تحاریر برائے ’متفرقات‘ زمرہ


سو ہے وہ بھی آدمی

وڈیو بشکریہ عبید اللہ کیہر

 

آدمی نامہ

نظیرؔ اکبر آبادی

دنیا میں بادشا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
زردار، بے نوا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے جو مانگتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال و قُطب و غوث و وَلی آدمی ہوئے
مُنکِر بھی آدمی ہوئے اور کُفر کے بھرے
کیا کیا کرشمے، کشف و کرامات کے کیے
حتیٰ کے اپنے زہد و ریاضت کے زور سے
خالق سے جا ملا ہے ، سو ہے وہ بھی آدمی

فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا
شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا
نمرود بھی خدا ہی کہتا تھا بر ملا
یہ بات ہے سمجھنے کی، آگے کہوں میں کیا
یاں تک جو ہو چکا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی نار ہے، اور آدمی ہی نور
یاں آدمی ہی پاس ہے، اور آدمی ہی دور
کُل آدمی کا حُسن و قبح میں ہے یاں ظہور
شیطان بھی آدمی ہے، جو کرتا ہے مکر و زُور
اور ہادی رہنما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی، امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی، قرآن اور نماز، یاں
اور آدمی ہی اُن کی چراتے ہیں جوتیاں
جو اُن کو تاڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو مارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی
چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی
اور سن کے دوڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ناچے ہے آدمی ہی، بجا تالیوں کو یار
اور آدمی ہی ڈالے ہے اپنی ازار اتار
ننگا کھڑا ، اُچھلتا ہے، ہو کر ذلیل و خوار
سب آدمی ہی ہنستے ہیں ، دیکھ اس کو بار بار
اور وہ جو مسخرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

چلتا ہے آدمی ہی، مسافر ہو، لے کے مال
اور آدمی ہی مارے ہے، پھانسی گلے میں ڈال
یاں آدمی ہی صید ہے ، اور آدمی ہی جال
ساں بھی آدمی ہی، نکلتا ہے میرے لال
اور جھوٹ کا بھرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی شادی ہے، اور آدمی بیاہ
قاضی وکیل آدمی، اور آدمی گواہ
تاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں، خوامخواہ
دوڑے ہیں آدمی ہی مشعلیں جلا کے واہ
اور بیاہنے چڑھا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی نقیب ہو، بولے ہے بار بار
اور آدمی ہی پیادے ہیں، اور آدمی سوار
حقہ ، صراحی، جوتیاں، دوڑیں بغل میں مار
کاندھے پہ رکھ کے پالکی، ہیں آدمی کہار
اور اس پہ جو چڑھا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی، دکانیں لگا لگا
کہتا ہے کوئی لو، کوئی کہتا ہے، لا رے لا
اور آدمی ہی پھرتے ہیں، سر رکھ کے خوانچہ
کس کس طرح سے بیچیں ہیں، چیزیں بنا بنا
اور مول لے رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

طبلے ، منجیرے، دائرے، سارنگیاں بجا
گاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا
ان کو بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگا
وہ آدمی ہی ناچے ہیں، اور دیکھو یہ مزا
جو ناچ دیکھتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی، لعل و جواہر ہے، بے بہا
اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہی ہو گیا
کالا بھی آدمی ہے ، اور اُلٹا ہے جُوں توا
گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا سا چاند کا
بد شکل و بد نما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اک آدمی ہیں جن کی، یہ کچھ زرق برق ہیں
روپے کے ان کے پائوں ہیں، سونے کے فرق ہیں
جھمکے تمام غرب سے لے ، تا بہ شرق ہیں
کمخواب، تاش، شال، دوشالوں میں غرق ہیں
اور چیتھڑوں لگا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اک ایسے ہیں کہ، جن کے بچھے  ہیں نئے پلنگ
پھولوں کی سیج ان پہ جَھمکتی ہے تازہ رنگ
سوتے ہیں لپٹے چھاتی سے، معشوق، شوخ و شنگ
سو سو طرح سے عیش کے کرتے ہیں رنگ ڈھنگ
اور خاک میں پڑا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

