تحاریر برائے ’وکی نامہ‘ زمرہ


وکی نامہ

2007ء کے اواخر میں مختلف ساتھیوں کی تحریک میں نے انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت بلاگنگ کے بارے میں “ککھ” نہیں پتہ تھا اور نہ ہی اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔ لیکن جتنے اچھے ساتھی اس میدان میں میسر آئے اور ان کی حوصلہ افزائی اور بلاگنگ سے خود کو پہنچنے والے فوائد کے باعث اسے نہ صرف مستقل چلا پایا بلکہ تحریروں کی “ڈبل سنچری” تک کر ڈالی۔

اب تک میرے بلاگ پر پیش کی جانے والی 200 تحاریر پر تقریباً 1750 تبصرے ہو چکے ہیں جو میری توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پر بلاگ کا حوالہ بہت زیادہ نہیں دیتا لیکن جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں یہی کہتا ہوں کہ میرے بلاگ پر تحریر سے زیادہ تبصرے سیر حاصل ہوتے ہیں، اور یہ سب ان تبصرہ نگاروں کی بدولت ہے جو اپنا قیمتی وقت لگا کر کسی موضوع کر قابل گفتگو سمجھتے ہیں۔

اس “ڈبل سنچری” کی خوشی میں نے اپنے بلاگ پر ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور وہ ہے وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کی بلاگ پر منتقلی تاکہ بلاگ دنیا سے وابستہ افراد اپنے قیمتی تبصروں کے ذریعے ان مضامین کو مزید بہتر بنا سکیں یا پھر نت نئے مضامین کی راہ دکھا سکیں۔ ابھی گزشتہ بلاگرز ملاقات میں ایک مرتبہ پھر کئی بلاگرز نے مطالبہ کیا کہ میں اپنے لکھے گئے وکیپیڈیا کے مضامین کو اپنے بلاگ پر منتقل کروں اور اس ضمن میں سب ڈومین بنا کر اس پر کام کا آغاز کرنے کی تجویز دی گئی۔ تکنیکی دشواریوں کے باعث میں نے عذر تراشا کہ میرے لیے یہ ممکن نہیں لیکن اردو بلاگرز بھی بڑے سیانے نکلے، عمار ضیاء خان نے چند ہی گھنٹوں میں میرے بلاگ پر سب ڈومین بنا کر اس میں ورڈپریس انسٹال کر کے حوالے کر دیا کہ اب آپ جانیں اور آپ کا نیا بلاگ۔

تو صاحبو! اب ہم پر ایک اور بلاگ لاد دیا گیا ہے “وکی نامہ” جہاں میں فی الوقت تو وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کو پیش کرنے میں جتا ہوا ہوں لیکن ایک مرتبہ بڑی تعداد میں مضامین منتقل ہو جانے کے بعد میرا ارادہ اس کو بلاگنگ کی دنیا میں اردو وکیپیڈیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنے کا ہے۔ لیکن فی الوقت اسے صرف مضامین تک ہی محدود رکھوں گا۔

وکی نامہ کو بہتر بنانے کے لیے مجھے قارئین کی مدد ہمیشہ کی طرح اب بھی درکار ہوگی۔ امید ہے کہ ساتھی اس سلسلے میں ضرور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے۔

