تحاریر برائے ’ملکی صورتحال‘ زمرہ


پہلے میں، پھر تم اور پھر ہماری اولادیں

تحریر: اسد احمد

کیا یہ ملکی سیاسی نظام کی بدنصیبی نہیں کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی اس شق کا خاتمہ بھی ہوگیا جس کے تحت سیاسی جماعتوں میں الیکشن لازمی قرار دیے گئے تھے؟ اور یہ فریضہ انجام دیا ان منتخب جمہوری قوتوں نے جن کی زبانیں ہر وقت جمہوریت کے فضائل اور آمریت کے نتائج سے قوم کو ڈرانے میں رطب اللسان رہتی ہیں۔ اب بلاول زرداری، میاں محمد نوازشریف، اسفندیار ولی، شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمان پوری دل جمعی کے ساتھ نہ صرف اپنی اپنی جماعتوں کی صدارت کے فرائض انجام دے سکتے ہیں بلکہ باآسانی اپنی اپنی جماعتوں کی کرسی صدارت اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرسکتے ہیں۔ حالانکہ آئین کی اس بے ضرر شق کی موجودگی میں بھی منتقلی کا یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے ہو رہا تھا۔ آخر محترمہ کی جگہ ان کے صاحبزادے ہی نے تو لی!۔ پھر جمہوریت سے محبت رکھنے والے سیاسی قائدین اس شق سے اس قدر خوفزدہ کیوں تھے کہ اس سے فوری جان چھڑائی؟ آئینی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر مشرف نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے کے لیے یہ شق متعارف کرائی تھی۔ ہمیں سخت حیرت ہے رضا ربانی کی بصیرت پر!کیا ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنی پارٹی میں جمہوریت متعارف کراتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے؟ کیا پارٹی انتخابات سے ان دونوں بڑی جماعتوں کو واقعی نقصان پہنچ رہا تھا؟ اگر جواب مثبت میں ہے تو پھر ہم اس شق کی بھرپور حمایت کریں گے اس لیے کہ قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح رضا ربانی جیسے جمہوریت پسند بزرگوں نے محترمہ کے بعد ایک لونڈے کے سر پر پیپلز پارٹی کی صدارت کا تاج سجایا یعنی باپ کے بعد بیٹی اور بیٹی کے بعد اب بیٹا۔ یہ ہے رضا ربانی صاحب کی جمہوریت سے محبت! میاں صاحب کا تو رونا ہی بے کار اس لیے کہ اآپ جناب کی تو پیدائش ہی آمریت کے جھولے میں ہوئی ہے۔ خود وزیر اعظم تھے، بھائی پنجاب کے وزیر اعلی اور ابا میاں دونوں کے سرپرست۔ اب حمزہ شہباز بھی میدان میں کود چکے ہیں، خاندانی لیگ کے مستقبل کے سربراہ۔ کیا نون لیگ میں میاں صاحب اور پیپلز پارٹی میں بلاول اور زرداری صاحب سے زیادہ جہاں دیدہ اور بالغ النظر کوئی دوسری شخصیت موجود نہیں؟ غالباً یہ پارٹی انتخابات نہ ہونے کا ہی جھگڑا تھا جس نے ق لیگ کو جنم دیا۔ ظاہر ہے چودھری برادران بھی تو صلاحیتوں میں کسی طور شریف برادران سے کم نہ تھے، اور پھر اسی ق لیگ سے گزشتہ سال ہم خیال لیگ نے جنم لیا۔
سیاسی جماعتوں میں لازمی الیکشن کی شق کے خاتمے کے خلاف پانچ شخصیات نے ووٹ دیے۔ ان میں سے ایک جاوید ہاشمی بھی ہیں۔ وہی جاوید ہاشمی جنہوں نے خاندانی لیگ کی صدارت اس وقت سنبھالی جب شریف برادران پوری قوم اور اپنی جماعت کو، معاہدے کے تحت، ایک آمر کے سپرد کرکے سعودی عرب روانہ ہوگئے تھے۔ اور پھر کچھ عرصے بعد جاوید ہاشمی جیل کو پیارے ہوگئے۔ آج قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جاوید ہاشمی صاحب نہیں بلکہ چودھری نثار علی خان صاحب ہیں، یہ ہے جاوید ہاشمی صاحب کی خدمات کا حقیقی صلہ۔ قصور میاں صاحب کا نہیں وہ تو ہیں نواز لیگ کے سربراہ، ظاہر ہے نواز لیگ کا سربراہ نواز شریف ہی ہوگا یا پھر ان کا بیٹا اور بھتیجا۔ اصل قصور وار جاوید ہاشمی جیسے لوگ ہیں جو ان غیر جمہوری رویوں کو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں پروان چڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ بھٹو صاحب کی شخصیت میں بھی آمریت کے جراثیم تھے جس نے انہیں تنہا کردیا اور یہی معاملہ میاں نواز شریف کا بھی ہے گو صلاحیتوں کے اعتبار سے دونوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ جمہوریت کا درد کرنے والی شخصیات میں موجود یہی آمرانہ رویے، ہمیشہ طاقت میں رہنے کی خواہش، اور سارے اختیارات اپنی ذات میں یکجا کر لینے کے شوق ہی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی فوجی آمر منتخب شخصیت کو برطرف کر کے آتا ہے تو عوام اس کا برا نہیں مانتے بلکہ پہلے پہل تو خیر مقدم کرتے ہیں۔ آمر تو آمر ہے چاہے فوجی وردی میں ہو یا شلوار قمیض میں، ووٹوں سے منتخب ہوا ہو یا بندوق سے مسلط ہوا ہو عوام تو نتائج دیکھتے ہیں۔
ہم “ہاں میں باغی ہوں” کہ مصنف جاوید ہاشمی کو یہ مشورہ دیں گے کہ جاوید صاحب آگے بڑھیں اور ایک اور بغاوت کریں۔ ایک حقیقی اور آخری بغاوت۔ ان غیر فوجی، سویلین آمروں کے خلاف جو عشروں سے اس ملک کی سیاست کو اپنے گرد گھما رہے ہیں، جو سارے اختیارات ہمیشہ کے لیے اپنی ذات میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جن کو اس ملک کے مستقبل سے زیادہ اپنی اولادوں کا مستقبل عزیز ہے۔ جو دو دو بار وزیر اعظم بن کر بھی جب رخصت ہوئے تو اقتدار عوام کو نہیں فوج کو سونپ کر گئے۔ لیکن ہمیشہ اقتدار میں رہنے کی یہ خواہش ہر بار سے زیادہ آج ان میں موجود ہے۔ شاید اسی لیے آئین پاکستان میں موجود اس شق کا خاتمہ کیا گیا۔ ہاشمی صاحب! آپ پاکستان کے عوام کو اس ٹولے سے نجات دلاسکتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آپ ماضی میں جیل جا کر خاصا نقصان اٹھا چکے ہیں لیکن ہم آپ کو کسی معمولی وزارت یا کسی ملک کی سفارت پر فائز نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ وزارتیں اور سفارتیں تو بہت ہی حقیر لوگوں کو بھی مل جاتی ہیں۔ آپ اقبال کے شاہین بنیں اور عوام کو “پہلے میں پھر تم، پھر میں اور پھر تم اور پھر ہماری اولادیں” کے کھیل سے نجات دلائیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جو سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی میں انتخابی عمل کے خلاف ہیں وہ ملک کو کبھی بھی حقیقی جمہوریت اور قیادت نہیں فراہم کرسکتیں۔ ہاشمی صاحب قدم بڑھائیں۔ ۔ ۔ ۔ !