حیراں ہوں یارو، دیکھو تو، کیسا یہ سوانگ ہے
یاں آدمی ہی چور ہے، اور آپ ہی تھانگ ہے
ہے چھینا جھپٹی، اور کہیں مانگ تانگ ہے
دیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہے
فولاد سے گھڑا ہے ، سو ہے وہ بھی آدمی

مرنے میں آدمی ہی ، کفن کرتے ہیں تیار
نہلا دھلا اٹھاتےہیں، کاندھے پہ کر سوار
کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں، روتے ہیں زار و زار
سب آدمی ہی کرتے ہیں، مردے کا کاروبار
اور وہ جو مر گیا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف اور کمینے سے، لے شاہ تا وزیر
ہیں آدمی ہی صاحبِ عزت بھی، اور حقیر
یاں آدمی مرید ہیں، اور آدمی ہی ہیر
اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر

Google Buzz

ٹیگ کی رسی

ٹیگ کی ڈوری برادر راشد کامران کے بلاگ سے ہوتی ہوئی اب ایک رسی کی صورت میں ہمارے گلے میں آ پھنسی ہے۔ سو اس کو اتارنا بھی ضروری ہے۔ برادر راشد کے شکریے کے ساتھ سوالات کے جوابات:
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
تقریباً 9 گھنٹے روزانہ، کیونکہ کام کی نوعیت ہی ایسی ہے۔ اختتام ہفتہ پر نیٹ سے دو دن کی چھٹی کبھی کبھی بہت گراں گزرتی ہے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان دو دنوں میں مطالعہ اور بہت سارے اہم کام نمٹ جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات بلاگ کے لیے تحاریر بھی انہی دو دنوں میں لکھتا ہوں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
زندگی میں تبدیلی تو آئی ہے خصوصاً خیالات و نظریات میں تو کافی زیادہ۔ بھڑکنے پھڑکنے کے بجائے اب بات کو تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ زندگی میں آنے والی چند تبدیلیوں کو میں انٹرنیٹ ہی کی مرہون منت سمجھتا ہوں جن میں مطالعے کی عادت اور لکھنے کا آغاز اہم ہیں۔ البتہ اس کے چند نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ خطاطی، جس کا کسی زمانے میں بڑا شائق تھا، اب اتنی خوبصورتی سے نہیں کر سکتا جتنی کہ پہلے کرتا تھا، اب ہاتھ کے بجائے فونٹس اور خطاطی کے سافٹ ویئرز پر انحصار ہے۔

کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
بہت زیادہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ فی الوقت گھر پر انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتا، اس لیے تعطیلات میں زیادہ تر وقت گھر والوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ سماجی زندگی میں میں پہلے بھی اتنا زیادہ متحرک نہیں تھا اس لیے انٹرنیٹ کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ہاں یہ ہے کہ دوستوں سے اب ملاقاتیں بہت کم ہو گئی ہیں لیکن اس کا دوش انٹرنیٹ کو نہیں دوں گا۔

اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جان چھڑانے کی از خود کوشش کو کبھی نہیں کی لیکن ایک واقعے کے بعد دو سال تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ شاید 2002ء اور 2003ء کا زمانہ تھا۔ شاید اس کے بعد ہی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال میں زیادہ محتاط ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ گیمز کے بجائے کمپیوٹر کے مثبت استعمال کی جانب راغب ہوا۔ دوسری بات یہ کہ بھلا میں کیوں جان چھڑاؤں اس انٹرنیٹ سے، جس کے ذریعے مجھے اتنے با علم اور اچھے دوست ملے جن کا زندگی میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے میں اسے نعمت متبرکہ سمجھتا ہوں اور اسے ٹھکرانا کفران نعمت۔ البتہ یہ سب اس کے استعمال پر منحصر ہے ورنہ انٹرنیٹ پر شیطان کے پردادے بھی موجود ہیں، اب آپ کی مرضی ہے کہ اچھے ساتھیوں کا انتخاب کریں یا برے کا۔

کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ ایک تو گھر سے باہر کھیلنے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب عید وغیرہ پر خاندان بھر کے لوگ جمع ہوتے ہیں تو پھر جوانوں اور نوجوانوں کا کرکٹ میچ کھیل لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کبھی گھومنے یا باہر جانے کا منصوبہ بنے تو فوری عملدرآمد کرتے ہیں، اس میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔

کچھ اندازہ نہيں کہ یہ سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی اپنے تکے لگا کر ڈوری ان پانچ ساتھیوں کی جانب بڑھا دیتے ہیں
شاکر عزیز، محمد علی مکی، خرم شہزاد، ابو سعد اور سیدہ شگفتہ کی جانب۔

Google Buzz

اردو بلاگز کی بڑی کامیابی — جریدے میں مضمون کی اشاعت

گزشتہ دنوں ایک عزیز نے بتایا کہ روزنامہ جسارت کراچی کے سنڈے میگزین (اشاعت 30 نومبر 2008ء) میں اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر قارئین کے تبصروں کے بارے میں ایک مضمون شایع ہوا ہے۔
تلاش بسیار کے بعد یہ مضمون مل گیا۔ این خان نے اس مضمون میں اردو بلاگز کی تحاریر اور ان پر قارئین کے تبصروں کو پیش کیا ہے۔ یہ اردو بلاگز کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کی تحاریر کو اخباری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس قابل سمجھایا گیا ہے کہ اخبار کی زینت بنایا جائے۔میری طرف سے تمام اردو بلاگرز کو بہت بہت مبارک باد ۔
بہرحال مجھے دو چیزوں کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے ایک اگر ان تمام بلاگرز کو تبصرے کے ذریعے آگاہ کر دیا جاتا کہ آپ کے بلاگ کی تحریر اور تبصروں پر مشتمل مضمون فلاں تاریخ کو سنڈے میگزین کی زینت بنے گا تو اچھا لگتا۔ دوسری بات اگر زیر موضوع تمام بلاگز کے لنکس آخر میں فراہم کر دیے جاتے تو لوگ ان اردو بلاگز کی دیگر تحاریر سے بھی مستفید ہو پاتے۔
بہرحال فی الحال تو میں بھی خوش ہوں کہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا ہے کیونکہ تحاریر کو تو اس قابل نہیں سمجھا گیا لیکن میرے نام سے دو تبصرے ضرور اس مضمون کا حصہ بنے ہیں :)
bloggers-article-jasarat

Google Buzz

عید نامہ

اب جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں عید منائی جا چکی ہے۔ تو برادر ساجد اقبال کی تحریک پرگزری عید کا کچھ احوال ہی تحریر کر جاتے ہیں تاکہ عوام و خواص کو اندازہ ہو جائے کہ کراچی میں عید کس طرح کی منائی جاتی ہے یا اس مرتبہ کس طرح کی منائی گئی؟

مویشی منڈیاں

تصویر از: اسما مرزا
کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔ چند سال قبل ہر گلی کوچے میں منڈیاں کھمبیوں کی طرح اُگ آتی تھیں۔ پھر ضلعی حکومتوں کے نظام کے آتے ہی اس سلسلے کو کچھ منظم صورت دی گئی اور صرف مخصوص مقامات پر ہی منڈی قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں شہر کے گلی کوچوں کو بن بلائے مہمانوں کی مصیبت سے آزادی ملی۔ اس مصیبت کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ چشم تصور میں سوچئے کہ آپ کے گھر کے سامنے پچاس بکرے کھڑے ہوں اور تمام دن ان کی “ہاؤ ہو” کے علاوہ گاہکوں اور بیوپاریوں کے بھاؤ تاؤ کا غلغلہ مچا ہوا ہو۔
پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا ‘وی آئی پی پویلین’ ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔ منڈی کے اس حصے کی رونق اُن کے دم سے ہے جن کے آمدنی کے ذرائع “نامعلوم” ہیں، اس لیے جس طریقے سے کمایا ویسے ہی خرچ کر ڈالا۔ بہرحال اس منڈی میں مال بیچنے والے گائے بیل کے ایک لاکھ روپے اس طرح بولتے ہیں جیسے یہ لاکھ نہیں بلکہ دس روپے کہہ رہے ہوں۔ اس منڈی میں اسپیشل بکروں کی قیمتیں بھی لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہیں جبکہ گائے بیل کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک کی بھی ہوتی ہے۔

