تحاریر برائے ’مزاحیات‘ زمرہ


ملک میں چینی نہیں ہے

ویسے تو خدا نے انسان کو بھلکڑ ہی پیدا کیا ہے لیکن جتنی بھلکڑ ہماری قوم ہے شاید ہی دنیا کی کوئی اور قوم ہو۔ ابھی گزشتہ نیم جمہوری دور حکومت میں چینی کا ایک زبردست بحران آیا تھا جس کا سبب ہمیشہ قیمتوں میں اضافہ کروانا تھا۔ جیسا کہ ابھی ہوا ہے کہ چینی کی قیمت 36 سے 50 پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ بحران میں کتنی شدت تھی اس کا کچھ اندازہ آپ کو انور مقصود اور معین اختر کی مندرجہ ذیل گفتگو سے ہو سکتا ہے۔ تینوں وڈیوز دیکھنا شرط ہے:

Google Buzz

ابے روک نہ یار!

یہ وہ “uncut” اور “unreleased” وڈیو ہے جسے ہمارے ہاں کے نجی ذرائع ابلاغ کا “تخلیق کردہ” سب سے عظیم شاہکار گردانا جاتا ہے۔ اس وڈیو نے چاند نواب کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اب اچھے بھلے صحافی چاند نواب سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھنچواتے ہیں :) ۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان کے کسی رپورٹر کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جتنی اس چند منٹ کی وڈیو کے نتیجے میں چاند نواب کو ملی۔ ویسے نجانے کس نے اس بیچارے رپورٹر سے دشمنی نکالتے ہوئے اس کی وڈیو آن لائن جاری کر دی :)
(احتیاط: اس وڈیو میں رپورٹر نے چند نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے ہیں)

Google Buzz

21 ویں صدی کا ہنڈا؟

انصاف کے حصول کے لیے در بدر ٹھکرانے کے بعد عوام نے احتجاج کے لیے نیا ٹھکانہ ڈھونڈنا شروع کیا اور نجانے کب یہ قرعہ فال پریس کلب کے نام نکل آیا اور پھر اخبار ان ایک کالمی خبروں سے بھرنے لگے کہ فلاں جماعت، فلاں شخص، فلاں انجمن و فلاں جمعیت کا اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ۔ کبھی کبھار کوئی تصویر بھی اخبار کی زینت بن جاتی۔ لیکن جب یہ سب بھی معمول کی صورت اختیار کر گیا تو اپنی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے مظاہرین کو کچھ “خاص” کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یوں وہ عجیب و غریب احتجاج جنم لینے لگے جن کی خبر لازماً اخبار کا حصہ بنتی۔
اس حوالے سے حیدر آباد پریس کلب خاص شہرت رکھتا ہے کہ جہاں کے بارے میں صحافی برادری کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے اس پریس کلب کے باہر ہوتے ہیں خصوصاً انوکھے قسم کے مظاہرے۔ ابھی گزشتہ ہفتے گھاس کھا کر مظاہرہ کیا گیا، اس سے پہلے پیٹ پر پتھر باندھ کر، کبھی زمین پر لیٹ کر، کبھی قمیضیں اتار کر تو کبھی منہ پر تالے لگا کر۔ غرض اپنے مطالبات کے حق میں اپنے تئیں بھرپور کوشش کر کے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائی گئی۔
گو کہ ہم بھانت بھانت کے مظاہرے دیکھنے کے بعد اب ڈھیٹ ہو چکے ہیں لیکن گزشتہ روز گجرات میں ہونے والے ایک مظاہرے نے بہت جلدی توجہ مبذول کرائی۔ یہ مظاہرہ پاکستان عوامی تحریک نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف کیا۔ مزید تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ “تصویریں بولتی ہیں”۔ ملاحظہ کیجیے:

Google Buzz

تصویر کہانی -2

پوسٹر میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ شخصیت کا تعلق آیت کے اول الذکر حصے سے ہے یا موخر الذکر حصے سے

See what Goggle suggests when you search Zardari

Google Buzz

جوتے دو ہی اچھے

تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال

جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔

بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میں ہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈربھی۔ بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔”غیر مہذب” منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک ”ذمہ دار” شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔

منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک ”عمل” اور ایک” لفظ” کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔

دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت کے ساتھ کئے جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔

15 دسمبر 2008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔

جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔

لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔

Google Buzz

جوتا بھی دس نمبری نکلا

امریکہ کے صدر جارج بش کی جانب سے مقبوضہ عراق کا اچانک الوداعی دورہ اس وقت کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا جب عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے ان کی جانب جوتے برسائے تاہم وہ کمال پھرتی سے غچہ دینے میں کامیاب ہو گئے اور آخر کیوں نہ ہوتے آخر وہ ہالی ووڈ کے دیس سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ہیرو گولیوں کو پچھاڑ دیتا ہے یہ تو پھر یہ معمولی جوتا تھا۔
بہرحال یہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا ہمارے چٹ پٹ میڈیا نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا حتٰی کہ جنگ اور ایکسپریس جیسے موقر روزناموں نے بھی اس خبر کو ‘سپر لیڈ’ میں جگہ دی حالانکہ اس اہم اور نازک موقع پر- جب برطانوی وزیراعظم کی پاکستان آمد، صدر آصف زرداری کے بیان، بھارتی فضائیہ کی جانب سے دراندازی کی تردید جیسی اہم خبریں موجود تھیں- اس خبر کی جگہ وہ بننی چاہیے تھی جو اسے روزنامہ جسارت (اشاعت 15 دسمبر 2008ء) نے دی یعنی صفحہ اول پر سب سے نیچے دو کالمی خبر۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً چہار سو پھیل گئی اور پھر جتنے منہ اتنی باتیں۔ ان تمام باتوں میں سے کچھ باتیں ایسی تھیں جنہیں سن کر بے اختیار ہنسنے کو جی چاہتا۔ چند تیکھے جملے نذرِ قارئین:
- اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے جوتے اتروا لئے جائیں گے
- ایک بات تو ثابت ہوئی کہ موصوف نے بیس بال کھیلنا شاید اسی لمحے کیلئے شروع کیا تھا
- جوتے کی قسمت اچھی تھی کہ بشکے پلید جسم کہ ساتھ مس ہونے سے بچ گیا
- صحافی کو جوتوں کے بجائے ہینڈ گرنیڈ پھینکنا چاہیے تھا۔
- کاش صحافی کے پیر کا سائز تھوڑا بڑا ہوتا بلکہ کہیں زیادہ بڑا ہوتا۔
- کاش نشانہ خطا نہ ہوتا ۔ سوالات کو گھما پھر کر جواب دینے میں تو بش کمال نہیں رکھتے لیکن جوتوں کو کمال مہارت سے غچہ دے گئے۔
- ممکن ہے صرف صحافیوں کے لیے ہی نہیں تمام مسلموں کے لیے جوتا پہننا ممنوع ہو جائے کہ امریکی شہریوں کی جان کو اب جوتوں سے بھی خطرہ ہے
- میں اس کارِ خیر کے لیے اپنے جوتے عطیہ کرنے کو تیار ہوں لیکن ٹھیریے پہلے میں ان میں سیسے کے تلوے لگوالوں۔
- ہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بش کے پاس جوتوں کی دو جوڑیاں ہو گئیں۔
- بش کے مطابق جوتا 10 نمبر کا تھا۔ واقعی 10 نمبری تھا ورنہ اسے لگتا ضرور۔

Google Buzz

شاعرانہ طریقہ ہائے واردات اور چغد لوگ

اخبارات میں پیش کی گئی اردو کا گلہ تو اس بلاگ پر ہو چکا ہے لیکن معروف مزاحیہ شاعر عنایت علی خان کو کاتب اور کمپوزر حضرات سے شکوہ ہے جو بے جا بھی نہیں۔ کمپوزر حضرات نے وہ عظیم مزاحیہ شاہکار تخلیق کیے ہیں کہ اگر ان کو اکٹھا کر کے ایک مجموعے کی شکل دی جائے تو اردو کی مزاحیہ کتب میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کہلائے گی۔ خیر! عنایت علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں جس انداز سے کمپوزر حضرات کی غلطیوں کو “چُن چُن” کر بیان کیا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ شاعری میں نہیں بلکہ نثر پر بھی کافی عبور رکھتے ہیں اور موضوع کو گرفت سے نہیں نکلنے دیتے۔ ان کے ایک کالم کے چند گوشے درج ذیل ہیں:

کاتب یا کمپوزر کاتبانِ تقدیر تو ہیں نہیں کہ ان سے سہو نہ ہو جبکہ غالب نے تو اًن کی کتابت پر بھی اعتراض جڑ دیا تھا کہ