Google Buzz

عوام اور سیاست دانوں کے رویے میں تبدیلی کی ضرورت

پاکستان کی تاریخ کا بدترین لمحہ وہ تھا جب 1958ء میں فوجی جرنیل ایوب خان نے آئین کو معطل کرتے ہوئے پاکستان میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ان کے چند اقدامات نے ملک کی جڑوں میں ایسے ناسور پیدا کر دیے جس کی وجہ سے آج تک نہ جمہوریت پنپ سکی نہ ہی ملک اپنے قیام کے حقیقی ثمرات حاصل کر سکا۔ اس کی وجہ جہاں سیاست دانوں کا عدم اتحاد اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے لیے جی ایچ کیو کا رخ کرنا بھی ہے، وہیں عوام کا غیر جمہوری رویہ بھی ہے۔ جس کی مثال آجکل موجودہ حکومت کے خلاف ای میل، موبائل پیغامات اور ٹیلی وژن چینلوں پر خبروں کی صورت میں خواہشات پیش کرنا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ دور حکومت میں بھی جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔

ہماری ملکی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس میں زیادہ تر فوجی آمروں نے حکومت کی ہے جن میں ایوب خان 1958ء سے 1969ء تک، یحییٰ خان 1969ء سے 1971ء تک، ضیاء الحق 1977ء سے 1988ء تک اور پرویز مشرف 1999ء سے 2008ء تک مسند اقتدار پر قابض رہے۔ ان تمام ادوار کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں ایک خاص ایجنڈے کے تحت ملکی معاملات چلائے گئے۔ ایوب خان کے دور میں گو معاشی سطح پر پاکستان کو بہت استحکام دیا گیا لیکن سیاسی طور پر اس کے نظام میں وہ خامیاں پیدا ہوئیں جس کا پھل ہم آج تک کھا رہے ہیں۔ خصوصاً دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ ایسا تھا جس کے باعث آج تک ہماری پارلیمان جی ایچ کیو کی گود میں بیٹھنے پر مجبور ہے۔ اس فیصلے سے جہاں ملکی سیاست کو زبردست کو نقصان پہنچایا وہیں جمہوریت پسند اور ملک کی اکثریتی بنگالی آبادی پر یہ واضح کر دیا کہ یہاں اکثریت کا نہیں بلکہ طاقت کا حکم چلے گا اور یقیناً یہی فیصلہ تھا جس نے سقوط مشرقی پاکستان کی راہ ہموار کی۔ اور بالآخر یحییٰ خان کے مختصر و پر آشوب دور میں ہم مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ضیاء الحق نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور ان کے 90 دن مرنے تک مکمل نہ ہوئے۔ اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کو “اسلامی” رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں افغانستان سے کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر وارد ہوا۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کو آمریت کے خلاف قوت پکڑنے سے روکنے کے لیے قوم پرستی کی سیاست کو تقویت دی گئی نتیجتاً فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات کو ہوا ملی خصوصاً اہم صنعتی شہر کراچی اس کا بدترین نشانہ بنا۔

