تحاریر برائے ’ذرائع ابلاغ‘ زمرہ


ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔۔

برادر راشد کامران نے ایک چنچل کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے “جنگ” نے ایک عظیم الشان خبر پہلے ہی تیار کر کے رکھی تھی۔

چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (عوامی) کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ ہوا، نتیجے میں 3 محافظوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور خوش قسمتی سے شیخ صاحب بچ گئے۔ اس کے بعد سے الزامات کا ایک سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسی شور و غوغے کے دوران ان تین جاں بحق ہونے والے محافظین کی تدفین عمل میں آئی۔ اس خبر کی سرخی جنگ سے کیا جمائی ہے، ذرا ملاحظہ کیجیے۔ اور اس سرخی سے آپ کیا سمجھے ہیں؟ ہمیں بھی سمجھا دیجیے:

روزنامہ جنگ کراچی 10 فروری 2010ء صفحہ نمبر 16

Google Buzz

مودودی دا کھڑاک

تحریر: زبیر انجم صدیقی

یہ نگارشات لکھنے کا محرک بی بی سی اردو پر آٹھ فروری کو شائع ہونے والا محمد حنیف کا بلاگ بنا ہے جس کا عنوان ہے ’’مودودی دا کھڑاک‘‘۔ میں خود بھی محمد حنیف کےاسلوب تحریر کا مداح ہوں اور ان کے بعض واقعات پر لکھے گئے کالم انتہائی شاندار ہیں جن کا مشاہدہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جا کر کیا جا سکتا ہے۔ ۔مگر ان کے اس مضمون نے ہمارے قلم کاروں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اور وہ ہے تحقیق و اکتشاف سے جی چرانا اور صلاحیتوں اور کاوشوں کو سہل کاموں تک ہی محدود رہنا۔ میرا مقصود ان انگارشات میں حنیف صاحب یا کسی بھی شخصیت کو موضوع بنانا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بات کرنا ہے جس کی نشاندہی محمد حنیف کا بلاگ پڑھ کر ہوئی ہے اسی لئے نمونے کے طور پر انہی کے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمایئے:

خدا کے لیئے فلم سے زیادہ ایک قوم کی پکار ہے جس میں ہر ایک کو بظاہر اپنا چہرہ دکھائی دیا، اپنے دل کی دھڑکن سنائی دی۔اس فلم کا سب سے مقبول ڈائیلاگ وہ ہے جو ہندوستانی اداکار نصیر الدین شاہ کمرہ عدالت میں کہتے ہیں۔
‘داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں۔’
یہ ڈائیلاگ جماعت اسلامی کے بانی حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا ہے۔ اور جب نصیر الدین شاہ اپنی پیٹ تک آئی داڑھی کو سہلا کر یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سینما ہال میں دیر تک تالیاں بجتی ہیں۔ راقم کو کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ تالیاں اسلام کے لیے بج رہی ہیں، داڑھی کے لیے، ان کے باہمی آسان تعلق کے لیے یا پھر نصیر الدین شاہ کے لیے۔ کیونکہ راقم یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہماری ہی زندگی میں یہ کیسے ہوا کہ ناصر ادیب کی بجائے ہمارے پاپولر ڈائیلاگ رائٹر حضرت مودودی قرار پائے

محمد حنیف کا مکمل بلاگ یہاں ملاحظہ کیجیے

جن لوگوں نے بی بی سی اردو پر محمد حنیف کا مذکورہ بلاگ پڑھا ہے ان پر یہ واضح ہو جائے گا محمد حنیف مولانا مودودی کے نظریات و افکار شدید اختلاف رکھتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ہر کسی کو کوئی بھی رائے رکھنے اور اس کا ابلاغ لوگوں تک کرنے کا حق حاصل ہے۔

حنیف صاحب نے مودودی کے بارے اپنی رائے کا اظہار ان کی بھد اُڑانے کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک اچھا مزاحیہ کالم ضرور ہے۔ مجھے بھی یہ کالم پڑھ کر بہت مزہ آیا ہے خاص طور پر عنوان ’’ مودودی دا کھڑاک ‘‘ کا جواب نہیں ہے۔ مگر میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مودودی صاحب کے افکار کا مقابلہ مزاحیہ کالموں اور لطیفوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سنجیدہ تحقیقی اور علمی کام کیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ براہ راست واقف ہیں۔ جن تحریر کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور ان کا دنیا کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جو فکری کام مولانا مودودی نے کیا ہے وہ بالکل اسی سطح کا ہے جو بیسویں صدی میں ان کے ہم عصر علامہ اقبال ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کر چکے ہیں۔ اگر آپ مودودی کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو فکری اور نظری دلائل کے ذریعے ان کا جواب پیش کریں۔ اور ان کے افکار کو غلط ثابت کر کے وہ ’’سحر‘‘ توڑ دیں جو انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کے لکھوکھا ذہنوں پر طاری کر رکھا ہے۔

