تحاریر برائے ’عالمی صورتحال‘ زمرہ


افغان باقی کہسار باقی ، الحکم للہ الملک للہ

تحریر: زبیر انجم صدیقی

سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلہ روز شب اصل حیات و ممات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیرفئ کائنات

افغانستان کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور حال ہی میں پیش آنے والے کئی واقعات ایک بڑی تبدیلی یا واقعے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اگر چہ کوئی واقعہ ایک دم نہیں ہوتا ،اور بقول شاعر ‘‘وقت کرتا ہے پرورش برسوں ’’۔ اور اس حادثے کی پرورش سطح پر اس وقت آئی جب پاکستان سے افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد سے افغانستان کی صورتحال پر تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر تجزیوں میں نہ تو حقائق کو پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نہ ہے افغانوں کے مزاج ، روایات اور تاریخ کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں مزاحمت کے تین سرکردہ گروہوں کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے والے اقوام متحدہ کے سابق سفیر کائی ایدی نےملابرادر کی گرفتاری ظاہر کئے جانے کے ایک ماہ بعدبی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان رہنمائوں کی گرفتاری سے افغانستان میں مصالحت کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مگر اس بات کے آثار اسی وقت نمایاں ہو گئے تھے جب ملا بردار کی گرفتاری پر افغانستان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا بلکہ دبے دبے لفظوں میں احتجاج کیا گیا۔ اور بی بی سی کے وسعت اللہ خان جیسے صائب الرائے دانشور کو بھی یہ سمجھنے میں ایک ماہ کا عرصہ اور کائی ایدی کا انٹرویو سامنے آنے کا انتظار کر پڑا۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جو اب تک پاکستان پر طالبان کے بارے میں دوہری پالیسی برتنے کا الزام لگاتا آیا ہے کس منہ سے پاکستان میں موجود طالبان قیادت کی گرفتاریوں کی مخالفت کرے گا۔ حالانکہ اس وقت یہ گرفتاریاں امریکہ کے امن مذاکرات اور فوجی انخلا کی حکمتِ عملی کی کمر میں لگنے والے اس گھونسے کی طرح ہیں جس کے بعد کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نہ آپ ہنس سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ شائد اسی لئے امریکہ ان گرفتاریوں پر حامد کرزئی کے ترجمان اور اقوامِ متحدہ کے سابق اہلکار کائی ایدی کی زبان میں نا خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔

گزشتہ تحریر میں ہم نے بتایا تھا کہ مالدیپ میں حزب اسلامی ، جلال الدین حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی کوئٹہ شوری ٰکے نمائندوں نے(ملا عمر کی تائید کے بغیر یا حکم کے خلاف )اقوام متحدہ کے سفیر اور افغان حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کئے تھے جس کے بعد ملا برادر ،اورملا معتصم آغا جان کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد جو پیشرفت ہوئی اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

۔ اول: طالبان

۔ طالبان کی جانب سے یہ واضح موقف سامنے آگیا کہ وہ غیر ملکی فوج کے انخلاء سے پہلے کسی قیمت پر افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ کوئٹہ شوری کے نام پر مذاکرات امیر المومنین ملا عمر کے حکم کے خلاف اور طالبان کی پالیسی کے خلاف ہے۔ وہ کامیابی تک جہاد جاری رکھیں گے اور قابض افواج سے کسی قیمت پر مذاکرات نہیں کریں گے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا عمر کے اس موقف کہ جس کی تائید پیش آمدہ واقعات سے بھی ہو رہی ہے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ طالبان کا موقف درست ہو یا غلط وہ اس بارے میں مکمل طور پر یکسو ہیں اورکسی کنفیوژن یا بے یقینی کا شکار نہیں ہیں۔ علامہ علیہ الرحمہ کے الفاظ میں یقین کی دولت سے مالا مال ہیں:

یقیں مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ مستی، خود گزینی
سن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی

طالبان نے اس وقت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کی تھی جب دو ہزار دو میں ان کی قوت منتشر تھی اور فتح تو دور کی بات ہے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنا دیوانگی اور مجذوب کی بڑ نظر آتی تھی تووہ ایک ایسے وقت میں مذاکرات کیوں کریں کہ جب وہ یہ جنگ جیت چکے ہیں۔

۔ دوم:حزب اسلامی

۔ گلبدین حکمت یار کی قیادت میں شمالی اور مشرقی افغانستان میں قابض افواج کے خلاف سرگرم حزب اسلامی نے مذکرات کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ اور کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے براہ راست مذاکرات کئے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے مذاکرات کرنے والے حزب اسلامی کے پانچ رکنی وفد کی قیادت گلبدین حکمت یار کے نائب قطب الدین ہلال نے جس میں اسلام آباد میں مقیم حکمت یار کےداماد ڈاکٹر غیرت بہیر بھی شامل تھے۔ اس مذاکرات کے نتیجے میں افغان عوام کی نظر میں حزب اسلامی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ملا عمر ان کے لئے زیادہ قابل اعتماد قیادت کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ گلبدین حکمت یار جلد یا بدیر امریکہ کے مذاکراتی ٹریپ کا شکار ہوں گے۔ مگر اس وقت تک میدان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ گلبدین حکمتیار کی جانب سے امریکہ سے اپنے زیر اثر علاقوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوتے ہی طاقت کا توازن ایک بار پھر قابض افواج کے حق میں چلا جائے گا۔ اور وہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی جس کے نتیجے میں امریکہ کمزور ہو کر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اس لئے اصولا تو یہی ہونا چاہیئے کہ تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست مگر گلبدین حکمت یار نے ایک تاریخی بلنڈر کر دیا ہے۔

سوم: جلال الدین حقانی نیٹ ورک

۔ مجاہد کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کی سربراہی میں جنوب مشرقی افغانستان میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ملحقہ افغان صوبوں میں میں سرگرم حقانی نیٹ ورک ملا برادر کی گرفتاری کے بعد بہت زیادہ محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ مالدیپ مذاکرات میں حقانی گروپ کا نمائندہ وفد بھی شریک تھا۔ حقانی نیٹ ورک ہی افغانستا ن میں القاعدہ کا میزبان اورسب سے زیادہ اشتراک کار رکھنے والا گروہ ہے۔ اور حال ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں جلال الدین حقانی کا بیٹا القاعدہ کے سینئر رہنما کے ساتھ ہلاک ہو ا ہے۔