ابو شامل کا وکی نامہ

Google Buzz

پاکستان کی سیاسی جماعتیں- مدد درکار

اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں پر کام کرنے کے دوران موجودہ و سابق معروف قومی سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی ضرورت بھی پڑی اور بہت سارے پرچم وکی میڈیا کامنز میں مل گئے لیکن چند جماعتیں ایسی بھی تھیں جن کے پرچم موجود نہیں تھے۔ “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے” کا عزم لے کر ناموجود پرچم خود بنانے کی ٹھانی۔ ابتدائی طور پر جن پرچموں کی نشاندہی کی گئی، انہیں معروف اوپن سورس ویکٹر گرافکس سافٹ ویئر انک اسکیپ پر بنایا گیا۔ نتائج آپ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں، یہ صرف امیچز ہیں، آپ پرچم پر کلک کر کے ویکٹر ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اب اس سلسلے کو کچھ مزید آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ اگر بلاگ قارئین پہلے وکی میڈیا کامنز کے اس زمرے پر ایک نظر ڈالیں، یہاں میرے اور دیگر وکی صارفین کے تیار کردہ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے موجود ہیں۔ اس فہرست کو دیکھنے کے بعد براہ مہربانی نشاندہی کریں کہ وہ کون سی معروف قومی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے پرچم موجود نہیں ہیں اور بعد میں ان پرچموں کا کوئی بھی نمونہ پیش کر دیں ، چاہے وہ کسی بھی فارمیٹ میں ہو، تو اس کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ بلاگ کے قارئین اس سلسلے میں میری اور اردو وکیپیڈیا کی ضرور مدد کریں گے تاکہ اردو کی ترویج کو ہر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے اور پاکستان کے حوالے سے معلومات کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکے۔

Google Buzz

بلاگ بھگوڑے کی سرگرمیاں

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے کا دورانیہ اس مرتبہ کچھ ایسا بڑھا ہے کہ بلاگنگ سے توجہ بالکل ہٹ گئی ہے۔ گو کہ پہلے بھی کبھی بہت زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ بلاگ نہيں لکھا لیکن ایسے طویل وقفے پہلے کبھی نہیں آئے جو اب آ رہے ہیں۔ امید ہے کہ وکیپیڈیا پر جاری منصوبے جلد تکمیل کو پہنچیں گے اور بلاگ کی جانب کچھ توجہ کرنے کا وقت ملے گا۔ دوسری طرف منظرنامہ ایوارڈ کے لیے ووٹنگ کا بھی آغاز ہو چکا ہے اور ووٹنگ کے خاتمے میں محض چند روز باقی ہیں۔ اتنے اعلی بلاگرز کی فہرست میں خود کو پا کر بہت خوشی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اپنی نالائقی پر شرمندگی بھی۔ تاہم میری التجا یہی ہوگی کہ حقدار کو اس کا حق ضرور دیں اور دوستیاں نبھانے کے بجائے حقدار کو ووٹ دیں۔

چلیے اب یہاں بلاگ پر آ ہی  گئے ہیں تو وکیپیڈیا پر اپنے لکھے گئے کچھ تازہ ترین مضامین سے ہی آگاہ کرتے جائیں۔ میں نے اس حوالے سے گزشتہ تحریر میں بتایا تھا کہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات کا حال بہت برا ہے اور اس لیے اردو وکیپیڈیا پر میں نے اور چند دیگر ساتھیوں نے ارادہ کیا ہے کہ اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں کو بہتر شکل دی جائے اور انہیں انگریزی والوں کے لیے رہنما بنایا جائے۔ اسی لیے آج کی فہرست میں پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات زیادہ ہیں۔ امید ہے بلاگ کے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ گزارش بھی ہے کہ اگر اغلاط نظر آئیں یا کسی معلومات کے اضافے کا ارادہ ہو تو بلا جھجک ان مضامین میں اضافہ فرماتے جائیں۔ ان مضامین میں سے چند ایسے ہیں جن میں دیگر وکی ساتھیوں کا تعاون بہت حد تک شامل رہا ہے۔

بلاگ ماہرین میری مدد کریں کہ یہاں میرے بلاگ پر چند مقامات پر بجائے متن کے سوالیہ نشان بنے آ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بیٹھے بیٹھے نجانے کہاں سے آ گیا۔ اسے حل کرنے میں میری کچھ مدد کریں، مشکور ہوں گا۔

