تحاریر برائے ’مہمان بلاگرز کی تحاریر‘ زمرہ


ہم سب کے لیے

كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان كو تيار كر كے ديا تها وہ اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا، يہ مكهن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے كا وزن ايک كلوگرام تها۔

شہر ميں كسان نے اس مكهن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتہ فروخت كيا اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيرہ خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا۔

كسان كے جانے بعد۔۔۔۔۔۔ دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا۔۔۔۔ اسے خيال گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے۔

وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے مگر كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 – 900 گرام ہى تها۔ (more…)

Google Buzz

بیوروکریٹس سدھر جائیں ورنہ

سینیٹر رضا ربانی کا شمار پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں نے میں ہوتا تھا جنہیں سیاسی بصیرت اور اصول پسندی کی وجہ سے نہ صرف اپنی پارٹی بلکہ دیگر جماعتوں کے لوگ بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور حال ہی میں انہوں نے آئینی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر متفقہ آئینی سفارشات تیار کر کے اپنے زیرک مذاکرات کار ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔مگر ہفتہ آٹھ مئی کو کراچی میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے جوش خطابت میں بیوروکریٹس کو گالی بک دی اور اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ تقریب میں خواتین بھی موجود ہیں جو بیوروکریٹس کے بارے میں ان کے “زریں” خیالات سننے کے بعد نظریں چرانے پر مجبور ہوئیں۔ میں نے سوچا تھا کہ اس وڈیو پر کچھ خود بھی لکھوں مگر یہ سوچ کر اپنا تبصرہ محفوظ رکھ رہا ہوں کہ اصل تبصرہ تو وہی ہوگا جو بلاگ پر یہ وڈیو دیکھنے والے قارئین کریں گے۔ (more…)

Google Buzz

پہلے میں، پھر تم اور پھر ہماری اولادیں

تحریر: اسد احمد

کیا یہ ملکی سیاسی نظام کی بدنصیبی نہیں کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی اس شق کا خاتمہ بھی ہوگیا جس کے تحت سیاسی جماعتوں میں الیکشن لازمی قرار دیے گئے تھے؟ اور یہ فریضہ انجام دیا ان منتخب جمہوری قوتوں نے جن کی زبانیں ہر وقت جمہوریت کے فضائل اور آمریت کے نتائج سے قوم کو ڈرانے میں رطب اللسان رہتی ہیں۔ اب بلاول زرداری، میاں محمد نوازشریف، اسفندیار ولی، شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمان پوری دل جمعی کے ساتھ نہ صرف اپنی اپنی جماعتوں کی صدارت کے فرائض انجام دے سکتے ہیں بلکہ باآسانی اپنی اپنی جماعتوں کی کرسی صدارت اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرسکتے ہیں۔ حالانکہ آئین کی اس بے ضرر شق کی موجودگی میں بھی منتقلی کا یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے ہو رہا تھا۔ آخر محترمہ کی جگہ ان کے صاحبزادے ہی نے تو لی!۔ پھر جمہوریت سے محبت رکھنے والے سیاسی قائدین اس شق سے اس قدر خوفزدہ کیوں تھے کہ اس سے فوری جان چھڑائی؟ آئینی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر مشرف نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے کے لیے یہ شق متعارف کرائی تھی۔ ہمیں سخت حیرت ہے رضا ربانی کی بصیرت پر!کیا ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنی پارٹی میں جمہوریت متعارف کراتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے؟ کیا پارٹی انتخابات سے ان دونوں بڑی جماعتوں کو واقعی نقصان پہنچ رہا تھا؟ اگر جواب مثبت میں ہے تو پھر ہم اس شق کی بھرپور حمایت کریں گے اس لیے کہ قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح رضا ربانی جیسے جمہوریت پسند بزرگوں نے محترمہ کے بعد ایک لونڈے کے سر پر پیپلز پارٹی کی صدارت کا تاج سجایا یعنی باپ کے بعد بیٹی اور بیٹی کے بعد اب بیٹا۔ یہ ہے رضا ربانی صاحب کی جمہوریت سے محبت! میاں صاحب کا تو رونا ہی بے کار اس لیے کہ اآپ جناب کی تو پیدائش ہی آمریت کے جھولے میں ہوئی ہے۔ خود وزیر اعظم تھے، بھائی پنجاب کے وزیر اعلی اور ابا میاں دونوں کے سرپرست۔ اب حمزہ شہباز بھی میدان میں کود چکے ہیں، خاندانی لیگ کے مستقبل کے سربراہ۔ کیا نون لیگ میں میاں صاحب اور پیپلز پارٹی میں بلاول اور زرداری صاحب سے زیادہ جہاں دیدہ اور بالغ النظر کوئی دوسری شخصیت موجود نہیں؟ غالباً یہ پارٹی انتخابات نہ ہونے کا ہی جھگڑا تھا جس نے ق لیگ کو جنم دیا۔ ظاہر ہے چودھری برادران بھی تو صلاحیتوں میں کسی طور شریف برادران سے کم نہ تھے، اور پھر اسی ق لیگ سے گزشتہ سال ہم خیال لیگ نے جنم لیا۔
سیاسی جماعتوں میں لازمی الیکشن کی شق کے خاتمے کے خلاف پانچ شخصیات نے ووٹ دیے۔ ان میں سے ایک جاوید ہاشمی بھی ہیں۔ وہی جاوید ہاشمی جنہوں نے خاندانی لیگ کی صدارت اس وقت سنبھالی جب شریف برادران پوری قوم اور اپنی جماعت کو، معاہدے کے تحت، ایک آمر کے سپرد کرکے سعودی عرب روانہ ہوگئے تھے۔ اور پھر کچھ عرصے بعد جاوید ہاشمی جیل کو پیارے ہوگئے۔ آج قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جاوید ہاشمی صاحب نہیں بلکہ چودھری نثار علی خان صاحب ہیں، یہ ہے جاوید ہاشمی صاحب کی خدمات کا حقیقی صلہ۔ قصور میاں صاحب کا نہیں وہ تو ہیں نواز لیگ کے سربراہ، ظاہر ہے نواز لیگ کا سربراہ نواز شریف ہی ہوگا یا پھر ان کا بیٹا اور بھتیجا۔ اصل قصور وار جاوید ہاشمی جیسے لوگ ہیں جو ان غیر جمہوری رویوں کو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں پروان چڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ بھٹو صاحب کی شخصیت میں بھی آمریت کے جراثیم تھے جس نے انہیں تنہا کردیا اور یہی معاملہ میاں نواز شریف کا بھی ہے گو صلاحیتوں کے اعتبار سے دونوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ جمہوریت کا درد کرنے والی شخصیات میں موجود یہی آمرانہ رویے، ہمیشہ طاقت میں رہنے کی خواہش، اور سارے اختیارات اپنی ذات میں یکجا کر لینے کے شوق ہی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی فوجی آمر منتخب شخصیت کو برطرف کر کے آتا ہے تو عوام اس کا برا نہیں مانتے بلکہ پہلے پہل تو خیر مقدم کرتے ہیں۔ آمر تو آمر ہے چاہے فوجی وردی میں ہو یا شلوار قمیض میں، ووٹوں سے منتخب ہوا ہو یا بندوق سے مسلط ہوا ہو عوام تو نتائج دیکھتے ہیں۔
ہم “ہاں میں باغی ہوں” کہ مصنف جاوید ہاشمی کو یہ مشورہ دیں گے کہ جاوید صاحب آگے بڑھیں اور ایک اور بغاوت کریں۔ ایک حقیقی اور آخری بغاوت۔ ان غیر فوجی، سویلین آمروں کے خلاف جو عشروں سے اس ملک کی سیاست کو اپنے گرد گھما رہے ہیں، جو سارے اختیارات ہمیشہ کے لیے اپنی ذات میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جن کو اس ملک کے مستقبل سے زیادہ اپنی اولادوں کا مستقبل عزیز ہے۔ جو دو دو بار وزیر اعظم بن کر بھی جب رخصت ہوئے تو اقتدار عوام کو نہیں فوج کو سونپ کر گئے۔ لیکن ہمیشہ اقتدار میں رہنے کی یہ خواہش ہر بار سے زیادہ آج ان میں موجود ہے۔ شاید اسی لیے آئین پاکستان میں موجود اس شق کا خاتمہ کیا گیا۔ ہاشمی صاحب! آپ پاکستان کے عوام کو اس ٹولے سے نجات دلاسکتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آپ ماضی میں جیل جا کر خاصا نقصان اٹھا چکے ہیں لیکن ہم آپ کو کسی معمولی وزارت یا کسی ملک کی سفارت پر فائز نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ وزارتیں اور سفارتیں تو بہت ہی حقیر لوگوں کو بھی مل جاتی ہیں۔ آپ اقبال کے شاہین بنیں اور عوام کو “پہلے میں پھر تم، پھر میں اور پھر تم اور پھر ہماری اولادیں” کے کھیل سے نجات دلائیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جو سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی میں انتخابی عمل کے خلاف ہیں وہ ملک کو کبھی بھی حقیقی جمہوریت اور قیادت نہیں فراہم کرسکتیں۔ ہاشمی صاحب قدم بڑھائیں۔ ۔ ۔ ۔ !