نت نئے کاروبار

تصویر از اسما مرزا
ایک جانب جہاں یہ مویشیوں کے یہ ننھے شہر آباد ہوتے ہیں وہیں عید قربان سے وابستہ کئی نت نئے کاروبار بھی جنم لیتے ہیں۔ گھاس اور چارا بیچنے والے عام ہو جاتے ہیں، جانوروں کی باربرداری میں استعمال ہونے والی مخصوص گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی پھرتی نظر آنے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے عید کے دن قریب آنے لگتے ہیں چھریاں بیچنےوالوں کی تعداد اور انہیں تیز کرنے والوں کے کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ منڈی کے ارد گرد جانوروں کی سجاوٹ کے سامان سے لدی پھندی دکانیں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔ گویا منڈی کے قریبی علاقوں میں ہر دن روزِعید اور رات شبِ برات ہوجاتی ہے۔

موسمی قصائی

عید قرباں کے حوالے سے کراچی کی ایک اور خاص “روایت” یہاں “موسمی قصائیوں” کا برساتی مینڈکوں کی طرح پیدا ہو جانا ہے۔ عید کے ایام میں جب ہر شخص جلد از جلد قربانی کرنے کا خواہاں ہوتا ہے تو یکایک قصائیوں کا کال پڑ جاتا ہے تو اس “کمی” کو پورا کرنے کے لیے “رضاکاروں” کے ٹولے گلی محلوں میں وارد ہو جاتے ہیں اور پھر “مجبوری کا نام شکریہ”۔
قصائی کے بھاؤ سے نصف سے بھی کم میں یہ لڑکے جانور کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔۔۔۔ اس کی کھال کو تو دو کوڑی کا بھی نہیں چھوڑتے کہ پھر وہ صرف مچھلیاں پکڑنے کے کام آ سکتی ہے۔ اور گوشت کو قیمہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث ہڈیوں کے کچومر میں بوٹیاں چھوڑ کر اگلے “شکار” کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ اگر عید کے ایام میں کسی عزیز کے ہاں دعوت پر جانے کا اتفاق ہو اور کھانا کھانے کے دوران بار بار آپ کے منہ میں چھوٹی چھوٹی ہڈیاں آئیں تو سمجھ جائیے کہ جانور کسی ایسے ہی موسمی قصائی کے ہتھے چڑھ گیا ہوگا۔ بہرحال اگر یہ موسمی قصائی نہ ہوں تو کئی لوگ عید کے تین دن قصائی کو ڈھونڈنے میں ہی صرف کر دیں اور سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے محروم رہ جائیں۔
مزا تب آتا ہے جب کسی علاقے میں موسمی قصائیوں کا واسطہ کسی “ڈاڈے” جانور سے پڑ جائے۔ اور پھر وہ واقعہ جنم لیتا ہے جو تمام عینی شاہدین اکثر عید قربان کے دنوں میں جانوروں کے موضوع پر گفتگو کے دوران سناتے ہیں۔

قربانی کی کھالیں

شہر کراچی میں کیونکہ وطن عزیز کی سب سے زیادہ قربانیاں ہوتی ہیں اس لیے قربانی کی کھالوں کے باعث یہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اداروں کے لیے سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیشتر امدادی و حقوق انسانی کے اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ قربانی کی کھالیں ہی ہیں۔ ابتداء میں تو یہ کام چند تنظیمیں ہی کیا کرتی تھیں لیکن جب اس منفعت بخش کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو ہر کوئی اس میں کود پڑا اب یہ کراچی میں اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے۔
اب عید الاضحی کے پہلے روز صبح سے تیسرے روز کی شام تک آپ کو ہر گلی میں مخصوص ٹوکری لیے پیدل، موٹرسائیکلوں یا سائیکلوں پر مختلف افراد دکھائی دیں گے جو ان تین دنوں میں جان توڑ محنت کرکے اپنے ادارے کے سال بھر کے بجٹ کا انتظامکر جاتے ہیں۔