پاکستان

اہم سرکاری عہدے

سیاسی جماعتیں

انتظامی تقسیم

قومی شاہراہیں

کراچی کے قصبہ جات

متفرق مضامین

Google Buzz

وکیپیڈیا سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے وکیپیڈیا پر سرگرمیاں کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں اور بلاگ پر توجہ کچھ کم ہوئی ہے، کبھی کبھی یہ بھی سوچا کہ شاید خاک وہیں پہنچ گئی ہے جہاں کا خمیر تھا :) کیونکہ میں نے انٹرنیٹ پر اردو کے لیے اپنی سرگرمیوں کا آغاز وکیپیڈیا ہی سے کیا تھا لیکن پھر بلاگ قارئین کا خیال آیا تو یہاں کا رخ کرنے کی جانب مائل ہوا، کیونکہ میں اپنے بلاگ کا اصل اثاثہ ان قارئین کو سمجھتا ہوں جو اپنے قیمتی تبصروں سے نوازتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں چند ساتھی ایسے سامنے آئے جو وکیپیڈیا کا رونا روتے رہے۔ حیرت بھی ہوتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے، شاید غصہ بھی آتا ہو لیکن کیا کیجیے؟۔ تقریبا تمام ہی لوگ اردو وکیپیڈیا پر “مشکل اردو” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ میری بلاگ پر گزشتہ تحاریر کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے پر کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ دیکھتے ہیں معترضین کیا انقلابی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ لیکن اب وہ بڑے بڑے معترض حضرات وکیپیڈیا پر نہیں دکھائی دے رہے جو اپنے بلاگز پر یا بالمشافہ و آن لائن ملاقاتوں میں وکیپیڈیا کی “زبوں حالی” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں اور زبان کے غم میں مرے جاتے ہیں۔ میرا ان تمام ساتھیوں سے مطالبہ ہے کہ آئیے اردو سے اپنے لگاؤ کو ظاہر کیجیے، آپ کے لیے میدان کھلا ہے، اپنے قلم کا جادو دکھائیے اور بتائیے کہ اردو اب بھی ایک زندہ زبان ہے۔ لیکن شاید یہ پکار بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوگی۔

میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اصطلاحات کے مسئلے سے دور ہٹ کر ایسے ہزاروں موضوعات ہیں جن پر اردو میں معلومات منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے لیکن شاید لوگوں کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا شوق ہے۔ ایک بہت بڑے اردو فورم نے بھی اپنی مسجد الگ بنانے کی کوشش کی تھی اور اردو وکیپیڈيا کے مقابلے پر ایک الگ “انسائیکلوپیڈیا” سجانے کا اعلان کیا لیکن آدھی اینٹ ہی اٹھا پائے اور آج ان کا ڈومین تک بند ہو چکا ہے۔ بہت اچھا ہوتا اگر ان کی کوششیں ایک مشترکہ منصوبے پر لگتیں لیکن انا اور ضد کا کیا کیا جائے؟