Google Buzz

آؤ سچ بولیں

تحریر: ابن آدم

کبھی کبھار سچ بول کر شیطان مردود کی نافرمانی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اس کا ایک فائدہ شاید یہ ہو کہ شیطان آپ کو بہکانے سے بعض آجائے تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھڑک اٹھے اور مزید ننھے منے شیاطین آپ کے پیچھے لگادے۔ توچلیں کچھ سچی باتیں کرتے ہیں ۔ اگر آپ کو یہ سچی باتیں بھی جھوٹ لگیں تو سچائی آپ خود بیان کردیےگا۔ اور اگر یہ باتیں سچ لگیں تو ایسے ہی کچھ سچ آپ بھی بیان کریں۔
کیونکہ زرداری صاحب ملک کے اعلٰی ترین منصب پر فائز ہیں لہٰذا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ
- صدر صاحب نہایت دیانتدار،امانت دار،ملک و قوم سے مخلص ایک سچے پاکستانی ہیں۔ان کی یہی سچائی اور دیانت داری بعض جھوٹوں بلکہ صدر محترم کے الفاظ میں سیاسی اداکاروں کو ناپسند ہے۔اسی لیے آئے دن کوئی نہ کوئی جھوٹا صدر صاحب پر ایک نیا الزام لگا دیتا ہے ۔ سوئس کیسز کا چرچا کیا کم تھا کہ اب فاطمہ بھٹو بلاوجہ اپنے مرحوم و نیک سیرت والد کے قتل میں صدر صاحب کو گھسیٹ رہی ہیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ صدر صاحب اپنے عزیز سالے کے قتل سے تھوڑا پہلے اپنی مونچھوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ آخر قتل تو بہنوئی جی کی مونچھوں کا ہوا تھا!
- سابق صدر جنرل پرویز مشرف، جن کی رحمدلی کے گن پوری افغان قوم، قبائلی عوام، لال مسجد کے معصوم بچےو بچیاں، عافیہ صدیقی اور لاپتہ افراد کے رشتے دار، سپریم کورٹ کے ججز سمیت پورا پاکستان گاتا ہے،آپ اب آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد ڈالا ہی چاہتے ہیں۔ ہم پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ یہ کہیں گے کہ اگلے عام انتخابات اگر ہوئے تو مشرف صاحب ہی کی پارٹی جیتے گی۔
- بعض بدخواہوں کو رائے ونڈ محل کے رہائشی، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پانچ پزار روپے سالانہ انکم ٹیکس ادا کرنے پر اعتراض ہے۔اب اگر اتفاق گروپ آف انڈسٹریز خسارے میں ہے یا میاں صاحب کے بچوں کی ملکیت ہے تو میاں صاحب کا کیا قصور؟ میاں صاحب کی جتنی آمدنی ہے اتنا ٹیکس ایمانداری سے ادا کردیتے ہیں۔
- شعیب ملک کا کہنا ہے کہ عائشہ صدیقی سے میرا نکاح نہیں ہوا لہٰذا طلاق کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔شعیب ملک کی سچائی کی گواہی کئی بار مولانا محمد یوسف بھی دےچکے ہیں ،حال ہی میں پی سی بی نے بھی ان کی خدمات کے صلے میں انہیں ایک سالہ پابندی کا تمغہ عطا کیا ہے۔ ویسے بھی، جس نکاح کا اعتراف ملک صاحب نے ایک نجی ٹی وی پر دوران انٹرویو کیا وہ تو محض زبان کی پھسلن تھی۔ اب تو ثانیہ جی بھی کہہ رہی ہیں کہ ٹیلیفون پر نکاح نہیں ہوا۔

فی الحال یہ چار سچائیاں بہت ہیں باقی سچائیاں جیسے ملک ترقی کررہا ہے،ہر طرف چین ہی چین ہے، حکومت امریکا کو قرضہ دے رہی ہے، افغانیوں کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہے، چینی پندرہ روپے کلو، دودھ بارہ روپے لیٹر، پیٹرول بیس روپے لیٹر اور آٹا پانچ روپے کلو میں دستیاب ہے وغیرہ وغیرہ آپ بیان کریں۔

Google Buzz

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں‏

تحریر: زبیر انجم صدیقی

اگر آپ کراچی میں اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں سفر کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آگے میں جو کچھ لکھنے جا رہا ہوں وہ بات آپ کے تجربے میں نہ ہو، مگر جو لوگ میری طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر کے عادی ہیں ان کے لئے ایک معمول کا مشاہدہ اور تجربہ ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھی کبھی نہ کبھی اس طرح کے مکالمے کے مخاطب و متکلم رہے ہوں ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ موسم بہار کی سہانی شام تھی، مجھے دفتر کے ایک ساتھی نے اپنی گاڑی میں دفتر سے ڈرگ روڈ تک چھوڑااور اس کے بعد ہم کھوکھرا پار اور ٹاور کے درمیان چلنے والی بس میں یو ٹی ایس 12 میں سوار ہوئے جس کو اس کی تیز رفتاری اور دروازوں سے ابلتے ہوئے مسافروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، بہرحال اس دن بھی رش تو تھا مگر اتنا کہ کھڑے ہونے کی جگہ آسانی سے مل گئی، ہم نے جھٹ سے اس کونے کا انتخاب کیا جو کھڑکی پاس تھا اور جہاں زیادہ سے زیادہ مسافروں کو کھڑا رکھنے کے لئے سیٹوں کو اکھاڑ دیا گیا تھا۔ میں اسی کونے میں ہو لیا اور کھڑکی سے آنے والی ہوا اور باہر کے منظر میں مگن ہوگیا۔ اتنے میں کنڈیکٹر کرایہ وصولتا ہوا آن پہنچا ۔پہلے وہ میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا

۔‘‘ہاں بھائی ’’۔

میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوا نکالا اور اس میں سے بیس کا نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔ کنڈیکٹر نے گزشتہ روز کے کرائے دس روپے کے بجائے بارہ روپے کاٹ کے جب آٹھ روپے میری جانب بڑھائے تو میرے چہرے پر احتجاج کا تاثر ابھرا مگر اسی لمحے میں مجھے یاد آیا کہ میں آج ہی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی خبر بنا کر آرہا ہوں ، میں نے اپنی ہتھیلی میں موجود سکوں کو پرس میں منتقل کیا اور دوبارہ بس کی کھڑکی سے نظر آنے والے بیرونی منظر میں مگن ہوگیا کہ کنڈیکٹر نے مرے برابر والے مسافر سے کہا ۔

۔‘‘ ہاں صاحب ! کرایہ ’’ ۔مسافر نے اپنی جیب سے دس کا نوٹ نکالا اور کنڈیکٹر کی جانب بڑھا دیا ، کنڈیکٹر نے جھٹ دس کا نوٹ اپنی مٹھی میں سمیٹا اور بولا

‘‘ صاحب دو روپے اور’’

۔ مسافر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ‘‘کیوں بھائی ’’

۔تو کنڈیکٹر نے جواب دیا ‘‘ بھائی بڑھ گیا ہےکرایہ’’

‘‘ کب بڑھا کرایہ ، میں کل ہی تو دس روپے میں گیا تھا’’

‘‘ کل کل تھی آج آج ہے ، رات گئی بات گئی ، آج کا کرایہ بارہ روپے ہے ،شاباش !بحث میں ٹائم ضائع نہ کرو دوروپے نکالو’’ کنڈیکٹر نے جواب دیا ۔مگر مسافر بھی شاید مزید سننے کے موڈ میں تھا ۔‘‘ کہاں لکھا ہے کرایہ بارہ روپے ہے ’’مسافر نے جواب دیا ۔ کنڈیکٹر نے میرے سر سے ذرا اوپر ہی بس کی دیوار میں چسپاں فوٹو اسٹیٹ کرایہ نامے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘وہ لگا ہوا ہے ، پڑھ لو مگر میرا وقت ضائع نہ کرو ’’۔مسافر مزید احتجاج کرتے ہوئے بولا‘‘ وہ لیٹر پر پانچ روپے بڑھاتے ہیں اور تم لوگ ایک ٹکٹ پر دو رپے بڑھا دیتے ہو ، پاکستان میں تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے سب اپنا اپنا ہی بھرنے میں لگے ہوئے ہیں ’’ یہ کہہ کر مسافر نے دو روپے کا سکہ بڑھادیا ۔

‘‘اس پہلے تین دفعہ ڈیزل کے ریٹ بڑھے مگر ہم نے کرایہ وہی رکھا ، اور بھائی ہم سے مت لڑو ، ہم تو تمہارے ہی جیسے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے ہیں ، جن سے لڑنا چاہیئے ان سے لڑتے نہیں ہو ، نکلو سڑکوں پر ، جو آٹا دو سال پہلے سترہ اٹھارہ روپے کلو خرید رہے تھے اب خاموشی سے چھتیس روپے لے آتے ہو ، وہاں احتجاج نہیں کرتے ، چینی تیس روپے سے پینسٹھ ہوگئی ، وہاں تم نہیں لڑے ، تمہارا زور بھی بس ہم پر ہی چلتا ہے ’’ ۔

کنڈیکٹر نے اسٹاپ قریب آتے ہی کھوکھرا پار ، کھوکھراپار، کالابورڈ ایئرپورٹ کی صدائیں بلند کرنا شروع کر دیں اور میں نے مسافر اور کنڈیکٹر کا مکالمہ ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا اور ایک بار پھر کھڑکی سے آنے والی اس ہوا سے محظوظ ہونے لگا جس سے آدھا اکھڑا ہو فوٹو اسٹیٹ کرایہ نامہ میرے سر کے اوپر ہی پھڑ پھڑا رہا تھا ۔

Google Buzz

افغان باقی کہسار باقی ، الحکم للہ الملک للہ

تحریر: زبیر انجم صدیقی

سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلہ روز شب اصل حیات و ممات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیرفئ کائنات

افغانستان کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور حال ہی میں پیش آنے والے کئی واقعات ایک بڑی تبدیلی یا واقعے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اگر چہ کوئی واقعہ ایک دم نہیں ہوتا ،اور بقول شاعر ‘‘وقت کرتا ہے پرورش برسوں ’’۔ اور اس حادثے کی پرورش سطح پر اس وقت آئی جب پاکستان سے افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد سے افغانستان کی صورتحال پر تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر تجزیوں میں نہ تو حقائق کو پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نہ ہے افغانوں کے مزاج ، روایات اور تاریخ کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں مزاحمت کے تین سرکردہ گروہوں کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے والے اقوام متحدہ کے سابق سفیر کائی ایدی نےملابرادر کی گرفتاری ظاہر کئے جانے کے ایک ماہ بعدبی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان رہنمائوں کی گرفتاری سے افغانستان میں مصالحت کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مگر اس بات کے آثار اسی وقت نمایاں ہو گئے تھے جب ملا بردار کی گرفتاری پر افغانستان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا بلکہ دبے دبے لفظوں میں احتجاج کیا گیا۔ اور بی بی سی کے وسعت اللہ خان جیسے صائب الرائے دانشور کو بھی یہ سمجھنے میں ایک ماہ کا عرصہ اور کائی ایدی کا انٹرویو سامنے آنے کا انتظار کر پڑا۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جو اب تک پاکستان پر طالبان کے بارے میں دوہری پالیسی برتنے کا الزام لگاتا آیا ہے کس منہ سے پاکستان میں موجود طالبان قیادت کی گرفتاریوں کی مخالفت کرے گا۔ حالانکہ اس وقت یہ گرفتاریاں امریکہ کے امن مذاکرات اور فوجی انخلا کی حکمتِ عملی کی کمر میں لگنے والے اس گھونسے کی طرح ہیں جس کے بعد کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نہ آپ ہنس سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ شائد اسی لئے امریکہ ان گرفتاریوں پر حامد کرزئی کے ترجمان اور اقوامِ متحدہ کے سابق اہلکار کائی ایدی کی زبان میں نا خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔

گزشتہ تحریر میں ہم نے بتایا تھا کہ مالدیپ میں حزب اسلامی ، جلال الدین حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی کوئٹہ شوری ٰکے نمائندوں نے(ملا عمر کی تائید کے بغیر یا حکم کے خلاف )اقوام متحدہ کے سفیر اور افغان حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کئے تھے جس کے بعد ملا برادر ،اورملا معتصم آغا جان کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد جو پیشرفت ہوئی اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

۔ اول: طالبان

۔ طالبان کی جانب سے یہ واضح موقف سامنے آگیا کہ وہ غیر ملکی فوج کے انخلاء سے پہلے کسی قیمت پر افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ کوئٹہ شوری کے نام پر مذاکرات امیر المومنین ملا عمر کے حکم کے خلاف اور طالبان کی پالیسی کے خلاف ہے۔ وہ کامیابی تک جہاد جاری رکھیں گے اور قابض افواج سے کسی قیمت پر مذاکرات نہیں کریں گے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا عمر کے اس موقف کہ جس کی تائید پیش آمدہ واقعات سے بھی ہو رہی ہے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ طالبان کا موقف درست ہو یا غلط وہ اس بارے میں مکمل طور پر یکسو ہیں اورکسی کنفیوژن یا بے یقینی کا شکار نہیں ہیں۔ علامہ علیہ الرحمہ کے الفاظ میں یقین کی دولت سے مالا مال ہیں:

یقیں مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ مستی، خود گزینی
سن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی

طالبان نے اس وقت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کی تھی جب دو ہزار دو میں ان کی قوت منتشر تھی اور فتح تو دور کی بات ہے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنا دیوانگی اور مجذوب کی بڑ نظر آتی تھی تووہ ایک ایسے وقت میں مذاکرات کیوں کریں کہ جب وہ یہ جنگ جیت چکے ہیں۔

۔ دوم:حزب اسلامی

۔ گلبدین حکمت یار کی قیادت میں شمالی اور مشرقی افغانستان میں قابض افواج کے خلاف سرگرم حزب اسلامی نے مذکرات کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ اور کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے براہ راست مذاکرات کئے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکام سے مذاکرات کرنے والے حزب اسلامی کے پانچ رکنی وفد کی قیادت گلبدین حکمت یار کے نائب قطب الدین ہلال نے جس میں اسلام آباد میں مقیم حکمت یار کےداماد ڈاکٹر غیرت بہیر بھی شامل تھے۔ اس مذاکرات کے نتیجے میں افغان عوام کی نظر میں حزب اسلامی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ملا عمر ان کے لئے زیادہ قابل اعتماد قیادت کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ گلبدین حکمت یار جلد یا بدیر امریکہ کے مذاکراتی ٹریپ کا شکار ہوں گے۔ مگر اس وقت تک میدان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ گلبدین حکمتیار کی جانب سے امریکہ سے اپنے زیر اثر علاقوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوتے ہی طاقت کا توازن ایک بار پھر قابض افواج کے حق میں چلا جائے گا۔ اور وہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی جس کے نتیجے میں امریکہ کمزور ہو کر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اس لئے اصولا تو یہی ہونا چاہیئے کہ تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست مگر گلبدین حکمت یار نے ایک تاریخی بلنڈر کر دیا ہے۔

سوم: جلال الدین حقانی نیٹ ورک

۔ مجاہد کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کی سربراہی میں جنوب مشرقی افغانستان میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ملحقہ افغان صوبوں میں میں سرگرم حقانی نیٹ ورک ملا برادر کی گرفتاری کے بعد بہت زیادہ محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ مالدیپ مذاکرات میں حقانی گروپ کا نمائندہ وفد بھی شریک تھا۔ حقانی نیٹ ورک ہی افغانستا ن میں القاعدہ کا میزبان اورسب سے زیادہ اشتراک کار رکھنے والا گروہ ہے۔ اور حال ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں جلال الدین حقانی کا بیٹا القاعدہ کے سینئر رہنما کے ساتھ ہلاک ہو ا ہے۔

اسٹریٹجک مذاکرات

واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بارے میں حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور مالی امداد پر بات چیت کی گئی ہے۔ حالانکہ واشنگٹن میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کی موجودگی کا سب سے بڑا سبب افغانستان میں (Conflict Resolution)پر مذاکرات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر افغانستان میں مصالحت کے لئے مرکزی کردار کی پیشکش کی تھی جسے یقینی بنانے کے لئے دیگر مذاکراتی چینلز کا بند کرنا ضروری تھا جس کے لئے ملا برادر اور دیگر رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس صورتحال سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران امریکہ برطانیہ ، روس ، بھارت اور ایران سمیت تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن کی کلید اب بھی پاکستان کے پاس ہی ہے۔ جس کا سبب پاکستان اور افغان طالبان کے مشترک مفادات ہیں۔ اور یہ جتنی بھی پیشرفت ہو رہی ہے جنرل ضیاء الحق کے دفاعی نظریے تذویراتی گہرائی (Strategic Depth Doctrine) کی بنیاد پر ہی ہو رہی ہے۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

گزشتہ نو سال کے دوران تذویراتی گہرائی کے جس نظریئے کو سب سے زیادہ مطعون کیا گیا وہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ آزاد نظم دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے فورا بعد لکھی گئی تھی:

جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
خندقیں کھود کہ بیٹھا ہوں میں اپنے دل میں
سر کا کیا تھا ،اسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی تحویل میں ہیں برسوں سے
حافظہ میں ابھی تاریخ کو سونپ آیا ہوں
پاؤں صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
کون کہتا ہے کہ میں صاحب اسباب نہیں
یہ زمیں میرا بچھونا ہے فلک چادر ہے
اور ستارے مری امیدیں ہیں
میرے دشمن کو ابھی کھیل کا اندازہ نہیں
دیکھےں کھیل بگڑنے کی خبر کب آئے
وہ موجود ہے دنیا کو نظر کب آئے

Google Buzz

انتخابات سے پہلے اصلاحات

تحریر: اسد احمد

جنرل ایوب خان نے 27 اکتوبر 1958ء کو اپنے رفیق اور اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس قبضے کے ساتھ ہی ملک میں لیفٹ رائٹ کا ڈھول پٹنے لگا۔ سزائیں، جیلیں اور پابندیاں سیاسی کارکنان کا مقدر ٹھیریں۔ جنرل صاحب کو ذوالفقار علی بھٹو، مخدوم خلیق الزماں، محترمہ رعنا لیاقت علی جیسی مقبول اور نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان اور عبدالمنعم خان جیسی سخت گیر شخصیات کی حمایت اور مدد حاصل تھی۔ ایوب صاحب جب اقتدار پر اپنی گرفت خاصی مضبوط کر چکے تو ان ہی قابل شخصیات میں سے ایک نے صدر صاحب کو ملک میں صدارتی انتخابات کا مشورہ دیا۔ مشیر صاحب کا خیال تھا کیونکہ حزب اختلاف متحد ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسی شخصیت ہے جس پر سب اتفاق کرسکیں لہٰذا صدارتی انتخابات کا اس سے موزوں وقت پھر نہیں آئے گا۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت اچانک دور ہوئی جب محترمہ فاطمہ جناح حزب اختلاف کی متفقہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔ اب کیا تھا پورے ملک میں اپوزیشن کے جلسے، ایوب مخالف نعرے اور ایسا سماں کہ بس فاطمہ جناح ہی اب صدر بنیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خان اس صورتحال سے اس قدر بوکھلائے کہ غصے میں اپنے اس لائق مشیر سے فرمایا “یہ تیری ماں کہاں سے میرے مقابلے میں آگئی ہے؟” اس ساری مہم سے قطع نظر انتخابی نتائج تو شاید پہلے سے تیار تھے اور اپنی تمام تر مقبولیت اور حمایت کے باوجود ہر دل عزیز محترمہ فاطمہ جناح ہار گئیں بلکہ ہروا دی گئیں۔ یہ ملکی تاریخ کا غالباً پہلا موقع تھا جب انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور انہیں اندازہ ہوا کہ انتخابات میں کامیابی کے ذرائع کچھ اور ہیں۔

