افغان باقی کہسار باقی ، الحکم للہ الملک للہ
تحریر: زبیر انجم صدیقی
سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلہ روز شب اصل حیات و ممات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیرفئ کائنات
افغانستان کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور حال ہی میں پیش آنے والے کئی واقعات ایک بڑی تبدیلی یا واقعے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اگر چہ کوئی واقعہ ایک دم نہیں ہوتا ،اور بقول شاعر ‘‘وقت کرتا ہے پرورش برسوں ’’۔ اور اس حادثے کی پرورش سطح پر اس وقت آئی جب پاکستان سے افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد سے افغانستان کی صورتحال پر تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر تجزیوں میں نہ تو حقائق کو پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نہ ہے افغانوں کے مزاج ، روایات اور تاریخ کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں مزاحمت کے تین سرکردہ گروہوں کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے والے اقوام متحدہ کے سابق سفیر کائی ایدی نےملابرادر کی گرفتاری ظاہر کئے جانے کے ایک ماہ بعدبی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان رہنمائوں کی گرفتاری سے افغانستان میں مصالحت کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مگر اس بات کے آثار اسی وقت نمایاں ہو گئے تھے جب ملا بردار کی گرفتاری پر افغانستان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا بلکہ دبے دبے لفظوں میں احتجاج کیا گیا۔ اور بی بی سی کے وسعت اللہ خان جیسے صائب الرائے دانشور کو بھی یہ سمجھنے میں ایک ماہ کا عرصہ اور کائی ایدی کا انٹرویو سامنے آنے کا انتظار کر پڑا۔
مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جو اب تک پاکستان پر طالبان کے بارے میں دوہری پالیسی برتنے کا الزام لگاتا آیا ہے کس منہ سے پاکستان میں موجود طالبان قیادت کی گرفتاریوں کی مخالفت کرے گا۔ حالانکہ اس وقت یہ گرفتاریاں امریکہ کے امن مذاکرات اور فوجی انخلا کی حکمتِ عملی کی کمر میں لگنے والے اس گھونسے کی طرح ہیں جس کے بعد کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نہ آپ ہنس سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ شائد اسی لئے امریکہ ان گرفتاریوں پر حامد کرزئی کے ترجمان اور اقوامِ متحدہ کے سابق اہلکار کائی ایدی کی زبان میں نا خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔
گزشتہ تحریر میں ہم نے بتایا تھا کہ مالدیپ میں حزب اسلامی ، جلال الدین حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی کوئٹہ شوری ٰکے نمائندوں نے(ملا عمر کی تائید کے بغیر یا حکم کے خلاف )اقوام متحدہ کے سفیر اور افغان حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کئے تھے جس کے بعد ملا برادر ،اورملا معتصم آغا جان کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد جو پیشرفت ہوئی اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۔ اول: طالبان
۔ طالبان کی جانب سے یہ واضح موقف سامنے آگیا کہ وہ غیر ملکی فوج کے انخلاء سے پہلے کسی قیمت پر افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ کوئٹہ شوری کے نام پر مذاکرات امیر المومنین ملا عمر کے حکم کے خلاف اور طالبان کی پالیسی کے خلاف ہے۔ وہ کامیابی تک جہاد جاری رکھیں گے اور قابض افواج سے کسی قیمت پر مذاکرات نہیں کریں گے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا عمر کے اس موقف کہ جس کی تائید پیش آمدہ واقعات سے بھی ہو رہی ہے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ طالبان کا موقف درست ہو یا غلط وہ اس بارے میں مکمل طور پر یکسو ہیں اورکسی کنفیوژن یا بے یقینی کا شکار نہیں ہیں۔ علامہ علیہ الرحمہ کے الفاظ میں یقین کی دولت سے مالا مال ہیں:
یقیں مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ مستی، خود گزینی
سن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی
طالبان نے اس وقت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کی تھی جب دو ہزار دو میں ان کی قوت منتشر تھی اور فتح تو دور کی بات ہے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنا دیوانگی اور مجذوب کی بڑ نظر آتی تھی تووہ ایک ایسے وقت میں مذاکرات کیوں کریں کہ جب وہ یہ جنگ جیت چکے ہیں۔