عید سنگینوں کے سائے تلے

جب سے کراچی میں قوم پرستی نے جنم لیا ہے اسی دن سے یہاں کا امن و سکون غارت ہو گیا اور گزشتہ دو دہائیوں سے تو یہ صورتحال ہے کہ ہر عید قربان پر کھالیں چھیننے کے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں اور اس چھینا جھپٹی میں کچھ جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے عیدین پر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر کے انہیں ڈیوٹیوں پر بلایا جاتا ہے اور اس عید پر بیشتر پولیس و رینجرز اہلکاروں کی ڈیوٹیاں کھالیں جمع کرنے والے اداروں کے ساتھ ہی لگتی ہیں تاکہ کھالوں کی ترسیل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔
ماضی قریب میں جب شہر بدامنی کا گہوارہ تھا تو ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں عید قربان سے قبل کھال دینے کا وعدہ نہ کرنے پر جانور کو گولی مار دی گئی یا پھر کھال اترنے کے بعد کھال کے حریف “امیدوار” پہنچ گئے اور ان کی دھینگا مشتی کا خمیازہ کسی مظلوم کو بھگتنا پڑ گیا اور یوں وہ جانور کے ساتھ خود بھی قربان ہو گیا۔

اجتماعی قربانی

آج سے ایک ڈیڑھ دہائی قبل کراچی میں ایک مذہبی جماعت نے اجتماعی قربانی کے رواج کو عام کیا۔ جو قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے کی “بدعت” کے بعد اس جماعت کی دوسری اختراع تھی۔ ابتدا میں تو دیگر تنظیموں کو یہ جھنجٹ لگا کہ کون جانوروں کوخریدنے کا انتظام کرے، انہیں پالے، قصائی کا انتظام کرے اور پھر گوشت کی تقسیم تک کےتمام مراحل کو منظم کرے اس لیے کسی نے اس جانب کان نہیں دھرا۔ لیکن اس کا ایک بہت بڑا فائدہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کے لیے در در بھٹکنے کے جھنجٹ سے آزادی ملی اور یوں اگر 15 سے 20 جانور بھی اجتماعی قربانی میں مل جائیں تو یہ علاقے میں بہت بڑی کامیابی تسلیم کی جاتی۔ بہرحال جب اس کے فوائد “منظر عام” پر آئے تو ہر ایرے غیرے نے “اجتماعی قربانی” کے بینر لٹکا کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی۔ اب یہ کراچی میں عید قربان سے منسلک ایک اہم ایونٹ تسلیم کیا جاتا ہے۔

تعفن زدہ ماضی، صاف ستھرا حال

بچپن میں عید قرباں کے بعد شہر میں گندگی کے وہ مناظر دیکھا کرتے تھے کہ آج بھی سوچ کر جھرجھری آ جاتی ہے۔ سڑکوں پر، گلیوں میں، کوڑے کے ڈھیروں پر ہر جگہ آلائشیں ہی آلائشیں۔ ہر گھر کے سامان خون کا سیلاب بہتا دکھائی دیتا۔ جانوروں کی آلائشوں سے بدبو کے وہ بھبکے اٹھتے کہ گلیوں سے گزرنا محال ہو جاتا۔ گزشتہ شہری حکومت نے اس سلسلے میں پہلی مرتبہ سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور آلائشیں اٹھانے کی مہم بڑے پیمانے پر چلائی اور یوں شہر میں آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا ایک منظم انتظام ہوا۔ اب گزشتہ 8 سالوں سے شہر میں وہ گندگی نہیں ہوتی جو ہر مرتبہ عید قربان کے بعد ہوا کرتی تھی۔
اس لیے میں کہتا ہوں کہ ضلعی حکومتوں کے نظام سے کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن اہلیان کراچی کو بہت فائدہ ہوا۔
“رضاکار فورس” جانوروں کی رکھوالی و دیکھ بھال کی ذمہ دار
اندرون شہر میں جہاں کئی منزلہ عمارتوں میں لوگ رہتے ہیں اور گھر کے ساتھ صحن یا زمین پر ایک دو منزلہ مکانوں کا رواج نہيں وہاں جانوروں کو سنبھالنا کافی مشکل ہو سکتا ہے اس کے لیے چند “رضاکار” میدان میں کودتے ہیں اور محلے میں واقع کسی میدان یا گلی میں شامیانے اور قناتیں لگا کر جانوروں کی رکھوالی کا فریضہ سنبھالتے ہیں۔ یہ نازک کام انجام دینے کا وہ معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں، چند چارہ کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتے ہیں اور فی یوم کے حساب سے چارج لیتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف رکھوالی کی ذمہ داری لیتے ہیں چارہ مالکان خود فراہم کرتے ہیں۔ کراچی شہر میں جہاں جانوروں کا چھن جانا عام ہے وہاں یہ اہم ذمہ داری انجام دینا بہت دل گردے کا کام ہے۔