جس وقت مولانا مودودی نے تحریر و تصنیف کا آغاز کیا اس وقت روس میں سرخ انقلاب آچکا تھا اور کارل مارکس کا معاشی و سیاسی نظریہ چہار دانگ عالم میں ذہنوں کو اپیل کر رہا تھا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں اشتراکیوں نے تختے الٹ دیئے تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اشتراکی تحریکیں موجود تھیں۔ اس لئے کہ کمیونزم ایک جامد اور مجرد نظریہ نہیں تھا بلکہ اپنے جلو میں ایک مکمل سیاسی و معاشی نظام لئے ہوئے تھا جس کا عملی تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس وقت مولانا مودودی نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کی مخالفت محض کمیونسٹ اور اشتراکی شخصیت کی بھد اڑا کر نہیں کی بلکہ کارل مارکس اور اینجل کے سارے کام کا جائزہ لکھ کر اس کو فکری اور نظری اعتبار سے رد کیا اور اس کے مقابلے میں اسلام کا معاشی اور سیاسی نظریہ اس طرح پیش کیا کہ اسلام کاوہ سیاسی نظام جو کئی صدیوں سے عملاً کہیں موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے متبادل اور زیادہ بہتر تصور کے طور پر واضح ہو گیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی کارل مارکس اور اشتراکی حکومتوں اور ان کے نظریات کی بھد اڑا سکتے تھے مگر ان ہتھکنڈوں سے مزاح تو پیدا کیا جاسکتا تھا مگر سوشلزم اور کمیونزم کے افکار کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ علامہ اقبال کی مثال ہی کو لے لیں وہ فلسفے کے طالب علم ہوئے، انہوں نے بھی مغربی مفکرین کی بھد اڑانے جیسے سہل کام کرنے کے بجائے Reconstruction of Religious Thoughts in Islamجیسا شہرہ آفاق مقالہ لکھ کر اپنے فلسفے کی عمارت اس طرح تعمیر کی کہ کانت، نطشے، ہیگل ، برکلےاور گوئٹے جیسےمغربی فلسفیوں کے فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے۔ انہوں نے افکار و نظریات کا مقابلہ افکارو نظریات ہی سے کیا۔ کسی بھی ذہن میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی آپ اس سے اچھی رائے اور خیال پیش کریں وہ اس رائے کا قائل ہو جائے گا۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا

کیونکہ بھد اڑانے سے مزاح تو پیدا ہو سکتا ہے مگر افکار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، افکار کا مقابلہ افکار کرتے ہیں ، نظریات کی جنگ نظریات ہی سے جیتی جا سکتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے انارکی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کسی ٹھوس اور علمی کا م کا جواب طعن و طنز سے کرنے سے خود اپنا ہلکا پن ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اور یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دینے والا اپنی بات میں کوئی سنجیدہ ، علمی اور تعمیری پیغام نہیں رکھتا۔ محسن انسانیتﷺ میں نعیم صدیقی کیا خوب لکھتے ہیں:

جو لوگ خود کوئی تعمیری نصب العین نہیں رکھتے وہ کسی تعمیری کام کو محض اس لئے نہیں ہونے دینا چاہتے کہ کہ ایسا ہونے سے خود ان کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے نمایاں ہونے لگتا ہے

ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ صرف محمد حنیف ہی پہ کیا موقوف تمام اخبارات کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگاروں نے سنجیدہ معاملات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔ بقول اقبال:

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

Google Buzz

یوم مہران، شاہراہ مہران پر

عرصہ سے میں نے اخبارات میں آنے والی غلطیوں پر اپنے قلم کو روکے رکھا ہے لیکن آج جتنی بڑی غلطی جنگ اخبار سے کی ہے، اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کا ذکر یہاں کیا جائے۔
آج جنگ اخبار کے صفحۂ اول پر سرخی کے نیچے ایک خبر کچھ یوں ہے

“سندھ کے عوام اتوار کو انڈس ہائی وے کے طور پر منائیں، وزیر اعلیٰ”

یہ دراصل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے اتوار کو “انڈس ڈے” منانے کا مطالبہ ہے جسے جنگ اخبار کے عظیم مدیران نے “انڈس ہائی وے” کر دیا۔

یوں جنگ کے کارناموں کی فہرست میں ایک اور شاندار اضافہ ہوا۔ اس کارنامے پر تو جنگ اخبار کے مدیران کا نام سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔

Google Buzz

مجھے جھوٹ بولنے دیں

سندھی زبان کے معروف ادیب اور ڈرامہ نگار امر جلیل نے روزنامہ جنگ کے لیے کالم لکھنے کا آغاز کیا ہے اور موضوع انتہائی انوکھا چنا ہے “سب جھوٹ” اور ان کا دعویٰ ہے کہ سچ سن سن کر قوم کے کان پک گئے ہیں، اس لیے انہيں کچھ جھوٹ بھی سنانا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ روشنی کی اصل قدر اندھیرے کے باعث ہوتی ہے اور میٹھے کا اصل مزا کڑوا و کھٹا کھانے کے بعد آتا ہے بالکل اسی طرح یہ ضرورت ہے کہ عوام کو جھوٹ سنایا اور دکھایا جائے۔ اس دلچسپ موضوع کے ساتھ وہ آج (13 اکتوبر 2009ء) کو روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر جلوہ افروز ہوئے ہیں اور وہ بھی انتہائی طنزیہ کالم کے ساتھ۔ مجھے اس کالم کی سب سے اہم بات مصنف کی بے خوفی لگی۔ ذرا یہ جملے ملاحظہ کیجیے۔

ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔

میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔

ان دو “جارحانہ” قسم کے جملوں کے ساتھ ملاحظہ کیجیے امر جلیل کا پورا کالم۔

مجھے جھوٹ بولنے دیں

امر جلیل

اس کالم میں آپ جھوٹ پڑھیں گے۔ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، میں فطرتاً جھوٹا ہوں، جھوٹ بولنا میری عادت ہے۔ میں آپکو جھوٹے قصے سناؤں گا، آپ کو جھوٹی کہانیاں سناؤں گا۔ پچھلے 62 برسوں سے آپ نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ آپ جھوٹ کا نام تک بھول چکے ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ جس طرح سکّے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح سچ کے سکّے کا دوسرا رخ جھوٹ ہوتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ باولا کون ہے جو کھلم کھلا جھوٹ بولنے کے درپے ہے۔ اس شخص کا ارادہ کہیں پاکستان پر حکومت کرنے کا تو نہیں ہے؟
آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی۔ میں حقیر فقیر قسم کا گندا بندہ ہوں، محکوم ہوں، میری کیا مجال کہ حاکم بننے کے خواب دیکھ سکوں۔ ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں ایم این ایز کے بچے این اے اور ایم پی ایز کے بچے ایم پی اے بنتے ہیں۔ انہیں میں سے وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنتے ہیں۔ پاکستان میں وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں ، پیروں اور مرشدوں کے خاندانوں کیلئے اسمبلیوں میں نسل در نسل سیٹیں مختص ہوتی ہیں۔ ساس، بہو، سسر بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، چاچے، مامے، کزن اور ٹیلنٹڈ کزن اسمبلیوں میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ ان حالات میں مجھ جیسا حقیر فقیر پاکستان کا حاکم کیسے بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ میری بیوی ابھی زندہ ہے۔
میں جھوٹ اس لئے بولنا چاہتا ہوں کہ میرے دل میں وطن اور وطن کے لوگوں کا درد ہے۔ اس سے پہلے وطن اور وطن کے لوگوں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ اس سے پہلے سارے جہاں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ تب میں گلی کوچوں میں گاتا پھرتا تھا۔
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
پھر ایک کیا، دونوں جہاں کسی کی محبت میں ہار کے، ہم چل پڑے شب غم گزار کے۔ تب ایک جہاں کی جگہ وطن نے سنبھال لی۔ تب میں مارا مارا پھرتا تھا اور رک رک کر یہ کہتا تھا ”سارے وطن کا درد ہمارے جگر میں ہے“۔
ایک ڈاکٹر نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا تھا ”بیٹا، تیرے جگر میں وطن کا درد نہیں ہے، تجھے ہیپا ٹائٹس سی ہوگیا ہے“۔
میں ڈرگیا تھا۔ وطن کا درد میں نے جگر سے دل کی طرف منتقل کردیا تھا۔ تب سے مجھے وطن کا درد جگر کی بجائے دل میں محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے 62 برسوں سے عوام نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ حکمرانوں نے عوام سے صرف سچ بولا ہے۔ سچ کی اس قدر بوچھاڑ اچھی نہیں ہوتی۔ تاریکی کے بعد آنے والی روشنی آنکھوں کو اچھی لگتی ہے۔ لگاتار روشنی میں رہنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ہم بینائی کھوبیٹھتے ہیں۔ لگاتار میٹھا کھانے سے آپ ذیابیطس کے مریض ہوجاتے ہیں، آپ کے گردے خراب ہوجاتے ہیں، آپ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوجاتے ہیں، آپ دبلے ہوتے جاتے ہیں اور ایک روز غائب ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی میٹھا کھانے کا مزہ کچھ پھیکا کچھ تیکھا، کچھ کڑوا کھانے کے بعد آتا ہے۔ حلوہ کھانے سے دانت کھٹے نہیں ہوتے۔ کچھ کھٹا کھانے کے بعد آپ جان جائیں گے کہ دانت کھٹے ہونا کس کو کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھیرے کے بعد اجالا اچھا لگتا ہے، رات کے بعد دن اچھا لگتا ہے۔ جھوٹ سننے کے بعد سچ اچھا لگتا ہے۔
لگاتار استعمال میں رہنے کی وجہ سے بیچارہ سچ گھس گیا ہے، اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ لوگ بھول چکے ہیں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے اور جھوٹا کسے کہتے ہیں۔ پچھلے دنوں رحمان ڈکیت کے ہلاک ہونے کی خبر آئی تھی۔ ہر خبر کی طرح یہ خبر بھی سچ تھی کیونکہ سرکار کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ اس کے بعد میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔ ان کے کان سچ سننے کے عادی ہوچکے ہیں، وہ سچ کے سوا کچھ نہیں سنتے۔
یہ تشویشناک صورتحال ہے، سچ سننے، سچ پڑھنے اور سچ دیکھنے کی اس قدر عادت اچھی نہیں ہوتی۔ سرکار تو آخر کار سرکار ہوتی ہے۔ انڈا دے یا بچہ دے۔ یہ سرکار کی مرضی پر منحصر ہے۔ کون جانے سرکار کس کروٹ بیٹھے اور جھوٹ بولنا شروع کردے۔ سرکار کے منہ سے لگاتار 62 برس سچ اور صرف سچ سننے کے بعد سرکار کے منہ سے ایک جھوٹ سننے کے بعد لوگ سکتے میں آجائیں گے۔ وہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ پوری قوم کوما میں چلی جائیگی۔
ایسی بپتا پڑنے سے پہلے میں لوگوں کو ذہنی طور پر جھوٹ سننے کے لئے آمادہ کرنا چاہتا ہوں۔ بہت سچ سن چکی ہے یہ قوم!ْ نصف صدی اور اضافی بارہ برس چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ایک شخص کے سینئر سٹیزن ہونے کے بعد سٹھیانے کیلئے اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی میں 35 فیصد لوگوں کے دماغ میں خلل ہے۔ ان اعدادوشمار میں یقیناً صداقت ہے۔ کوئی سبب تو ہے کہ چھوٹے بڑے موبائل فون پر پانچ روپے میں پوری رات بات کرتے ہیں، اور دن بھر دفتروں، دکانوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اونگھتے رہتے ہیں اور خراٹے لینے لگتے ہیں۔ ان حالات میں میرا قومی فرض بنتا ہے کہ میں لوگوں کو جھوٹ سننے پر آمادہ کروں اور جھوٹ کا بول بالا کروں۔
ایک عرصے سے میں گلی کوچوں، سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں صدا لگاتے پھرتا تھا ”ہے کوئی خدا کا نیک بندہ جو مجھے اپنے سمعی، بصری اور اشاعتی ادارے سے جھوٹ بولنے کی اجازت دے!“
کیا مجال کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگتی، مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انسان کے سر میں طرح طرح کی وبائیں اور بلائیں پڑجانے کے بعد جوؤں نے اپنا مسکن بدل لیا ہے، اپنا حلیہ تک تبدیل کرلیا ہے۔ اب جوئیں انسان کے سر میں رہنے کے بجائے سوٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر سیکریٹریٹ میں رہنے لگی ہیں۔ یاد رہے کہ سیکریٹریٹ سرکار کا سر ہوتا ہے جس میں جوئیں سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری اور سیکریٹری کا روپ دھار کر رہنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں اکثر اوقات سرکھجاتے نظر آتی ہیں۔
جس ملک اور معاشرے میں صرف سچ بولا جاتا ہو، ایسے ملک اور معاشرے میں جھوٹ بولنا اور سراسر جھوٹ لکھنا آسان کام نہیں۔ میں اپنے انجام سے واقف ہوں۔ جھوٹ لکھنے کی پاداشت میں ہوسکتا ہے مجھ پر کاروکارری کا الزام لگا کر مجھے قتل کردیا جائے۔
ہوسکتا ہے مجھ پر بلاسفیمی کی تہمت لگا کر میرا سر کاٹ کر تن سے الگ کردیا جائے لیکن میں دھن کا پکا ہوں، بچپن سے آج تک جتنے گانے میں نے سنے ہیں ان سب گانوں کی دھنیں مجھے یاد ہیں۔ خاص طور پر راگ درباری کی دھن گنگنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
لہٰذا مجھے کچھ بھی ہوجائے، حالات دگرگوں ہوجائیں، میں کہتا پھروں گا ”سچ کھپے“۔
چونک گئے نا؟ میں جانتا تھا آپ چونک جائیں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ شخص جو جھوٹ بولنے اور جھوٹ لکھنے کے درپے تھا، اچانک ”سچ کھپے“ کیوں کہہ بیٹھا ہے! سچ چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کے دو معنی ہیں۔ ایک معنیٰ سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ تب اس لفظ کو بڑی پذیرائی ملی تھی جب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے فرمایا تھا ”پاکستان کھپے“ یعنی ”پاکستان چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کا دوسرا مطلب ہے، ختم ہوجائے، Finish ہوجائے۔ جیسے ”دارو کی یہ بوتل کھپے (یعنی ختم ہوجائے) اس کے بعد دوسری بوتل کھولیں گے“۔
ایک اور مثال : ”امریکی ڈالروں کا یہ انبار کھپے یعنی ختم ہوجائے، اس کے بعد دوسرے انبار پر ہاتھ ماریں گے“۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے ”سچ کھپے“ کس حوالے سے استعمال کیا ہے۔