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا

ہمارے آدمی سے مراد اُن کی غالباً پروف ریڈر ہی ہوگا جو ان کی تحریر کی املا درست کرتا۔
مغربی ممالک سے درآمد شدہ انگریزی کی کتب میں ہمیں
کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ ہمارے خیال میں اس کی دو وجوہ ہیں، ایک تو یہ کہ کہتے ہیں کہ وہاں ایک نہیں تین تین دیدہ ریز (پروف ریڈر) یہ کام یکے بعد دیگرے سر انجام دیتے ہیں۔ دوسری یہ کہ خود ہماری اپنی اسپیلنگ اتنی معتبر نہیں کہ صحیح اور غلط املا کا فیصلہ کر سکے۔ یوں تو ماضی قریب میں یہ کام کرنے والے افراد یعنی کاتبانِ تحریر زیادہ لکھے ہی لکھے ہوتے تھے پڑھے کم ہوتے تھے ، پھر بھی انہیں عربی اور فارسی کی تھوڑی بہت شُد بُد ضرور ہوتی تھی اس لیے شبلی نعمانی کو سُتلی نو عدد جیسے لطیفے شاذ و نادر ہی پڑھنے میں آتے تھے لیکن اس کمپیوٹری دور میں کیونکہ زباں دانی کی جگہ انگشت روانی نے لے لی ہے جس کے لیے عربی اور فارسی تو کجا اردو دان بھی مل جائیں تو غنیمت ہے، ہاں اردو دان ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ پھر تحریر بھی مجھ جیسے بد خط فرد کی ہو جس کی ایم اے اردو میں اول بدرجۂ اول، کامیاب ہونے کی خبر سن کر والد محترم نے تعجب سے کہا تھا “اسی ہینڈ رائٹنگ کے ساتھ” تو سمند ناز کو ایک اور تازیانے کے مصداق پھر دیکھ بہار کتابت کی۔
سامنے کی مثال میرے سابقہ کالم میں کمپوزر صاحب نے دو جگہ تصرف فرمایا تھا۔ میرا جملہ تھا “اللہ تعالٰی نے انسان کی سرشت میں سعادت و شقاوت یعنی نیکی اور بدی دونوں کے داعیات رکھ دیے ہیں” کمپوزر صاحب چونکہ خود شقاوتِ قلب سے محفوظ تھے چنانچہ انہوں نے شقاوت کو ایک بہتر معنی والے لفظ “شفادت” سے بدل دیا۔ اسی طرح ایک اور جگہ نوسربازوں (پاکٹ ماروں) کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان لوگوں نے نت نئے شاطرانہ طریقہ ہائے واردات ایجاد کر لیے ہیں یہاں غالباً میری موزونیتِ طبع کا لحاظ کرتے ہوئے شاطرانہ کو کمپوزر صاحب نے “شاعرانہ” طریقہ ہائے واردات میں بدل دیا تھا۔
کافی عرصہ ہوا کہ ایک مقامی اردو اخبار میں کاتب نے خبر کی عبارت لکھی: “نوید قمر الزماں صاحب کی گمشدگی کو آج پانچواں روز ہے گذشتہ چار دنوں سے ان کا سوراخ نہیں مل سکا ہے” اسی اخبار میں ایک تعزیتی بیان کا اختتام کچھ اس طرح تھا “اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفردوس اور لواحقین کو قبرِ جمیل عطا فرمائے۔” بزم تعمیر ادب کی تشکیل کے بارے میں خبر تھی کہ چند چغد لوگوں نے اس کام کا بیڑا (جو اب بیڑے کی شکل اختیار کر گیا ہے) اٹھایا ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ان چغد (یعنی چند) لوگوں میں جناب ماسٹر عبد العزیز، جناب انور بریلوی، جناب واجد سعیدی کے ساتھ میرا نام بھی شامل تھا۔
تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کے مہاجرین پر حملہ آور ہونے والے مسلم سکھوں (مسلح سکھوں) کا بھی تذکرہ پڑھنے کو ملا تھا اور “باوردی” سرنگوں سے ہونے والے دھماکے کا ذکر تو حال ہی کا واقعہ ہے۔