آمرانہ ادوار کے اس ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بحیثیت عوام ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی کوئی جمہوری حکومت ایسی نہیں جس نے ایک روز جمہوریہ بننے کا اعلان کیا اور اگلے دن جمہوریت کے فیوض و برکات آسمان سے نازل ہونے لگے، بلکہ انہوں نے اس جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔ جمہوریت کے حقیقی ثمرات سمیٹنے کے لیے ریاست  ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کیا وہاں پارٹیاں خاندانوں کی ملکیت نہیں؟ مثال کانگریس، نہرو سے سونیا تک، کیا وہاں بد عنوانی نہیں؟ ایک سے بڑھ کر ایک بد عنوان ہندوستانی تاریخ میں گزرا ہے، کیا وہاں غربت نہیں؟ دنیا میں سب سے زیادہ غریب وہیں پائے جاتے ہیں، کیا وہاں جہالت نہیں؟ اکیسویں صدی میں بھی ہندوستان کی شرح خواندگی اسے مہذب اقوام کی صف میں کھڑا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،کیا انہیں علیحدگی کی تحریکوں کا سامنا نہیں؟ کشمیر سے لے کر آسام اور ناگالینڈ تک درجنوں تحریکیں اس کے درپے آزار ہیں۔ ان کے اور ہمارے مسائل یکساں تھے اور ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آج ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہے ہیں جسے مستقبل کی عالمی قوت کہا جا رہا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے بہر صورت سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رکھا اور فوج کو تمام تر کارناموں کے باوجود اقتدار سے روکے رکھا۔ یہی واحد وجہ ہے جس نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اب بہت زیادہ فرق پیدا کر دیا ہے۔ تقریباً 80ء کی دہائی تک پاکستان اور ہندوستان تقریباً ہر درجہ بندی میں برابر ہی ہوتے تھے لیکن اب پاکستان دنیا کی ناکام ریاستوں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور ہندوستان مستقبل کی سپر پاور سمجھا جا رہا ہے۔

اس لیے بد ترین فیصلوں، ملکی سالمیت پر مجرمانہ خاموشی، معاشی دیوالیہ پن، بد عنوانی کی انتہا کے باوجود یہ موقع ہر گز نہیں کہ درون خانہ فوج کو ایک مرتبہ پھر اقتدار کی راہ دکھائی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر ملک کے سیاسی معاملات کو خود طے کریں، ورنہ آمریت کا شکنجہ ملک کو ایک مرتبہ پھر ویسے ہی جکڑ لے گا جیسا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کو جکڑا ہوا ہے۔

مغرب کی سب سے بڑی مکاری یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے تو آزادانہ جمہوریت کو پسند کیا اور مسلمانوں کے لیے آمریت کو تاکہ وہ “فتنۂ فردا” کو قابو میں کر سکے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو پیش آنے والے اگلے خطرے کو بڑھنے سے پہلے ہی ختم کر دے۔

Google Buzz

قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوز کر دو

جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔۔نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد مولانا صوفی محمد کے بیانات اور شدت پسندوں پر خلاف ورزیوں کے الزامات کی بنیاد پر شروع ہونے والی کارروائی کے بارے میں بھی ابھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پہلے کس جانب سے ہوئی تھی ۔۔حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ ۔معاہدے کی پہلی خلاف ورزی شدت پسندوں کی جانب سے چھبیس اپریل کو دیر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی تھی ۔یہ دعوی اس لحاظ سے بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کا فیصلہ اس واقعے سے دو دن پہلے(24 اپریل ) ہی کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدر اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں کر لیا گیا تھا۔

ایوان صدر اجلاس

جس کی تصدیق اس تاریخ کو ایوان صدرسے جاری ہونے والے اس بیان سے کی جاسکتی ہے ۔۔

حکومت کی جانب سےشدت پسندوں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے انہوں نے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ ہتھیار نہیں ڈالے تھے ۔۔حالانکہ معاہدےمیں صرف یہ طے پایا تھا کہ سوات کے طالبان ہتھیار رکھ کر مسلح گشت ختم کر دیں گے ۔۔
معاہدے میں درج الفاظ میں ہتھیار‘‘ رکھنے ’’ کو ‘‘ڈالنے ’’ سے بدل کر شدت پسندوں کو معاہدےکی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہاہے ۔۔حالانکہ دنیا کی گزشتہ پچاس سالہ تاریخ میں جتنے بھی مسلح تصادم دنیا بھر میں ہوئے ہیں ۔ان کا جائزہ لےکر بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان سے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ جس رویئے کا مظاہرہ کیا گیا تھا اس کے لئے فریقین کو ایک طویل عرصے تک اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوتے ہیں ۔۔جس معاہدے کی ‘‘خلاف ورزی’’ کا الزام شدت پسندوں پر لگایا جارہا ہے اس میں یہ بھی درج تھا کہ فوج ملاکنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں سےنکل جائے گی ۔ فوجی چیک پوسٹیں ختم ہوں گی ۔۔ اور سیکیورٹی کے انتظامات پولیس اور ایف سی کے اہلکار سنبھالیں گے ۔ نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد شدت پسندوں نے تو مسلح گشت ختم کر دیا تھا مگراس دوران فوج کو واپس بلائے جانے کے بجائے مزید فوج تعینات کی جاتی رہی۔۔اور چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔۔جس کے نتیجے میں ۔۔اس فریق کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو معاہدے کے نتیجے میں دیوار سے لگنا شروع ہوگیا تھا ۔۔
مگر قصر سفید کی اطاعت گزار حکومت نے شاید یہ معاہدہ ہی کسی جنگی حکمت عملی کے تحت توڑنے کے لئے ہی کیا تھا جس کی تصدیق خود وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اکیس مئی کو پرائم منسٹر ہائوس میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور فیڈرل کونسل کے اجلاس میں اس وقت کی جب ان یہ سوال کیا گیا کہ آل پارٹیز کانفرنس آپریشن شروع کرنے کے کئی دن بعد کیوں بلائی گئی ۔اس وقت وزیر اعظم نے یہ کہا کہ حکومت نے آپریشن کے فیصلے کو اس لئے خفیہ رکھا تھا کہ ماضی میں آپریشن اعلان کر کے شروع کرنے کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے رہے ہیں ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر آپریشن اعلان کر کے شروع کیا جائے تو شدت پسندان علاقوں سے نکل جاتے ہیں اور فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں صرف عام شہری مارے جاتے ہیں ۔۔ابھی پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس بیان کی بھی وضاحت کرنا ہے جو پانچ مئی کو خطے کے لئے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے دیا ہے ۔۔