کوئی مجھے یہ بتائے کہ متنازع اصطلاحات کے حامل مضامین کی تعداد اردو وکیپیڈیامیں کتنی ہے؟ 10 فیصد؟ 20 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 30 فیصد؟ باقی 70 فیصد کام کو کتنا سراہا گیا؟ اس سلسلے میں کام کرنے والوں کی کتنی حوصلہ افزائی کی گئی؟ میرے علاوہ تو کوئی اور بلاگ بھی نہیں لکھتا کہ اسے اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملے۔ کبھی کسی “اردو کے عاشق” نے وکیپیڈیا پر جا کر ان کی کوششوں پر انہیں سلام پیش کیا؟ کبھی مسجد، افغانستان، شام، عراق، تونس، لبنان، صلیبی جنگیں، غزوۂ بدر، قرآن مجید کی سورتوں پر مضامین  دیکھنے کے بعد کسی کو توفیق ہوئی کہ ان ہزار ہا الفاظ پر مشتمل معلومات کے مصنفین کو دو لفظ خراج تحسین کے کہہ دیں۔ باقی اصطلاحاتی انتشار کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے تو ہر شخص اپنی قابلیتیں جھاڑتا دکھائی دیتا ہے۔ اصطلاحات پر تحفظات مجھے بھی ہیں، اور میں ان کا اظہار بھی بارہا وکیپیڈیا پر اور بلاگ پر کر چکا ہوں، لیکن اس کا ہر گز یہ طریقہ نہیں ہے جسے ہمیشہ ہماری اردو کی “عاشق” برادری استعمال کرتی ہے کہ اردو وکیپیڈیا اور اس کے منتظمین و صارفین کو تذلیل کا نشانہ بنایا جائے۔ چند دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ سنجیدہ انداز میں اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی بلکہ چند نے عملا وکیپیڈيا پر حصہ ڈالنا بھی شروع کیا لیکن بیشتر ساتھی ایسے ہیں جو فورا ہی دامن جھاڑ کر اٹھ جاتے ہیں کہ وکیپیڈیا والے تو اردو کی ایسی تیسی پھیر رہے ہیں۔ اور یہ ایک جملہ کہہ کر وہ مکمل طور پر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور اس اہم منصوبے کو پیروں تلے روند کر گزر جاتے ہیں۔

بہرحال اس جذباتی تقریر کے بعد مدعا یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے اردووکیپیڈیا پر مصروف ہوں، بلاگ پر تحاریر بہت کم ہو گئی ہیں، جس کا احساس ہے لیکن طبیعت کی ناسازی فارغ وقت میں بلاگ کے لیے کچھ لکھنے کا موقع نہيں دے رہی۔ کوشش کروں گا کہ بلاگ کے لیے جلد از جلد کچھ لکھ پاؤں۔  فی الحال بلاگ کے کرم فرما وکیپیڈيا پر لکھے گئے تازہ مضامین ملاحظہ کریں۔

بلاد و اماکن

  • آبادان‏ – عراق کی سرحد کے قریب واقع ایک ایرانی شہر
  • ابوجا‏ – نائجیریا کا موجودہ دارالحکومت، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قائم کیا گیا شہر
  • ارومچی‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا دارالحکومت
  • ازنیق‏ – ترکی کا ایک قدیم شہر جو یونانی عہد میں نیقیہ کہلاتا تھا
  • اسٹینلے‏ – جزائر فاکلینڈ کا دارالحکومت
  • بلغراد‏ – سربیا کا دارالحکومت
  • جوہانسبرگ‏ –  جنوبی افریقہ کا ایک اہم شہر
  • عین شمس‏ – مصری دارالحکومت قاہرہ کا ایک قدیم علاقہ
  • کاشغر‏‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا ایک اہم شہر
  • کویت شہر‏ – کویت کا دارالحکومت
  • ماپوتو‏ – موزمبیق کا دارالحکومت
  • ملبورن‏ – آسٹریلیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ، کھیلوں کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف
  • ممباسا‏ – کینیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ
  • موریہ‏ – یونان کا جزیرہ نما
  • نواکشوط‏ – موریتانیہ کا دارالحکومت
  • ہرارے‏ – زمبابوے کا دارالحکومت

جغرافیہ

  • برقہ‏ – لیبیا کا ایک جزیرہ نما جسے انگریزی میں سائرینیکا (Cyrenaica) کہا جاتا ہے
  • جربہ‏ – بحیرۂ روم میں تونس کا ایک جزیرہ
  • کوہ کینیا‏ – کینیا کا بلند ترین اور افریقہ کا دوسرا سب سے بلند پہاڑ، عالمی ثقافتی ورثے میں شامل
  • المغرب ‏‏ – جغرافیائی اصطلاح، مغربی افریقہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، عموما مراکش کو کہا جاتا ہے

