحب اگر وہ اپنا اور اپنے بھائی کا گھر کرائے پر چڑھا دیتا تو اس سے زیادہ اسے مل جاتے،ویسے ایسے سوالات آپ کسی اور سیاست داں سے بھی پوچھا کریں خاص طور پر نواز اور شہباز سے، ایک بھٹی کے مالک سے پاکستان کے چوتھے دولت مند بننے تک کی داستاں،
    شعیب صفدر صاحب یہاں سے رقم جاتی ہے کا ثبوت؟ویسے ابھی تک پچھلی باتوں کے ثبوت بھی آپ نے نہیں دیئے ہیں:(
    عمر احمد بنگش صاحب کراچی تو ہمیشہ سے سدھرا ہوا ہے مزید سدھار مصطفی کمال نے دیا ہے، یہاں بگاڑ پیدا کرنے والے باہر سے امپورٹ کیئے جاتے ہیں،
    جعفر صاحب یہ سپاری دینے کا کام آپ کے بھائی کا فل ٹائم ہے یا پارٹ ٹائم؟ اور کیا آپ بھی اپنے بھائی کے اس کاروبار میں پارٹنر ہو؟ ،:)

  10. جعفر says:

    اپن کا بھی بھائی اور تیرا تو بہت ہی بھائی ہے رے۔۔۔
    پھل ٹائم بولے تو ۔۔۔ ۔۔۔ ایک دم پھل ٹائم
    ادھر لنڈن میں بیٹھا ہے اپن لوگ کا بھائی۔۔۔
    کیا۔۔۔
    ایک دم مجا کرے لا ہے۔۔۔۔

  11. عبداللہ says:

    خوشی ہوئی جان کر 🙂

  12. عبد اللہ صاحب! مجھے اتنی "عظیم شخصیات" پر اپنے بلاگ کے صفحات کالے کرنے کا ہر گز شوق نہیں اور ویسے بھی ہمارے "ہم شہری" یہ الزام تک لگانے سے نہیں چوکتے کہ ایسی تحاریر سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ ہیں اللہ جانے یہ سستی شہرت کون سی بلا ہے؟ بہرحال میں ہر گز متحدہ قومی موومنٹ پر نہیں لکھنا چاہتا اس لیے مندرجہ بالا میں عنوان کے علاوہ اپنا کوئی تبصرہ شامل نہیں کیا۔
    ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ چاہے اپنی حریف جماعت کی مسابقت میں ہی سہی، لیکن مصطفی کمال کراچی کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں، ان کی نوجوان قیادت شہر میں بہبود کے کاموں کے ذریعے متحدہ قومی موومنٹ پر مافیا کے لگے ہوئے لیبل ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے جس پر وہ تعریف کے قابل ہیں لیکن اس بات پر میرا اعتراض بجا ہے کہ الطاف حسین نے محض 10 ہزار روپے ماہانہ کا اعلان کر کے ٹرسٹ کے ساتھ کچھ زیادتی کر دی ہے۔
    دوسری جانب شہری حکومت کی جانب سے کراچی کے شہریوں سے ڈیولپمنٹ سرچارج کے نام پر ہر سہ ماہی میں جو 500 روپے لیے جا رہے ہیں، انہیں بھی واپس لینا چاہیے۔ کراچی کے لیے اربوں روپے کا جو بجٹ ہے اس کو صاف ستھرے انداز میں کام پر لگایا جائے تو میرے خیال میں وہی کافی ہوگا یا پھر گزشتہ شہری حکومت کی "اسٹیک ہولڈرز" والی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ترقیاتی کاموں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنا نا انصافی ہے۔ خصوصاً ایسی صورتحال میں کہ کراچی کے کئی علاقے اب بھی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اور انہیں شہری دھارے میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔
    باقی اس تحریر پر آنے والے تبصروں پر آپ کی آراء؟ "حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو"
    آپ باہر سے امپورٹ کیے ہوئے لوگوں کا رونا رو رہے ہیں تو میرے خیال میں پھر وہ بھی یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حضور! آپ بھی تو باہر ہی سے آئے تھے۔

  13. عبداللہ says:

    جی مینے تو کرمنلز کی بات کی تھی مگر آپ اپنے اندر بھرا زہر اگل گئے ظاہر ہے جو بات دل میں ہوتی ہے وہی زبان پر آجاتی ہے ویسے آپ کی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ میں کہیں باہر سے نہیں آیا ہوں اسی ملک اور اسی شہر میں پیدا ہوا ہوں میری والدہ سندھی اور والد اردو اسپیکنگ تھے،
    آپ اپنے آپ کو جرنلسٹ کہتے ہیں کیا آپ کو علم نہیں کہ کراچی میں کہاں کہاں سے اور کیسے کیسے جرائم پیشہ لوگ آ آ کر وارداتیں کرتے ہیں،یہاں تک کہ جہادی ڈاکو بھی یہ کہ کر کراچی کے لوگوں کو لوٹتے ہیں کہ تم کیونکہ جہاد کے لیئے پیسہ نہیں دیتے ہو اس لیئے ہم اس طرح تم سے پیسہ نکلواتے ہیں، کیا آپ نہیں جانتے یہاں سے لوگوں کو اغوا کر کے اور گاڑیاں چھین کر علاقہ غیر میں اور بلوچستان کے اندروں میں پہنچائی جاتی ہیں،کیا واقعی آپ ان باتوں سے لا علم ہیں یا جان بوجھ کر ڈرامہ کررہے ہیں،
    آپ کی جماعتی شہری حکومت نے اس شہر کے لیئے کچھ نہیں کیا صرف اس شہر کے وسائل کو لوٹا ہے اور بس،ورنہ آپ یہ نہ فرما رہے ہوتے کہ ابھی بھی کراچی کے بہت سے علاقے سہولتوں سے محروم ہیں ،کراچی کی میئر شپ کم از کم 15 ،20 سال جماعت کے پاس رہی اور کراچی کا حلیہ دن بدن بد سے بدتر ہوتا گیا ،مصطفی کمال کے مقابلے کا کام کرنے کی نہ ان کی پہلے اوقات تھی اور نہ اب ہے،اس طرح کے پروپگینڈے سے صرف کسی عقل کے اندھے کو ہی بے وقوف بنایا جاسکتا ہے،
    آپ فرماتے ہیں کہ آپکو اپنے صفحات سیاہ کرنے کا شوق نہیں،مگر ہر کچھ عرصے بعد آپ یہ حرکت فرماتے بھی رہتے ہیں 🙂
    کراچی کے لیئے جو بجٹ ملا وہ مشرف کا دور تھا اب تو نہ پیسہ ہے نہ بجٹ ہے اسی لیئے کراچی کے شہریوں سے کنٹریبیوٹ کرنے کو کہا جا رہا ہے،اگر آپ کراچی کو اون کرتے ہیں تو اس اسکیم میں شامل ہوں ورنہ کوئی زبردستی تو ہے نہیں ،

    • ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
      آپ کے طرز تخاطب پر ہر گز حیران نہیں کہ حق و صداقت کے مقابلے میں ہمیشہ یہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ "اندر بھرا زہر اگلنا" اور "ڈرامہ کرنے" جیسے الفاظ آپ کو زیب نہیں دیتے۔ میں نے انتہائی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے کچھ عرض کیا تھا۔ لیکن مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ جب کوئی شخص انتہائی ادب و احترام کے ساتھ معاملہ پیش کرتا ہے تو اس طرح کی زبان اختیار کر کے اسے بھی سخت گیر رویے کی جانب دھکیلا جاتا ہے۔
      میں نے کہیں کسی کو جرائم پیشہ قرار نہیں دیا، چور کی داڑھی میں تنکے کے مصداق آپ خود ہی شروع ہو گئے۔

  14. وہ کہ جنہوں نے ساری عمر اپنے پیروکاروں کو کلاشنکوف خریدنے کا درس دیا، اب لندن کے فضل سے اتنے سویلائیزڈ ہوگئے ہیں کہ شہر کی تعمیر و ترقی کے نام پر چندہ دے رہے ہیں۔ اس خوشی کی بات پر یار لوگ بلاوجہ ناراض ہورہے ہیں۔ اگر کسی بھولے بھٹکے کو گھر کا راستہ یاد آجائے تو اسے طعنے دیتے ہیں کیا؟

  15. عبداللہ says:

    چہ خوب، اسے کہتے ہیں خود ہی قتل کرے خود ہی لے ثواب الٹا،آپ کے نزدیک یہ ادب اور احترام ہے؟آپ پڑھے لکھے لوگوں کو جھوٹے پروپگینڈے کے زریعے مافیا ڈکلیئر کریں، دہشت گرد بنائیں ان کےاچھے کاموں میں کیڑے نکالیں الٹے سیدھے جواز تلاش کریں ان کے کیئے ہوے کاموں کو چھوٹا دکھانے کے لیئے اور اگر اس کا جواب اسی انداز سے دیا جائے تو آپ ناراض ہو جائیں،:(
    مینے آپ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ آپ نے مجھے جرائم پیشہ قرار دیا مگر آپ نے مجھے باہر سے آئے ہوے کا طعنہ ضرور دیا جس سے ظاہر ہے کہ مجھے شدید تکلیف پہنچی،میں تو اسی شہر میں پیدا ہوا،میرا باپ اسی شہر میں پیدا ہوا، مگر مینے آپ کو باہر سے آئے ہوئے کا طعنہ نہیں دیا ،

  16. عبداللہ says:

    حق و صداقت کی بھی آپنے خوب کہی ،
    حق تو یہ ہے کہ جو اس ملک اور اس شہر کے لیئے کام کرے خواہ وہ باہر سے ہی کیوں نہ آئے وہ اس شخص سے کہیں زیادہ اس ملک پر حق رکھتا ہے جو سن آف دی سوائل تو ہو مگر ملک کی بربادی کے کام کرے

  17. عبداللہ says:

    خاور بلال صاحب ،اس شہر میں کلاشنکوف کلچر متعارف کروانے والے ہم لوگ نہیں ہم نے تو اس ظلم کو سہا ہے جب ہماری بستیوں پر کلاشنکوف لے کر پٹھان اور پنجابی کرمنلز کے زریعے خوں ریزی اور آبرو ریزی کروائی گئی ہماری املاک کو لوٹا گیا تب بدر جہا مجبوری اپنی حفاظت کے لیئے ہمیں یہ کرنا ہی پڑا،
    آپ شائد زیادہ امن پسند لوگ ہیں،آپ لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ عزت اور محبت کا برتاؤ کرتے ہوں گے انہیں گھر بلا کر سب ان کے حوالے کردیتے ہوں گے مگر بھئی ہم لوگ ایسا نہیں کر سکتے ہمیں اپنی عزت اپنی جان سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور جب بات عزت پر آجائے تو ہم جان دے بھی دیتے ہیں اور لے بھی لیتے ہیں،

  18. میرے بھائی عبد اللہ! پڑھے لکھے لوگ، اگر وہ اچھے کام بھی کر رہے ہوں، تو وہ کبھی بھی اس طرح کسی کو مخاطب نہیں کرتے۔ پڑھے لکھوں کی تہذیب ان کے طرزِ گفتگو سے جھلکتی ہے۔ آپ دوبارہ جا کر میرے الفاظ پڑھیں میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ باہر سے آئے ہیں بلکہ یہ کہا تھا کہ "آپ باہر سے امپورٹ کیے ہوئے لوگوں کا رونا رو رہے ہیں تو میرے خیال میں پھر وہ بھی یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حضور! آپ بھی تو باہر ہی سے آئے تھے۔"
    دوسری بات آپ نے واقعی خوب کہی میں بالکل متفق ہوں کہ اخلاص بنیادی شرط ہونی چاہیے، میرے خیال میں کوئی بھی شخص جو پاکستانی ہے اسے کہیں بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔ ایک جگہ کے لوگوں کو دوسری جگہ مواقع سمیٹنے سے روکنا دراصل میرٹ کا قتل ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم قومیت سے بالاتر ہوکر ملکی فلاح کے لیے سوچیں۔
    تیسری بات ظلم چاہے کسی پر بھی ہو، قابل مذمت ہے اور آگے بڑھ کر اس ظالم کا ہاتھ روکنا چاہیے لیکن افسوس تب ہوتا ہے کہ جب مظلوم وقت آنے پر خود ظالم بن جائے۔ ہم تو اس دور میں جی رہے ہیں کہ جب طاقت نہ ہونے پر ظلم کی چکی میں پستے رہو اور جیسے ہی قوت ملے سب سے بڑے ظالم بن جاؤ۔ اللہ ہماری حالتوں پر رحم کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.