عید کا مردانہ پہناوا

کراچی کا ایک رواج یہ بھی ہے کہ مردوں کی اکثریت نئے کپڑے صرف عید الفطر پر ہی سلواتی ہے اور عید الاضحی پر صرف نماز کے لیے میٹھی عید کا شلوار قمیص یا کرتہ زیب تن کیا جاتا ہے اور نماز سے واپس واپس آتے ہی تمام مرد کپڑے بدل کر “قصائی” بن جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ جانور کو ذبح کرنے کے عمل میں حصہ ڈالیں لیکن کم از کم جانور کو سنبھالنے اور گوشت کی رشتہ داروں،عزیزوں اور محلے میں تقسیم کا فریضہ انجام دینے کے لیے ہی ان کا کپڑے بدلنا لازم ہو جاتا ہے۔

بچہ پارٹی

“عید تو بچوں کی ہوتی ہے” یہ جملہ بہت مشہور ہے اور واقعی بہت بڑی حقیقت بھی۔ عید قربان پر تو بچوں کی یہ عید کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی ہے۔ ایک ڈیڑھ ہفتہ قبل سے ہی جانوروں کی محلوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یوں ہر بیل، گائے، بھینس، بھیڑ اور بکرے کے پیچھے دوڑتے یہ بچے محلے کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان بچوں کو ایک ایک گھر کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ کس کے گھر میں کون سا جانور آیا ہے اور اسے کتنے میں خریدا گیا؟ محلے بھر کی خبر گیری کرنےوالی یہ سروس عید قربان کے آخری دن تک تمام خبریں اپنے پاس رکھتی ہے اور لمحہ لمحہ کی رپورٹ اپنے گھر میں کرتی رہتی ہے کہ کس کی گائے کٹ چکی ہے، کس کا اونٹ کس وقت قربان کیا جائے گا اور کس کو قصائی نہیں مل رہا :)

Google Buzz

زرداری کا خدا

ہمارے محترم صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے۔ عہدۂ صدارت سنبھالنے کے حوالے سے سیاسی حلقوں نے جن خدشات کا اظہار کیا، ان سے قطع نظر میں تمام تنقید کو خاموشی سے برداشت کرنے پر ان کو داد دیتا ہوں۔ اللہ انہیں ہمت دے کہ ملک کو خارجی و داخلی مسائل سے بچائیں اور اس بحرانی دور سے نکالیں کیونکہ پیش نظر یہی رہنا چاہیے کہ “بدترین جمہوریت، بہترین آمریت سے افضل ہے”۔
لیکن اس مرتبہ زرداری صاحب کا ذکر کچھ اچھے الفاظ میں نہیں کر پاؤں گا، بلکہ ذکر میں نے کیا تبصرہ نگاروں نے کرنا ہے دراصل آج ہی میرے ایک دوست نے ای میل میں ایک تصویر ارسال کی ہے جس کے مطابق 11 ستمبر 2008ء کو مزار قائد پر حاضری کے بعد مہمانوں کی کتاب میں انہوں نے درج ذیل تاثرات درج کیے۔ ذرا غور سے ملاحظہ کیجیے کہ صدر صاحب نے god کے ہجے کیا لکھے ہیں؟ (بڑی تصویر دیکھنے کے لیے اس پر کلک کیجیے)