اسٹریٹجک مذاکرات

واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بارے میں حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور مالی امداد پر بات چیت کی گئی ہے۔ حالانکہ واشنگٹن میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کی موجودگی کا سب سے بڑا سبب افغانستان میں (Conflict Resolution)پر مذاکرات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر افغانستان میں مصالحت کے لئے مرکزی کردار کی پیشکش کی تھی جسے یقینی بنانے کے لئے دیگر مذاکراتی چینلز کا بند کرنا ضروری تھا جس کے لئے ملا برادر اور دیگر رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس صورتحال سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران امریکہ برطانیہ ، روس ، بھارت اور ایران سمیت تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن کی کلید اب بھی پاکستان کے پاس ہی ہے۔ جس کا سبب پاکستان اور افغان طالبان کے مشترک مفادات ہیں۔ اور یہ جتنی بھی پیشرفت ہو رہی ہے جنرل ضیاء الحق کے دفاعی نظریے تذویراتی گہرائی (Strategic Depth Doctrine) کی بنیاد پر ہی ہو رہی ہے۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

گزشتہ نو سال کے دوران تذویراتی گہرائی کے جس نظریئے کو سب سے زیادہ مطعون کیا گیا وہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ آزاد نظم دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے فورا بعد لکھی گئی تھی:

جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
خندقیں کھود کہ بیٹھا ہوں میں اپنے دل میں
سر کا کیا تھا ،اسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی تحویل میں ہیں برسوں سے
حافظہ میں ابھی تاریخ کو سونپ آیا ہوں
پاؤں صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
کون کہتا ہے کہ میں صاحب اسباب نہیں
یہ زمیں میرا بچھونا ہے فلک چادر ہے
اور ستارے مری امیدیں ہیں
میرے دشمن کو ابھی کھیل کا اندازہ نہیں
دیکھےں کھیل بگڑنے کی خبر کب آئے
وہ موجود ہے دنیا کو نظر کب آئے

Google Buzz

ارمنی نسل کشی کا معاملہ اور امریکہ کی حکمت عملی

ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں  ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی قوتوں کے خلاف جدوجہد کا نتیجہ بنا اور یوں ترک جمہوریہ نے جنم لیا۔ اتاترک نے جو ‘اصلاحات’ کیں ان میں سرفہرست نظام تعلیم تھا جس میں بہت زیادہ بہتریاں پیدا کی گئیں نتیجتاً ترکی میں شرح خواندگی بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور آج وہاں شرح خواندگی تقریباً 90 فیصد ہے اور وہ ان مسلم اکثریتی ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے۔

ترک جمہوریہ کو مصطفیٰ کمال نے سیکولر ازم کی راہوں پر گامزن کیا اور آج بھی ترکی سیکولر ازم کا پیروکار ہے اور اس کی فوج آئینی طور پر سیکولر ازم کی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ سیکولر ازم کی ترویج  ایک ایسے ملک میں ہر گز آسان نہ تھا جو صدیوں تک خلافت اسلامیہ کا علمبردار رہا ہو اور جس کا حکمران امت مسلمہ کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہو لیکن مصطفیٰ کمال کی کرشماتی شخصیت اور کارناموں نے سب ازموں کو گہنا دیا اور یوں مسلم دنیا میں پہلا سیکولر ملک ابھرا جس نے ہر لحاظ سے خود کو مغربی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ اپنی تاریخ کا ناطہ بھی مشرق سے توڑ کو مغرب سے جوڑنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپی اتحاد (یورپین یونین) کی رکنیت کے لیے جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ یہی ہیں کہ ترکی کی تاریخی جڑیں مغرب میں پیوست ہیں، یہ الگ بات کہ مغرب اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے (اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ترکی کی تہذیبی و تاریخی جڑیں دراصل مشرق ہی میں پروان چڑھیں)۔

یہ پس منظر اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ آگے کی بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بات اگر افغانستان جیسے ملک کی ہوتی جہاں جدوجہد کرنے والے خود نہیں جانتے کہ کامیابی کے بعد انہوں نے کرنا کیا ہے، تو کچھ سمجھ آتا لیکن ترکی جیسے ملک کے بارے میں مغرب کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مغرب اپنے رویے سے خود انتہا پسند تخلیق کرنا چاہ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ قطر میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کے موقع پر امریکی و ترک سفیروں کے مابین ہاتھا پائی دراصل مغرب اور ترکی کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری کا ایک ہلکا سا اظہار تھا لیکن ابھی اس کی خبریں ٹھنڈی ہی نہ ہونے پائی تھیں کہ گزشتہ روز ایک بڑی خبر سامنے آ گئی جو یقیناً امریکہ اور ترکی کے تعلقات پر کاری ضرب لگائے گی۔

خبر یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت پہلی جنگ عظیم کے دوران ارمنی باشندوں کے بڑے پیمانے پر مبینہ قتل عام کو “نسل کشی” قرار دیا گیا ہے۔ ارمنی نسل کشی (Armenian Genocide) ترکی کے لیے ہمیشہ نزع کا معاملہ رہا ہے اور وہ ہمیشہ انکاری رہا ہے کہ جنگ عظیم میں ترک دستوں کی جابن سے ارمنی باشندوں کی بڑے پیمانے پر منظم نسل کشی کی گئی بلکہ اس کا موقف ہے کہ ارمنی باشندے ہر گز اتنی بڑی تعداد میں قتل نہیں کیے گئے تھے جتنے ظاہر کیے جاتے ہیں (یعنی 10 سے 15 لاکھ) اور صرف ارمنی نہیں بلکہ دیگر نسلی گروہ بھی جنگ عظیم میں بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے اس لیے ارمنی باشندوں کا منظم نسل کشی کا دعویٰ غلط ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے چیمپیئن مغربی ممالک ہمیشہ اس ضد پر اڑے رہے ہیں کہ ترکی ارمنی باشندوں کی نسل کشی کرنے پر ان سے معافی مانگے۔ اب جو افراد مغربی ممالک کے ان حربوں کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ ایسا صرف مخصوص ممالک کو دباؤ میں ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ خبر ترک حکومت پر بجلی کی طرح گری ہے اور انہوں نے فوری طور پر احتجاجاً امریکہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس قرارداد کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی نے واشنگٹن میں ترک سفیر نامق تان کو انقرہ واپس طلب کر لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ترک-امریکہ تعلقات تاریخ کے سب سے کامیاب دور سے گزر رہے ہیں” اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ترک-امریکہ تعلقات کو خراب نہیں کیا جائے گا۔