مولانا کوثرنیازی پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور بھٹو صاحب کی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے پر فائز رہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے ملکی صورتحال کو اپنے حق میں موافق سمجھتے ہوئے مارچ 1977ء میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کی تاہم اپوزیشن اتحاد پی این اے نے نتائج مسترد کرتے ہوئے انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کردیا۔ مولانا کوثر نیازی نے سن 77ء کے انتخابات سے جنرل ضیاء الحق کے اقتدار حاصل کرنے تک کی تفصیلات اپنی تصنیف “اور لائن کٹ گئی” میں تحریر کی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

“اس وقت تک مسٹر بھٹو کا آپریشن وکٹری نامی منصوبہ میرے علم میں نہ تھا۔ یہ تو میں جانتا تھا کہ وہ بسا اوقات کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی تک سے براہ راست معلومات حاصل کرتے تھے۔ لیکن مجھے اس کا کوئی علم نہ تھا کہ انتخابات میں رگنگ (دھاندلی) کا کوئی طے شدہ منصوبہ بھی راؤ رشید اینڈ کمپنی وضع کر چکی تھی۔ یہ پس منظر کے لوگ تھے اور ہم پیش منظر میں سیاسی جنگ سیاسی طریقوں کے مطابق لڑ رہے تھے۔ انتخابات میں رگنگ کا سب سے پہلا انکشاف مجھ پر 7 مارچ کے دو ہی روز بعد اس وقت ہوا جب پی این اے اپنا ایجی ٹیشن شروع کر چکی تھی، اس نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا تھا۔ ایک شام پی ایم ہاؤس میں وزیر اعظم بھٹو، میں، حفیظ پیرزادہ، رفیع پاشا اور ایک دو اور احباب موجود تھے کہ وزیر اعظم نے پیرزادہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوئے۔

“حفیظ کتنی سیٹوں پر گڑبڑ ہوئی ہوگی؟”

“سر۔ ۔ ۔ ۔ تیس سے چالیس تک” حفیظ نے مختصر جواب دیا۔

“کیا ہم پی این اے والوں سے یہ بات نہیں کرسکتے کہ وہ اتنی سیٹوں پر اپنے نمائندے کامیاب کرالیں ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے؟”

وزیر اعظم کی بات سن کر میرا کیا حال تھا؟بس اتنا جان لیں کہ میں ان کے چہرے کی طرف دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا اور اپنے آپ کو اچانک ہی بہت بے خبر اور احمق سا محسوس کرنے لگا۔ “

اس کے بعد گیارہ سالہ طویل فوجی دور ملک کا نصیب ٹھیرا۔ ضیاء الحق کے بعد اچانک آئی جے آئی وجود میں لائی گئی۔ آ ئی جے آئی کیوں، کیسے اور کن مقاصد کے لیے تشکیل دی گئی اس حوالے سے اب اتنا کچھ سامنے آ چکا ہے کہ تفصیلات کی ضرورت نہیں۔ اور پھر اگلے بارہ سال تک ملک میں کبھی بی بی اور کبھی شریفوں کی حکومت بنتی اور ٹوٹتی رہی۔ اس دوران کبھی احتساب اور کبھی مقروض سیاستدانوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کا مطالبہ بھی ہوتا ریا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں ن لیگ نے اس قدر ہیوی مینڈیٹ حاصل کیا کہ میاں صاحب کے جیالے سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑے اور پھر جنرل مشرف نواز حکومت پر۔ انہی جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2005ء میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کس قدر شفاف تھے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اندرون سندھ میں اور ن لیگ کا پنجاب میں مکمل صفایا ہو گیا اور عالی قدر، عزت مآب پرویز مشرف اپنے لائق وزرائے اعلیٰ سندھ و پنجاب ارباب غلام رحیم و پرویز الٰہی کو اس کارنامے پر داد دیتے نہیں تھکتے۔ اس سے پہلے سن 2002ء میں منعقدہ عام انتخابات کی شفافیت پر بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص یورپی یونین نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مئی 2004ء میں کراچی میں ضمنی انتخابات میں ایک روز کے اندر تقریباً درجن بھر سیاسی کارکنان قتل کیے گئے ۔ ا سی طرح 2008ء کے عام انتخابات میں شہر کراچی کے بعض حلقوں سے کامیاب امیدواروں نے اس قدر ووٹ حاصل کیے کہ مقامی آبادی بھی حیرت زدہ رہ گئی۔ جب کہ بعض شکست خوردہ امیدوار آج بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اصل میں تو ہم جیتے تھے لیکن۔ ۔ ۔ !۔ حال ہی میں شیخ رشید صاحب کو اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے تین ساتھیوں سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ شیخ صاحب نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے مخالف امیدوار پر بوگس ووٹنگ کا الزام عائد کیا۔ جبکہ لاہور کے حلقے این اے 123 میں ہوئے ضمنی انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں کے واضح ثبوت اب ٹیلیویژن چینلوں پر بھی نشر کردیے گئے ہیں۔ حیرت ہے کہ جمہوریت کا نعرے لگانے والی جماعتیں کس طرح کھلے عام اور دیدہ دلیری کے ساتھ بوگس ووٹنگ کے ذریعے عوامی رائے کا قتل کرتی ہیں؟

بار بار کے منفی تجربات کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ انتخابات، جو ملکی مستقبل کے حوالے سے اہم ترین سرگرمی ہے، سے ووٹرز کی اکثریت لا تعلق رہتی ہے۔ ووٹرز ٹرن آؤٹ بمشکل تمام 35 سے 40 فیصد رہتا ہے۔ یعنی 60 سے 65 ووٹرز ووٹ ہی نہیں ڈالتے لہٰذا آدھے ملک سے وڈیرے و سردار اور باقی سے شہری وڈیرے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپنے پڑوسی ممالک پر نظر ڈالیں۔ ایران میں گزشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ تقریباً 80 فیصد رہا جو نظام پر عوامی اعتماد کا واضح اظہار تھا۔ اسی طرح بھارت میں چند سال قبل واجپئی حکومت نے شائننگ انڈیا (دمکتا بھارت) کا نعرہ لگایا اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان اسی لیے کیا کہ آسانی سے کامیابی حاصل کرلیں گے۔ اس وقت کی پاکستانی حکومت نے تو واجپئی اینڈ کمپنی کو پیشگی مبارکباد بھی دے ڈالی۔ لیکن بھارت میں ووٹرز کو اپنے ووٹ پر اعتماد تھا اور ایک ایسے وقت جب تمام تبصرے اور تجزیے بی جے پی کی فتح کی پیش گوئی کررہے تھے حیران کن طور پر کانگریس نے اکثریت حاصل کرلی۔ شفاف انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی باتیں محض ڈھونگ اور فراڈ ہیں۔ انتخابی دھاندلیوں کی تاریخ کھلی کتاب کی طرح ہے لہٰذا اب جبکہ بلدیاتی انتخابات قریب نظر آ رہے ہیں ہم چند اقدامات تجویز کریں گے۔

1۔ ووٹنگ کے روایتی طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے بایو میٹرکس کا نظام متعارف کرایا جائے۔ اس سلسلے میں نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور نادرا کا ڈیٹا بیس نہایت مفید ہے۔ یقینی طور پر اس حوالے سے ابتداء میں بعض پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں تاہم یہ نظام شروع میں صوبائی دارالحکومتوں میں متعارف کرایا جاسکتا ہے جس کے دائرہ بعد ازاں پورے ملک تک پھیلایا جائے۔ جب فنگر امپریشن کے ذریعے ووٹر ووٹ ڈالے گا تو کوئی دوسرا کسی کا ووٹ نہیں ڈال سکے گا اور ووٹر کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال ہوگا۔ اس سارے نظام کی تشکیل کے لیے ماہرین کی مدد لی جا سکتی ہے۔