Google Buzz

ابے روک نہ یار!

یہ وہ “uncut” اور “unreleased” وڈیو ہے جسے ہمارے ہاں کے نجی ذرائع ابلاغ کا “تخلیق کردہ” سب سے عظیم شاہکار گردانا جاتا ہے۔ اس وڈیو نے چاند نواب کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اب اچھے بھلے صحافی چاند نواب سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھنچواتے ہیں :) ۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان کے کسی رپورٹر کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جتنی اس چند منٹ کی وڈیو کے نتیجے میں چاند نواب کو ملی۔ ویسے نجانے کس نے اس بیچارے رپورٹر سے دشمنی نکالتے ہوئے اس کی وڈیو آن لائن جاری کر دی :)
(احتیاط: اس وڈیو میں رپورٹر نے چند نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے ہیں)

Google Buzz

تمنائیں زیر و زبر

ہمارے ایک بزرگ اور محترم کالم نگار نے چند روز قبل جو دانشوری کے گل بکھیرے ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ زائد العمری کے باعث ان کا دماغ کچھ چل گیا ہے یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے کالمز کوئی نو آموز لکھ رہا ہے اور ان کی مٹی پلید کرا رہا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ موخر الذکر بات درست ہے۔ 17 جولائی 2009ء کو روزنامہ جنگ کراچی میں ارشاد احمد حقانی صاحب نے “عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے” کے عنوان سے جو “تمنا” کی ہے ذرا اسے ملاحظہ کیجیے۔ اس کالم کے ایک ایک جملے سے ناتجربہ کاری و لا علمی جھلک رہی ہے۔ خیر میں ناچیز اس کالم کا کیا جواب دوں کہ یہ فریضہ محترم ابو نثر نے انجام دیا ہے اور کیا خوب دیا ہے۔ گو کہ سفیر احمد صدیقی (روزنامہ جنگ) بھی اس کا جواب دے چکے ہیں لیکن وہ اس کالم کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے گئے جبکہ ابو نثر نے اُسی انداز تحریر کو ان پر پلٹایا ہے اور نام نہاد دانشوری کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ ملاحظہ کیجیے پہلے محترم ارشاد احمد حقانی کی عربی پر تنقید (یہ کالم میں نے من و عن یہاں چھاپا ہے، اس میں املا کی اغلاط دراصل محترم بزرگ ہی کا کارنامہ ہیں)

عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے

(“حرف تمنا” ارشاد احمد حقانی، روزنامہ جنگ کراچی، 17 جولائی2009ء)

محترم قارئین! ادھر کچھ عرصہ سے بوجہ علالت طبع میرے لئے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی علیل ہوں لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبو ر ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصے سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں اور بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم لازمی کر دی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لئے پہلے ہی اردو، انگریزی یا کوئی ایک مادری زبان پڑھنا لازمی ہے۔ پوری دنیا کے ماہرین تعلیم تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں کے لئے بہترین ذریعہ تعلیم ان کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ ہمارے پاس عربی پڑھا سکنے والے اساتذہ تو شاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کیلئے کار دارد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کیلئے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنٰی ہے، غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ گھر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقول غالب سنگ اٹھانے پر مجبور کرنا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ ان کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کر دی گئی ہے لیکن نام نہادماہرین تعلیم ہیں کہ بچوں کو ان کے کچھ نہ سمجھنے کے باوجودعربی پڑھانے پر تلے ہوئے ہیں گویا ان کی کیفیت یہ ہے کہ :