Google Buzz

رمضان مبارک

الحدیث

لوگو تم پر عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے ، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس کے روزے اللہ تعالی نے فرض قرار دیے ہیں اور اس کی رات کا قیام نفل ہے ، جس نے بھی اس مہینے میں نیکی کی وہ ایسے ہے جس طرح عام دونوں میں فریضہ ادا کیا جاۓ ، اور جس نے رمضان میں فرض ادا کیا گویا کہ اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے ، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت اور درمیان مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے

Google Buzz

ٹیگ ٹیگ 2

طویل غیر حاضری کے بعد جیسے ہی اپنے بلاگ پر حاضر ہوا تو برادر محمد وارث اور فہیم کی جانب سے طلبی کا نوٹس لگا دیکھا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر ٹیگ کا دم چھلا ہمارے ساتھ لگا دیا ہے۔ “مجبوری کا نام شکریہ
تو دونوں کے شکریے کے ساتھ جوابات بھی حاضر ہیں۔ قاعدے کے تحت پہلے کھیل کے قوانین ملاحظہ ہوں۔
الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے
ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے
ج۔ سوالات کے آخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔

سوالات:

س1۔ ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
س2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
Hollywood
س3۔ پیپسی یا کوک؟
کوک
س4۔ سیب یا انگور؟
انگور
س5۔ کراچی یا لاہور؟
کراچی
س6۔ پاپ میوزک یا راک؟
ان دونوں میں سے تو کوئی نہیں
س7۔ چائے یا کافی؟
چائے
س8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
دونوں نہیں
س9۔ نہاری یا حلیم؟
حلیم
س10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟
ارینجڈ کی تو “گل” ہی اور ہے
س11۔ فورمز یا بلاگ؟
فورمز
س12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟
چھڈو جی
س13۔ دوست یا کزنز؟
دوست
س14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟
فٹ بال
س15۔ پرسکون یا پریشان؟
ہمہ وقت پریشان
اب میں ان سوالوں کا بوجھ ان 5 لوگوں پرڈالتا ہوں
محب علوی
عارف انجم
شاکر عزیز
ساجد اقبال
قدیر احمد

Google Buzz

اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں

میرؔ کہہ گئے ہیں:
اچھا نہیں ہے میرؔ کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
جیسے جیسے مئی کے ایام گزرتے گئے اور کراچی کی گرمی کی قیامت خیزی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے طبیعت مضحمل ہوتی چلی گئی اور بالآخر مئی کے آخری عشرے کے ساتھ ہی نزلے اور بخار نے جکڑ لیا اور یوں ہم بلاگ پر کچھ تحریر کرنے سے کم و بیش دو ہفتوں کے لیے محروم ہو گئے۔ ان دو ہفتوں کے دوران بخار ایک مرتبہ اتر کر دوبارہ چڑھا اور طبیعت اس قدر “پتلی” ہوتی چلی گئی کہ لکھنے لکھانے کے کسی کام کی جانب دل مائل نہیں ہوپایا۔ طبیعت میں گرانی تو اب بھی ہے تاہم حالت پہلے سے بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے التماس ہے کہ دعا کریں اور میری کوشش ہے کہ چند روز میں ہی بلاگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کرسکوں۔

Google Buzz

Deviantart پلگ ان

ویب سائٹ کسی تعارف کی محتاج نہیں، دنیا بھر کے گرافک ڈیزائنرز اور فوٹو گرافرز اپنی تخلیقات اور عکاسی کی رونمائی کر کے نہ صرف داد سمیٹتے ہیں بلکہ ان کے اعلٰی کام کو دیکھ کر مجھ جیسے نو وارد اپنے کام میں نئی جہتیں لاتے ہیں۔
چند ماہ قبل برادر ساجد اقبال نے اپنی ایک پوسٹ میں پر فلکر Flickr اکاؤنٹ سے تصاویر سائیڈ بار میں شامل کرنے کا طریقہ بتایا تھا تو دل سے ایک خواہش اٹھی تھی کہ کاش کوئی ایسا پلگ ان ہوتا جس سے Deviantart.com کے اکاؤنٹ سے اپنی تخلیقات و تصاویر بلاگ پر پیش کرپاتا۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانا میرے بس کی تو بات نہ تھی اس لیے انتظار کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ بالآخر تین ماہ بعد ایک ایسا پلگ ان مل گیا جس کے ذریعے آپ پر اپنے یا کسی بھی ساتھی کے اکاؤنٹ سے تصاویر و تخلیقات کو اپنے بلاگ کی سائیڈ بار میں شامل کر سکتے ہیں اور یہ پلگ ان ہے Deviant Thumbs
سب سے پہلے یہ پلگ ان اس جگہ سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے بلاگ پر اپ لوڈ کر دیں (میں ون کلک استعمال کرتا ہوں) اور پلگ انز میں جا کر activate کر دیں۔