2۔ آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس کا چیئرمین کسی اچھی شہرت کے حامل غیر جانبدار جج جیسے جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم، جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد یا جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد وغیرہ کو مقرر کیا جائے تاکہ انتخابی عمل کی نگرانی ہوسکے۔

3۔ انتخاب کے دن حساس شہروں اور حلقوں میں انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ کراچی جہاں ٹارگٹ کلنگ کے باعث سیاسی کارکن سخت غیر محفوظ ہے اور عوام خوفزدہ ہیں ضروری ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے فوج طلب کی جائے۔

4۔ ووٹر لسٹوں کو شفاف بنایا جائے اور ان میں پائی جانے والی تمام بے قاعدگیاں ختم کی جائیں اور اس حوالے سے جانچ کا باقاعدہ نظام بنایا جائے۔

5۔ نیب زدگان،قرض نادہندگان اور ٹیکس چوروں کے کاغذات نامزدگی کسی بھی صورت قبول نہ کیے جائیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کی آمدنی اس قدر محدود ہو کہ وہ محض پانچ ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرسکے؟

یہ کم از کم اقدامات ہیں جو انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے کیے جانے چاہئیں۔ اگر ملک میں انتخابات ہی شفاف نہیں ہوں گے تو پھر جمہوریت، جمہوری عمل کی باتیں محض ڈھونگ ہیں۔ اگر انتخابی نتائج اسی طرح طاقت اور بے ایمانی کے ذریعے عوام کی رائے کا قتل کرتے ہوئے تشکیل دینے ہیں تو انتخابات کا ڈھونگ رچانے ہی کیا ضرورت ہے ؟ گر ایک ارب سے زائد آبادی کے ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں انتخابات پرامن اور شفاف طریقے سے ہوسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں بھی یہ مرحلہ شفاف طریقے سے انجام دیا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے گا۔

Google Buzz

شکست تسلیم، مگر اعلان بعد میں فتح کے تاثر کے ساتھ

تحریر: زبیر انجم صدیقی

گزشتہ دنوں “ایک اطلاع” کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس دعوے کو تاریخ کے تناظر میں گہرے منطقی دلائل اور زمینی حقائق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس “دعوے” کے صائب ہونے کو ثابت کرتے چلے گئے۔

28 فروری کو برطانوی فوج کے سربراہ ڈیوڈ جنرل رچرڈ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغان جنگ 2011ء میں ختم ہو جائے گی۔ مگر ہمارا اندازہ یہی ہے کہ افغان جنگ 2009ء کے وسط ہی میں ختم ہو گئی تھی۔ اور اس کے بعد سے اس جنگ کو سمیٹنے کا عمل جاری ہے۔ اور یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ افغان مزاحمت کاروں کی فتح پر منتج ہوئی ہے۔ دسمبر میں ایک اور امریکی دفاعی میگزین کی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ کابل کے علاوہ افغانستان کے جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی صوبوں میں کم و بیش 60 فیصد پولیس اور فوج کے اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اور باقی ماندہ بھی بمشکل ہی طالبان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے آثار کو نمایاں کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو جنوبی افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کو ان کے افغان مترجم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد اس مترجم کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ فروری میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض افواج کس طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔ فروری کے وسط میں مشرقی صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب میں ایک کارروائی کے دوران اتحادی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز مد مقابل آ گئیں۔ جس میں سات افغان پولیس اہلکار مارے گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کو “فرینڈلی فائر” قرار دیا ۔ اس طرح کے واقعات اب افغانستان میں معمول بنتے جارہے ہیں جس میں افغان سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی فوجی ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے ہیں۔ 30 جنوری کو خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر ہمام البلاوی کے خود کش حملے کے واقعے نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے میدان میں بھی امریکہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کو اس بات کا علم تو ضرور تھا کہ افغانستان میں قابض افواج کی شکست یقینی ہے۔ مگر 2009ء میں صورتحال اس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگی اس کا اندازہ شاید طالبان کو بھی نہیں تھا۔

“ایک اطلاع” کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ شکست امریکہ کے بجائے افغان مزاحمت کاروں کو ہوتی تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ پر کئی مہینوں تک بریکنگ نیوز کی طرح نشر کی جاتی۔ مگر اس وقت مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس “خبر” کو نشر کریں اور اس کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوباما انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلی عہدیداروں کی “آنیاں جانیاں” افغان جنگ کو سمیٹنے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اور اگر آئندہ چند دنوں میں نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان قیادت سے امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں تو یہ خبر کم از کم ہمارے لئے باعث حیرت نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے نامور تجزیہ کاروں کو اب اس بارے میں سوچنا اور لکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف افغان مزاحمت کاروں کی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت کی شکست ہوگی۔ اور تاریخ کا ادراک رکھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کی شکست کے اثرات اور مضمرات ہمہ گیر اور دور رس ہوا کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مجھے آمادہ تحریر کرنے والی کرشماتی شخصیت نے اپنے 25 فروری کے کالم میں اس بارے میں کیا لکھا ہے:

انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، طبعی عمر پوری ہوتے ہی انسانی ساختہ نظریہ فنا ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 70 سال میں سوشلزم کی نظریاتی کشش کم ہو چکی تھی اور وہ ریاستی طاقت کے سہارے کھڑا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ریاستی طاقت اس کی پشت سے ہٹی سوشلزم منہ کے بل گر گیا۔ چونکہ سوشلزم کا پھیلاؤ عالمگیر تھا اس لئے اس کی پسپائی بھی عالمگیر ثابت ہوئی۔

برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک سے افغانستان کے بارے میں جو اعلانات آ رہے ہیں وہ شکست ہی کا اظہار ہیں۔ چاہے وہ فوج واپس بلانے کا اعلان ہوں یا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار۔ مگر امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کا رویہ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ شکست کا اعلان تو کیا جاسکتا ہے مگر فتح کے تاثر کے ساتھ۔ درج ذیل آزاد نظم آپ اس بلاگ پر ایک بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دوبارہ پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ جو گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظر آنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصوف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں

Google Buzz

ملا برادر کی غیر متوقع گرفتاری، اسباب و محرکات

تحریر: زبیر انجم صدیقی

امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی “کامیابی” کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ “کامیابی” ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور عسکریت پسندوں سے رابطے کا ذریعہ، مذاکرات کار اور مزاحمت کے سب سے بڑے جرنیل (انسرجنسی کمانڈر) ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری۔ جس کے بعد جمعرات 18 فروری کو بغلان میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا عبدالسلام اور قندوز میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا میر محمد کو بھی پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری حقیقتاً اتنی نہیں تو اس سے کچھ کم درجے کی کامیابی ضرور ہوتی، اگر یہ اب سے چار یا پانچ مہینے پہلے ہوتی مگر اس وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لئے ان پاکستانی ذرائع ابلاغ نےاس خبر کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جتنا کہ وہ بالعموم نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں کو اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند دنوں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل امکانی صورتیں بنتی ہیں۔