رچرڈ ہالبروک

رچرڈ ہالبروک نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے بغیر کمیٹی کو بتایا کہ صدر زرداری انہیں پہلے ہی یہ بتاچکے تھے کہ ۔۔سوات امن معاہدہ نہیں چلے گا ۔۔مگر پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومت کو یہ کریڈٹ تو دینا ہی پڑے گا ک انہوں نے الزامات کی اتنی دھول ضرور اڑا دی ہے کہ لوگ کنفیوز(ابہام کا شکار) ہوگئے ہیں ۔عوام کے کنفیوزہونے اور آپریشن کی مخالفت نہ کرنے کو حکومت نےآپریشن کی حمایت ۔مارکیٹنگ کے اس اصول پر کامیابی سے عمل کرکے کیا ہے کہ اگر لوگوں کو قائل نہیں کر سکتے تو انہیں کنفیوز تو کر ہی دو۔۔ حالانکہ اس آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے ۔اس کا اندزاہآئندہ چند ہفتوں کے دوران ہی ہوجائے گا ۔۔ملاکنڈ ڈویژن کےمتاثرین کی اکثڑیت نے خیمہ بستیوںمیں پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ اپنے گھروں سے طالبان کی وجہ سے نہیں بلکہ فوجی آپریشن کے باعث نکلے ہیں ۔۔
فوجی آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات اکیس اپریل کو رلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے دو جڑواں بچوں کے نام ان کے والدین نے صوفی محمد اور فضل اللہ رکھ دیئے ہیں ۔۔ایک اور واقعہ بھی ایسا پیش آیا ہے جس نے فوج اور برسراقتدار روشن خیالوںکی اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی ہے ۔۔وہ طاقتیں جو پہلے ہی آپریشن راح حق شروع کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں انہوں نے عوام کو علاقے سے نکالنے کے بجائے بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا۔۔ ملاکنڈ ڈویژن کے آپریشن کے ستائے مصیبت زدہ خاندان ہجرت پر ہوئےتو انہیں نکالنے کے لئے فوج وفاقی و صوبائی حکومت ، پیپلز پارٹی اے این پی ،اور آپریشن کی حامی مسلم لیگ نوازکی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا ۔۔کیوں کہ جب ملاکنڈ ڈویژن کے مصیبت زدہ خاندان عورتوں ۔۔ بچوں اور رخت سفر کے ساتھ اپنے ہی وطن میں پیدل ہجرت پر مجبور ہوئے تو انہیں گاڑیوں میں پہنچانے کے لئے صرف آپریشن کی مخالف جماعت ،جماعت اسلامی اوراس کے فلاحی ادارے الخدمت فائونڈیشن کی گاڑیاں ہی موجود تھیں ۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت فائونڈیشن کے رضا کاراپنے اپنے علاقوں کے ایک ایک خاندان کوگاڑیوں میں بٹھا کر کیمپوں میں پہنچانے کا انتظام کرتےرہے ۔۔الخدمت کی اس خدمت کا اعتراف۔۔ جماعت اسلامی کے مخالفین میں شامل بائیں بازو کے صحافی نصرت جاوید نے بھی اپنے پرگرام بولتا پاکستان میں کیا

نصرت جاوید نے بجا طور پر کہا کہ یہ کیسے لبرل اور روشن خیال ہیں جوہزاروں خاندانوں کو ۔۔ خواتین ،شیرخواربچوں ، بیمار اور ضعیف العمرافراد کو کئی کئی میل پیدل ہجرت کرنے پر مجبور کر نے کے لئے بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔۔انہیں خیمہ بستیوں تک پہنچانے میں نہ تو فوج کوئی مدد کرتی ہے اور نہی ہی روشن خیال مرکزی اور صوبائی حکومتوں اوراعتدال پسندوں کے دل میں کوئی انسانی ہمدردی کا احساس جاگتا ہے ۔۔ان کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔۔ کہ متاثرین ملاکنڈ کا سب سے بڑا اورسب سے بہتر سہولیات دینے والا کیمپ۔۔ حماس کے بانی شیخ احمد یسین کے نام پر ۔۔ایک‘‘نان اسٹیٹ ایکٹر’’ لخدمت فائونڈیشن نے قائم کیا ہواہے ۔۔چند دن قبل متحدہ قومی موومنٹ نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو چوڑیاں پہننے کا طعنہ دیتےہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سوات کے عوام کو ‘‘درندہ صفت ’’ طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔ مگر چند دن بعد اسی ‘‘ رحم دل ’’اور ‘‘فرشتہ صفت’’ جماعت نے متاثرین کو سندھ میں پناہ نہ دینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔ متاثرین کی آڑ میں طالبان کی یلغارہورہی ہے ۔۔

