تحاریر برائے ’معاشیات‘ زمرہ


سو ہے وہ بھی آدمی

وڈیو بشکریہ عبید اللہ کیہر

 

آدمی نامہ

نظیرؔ اکبر آبادی

دنیا میں بادشا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
زردار، بے نوا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے جو مانگتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال و قُطب و غوث و وَلی آدمی ہوئے
مُنکِر بھی آدمی ہوئے اور کُفر کے بھرے
کیا کیا کرشمے، کشف و کرامات کے کیے
حتیٰ کے اپنے زہد و ریاضت کے زور سے
خالق سے جا ملا ہے ، سو ہے وہ بھی آدمی

فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا
شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا
نمرود بھی خدا ہی کہتا تھا بر ملا
یہ بات ہے سمجھنے کی، آگے کہوں میں کیا
یاں تک جو ہو چکا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی نار ہے، اور آدمی ہی نور
یاں آدمی ہی پاس ہے، اور آدمی ہی دور
کُل آدمی کا حُسن و قبح میں ہے یاں ظہور
شیطان بھی آدمی ہے، جو کرتا ہے مکر و زُور
اور ہادی رہنما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی، امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی، قرآن اور نماز، یاں
اور آدمی ہی اُن کی چراتے ہیں جوتیاں
جو اُن کو تاڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو مارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی
چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی
اور سن کے دوڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ناچے ہے آدمی ہی، بجا تالیوں کو یار
اور آدمی ہی ڈالے ہے اپنی ازار اتار
ننگا کھڑا ، اُچھلتا ہے، ہو کر ذلیل و خوار
سب آدمی ہی ہنستے ہیں ، دیکھ اس کو بار بار
اور وہ جو مسخرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

چلتا ہے آدمی ہی، مسافر ہو، لے کے مال
اور آدمی ہی مارے ہے، پھانسی گلے میں ڈال
یاں آدمی ہی صید ہے ، اور آدمی ہی جال
ساں بھی آدمی ہی، نکلتا ہے میرے لال
اور جھوٹ کا بھرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی شادی ہے، اور آدمی بیاہ
قاضی وکیل آدمی، اور آدمی گواہ
تاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں، خوامخواہ
دوڑے ہیں آدمی ہی مشعلیں جلا کے واہ
اور بیاہنے چڑھا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی نقیب ہو، بولے ہے بار بار
اور آدمی ہی پیادے ہیں، اور آدمی سوار
حقہ ، صراحی، جوتیاں، دوڑیں بغل میں مار
کاندھے پہ رکھ کے پالکی، ہیں آدمی کہار
اور اس پہ جو چڑھا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی، دکانیں لگا لگا
کہتا ہے کوئی لو، کوئی کہتا ہے، لا رے لا
اور آدمی ہی پھرتے ہیں، سر رکھ کے خوانچہ
کس کس طرح سے بیچیں ہیں، چیزیں بنا بنا
اور مول لے رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

طبلے ، منجیرے، دائرے، سارنگیاں بجا
گاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا
ان کو بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگا
وہ آدمی ہی ناچے ہیں، اور دیکھو یہ مزا
جو ناچ دیکھتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی، لعل و جواہر ہے، بے بہا
اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہی ہو گیا
کالا بھی آدمی ہے ، اور اُلٹا ہے جُوں توا
گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا سا چاند کا
بد شکل و بد نما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اک آدمی ہیں جن کی، یہ کچھ زرق برق ہیں
روپے کے ان کے پائوں ہیں، سونے کے فرق ہیں
جھمکے تمام غرب سے لے ، تا بہ شرق ہیں
کمخواب، تاش، شال، دوشالوں میں غرق ہیں
اور چیتھڑوں لگا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اک ایسے ہیں کہ، جن کے بچھے  ہیں نئے پلنگ
پھولوں کی سیج ان پہ جَھمکتی ہے تازہ رنگ
سوتے ہیں لپٹے چھاتی سے، معشوق، شوخ و شنگ
سو سو طرح سے عیش کے کرتے ہیں رنگ ڈھنگ
اور خاک میں پڑا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