پاکستان

سندھ کے اضلاع

اس مرتبہ پاکستان کے اضلاع کے بارے میں مضامین کو مکمل کرنے کی ایک مہم کا آغاز کیا گیا اور ابتدائی طور پر سلمان رضوی صاحب نے پنجاب کے اضلاع اور میں نے سندھ کے اضلاع پر مختصر مضامین لکھنے کی ٹھانی۔ میرے لیے پہلا اور کٹھن مرحلہ سندھ کے اضلاع کے درست اور تازہ ترین نقشے اور ان کی درست معلومات کی دستیابی کا تھا جس میں کافی وقت صرف ہوا بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ درست نقشوں کی تیاری نے اس مرتبہ کافی وقت ضایع کروایا بہرحال سندھ کے اضلاع کے درست ترین نقشے اور معلومات کے ساتھ پہلی مرتبہ پوری معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہوئی ہے۔ یہ معلومات نہ ہی حکومت سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور نہ ہی ضلعی حکومتوں کے مضامین میں بلکہ انگریزی وکیپیڈیا پر بھی غلط معلومات کی بھرمار ہے۔

علاوہ ازیں ضلع کراچی اور اس کے قصبہ جات (ٹاؤنز) پر مضامین لکھنے کا آغاز کیا گیا ہے اور ابھی تک تین مضامین لکھے جا چکے ہیں:

متفرق

تاریخ

  • جنگ آزادی بنگلہ دیش ‏‏ – بنگلہ دیش کی پاکستان سے  علیحدگی کے لیے لڑی جانے والی جنگ، مضمون ابھی ابتدائی صورت میں ہے

ترکیات

Google Buzz

اردو وکیپیڈیا پر تازہ سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے بلاگ سے غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ بہت عرصے بلکہ سالوں کے بعد اردو وکیپیڈیا پر بھرپور انداز میں متحرک ہوا اور کافی مضامین تحریر کیے۔ فی الوقت مضامین لکھنے کا یہ سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے، سنچری کے بعد ناٹ آؤٹ اننگ جاری ہے۔ ذیل میں حال ہی میں تحریر کردہ مضامین کی فہرست پیش کر رہا ہوں، امید ہے بہت سارے قارئین کے لیے کارآمد ہوں گے۔ مضامین کی یہ فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہے۔ چند مضامین صرف ابتدائی صورت میں ہیں، ان میں وقتا فوقتا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ اس مرتبہ یہ فہرست کچھ زیادہ طوالت کا شکار ہے اس لیے اگر کوئی پڑھ پڑھ کر تھک جائے تو اس سے پیشگی معذرت۔

تاریخ

  • امارت بخارا – وسط ایشیا کی ایک ریاست، 1785ء تا 1920ء
  • پرل ہاربر حملہ – دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم معرکہ، جنگ کا پانسہ پلٹنے میں اس معرکے کا اہم کردار تھا۔
  • جنگ ویت نام – دور جدید کی ایک اہم جنگ، ویت نام میں اشتراکیوں کی فتح اور موجودہ ریاست کا قیام
  • چنگ خاندان – یا مانچو خاندان، چین پر حکومت کرنے والا آخری خاندان
  • خانان خیوہ – وسط ایشیا کی ایک سابق ریاست، 1511ء تا 1920ء
  • خدیو – عثمانی عہد میں مصر کے والی کا لقب۔
  • سیاہ موت – قرون وسطی میں یورپ میں طاعون کی ایک زبردست وبا، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث Black Death کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
  • عظیم کھیل – 19 ویں و 20 ویں صدی میں وسط ایشیا پر بالادستی کے لیے روس اور برطانیہ کے درمیان مسابقت کے بارے میں استعمال ہونے والی اصطلاح
  • کساد عظیم – 1930ء کی دہائی میں امریکی و عالمی معیشت کا ایک زبردست بحران Great Depression
  • محاصرۂ مالٹا – عثمانی ترکوں کی جانب سے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا کا ناکام محاصرہ
  • معاہدۂ ورسائے – پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور اتحادی قوتوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ
  • نازی جرمنی – دوسری جنگ عظیم سے قبل نازی پارٹی اور ایڈولف ہٹلر کے زیر اقتدار جرمنی
  • نشاۃ ثانیہ –قرون وسطی میں جہالت کے اندھیروں سے یورپ کی کروٹ، مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز

شخصیات

بلاد و اماکن

  • برسلز – بیلجیئم کا دارالحکومت
  • بیونس آئرس – ارجنٹائن کا دارالحکومت
  • ترکی – ایشیا و یورپ کے سنگم پر واقع ایک اہم ملک
  • تل ابیب – اسرائیل کا اہم ترین شہر
  • تونس شہر – تونس کا دارالحکومت
  • الجزائر شہر – الجزائر کا دارالحکومت
  • ریو دے جینیرو – برازیل کا مشہور شہر
  • ساؤ پالو – برازیل کا سب سے بڑا شہر
  • طرابلس، لیبیا – لیبیا کا دارالحکومت
  • قارص – ترکی کا ایک شہر
  • قرطاجنہ – فونیقیوں کا قائم کردہ قدیم شہر، آج صرف کھنڈرات کی صورت میں باقی ہے
  • کنشاسا – عوامی جمہوریہ کانگو کا دارالحکومت
  • کیپ ٹاؤن – جنوبی افریقہ کا اہم شہر و بندرگاہ
  • لاس اینجلس – امریکہ کا مشہور شہر، تعلیمی و تفریحی لحاظ سے دنیا میں ممتاز مقام کا حامل
  • لاس ویگاس – امریکہ کا شہر، قمار بازی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور
  • لاگوس – نائجیریا کی اہم بندرگاہ و سابق دارالحکومت
  • ماسکو – روس کا دارالحکومت
  • مالدووا – مشرقی یورپ کا ایک ملک
  • میکسیکو شہر – میکسیکو کا دارالحکومت
  • نیروبی – کینیا کا دارالحکومت

تعمیرات

متفرق

جغرافیہ

Google Buzz

Wikipedia meetup “Karachi 1″

18 اکتوبر 2009ء بروز اتوار

بمقام میک ڈونلڈز، نجیب سینٹر، طارق روڈ، کراچی

شرکاء:

  1. ثاقب قیوم (صارف وکی میڈیا کامنز)
  2. رابعہ ظفر (صارف انگریزی وکیپیڈیا)
  3. فہد احمد کیہر (منتظم اردو وکیپیڈیا)
  4. محمد علی مکی (صارف اردو وکیپیڈیا)
  5. ندیم احمد اعوان (صارف اردو وکیپیڈیا، مقامی صحافی)
  6. جمال عبد اللہ عثمان (مقامی صحافی، کالم نگار)

لائحہ عمل:

  • شرکاء کا تعارف
  • وکیپیڈیا کے بارے میں آپ کے تاثرات، تجربات
  • وکی پروجیکٹ پاکستان
  • اردو وکیپیڈیا
  • پاکستان میں وکیپیڈیا کی تشہیر تاکہ ملک میں آزاد معلومات کے نظریے کو پھیلایا جا سکے
  • سوالات و جوابات
  • اگلی ملاقات

وکیپیڈيا کے بانی جمی ویلز کا پیغام برائے شرکائے “کراچی 1″

بہت خوب! حال ہی میں میرا چین میں پاکستانی سفیر کے گھر جانا ہوا۔ میرے ايک دوست بھی ہیں جو پاکستان میں ٹی وی پر کام کرنے والے صحافی ہیں۔ اس پہلے اجلاس کا سن کر بہت خوشی ہوئی اور میں بہت مشتاق ہوں کہ اگلے سال میں کسی وقت پاکستان جاؤں اور ادھر کے وکیپیڈیا گروہ سے ملاقات کروں۔ یہ بڑا اچھا ہوگا کہ پاکستانی وکیپیڈیا گروہ متحرک و منظم ہو جائے تاکہ ہم ایسی ملاقاتوں سے بذریعہ تشہیر (پریس کوریج) زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے اور مختلف امکانات، خصوصاً ان پر جو اردو وکیپیڈیا سے متعلق ہوں، اپنی توجہ مبذول کر سکے۔ میرے لیے سب سے قابلِ توجہ موضوعات میں ہندی و اردو وکیپیڈیا کا آپس میں تعاون ہے کیونکہ دونوں زبانیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ خود آپ کے لیے زیادہ قابلِ توجہ موضوعات کون سے ہیں۔