22 کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی پالیسی اور صدر براک اوباما پہلی جنگ عظیم میں ارمنی باشندوں کے قتل کو باضابطہ طور پر “نسل کشی” کہیں۔ اب امریکی اسپیکر نینسی پلوسی کو لازماً فیصلہ کرنا ہے کہ وہ منظور ہونے والے اس بل کو ایوانوں میں منظوری کے لیے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔

واضح رہے کہ 2007ء میں بھی کانگریشنل کمیٹی کی جانب سے ایسا ہی بل منظور کیا گیا تھا تاہم بش انتظامیہ پر دباؤ کے باعث اسے ایوان میں پیش نہیں کیا گیا تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رحجانات میں زبردست اضافہ ہوا اور سروے سے ظاہر ہوا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رائے عامہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

مبینہ ارمنی قتل عام

ارمنی نسل کشی ترکی کو درپیش بڑے خارجہ مسائل میں سے ایک ہے اور لیکن نہ صرف اس معاملے میں بلکہ قبرص کے معاملے میں بھی مغرب اور امریکہ کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے اور بجائے حقائق کو سمجھنے کے انہوں نے ان تنازعات کو پیدا کر کے ہمیشہ ترکی کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں ذہن میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ اپنے سب سے بہترین اتحادی کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیل رہا ہے؟ اگر معاملہ صرف انسانی حقوق کا ہے تو پاکستان پر کبھی بنگالیوں کی نسل کشی کا الزام لگا کر ایسی قرارداد کیوں نہیں منظور کی گئی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مختلف ممالک کو دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف کارڈز وقتاً فوقتاً پھینکتا ہے اور ان کارڈز کو بچا رکھتا ہے، جس طرح اس نے پاکستان کو دیگر معاملات میں پھنسا رکھا ہے اور اس طرح ترکی کو قبرص و ارمنی نسل کشی کے معاملات میں الجھا رکھا ہے۔ ویسے کیا امریکہ کا رویہ یہ بات ثابت نہیں کر رہا کہ چاہے مسلمان سیکولر ہو یا انتہا پسند، اس کی نظر میں مسلمان ہی ہے اور وہ اس سے ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جو وہ مسلمانوں سے کرتا آ رہا ہے؟ بس فرق صرف اتنا ہے کہ افغانستان پر گولے برسائے جاتے ہیں اور ترکی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر اس حکمت عملی کو تسلیم کیا جائے تو دیگر کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں:

کیا امریکہ کے اس طرح کے اقدامات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ واقعتاً دنیا کو تہذیبی خطوط پر تقسیم کرنا چاہ رہا ہے؟

کیا اس طرح کے اقدامات واقعی تہذیبوں کے درمیان خلیج میں اضافہ کر رہے ہیں؟ جس کا نتیجہ ایک زبردست تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے؟

پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی کو صرف اس وجہ سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی آبادی کی اکثریت اسلام کی نام لیوا ہے؟

 

مزید دیکھئے

ارمنی قتل عام (Armenian Genocide) کے حوالے سے میرا وکیپیڈیا پر لکھا گیا ایک مختصر مضمون

آرمینیا کے آذریوں کا قتل عام

اس حوالے سے چند خبریں:

کرسچن سائنس مانیٹر کی خبر

وال اسٹریٹ جرنل کی خبر

وائس آف امریکہ کی خبر

Google Buzz

شکست تسلیم، مگر اعلان بعد میں فتح کے تاثر کے ساتھ

تحریر: زبیر انجم صدیقی

گزشتہ دنوں “ایک اطلاع” کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس دعوے کو تاریخ کے تناظر میں گہرے منطقی دلائل اور زمینی حقائق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس “دعوے” کے صائب ہونے کو ثابت کرتے چلے گئے۔

28 فروری کو برطانوی فوج کے سربراہ ڈیوڈ جنرل رچرڈ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغان جنگ 2011ء میں ختم ہو جائے گی۔ مگر ہمارا اندازہ یہی ہے کہ افغان جنگ 2009ء کے وسط ہی میں ختم ہو گئی تھی۔ اور اس کے بعد سے اس جنگ کو سمیٹنے کا عمل جاری ہے۔ اور یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ افغان مزاحمت کاروں کی فتح پر منتج ہوئی ہے۔ دسمبر میں ایک اور امریکی دفاعی میگزین کی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ کابل کے علاوہ افغانستان کے جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی صوبوں میں کم و بیش 60 فیصد پولیس اور فوج کے اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اور باقی ماندہ بھی بمشکل ہی طالبان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے آثار کو نمایاں کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو جنوبی افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کو ان کے افغان مترجم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد اس مترجم کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ فروری میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض افواج کس طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔ فروری کے وسط میں مشرقی صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب میں ایک کارروائی کے دوران اتحادی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز مد مقابل آ گئیں۔ جس میں سات افغان پولیس اہلکار مارے گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کو “فرینڈلی فائر” قرار دیا ۔ اس طرح کے واقعات اب افغانستان میں معمول بنتے جارہے ہیں جس میں افغان سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی فوجی ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے ہیں۔ 30 جنوری کو خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر ہمام البلاوی کے خود کش حملے کے واقعے نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے میدان میں بھی امریکہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کو اس بات کا علم تو ضرور تھا کہ افغانستان میں قابض افواج کی شکست یقینی ہے۔ مگر 2009ء میں صورتحال اس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگی اس کا اندازہ شاید طالبان کو بھی نہیں تھا۔

“ایک اطلاع” کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ شکست امریکہ کے بجائے افغان مزاحمت کاروں کو ہوتی تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ پر کئی مہینوں تک بریکنگ نیوز کی طرح نشر کی جاتی۔ مگر اس وقت مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس “خبر” کو نشر کریں اور اس کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوباما انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلی عہدیداروں کی “آنیاں جانیاں” افغان جنگ کو سمیٹنے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اور اگر آئندہ چند دنوں میں نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان قیادت سے امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں تو یہ خبر کم از کم ہمارے لئے باعث حیرت نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے نامور تجزیہ کاروں کو اب اس بارے میں سوچنا اور لکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف افغان مزاحمت کاروں کی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت کی شکست ہوگی۔ اور تاریخ کا ادراک رکھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کی شکست کے اثرات اور مضمرات ہمہ گیر اور دور رس ہوا کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مجھے آمادہ تحریر کرنے والی کرشماتی شخصیت نے اپنے 25 فروری کے کالم میں اس بارے میں کیا لکھا ہے:

انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، طبعی عمر پوری ہوتے ہی انسانی ساختہ نظریہ فنا ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 70 سال میں سوشلزم کی نظریاتی کشش کم ہو چکی تھی اور وہ ریاستی طاقت کے سہارے کھڑا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ریاستی طاقت اس کی پشت سے ہٹی سوشلزم منہ کے بل گر گیا۔ چونکہ سوشلزم کا پھیلاؤ عالمگیر تھا اس لئے اس کی پسپائی بھی عالمگیر ثابت ہوئی۔

برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک سے افغانستان کے بارے میں جو اعلانات آ رہے ہیں وہ شکست ہی کا اظہار ہیں۔ چاہے وہ فوج واپس بلانے کا اعلان ہوں یا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار۔ مگر امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کا رویہ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ شکست کا اعلان تو کیا جاسکتا ہے مگر فتح کے تاثر کے ساتھ۔ درج ذیل آزاد نظم آپ اس بلاگ پر ایک بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دوبارہ پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ جو گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظر آنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصوف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں

Google Buzz

ملا برادر کی غیر متوقع گرفتاری، اسباب و محرکات

تحریر: زبیر انجم صدیقی

امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی “کامیابی” کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ “کامیابی” ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور عسکریت پسندوں سے رابطے کا ذریعہ، مذاکرات کار اور مزاحمت کے سب سے بڑے جرنیل (انسرجنسی کمانڈر) ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری۔ جس کے بعد جمعرات 18 فروری کو بغلان میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا عبدالسلام اور قندوز میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا میر محمد کو بھی پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری حقیقتاً اتنی نہیں تو اس سے کچھ کم درجے کی کامیابی ضرور ہوتی، اگر یہ اب سے چار یا پانچ مہینے پہلے ہوتی مگر اس وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لئے ان پاکستانی ذرائع ابلاغ نےاس خبر کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جتنا کہ وہ بالعموم نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں کو اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند دنوں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل امکانی صورتیں بنتی ہیں۔

ملا عبد الغنی کی گرفتاری طالبان کے سابق آپریشنل کمانڈر ملا داد اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ملا داد اللہ کو دو ہزار سات میں قندھار میں امریکی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب انہیں امیر المومنین ملا محمد عمر کی حکم عدولی کرنے پر ان کے منصب سے معزول کر کے عسکری کارروائیوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ ملا عمر کی تائید سے محروم ہونے کے بعد ملا داد اللہ کی قندھار کے قریب موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو فراہم کی تھیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اجازت کے بغیر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پر ملا عبد الغنی برادر کو دسمبر میں ان کے منصب سے علیحدہ کر دیا تھا۔ جس پر وہ ملا عمرسے ناراض ہو کر دسمبر میں ہی پاکستان آ گئے تھے۔ اور اس کے بعد سے ملا عمر نے تمام ذمہ داریاں طالبان دور حکومت میں قندھار کے گورنر ملا حسن رحمانی کو دے دی تھیں۔ اور ان دنوں ملا عمر کے بعد طالبان کے سے بڑے رہنما وہی ہیں اور وہی “ڈے ٹو ڈے” بزنس دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ ملا برادر۔

سترہ فروری کو مالدیپ کے صدر کے ترجمان نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ مالدیپ کے صدر نے جنوری میں لندن کانفرنس سے قبل طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی موجود تھے۔ دونوں جانب سے کے وفود گیارہ گیارہ ارکان پر مشتمل تھے۔ افغان مزاحمت کاروں کا گیارہ رکنی وفد تین حصوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔

اول، حزب اسلامی کا وفد (جس میں مالدیپ کے صدارتی ترجمان کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یار کا بیٹا بھی شامل تھا۔ حزب اسلامی کا دائرہ اثر مشرقی افغانستان ہے)

دوم، حقانی نیٹ ورک کا وفد (جنوبی مشرقی افغانستان میں مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ)

اور سوم، ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ملا عمر کی تائید حاصل نہیں تھی

اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر نے تیس جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ان کے حال ہی میں طالبان کی ” کوئٹہ شوریٰ” کے اہم رکن سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ رابطے کہاں اور کس رکن سے ہوئے ہیں۔ مگر سترہ فروری کو مالدیپ کے صدارتی ترجمان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کے بات یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مذاکرات کہاں اور کوئٹہ شوریٰ کے کس رکن سے ہوئے تھے۔

ہمارے اس تجزیے کو اس سوال پر غور کرنے سے بھی تقویت ملتی ہے کہ۔ پاکستان(آئی ایس آئی) طالبان کے کلیدی رہنما کو ایک ایسے وقت میں کیوں گرفتار کرائے گا کہ جب پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے لئے امریکہ اور طالبان سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پیشکش بلکہ خواہش ظاہر کی ہوئی ہے۔ اور جس کے لئےپاکستان کو طالبان کے جتنے اعتماد کی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ پاک فوج کم از کم ایسے وقت میں طالبان کو کوئی بڑا دھچکہ کیوں دے گی۔ اور اس اعتماد کو کیوں خطرے میں ڈالے گی جس کا مصالحت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان ہم آہنگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی ہے۔ جس وقت گیارہ ستمبر کا حملہ ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن ہی میں موجود تھے۔ تاہم حملوں کے بعد وہاں ان کے قیام کو توسیع دے کر ان سے طالبان کے اسٹریٹجک اہداف کی ایک فہرست حاصل کی گئی تھی۔ مگر “خدا کے فضل و کرم” اور اپنے”اسٹریٹجک اثاثے” کی حفاظت کے پیش نظر وہ سارے اہداف ڈمی ثابت ہوئے اور طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بڑا نقصان نہیں پہنچ سکا۔ ملا برادر اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کو اس تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے کلیدی ساتھی نہیں رہے تھے بلکہ اپنے مذاکراتی رابطوں کی وجہ سے ان کے لئے ایک بوجھ بن گئے تھے۔

