خبر کے ساتھ اجتماعی زیادتی
پاکستان کے اردو اخبارات سے مجھے ہمیشہ یہی گلہ رہا ہے کہ انہیں خبر کے مندرجات کو جانچنے پرکھنے کی ذرا توفیق نہیں ہوتی۔ اغلاط سے بھرپور خبروں کی اشاعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑی بڑی تنخواہوں پر کام کرنے والے ایڈیٹرز کو اپنا اخبار تک دیکھنے کی “فرصت” نہیں ملتی۔ ورنہ ہر مرتبہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار غلطیاں وجود میں نہ آتیں۔
حالانکہ اس عہدِ کمپیوٹر (کمپیوٹر ایج) میں مندرجات کو پرکھنا محض چند سیکنڈوں کا کھیل ہے۔ آپ کسی لفظ کے تلفظ میں پھنسے ہوئے ہوں یا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں، انٹرنیٹ پر محض چند سیکنڈ آپ کی ذہن کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود غلطیاں اور وہ بھی اجتماعی طور پر؟ ذرا ملاحظہ کیجیے
جمعرات 16 جولائی کو ملک بھر کے روزناموں میں ایران میں پیش آنے والے فضائی حادثے کی خبر شایع ہوئی۔ یہ حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان (Yerevan) جانے والے طیارے کو پیش آیا۔ یہ بد قسمت طیارہ قزوین کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار 168 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شایع ہوئی جس میں جو غلطی اجتماعی طور پر کی گئی وہ آرمینیا کے دارالحکومت کا نام تھا۔ آرمینیا کے دارالحکومت کے نام کا درست تلفظ یہاں سنیے

روزنامہ ایکسپریس کراچی اسے “پیریوان” قرار دیتا ہے اور نوائے وقت کراچی نے “پریوان” لکھا ہے۔ روزنامہ جسارت نے “بڑے” اخبارات کی طرح بالکل ہی غلط تو نہیں لکھا لیکن اسے “یرویوان” قرار دیا ہے جبکہ روزنامہ امت نے اسے “یروان” قرار دیا۔ روزنامہ خبریں نے ذرا ہوشیاری دکھاتے ہوئے یریوان کا ذکر گول کر دیا لیکن قزوین کے معاملے میں دھر لیے گئے کیونکہ انہوں نے قزوین کو “قضوین” لکھا ہے۔

اب ذرا پاکستان کے سب سے بڑے اخبار اور “جو ہمارے پاس نہیں، وہ خبر نہیں” کی بڑھکیں مارنے والے “روزنامہ جنگ” کا احوال سنیے۔ انہوں نے سرخی میں آرمینیا کو آرمینا لکھا ہے۔ قزوین کو انہوں نے “قازون” قرار دیا ہے جبکہ آرمینیا کے دارلحکومت کو وہ “باریوان” کہہ رہے ہیں۔ ماشآ اللہ ۔۔۔۔ اللہ جنگ کے مانیٹرنگ سیل کو مزید صلاحیتیں، قوتیں اور “عقل” عطا فرمائے۔ جنگ اخبار کے کرتا دھرتا نجانے کتنی مرتبہ قزوین اور یریوان کے دورے کر چکے ہوں گے لیکن ان سب کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے اخبار میں اس کا نام ہی درست لکھوا لیں۔
روزنامہ جنگ سے میری گزارش ہے کہ “جیو” پر ذرا اپنا دھیان کم کریں، گو کہ وہ بھی اِس وقت یہی عظیم غلطیاں دہرا رہے ہیں، اور اپنی تھوڑی سی توجہ جنگ پر بھی ڈالیں اور وہاں سوئے ہوئے ایڈیٹرز کو جگائیں۔ اس خبر سے جو اندازہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جسے آرمینیا کے دارالحکومت کا درست نام معلوم ہو
ویسے آپ کو یہ نام درست معلوم ہو سکتا ہے یہاں دیکھئے








ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
جناب عالی ان چیزوں پر بس سر دھنا کیجیے اور صبر کیجیے اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ کہ آپ لاکھ نشاندہی کرلیں یہ اخبار کبھی اس کی تصیح نہیں کریں گے… روس کے صدر کا نام ہو، فرانسیسی شہروں کے نام، ہسپانوی زبان میں لکھا “جے” اور امریکی شہروں کو ریاست بناکر اخباروں میں یہ سوچ کر چھاپ دیا جاتا ہے کہ جب ہمیں نہیں پ تہ تو باقیوں کو کونسا معلو ہوگا..ایک نظر چین کے حالیہ نسلی فسادات کی خبروں پر ڈالیں بڑے تماشے وہاں بھی
راشد صاحب! ہم نے تو توبہ کر لی تھی کہ آئندہ کسی اخبار کی غلطی کا ماتم یہاں نہ کریں گے لیکن “اجتماعی زیادتی” برداشت نہ ہوئی
واقعی یہ وہ غلطیاں ہیں جو اب تو غلطیاں سمجھی بھی نہیں جاتیں۔ترکی زبان میں “ح” اور “خ” دونوں کے لیے H استعمال ہوتا ہے اور “بدقسمتی” سے ترک خاتون اول کا نام خیر النساء ہے، آپ یقین جانیے میں نے جنگ اخبار میں ان کا نام “حیر النساء” پڑھا دیکھا ہے
۔ علاوہ ازیں ترکی میں ٹ، ڈ اور ڑ بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود عرصہ تک سابق صدر سلیمان دیمیرل کو سلیمان ڈیمرل لکھا جاتا رہا۔ باقی آپ کی والی باتیں کہ سان ہوزے کو سان جوز کہنا تو عام بات ہے۔ “ولاڈیمیر پیوٹن” بھی ہمارے ہاں کی تخلیق ہے۔ سنکیانگ کی جو حالیہ دنوں میں مٹی پلید کی گئی ہے الامان الحفیظ ۔۔۔
ویسے آپ نے اغلاط کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے
بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا کی تمام زبانوں تک انگریزی کے ذریعے رسائی حاصل کرتے ہیں اس لیے ان الفاظ کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔
بہت خوب قبلہ خوب کہا واہ لفظ اجتمائی ذیادتی کا خوب استعمال کیا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ، انجامِ گلستاں کیا ہوگا
عربی کے حوالے سے بھی ایسے تماشے عام ہوتے ہیں.. وہی جعفر صاحب والی بات کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھ ہے..
جنگ کی تو کچھ پوچھو مت بھیا
لگتا ہے ان کا ایڈیٹر ، پروف ریڈر کو ساتھ لے کے لمبی چھٹی گیا ہوا ہے
ڈرافٹ ہی چھاپے جاتے ہیں
میں سوچ رہا ہوں کے اس بار اپنی چھٹیاں’ آرمینا’ کے دارلحکومت ‘ڈبلن’ میں گزاروں، سنا ہے کافی خوبصورت شہر ہے-