حیراں ہوں یارو، دیکھو تو، کیسا یہ سوانگ ہے
یاں آدمی ہی چور ہے، اور آپ ہی تھانگ ہے
ہے چھینا جھپٹی، اور کہیں مانگ تانگ ہے
دیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہے
فولاد سے گھڑا ہے ، سو ہے وہ بھی آدمی

مرنے میں آدمی ہی ، کفن کرتے ہیں تیار
نہلا دھلا اٹھاتےہیں، کاندھے پہ کر سوار
کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں، روتے ہیں زار و زار
سب آدمی ہی کرتے ہیں، مردے کا کاروبار
اور وہ جو مر گیا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف اور کمینے سے، لے شاہ تا وزیر
ہیں آدمی ہی صاحبِ عزت بھی، اور حقیر
یاں آدمی مرید ہیں، اور آدمی ہی ہیر
اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر

Google Buzz

گیا دور سرمایہ داری گیا

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی
zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لکھوکھا افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کے لئے آوازیں اس بار جتنی زور و شور سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اس بار یہ آوازیں کسی مسلم یا سوشلسٹ معاشرے سے نہیں بلکہ سرمایہ داری اور مغربی تہذیب کے مراکز سے ابھر رہی ہیں ۔ لندن میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ G-20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر یورپ کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے بیشتر بینر ایسے اٹھا رکھے تھے جس میں لفظ عالمگیریت کے حجاب کو استعمال کرنے کے بجائےبراہ راست صورتحال کا ذمہ دار عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا گیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مین ہٹن، نیویارک کی “وال اسٹریٹ”، جہاں سے بوژروا طبقے نے دنیا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں کسنے کا آغاز کیا، میں بھی سینکڑوں افراد نےکساد بازی کی لہر اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی بے روزگاری کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر خرابیوں کو قرار دیا گیا ۔

میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی

g20-protest

سرمایہ داری صدیوں کی اصلاحات کے باوجوداپنی ان خرابیوں کو دور نہیں کر سکی ہے، جو انتہادرجے کی خود غرضی اور سرمائے کے ارتکاز کی بنیاد پر قائم ہونے والے اس ظالمانہ نظام میں موجود ہیں ۔سود کی بنیاد پر بننے والا نظام مالیات، سسٹم میں وسائل پیدا کرنے والے اصل عاملین کے ساتھ ایک طرح ہر جہت میں ہمہ گیر بے انصافی کرتا ہے ۔اس نے اجتماعی معیشت کی ساری باگیں چند خود غرض سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں دے رکھی ہیں ۔جو اپنا سرمائے کی نفع اندوزی میں وقتی کمی دیکھنے کے روادار بھی نہیں اور یک جنبش قلم ہزاروں خاندانوں کی روزی اور مستقبل کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتے ۔اور ان سرمایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وضع کیا گیا نظام لبرل مٕغربی جمہوریت کی شکل میں موجود ہے ،جو ساہوکاروں اور بوژرواطبقے کی مشکلات کے حل کے لئے تو سینکڑوں ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کو تیار ہے تاہم کساد بازاری سے بیروزگار ہونے والے لاکھوں امریکیوں کے مسئلے کا کوئی حل اس کے پاس موجود نہیں ہے، جو آئے دن نیویارک اور شکاگو میں ہونے والے جاب فیئرز میں سینکڑوں فٹ طویل قطار میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر دس پندرہ سال بعد کساد بازاری کی لہر آنا باعث حیرت نہیں ہے بلکہ اس نظام کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ایسا نہ ہونا حیران کن ہوگا۔بے قید معیشت کے نام پر وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کے لئے بنے گئے تانے بانے سرمایہ دار کے دل میں ایسی خود غرضی اور لالچ پیدا کردیتے ہیں کہ ایک موقع پر وہ اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس میں بے تحاشہ سرمایہ لگانا شروع کر دیتاہے اور ایک موقع ایسا آتا ہے کہ سرمائے کی کثرت نفع کے امکانات ختم کرتی چلی جاتی ہے۔ کاروبار سردپڑتا دیکھ کر سرمایہ دار پہلے سے لگا ہوا سرمایہ کھینچنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر کساد بازاری کا دورہ پڑجاتا ہے۔