Google Buzz

دربار اکبری

مرحوم آغا شورش کاشمیری نے اپنے رسالے ‘چٹان’ میں ‘دربار اکبری’ کے زیر عنوان ایک نثری فیچر لکھا تھا جس میں یہ بتایا گیا کہ جنرل ایوب خاں کی درباری مخلوق کس طرح کورنش بجا لاتی ہے اور وہ جواب میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ فیچر سے ایوب خاں اتنے برا فروختہ ہوئے کہ اس وقت کے وزیر قانون غلام نبی میمن اور ایڈوکیٹ جنرل سید ناصر حسین شاہ کو گورنمنٹ ہاؤس بلوا کر سخت جھڑکیاں دیں۔ ساتھ ہی فرمایا “ابھی تک یہ شخص باہر کیوں ہے، اس کا اخبار کس لیے جاری ہے؟ میں سپاہی ہوں اور سپاہی فیلڈ میں دشمن کو برداشت نہیں کیا کرتا
اس کے بعد مدیر چٹان دھر لیے گئے ۔۔۔۔ فوراً بعد میمن صاحب رخصت ہوگئے۔ سید ناصر شاہ بھی نکال دیے گئے۔ ملک امیر محمد خاں کو بھی جانا پڑا۔ یہ سب عزت سے گئے لیکن رسوائی اور پسپائی کا جو الاؤ ایوب خاں کے لیے روشن ہوا، وہ ایسا عبرت ناک سبق ہے کہ پاکستان کی کئی نسلیں اسے بھول نہیں سکتیں۔ ذیل کی نظم ایوب خاں کے عہد کی جانکنی کا منظر پیش کرتی ہے اور اگر آج کے حالات پر اسے منطبق کیا جائے تو زیادہ تفاوت نظر نہیں آتا۔
مصاحبین
حضور ہم دس برس سے حاشیہ بردار اولٰی ہیں
عمومی شور و غل شہروں کی دیرینہ طبیعت ہے
سیاسی کھیل ہیں، شوریدہ سر ہلڑ مچاتے ہیں
انہیں لیڈر نچاتے ہیں
ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں
اگر ہم جیل بھجوائیں
تو اکثر تلملاتے ہیں
حضور! ہم خانہ زادِ سلطنت سجدے لٹاتے ہیں
شاہ
بکو مت چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
یہاں کیا ہو رہا ہے، کون سا شیطان اٹھا ہے
جھروکے سے اُدھر دیکھو، یہ کیا طوفاں اٹھا ہے
دمادم، پے بہ پے ایوب مردہ باد کے نعرے؟
افق پر بے تحاشا جھملاتی شام کے تارے
گرجتے گونجتے الفاظ میں تقریر کے پارے
بکو مت، چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
ایک اور مصاحب داخل ہو کر آداب بجا لاتا ہے
مصاحب
امیر المومنین! بالی عمریا کا وزیر آیا
بہتر نشتروں میں ایک نشتر میر صاحب کا
بہ قول آنجہانی شیخ، چہرہ ماہتابی ہے
طبیعت آفتابی ہے
خدا جانے؟ سنا ہے
بچپنے ہی سے شرابی ہے
شاہ
بلا لاؤ، اکیلا ہے
کہ کوئی دوسرا بھی ہے؟
مصاحب
جماعت کے بہت سے منچلے بھی ساتھ آئے ہیں
غزلہائے ہفت خواں کے ولولے بھی ساتھ آئے ہیں
جوانی ناگنوں کے رنگ میں آواز دیتی ہے
دل سد رہ نشیں کو طاقت پرواز دیتی ہے
بالی عمریا کا وزیر دربار میں داخل ہو کر قدم بوس ہوتا ہے
شاہ
چپڑ غٹو، الل ٹپو، نکھٹو، دًم کٹے ٹٹو
فضا لاہور کی ہنگامہ پرور ہوتی جاتی ہے
کہاں ہو؟ کس طرف ہو؟ دیکھتے کیا ہو میاں لٹو
جماعت کی صدارت اس لیے تم کو عطا کی ہے
عوام الناس بازاروں میں نعرہ باز ہو جائیں
سیاسی مسخرے اس دور کے شہباز ہوجائیں
ارے گھسیٹے، ارے بچھیے کے باوا
سوچتا کیا ہے؟
وزیر
امیر المومنین!۔۔۔۔ ہم بندگانِ خاص کے آقا