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمے دانم

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شد بد بھی آجاتی ہو لیکن ایسی شد بد کا کیا فائدہ جو انہیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بنا سکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں بچیوں کے لئے لازم قرار دینے کافیصلہ غالباً جنرل شیر علی خاں مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے علمبردار بنتے تھے۔ انہوں نے جنرل یحییٰ خان سے اس کے لئے بڑے فنڈز لئے اور انہیں عربی پڑھانے پر صرف کیا۔ میرے لئے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا ۔ دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے انہوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ عربی پڑھنا سعودی عرب، مصر، شام، اردن اور دوسرے عرب ممالک کے لئے تو قابل فہم ہے اور وہ اس میں کمالات بھی دکھا سکتے ہیں اور انہوں نے کمالات دکھائے ہیں۔عرب دنیا کاتمام نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر گندم اگانا شروع کر دی ہے حالانکہ بقول قرآن اس وادی غیر ذی زرع میں اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا۔ پہاڑ ہی پہاڑ تھے۔ بڑے بڑے صحراً تھے جس کا حال جرمن نو مسلم علامہ محمد اسد نے اپنی کتاب ”دی روڈ ٹو مکہ“ میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم صحراؤں میں سفر کرتے تھے تو ریت کے بڑے بڑے ٹیلے (Drones???)بن جاتے تھے جن میں مسافر کے لئے راہ تلاش کرنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہر وقت انہیں اپنے پاس پانی کا ذخیرہ رکھنا پڑتا تھا۔ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ تازہ کافی کی خوشبو اتنی مسحورکن ہوتی تھی جیسے ایک نوجوان خاتون سے بغل گیر ہونا۔ تو یہ تھی اس وقت جزیرہ عرب کی حالت۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:

بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں
کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں
نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں
نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواہاں
لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انہوں نے
کیا دین برحق کو بدنام انہوں نے

تو عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عربی عربوں کی زبان ہے۔ بلاشبہ عربی ایک انتہائی فصیح و بلیغ زبان ہے اور اچھی خاصی مشکل بھی۔ اس کی گرامر کو سمجھنا عربوں کا کام ہے ہمارے نوجوان بچوں اور بچیوں کا نہیں۔ وہ لاکھ مغز کھپائیں یہ کام نہیں کرسکتے اردو کا ایک مقولہ ہے جس کا کام اسی کو ساجے۔دوسرا کرے تو ٹھینگا بھاجے۔ معلوم نہیں ہم کیوں تلے ہوئے ہیں کہ ہمارا بھی ٹھینگا بھاجے۔ ہمیں ان لوگوں سے جان چھڑانی چاہئے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک عجمی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا، برگ و بار نہیں لاسکتا۔ دنیا میں عقل عام (Common Sense)بھی کوئی چیز ہے اگرچہ کہتے ہیں کہ:

Common Sense is the most uncommon Phenomenon
ترجمہ:عقل عام سب سے نایاب چیز ہے“

عقل عام کے ادنیٰ ترین تقاضوں کو سمجھنا چاہئے اور عربی زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر ختم کر دینا چاہئے ایسا ہوا تو بچوں اور بچیوں کے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا اور ان کے والدین حکومت کو دعائیں دیں گے۔ ہاں عربی زبان کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن فیصلہ قرار پائے گا۔

———————————————————————————————-

یہاں ارشاد احمد حقانی کا شاہکار کالم ختم ہوتا ہے اور یہیں سے دوسرے شاہکار کا آغاز ہوتا ہے جو روزنامہ جسارت کراچی کے ممتاز کالم نگار ابو نثر نے تحریر کیا ہے۔ یہ کالم حقانی صاحب کی “زمین” پر ہی لکھا گیا ہے :) ذرا ملاحظہ کیجیے:

“عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے”

(“زیر و زبر” ابو نثر، روزنامہ جسارت کراچی، 21 جولائی 2009ء)