۔ دوم:حزب اسلامی
۔ گلبدین حکمت یار کی قیادت میں شمالی اور مشرقی افغانستان میں قابض افواج کے خلاف سرگرم حزب اسلامی نے مذکرات کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ اور کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے براہ راست مذاکرات کئے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے مذاکرات کرنے والے حزب اسلامی کے پانچ رکنی وفد کی قیادت گلبدین حکمت یار کے نائب قطب الدین ہلال نے جس میں اسلام آباد میں مقیم حکمت یار کےداماد ڈاکٹر غیرت بہیر بھی شامل تھے۔ اس مذاکرات کے نتیجے میں افغان عوام کی نظر میں حزب اسلامی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ملا عمر ان کے لئے زیادہ قابل اعتماد قیادت کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ گلبدین حکمت یار جلد یا بدیر امریکہ کے مذاکراتی ٹریپ کا شکار ہوں گے۔ مگر اس وقت تک میدان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ گلبدین حکمتیار کی جانب سے امریکہ سے اپنے زیر اثر علاقوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوتے ہی طاقت کا توازن ایک بار پھر قابض افواج کے حق میں چلا جائے گا۔ اور وہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی جس کے نتیجے میں امریکہ کمزور ہو کر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اس لئے اصولا تو یہی ہونا چاہیئے کہ تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست مگر گلبدین حکمت یار نے ایک تاریخی بلنڈر کر دیا ہے۔
سوم: جلال الدین حقانی نیٹ ورک
۔ مجاہد کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کی سربراہی میں جنوب مشرقی افغانستان میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ملحقہ افغان صوبوں میں میں سرگرم حقانی نیٹ ورک ملا برادر کی گرفتاری کے بعد بہت زیادہ محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ مالدیپ مذاکرات میں حقانی گروپ کا نمائندہ وفد بھی شریک تھا۔ حقانی نیٹ ورک ہی افغانستا ن میں القاعدہ کا میزبان اورسب سے زیادہ اشتراک کار رکھنے والا گروہ ہے۔ اور حال ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں جلال الدین حقانی کا بیٹا القاعدہ کے سینئر رہنما کے ساتھ ہلاک ہو ا ہے۔
اسٹریٹجک مذاکرات
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بارے میں حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور مالی امداد پر بات چیت کی گئی ہے۔ حالانکہ واشنگٹن میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کی موجودگی کا سب سے بڑا سبب افغانستان میں (Conflict Resolution)پر مذاکرات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر افغانستان میں مصالحت کے لئے مرکزی کردار کی پیشکش کی تھی جسے یقینی بنانے کے لئے دیگر مذاکراتی چینلز کا بند کرنا ضروری تھا جس کے لئے ملا برادر اور دیگر رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس صورتحال سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران امریکہ برطانیہ ، روس ، بھارت اور ایران سمیت تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن کی کلید اب بھی پاکستان کے پاس ہی ہے۔ جس کا سبب پاکستان اور افغان طالبان کے مشترک مفادات ہیں۔ اور یہ جتنی بھی پیشرفت ہو رہی ہے جنرل ضیاء الحق کے دفاعی نظریے تذویراتی گہرائی (Strategic Depth Doctrine) کی بنیاد پر ہی ہو رہی ہے۔
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
گزشتہ نو سال کے دوران تذویراتی گہرائی کے جس نظریئے کو سب سے زیادہ مطعون کیا گیا وہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ آزاد نظم دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے فورا بعد لکھی گئی تھی:
جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
خندقیں کھود کہ بیٹھا ہوں میں اپنے دل میں
سر کا کیا تھا ،اسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی تحویل میں ہیں برسوں سے
حافظہ میں ابھی تاریخ کو سونپ آیا ہوں
پاؤں صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
کون کہتا ہے کہ میں صاحب اسباب نہیں
یہ زمیں میرا بچھونا ہے فلک چادر ہے
اور ستارے مری امیدیں ہیں
میرے دشمن کو ابھی کھیل کا اندازہ نہیں
دیکھےں کھیل بگڑنے کی خبر کب آئے
وہ موجود ہے دنیا کو نظر کب آئے






