ملا عبد الغنی کی گرفتاری طالبان کے سابق آپریشنل کمانڈر ملا داد اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ملا داد اللہ کو دو ہزار سات میں قندھار میں امریکی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب انہیں امیر المومنین ملا محمد عمر کی حکم عدولی کرنے پر ان کے منصب سے معزول کر کے عسکری کارروائیوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ ملا عمر کی تائید سے محروم ہونے کے بعد ملا داد اللہ کی قندھار کے قریب موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو فراہم کی تھیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اجازت کے بغیر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پر ملا عبد الغنی برادر کو دسمبر میں ان کے منصب سے علیحدہ کر دیا تھا۔ جس پر وہ ملا عمرسے ناراض ہو کر دسمبر میں ہی پاکستان آ گئے تھے۔ اور اس کے بعد سے ملا عمر نے تمام ذمہ داریاں طالبان دور حکومت میں قندھار کے گورنر ملا حسن رحمانی کو دے دی تھیں۔ اور ان دنوں ملا عمر کے بعد طالبان کے سے بڑے رہنما وہی ہیں اور وہی “ڈے ٹو ڈے” بزنس دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ ملا برادر۔

سترہ فروری کو مالدیپ کے صدر کے ترجمان نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ مالدیپ کے صدر نے جنوری میں لندن کانفرنس سے قبل طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی موجود تھے۔ دونوں جانب سے کے وفود گیارہ گیارہ ارکان پر مشتمل تھے۔ افغان مزاحمت کاروں کا گیارہ رکنی وفد تین حصوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔

اول، حزب اسلامی کا وفد (جس میں مالدیپ کے صدارتی ترجمان کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یار کا بیٹا بھی شامل تھا۔ حزب اسلامی کا دائرہ اثر مشرقی افغانستان ہے)

دوم، حقانی نیٹ ورک کا وفد (جنوبی مشرقی افغانستان میں مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ)

اور سوم، ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ملا عمر کی تائید حاصل نہیں تھی

اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر نے تیس جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ان کے حال ہی میں طالبان کی ” کوئٹہ شوریٰ” کے اہم رکن سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ رابطے کہاں اور کس رکن سے ہوئے ہیں۔ مگر سترہ فروری کو مالدیپ کے صدارتی ترجمان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کے بات یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مذاکرات کہاں اور کوئٹہ شوریٰ کے کس رکن سے ہوئے تھے۔

ہمارے اس تجزیے کو اس سوال پر غور کرنے سے بھی تقویت ملتی ہے کہ۔ پاکستان(آئی ایس آئی) طالبان کے کلیدی رہنما کو ایک ایسے وقت میں کیوں گرفتار کرائے گا کہ جب پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے لئے امریکہ اور طالبان سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پیشکش بلکہ خواہش ظاہر کی ہوئی ہے۔ اور جس کے لئےپاکستان کو طالبان کے جتنے اعتماد کی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ پاک فوج کم از کم ایسے وقت میں طالبان کو کوئی بڑا دھچکہ کیوں دے گی۔ اور اس اعتماد کو کیوں خطرے میں ڈالے گی جس کا مصالحت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان ہم آہنگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی ہے۔ جس وقت گیارہ ستمبر کا حملہ ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن ہی میں موجود تھے۔ تاہم حملوں کے بعد وہاں ان کے قیام کو توسیع دے کر ان سے طالبان کے اسٹریٹجک اہداف کی ایک فہرست حاصل کی گئی تھی۔ مگر “خدا کے فضل و کرم” اور اپنے”اسٹریٹجک اثاثے” کی حفاظت کے پیش نظر وہ سارے اہداف ڈمی ثابت ہوئے اور طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بڑا نقصان نہیں پہنچ سکا۔ ملا برادر اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کو اس تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے کلیدی ساتھی نہیں رہے تھے بلکہ اپنے مذاکراتی رابطوں کی وجہ سے ان کے لئے ایک بوجھ بن گئے تھے۔

گرفتاریوں کے اس غیر متوقع سلسلے کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دو نومبر دو ہزار دس کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے جس میں کامیابی کے لئے ڈیموکریٹس کو بہت ساری “فتوحات” اور”بڑی کامیابیوں” کی ضرورت ہے۔ جن میں اوباما انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی بھی شامل ہے۔ اسی لئے تیرہ فروری کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع مرجاہ میں شروع ہونے والے آپریشن مشترک کا “میڈیا ہائپ”‘(ابلاغیاتی بلبلہ) پیدا کیا گیا ہے۔ جسے کبھی گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوج کا سب بڑا آپریشن۔ کبھی طالبان کے زیر انتظام سب بڑی آبادی کو سر کرنے کا خطرناک معرکہ اور کبھی اوباما کی نئی” سرج پالیسی” کا لٹمس ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ جس قسم کی مہم پر پندرہ ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی مرجاہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں، طالبان اس قسم کی جنگ لڑ ہی نہیں رہے ہیں۔ وہ تو پورے افغانستان میں گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، وہ حملہ کرتے ہیں بھاگتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ وہ مرجاہ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اتحادی فوج کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں گے۔ اور”شدید مزاحمت” ہوگی۔ طالبان آپریشن سے کئی دن پہلے ہی مرجاہ سے نکل گئے تھے۔ اس لئے میرا خیال یہی ہے کہ چند دن کے بعد اتحادی فوج”شدید مزاحمت” کو”کچلتے”ہوئے۔ پچاسی ہزار کی آبادی پر کنٹرول قائم کر لے گی۔ جسے اوباما کی سرج پالیسی کی پہلی آزمائش کی “بڑی کامیابی” قرار دے دیا جائے گا۔ اور ملا برادر کی گرفتاری کے بارے میں جس طرح کی خبریں، بیانات اور تجزیے امریکی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون میں اضافے کا ثبوت۔ پاک امریکہ انٹیلیجنس تبادلہ ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ وائٹ ہائوس نے طالبان لیڈر کی گرفتاری کو مشترکہ کوششوں کی فتح قرار دے دیا۔ امریکی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب کے سب”بڑی کامیابی” کے نشے میں چور اورپاکستان کے تعاون کے لئے رطب اللسان ہیں۔ ذیل میں ہم صرف ایک امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے دے رہے ہیں۔

“American and Pakistani intelligence agents continued to press their offensive against the group’s leadership after the capture of the insurgency’s military commander”
“Together, the three arrests mark the most significant blow to the Taliban’s leadership since the American-backed war began eight years ago”.
“The three recent arrests — all in Pakistan — demonstrate a greater level of cooperation by Pakistan in hunting leaders of the Afghan Taliban than in the entire eight years of war”.

اوراس اقتباس پر تویہ کہنے کا دل چاہتا ہے کہ” اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔

Pakistani military and intelligence agencies, led by Gens. Ashfaq Parvez Kayani and Ahmed Shuja Pasha, may finally be coming around to the belief that the Taliban — in Pakistan and Afghanistan — constitute a threat to the existence of the Pakistani state.
“I believe that General Kayani and his leaders have come to the conclusion that they want us to succeed,” a senior NATO officer in Kabul said.