گرفتاریوں کے اس غیر متوقع سلسلے کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دو نومبر دو ہزار دس کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے جس میں کامیابی کے لئے ڈیموکریٹس کو بہت ساری “فتوحات” اور”بڑی کامیابیوں” کی ضرورت ہے۔ جن میں اوباما انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی بھی شامل ہے۔ اسی لئے تیرہ فروری کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع مرجاہ میں شروع ہونے والے آپریشن مشترک کا “میڈیا ہائپ”‘(ابلاغیاتی بلبلہ) پیدا کیا گیا ہے۔ جسے کبھی گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوج کا سب بڑا آپریشن۔ کبھی طالبان کے زیر انتظام سب بڑی آبادی کو سر کرنے کا خطرناک معرکہ اور کبھی اوباما کی نئی” سرج پالیسی” کا لٹمس ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ جس قسم کی مہم پر پندرہ ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی مرجاہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں، طالبان اس قسم کی جنگ لڑ ہی نہیں رہے ہیں۔ وہ تو پورے افغانستان میں گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، وہ حملہ کرتے ہیں بھاگتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ وہ مرجاہ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اتحادی فوج کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں گے۔ اور”شدید مزاحمت” ہوگی۔ طالبان آپریشن سے کئی دن پہلے ہی مرجاہ سے نکل گئے تھے۔ اس لئے میرا خیال یہی ہے کہ چند دن کے بعد اتحادی فوج”شدید مزاحمت” کو”کچلتے”ہوئے۔ پچاسی ہزار کی آبادی پر کنٹرول قائم کر لے گی۔ جسے اوباما کی سرج پالیسی کی پہلی آزمائش کی “بڑی کامیابی” قرار دے دیا جائے گا۔ اور ملا برادر کی گرفتاری کے بارے میں جس طرح کی خبریں، بیانات اور تجزیے امریکی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون میں اضافے کا ثبوت۔ پاک امریکہ انٹیلیجنس تبادلہ ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ وائٹ ہائوس نے طالبان لیڈر کی گرفتاری کو مشترکہ کوششوں کی فتح قرار دے دیا۔ امریکی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب کے سب”بڑی کامیابی” کے نشے میں چور اورپاکستان کے تعاون کے لئے رطب اللسان ہیں۔ ذیل میں ہم صرف ایک امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے دے رہے ہیں۔

“American and Pakistani intelligence agents continued to press their offensive against the group’s leadership after the capture of the insurgency’s military commander”
“Together, the three arrests mark the most significant blow to the Taliban’s leadership since the American-backed war began eight years ago”.
“The three recent arrests — all in Pakistan — demonstrate a greater level of cooperation by Pakistan in hunting leaders of the Afghan Taliban than in the entire eight years of war”.

اوراس اقتباس پر تویہ کہنے کا دل چاہتا ہے کہ” اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔

Pakistani military and intelligence agencies, led by Gens. Ashfaq Parvez Kayani and Ahmed Shuja Pasha, may finally be coming around to the belief that the Taliban — in Pakistan and Afghanistan — constitute a threat to the existence of the Pakistani state.
“I believe that General Kayani and his leaders have come to the conclusion that they want us to succeed,” a senior NATO officer in Kabul said.

اس تجزیے کے بعد یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر براک اوباما کو فوجی انخلاء کے لئے افغانستان میں فوجی کامیابی کی نہیں بلکہ صرف کامیابی کے تاثر کی ضرورت ہے اور یہ ساری نئی پالیسی اس تاثر کو حاصل کرنے ہی کی سر توڑ کوشش ہے۔ یہ تو تھی غیر حقیقی”بڑی کامیابی” کا تجزیہ۔ اگلے بلاگ میں ہم آپ کو حقیقی بڑی خبر دیں گے۔

Google Buzz

گیا دور سرمایہ داری گیا

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی
zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لکھوکھا افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کے لئے آوازیں اس بار جتنی زور و شور سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اس بار یہ آوازیں کسی مسلم یا سوشلسٹ معاشرے سے نہیں بلکہ سرمایہ داری اور مغربی تہذیب کے مراکز سے ابھر رہی ہیں ۔ لندن میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ G-20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر یورپ کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے بیشتر بینر ایسے اٹھا رکھے تھے جس میں لفظ عالمگیریت کے حجاب کو استعمال کرنے کے بجائےبراہ راست صورتحال کا ذمہ دار عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا گیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مین ہٹن، نیویارک کی “وال اسٹریٹ”، جہاں سے بوژروا طبقے نے دنیا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں کسنے کا آغاز کیا، میں بھی سینکڑوں افراد نےکساد بازی کی لہر اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی بے روزگاری کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر خرابیوں کو قرار دیا گیا ۔

میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی

g20-protest

سرمایہ داری صدیوں کی اصلاحات کے باوجوداپنی ان خرابیوں کو دور نہیں کر سکی ہے، جو انتہادرجے کی خود غرضی اور سرمائے کے ارتکاز کی بنیاد پر قائم ہونے والے اس ظالمانہ نظام میں موجود ہیں ۔سود کی بنیاد پر بننے والا نظام مالیات، سسٹم میں وسائل پیدا کرنے والے اصل عاملین کے ساتھ ایک طرح ہر جہت میں ہمہ گیر بے انصافی کرتا ہے ۔اس نے اجتماعی معیشت کی ساری باگیں چند خود غرض سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں دے رکھی ہیں ۔جو اپنا سرمائے کی نفع اندوزی میں وقتی کمی دیکھنے کے روادار بھی نہیں اور یک جنبش قلم ہزاروں خاندانوں کی روزی اور مستقبل کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتے ۔اور ان سرمایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وضع کیا گیا نظام لبرل مٕغربی جمہوریت کی شکل میں موجود ہے ،جو ساہوکاروں اور بوژرواطبقے کی مشکلات کے حل کے لئے تو سینکڑوں ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کو تیار ہے تاہم کساد بازاری سے بیروزگار ہونے والے لاکھوں امریکیوں کے مسئلے کا کوئی حل اس کے پاس موجود نہیں ہے، جو آئے دن نیویارک اور شکاگو میں ہونے والے جاب فیئرز میں سینکڑوں فٹ طویل قطار میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر دس پندرہ سال بعد کساد بازاری کی لہر آنا باعث حیرت نہیں ہے بلکہ اس نظام کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ایسا نہ ہونا حیران کن ہوگا۔بے قید معیشت کے نام پر وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کے لئے بنے گئے تانے بانے سرمایہ دار کے دل میں ایسی خود غرضی اور لالچ پیدا کردیتے ہیں کہ ایک موقع پر وہ اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس میں بے تحاشہ سرمایہ لگانا شروع کر دیتاہے اور ایک موقع ایسا آتا ہے کہ سرمائے کی کثرت نفع کے امکانات ختم کرتی چلی جاتی ہے۔ کاروبار سردپڑتا دیکھ کر سرمایہ دار پہلے سے لگا ہوا سرمایہ کھینچنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر کساد بازاری کا دورہ پڑجاتا ہے۔