اب Presentation یا Design میں جا کر Widgetsمیں چلے جائیں جہاں آپ کو Deviant Thumbsکا Widget بھی نظر آئے گا۔

آپ اس کو شامل کر کے اس کی ترجیحات میں تبدیلی کر سکتے ہیں یعنی کتنی تصاویر سائیڈ بار میں دکھائی جائیں اور کون سے کھاتے سے حاصل کی جائیں وغیرہ۔ بس آپ کی پلگ ان کام کرنا شروع کر دے گی اور آپ کے تجویز کردہ کھاتے سے بالکل اسی طرح تصاویر دکھائے گی جس طرح اِس بلاگ کے سائیڈ بار میں آپ کو دکھائی دے رہی ہیں۔

امید ہے ان بلاگرز کے لیے فائدہ مند ہوگی جو Deviantartپر کھاتے کے حامل ہیں یا اس کے دلدادہ ہیں۔

Google Buzz

Mummy awaits return

ایک رپورٹ کے مطابق دو ممالک کے درمیان سفارتی تنازع کا باعث بننے والی “ممی” ابھی تک تدفین سے محروم ہے۔ اکتوبر 2000ء میں کراچی پولیس کو ایک مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک ایسی ممی ملی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی ایرانی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے جس پر ایران نے اپنا دعویٰ کیا لیکن بعد ازاں تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ممی جعلی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ممی سرخ فیتے کے باعث اپنی “آخری رسومات” سے محروم ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق مردہ خانے میں تین دن کے اخراجات 500 روپے ہوتے ہیں جبکہ اس لاش کو سات سال گذر چکے ہیں۔ (تو اخراجات کا اندازہ لگا لیں)
واضح رہے کہ قدیم سامان کے اسمگلروں نے ایک خاتون کی لاش کی ممی بنا دیا تھا جسے آثار قدیمہ کی ایک عظیم دریافت قرار دیا گیا تھا۔ یہ اس وقت پاکستان کی اہم ترین خبروں میں سے ایک بن گئی تھی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد بھی اس “عظیم تاریخی دریافت” کی کوریج کے لیے پاکستان پہنچی۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ایران نے بھی اس ممی کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ بعد ازاں ماہرین کی زیر نگرانی ایک ٹیم نے اس ممی کا معائنہ کرنے کے بعد اسے جعلی قرار دیا اور رپورٹ کے مطابق یہ 96ء یا 97ء میں انتقال کر جانے والی ادھیڑ عمر خاتون کی لاش ہے جس کی موت کی وجہ گردن کی ہڈی ٹوٹنا بتایا گیا۔ پاکستان میں اس ممی پر تحقیق کرنے والوں میں معروف محقق و ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی بھی شامل تھے۔
پاکستان میں جہاں انسانی حقوق اور نسوانی حقوق کا ڈھنڈورا بہت زیادہ پیٹا جاتا ہے وہاں کوئی اس “ممی” کے آخری حق کے لیے بھی آواز اٹھائے؟ آخر کو وہ بھی انسان اور خاتون تھی۔ خیر یہاں تو زندوں کی کوئی سننے والا نہیں ہے بلکہ ان کی بھی “ممیاں” بنا دی گئیں تو ان مردوں کو کون پوچھتا ہے بلکہ کئی بلاگرز تو اعتراض بھی کریں گے کہ یہاں انسانیت کے خلاف جتنا ظلم کیا جا رہا ہے اس صورتحال میں آپ کو 11-12 سال قدیم ایک لاش کی پڑی ہے۔
بہرحال موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کچھ تفصیلات یہاں بھی موجود ہیں:
فارسی شہزادی

Google Buzz