اس تجزیے کے بعد یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر براک اوباما کو فوجی انخلاء کے لئے افغانستان میں فوجی کامیابی کی نہیں بلکہ صرف کامیابی کے تاثر کی ضرورت ہے اور یہ ساری نئی پالیسی اس تاثر کو حاصل کرنے ہی کی سر توڑ کوشش ہے۔ یہ تو تھی غیر حقیقی”بڑی کامیابی” کا تجزیہ۔ اگلے بلاگ میں ہم آپ کو حقیقی بڑی خبر دیں گے۔

Google Buzz

مودودی دا کھڑاک

تحریر: زبیر انجم صدیقی

یہ نگارشات لکھنے کا محرک بی بی سی اردو پر آٹھ فروری کو شائع ہونے والا محمد حنیف کا بلاگ بنا ہے جس کا عنوان ہے ’’مودودی دا کھڑاک‘‘۔ میں خود بھی محمد حنیف کےاسلوب تحریر کا مداح ہوں اور ان کے بعض واقعات پر لکھے گئے کالم انتہائی شاندار ہیں جن کا مشاہدہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جا کر کیا جا سکتا ہے۔ ۔مگر ان کے اس مضمون نے ہمارے قلم کاروں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اور وہ ہے تحقیق و اکتشاف سے جی چرانا اور صلاحیتوں اور کاوشوں کو سہل کاموں تک ہی محدود رہنا۔ میرا مقصود ان انگارشات میں حنیف صاحب یا کسی بھی شخصیت کو موضوع بنانا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بات کرنا ہے جس کی نشاندہی محمد حنیف کا بلاگ پڑھ کر ہوئی ہے اسی لئے نمونے کے طور پر انہی کے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمایئے:

خدا کے لیئے فلم سے زیادہ ایک قوم کی پکار ہے جس میں ہر ایک کو بظاہر اپنا چہرہ دکھائی دیا، اپنے دل کی دھڑکن سنائی دی۔اس فلم کا سب سے مقبول ڈائیلاگ وہ ہے جو ہندوستانی اداکار نصیر الدین شاہ کمرہ عدالت میں کہتے ہیں۔
‘داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں۔’
یہ ڈائیلاگ جماعت اسلامی کے بانی حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا ہے۔ اور جب نصیر الدین شاہ اپنی پیٹ تک آئی داڑھی کو سہلا کر یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سینما ہال میں دیر تک تالیاں بجتی ہیں۔ راقم کو کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ تالیاں اسلام کے لیے بج رہی ہیں، داڑھی کے لیے، ان کے باہمی آسان تعلق کے لیے یا پھر نصیر الدین شاہ کے لیے۔ کیونکہ راقم یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہماری ہی زندگی میں یہ کیسے ہوا کہ ناصر ادیب کی بجائے ہمارے پاپولر ڈائیلاگ رائٹر حضرت مودودی قرار پائے

محمد حنیف کا مکمل بلاگ یہاں ملاحظہ کیجیے

جن لوگوں نے بی بی سی اردو پر محمد حنیف کا مذکورہ بلاگ پڑھا ہے ان پر یہ واضح ہو جائے گا محمد حنیف مولانا مودودی کے نظریات و افکار شدید اختلاف رکھتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ہر کسی کو کوئی بھی رائے رکھنے اور اس کا ابلاغ لوگوں تک کرنے کا حق حاصل ہے۔

حنیف صاحب نے مودودی کے بارے اپنی رائے کا اظہار ان کی بھد اُڑانے کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک اچھا مزاحیہ کالم ضرور ہے۔ مجھے بھی یہ کالم پڑھ کر بہت مزہ آیا ہے خاص طور پر عنوان ’’ مودودی دا کھڑاک ‘‘ کا جواب نہیں ہے۔ مگر میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مودودی صاحب کے افکار کا مقابلہ مزاحیہ کالموں اور لطیفوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سنجیدہ تحقیقی اور علمی کام کیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ براہ راست واقف ہیں۔ جن تحریر کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور ان کا دنیا کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جو فکری کام مولانا مودودی نے کیا ہے وہ بالکل اسی سطح کا ہے جو بیسویں صدی میں ان کے ہم عصر علامہ اقبال ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کر چکے ہیں۔ اگر آپ مودودی کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو فکری اور نظری دلائل کے ذریعے ان کا جواب پیش کریں۔ اور ان کے افکار کو غلط ثابت کر کے وہ ’’سحر‘‘ توڑ دیں جو انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کے لکھوکھا ذہنوں پر طاری کر رکھا ہے۔

جس وقت مولانا مودودی نے تحریر و تصنیف کا آغاز کیا اس وقت روس میں سرخ انقلاب آچکا تھا اور کارل مارکس کا معاشی و سیاسی نظریہ چہار دانگ عالم میں ذہنوں کو اپیل کر رہا تھا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں اشتراکیوں نے تختے الٹ دیئے تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اشتراکی تحریکیں موجود تھیں۔ اس لئے کہ کمیونزم ایک جامد اور مجرد نظریہ نہیں تھا بلکہ اپنے جلو میں ایک مکمل سیاسی و معاشی نظام لئے ہوئے تھا جس کا عملی تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس وقت مولانا مودودی نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کی مخالفت محض کمیونسٹ اور اشتراکی شخصیت کی بھد اڑا کر نہیں کی بلکہ کارل مارکس اور اینجل کے سارے کام کا جائزہ لکھ کر اس کو فکری اور نظری اعتبار سے رد کیا اور اس کے مقابلے میں اسلام کا معاشی اور سیاسی نظریہ اس طرح پیش کیا کہ اسلام کاوہ سیاسی نظام جو کئی صدیوں سے عملاً کہیں موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے متبادل اور زیادہ بہتر تصور کے طور پر واضح ہو گیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی کارل مارکس اور اشتراکی حکومتوں اور ان کے نظریات کی بھد اڑا سکتے تھے مگر ان ہتھکنڈوں سے مزاح تو پیدا کیا جاسکتا تھا مگر سوشلزم اور کمیونزم کے افکار کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ علامہ اقبال کی مثال ہی کو لے لیں وہ فلسفے کے طالب علم ہوئے، انہوں نے بھی مغربی مفکرین کی بھد اڑانے جیسے سہل کام کرنے کے بجائے Reconstruction of Religious Thoughts in Islamجیسا شہرہ آفاق مقالہ لکھ کر اپنے فلسفے کی عمارت اس طرح تعمیر کی کہ کانت، نطشے، ہیگل ، برکلےاور گوئٹے جیسےمغربی فلسفیوں کے فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے۔ انہوں نے افکار و نظریات کا مقابلہ افکارو نظریات ہی سے کیا۔ کسی بھی ذہن میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی آپ اس سے اچھی رائے اور خیال پیش کریں وہ اس رائے کا قائل ہو جائے گا۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا

کیونکہ بھد اڑانے سے مزاح تو پیدا ہو سکتا ہے مگر افکار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، افکار کا مقابلہ افکار کرتے ہیں ، نظریات کی جنگ نظریات ہی سے جیتی جا سکتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے انارکی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کسی ٹھوس اور علمی کا م کا جواب طعن و طنز سے کرنے سے خود اپنا ہلکا پن ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اور یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دینے والا اپنی بات میں کوئی سنجیدہ ، علمی اور تعمیری پیغام نہیں رکھتا۔ محسن انسانیتﷺ میں نعیم صدیقی کیا خوب لکھتے ہیں:

جو لوگ خود کوئی تعمیری نصب العین نہیں رکھتے وہ کسی تعمیری کام کو محض اس لئے نہیں ہونے دینا چاہتے کہ کہ ایسا ہونے سے خود ان کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے نمایاں ہونے لگتا ہے

ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ صرف محمد حنیف ہی پہ کیا موقوف تمام اخبارات کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگاروں نے سنجیدہ معاملات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔ بقول اقبال:

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

Google Buzz