g20-protest01

ظاہر ہے ایسے حالات میں جب لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں اور کروڑوں اس قدر قلیل المعاش ہوں کہ سخت ضرورت کے باوجود وہ مال نہ خرید سکیں جن سے وال مارٹ جیسے سپر اسٹور بھرے پڑے ہیں، ایک ایسا منظر نگاہوں کے سامنے ہے کہ دنیاکے سامنے بے حدو حساب قابلِ استعمال ذرائع موجود ہیں، کروڑوں آدمی کام کرنے والے موجود ہیں اور وہ انسان بھی کروڑ ہا کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں جو اس سامان کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہی نہیں بلکہ شدید ضرورت مند ہیں، مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا کے کارخانے اور پیدوار کے مراکز اپنی استعداد کار سے بہت گھٹ کر جو کچھ تیار کر رہے ہیں وہ بھی منڈیوں میں میں محض اس وجہ سے پڑا ہوا ہے کہ لوگوں کے پاس خریدنے کے لئے رقم موجود نہیں ہے اور لاکھوں بے روزگاروں کو اس لئے کام پر نہیں لگایا جاسکتا کہ جو تھوڑا بہت مال بنتا ہے وہی بازار میں نہیں نکل رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی مزید سرمایہ لگاکر بے روزگاروں کو نوکری دینے کی جرات کر سکے ۔۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ایسی ہی کمزوریوں کو دیکھ کر کہا تھا:

ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پہ خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجہ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

ایک اور جگہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
دیارِ مغرب کے رہنے والوٕں خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم اعیار ہوگا

علامہ اقبال کی جانب سے مغربی تہذیب کے جلومیں موجود سیاسی اور معاشی نظام کے بارے میں اس رائے کا اظہار کسی مجذوب کی بڑ نہیں تھا بلکہ ان کی دیدۂ بینا نے سرمایہ داری کی خرابیوں کو دیکھ کر اس کے انجام سے ہمیں کئی عشروں قبل ہی آگاہ کر دیا تھا:

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

اللہ کے ایک اور بندے نے 30دسمبر1946ء کو سیالکوٹ میں خطاب کے دوران سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خرابیوں کو دیکھ کر جو پیشگوئیاں کی تھیں ان میں سے ایک پوری ہوچکی ہے جبکہ دوسری پیشگوئی کے پوری ہونے کے لئے اسٹیج پوری طرح تیار ہے۔آیئے دیکھتے ہیں کہ اس مفکر نے آج سے 63 سال قبل کیا کہا تھا؟

حتی کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کیلئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدنہ پاسکے گی اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے

اس وقت عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے بقا کا جواز تلاش کرنے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں یعنی بے قید معیشت اور حکومتی اجارہ داری سے آزادی پر بھی سمجھوتہ تیار کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ بینکوں کو قومیانہ –یا ان پر سرکاری کنٹرول کا قیام– سرمایہ داری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ بالکل اسی طرح معیشت پر بھی سخت ریگولیشن کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ حالیہ بحران نے عالمی مالیاتی نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اس لئے معیشت اور مالیات کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرافات

wallstreet-protest

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک اس کی جگہ لینے کے لئے دوسرا نظام موجود نہ ہو۔اسلام کے علاوہ کسی نظام کے پاس انسانیت کو درپیش مسائل کا حل موجود نہیں۔مگر موجودہ عالمی صورتحال میں نہ اسلام کے معاشی نظام کا کوئی ماڈل موجود ہے اور نہ ہی اس نظام کو متبادل کے طور پیش کرنے کے لئے وکیل اور سازگار حالات،اس لئے موجودہ سرمایہ داری اس وقت تک موجود رہے گی جب تک دوسرا نظام اس کی جگہ سنبھالنے کے لئے دنیا کے سامنے نہ پیش کر دیا جائے۔ماہرین کہتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکہ کی معیشت مسلسل تیس سال کی کساد بازاری برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے،مگریہ رائے آج کے حالات میں اتنی درست معلوم نہیں ہوتی۔اس نظام کی مثال اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسے مٹھی سے بھر بھری اور خشک ریت کو پکڑنے کی کوشش کی جائے ابتدا میں ریت بہت آہستہ آہستہ نکلتی ہے مگر جیسےجیسے مٹھی خالی ہوتی جاتی ہے ریت کے نکلنے کی رفتار بھی تیز ترین ہوتی چلی جاتی ہے ۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات

Google Buzz

ترک وزیراعظم کا دلیرانہ اقدام

ترکی پہلا مسلم اکثریتی ملک ہے جس نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا اور گزشتہ 60 سالوں سے اسرائیل اور اس کے درمیان اقتصادی، عسکری و سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ترکی اسرائیل کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 3 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ 2008ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ بھی گزشتہ 9 سالوں سے قائم ہے۔ علاوہ ازیں عسکری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بحری جنگی مشقیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی ہر لحاظ سے دونوں ممالک بہترین تعلقات میں بندھے ہیں لیکن تمام تر معاشی و عسکری رشتوں کے باوجود ترکی ماضی میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کی ہمیشہ کرتا آیا ہے اور 2004ء میں شیخ احمد یاسین کی شہادت کو دہشت پسند اقدام اور غزہ میں اسرائیلی پالیسی کو ریاستی دہشت گردی قرار دے چکا ہے۔

erdogan_peres

اردوگان اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

لیکن غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور تقریباً ڈیڑھ ہزار انسانوں کے قتل عام نے پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی اور اس جارحیت کے خلاف عوامی سطح پر بھی زبردست احتجاج سامنے آیا۔ ترکی نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیلی اقدامات کو “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیا۔ دوسری جانب عوام نے ملک بھر میں زبردست مظاہرے کیے اور استنبول میں دو لاکھ افراد نے غزہ کے باشندوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

گزشتہ روز (29 جنوری 2009ء بروز جمعرات) سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی تقریر پر سخت احتجاج کیا۔ جس پر اسرائیلی صدر نے زہریلا تبصرہ کرتے ہوئے کہا

ترکی کو اس وقت شور مچانا چاہیے جب میزائل استنبول پر گریں

اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دینے کی کوشش کے دوران میزبان نے ترک وزیراعظم سے معذرت کی کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے جس پر رجب طیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم کو کہا کہ “تم معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہو”۔ انہوں نے اسرائیلی صدر کی تقریر پر تالیاں بجانے والے شرکاء پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل عام پر تالیاں بجانے کا کوئی جواز نہیں۔ میزبان کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر رجب طیب نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اب میں کبھی ڈیووس اجلاس میں شرکت کروں گا۔ (واقعے کی مزید تفصیلات یہاں دیکھیے)

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں (تصویر: روزنامہ ایکسپریس)