g20-protest01

ظاہر ہے ایسے حالات میں جب لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں اور کروڑوں اس قدر قلیل المعاش ہوں کہ سخت ضرورت کے باوجود وہ مال نہ خرید سکیں جن سے وال مارٹ جیسے سپر اسٹور بھرے پڑے ہیں، ایک ایسا منظر نگاہوں کے سامنے ہے کہ دنیاکے سامنے بے حدو حساب قابلِ استعمال ذرائع موجود ہیں، کروڑوں آدمی کام کرنے والے موجود ہیں اور وہ انسان بھی کروڑ ہا کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں جو اس سامان کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہی نہیں بلکہ شدید ضرورت مند ہیں، مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا کے کارخانے اور پیدوار کے مراکز اپنی استعداد کار سے بہت گھٹ کر جو کچھ تیار کر رہے ہیں وہ بھی منڈیوں میں میں محض اس وجہ سے پڑا ہوا ہے کہ لوگوں کے پاس خریدنے کے لئے رقم موجود نہیں ہے اور لاکھوں بے روزگاروں کو اس لئے کام پر نہیں لگایا جاسکتا کہ جو تھوڑا بہت مال بنتا ہے وہی بازار میں نہیں نکل رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی مزید سرمایہ لگاکر بے روزگاروں کو نوکری دینے کی جرات کر سکے ۔۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ایسی ہی کمزوریوں کو دیکھ کر کہا تھا:

ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پہ خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجہ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

ایک اور جگہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
دیارِ مغرب کے رہنے والوٕں خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم اعیار ہوگا

علامہ اقبال کی جانب سے مغربی تہذیب کے جلومیں موجود سیاسی اور معاشی نظام کے بارے میں اس رائے کا اظہار کسی مجذوب کی بڑ نہیں تھا بلکہ ان کی دیدۂ بینا نے سرمایہ داری کی خرابیوں کو دیکھ کر اس کے انجام سے ہمیں کئی عشروں قبل ہی آگاہ کر دیا تھا:

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

اللہ کے ایک اور بندے نے 30دسمبر1946ء کو سیالکوٹ میں خطاب کے دوران سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خرابیوں کو دیکھ کر جو پیشگوئیاں کی تھیں ان میں سے ایک پوری ہوچکی ہے جبکہ دوسری پیشگوئی کے پوری ہونے کے لئے اسٹیج پوری طرح تیار ہے۔آیئے دیکھتے ہیں کہ اس مفکر نے آج سے 63 سال قبل کیا کہا تھا؟

حتی کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کیلئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدنہ پاسکے گی اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے

اس وقت عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے بقا کا جواز تلاش کرنے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں یعنی بے قید معیشت اور حکومتی اجارہ داری سے آزادی پر بھی سمجھوتہ تیار کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ بینکوں کو قومیانہ –یا ان پر سرکاری کنٹرول کا قیام– سرمایہ داری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ بالکل اسی طرح معیشت پر بھی سخت ریگولیشن کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ حالیہ بحران نے عالمی مالیاتی نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اس لئے معیشت اور مالیات کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرافات

wallstreet-protest

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک اس کی جگہ لینے کے لئے دوسرا نظام موجود نہ ہو۔اسلام کے علاوہ کسی نظام کے پاس انسانیت کو درپیش مسائل کا حل موجود نہیں۔مگر موجودہ عالمی صورتحال میں نہ اسلام کے معاشی نظام کا کوئی ماڈل موجود ہے اور نہ ہی اس نظام کو متبادل کے طور پیش کرنے کے لئے وکیل اور سازگار حالات،اس لئے موجودہ سرمایہ داری اس وقت تک موجود رہے گی جب تک دوسرا نظام اس کی جگہ سنبھالنے کے لئے دنیا کے سامنے نہ پیش کر دیا جائے۔ماہرین کہتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکہ کی معیشت مسلسل تیس سال کی کساد بازاری برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے،مگریہ رائے آج کے حالات میں اتنی درست معلوم نہیں ہوتی۔اس نظام کی مثال اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسے مٹھی سے بھر بھری اور خشک ریت کو پکڑنے کی کوشش کی جائے ابتدا میں ریت بہت آہستہ آہستہ نکلتی ہے مگر جیسےجیسے مٹھی خالی ہوتی جاتی ہے ریت کے نکلنے کی رفتار بھی تیز ترین ہوتی چلی جاتی ہے ۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات

Google Buzz

کولا وار خاتمے کی جانب گامزن

سافٹ ڈرنکس بنانے والے بڑے اداروں نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی اپنی چند نئی مصنوعات بھی پیش کی ہیں جن میں معدنی پانی (mineral water) اور پھلوں کے رس (juices) کے علاوہ snacksتک شامل ہیں۔ اس حیران کُن تبدیلی نے ذہنی طور پر اس بارے میں کچھ تحقیق پر آمادہ کیا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟
اب آپ یہ “نام نہاد تحقیق” ملاحظہ کیجیے جو انٹرنیٹ پر متعلقہ موضوعات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں تبصرہ نگار بھی اپنی معلومات شیئر کرنا چاہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔
کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس گزشتہ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کے دلوں پر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کے ذریعے راج کرتی آ رہی ہیں اور آج بھی “نیا جال لائے پرانے شکاری” کے مصداق یہی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے
کیا سنہرے دن اب صرف یادوں کی صورت میں ہی رہ گئے ہیں؟ کیونکہ کم از کم مغربی ممالک کی حد تک تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں کو “کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس” میں اپنا مستقبل نہیں دکھائی دیتا۔ کیونکہ صحت عامہ کے ماہرین گزشتہ دو دہائیوں سے سافٹ ڈرنکس کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور اب لگتا ہے کہ جلد ہی سگریٹ کی ڈبیہ کی طرح سافٹ ڈرنک کی بوتلوں پر بھی “صحت کے لیے مضر ہے” جیسے الفاظ درج ہوں گے :)
سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ Beverage Digestکے مطابق امریکہ میں  کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔ حالانکہ جریدے کے مطابق اس کاروبار کے حجم میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ امریکہ میں 72 ارب ڈالرز کی صنعت بن چکا ہے لیکن اس کی وجہ بھی روایتی مشروبات کی قیمتوں اور انرجی ڈرنکس کی فروخت میں اضافہ بیان کی جاتی ہے، اور کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کا اس اضافے میں کوئی کردار نہیں۔ ان تازہ اعداد و شمار کے باوجود امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں سافٹ ڈرنکس کا 55 فیصد امریکہ میں استعمال ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی سال میں 576 سافٹ ڈرنکس پیتا ہے یعنی روزانہ ڈیڑھ سے زائد۔

اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سافٹ ڈرنکس صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس کے “عادی” افراد زیادہ صحت مند مشروبات جیسے پانی، دودھ اور جوسز وغیرہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور طبی تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں جن میں مٹاپے اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض بھی شامل ہیں۔
ماہرینِ طب کے مطابق سافٹ ڈرنک نہ پینے والے بچوں کے مقابلے میں اسے استعمال کرنے والے بچوں میں مٹاپے کی شرح کہیں زیادہ ہے جس کا بنیادی سبب سافٹ ڈرنک پینے کے باعث زیادہ بھوک لگنا اور مشروب میں چینی کا استعمال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 330 ملی لیٹر کا ایک کین پینے کا مطلب مہینے میں ایک پاؤنڈ وزن کا اضافہ کرنا ہے۔
2004ء میں ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ روزانہ ایک یا اس سے زائد سافٹ ڈرنک پینے والے افراد میں ذیابیطس ہونے کے امکانات اُن افراد کے مقابلے 80 فیصد زیادہ ہوتے ہیں جو مہینے میں صرف ایک مرتبہ یہ مشروب پیتے ہیں۔
بینزین سرطان کا باعث بننے والا ایک عنصر ہے اور اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کم از کم 1990ء تک بڑی سافٹ ڈرنک کمپنیاں اسے اپنے مشروبات میں استعمال کرتی رہی ہیں۔
2006ء میں برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی نے سافٹ ڈرنکس میں بنزین کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا اور 150 مصنوعات کا جائزہ لیا گیا جس کے نتائج کے مطابق 4 میں بنزین کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار سے زیادہ تھی۔ بہرحال بنزین کا استعمال اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس خطرناک عنصر کی سافٹ ڈرنکس میں شمولیت سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا۔
سافٹ ڈرنکس ایک سے زائد تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جن میں فاسفورک اور سٹرک ایسڈ عام ہیں۔ علاوہ ازیں بغیر کولا کے مشروبات اور کین میں بند “چائے”میں بھی میلک، ٹارٹیرک اور دیگر نامیاتی تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیےسافٹ ڈرنکس سب سے زیادہ دانتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اب معالجین اسے اسٹرا کے ذریعے دانتوں سے لگائے بغیر براہ راست نگلنے کا مشورہ دیتے ہیں علاوہ ازیں وہ اس کی تیزابیت کے باعث پینے کے فوراً بعد دانتوں کو برش کرنے سے بھی منع کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس تیزاب کے نتیجے میں نرم پڑ جاتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں شامل کیفین کے باعث یہ نیند کو بھی متاثر کرتی ہے اور نیند کی کمی کے باعث طبیعت مضمحل رہتی ہے۔
اس کے علاوہ چند واقعات بھی سافٹ ڈرنکس کی “شہرت” خراب کرنے کا باعث بنے جن میں سب سے اہم حالیہ سالوں میں ہی بھارت میں پیپسی اور کوکا کولا کے بطور کیڑے مار دوا کے استعمال کا واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں چند ریاستوں میں تو اس کےاستعمال پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ ایک بڑی مارکیٹ میں اس طرح کی صورتحال کا پیش آنا دونوں بڑی کمپنیوں کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہ تھا اور اس سے نکلنے کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلانا پڑی لیکن بہرحال “چُنری کو داغ” لگ چکا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن تھا۔
یہ تمام صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد کمپنیوں کو اس امر کا ادراک ہو گیا کہ انہیں نئی مارکیٹوں کی تلاش کے علاوہ آہستہ آہستہ “صحت بخش مشروبات” کی جانب منتقل ہونا ہوگا اور انہوں نے فی الفور دونوں اہداف کے حصول کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔
ان اداروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کیونکہ امریکہ اور یورپ ہیں جہاں صحت عامہ کے حوالے سے عوام باشعور ہیں ، اس لیے اعداد و شمار تو واضح کرتے ہیں کہ وہاں سافٹ ڈرنکس کے استعمال میں بدستور کمی آتی جا رہی ہے اور اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال انتہائی محدود رہ جائے گا۔ اس لیے سب سے پہلے تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں نے شمالی افریقہ، مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا کی نئی مارکیٹوں پر اپنے قبضے کے مستحکم کیا اور اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی اور اس کے لیے اداکاروں، اداکاراؤں اور کھلاڑیوں کا سہارا لیا۔
دوسری جانب انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے Aquafina نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “Kinley لے آیا۔ آخر الذکر Minute maid کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے Tropicana Twister متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب Kurkureجیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔
تو کیا یہ لگتا ہے کہ اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا خاتمہ ہو جائے گا؟

Google Buzz