محترم قارئین ادھر کچھ عرصہ سے بوجۂ علالتِ ذہنی میرے لیے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی ذہنی طور پر علیل ہوں‘ لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی ذہنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبور ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصہ سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے اسکولوں (جسے میں ہمیشہ سُکولوں کہتا‘ لکھتا اور پڑھتا آیا ہوں) کے بچوں اور بچیوں کے لیے عربی زبان کی تعلیم لازمی کردی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لیے پہلے ہی انگریزی پڑھنا لازمی ہے۔ بلکہ ابتدائی جماعتوں سے تمام مضامین انگریزی میں پڑھنا اُن پر فرض ہے۔ پوری دُنیا کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے بہترین ذریعہ تعلیم اُن کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے۔ پس انگریزی سے زیادہ مامتا بھری مادری زبان بھلا اورکون سی ہوسکتی ہی؟ ہمارے پاس انگریزی پڑھا سکنے والے اساتذہ توشاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لیے ” کارے دارد“ (جسے میں کاردار صاحب سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہمیشہ” کاردارد“ لکھتا‘ پڑھتا اور بولتا آیا ہوں) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے لیے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنی ہے‘ غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقولِ غالب سنگ اُٹھانے پر مجبور کرنا ہے (وہ بھی انگریزی کے مجنوؤں پر)۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے (جس میں سے ایک میں بھی ہوں) کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ حالاں کہ ”مصیبت“ اور ”مسلط“ بھی عربی کے الفاظ ہیں۔ خود میرے نام کا ایک ایک لفظ عربی میں ہے چناں چہ میرا نام بھی کبھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ میرے بعض بچوں کے اپنے نام بھی عربی الفاظ میں ہیں‘ لہٰذا خود اپنا نام بھی ان کے پلے نہیں پڑتا۔ حتیٰ کہ میں نے یہ ”لہٰذا“ لکھنے کے بعد جو ”حتیٰ“ لکھ دیا ہے‘ یہ بھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ پھر اوپر جو…. علالت‘ علیل‘ مسئلہ‘ محب‘ وطن‘ تعلیم‘ لازمی‘ جماعت‘ مضامین‘ دُنیا‘ ماہرین‘ تسلیم‘ ذریعہ‘ اساتذہ‘حیثیت‘ معنی‘ بقول…. وغیرہ وغیرہ میں نے استعمال کیے ہیں (بشمول وغیرہ وغیرہ اور استعمال …. بلکہ یہ ”بشمول“ بھی) عربی النسل ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کے کچھ بھی پلے نہیں پڑتا۔ جبکہ مادری زبان انگریزی خوب پلے پڑتی ہے۔ کبھی میں نے نہ ہمارے ان بچوں نے اپنی مادری زبان انگریزی کو مصیبت تو کیا ”مِزری“ تک نہیں قرار دیا اور کبھی اپنے اوپر اِسے مسلط تو کیا ”امپوزڈ“ تک نہیں جانا۔ اِس کے برعکس انگریزی کی مشکل سے مشکل اور اَدق سے اَدق اصطلاحات کو ہم اپنے پلّے اور پلُّو میں اس طرح باندھ لیتے ہیں گویا یہ الفاظ اُن کو شیرِ مادر میں ”انجیکٹ“ کرکے اُن کے رگ و ریشے میں دوڑا دیے گئے ہوں۔

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شُدبُد بھی آجاتی ہو (بعض عربی دان اِسے ”شُدھ بُدھ“ بھی لکھتے ہیں‘ مگر میں نے ان ہندی الفاظ کو بھی عربی بنالیا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ…. کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!) لیکن ایسی شُدبُد کا کیا فائدہ جو انھیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بناسکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دُنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ یہاں دُنیا سے میری مُراد ظاہر ہے کہ نوعِ انسانی کی فراخ اور کشادہ دُنیا نہیں۔ مغرب اور اس کے غلاموں کی مفاد بھری دُنیا یعنی اپنی نفسانی خواہشات کی تنگ و تاریک دُنیا ہے‘ اور دین سے مُراد مذہب ِ گوسفنداں ہے۔ ورنہ بعض بے وقوف تو مجھ سے مشورہ کیے بغیر ہی دُنیا کمانے کے لیے بھی عربی سیکھ بیٹھتے ہیں اور تیل بھری دُنیائے عرب میں جاکر وہ دُنیاکماتے ہیں‘ وہ دُنیا کماتے ہیں کہ آج تک اتنی دُنیا تو میں خود بھی نہیں کماسکا۔

عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے احمق بلکہ حمقاء افریقا سے لے کر خلیج اورمشرقِ وُسطیٰ کے ممالک سمیت تمام عرب ممالک کو دُنیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بھلا وہ دُنیا بھی کوئی دُنیا ہے۔ دُنیا تو فقط وہ ہے جہاں میرے گھرکے بچوں کی مادری زبان انگریزی کی تعلیم لازمی قرار دی جاسکے۔ رہا دین کا کام…. تو دیکھیے کلمہ توحید اورکلمہ شہادت عربی میں ہے‘ قرآن عربی میں ہے‘ احادیث عربی میں ہیں‘ قرونِ اُولی کے (یہ الفاظ بھی عربی میں ہیں) تمام محققین کی تحقیقات اور تصنیفات عربی میں ہیں۔ اذان عربی میں ہے‘ نماز عربی میں ہے‘ حتیٰ کہ راقم الحروف کی (یہ بھی عربی الفاظ ہیں) نمازِ جنازہ بھی عربی میں پڑھائی جائے گی۔ ان میں سے کوئی چیز بھلا کبھی میرے گھرکے بچوں کے پلے پڑی ہے جو اب پڑے گی؟ مجھے افسوس ہے کہ قرآن میرے کالم نگار بننے‘ بلکہ میرے پیدا ہونے سے بھی چودہ سوسال پہلے نازل کیا جاچکا تھا‘ اگر میرے پاکستان کے سب سے زیادہ بِکے ہوئے اخبار کا سب سے بڑاکالم نگار بننے کا انتظارکرلیا گیا ہوتا تو میں بذریعہ کالمِ ہٰذا اﷲ تعالیٰ کو یہ مفید مشورہ دے سکتا تھا کہ قرآن کو بھی انگریزئ مبین میں نازل کیا جائے‘ جوکہ میرے گھر کے بچوں کی مادری زبان ہے۔

میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں اور بچیوں کے لیے لازم قرار دینے کا فیصلہ غالباً جنرل شیرعلی خان مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے عَلم بردار بنتے تھے۔آپس کی بات ہے‘ میرے خیال میں نہیں بلکہ میرے علم میں یہ بات ہے کہ سب سے پہلے سرآغا خان نے قائدِاعظمؒ کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان عربی قرار دی جائے۔ وہ بھی تحریک ِ پاکستان کے بہت بڑے لیڈر بنتے تھے۔ مگر میں نے جان بوجھ کر اِس بات کا ذکر آپ سے نہیں کیا۔ میرے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اُنھوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔ دُنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو عربی نہ پڑھا رہے ہوتے تو آج ہم بھی چاند پر پہنچے ہوئے ہوتے۔ اور زیرِ نظر کالم آپ وہیں پر معلق ہوئے پڑھ رہے ہوتے۔ ایک امریکا کو چھوڑکر دُنیا کی بقیہ تمام اقوام اپنے اپنے بچوں کو ایک آدھ لفظ عربی کا ضرور بالضرور پڑھا بیٹھی ہوں گی تبھی تو وہ بھی چاند پر نہیں پہنچ سکیں۔

پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے۔ اُنھوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ اب آپ یہ نہ کہہ بیٹھیے گا کہ چین‘جاپان اورکوریا میں بھی سائنس کا دور دورہ ہے‘ اُنھوں نے یہ کام انگریزی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ کیوں کہ ہمیں اُن لوگوں سے جان چھڑانی ہے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ نہ کہ اُن لوگوں سے جو ہما رے بچوں کے منہ میں انگریزی ایک مادری زبان کی حیثیت سے بڑی محبت سے ”ٹرانسپلانٹ“ کررہے ہیں۔ ایک عربی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا‘ برگ وبار نہیں لاسکتا۔ مگر ایک فرنگی پودا ایک اِسلامی جمہوریہ کی نئی پود اوراُس کے ”ماں باپ“ کا دِل گارڈن گارڈن کرسکتا ہے۔
دُنیا میں عقلِ عام (عربی) (Common Sense) (انگریزی) بھی کوئی چیز ہے۔ اگرچہ (انگریزی میں) کہتے ہیں:

Common sense is most uncommon phenomenon
ترجمہ : عقلِ عام (عربی) سب سے نایاب چیز ہے۔

(انگریزی کا اتنا لمبا فقرہ میں نے محض آپ کو یہ دکھانے کے لیے لکھا ہے کہ دیکھیے ایک فرنگی فقرہ عجمی زمین پر کیسا پھلا پھولا اور کتنے برگ و بار لایا ہے۔ ورنہ اہل فرنگ تو باہم بس اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ:

Common Sense is not common.

عقلِ عام (عربی) کے ادنیٰ ترین تقاضوں(عربی) کو سمجھنا چاہیے اور عربی کو ایک لازمی مضمون کے طور پر فی الفور (یعنی عربی ہی میں) ختم کردینا چاہیے۔ ہاں عربی کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن (عربی) فیصلہ قرار پائے گا۔ البتہ اِس قسم کا کلمہ کفر انگریزی کے بارے میں کبھی نہیں بکا جاسکتا۔ اُمید ہے کہ میرا یہ کالم پڑھ کر اب تک آپ بھی ذہنی طور پر اچھے خاصے علیل ہوچکے ہوں گے۔ یہ بھی عربی کی وجہ سے ہے۔ اگر عربی زبان دُنیا میں سرے سے موجود ہی نہ ہوتی تو دُنیا میں ”علالت“ ہوتی نہ آپ ”علیل“ ہونے پاتے۔

Google Buzz

سماء کا کمال

سماء ٹی وی کا “کمال” گو کہ کچھ پرانا ہے لیکن اسے دیکھ کر آج بھی وہی سواد آتا ہے۔

Google Buzz

خبر کے ساتھ اجتماعی زیادتی

پاکستان کے اردو اخبارات سے مجھے ہمیشہ یہی گلہ رہا ہے کہ انہیں خبر کے مندرجات کو جانچنے پرکھنے کی ذرا توفیق نہیں ہوتی۔ اغلاط سے بھرپور خبروں کی اشاعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑی بڑی تنخواہوں پر کام کرنے والے ایڈیٹرز کو اپنا اخبار تک دیکھنے کی “فرصت” نہیں ملتی۔ ورنہ ہر مرتبہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار غلطیاں وجود میں نہ آتیں۔
حالانکہ اس عہدِ کمپیوٹر (کمپیوٹر ایج) میں مندرجات کو پرکھنا محض چند سیکنڈوں کا کھیل ہے۔ آپ کسی لفظ کے تلفظ میں پھنسے ہوئے ہوں یا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں، انٹرنیٹ پر محض چند سیکنڈ آپ کی ذہن کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود غلطیاں اور وہ بھی اجتماعی طور پر؟ ذرا ملاحظہ کیجیے
جمعرات 16 جولائی کو ملک بھر کے روزناموں میں ایران میں پیش آنے والے فضائی حادثے کی خبر شایع ہوئی۔ یہ حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان (Yerevan) جانے والے طیارے کو پیش آیا۔ یہ بد قسمت طیارہ قزوین کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار 168 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شایع ہوئی جس میں جو غلطی اجتماعی طور پر کی گئی وہ آرمینیا کے دارالحکومت کا نام تھا۔ آرمینیا کے دارالحکومت کے نام کا درست تلفظ یہاں سنیے

روزنامہ ایکسپریس کراچی اسے “پیریوان” قرار دیتا ہے اور نوائے وقت کراچی نے “پریوان” لکھا ہے۔ روزنامہ جسارت نے “بڑے” اخبارات کی طرح بالکل ہی غلط تو نہیں لکھا لیکن اسے “یرویوان” قرار دیا ہے جبکہ روزنامہ امت نے اسے “یروان” قرار دیا۔ روزنامہ خبریں نے ذرا ہوشیاری دکھاتے ہوئے یریوان کا ذکر گول کر دیا لیکن قزوین کے معاملے میں دھر لیے گئے کیونکہ انہوں نے قزوین کو “قضوین” لکھا ہے۔