ترک عوام نے وزیراعظم کے اس دلیرانہ اقدام کو سراہا ہے اور وطن واپسی پر ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ جمعہ کی صبح جب وہ وطن واپس پہنچے تو ایئرپورٹ پر 5 ہزار افراد ترک اور فلسطینی جھنڈے لیے ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

Google Buzz

وسط ایشیا میں احیائے زبان

نو آبادیاتی دور میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے غلام مسلمانوں کا مذہبی و قومی تشخص مسخ کرنے کی منظم انداز میں کوششیں کی گئیں لیکن جو انداز روس کے زیر قبضہ وسط ایشیائی ممالک میں اختیار کیا گیا وہ شاید پرتگال کے زیر نگیں انگولا اور بیلجیم کے زیر قبضہ کانگو میں بھی نہ تھا۔ بس وہ مظالم اس لیے “ہولوکاسٹ” نہیں کہلائے کیونکہ ایک تو وہ مظلوم مسلمانوں کا لہو تھا، دوسرا مسلمانوں کے پاس یہودیوں جیسا طاقتور میڈیا نہ تھا اور نہ ہے۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ استبداد ذرائع ابلاغ کی معمولی آزادی کا بھی قائل نہ تھا اس لیے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے تشخص و ثقافت کی پامالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا عشر عشیر بھی دنیا پر ظاہر نہ ہو سکا۔
روس میں زار کے دور میں ڈھائے گئے مظالم کو تو ملوکیت کا جبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن (نام نہاد) مساوات کی قائل اشتراکی حکومت نے پسے ہوئے مسلمانوں جبر کے جو پہاڑ توڑے وہ مساوات کے نام پر دھبہ ہیں۔ اشتراکی حکومت کی پہلی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے جدا کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جہاں فوری طور پر مدارس و مساجد کو بند کیا گیا وہیں ایسا ادب پھیلایا گیا جو نوجوان نسل کو اپنے دین سے برگشتہ کردے۔
اس لیے منظم اشتراکی کوششوں کا پہلا نشانہ بھی مسلم ادب ہی بنا اور مسلمانوں کو اپنی کتابوں سے بیگانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عربی رسم الخط کی بے ثباتی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا اور باقاعدہ قراردادیں منظور کر کے اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عربی رسم الخط جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اس لیے ضروری ہے کہ عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبانوں لاطینی رسم الخط پر منتقل کیا جائے۔ اور یوں ان نام نہاد کانفرنسوں کی قراردادوں پر لبیک کہتے ہوئے بیک جنبش قلم مسلمانوں کا اپنے ماضی سے ناطہ توڑ دیا گیا اور وسط ایشیا کے مسلمانوں کی تمام زبانوں کو لاطینی رسم الخط میں منتقل کر دیا گیا۔
لیکن جب ترکی نے 1928ء میں ترک زبان کو عربی رسم الخط سے لاطینی رسم الخط پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تو گویا اس امر سے بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ مسلمانوں کے لیے ترک سیکولر ازم بھی “ذریعۂ ہدایت” ہو سکتا ہے اس لیے وسط ایشیائی زبانوں کو لاطینی کے بجائے سیریلک (Cyrillic)، یعنی روسی، رسم الخط میں لکھنے کا اعلان کیا گیا اور یوں وسط ایشیائی باشندے اپنے تاریخی ادبی ورثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور انہیں انجان راہوں پر ڈال دیا گیا۔
واضح رہے کہ وسط ایشیائی مسلمان ازبک، تاتار، قازق، کرغز اور التائی زبانیں بولتے ہیں جو تمام کی تمام ترک زبان سے قریبی تعلق رکھتی ہیں جبکہ تاجک زبان پر فارسی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن رسم الخط کی تبدیلی نے ان زبانوں کو اپنی قریبی زبانوں اور اپنے ثقافتی و تاریخی ورثے سے کاٹ کر رکھ دیا اور ایک ایسے نامانوس ماحول میں لا کھڑا کردیا، جہاں صرف اور صرف اشتراکیت و الحاد کا غلغلہ تھا۔
بہرحال جبر کی یہ ریاست 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے انجام کو پہنچی۔ جہاں بیشتر نو آزاد ریاستوں نے تو اس “سنہری قفس کو ہی آشیاں” سمجھ کر قبول کر لیا وہیں چند وسط ایشیائی ریاستوں نے ایک بار پھر اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنےکی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان نے کوششوں کا آغاز کیا ہے کہ “ٹوٹے ہوئے سلسلے” کو دوبارہ جوڑا جائے۔ اس حوالے سے ماضی قریب میں تاجکستان کی جانب سے اس خواہش کا بھی شدت سے اظہار کیا گیا ہے کہ تاجک زبان کو ایک مرتبہ پھر فارسی رسم الخط میں تبدیل کیا جائے لیکن دہائیوں کے بعد حقیقی زبان کا احیاء مشکل تو ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں اور اس کے لیے اتنا ہی وقت درکار ہوگا جتنا لاطینی و سیریلک رسم الخط کے قبولیت عام حاصل کرنے میں لگا تھا۔
رسم الخط کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حال ہی میں ایک سافٹ ویئر جاری کیا گیا ہے جو سیریلک رسم الخط میں لکھی گئی تاجک زبان کو فارسی یعنی عربی رسم الخط میں تبدیل کر دے گا۔ اس سافٹ ویئر کو اس لیے اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تاجک عوام تیزی سے فارسی رسم الخط سے دوبارہ آشنائی حاصل کریں گے اور نتیجتاً حکومت کو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا جلد موقع ملے گا جس کا اظہار گزشتہ سال تاجک نائب وزیر ثقافت نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔
یہ سافٹ ویئر ریاضی کے طالب علموں لیونڈ گریشچینکو اور الیکسے فومن نے ماہرِ تعلیم ظفر عثمانوف اور دودیخودو سیمع الدینوف کی زیر نگرانی تشکیل دیا ہے۔ فومن کے مطابق یہ پروگرام اب اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی لکھی ہوئی تاجک تحریر کو سیکنڈوں میں فارسی تحریر میں بدل دے اور یہ تحریر 90 فیصد درست ہو گی۔
ظفر عثمانوف نے اس سلسلے میں بتایا کہ لاطینی رسم الخط اور پھر سیریلک رسم الخط کی جانب منتقلی سے تاجک زبان اپنے سالوں کے سائنسی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو گئی۔ 1980ء کی دہائی میں ماضی سے یہ رشتہ دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت ایسی ٹیکنالوجی موجود نہ تھی جو اس مسئلے کو حل کر سکے۔