Google Buzz

سوات متاثرین کی مدد، ہمارا فرض

ضلع سوات میں آپریشن کے آغاز کے بعد سے قیام پاکستان کے بعد کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی ہے اور اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے والے ان پاکستانیوں کو بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔ اس بات سے قطع نظر کے آپریشن کے محرکات کیا ہیں اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے یا نکل سکتے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سےبراہ راست متاثر ہونے والے لاکھوں عام پاکستانیوں کی مدد کی جائے۔ اس وقت ان مہاجرین کی تعداد بڑھ کر 10 سے 12 لاکھ افراد تک جا پہنچی ہے جو صوابی، دیر، ملاکنڈ، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور وغیرہ میں پناہ گزین کیمپوں میں بسے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے ان متاثرین کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستانی قوم ان سے محبت کرتی ہے اور انہیں اپنا بھائی سمجھتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوابی میں 2 لاکھ 30000، دیر زیریں میں 1 لاکھ 50000، ملاکنڈ ایجنسی میں 2 لاکھ، مردان میں 2 لاکھ، پشاور میں 50 ہزار، چارسدہ میں 30 ہزار، نوشہرہ میں 20 ہزار، دیر بالا میں 20 ہزار اور دیگر علاقوں میں 60 ہزار متاثرہ افراد موجود ہیں۔
اس وقت ان متاثرین کو خیموں، ترپالوں، غذائی اجناس و دودھ، متاثرہ علاقوں سے نکلنے کے لیے ذرائع آمدورفت، کھانے و پینے کے برتنوں، کپڑوں و جوتوں اور طبی سہولیات و ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر شہروں میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کے خواہشمند متاثرین کو نقد رقوم کی ادائیگی بھی ضرورت ہے۔
آپ اپنے عطیات الخدمت فاؤنڈیشن کو دے سکتے ہیں جو 2005ء کے زلزلے میں مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر مدد کر چکی ہے۔ حالانکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے چند ماہ گزارنے کے بعد زلزلہ زدہ علاقے چھوڑ گئے جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن آج بھی ان علاقوں میں عوام کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔
یا پھر کسی بھی اچھی ساکھ کے حامل فلاحی و امدادی ادارے کی اس کام میں مدد کر سکتے ہیں۔
قدم آگے بڑھائیے متاثرین سوات آپریشن کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
AL-KHDIMAT FOUNDATION PAKISTAN
Soneri Bank Limited.
Bank Information
02011459382 Pak rupees
02180030740 US $
02190005108 Pound Sterling
02200003782 Euro
Swift Code: SONEPKKALHR
Main Branch, Branch Code: 001
Soneri Bank Ltd. 87- Shahrahe Quaid-e-Azam, Lahore

Edhi Foundation

International Red Cross

Google Buzz

سوات امن معاہدہ اور ان سولائزڈ سوسائٹی

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی

zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے اُس کے تحت انسان کا سب سے پہلا حق زندہ رہنے کا حق ہے اورسب سے پہلا فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ اس لئے تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تو دور کی بات، انسان کو روٹی اور پانی سے بھی پہلے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ امن ہے۔ شاید اسی وجہ سے سوات کے لوگ یہ بات سب سے زیادہ سمجھتے ہیں کہ امن کس چڑیا کا نام ہے اور ان سے بہتر کون یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ امن ہی عارضِ محبوب کا وہ تل ہے جس پر ثمرقند و بخارا بھی قربان کیے جا سکتے ہیں اور یہی وہ حق ہے جس سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے سوات کے لوگ محروم رکھا جارہا تھا اورسوات کے لوگوں کے لئے امن کا حصول ہی وہ حق اور مقصد تھا کہ جس کے لئے پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی آئیڈیالوجی پر ترجیح دیتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد سے مذاکرات کئے “ویل ڈن اے این پی”۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ امن لڑائی کے فیصلے کا نام ہےاور سوات کی شورش کا فیصلہ ہے نظام عدل ریگولیشن۔ ہمارے یہاں ایک سیاسی جماعت اور نام نہاد سول سوسائٹی نے امن معاہدے اور قومی اسمبلی میں قرارداد کی متفقہ منظوری کو طالبان کی فتح قرار دیا ہے۔ مگریہ معاہدہ کس کی فتح اور کس کی شکست ہے۔ اس کا جائزہ اور تجزیہ آئندہ سطور میں کرتے ہوئے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو اس کے نتیجے میں مولوی فضل اللہ اور طالبان جیسی قوتیں دیوار سے لگیں گی اور ریاست اور سوات کے عوام کامیاب ہوں گے۔

