تحاریر برائے ’کتابیات‘ زمرہ


20 ویں صدی کی 100 عظیم مسلم شخصیات

انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ایک کتاب کے بارے میں علم ہوا جس کا نام Hundred Great Muslim Leaders of the 20th Centuryہے۔ یہ کتاب ہنگامہ خیز 20 ویں صدی میں ظہور پذیر ہونے والے ان 100 عظیم مسلم رہنماؤں کی حیات و خدمات کے مختصر تذکرے کی حامل ہے جن کے افکار و کارنامے آج 21 ویں صدی میں بھی دنیا بھرکے مسلمانوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کتاب بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے Institute of Objective Studies نے شایع کی ہے۔ 485 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو محمد منظور عالم اور ظہور احمد خان نے ترتیب دیا ہے گو کہ کتاب کے اصلی نسخے یا متن تک رسائی نہیں لیکن اس کی جو فہرست ملی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب دور جدید میں مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے حوالے سے سیر حاصل معلومات کا باعث ہوگی۔ فی الوقت صرف اس کتاب کی فہرست پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ (تمام نام حروف تہجی کے اعتبار سے ہیں نہ کہ شخصیت کی اہمیت کے اعتبار سے) (more…)

Google Buzz

کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء

کراچی کی سالانہ اہم سرگرمیوں میں سے ایک “کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء” پانچ دن تک اپنی رونقیں جمائے رکھنے کے بعد پیر 14 دسمبر کو اختتام کو پہنچا۔ یہ کراچی کے ادبی حلقوں اور کتب کے شائقین کے لیے ایک سالانہ اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے حجم کے اعتبار سے یہ گزشتہ تمام سالوں سے زیادہ بڑا تھا۔ اس میلے میں کراچی والے جس ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں وہ کتاب کے ساتھ اُن کے لازوال رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔

کتب میلے میں بیرون ملک سے صرف ایران، سعودی عرب اور بھارت کے چند ناشرین نے شرکت کی۔ گزشتہ دو سالوں سے کتب میلے میں بیرون ممالک کے ناشرین کی شرکت انتہائی کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔

کتب میلے میں سب سے بڑا اسٹال لبرٹی بکس، پیراماؤنٹ پبلشنگ انٹرپرائز اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کا تھا، جنہوں نے اپنی کتب پر 10 سے 50 فیصد تک رعایت دے رکھی تھی۔ ان کے علاوہ ویلکم بک پورٹ، فضلی سنز، شیخ شوکت اینڈ سنز، دارالسلام، فیروز سنز، جہانگیر بکس، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اقبال اکادمی، دعوۃ اکیڈمی، چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈز، ادارۂ معارف اسلامی اور دیگر کئی ناشران کتب کے اسٹال شائقین و حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ان کے علاوہ سندھیکا اکیڈمی نے پہلی مرتبہ سندھی کی کتب کا اسٹال لگایا۔ علاوہ ازیں کراچی اسکول آف آرٹس کی آرٹ گیلری بھی حاضرین کے لیے کشش کا باعث بنی رہی۔ ہال نمبر 1 میں ایک ایکٹیویٹی سینٹر بھی موجود تھا جہاں بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کے لیے مختلف پروگرامات منعقد کیے گئے۔ کتب کی تقاریب رونمائی اور پذیرائی بھی یہیں منعقد کی گئیں۔ اسی ہال میں بچوں کے ادب اور ڈیجیٹل کتب کے حوالے سے کئی اسٹال موجود تھے جن میں لائٹ ہاؤس کا ای-میگزین اور ٹریو وژن کی بچوں کے لیے سی ڈیز اور ڈیجیٹل سفرنامے بھی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔

اِس مرتبہ میرا اہل خانہ کے ہمراہ کتب میلے میں جانے کا پروگرام بنا اور میلے کے تیسرے روز سہ پہر سے رات گئے تک کا وقت وہیں گزرا۔ اگلا روز یعنی اتوار بھی کتب میلے میں دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ گزرا یوں چھٹی کے دونوں ایام کتابوں کی قربت و رفاقت میں گزرے۔

کتب میلے میں جو کتابیں خریدیں، ان کی فہرست یہ ہے (بلحاظ حروف تہجی):

  • اسباب زوال امت، علامہ شکیب ارسلان
  • اسلام اور سیکولر ازم، خالد نذیر
  • اسلام اور عالمگیریت، ڈاکٹر خالد علوی
  • اسلام سے وابستگی کے تقاضے، ڈاکٹر فتحی یکن
  • اسلام کی دس امتیازی خصوصیات، علامہ سید رشید رضا مصری
  • اقبال اور مسلم تشخص، ڈاکٹر خالد علوی
  • آکسفرڈ اٹلس فار پاکستان، ایڈیشن 2008ء
  • بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، ڈاکٹر ام کلثوم
  • تنقیحات، سید ابو الاعلی مودودی
  • ثقافت کا اسلامی تصور، ڈاکٹر خالد علوی
  • مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ، ڈاکٹر احسان حقی
  • نظریہ پاکستان، ڈاکٹر خالد علوی
Google Buzz