Google Buzz

نصر من اللہ و فتح قریب

نصر من اللہ و فتح قریب

Google Buzz

بھارت: جدت سے انتہاپسندی کی جانب سفر

ممبئی فسادات کے بعد جو مسلم اور پاکستان مخالف رحجان بھارت میں تقویت پاتا جا رہا ہے اس سے یہ بات بالکل عیاں ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ بھارت میں اگلے انتخابات میں مسلم مخالف اور پاکستان دشمن جذبات پر سیاست کھیلی جائے گی اور گزشتہ دنوں چند بیانات سے بھارتی سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے اقتصادی سطح پر جو ترقی کی اس نے مسلسل اس تاثر کو تقویت پہنچائی کہ بھارت اب تنگ نظری و انتہا پسندی کی دلدل سے نکلتا جائے گا اور اقتصادی مجبوریاں اس کی پاؤں کی بیڑیاں بنیں گی۔ لیکن 2002ء کے گجرات فسادات نے ان تمام خوش فہمیوں کا خاتمہ کر دیا اور حالیہ واقعات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مستقبل کا بھارت ہندو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے مسلم کش گجرات فسادات اس حقیقت کا اظہار تھے کہ بھارت انتہاپسندی کے آتش فشاں پر بیٹھا ہے۔

گجرات فسادات میں حکومتی کردار اس قدر واضح تھا کہ اس سے نظریں چرانا ممکن ہی نہیں خصوصاً ریاستی وزیر اعلی نریندر مودی کے بیانات اس حقیقت کا کھلا اظہار تھے کہ وہ اور ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) بھارت کو صرف اور صرف ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ گجرات فسادات میں ڈھائی ہزار مسلمانوں کا قتل عام اور ہزاروں کے سماجی مقاطعے (social boycott) کے واقعات “دمکتے بھارت” کے اصل چہرے کو بے نقاب اور وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرنے کے لیے کافی تھے۔

گجرات فسادات اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اس ردعمل کا باعث بنیں جسے “مسلم انتہاپسندی” کا نام دیا گیا۔ لیکن سالِ گزشتہ کے اواخر میں ممبئی حملوں کے بعد ہندو توا کے علمبرداروں کو پاکستان کی آڑ میں مسلم دشمنی کا نیا موقع ملا۔اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اگلے انتخابات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تب تک “پاکستان مخالف بیانات” کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اگر صرف ریاست گجرات کے تناظر میں بات کی جائے تو بھارت کی موجودہ اقتصادی ترقی میں ریاست گجرات بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس اہم ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کا اثر و رسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وزیراعلٰی نریندر مودی گزشتہ تین ادوار سے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہیں اور اب لگتا ہے کہ پاکستان اور مسلم دشمنی کے موجودہ رحجان سے فائدہ سمیٹنے کے لیے بھارت کی انتہاپسند ہندو قیادت کی نگاہیں انہی پر جا ٹھہری ہیں۔ بھارتی معیشت کے دو بڑے ناموں سنیل متل اور انیل ا مبانی نے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قومی سطح کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت کی مستقبل کی قیادت ہیں۔ دونوں کاروباری شخصیات گجرات میں منعقدہ چوتھی “وائبرینٹ گجرات گلوبل انوسٹرز سمٹ” سے خطاب کر رہی تھیں۔
انیل ا مبانی نے کہا کہ “نریندربھائی کی زیر قیادت گجرات نے تمام شعبوں میں زبردست ترقی کی ہے اس لیے تصور کیجیے کہ جب وہ بھارت کی قیادت کریں گے تو کیا ہوگا۔ ان جیسی شخصیت کو تو ملک کا اگلا رہنما ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد دھیروبھائی کہا کرتے تھے کہ “مودی تو لمبی ریس کا گھوڑا ہے”۔

بھارتی متل نے کہا کہ “وزیراعلی مودی سی ای او کے طور پر جانے جاتے ہیں درحقیقت وہ سی ای او نہیں ہیں کیونکہ وہ کسی ادارے یا شعبے کو نہیں چلاتے۔ وہ ایک ریاست کو چلا رہے ہیں اور ملک کو بھی چلا سکتے ہیں۔”

دونوں اہم شخصیات کے اس بیان نے بھارتی سیاست کے میدانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے دونوں اہم سیاسی جماعتیں پاکستان اور انتہاپسندی کی آڑ میں مسلم مخالف کارڈ کھیلیں گی اور نریندر مودی کے حوالے سے جاری بیانات اس کا واضح اظہار ہیں۔ کانگریس ہر گز یہ نہ چاہے گی کہ پاکستان مخالف رحجان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اسے اقتدار سے نکال باہر کرے جبکہ بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائے۔ کانگریس نے متل اور امبانی کو کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے سے پہلے “گجرات قتل عام” کو ذہن میں رکھیں۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مودی کی حکومت “معصوم لوگوں کی لاشوں” پر کھڑی ہے۔
مؤقر بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز نے بھی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ بی جے پی کی نچلی سطح کی قیادت نریندر مودی کو وزارت عظمٰی کا امیدوار دیکھنا چاہتی ہے اور انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ مودی کے امیدوار ہونے کی صورت میں انہیں 30 فیصد زیادہ ووٹ ملیں گے۔
آثار کہہ رہے ہیں کہ ان بیانات کے نتیجے میں بی جے پی میں زبردست اکھاڑ پچھاڑ ہو سکتی ہے اور “نئی قیادت” سامنے آ سکتی ہے جو اگلے انتخابات میں کانگریس جیسی نام نہاد “سیکولر” تنظیم کی بہت سخت حریف ثابت ہوگی۔

Google Buzz

غزہ حملے، احتجاج کیجیے

غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈکرائیے۔ عملی طور پر مظاہروں میں شرکت کے علاوہ آپ بلاگ، فورمز اور ویب سائٹس پربھی غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں۔ تاکہ دنیا بھر کو اندازہ ہو کہ ہم اس ننگی جارحیت اور وحشیانہ کاروائی کے خلاف ہیں۔

ذیل میں آپ میرے ساتھیوں کی تیار کردہ تصاویر، پوسٹرز، اواتار اور آئیکونز وغیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تصاویر کو انٹرنیٹ پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیے، اپنی نمائندہ تصویر کی جگہ یہاں پیش کردہ اواتار لگائیے اور بڑے سائز کے پوسٹرز کے پرنٹ آؤٹ آپ کسی بھی مظاہرے میں شرکت کے دوران استعمال کر سکتے ہیں۔

نیچے دی گئی تمام تصاویر و پوسٹرز زيادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانے کے لیے ہیں اس لیے خود استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے دوستوں تک بھی پھیلائیے۔

Avatar




Google Buzz