ہمارے خیال میں یہ مشہور انگریزی ترکیب کے مطابق “Win win Situation” ہے صرف پاکستان کی ریاست اور سوات کے شہریوں کے لئے۔ لیکن اس سے پہلے ان حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہےجن میں یہ معاہدہ کیا گیا ہے اور اس جائزے سے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ بھی ہوجائے گا کہ ہم اس معاہدے کو کیوں اتنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت وہ ہوتی ہے جو وہ استعمال نہیں کرتی اور اس طاقت کے لئے انگریزی میں لفظ “Deterance” استعمال کیا جاتا ہےاور جب ڈیٹرنس کو استعمال کر لیا جائے تووہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس معاہدے کی اندھی مخالفت کرنے والے آج جس حکومتی عملداری[1]پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ اسی دن ختم ہوگئی تھی جب 20 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف حکومت نے سوات میں آپریشن شروع کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی رٹ اس دن ختم نہیں ہوئی تھی جب مٹھی بھر نام نہاد طالبان نے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا بلکہ حکومت کے پاس اس دن بھی بات چیت کر کے عملداری قائم رکھنے کا راستہ موجود تھا، مگر جب فوج نے سوات کے شدت پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اس دن عملاً حکومت کی عملداری ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ڈیڑھ سال کے آپریشن میں فوج کو کامیابی نہ ہوسکی۔ مینگورہ ، سوات ، کبل ، مٹہ اور امام ڈھیری میں طاقت کے بھرپور استعمال اور سینکڑوں پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد بھی نوشتہ دیوار یہی ہے کہ فوج وزیرستان اور بلوچستان سے کہیں زیادہ بری طرح سوات میں ناکام ہوئی ہے۔ جبکہ فوج کےاستعمال سے وہ ڈیٹرنس بھی جاتا رہا جو ریاستوں کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اس تناظر کو دیکھا جائے توباآسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ امن معاہدہ کتنی نازک صورتحال میں عمل میں آیا ہے۔ دوسری جانب لڑائی کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں کے مقابلے میں فوج کی بھاری توپ خانے سے گولہ باری اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے۔ سوات آپریشن شروع ہونے کے بعد انتظامیہ غائب تھی۔ تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتراور بازار بند تھے جبکہ آئے دن کے کرفیو نے شہر میں اشیائے ضرورت کی فراہمی بند کر دی تھی جس کے نتیجے میں صوبے کی خوشحال اضلاع میں سے ایک کی تقریباً نصف آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہوکر دوسرے علاقوں میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ ان کا روزگار ختم ہوا، املاک تباہ ہوئیں، گھروں پر گولہ باری سے خواتین اور بچوں کی بڑی تعدادجاں بحق ہوئی جبکہ شدت پسندوں کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی صلاحیت میں کوئی کمی نہ آسکی۔ گزشتہ سال کبل میں آپریشن کے دوران تحریک طالبان کے سوات کے جس واحد سرکردہ رہنما کو ہلاک کیا گیا وہ بھی کوئی جنگجو کمانڈر نہیں بلکہ سرحد حکومت سے بات چیت کرنے والے مذاکرات کار علی بخت خان تھے۔ دوسری جانب فوج ایف سی اور پولیس کے وہ اہلکار بھی سینکڑوں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے جنہیں اس لڑائی میں جھونکا گیا تھا۔ یہ بھی ہماراعظیم نقصان ہے۔ یہ عام پاکستانیوں کے بیٹے شوہر اور بھائی تھے۔ پاکستان کے ان بیٹوں کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا جنہوں نے آپریشن شروع کرکے انہیں اپنے ہی لوگوں سے لڑانے کا فیصلہ کیا تھا۔

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت یہ بھی نہ کرتی تو کیا کرتی۔ سوات میں دیوار سے لگی ہوئی انتظامیہ ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس کا لازمی نتیجہ شدت پسندوں کے دیوار سے جالگنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس معاہدے سے پہلے شدت پسند ایک شترِ بے مہار کی طرح یکسر آزادی سےریاست کے اندر ریاست بنے ہوئے تھے۔ جسے چاہیں گرفتار کریں جسے چاہیں سزا دیں۔ ان کا کسی ضابطے کی بندش میں آجانا ایک بڑی کامیابی ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ طالبان کا شترِ بے مہار کی طرح راج کرنا بہتر تھا یہ انہیں کسی ضابطے کا پابند کرنا بہتر ہے۔ ہمارا خیال ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی عقل کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔

قاضی عدالتوں کا قیام بھی سب سے زیادہ بندشیں شدت پسندوں ہی پر عائد کرنے کا سبب بنے گا۔ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ ان کی جدو جہد کا مقصد صرف شرعی عدالتوں کا قیام تھااور ملاکنڈ میں انتظامی معاملات اور عملداری حکومت ہی کی قائم رہے گی۔ اگرچہ اتنے بگاڑ کے بعد بھی کوئی بناؤ کا کام ہوگیا ہے تو اسے غنیمت جاننا چاہیئے۔

آں چہ دانا کند ناداں ہم میکند و لیک بعد از خرابی بسیار

سوات دوبارہ آباد ہورہا ہے، رونقیں لوٹ رہی ہیں اور زندگی بحال ہورہی ہے۔ طالبان نے مسلح گشت ختم کرکے ہتھیار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان کے شدید مخالف اور تجزیہ کار سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بھی کہا ہے کہ نظام عدل ریگولیشن کے نتیجے میں ایک دو ماہ میں حکومت کی عملداری مکمل طور پر قائم ہو جائے گی۔ حیرت انگیز بات ہے شدت پسندوں سے ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ ایک ایسی جماعت کی جانب سے کیا جارہا ہے جس نے ایک غاصب کی 9 سالہ آمریت میں اتنا اسلحہ جمع کرلیا ہےجس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو کئی بار تباہ کیاجاسکتا ہے۔ کیا ان سے کوئی ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس کا مظاہرہ 12 مئی 2007ء کو شارع فیصل پر کیا گیا۔ اس موقع پر اس وڈیو کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی کہ جس کے بارے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری

حالات کا سبق دیکھیں کہ جس وڈیو کی بنیاد پرغیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ایسا طوفان اٹھایا کہ سب حیران رہ گئے کہ جو لوگ ہزاروں افراد کے قتل اور لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی پرایک لفظ نہ بول پاتے تھے، کیسی کیسی طویل تقریریں کرنا شروع ہوگئے اور اس ویڈیو پر کیسے میرانیس اور دبیر بن کر سامنے آئے۔ مگر جمعے کو وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے عدالت میں بیان داخل کرایا ہے کہ سوات میں لڑکی کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو جعلی تھی[2] ۔ یہاں بات یہ ہے کہ این ج اوزکو تو تنخواہ (غیر ملکی امداد) ہی اسی بات کی ملتی ہےکہ وہ خواتین کی آزادی کے نام پر پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اس وڈیو کو میڈیا میں پیش کرنے والی بھی ایک این جی او چلانے والی خاتون ثمر من اللہ تھیں تاہم کسی سیاسی جماعت کی سیاست ہی  Video Driven  ہوجانا نہ صرف افسوسناک بلکہ سیاست کے لئے نقصان دہ ہے اور بعد میں وڈیو کا جعلی ثابت ہونا اس سیاسی جماعت کے لئے باعث شرم بھی۔ قومی اسمبلی میں قراداد کی منظوری کے موقع پر ولولہ انگیز تقاریر کرنے والے سیاسی رہنما ایوان سے باہر چاہے کتنی ہی مخالفت کر لیں یہ حقیقت ان کے لئے ایک طمانچہ ہے کہ انہوں نے بھی قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے بھی ووٹ کا حق استعمال نہ کرکے قرارداد کی حمایت ہی کی ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نظام عدل ریگولیشن کے خلاف ایک ووٹ بھی نہ پڑ سکا۔ یہ بالکل ویسی ہی منافقت ہے جیسی 2006ء میں ایم ایم اے نے تحفظِ حقوقِ نسواں کے بل کی منظوری کے موقع پر ظاہر کی تھی۔ وہ بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جس کے نتیجے میں بل کے خلاف ایک ووٹ بھی نہیں پڑ سکا۔

اصولی طور پریہ بات درست ہے کہ سوات امن معاہدہ کسی جمہوی سیاسی اور پر امن جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بلکہ مسلح مزاحمت کے دباؤ میں عمل میں آیا ہے جس سے ایک غلط پیغام قوم اور دنیا کو پہنچا ہے۔ اس موقف کے حق میں دلائل بھی شاید میرے دلائل سے زیادہ جان دار ہوں، مگر یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کسی موقف کا درست ہونا محض اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے حق میں دلائل زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک اور حقیقت کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جب کسی خطے میں کوئی مسلح تصادم (Conflict) ہوجائے تو اس کے بعد حکومت کا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرنے کا مقصد یہ قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ ریاست شدت پسندوں یا ان کے موقف کو درست سمجھتی ہے بلکہ اس کا محض یہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ زمین پر مزید خونریزی نہیں چاہتی۔ راستے دو ہی تھےیا تو طاقت کے استعمال کی ناکام پالیسی کو جاری رکھ کر سواتیوں سے زندہ رہنے کا حق چھینا جاتا رہتا یا مزید خونریزی روکنے کے لئے وہ کیا جاتا جو سرحد حکومت نے کیا۔ نام نہاد سول سوسائٹی کو محض تنقید کے بجائے متبادل پیش کرنے چاہئیں۔ انگریزی کے اس مقولے پر اپنی بات ختم کروں گا

If you are not the part of solution then you are part of Problem


[1] رٹ آف دے گورنمنٹ۔ یہ وہی رٹ آف دی گورنمنٹ ہے جس کو قائم کرنے کے نام پر پرویزمشرف نے سینکڑوں افراد کو لاپتہ اور نواب اکبر بگٹی سمیت سینکڑوں بلوچوں کو قتل کر کے بلوچستان کو اس انجام تک پہنچایا مگر آج رٹ کہںش اور آرام کر رہی ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد کا وہ مسئلہ جو صرف ایک ایس ایچ او با آاسانی حاصل کر سکتا تھا۔ اسے بھی رٹ قائم کرنے کے جنون ہی نے کمانڈو آپریشن کرنے پر مجبور کیا۔ جس کے نیتجے میں دو ہزار سات پاکستان کی تاریخ کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا جس کے دوران ستاون خود کش حملے کئے گئے۔ پاکستان کو جتنا کمزور اس رٹ کے قیام کے جنون نے دیا ہےشایدکسی اور نے نہیں کیا۔ صحیح کہا ہے کسی نے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا

[2] اور اس وڈیو کے بارے میں روزنامہ ایکسپریس کے کالم نویس اوریا مقبول جان نے تفصیلی بات لکھ دی ہے اس لئے میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا

Google Buzz

ایشیا کا مرد بیمار

محترم صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے فرانس کے معروف اخبار “لی فیگارو” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ

پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں

(انٹرویو فرانسیسی زبان میں ہے، گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے اسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پڑھا جا سکتا ہے)۔اس تاریخی بیان نے ان کے دیگر کارناموں کو ہر گز نہیں گہنایا، بلکہ ان کے سنہرے اقوال کی فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔

بہرحال اب آپ یہ انٹرویو ملاحظہ کیجئے اور ذیل میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا وہ تاریخی پس منظر بھی ملاحظہ کر لیجئے جس کے باعث ہم اس اصطلاح کے استعمال پر معترض ہیں۔