تعارف:

ابتداء میں شرکاء نے ذاتی تعارف پیش کیا اور وکیپیڈیا کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے اور بتایا کہ وہ کس طرح وکیپیڈیا سے متعارف ہوئے اور بعد ازاں کیسے اس میں شمولیت اختیار کی۔

مسائل:

انگریزی وکیپیڈیا پر (تخریب کاری) vandalism کا مسئلہ ، نئے صارفین کے لیے کام میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

ہندوستانی وکی صارفین کی بہت بڑی تعداد کے باعث پاکستانی صارفین کے لیے کام کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔ افرادی قوت کی کمی وکی پروجیکٹ پاکستان کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث ایک نئے صارف کے لیے چومکھی جنگ لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی بہ نسبت اسے اردو وکیپیڈيا پر زیادہ آسان میدان میسر ہے جہاں وہ با آسانی اپنا کام کر سکتا ہے۔

اردو وکیپیڈيا پر لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے درپیش مسائل سے زیر بحث آئے۔ جن پر شرکاء کو اس ضمن میں تکنیکی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے بہت سارا مواد تفصیل کا طالب ہے جبکہ اردو وکیپیڈیا پر تو صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے، وہاں پاکستان کے حوالے سے مواد بہت زیادہ موجود نہیں۔ کئی پاکستانی صدور، وزرائے اعظم اور اہم رہنماؤں پر مقالے سرے سے موجود نہیں حتیٰ کہ تقسیم ہند اور تحریک پاکستان کا مقالہ بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کے علاوہ پاکستان پر جغرافیائی مضامین کی بھی بہت کمی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر کام کیا جائے۔

انگریزی پر پاکستان کے حوالے سے اچھے مضامین کی کمی ہے۔ پورے وکی پروجیکٹ پاکستان میں ایک بھی “منتخب مقالہ” (Featured Article) نہیں ہے۔

ہندی سے تعاون کرنے کی جو رائے جمی ویلز کی جانب سے پیش کی گئی ہے اس پر عملدرآمد کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ہندی وکیپیڈیا پر سنسکرت کی مشکل ترین اصطلاحات بالکل اسی طرح استعمال کی جا رہی ہیں جس طرح اردو وکیپیڈیا پر عربی اصطلاحات۔

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں، وہ یا تو خود بلاگر ہیں یا بلاگرز سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نہیں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ درپیش آ رہا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر تمام تر مسائل کے باوجود ہمیں اردو کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا، گو کہ زیادہ موثر ہتھیار ہے، کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا کی اہمیت ہمارے لیے اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایک کم پڑھے لکھے معاشرے کے لیے اردو زبان کا مواد زیادہ موثر ہوگا۔

اردو وکیپیڈیا پر زیر استعمال اصطلاحات کے حوالے سے شرکاء نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سائنسی و تکنیکی مضامین کے علاوہ ایسے بہت سے اہم موضوعات ہیں جن پر تنازع پیدا کیے بغیر لکھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر تاریخ ہند و پاک پر زور دیا گیا۔

تجاویز:

اخبارات میں وکیپیڈیا پر مضامین شایع کروانے چاہئیں، خصوصاً اس صورتحال میں مضامین کی اشاعت کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اخبارات انگریزی و اردو وکیپیڈیا سے بڑی حد تک استفادہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے نکلنے والے جرائد میں وکیپیڈيا کے حوالے سے مضامین کی اشاعت کے امکانات بہت زیادہ ہیں اس لیے اس جانب توجہ کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین وکیپیڈيا کی جانب متوجہ ہوں خصوصاً اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے۔ اس سلسلے میں اسپائیڈر اور انٹرنیٹ میگزین کے نام خاص طور پر لیے گئے جبکہ اردو وکیپیڈیا کے لیے گلوبل سائنس وغیرہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں قومی اخبارات میں شایع ہونے والے آئی ٹی کے صفحات کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وکیپیڈیا کا معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کا نظریہ زیادہ سے زیادہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح وکیپیڈیا کو نیا خون بھی میسر آ سکتا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا کے صارفین مقامی کمیونٹی میں متحرک ہوں، خصوصاً بلاگرز کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستانیوں کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پروجیکٹ پاکستان کئی ماہ سے غیر فعال ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنا کر اردو ویب سائٹس اور بلاگز پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ پاکستان میں معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کے نظریے کی ترویج کا حصہ بنیں۔

وکیپیڈیا پر کام صرف اور صرف مضامین لکھنا نہیں بلکہ زمرہ جات (کیٹگریز) کی درستگی، روابط (لنکس) ڈالنا، املاء کی غلطیاں درست کرنا، تصاویر شامل کرنا اور دیگر چھوٹے موٹے کام بھی اپنی جگہ بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کو انجام دینے کے لیے بھی خاص طور پر اردو وکیپیڈیا کو افراد کی ضرورت ہے، جبکہ انگریزی میں پروجیکٹ پاکستان وغیرہ کو متحرک کرنے کے لیے صارفین کی اشد ضرورت ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اردو وکیپیڈیا زیادہ موثر ہے نسبتا انگریزی وکیپیڈيا کے۔ کیونکہ انگریزی میں مضامین پہلے سے تیار شدہ ہیں، جن میں آپ ایک حد تک اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اردو میں تخلیقی مواد پیش کرنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا ابھی تعمیری مراحل میں ہے اور اس پر بہت زیادہ مواد کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی ترویج کے لیے ہندی وکیپیڈیا والی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے جس کے مطابق انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کسی بھی مضمون پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ابتدائیے کا اردو ترجمہ اردو وکیپیڈیا پیش کریں گے۔ اسی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے آج ہندی وکیپیڈیا جو کچھ عرصہ قبل اردو سے بہت پیچھے تھا، اب کہیں آگے نکل چکا ہے۔

فیصلے:

انگریزی وکیپیڈیا پر مضامین میں کام کرنے والے افراد کم از کم تعارفی حصہ اردو میں ترجمہ کر کے اردو وکیپیڈیا کے لیے پیش کریں گے۔

عربی وکیپیڈیا سے تراجم اردو وکیپیڈيا پر پیش کیا جائیں گے۔

اردو وکیپیڈيا پر پاکستان کے حوالے سے موجودہ مضامین میں اضافہ کیا جائے گا اور اہم مضامین کی تخلیق کے لیے منصوبہ تشکیل دیا جائے گا۔

پاکستان کے حوالے سے تصاویر کی کمی ہے۔ جو ساتھی اپنی تصاویر دائرۂ عام میں دینا چاہتے ہیں، وہ اس سلسلے میں ثاقب قیوم کی مدد کریں گے۔

اگلی ملاقات موجودہ میٹنگ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی روشنی میں جلد از جلد طے کی جائے گی۔

ویب سائٹس/بلاگز پر اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنائے جائیں گے۔

انگریزی وکیپیڈیا سے وابستہ افراد کمیونٹی میں متحرک ہوں تاکہ بلاگرز اور دیگر انٹرنیٹ صارفین کو انگریزی وکیپیڈيا پر لکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

سوالنامہ:

آخر میں شرکاء سے سوالنامہ بھروایا گیا جس سے اندازہ لگایا گیا کہ صارفین وکیپیڈیا کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔

Google Buzz