ہم ایسے سینکڑوں سرکارِ عالی پر نچھاور ہیں
یقیں کیجیے، حریفوں کے مقابل میں دلاور ہیں
جری ہیں، جانتے ہیں بچپنے سے جاننے والے
کہ ہم ہیں آپکو ظلِ الٰہی ماننے والے
مرے قبلہ، مرے آقا، مرے مولا، مرے محسن
سوائے چند اوباشوں کے، ساری قوم خادم ہے
سیاسی نٹ کھٹوں کی گرم گفتاری پر نادم ہے
شاہ
بکو مت، چپ رہو، یہ ہم سمجھتے ہیں یہاں کیا ہے
وہ مودودی کے فتنے اور نصر اللہ کے شوشے
وہ پاکستان مسلم لیگ کے بھڑکے ہوئے گوشے
ڈیورنڈ روڈ کا وہ شاطرِ اعظم، معاذ اللہ
کوئی ٹکرائے اس شہباز سے، یہ تاب ہے کس میں؟
کوئی ایسا بھی ہے، یہ جوہرِ نایاب ہے کس میں؟
وہ کائیاں چودھری یعنی وزیراعظم سابق
پڑا ہے لٹھ لیے پیچھے مرے اور ضرب ہے کاری
تمہیں معلوم ہے عبد الولی خاں کی سیہ کاری؟
وہ بھٹو، جو مجھے کہتا تھا ڈیڈی، اب کہاں پر ہے
کہ سخت گفتنی نا گفتنی اس کی زباں پر ہے
وہ شورش جس نے بھوک ہڑتال سے لرزا دیا سب کو
تمہیں معلوم ہے بد بخت نے تڑپا دیا سب کو
قصوری اور شوکت کس لیے آزاد پھرتے ہیں
انہیں زنداں میں ڈلواؤ، دار پر کھنچواؤ، مرواؤ
ہمارا حکم ہے ان سب کے خنجر گھونپتے جاؤ
جسارت اس قدر؟ اب گالیاں دینے پہ اترے ہیں
سیاسی نٹ کھٹوں کے بیچ بازاریوں کے نخرے ہیں
کچھ دیر چپ رہنے کے بعد حکومت کی ایک رقاصہ سے
شاہ
اری نازک بدن، زہرہ ادا، گوہر صفت لیلٰی
ترے قربان، بوڑھی ہڈیوں میں جان آ جائے
رخِ زیبا
پہ غازہ ہے مگر سی آئی اے کا ہے
کوئی داؤ بتا، یہ بے تکا طوفان تھم جائے
ہمارا پاؤں اکھڑا جا رہا ہے پھر سے جم جائے
بتا نور جہاں، نورِ نظر، رقاصۂ عالم
ہماری ذات اقدس سے عوام الناس ہیں برہم
رقاصہ
مرے آقا! اجازت ہو تو میری بات اتنی ہے
شریروں کی ہمارے ملک میں تعداد کتنی ہے؟
یہی دو چار مُلا، پانچ چھ لڑکے شریروں سے
پرانے گھاگ لیڈر، جیل خانے کے اسیروں میں
انہیں زہر اب دے کر گولیوں سے کیجیے ٹھنڈا
کہ شوریدہ سروں کی ڈار کا استاد ہے ڈنڈا
یہ سب گستاخ ہیں، ان کے لیے تعزیر واجب ہے
یہ سب غدار ہیں، ان کے لیے زنجیر واجب ہے
یہ سب بزدل مسافر موت کے ہیں، موت پائیں گے
کسی حیلے بہانے سے نہ ہر گز باز آئیں گے
شاہ
بہت اچھا، ہم اب ان کے لیے اعلان کرتے ہیں
بس ان کی ناگہانی موت کا سامان کرتے ہیں
مارچ کو ورق الٹ جاتا ہے
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
الٹ ڈالا، عوام الناس سے فرعون کا تختہ
طنابیں ٹوٹتی ہیں، شاہ زادے تھر تھراتے ہیں
وہ گوہر جان نے لاہور کو رخت سفر باندھا
وہ رقاصہ نکل کے پہلوئے اغیار میں پہنچی
کٹی شب دختِ رز پیمانۂ افکار میں پہنچی
سیاسی ڈوم ڈھاری چل بسے، شورِ فغاں اٹھا
زمانے کی روش پر ایک سیلاب رواں اٹھا
بہت سی قمریوں سے باغبانوں کو ہلا ڈالا
کئی ذروں نے مل کر آسمانوں کو ہلا ڈالا
عوام الناس جاگ اٹھیں،تو ناممکن ہے سو جائیں
علی بابا کے چوروں کی زبانیں گنگ ہو جائیں

Google Buzz