19 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ تیزی سے زوال پذیر تھی لیکن اس کا وجود روس کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف یورپ کی دیگر طاقتوں کے مفاد میں تھا۔ عظیم طاقتوں کا یہی مفاد اس کی بقا کا ضامن دکھائی دیتا تھا لیکن درحقیقت اس سے سلطنت اپنا اختیار، وجود اور حیثیت سب کھوتی جا رہی تھی۔ سلطنت اور روس کے درمیان مخاصمت کی ایک وجہ تو دونوں ملکوں میں مسلم اور عیسائی آبادی کا بڑی تعداد میں موجود ہونا تھا۔ روسی سلطنت بارہا سلطنت عثمانیہ میں عیسائی رعایا کی محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی اور جن جنگوں میں اس کو فتوحات حاصل ہوئیں ان میں کیے گئے معاہدوں میں یہ شق ضرور شامل ہوتی کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی محافظ ہوگی۔ دوسری جانب روس اور سلطنت عثمانیہ کے سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی رہتی تھی جو روس کے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ہر وقت ایک بڑے خطرے کا سامنے کیے ہوئے تھی۔ اس طرح دونوں سلطنتوں میں ہر وقت چپقلش چلتی رہتی اور بالآخر 19 ویں صدی میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل جنگیں ہوئی جنہیں تاریخ میں روس-ترک جنگیں یا Russo-Turkish Wars کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا زوال اور تیز ہو گیا اور روسی دیو تیزی سے مشرق و مغرب میں مختلف علاقوں کو نگلتا چلا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس روس کی اس تیز رفتار توسیع کو بہت بڑا خطرہ سمجھتی تھیں کیونکہ اس سے ایک جانب جہاں علاقے میں ان کے مفادات کو براہ راست ٹھیس پہنچ رہی تھی وہیں دوسری جانب ایشیا اور افریقہ میں ان کے مقبوضات کا رابطہ بھی منقطع ہو سکتا تھا اور اپنے مقبوضہ علاقوں کی راہ میں روس جیسی عظیم قوت حائل ہونے کا واضح مطلب یہی تھا کہ یورپی قوتیں اپنی سونے کی چڑیاؤں سے محروم ہو جائیں۔ یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث برطانیہ اور فرانس نے روس کے مقابلے میں سلطنت عثمانیہ کی حمایت کی۔

سلطنت عثمانیہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور مالی و دفاعی اعتبار سے کمزوری اسے روس کے مقابلے میں تر نوالہ بنا رہی تھی۔ “بدقسمتی” سے اسلام اور عیسائیت کے لیے مقدس ترین مقامات بھی اسی سلطنت میں (بیت المقدس میں) واقع تھے اور یوں عیسائی رعایا کے محافظ قرار دیے جانے کے معاملے پر فرانس اور روس میں چپقلش ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔روس کے خلاف سسلطنت عثمانیہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر جنگ (جنگ کریمیا) میں حصہ لیا اور عالمی تجارتی آبی گزرگاہوں پر روسی اثر و رسوخ کے خاتمے میں کامیاب ہو گئیں۔

اس جنگ کے دوران روس کے زار نکولس اول نے ایک یادگار جملہ ادا کیا تھا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا اور آج تک بطور اصطلاح جملہ رائج ہے۔ انہوں نے برطانوی سفیر کے ایک مکتوب میں سلطنت عثمانیہ کے بارے میں یہ کہا:

عثمانی سلطنت ایک مردِ بیمار ہے، بہت زیادہ بیمار، ایک ایسا “مرد” جو ضعف وشکستگی کی حالت تک پہنچ چکا ہے

اس طرح “مردِ بیمار” کی یہ ایسی اصطلاح وجود میں آئی جو آج بھی ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دفاعی و مالیاتی اعتبار سے عالمی قوتوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ درحقیقت یہ ایک ایسا طعنہ تھا جو ایک ملک کے سربراہ نے اپنے دشمن ملک کے لیے استعمال کیا بلکہ اگر واضح الفاظ میں کہا جائے کہ جنگی تناؤ کے دوران حوصلہ پست کرنے کے لیے دشمن ملک کو گالی دی گئی۔

اب ڈیڑھ صدی کے بعد یہ کارنامہ ہمارے صدر نے انجام دیا ہے کہ اپنے ہی ملک کو اس گالی کا حقدار قرار دیا ہے۔

Google Buzz

ایک اور ضربِ کاری!!

“کرایہ پورا دو ورنہ اتر جاؤ”
“لسٹ دکھاؤ کہاں ہے؟”
“ڈیزل میں 10 روپیہ بڑھ گیا وہ نئیں دیکھتا تم؟”
“فی سواری 4 روپیہ بڑھانا کہاں کا انصاف ہے؟”
“ام کیا کرے؟ ام نے تو ڈیزل پر پیسہ نئیں بڑھایا”
“اترو نیچے، اترو!!!!”
یہ وہ صدائیں ہیں جو گزشتہ دو روز سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران کانوں میں گونج رہی ہیں بلکہ کئی بار تو کان پھاڑ قسم کی ہوتی ہیں۔ اور یہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
حالانکہ موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی ہے اور انتخابات میں گزشتہ حکومت کے جو “مظالم” گنوا کر عوام سے ہمدردی کے ووٹ بٹورے گئے ان میں سرفہرست مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ گزشتہ دور حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ تھا لیکن “عوام دوست” حکومت کے انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تک 7 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 61 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری 2008ء کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 53 روپے 70 پیسے تھی جو اب 86 روپے 87 پیسے پر پہنچ چکی ہے۔ اس ریکارڈ قیمت پر پہنچنے کے لیے ریکارڈ قدم اٹھا کر بیک وقت 11 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 73، مٹی کے تیل کی قیمت میں 65 اور ایچ او بی سی کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک “منی بجٹ” کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں عوام براہ راست متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ڈیزل سے وہ تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ رواں دواں رہتی ہیں جو عوام استعمال کرتی ہے اور مٹی کا تیل ملک کے کئی علاقوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
بہرحال حالیہ اضافے کا نتیجہ اگلے ہی روز ہڑتال کی صورت میں دیکھنا پڑا اور مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد دفتر پہنچنے میں ناکام رہے یا پھر دیگر ذرائع سے دفتر پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہڑتال کے اگلے روز متوقع طور پر شہر کراچی میں جابجا کنڈیکٹروں اور سواریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آئے جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ تھا جبکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی. اسی تلخ کلامی کی جھلکیاں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد روزانہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے۔
اب صرف فہرست کی صورت میں “پروانہ” جاری ہونے کا انتظار ہے، عوام ذہنی طور پر ایک اور کاری وار کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

Google Buzz