اب ذرا پاکستان کے سب سے بڑے اخبار اور “جو ہمارے پاس نہیں، وہ خبر نہیں” کی بڑھکیں مارنے والے “روزنامہ جنگ” کا احوال سنیے۔ انہوں نے سرخی میں آرمینیا کو آرمینا لکھا ہے۔ قزوین کو انہوں نے “قازون” قرار دیا ہے جبکہ آرمینیا کے دارلحکومت کو وہ “باریوان” کہہ رہے ہیں۔ ماشآ اللہ ۔۔۔۔ اللہ جنگ کے مانیٹرنگ سیل کو مزید صلاحیتیں، قوتیں اور “عقل” عطا فرمائے۔ جنگ اخبار کے کرتا دھرتا نجانے کتنی مرتبہ قزوین اور یریوان کے دورے کر چکے ہوں گے لیکن ان سب کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے اخبار میں اس کا نام ہی درست لکھوا لیں۔
روزنامہ جنگ سے میری گزارش ہے کہ “جیو” پر ذرا اپنا دھیان کم کریں، گو کہ وہ بھی اِس وقت یہی عظیم غلطیاں دہرا رہے ہیں، اور اپنی تھوڑی سی توجہ جنگ پر بھی ڈالیں اور وہاں سوئے ہوئے ایڈیٹرز کو جگائیں۔ اس خبر سے جو اندازہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جسے آرمینیا کے دارالحکومت کا درست نام معلوم ہو :( ویسے آپ کو یہ نام درست معلوم ہو سکتا ہے یہاں دیکھئے

Google Buzz

کیا اخبارات میں اغلاط کی دوڑ شروع ہو چکی ہے؟

پاکستان کے اردو قومی اخبارات فاش غلطیوں کے باعث اپنی ساکھ کو ہمیشہ نقصان پہنچاتے آئے ہیں۔ لیکن جب سب سے زیادہ تحقیق پر مبنی رپورٹیں شایع کرنے والا اخبار بھی فاش غلطی کر جائے تو دھچکا لگتا ہے۔ کراچی سے شایع ہونے والا روزنامہ امت سب سے زیادہ تحقیقی رپورٹیں پیش کرتا ہے خصوصاً عسکری موضوعات پر اس کے مضامین اور رپورٹیں معلومات سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن گزشتہ روز (06 جولائی 2009ء) کی اشاعت میں صفحہ 8  پر ایک ایسی فاش غلطی کی گئی ہے جس کی ہر گز روزنامہ امت سے امید نہ تھی۔
اخبار نے امریکہ کی معروف طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے شہرۂ آفاق ایف 16 لڑاکا طیارے کی ایک بے محل تصویر شایع کی لیکن اس کے کیپشن میں اسے سویڈن کی کمپنی ساب کا ملٹی رول تیار قرار دیا ہے۔

روزنامہ امت 06-06-09

حقیقت میں یہ تصویر 22 مارچ 2003ء کو عراق پر حملے میں شریک ایک امریکی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کی ہے۔ (اصل تصویر یہاں ملاحظہ کیجیے

اصل تصویر

سویڈن کی کمپنی ساب گریپن (Gripen) لڑاکا طیارے تیار کرتی ہے جو کسی طرح ایف 16 سے میل نہیں کھاتے۔ملاحظہ کیجیے:

گریپن لڑاکا طیارہ

علاوہ ازیں اخبارات سے التجا ہے کہ بے موقع و محل تصاویر شایع نہ کی جائیں، ان تصاویر کی حیثیت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کسی تقریب میں شریک خاتون کی تصویر کی۔ قاری تصویر کے قرب و جوار میں متعلقہ خبر تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے۔

Google Buzz

جنگ اخبار کی قائد اعظم کی شان میں گستاخی

اخباری صحافت کا معیار کسی وقت بلند ہوا کرتا تھا لیکن جب سے نجی ٹی وی چینلوں کی آمد شروع ہوئے ہے، تجربہ کار صحافیوں کی چینلوں میں منتقلی کے باعث اخباری صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اگر پاکستان سے نکلنے والے 5 بڑے اردو اخبارات کی ایک روز کی غلطیوں کو سمیٹا جائے تو اس کے لیے ایک الگ بلاگ کی ضرورت پڑے گی جہاں روزانہ 12 سے 15 تحاریر قارئین کی منتظر ہوں گی۔
لیکن جو کمال گزشتہ روز (21 مئی 2009ء) کو روزنامہ جنگ، کراچی نے کیا ہے، ایسا شاہکار تو شاید ہی آج تک کسی نے تخلیق کیا ہو۔ روزنامہ جنگ خبر کے اندر لکھتا ہے کہ
“قائداعظم کے نواسے نیس واڈیا اور ان کے بھارتی دوست لڑکی چھیڑنے پر پٹ گئے”۔

قائداعظم کے نواسے کے حوالے سے جنگ کی خبر کا تراشہ

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا اپنی زندگی میں ہی اپنے اہل خانہ سے ناطہ ٹوٹ گیا تھا تو پھر ان لوگوں کو، جنہیں قائد اور ان کے ملک حتیٰ کہ ان کے مذہب سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی، گھٹیا کرتوتوں کے باعث یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ بھی قائد کے نام کے ساتھ۔
دوسرا اخبارات کو خود بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ منفی خبروں ہی کو سامنے لے کر کیوں آتے ہیں؟ پاکستان کے کس اخبار نے یہ خبر شایع کی کہ قائد اعظم کے نواسے انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم “کنگز الیون پنجاب” کے مالک ہیں؟ لیکن جب مبینہ طور پر “لڑکی چھیڑنے” کا معاملہ آیا تو فوراً خبر بھی قائد اعظم کے نام سے لگا دی گئی اور اس کے گرد لکیر کھینچ کر واضح بھی کر دیا گیا تاکہ کسی کی نظروں سے یہ خبر چوک نہ جائے۔
ان صحافیوں کی عقلوں پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس خبر پر جنگ اخبار سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔
جنگ اخبار کے مختلف شہروں میں دفاتر کے نمبر اور ای میل پتے درج ذیل ہیں

groupeditor@janggroup.com.pk

کراچی: 2637111 اور 2636066

راولپنڈی: 5962444 اور 5962277

لاہور: 6367480 اور 6361026

ملتان: 547970 اور 586240

کوئٹہ: 842016 اور 830876

Google Buzz